Al-Kahf 18:10

Al-Kahf · from ayah 10

18:10

اِذْ اَوَی الْفِتْیَةُ اِلَی الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّهَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا ۟اِذۡ اَوَى الۡفِتۡيَةُ اِلَى الۡـكَهۡفِ فَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً وَّهَيِّئۡ لَـنَا مِنۡ اَمۡرِنَا رَشَدًا

جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما۔ اور ہمارے کام درستی (کے سامان) مہیا کر

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Mention] when the youths retreated to the cave and said, "Our Lord, grant us from Yourself mercy and prepare for us from our affair right guidance."

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:10

جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا کہ "اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمت خاص سے نواز اور ہمارا معاملہ درست کر دے،"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما۔ اور ہمارے کام درستی (کے سامان) مہیا کر

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان چند نوجوانوں نے جب غار میں پناه لی تو دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راه یابی کو آسان کردے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ اس وقت کا ذکر ہے جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تھی اور (اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے) کہا تھا کہ : اے ہمارے پروردگار ہم پر خاص اپنے پاس سے رحمت نازل فرمایے، اور ہماری اس صورت حال میں ہمارے لیے بھلائی کا راستہ مہیا فرما دیجیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی پھر بولے اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے اور ہمارے کام میں ہمارے لیے راہ یابی کے سامان کر،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(وہ وقت یاد کیجئے) جب چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے تو انہوں نے کہا: اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں راہ یابی (کے اسباب) مہیا فرما،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب ان جوانوں نے غار کی طرف پناہ لی تو انھوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہمیں اپنے پاس سے کوئی رحمت عطا کر اور ہمارے لیے ہمارے معاملے میں کوئی رہنمائی مہیا فرما۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تو کہنے لگے ! اے ہمارے پروردگار ! اپنی جناب سے ہمیں رحمت عطا فرما اور اس معاملہ میں ہماری رہنمائی فرما۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جب کہ کچھ نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور دعا کی کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت بخش اور ہمارے اس معاملے میں ہماری لیے رہنمائی کا سامان فرما

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب کہ ان چند نوجوانوں نے اس غار میں جا کر پناہ لی، اور انہوں نے دعاء کی کہ اے ہمارے رب، ہمیں نواز دے اپنی خاص رحمت سے، اور ہمارے لئے ہمارے معاملے میں درستی کا سامان مہیا فرما دے،

— مولانا اسحاق مدنی

(وہ وقت قابل ذکر ہے) جب ان نوجوانوں نے غار میں جا کر پناہ لی۔ پھر بولے اے ہمارے پروردگار ہمیں اپنے پاس سے رحمت (وفضل) عطا کر اور ہمارے لئے (اس) کام میں درستی کا سامان کردے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جبکہ ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! تو ہمیں عطا فرما اپنے پاس سے رحمت اور آسان فرما دے ہمارے لیے ہمارے معاملات میں عافیت کا راستہ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے اے ہمارے پروردگار ! ہم پر اپنے پاس سے رحمت نازل فرما اور ہمارے کام میں درستی کے سامان پیدا کر دے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When those youths sought refuge in the Cave and said: "Our Lord! Grant us mercy from Yourself and provide for us rectitude in our affairs."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When the young men took refuge in the Cave and said, :Our Lord, bless us with mercy from Your own and provide us with guidance in our matters.

— Muhammad Taqi Usmani

When the young men took refuge in the Cave and said, :Our Lord, bless us with mercy from Your own and provide us with guidance in our matters.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When the young men fled for refuge to Al-Kahf. They said: "Our Lord! Bestow on us mercy from Yourself, and facilitate for us our affair in the right way!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When the young men fled for refuge to the Cave and said: Our Lord! Give us mercy from Thy presence, and shape for us right conduct in our plight.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Mention] when the youths retreated to the cave and said, "Our Lord, grant us from Yourself mercy and prepare for us from our affair right guidance."

— Saheeh International

When the youth sought refuge in the cave they prayed "Lord, grant us mercy and help us to get out of this trouble in a righteous way".

— Muhammad Sarwar

When the youths sought refuge in the cave, they said: Our Lord! grant us mercy from Thee, and provide for us a right course in our affair.

— Muhammad Habib Shakir

Recall what time the youths betook themselves to the cave, then said: our Lord! vouchsafe unto us mercy from before Thee, and prepare for us in our affair a right course.

— Abdul Majid Daryabadi

Behold, the youths betook themselves to the Cave: they said, "Our Lord! bestow on us Mercy from Thyself, and dispose of our affair for us in the right way!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–12

اصحاف کہف اصحاف کہف کا قصہ اجمال کے ساتھ بیان ہو رہا ہے پھر تفصیل کے ساتھ بیان ہوگا فرماتا ہے کہ وہ واقعہ ہماری قدرت کے بیشمار واقعات میں سے ایک نہایت معمولی واقعہ ہے۔ اس سے بڑے بڑے نشان روز مرہ تمہارے سامنے ہیں آسمان زمین کی پیدائش رات دن کا آنا جانا سورج چاند کی اطاعت گزاری وغیرہ قدرت کی ان گنت نشانیاں ہیں جو بتلایا رہی ہیں کہ اللہ کی قدرت بےانداز ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اس پر کوئی مشکل نہیں اصحاب کہف سے تو کہیں زیادہ تعجب خیز اور اہم نشان قدرت تمہارے سامنے دن رات موجود ہیں کتاب و سنت کا جو علم میں نے تجھے عطا فرمایا ہے وہ اصحاب کہف کی شان سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سی حجتیں میں نے اپنے بندوں پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–12

سورة الْكَهْف 6 عربی زبان میں " کہف " وسیع غار کو کہتے ہیں اور " غار " کا لفظ تنگ کھوہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مگر اردو میں غار کہف کا ہم معنی ہے۔ سورة الْكَهْف 7 الرقیم کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض صحابہ وتابعین سے منقول ہے کہ یہ اس بستی کا نام ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا، اور وہ ایلہ (یعنی عَقَبہ) اور فلسطین کے درمیان واقع تھی۔ اور بعض قدیم مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ کتبہ ہے جو اس غار پر اصحاب کہف کی یادگار میں لگایا گیا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی تفسیر " ترجمان القرآن " میں پہلے معنی کو ترجیح دی ہے اور یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ یہ مقام وہی ہے جسے بائیبل کی کتاب یشوع (باب 18۔ آیت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

تشریح اللغات کہف، پہاڑی غار جو وسیع ہو اس کو کہف کہتے ہیں، جو وسیع نہ ہو اس کو غار کہا جاتا ہے، رقیم، لفظی اعتبار سے بمعنے المرقوم ہے، یعنی لکھی ہوئی چیز اس مقام پر اس سے کیا مراد ہے، اس میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں، ضحاک اور سدی اور ابن جبیر ؓ بروایت ابن عباس ؓ اس کے معنی ایک لکھی ہوئی تختی کے قرار دیتے ہیں، جس پر بادشاہ وقت نے اصحاب کہف کے نام کندہ کر کے غار کے دروازہ پر لگا دیا تھا، اسی وجہ سے اصحاب کہف کو اصحاب الرقیم بھی کہا جاتا ہے، قتادہ، عطیہ، عوفی، مجاہد کا قول یہ ہے کہ رقیم اس پہاڑ کے نیچے کی وادی کا نام ہے جس میں اصحاب کہف کا غار تھا، بعض نے خود اس پہاڑ کو رقیم کہا ہے، حضرت عکرمہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔ " رشد " کا مفہوم : " رشد " کے معنی ہیں اس نے ہدایت اور استقامت پائی۔ رَشِدَ امرہ کے معنی ہوں گے س نے اپنے معاملے میں ہدایت پائی وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔ کا مفہوم ہوگا کہ اے ہمارے رب ہمارے لیے اس راہ میں جو ہم نے اختیار کی ہے تو رہنمائی اور استقامت کا بدرقہ مہیا فرما۔ نوجوانوں کی دعا : یہ وہ دعا ہے جو ان نوجوانوں نے اس وقت کی ہے جب انہوں نے غار میں پناہ لینے کا ارادہ کیا ہے آیات کے الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ یہ نوجوان لوگ تھے۔ نوجوانوں میں جب ایک مرتبہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یہ وہی نوجوان ہیں جنہیں اصحاب کہف کہا گیا، (تفصیل آگے آرہی ہے) انہوں نے جب اپنے دین کو بچاتے ہوئے غار میں پناہ لی تو یہ دعا مانگی۔ اصحاب کہف کے اس قصے میں نوجوانوں کے لئے بڑا سبق ہے، آجکل کے نوجوانوں کا بیشتر وقت فضولیات میں برباد ہوتا ہے اور اللہ کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ کاش ! آج کے مسلمان نوجوان اپنی جوانیوں کو اللہ کی عبادت میں صرف کریں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–10

3: ان حضرات کے واقعے کا خلاصہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق یہ ہے کہ یہ کچھ نوجوان تھے جو ایک مشرک بادشاہ کے عہد حکومت میں توحید کے قائل تھے۔ بادشاہ نے ان کو توحید پر ایمان رکھنے کی بنا پر پریشان کیا تو یہ حضرات شہر سے نکل کر ایک غار میں چھپ گئے تھے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے ان پر گہری نیند طاری فرمادی، اور یہ تین سو نو سال تک اسی غار میں پڑے سوتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس نیند کے دوران اپنی قدرت کاملہ سے ان کی زندگی کو بھی سلامت رکھا، اور ان کے جسم بھی گلنے سڑنے سے محفوظ رہے، تین سو نو سال بعد ان کی آنکھ کھلی تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی لمبی مدت تک سوتے رہے ہیں۔ لہذا ان کو بھوک محسوس ہوئی تو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–13

اس قصے کے مناظر میں سے یہ پہلا منظر ہے۔ انھم فتیۃ امنوا بربھم (81 : 31) ” وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔ “ اور مزید یہ کہ وزدنھم ھدی (81 : 31) ” وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔ “ اور مزید یہ کہ وزدنھم ھدی (81 : 31) ” اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔ “ عینی ان کو یہ الہام کردیا تھا کہ وہ اپنے معاملات میں کس طرح تدابیر اختیار کریں اور پھر و ربطنا علی قلوبھم (81 : 31) ” اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے۔ “ چناچہ یہ لوگ اپنے ایمان پر ثابت قدم ہوگئے۔ راسخ العقیدہ ہوگئے اور جس سچائی کو انہوں نے اختیار کیا تھا اور جان لیا تھا اس پر استقامت اختیار کرلی تھی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 10–11

1 یعنی ایسی تھپکی دی کہ برسوں غار میں پڑے سوتے رہے۔ ادھر ادھر کی کوئی خبر ان کے کانوں میں نہیں پڑتی تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10 اِذْ اَوَى الْفِتْيَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا اپنے خاص خزانہ فضل سے ہمارے لیے رحمت کا بندوبست فرما دے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 اصحاب کہف کا غار میں پناہ لینا۔ عام روایات، کتب سیر اور قرآن کریم کے اشارہ کے مطابق یہ نوجوان سات تھے توحید پرست تھے اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے جبکہ ان کے معاشرہ میں ہر سو شرک اور بت پرستی کا دور دورہ تھا اس وقت کا رومی بادشاہ دقیانوس (Decius) (عہد حکومت 249 ء تا 251 ئ) خود بت پرست اور مشرک تھا عیسائیوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے معاملہ میں اس کا عہد بہت بدنام ہے۔ ان ایام میں عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث تاہنوز وضع نہیں ہوا تھا یہ عقیدہ مدتوں بعد چوتھی صدی عیسوی میں رائج ہوا لہذا ان ایام میں عیسائی توحیدپرست ہی ہوتے تھے ان نوجوانوں نے جب دیکھا کہ توحید پرستوں پر کس طرح سختیاں کرکے انھیں شرک و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ یہ لوگ کون اور کس زمانہ کے تھے ؟ قرآن مجید کو بحث وسروکار چونکہ صرف بصیرتوں وعبرتوں اور اخلاقی اسباق ونتائج سے رہتی ہے اس لیے وہ تاریخی وجغرافی تفصیلات کو اکثر نظر انداز کردیتا ہے اور اس باب میں احادیث صحیح بھی تفصیل سے خاموش ہیں۔ مفسرین قدیم وجدید کی اکثریت نے اسے مسیحی دور کی حکایت قرار دیا ہے۔ رومی شہنشاہ ڈی سیس یا دقیانوس (متوفی۔ 251 ء) اپنے مذہب بت پرستی میں غلورکھتا تھا۔ مسیحی مذہب نیانیا اسی کے زمانہ میں سلطنت روم میں پھیل رہا تھا۔ اس نے عیسائی موحدین پر سختی شروع کی، اس سے تنگ آکر چند شریف نوجوان شہر سے نکل کھڑے ہوئے اور قریب کے ایک پہاڑی غار میں جا کر پناہ لی، وہاں ان پر ایک غیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–12

آیت نمبر 9 تا 12 ترجمہ : کیا آپ خیال کرتے ہیں یعنی گمان کرتے ہیں کہ غار والے اور رقیم والے کہف پہاڑ کے غار کو کہتے ہیں اور رقیم وہ تختی تھی جس میں اصحاب کہف کے نام اور ان کے اسماء کندہ تھے، اور رسول اللہ ﷺ سے ان کا قصہ معلوم کیا گیا تھا، کہ وہ اپنے قصہ کے اعتبار سے ہماری آیات (قدرت) میں کچھ زیادہ عجیب تھے عجبًا کان کی خبر ہے اور اس کا ماقبل (یعنی من آیاتنا) کانوا کی ضمیر سے حال ہے یعنی وہ آیات قدرت میں عجیب تھے نہ کہ باقی آیات، یا عجائبات میں زیادہ عجیب تھے۔ حقیقت حال ایسی نہیں ہے، اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب چند نوجوانوں نے ایک غار میں پناہ لی تھی فِتیۃً فَتِیٌّ کی جمع ہے یعنی کامل نوجوان جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِذْ اَوَى الْفِتْيَةُ اِلَى الْكَهْفِ : قابل ذکر ہے وہ وقت جب ان نوجوانوں نے اس غار میں جا کر پناہ لی تھی۔ یہاں سے اصحاب کہف کا قصہ شروع ہے۔ اٰوٰی فُلاَنٌ اِلٰی مَوْضِعٍ فلاں شخص نے اس جگہ کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ بغوی نے لکھا ہے یہ غار بیجلوس پہاڑ میں تھا اس غار کا نام تھا جیرم۔ فَقَالُوْا رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً : انہوں نے کہا اے ہمارے رب ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا فرما۔ رحمت کا لفظ عام ہے دین کی ہدایت۔ گناہوں کی مغفرت۔ رزق کی وسعت۔ امن وغیرہ سب کو شامل ہے۔ وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا اور ہمارے لئے اس کام میں درستی کا سامان مہیا کر دیجئے۔ یعنی ایمان اور مفارقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(10) چناچہ اب اللہ تعالیٰ اجمالی طور پر یہ واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ وقت قابل ذکر ہے جب کہ ان نوجوانوں نے اس غار میں جا کر پناہ لی اور داخل ہونے کے وقت دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھیے اور اس سے چھٹکارے کا کوئی رستہ نکالیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذْ اَوَى الْفِتْيَةُ اِلَى الْكَهْفِ۔۔ : ”اَوَى“ (ض) جگہ پکڑی، پناہ لی۔ ”الْفِتْيَةُ“ ”فَتًی“ کی جمع قلت ہے، جوان جو آغاز شباب میں ہوں۔ ”َهَيِّئْ“ باب تفعیل سے امر ہے، مہیا فرما، میسر فرما، ”رَشَدًا“ بھلائی، رہنمائی۔ ”اِذْ“ یا تو ”کَانُوْا“ کی ظرف ہے، یا ”عَجَباً“ کی اور یا ”أُذْکُرْ“ کی جو محذوف ہے، یعنی جب چند نوجوان جو اپنی مشرک قوم اور مشرک بادشاہ کے سامنے توحید کا برملا اظہار و اعلان کرنے کی وجہ سے انھیں مطلوب تھے، اپنے گھروں سے نکلے اور انھوں نے ایک پہاڑ کے کھلے غار میں پناہ لی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اپنے پاس سے، یعنی محض اپنے فضل اور اپنی جناب سے کوئی بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–11

فلعلک باخع نفسک علی اٰثارھم ان لم یومنوبھذا الحدیث اسفاً “ تو کیا آپ (فرط غم سے) تلف کردیں گے اپنی جان کو ان کے پیچھے اگر وہ ایمان نہ لائے اس قرآن کریم پر افسوس کرتے ہوئے۔” قولہ تعالیٰ : فلعلک باخع نفسک علیٰ اٰثارھم باخع اس کا معنی ہے ہلاک کرنے والا اور قتل کرنے والا اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اٰثارھم یہ اثر کی جمع ہے، اور کہا جاتا ہے : اثر ـ(پیچھے) اور اس کا معنی ہے آپ سے ان کے اعراض کرنے اور ان کے پیٹھ پھیرنے کے پیچھے (کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کردیں گے) ۔ ان لم یومنو بھذا الحدیث اگر وہ اس قرآن کریم پر ایمان نہ لائے۔ اسفًا یعنی ان کے کفر پر افسوس اور غصہ کرتے ہوئے اور یہ تفسیر کی بنا پر منصوب ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–12

1:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الکھف “ سے مراد ہے وہ غار جو وادی میں ہوتی ہے۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والرقیم “ سے مراد ہے۔ 3:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والرقیم “ ایک وادی ہے جو فلسطین اور ایلہ کے قریب ہے۔ 4:۔ ابن جریر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ رقیم کیا ہے کتاب ہے یا عمارت ہے۔ رقیم کی مختلف تفسیریں : 5:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والرقیم “ کے بارے میں ان میں بعض کہتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِذْ : جب ] [اَوَى: پناہ لی ] [الْفِتْيَةُ : نوجوانوں نے ] [اِلَى الْكَهْفِ : غار کی طرف ] [فَقَالُوْا : پھر انھوں نے کہا ] [رَبَّنَآ : اے ہمارے رب ] [اٰتِنَا : تو عطا کر ہم کو ] [مِنْ لَّدُنْكَ : اپنے پاس سے ] [رَحْمَةً : ایک رحمت ] [وَّهَيِّئْ : اور تو اسباب پیدا کر دے ] [لَنَا : ہمارے لئے ] [مِنْ اَمْرِنَا : ہمارے کام میں ] [رَشَدًا : نیک راہ کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–12

اصحاب کہف اور اصحاب رقیم کون تھے یہاں سے اصحاب کہف کا قصہ شروع ہو رہا ہے کہف غار کو کہتے ہیں جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، چند نوجوان اپنے زمانہ کے بادشاہ اور دیگر کافرین سے اپنی جان اور دین و ایمان بچانے کے لیے ایک غار میں پناہ گزین ہوگئے تھے اس لیے انہیں اصحاب کہف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ان کا واقعہ انشاء اللہ آئندہ آنے والے دو رکوع میں بیان کیا جائے گا لیکن چونکہ مذکورہ آیت میں (اَصْحَابُ الْکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ ) فرمایا ہے اس لیے رقیم کا معنی بھی جاننا چاہیے اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اصحاب کہف کے کتے کا نام ہے یہ حضرت انس صحابی ؓ اور حضرت شعبی تابعی ؓ سے منقول ہے اور حضرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–12

ذکر اجمالی قصہ اصحاب کہف قال اللہ تعالیٰ ام حسبت ان اصحب الکھف والرقیم .... الیٰ .... لما لبثوا امدا۔ (ربط) اوپر آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا ذکر تھا اب اصحاب کہف کا قصہ بیان کرتے ہیں جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی بھی دلیل ہے اور قیامت کی بھی دلیل ہے۔ چنون کہ قریش نے یہود کے سکھلانے سے آپ ﷺ کی آزمائش کے لیے آپ سے تین سوال کئے تھے ایک روح کے متعلق جس کا جواب پہلی سورت میں گزر چکا ہے اب دوسرے سوال کے جواب میں اصحاب کہف کا قصہ کر کرتے ہیں کہ صدہا سال کے ماقبل کے واقعات کا صحیح صحیح علم بدون اللہ کے وحی کے ناممکن ہے اور ظاہر ہے کہ آپ ﷺ نے اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا واقعہ نہ کسی سے سنا اور نہ کسی کتاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–12

11:۔ پہلے شبہ کا جواب :۔ یہاں سے لے کر احصی لما لبثوا امدا تک پہلے شبہ کا اجمالی رد ہے۔ شبہہ یہ تھا کہ اصحاب کہف عرصہ دراز تک غار میں سوئے رہے اس دوران میں انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچی۔ یہاں تک کہ اس عرصہ میں دھوپ بھی ان پر نہیں پڑی۔ سورج جب غار کے سامنے آتا تو رخ بدل لیتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ متصرف فی الامور اور مختار تھے۔ اس بنا پر لوگوں نے ان کو کارساز اور غیب داں سمجھ کر پکارنا اور ان کے نام کی نذریں نیازیں دینا شروع کردیا۔ چناچہ وہ سات روٹیاں ان کے نام پر اور ایک ان کے کتے کے نام پر دیتے ہیں۔ ان آیتوں میں کئی طریقوں سے مذکورہ شبہہ کا جواب دیا گیا ہے۔ اول و دوم ” کانوا من…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–12

ربط آیات : سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حقانیت وصداقت کو بیان کیا اور پھر اس کے ذریعے لوگوں کو ڈرانے کا حکم دیا ، ایک عام تخویف ہے کہ سارے کے سارے لوگ اللہ کے آنے والے عذاب سے ڈر جائیں اور دوسری تخویف ان لوگوں کے لیے خاص ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں اور عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر کو تسلی دی کہ جو لوگ گمراہی کو ترک کرکے ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ، آپ ان کے لیے زیادہ فکر مند نہ ہوں ، بلکہ فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں باقی معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں اس کے بعد اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اس نے زمین بھر کی چیزوں کو باعث رونق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْ اَوَى الْفِتْيَۃُ اِلَى الْكَہْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَۃً وَّہَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا۝ 10 أوى) ملانا) المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43] ، وقال تعالی: آوی إِلَيْهِ أَخاهُ [يوسف/ 69] آوی إِلَيْهِ أَخاهُ [يوسف/ 69] أي : ضمّه إلى نفسه . ( ا و ی ) الماویٰ ۔ ( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–16

ترکیب : ام منقطعہ مقدر ہے بل کے ساتھ جو ایک بات سے دوسری بات کی طرف انتقال کے لیے آتا ہے۔ جمہور کے نزدیک ہمزہ استفہام اوروں کے نزدیک صرف بل مقدر ہے ای بل احسبت عجبا خبر ہے کانوا کی ومن آیاتنا حال ہے اس سے۔ اذا متعلق ہے اذکر مخدوف سے فضربنا کا مفعول حجابا محذوف، عددا منصوب ہے سنین کی لغت ہو کر المعنی سنین ذات العدد ھذا قول الفرار اور ممکن ہے کہ مفعول مطلق ہو والمعنی تعد عددا ای مرفوع ہے مبتدا ہونے کے سبب اور احصٰی اس کی خبر ہے اور یہ سب جملہ متعلق ہے نعلم سے۔ تفسیر : زینت دنیا جس میں منہمک ہو کر انسان عقبیٰ کو کھو بیٹھتا ہے اور خدا پرستوں کو اپنا ہم خیال نہ سمجھ کر برا جانتا بلکہ ان کو ستاتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–12

اِذْا اَوَی الْفِتْیَۃُ اِلَی الْـکَھْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً وَّھَیِّیْٔ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا۔ فَضَرَبْنَا عَلٰٓی اٰذَانِہِمْ فِی الْـکَھْفِ سِنِیْنَ عَدَدًا۔ ثُمَّ بَعَثْـنٰـھُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰی لِمَا لَبِثُوْٓا اَمَدًا۔ (الکہف : 10 تا 12) (جس وقت کچھ نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور انھوں نے دعا کی اے ہمارے رب ! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے اس معاملے میں ہمارے لیے رہنمائی کا سامان فرما۔ تو ہم نے غار میں کئی سالوں کے لیے انھیں تھپک کے سلا دیا۔ پھر ہم نے ان کو بیدار کیا کہ دیکھیں دونوں گروہوں میں سے کون مدت قیام کو صحیح…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–12

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ دنیا کی بدولت رسول معظم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی مخالفت کررہے تھے۔ ان کے ایک سوال کے جواب میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان کیا ہے۔ جس میں اہل کفر کو یہ بتلایا ہے کہ اس طرح کا سلوک اصحاب کہف کے ساتھ بھی کیا گیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بالآخر ان کی دعوت کو شہرت عام اور دوام بخشا۔ اصحاب کہف کے واقعہ میں سب سے بڑی تعجب خیز بات یہ ہے کہ چند نوجوان اپنی جان اور ایمان بچانے کے لیے ایک غار میں داخل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تین سونو سال تک سلائے رکھا۔ جو انسانی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا۔ اس سے پہلے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ایک سو سال تک موت کی آغوش میں رکھا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

غار میں آنا : 10: اِذْ اَوَی الْفِتْیَۃُ اِلَی الْکَھْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَآ ٰاتِنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً (وہ وقت قابل ذکر ہے۔ جب ان نوجوانوں نے اس غار میں جاکر پناہ لی تھی۔ انہوں نے کہا۔ اے ہمارے رب ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا فرما) اذؔ سے پہلے اذکر محذوف ہے۔ رحمۃؔ سے مراد اپنی رحمت کے خزائن میں سے خصوصی رحمت اور وہ مغفرت، رزق، دشمنوں سے حفاظت ہے۔ وَّھَیِّیْٔ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا (اور ہمارے لئے اس کام میں درستی کا سامان مہیافرما) امرناؔ سے مراد کفار سے جدائی والامعاملہ رَشَدًا (درستی) تاکہ اس کے سبب سے ہم راشدین ومہتدین میں سے ہوجائیں۔ نمبر 2۔ ہمارے سارے معاملے کو درستی والا بنا دے۔ یہ اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

اصحاب کہف کا واقعہ 10۔” اذی اوی الفتیۃ الی الکہف “ انہوں نے اپنی طرف ٹھکانہ بنا لیا ۔ مفسرین کا اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ لوگ پہاڑ کی غار میں پناہ گزین کیوں ہوئے۔ محمد بن اسحاق نے بیان کیا عام عیسائیوں کی دینی حالت بہت بگڑ گئی تھی ، بت پرستی تک نوبت پہنچ گئی تھی ، بتوں پر چڑھاوے چڑھانے اور ان کے نام پر قربانیاں کرنے کا بھی روج ہوگیا تھا ، بادشاہ بھی سرکش اور بےدین ہوگئے تھے لیکن کچھ لوگ صحیح دین عیسوی پر قائم تھے اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے ، بےدین مخالف توحید بادشاہوں میں سے دقیانوس نام کا بھی ایک بادشاہ تھا، اس کی حکومت بلا د روم پر تھی ، یہ بت پرستی کرتا اور بتوں کے نام کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–12

9۔ 12:۔ ان آیتوں میں اصحاب کہف کے قصہ کی بابت پیغمبر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ کھوہ والوں کا قصہ ہماری قدرت کے روبرو عجیب بات نہیں ہے کس لیے کہ آسمان و زمین کی پیدائش رات دن کا بدلنا چاند سورج اور اس کے سوا بڑی بڑی نشانیاں ہماری قدرت کی ہیں جو اصحاب کہف کے قصہ سے بھی عجیب ہیں سیرۃ محمد بن اسحاق تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں ان آیتوں کی تفسیر کے متعلق جس قدر قصہ مجاہد سے ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کہف کے معنے غار کے ہیں اور جو لوگ غار میں پہنچے عیسائی تھے روم کے بت پرست دقیانوس بادشاہ نے ان لوگوں کو عیسائی مذہب کی حفاظت کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وہ دعا مانگی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان کی یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–12

(آیت نمبر (9 یہ استفہام ‘ نفی اور نہی کے معنیٰ میں ہے۔ یعنی اصحاب کہف کے قصہ اور ان کے واقعات کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے سامنے انہونی بات ‘ اس کی حکمت میں انوکھا واقعہ نہ سمجھو اور نہ یہ سمجھو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں اور اس قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بیشمار تعجب خیز معجزات ہیں جو اصحاب کہف کے معجزے کی جنس میں سے ہیں یا اس سے بھی بڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کو آفاق اور ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھاتا رہا ہے جن سے حق و باطل اور ہدایت و ضلالت واضح ہوتے ہیں۔ نفی سے مراد یہ نہیں کہ اصحاب کہف کا قصہ عجائبات میں سے نہیں بلکہ یہ قصہ تو اللہ تعالیٰ کے معجزات میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 10–11

دین کے معاملے میں فتنے سے بچنا قول باری ہے (اذ اوی الفتیۃ الی الکھف فقالوا ربنا اتنا من لدنک رحمۃ وھتی لنا من امرنا رشداً ۔ ) جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزین ہوئے اور انہوں نے کہا۔ اے پروردگار ! ہم کو اپنی رحمت خاص سے نوازا اور ہمارا معاملہ درست کر دے) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ اگر کسی انسان کو اپنے دین کے معاملے میں فتنہ کا خوف پیدا ہوجائے تو وہ اپنا دین بچانے کے لئے اس جگہ سے دور چلا جائے اور وہاں جا کر کلمہ کفر کے اظہار کی آزمائش میں اپنے آپ کو نہ پھنسا دے خواہ یہ اظہار تقیہ یعنی جان بچانے کی خاطر ہی کیوں نہ ہو۔ نیز یہ دلالت بھی ہو رہی ہے کہ جب فتنہ سے بچنے کے لئے ایک شخص اپنا دین لے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

12۔ یہ کائنات عجائب سے بھری پڑی ہے :۔ اس میں صرف اصحاب کہف کا قصہ ہی کوئی عجیب قصہ نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ ہماری یہ وسیع و عریض کائنات ایسے عجائب سے بھری پڑی ہے۔ جو اصحاب کے اس قصے سے بھی کہیں بڑھ کر عجیب و غریب ہیں، کیا یہ کرہ ارضی جس پر یہ انسان رہتا بستا ہے اور جو ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے محو گردش ہے، اور یہ سورج اور چاند کے عظیم الشان کرے جو اسی طرح نہایت پابندی کے ساتھ رواں دوان ہیں، کیا یہ ہماری قدرت کی کوئی کم تعجب چیز نشانیاں ہیں ؟ خطاب اگرچہ حضور ﷺ سے ہے لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے۔ (المراغی وغیرہ) 13۔ اصحاب کہف کے قصے کا خلاصہ واجمال :۔ سو ارشاد فرمایا گیا جبکہ ان چند…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–16

اصحاب کہف کا قصہ تشریح : قرآن پاک قصہ کہانیوں کی کتاب نہیں بلکہ اس کے ایک ایک لفظ سے حکمت و دانش، دانائی اور ہدایت کا سبق ملتا ہے اسی طرح اصحاب کہف کا واقعہ توحید، ایمان، توکل اور اللہ کی قدرت کاملہ کا اظہار کرتا ہے۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” کیا تم خیال کرتے ہو کہ اصحاب کہف ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے، ، ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ صبر، دعا اور ایمان کی مضبوطی کی مثال پیش کر رہے ہیں۔ ہوا اس طرح کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تبلیغ کی وجہ سے یہودی علماء ان کے دشمن ہوگئے۔ یہاں تک کہ ان کو سولی پر چڑھانے کا منصوبہ تیار ہوگیا مگر اللہ نے ان کو زندہ اوپر اٹھا لیا۔ قرآن میں اسی طرح بتایا گیا ہے۔ تو اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–12

سورة الکہف : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة کہف بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس میں انہی دو سوالوں کے جوابات ارشاد فرمائے گئے جو کفار مکہ نے یہود مدینہ سے پوچھ کر کئے تھے ، تیسرے سوال کا جواب سورة بنی اسرائیل میں اجمالا بیان ہوچکا جو روح کے بارے میں تھا ، مگر ان دونوں کے جواب مفصل دیئے گئے ، اگرچہ ان کی تفصیل بھی جغرافیائی محل وقوع تاریخی اعتبار سے زمانہ افراد کی حتمی تعداد وغیرہ باتوں کو بیان نہیں کرتی ، کہ قرآن حکیم کا موضوع تاریخ و جغرافیہ نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اور ان کی اصلاح احوال ہے تو جس حد تک واقعہ سے اس امر میں مدد حاصل ہوتی ہو اس حد تک اس واقعہ کو بیان کیا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 تاکہ اپنی قوم کے فتنے سے اپنے دین کو محفوظ رکھ سکیں اور ان کی قوم کو پتا نہ چل سکے کہ وہ کہاں گئے ؟8 یا ” ہماری عاقبت بخیر کر۔ “ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:10) اذ۔ ای اذکر اذ۔ یاد کر جب۔ اوی۔ اوی سے ماضی واحد مذکر غائب ۔ وہ اترا۔ وہ جا بیٹھا۔ الماوی۔ کسی جگہ نزول کرنا یا پناہ حاصل کرنا۔ جیسے قرآن مجید میں آیا ہے قال ساوی الی جبل۔ (11:43) اس نے کہا کہ میں ابھی پہاڑ پر جا بیٹھوں گا۔ یا پہاڑ پر جا پناہ لوں گا۔ الفتیۃ۔ فتیۃ۔ فتی۔ کی جمع قلت ہے ۔ بعض کے نزدیک یہ اسم جمع ہے مراد اصحاب الکہف سے ہے۔ (جب ان جوانوں نے پناہ لی) ۔ من الدنک اپنی طرف سے۔ ھیٔ لنا۔ فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ ھیئا یھییٔ تھییٔ۔ (باب تفعیل) کسی معاملہ کے لئے اسباب مہیا کرنا۔ ھییٔ لنا من امرنا رشدا (آیہ ہذا) اور ہمارے کاموں میں درستی (کے سامان) مہیا کر۔ اور جگہ اس سورت میں آیا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–12

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 12 حسبت تو نے گمان کیا۔ اصحب ساتھی۔ الکھف لمبا چوڑا غار۔ الرقیم کوہ، غار کا دوسرا نام۔ اویٰ ٹھکانہ بنا یا۔ الفتیۃ (فتی) جوان، نوجوان، نوعمر۔ ھیء بتا دے۔ مہیا کردے۔ رشد صحیح راستہ۔ نجات کا راستہ ہے۔ ضربنا ہم نے مارا۔ پردہ ڈالدیا۔ اذان (اذن) کان۔ سنین (سنۃ) سال ، کئی برس۔ عدد گنتی۔ الحزبین (حزب) دو جماعتیں۔ دو گروہ۔ احصی زیادہ واقف۔ لبثوا وہ ٹھہرے، رکے رہے۔ امد مدت۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 12 بعض یہودیوں کے کہنے پر کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے اصحاب کہف کے واقعہ کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہوئے پوچھا تھا اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ ان کے اس سوال کا جواب نہ دے سکیں گے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–10

اوپر والی آیت میں دنیا کی زیب وزینت کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا کہ ہم اس کو زینت ورونق کے بعد ایسا تباہ وبرباد کردیں گے کہ ساری زمین بنجر بےگھاس اور چٹیل میدان ہوجاوے گی یعنی یہ زمین فنا ہو کر حشر کے لئے دوسری نئی زمین پیدا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–10

[2] مشرکین مکہ نے یہود کے اشارے سے نبی ﷺ سے چند سوالات کئے تھے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ اصحاب کہف کون اور کیا تھے۔ قرآن ان کے جواب میں صحیح قصہ بیان کرتا ہے۔ یہ چند نوجوان تھے جنہوں نے اپنا ایمان بچانے کے لئے ایک غار میں پناہ لی تھی بعد میں لوگوں نے اس غار پر ایک تختی لگا دی تھی جن پر ان کے نام و نسبت اور مختصر حکایت درج تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–12

سورة کہف کی دس آیتیں : (ف 1) ابتدا کی ان دس آیتوں میں جو معارف بیان فرمائے ہیں ان کو سمجھ لینے کے بعد گمراہی کا کوئی احتمال نہیں رہتا ، اور قلب و دماغ انواروصداقت سے مستنیر ہوجاتے ہیں ذلیل میں یہ معارف درج ہیں ۔ 1۔ قرآن حکیم اللہ کی کتاب ہے ، اس میں کسی قسم کا الجھاؤ نہیں مطالب واضح اور صاف ہیں ۔ 2۔ یہ ہماری تمام ضروریات دینی کی کفیل ہے ، اس صحیفہ قیم کے بعد مزید تجدید وبعثت کی ضرورت نہیں ۔ 3۔ توحید کی راہ استقامت اور سلامت روی کی راہ ہے ، مسلمان کا نصب العین ہمیشہ یہی رہے گا کہ ایک خدا کے سامنے جھکے ، 4۔ عقیدہ شرک کی تمام صورتیں اور شکلیں غیر علمی اور غیر یقینی ہیں اور اللہ کی تقدیس پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 10 اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ان چند نوجوانوں نے ایک ظالم اور کافر بادشاہ سے بچنے کے لئے پہاڑ کی کھوہ میں پناہ لی اور اپنے پروردگار سے یوں کی۔ اے ہمارے پروردگار ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا کر اور ہمارے لئے ہمارے کام میں صحیح رہنمائی کا سامان مہیا کر دے۔ ابن کثیر نے کہا یہ دعا اس طرح کی تھی جیسے حدیث میں آتا ہے کہ اے خدا جو فیصلہ تو ہمارے حق میں کرے اسے انجام کے لحاظ سے بہتر کر۔ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے۔ اللھم احسن عاقبتنا فی الامور لکلھا واجر نامن خزی الدنیا و عذاب الاخرۃ۔ یا اللہ ! ہمارے تمام کاموں کا انجام بہتر کر اور ہم کو دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا لے۔ چناچہ ابتداء ایک شخص…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

چند نوجوان جو اللہ کے نیک بندے تھے حکومت وقت سے ڈر کر غار میں پناہ گزیں ہوئے تھے ۔ 10۔ یہ مسیحی مذہب کا دور ہے اور نبطی حکومت کے اطراف یعنی شام وغیرہ میں عیسائیت کا زور ہے لیکن حکومت وقت علاقائی لوگوں کے زور سے مشرکین کی حمایت میں ہے اس لئے وہ ان لوگوں پر اس طرح ظلم ڈھاتی ہے جس طرح آج مکہ والے محمد رسول اللہ ﷺ پر ظلم ڈھا رہے ہیں اس لئے رقم یا راقیم (پیڑا) کے چند نوجوان یعنی سعید روحیں شرک سے بیزار اور نفور ہو کر توحید کی جانب مائل ہوجاتی ہیں اور دین عیسوی کو قبول کرکے اس پر عمل پیرا ہوجاتی ہیں اور اس کی تبلیغ بھی کرتی ہیں ، آہستہ آہستہ یہ بات حکومت وقت تک بھی پہنچ جاتی ہے ، توحید پرستوں سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

Lexical Explanation Kahf is a large mountainous cave or cavern. If not large, it will be a ghar. The word: الرَّ‌قِيمِ (al-Raqim) literally denotes: اَلمَرقُوم (al-marqum) that is, something written. What does it mean at this place? The sayings of commentators differ about it. Dahhak, Sudiyy and Ibn Jubayr following the authority of Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ declare it to mean a written tablet on which the ruler of the time had inscribed the names of the People of Kahf and had it fixed on the entrance to the Cave. For this reason, the People of Kahf are also called the People of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–12

6. The Arabic word Kahf literally means a vast cave. 7. There is a difference of opinion about the meaning of arraqim. Some companions and their followers opined that it was the name of that habitation where this event took place and that it was situated somewhere between Aylah and Palestine. There are other commentators who take it to mean the inscription that had been set up at the cave as a memorial to the sleepers of the cave. Abul Kalam Azad, in his commentary, Tarjmanul-Quran, has preferred the first meaning and opined that it is the same place which has been called Rekem in the Bible…

Read the full tafseer →