Al-Kahf 18:8

Al-Kahf · from ayah 8

18:8

وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًا ۟ؕوَاِنَّا لَجٰعِلُوۡنَ مَا عَلَيۡهَا صَعِيۡدًا جُرُزًا

اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو (نابود کرکے) بنجر میدان کردیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, We will make that which is upon it [into] a barren ground.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:8

آخرکار اِس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو (نابود کرکے) بنجر میدان کردیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس پر جو کچھ ہے ہم اسے ایک ہموار صاف میدان کر ڈالنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ بھی یقین رکھو کہ روئے زمین پر جو کچھ ہے ایک دن ہم اسے ایک سپاٹ میدان بنادیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک جو کچھ اس پر ہے ایک دن ہم اسے پٹ پر میدان (سفید زمین) کو چھوڑیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم اِن (تمام) چیزوں کو جو اس (روئے زمین) پر ہیں (نابود کر کے) بنجر میدان بنا دینے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ ہم جو کچھ اس پر ہے، اسے ضرور ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ جو کچھ زمین پر ہے ہم اسے ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم بالآخر اس پر جو کچھ ہے سب کو چٹیل میدان کرکے رہیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم نے وہ سب کچھ جو کہ اس (زمین) پر ہے (ایک دن بالکل مٹا کر) اسے ایک چٹیل میدان بنادینا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم اس پر کی تمام چیزوں کو ایک صاف میدان کردیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقیناً ہم بنا کر رکھ دیں گے جو کچھ اس (زمین) پر ہے اسے ایک چٹیل میدان

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو ختم کر کے چٹیل میدان کردیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

In the ultimate, We shall reduce all that is on the earth to a barren plain.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And surely, We are going to turn whatever is thereon into a barren land.

— Muhammad Taqi Usmani

And surely, We are going to turn whatever is thereon into a barren land.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, We shall make all that is on it bare, dry soil.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! We shall make all that is thereon a barren mound.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, We will make that which is upon it [into] a barren ground.

— Saheeh International

Let it be known that We will turn all things on earth into dust.

— Muhammad Sarwar

And most surely We will make what is on it bare ground without herbage.

— Muhammad Habib Shakir

And verily We are going to make whatsoever is thereon a soil bare.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily what is on earth we shall make but as dust and dry soil (without growth or herbage).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–8

مشرکین کی گمراہی پر افسوس نہ کرو مشرکین جو آپ سے دور بھاگتے تھے، ایمان نہ لاتے تھے اس پر جو رنج و افسوس آپ کو ہوتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کر رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ ان پر اتنا رنج نہ کرو، اور جگہ ہے ان پر اتنے غمگین نہ ہو، اور جگہ ہے ان کے ایمان نہ لانے سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر، یہاں بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ اس قرآن پر ایمان نہ لائیں تو تو اپنی جان کو روگ نہ لگا لے اس قدر غم و غصہ رنج و افسوس نہ کر نہ گھبرا نہ دل تنگ ہو اپنا کام کئے جا۔ تبلیغ میں کوتاہی نہ کر۔ راہ یافتہ اپنا بھلا کریں گے۔ گمراہ اپنا برا کریں گے۔ ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے۔ پھر فرماتا ہے دنیا فانی ہے اس کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْكَهْف 5 پہلی آیت کا خطاب نبی ﷺ سے تھا اور ان دونوں آیتوں کو روئے سخن کفار کی جانب ہے۔ نبی ﷺ کو ایک حرف تسلی دینے کے بعد اب آپ کے منکرین کو مخاطب کیے بغیر یہ سنایا جا رہا ہے کہ یہ سروسامان جو زمین کی سطح پر تم دیکھتے ہو اور جس کی دلفریبیوں پر تم فریفتہ ہو، یہ ایک عارضی زینت ہے جو محض تمہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے مہیا کی گئی ہے۔ تم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ یہ سب کچھ ہم نے تمہارے عیش و عشرت کے لیے فراہم کیا ہے، اس لیے تم زندگی کے مزے لوٹنے کے سوا اور کسی مقصد کی طرف توجہ نہیں کرتے، اور اسی لیے تم کسی سمجھانے والے کی بات پر کان بھی نہیں دھرتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سامان عیش نہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَةً لَّهَا، یعنی زمین پر جو مخلوقات حیوانات، نباتات، جمادات اور زمین کے اندر مختلف چیزوں کی کانیں موجود ہیں وہ سب زمین کے لئے زینت اور رونق بنائی گئی ہیں، اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ مخلوقات ارضیہ میں تو سانپ، بچھو، درندے جانور، اور بہت سی مضر اور مہلک چیزیں بھی ہیں ان کو زمین کی زینت اور رونق کیسے کہا جاسکتا ہے، کیونکہ جتنی چیزیں دنیا میں مضر اور مہلک اور خراب سمجھی جاتی ہیں وہ ایک اعتبار سے بیشک خراب ہیں مگر مجموعہ عالم کے لحاظ سے کوئی چیز خراب نہیں، کیونکہ ہر بری سے بری چیز میں دوسری حیثیات سے بہت سے فوائد بھی اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمائے ہیں، کیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس دنیا کا انجام : وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا۔ " جرز " بےآب وگیاہ زمین کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بیوقوف لوگ اس زمین کی جن چیزوں پر ریجھے ہوئے ہیں ایک وقت آئے گا کہ ہم ان ساری چیزوں کو مٹا کر اس کو چٹیل اور بےآب وگیاہ میدان کی طرح کردیں گے۔ یہی مضمون آگے آیات 46۔ 48 میں آ رہا ہے وہاں انشاء اللہ اس کی مزید تفصیل ہوگی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 صعیدا۔ صاف میدان۔ جرز۔ بالکل ہموار۔ جس میں کوئی درخت وغیرہ نہ ہو، یعنی ایک وقت آئے گا کہ یہ دنیا اپنی تمام تر رونقوں سمیت فنا ہوجائے گی اور روئے زمین ایک چٹیل اور ہموار میدان کی طرح ہوجائے گی، اس کے بعد ہم نیک و بد کو ان کے عملوں کے مطابق جزا دیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: یعنی جتنی چیزوں سے یہ زمین سجی ہوئی اور بارونق نظر آتی ہے ایک دن وہ سب فنا ہوجائیں گی، نہ کوئی عمارت باقی رہے گی، نہ پہاڑ اور درخت، بلکہ وہ چٹیل اور سپاٹ میدان میں تبدیل ہوجائے گی، اس وقت یہ حقیقت واضح ہوگی کہ دنیا کی ظاہری خوبصورتی بڑی ناپائیدار تھی۔ اور یہی وہ وقت ہوگا جب آپ کے ساتھ ضد اور دشمنی کا معاملہ کرنے والے اپنے برے انجام کو پہنچیں گے۔ لہذا اگر ان لوگوں کو دنیا میں ڈھیل دی جا رہی ہے۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انہیں بد عملی کے باوجود آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ لہذا نہ آپ کو زیادہ رنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ان کے انجام پر فکر مند ہونے کی۔ آپ کا کام تبلیغ ہے، بس اسی میں اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وانا لجعلون ما علیھا صعیدا جرزا (81 : 8) ” آخر کار اس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔ “ تعبیر فیصلہ کن انداز کی ہے۔ منظر بھی سخت ہے۔ (جرزاً ) کا کلمہ لفظاً اور معنی خشکی اور بےآب وگیاہ میدان کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح لفظ (صعیداً ) بھی میدان ، ہمواری اور سختی کو لفظاً اور معنی ظاہر کرتا ہے۔ …… اب قصہ اصحاب کہف آتا ہے۔ یہ ایسے لوگوں کا ایک نمونہ پیش کرتا ہے جن کے دلوں میں ایمان بیٹھ جاتا ہے اور جب ایمان دلوں میں اتر جاتا ہے تو وہ اطمینان اور سکون سے اس طرح بھر جاتے ہیں جس طرح اصحاب کہف تھے۔ پھر یہ دل زمین کی آرائش اور زیب وزینت کو کچھ نہیں سمجھتے۔ یہ لوگ غار میں پناہ لیتے ہیں ، غار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی ایک روز سب گھاس پھونس درخت وغیرہ چھانٹ کر زمین کو چٹیل میدان بنادیا جائے گا۔ جو لوگ اس کے بناؤ سنگار پر ریجھ رہے ہیں وہ خوب سمجھ لیں کہ یہ زرق برق کوئی باقی رہنے والی چیز نہیں۔ دنیا کے زمینی سامان خواہ کتنے ہی جمع کرلو اور مادی ترقیات سے ساری زمین کو لالہ و گلزار بنادو، جب تک آسمانی اور روحانی دولت سے تہی دست رہو گے، حقیقی سرور و طمانیت اور ابدی نجات و فلاح سے ہم آغوش نہیں ہوسکتے۔ آخری اور دائمی کامیابی انہی کے لیے ہے جو مولائے حقیقی کی خوشنودی پر دنیا کی ہر ایک زائل وفانی خوشی کو قربان کرسکتے ہیں اور راہ حق کی جادہ پیمائی میں کسی صعوبت سے نہیں گھبراتے نہ دنیا کے بڑے بڑے طاقتور جباروں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَيْهَا صَعِيْدًا جُرُزًا قیامت برپا ہونے کے بعد اس زمین کی تمام آرائش و زیبائش ختم کر کے اسے ایک صاف ہموار میدان میں تبدیل کردیا جائے گا۔ نہ پہاڑ اور سمندر باقی رہیں گے اور نہ یہ حسین ود لکش عمارات۔ اس وقت زمین کی سطح ایک ایسے کھیت کا منظر پیش کر رہی ہوگی جس کی فصل کٹ چکی ہو اور اس میں صرف بچا کھچا سوکھا چورا ادھر ادھر بکھرا پڑا ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 کل من علیھا فان :۔ یہ لوگ اس وقت آسودہ حال ہیں اور دنیا کی لذتوں اور دلچسپیوں میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ ان کی یہ حالت بدستور قائم رہے اور اسلام کے غلبہ میں انھیں اپنی اس آسودہ حالی کی زندگی اور عزو جاہ کی موت نظر آتی ہے حالانکہ دنیا کی انہی دلچسپیوں کو ہم نے ایسے لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے ہم تو یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ عیش و عشرت کی ان فراوانیوں میں پھنس کر کوئی اللہ کی طرف بھی رجوع کرتا ہے یا نہیں اور یہ دنیا اور اس کی بہار تو محض ایک وقتی، عارضی اور فانی چیز ہے اور ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب اس زمین پر نہ لہلہاتے کھیت ہوں گے، نہ مہکتے ہوئے باغ، نہ مال و مویشی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

8۔ (اور اپنی صنعت ایجاد کے بعد حکمت اعدام کا بھی نمونہ دکھادیں گے) یعنی یہی آباد وسرسبز، شاداب و گلزار بارونق وپربہار زمین ایک روز چٹیل میدان ہوجائے گی، اور اس کائنات کی ساری رعنائیوں اور دلفریبیوں پر فنا طاری ہو کر اور قیامت آکر رہے گی، اور اس حشر کے بعد سب کی جزاوسزا ہر ایک کے مناسب حال واقع ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–8

آیت نمبر 6 تا 8 ترجمہ : شاید آپ ان کے پیچھے اگر یہ لوگ قرآن پر ایمان نہ لائے تو خود کو افسوس کی وجہ سے غم وغصہ میں ہلاک کرلیں گے یعنی ان کے آپ سے اعراض کرنے کے بعد آپ کے ان کے ایمان پر حریص ہونے کی وجہ سے، اور اَسَفًا مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے بیشک ہم نے زمین پر جو کچھ ہے حیوانات اور نباتات اور اشجار وانہار وغیرہ کو زمین کے لئے زینت بنایا ہے تاکہ ہم ان لوگوں کو آزمائیں۔۔۔ ان لوگوں کو آزمائیں جو اس کی طرف مائل ہیں، کہ ان میں سے کون ما علی الارض کے بارے میں عمل کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے، یعنی ان میں سے کون دنیا سے زیادہ بےرخی کرنے والا ہے اور ہم زمین کی تمام چیزوں کو چینل میدان کردیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَيْهَا صَعِيْدًا جُرُزًا : اور ہم زمین کی تمام چیزوں کو ایک چٹیل میدان بنا دیں گے۔ یعنی جس حیوان و نبات وغیرہ کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے اس کو یقیناً ہم خاک بنا دیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(8) اور ہم اس زمین کی تمام چیزوں کو اور اس رونق کو ایک صاف چٹیل میدان کردیں گے اور کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَيْهَا۔۔ : ”صَعِيْدًا“ مٹی، کیونکہ وہ سمندر سے اوپر اٹھی ہوئی ہے۔ ”صَعِدَ یَصْعَدُ“ چڑھنا۔ ”جُرُزًا“ چٹیل زمین، جس میں کوئی سبزہ نہ ہو۔ ”جُرِزَتِ الْأَرْضُ“ قحط یا ٹڈی دل کی وجہ سے زمین پر کوئی اگی ہوئی چیز نہ رہ گئی۔ سورة سجدہ میں فرمایا : (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَاۗءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَاَنْفُسُهُمْ ۭ اَفَلَا يُبْصِرُوْنَ) [ السجدۃ : 27 ] ”اور کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم پانی کو چٹیل زمین کی طرف ہانک کرلے جاتے ہیں، پھر اس کے ذریعے کھیتی نکالتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–11

فلعلک باخع نفسک علی اٰثارھم ان لم یومنوبھذا الحدیث اسفاً “ تو کیا آپ (فرط غم سے) تلف کردیں گے اپنی جان کو ان کے پیچھے اگر وہ ایمان نہ لائے اس قرآن کریم پر افسوس کرتے ہوئے۔” قولہ تعالیٰ : فلعلک باخع نفسک علیٰ اٰثارھم باخع اس کا معنی ہے ہلاک کرنے والا اور قتل کرنے والا اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اٰثارھم یہ اثر کی جمع ہے، اور کہا جاتا ہے : اثر ـ(پیچھے) اور اس کا معنی ہے آپ سے ان کے اعراض کرنے اور ان کے پیٹھ پھیرنے کے پیچھے (کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کردیں گے) ۔ ان لم یومنو بھذا الحدیث اگر وہ اس قرآن کریم پر ایمان نہ لائے۔ اسفًا یعنی ان کے کفر پر افسوس اور غصہ کرتے ہوئے اور یہ تفسیر کی بنا پر منصوب ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–8

1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا جعلنا ماعلی الارض زینۃ لھا “ سے مراد ہے کہ جو چیز بھی زمین پر ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا جعلنا ماعلی الارض زینۃ لھا “ سے مراد ہے مرد (یعنی مرد زمین کی زینت ہیں ) ۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن مردویہ نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا جعلنا ماعلی الارض زینۃ لھا “ سے مراد ہیں مرد۔ 4:۔ ابوالنصر البحزی نے ابانہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا جعلنا ماعلی الارض زینۃ لھا “ سے مراد ہے کہ علماء زمین کی زینت ہیں۔ 5:۔ ابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَانا : اور بیشک ہم ] [لَجٰعِلُوْنَ : ضرور بنانے والے ہیں ] [مَا : اس کو جو ] [عَلَيْهَا : اس (زمین) پر ہے ] [صَعِيْدًا جُرُزًا : ایک بنجر میدان ] ج ر ز [جَرَزًا : (س) ] زمین کا بنجر ہونا۔ جُرُزٌ بنجر زمین ۔ چٹیل میدان۔ زیر مطالعہ آیت۔ 8

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–8

رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا ان آیات کے بعد اصحاب کہف کا قصہ شروع ہونے والا ہے مشرکین اور یہود رسول اللہ ﷺ سے طرح طرح کے سوال کیا کرتے تھے صحیح جواب پاتے تھے معجزات بھی دیکھتے تھے لیکن ایمان پھر بھی نہیں لاتے تھے۔ اصحاب کہف کا قصہ معلوم تو کرلیا لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ ایمان پھر بھی نہ لائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس سے رنج ہونا ظاہر تھا اس لیے قصہ سنانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دے دی کہ آپ ان کے گمراہی پر جمع رہنے کی وجہ سے اپنی جان کو غمگین کرکے ہلاک نہ کریں آپ کے ذمہ پہنچانا ہے، منوانا آپ کے ذمہ نہیں ہے اس لیے پہلے ہی فرما دیا کہ شاید آپ ان کے پیچھے اپنی جان ہی کو ہلاک کردیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

آغاز سورت بتحمید بر انزال کتاب ہدایت برائے اثبات توحید و رسالت و ذکر فنا وزوال دنیا برائے تذکیر آخرت قال اللہ تعالیٰ : الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب .... الیٰ .... صعیدا جرزا۔ (ربط) گزشتہ سورت کی طرح اس سورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت اور دنیا کے فناء وزوال اور اس کی حقارت اور آخرت کی جزاء و سزا کو بیان فرمایا اور تین قصے بیان فرمائے جن سے بھی مقصود اثبات توحید و رسالت اور اثبات قیامت ہے اور گزشتہ سورت کو حمد پر ختم فرمایا اور اس سورت کو توحید و حمد سے شروع فرمایا اور مسئلہ نبوت سے اس کی ابتداء فرمائی اور اپنی سب سے بڑی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یہ کتاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

10:۔ ” صعیدا “ مٹی۔ ” جرزا “ ایسا میدان جس میں کوئی سبزہ نہ ہو۔ یعنی زمین کی یہ رونق وزینت ہمیشہ رہنے والی نہیں اسے ایک دن (قیامت کے دن) ہم تباہ کردیں گے۔ اور زمین بالکل صاف چٹیل میدان ہوجائے گی۔ اس لیے یہ بھروسے کی چیز نہیں نہ اس پر اس قدر مغرور ہونا چاہیے۔ یہاں تک تمہید ختم ہوگئی اس کے بعد چار شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–8

ربط آیات : گذشتہ درس میں قرآن پاک کے نزول کا ذکر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل ترین بندے پر ایک عظیم المرتب کتاب نازل فرمائی جس میں کسی قسم کی غلطی تضاد ، تخالف یا خلاف واقع بات نہیں ہے ، یہ کتاب سابقہ کتب سماویہ اور اللہ کے بندوں کی مصلحتوں کی محافظ اور نگران ہے ، نزول کتاب کا مقصد اللہ نے یہ بیان فرمایا ، تاکہ اللہ کا بندہ اللہ کی طرف سے آنے والی سخت گرفت سے لوگوں کو آگاہ کرے اور اہل ایمان کو خوشخبری دے کہ اعمال صالحہ انجام دینے والے لوگوں کے لیے اچھا اجر ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ (تخویف برائے تجویز کنندگان اولاد) اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے نزول کتاب کا دوسرا مقصد بیان کیا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَيْہَا صَعِيْدًا جُرُزًا۝ 8ۭ صعد الصُّعُودُ : الذّهاب في المکان العالي، والصَّعُودُ والحَدُورُ لمکان الصُّعُودِ والانحدار، وهما بالذّات واحد، وإنّما يختلفان بحسب الاعتبار بمن يمرّ فيهما، فمتی کان المارّ صَاعِداً يقال لمکانه : صَعُودٌ ، وإذا کان منحدرا يقال لمکانه : حَدُور، والصَّعَدُ والصَّعِيدُ والصَّعُودُ في الأصل واحدٌ ، لكنِ الصَّعُودُ والصَّعَدُ يقال للعَقَبَةِ ، ويستعار لكلّ شاقٍّ. قال تعالی: وَمَنْ يُعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِ يَسْلُكْهُ عَذاباً صَعَداً [ الجن/ 17] ، أي : شاقّا، وقال : سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً [ المدثر/ 17] ، أي : عقبة شاقّة، والصَّعِيدُ يقال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

1 ؎ قال الفراء الجزر الارفق التی لانبات فیہ یقال جرزت الارض شی مجروزۃ وجزرہا المجرادوا الشاۃ والابل اذا کلت ما علیھا وامراۃ جروزا اذا کانت کو لا وسیف جراز اذا کان ستا صلا۔ 12 منہ ترکیب : قیما صاحب الکشاف کہتے ہیں کہ یہ الکتاب سے حال نہیں ہوسکتا بلکہ یہ منصوب ہے مضمر سے والتقدیر لم یجعل لہ عوجا و جعلہ قیما صاحب حل العقد کہتے ہیں کہ یہ بدل ہے لم یجعل لہ عوجا سے کیونکہ اس کے معنی ہیں جعلہ مستقیما۔ لینذر انزل سے متعلق ہے انذرمتعدی ہوتا ہے دو مفعولوں کی طرف کقولہ اناانذرنا کم عذابًا قریبًا مگر یہاں صرف باسا ایک مفعول پر کفایت کی گئی ویبشر معطوف ہے ینذر پر ان لہم ای بان لھم جملہ یبشر کے متعلق یا اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْھَا صَعِیْدًا جُرُزًا۔ (الکہف : 8) ( اور ہم بالآخر کردینے والے ہیں جو کچھ اس زمین پر ہے سب کو چٹیل میدان۔ ) اس دنیا کا انجام ” جُرُزْ “ بےآب وگیاہ زمین کو کہتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اہل دنیا، دنیا کے جس زیب وزینت کے فریب میں مبتلا ہو کر ہمیشہ یہ سمجھتے رہے کہ یہ دنیا ہی سب کچھ ہے، آخرت نام کی چیز ایک وہم اور بہلاوے کے سوا کچھ نہیں۔ ایک وقت آئے گا جب اللہ تعالیٰ اس زمین کی ہر چیز کو فنا کر دے گا اور یہ زمین چٹیل میدان بن کر رہ جائے گی۔ ایسا شاید قیامت میں ہوگا۔ اس وقت انسان حیران ہو کر دیکھے گا کہ زمین کے جس زیب وزینت پر میں جان دیتا رہا ہوں،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–8

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے بارے میں لوگوں کی ہرزہ سرائی اور کفر و شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کا غم زدہ ہونا۔ رسول کریم ﷺ مشرکین کو دن رات بڑی دلسوزی اور محنت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے مگر ان کی حالت یہ تھی کہ وہ آپ کی جان کے دشمن ہونے کے ساتھ کفر و شرک میں آگے ہی آگے بڑھتے جارہے تھے۔ اس صورت حال پر آپ اس قدر دل گرفتہ ہوجاتے کہ قریب تھا کہ آپ کو کوئی جسمانی عارضہ لاحق ہوجائے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ آپ کو اطمینان دلاتے کہ اے نبی ! اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات کے حوالے سے ایک ماننے اور اس کے ارشادات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو کیا آپ ان پر اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تمام زمینیں چٹیل میدان بن جائے گی : 8: پھر اس کی طرف میلان میں بےرغبتی دلانے کیلئے فرمایا وَاِنَّا لَجَا عِلُوْنَ مَا عَلَیْہَا (بیشک ہم زمین کی تمام چیزوں کو بنانے والے ہیں) ھاؔ سے مراد دنیا کی زینت۔ صَعِیْدًا (چٹیل زمین) جُرُزًا (خشک) جس میں نباتات باقی نہ رہے اس کے بعد کہ سرسبز اور گھاس والی تھی۔ حاصل یہ ہے کہ ہم حیوانات کو موت دیکر اس کی آبادی کو ختم کرکے ویرانے میں بدل دیں گے اس کے تمام درخت و نبات وغیرہ کو خشک کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7۔” وانا لجاعلون ما علیھا صعیداً جرزا “ صعید اس چیز کو کہتے ہیں جو زمین پر ہو یعنی ( مٹی) بعض نے کہا کہ اس سے مراد مٹی ہے۔ ” جرزا “ ان سب اشیاء کو ہم مٹی کردیں گے اور یہ سب چٹیل میدان بن جائے گا جیسے کہا جاتا ہے ” جرزت الارض ‘ جب زمین سب کچھ نگل جائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

8:۔ اوپر دنیا کی زیب وزینت کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا کہ ہم اس کو زینت ورونق کے بعد ایسا تباہ اور برباد کریں گے کہ ساری زمین ایک چٹیل میدان رہ جائے گی قتادہ کا قول ہے کہ صعید اس زمین کو کہتے ہیں جس میں کسی طرح کی روئیدگی نہ ہو صحیح مسلم میں جابر ؓ بن عبداللہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے زمانہ کے لوگوں کے حق میں فرمایا سو برس کے اندر ان میں سے شاذونادر کوئی زندہ رہے 1 ؎۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی اور صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ کی روایت سے جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بازاروں میں کپڑوں کے تھان ‘ جنگل میں کھیتیاں ‘ باغ غرض نہریں سب کچھ یوں ہی پڑا رہے گا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–8

(آیت نمبر (1 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کو ‘ لذت بھرے ماکولات و مشروبات ‘ خوبصورت ملبوسات ‘ اشجارو انہار ‘ کھیتوں ‘ باغات ‘ دلفریب مناظر ‘ خوش منظر باغیچوں ‘ سحر انگیز آوازوں ‘ خوبصورت چہروں ‘ سونے چاندی ‘ اونٹوں اور گھروں ‘ ان سب کو دنیا کی زینت ‘ فتنہ اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ (لنبلو ھم ایھم احسن عملا ) ” تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ کون ان میں اچھے عمل کرتا ہے۔ “ یعنی کون زیادہ خالص اور زیادہ صحیح اعمال پیش کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام چیزوں کو مضحمل ہونے والی ‘ فانی اور زائل ہوجانے والی بنایا ہے۔ عنقریب یہ زمین بےآب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 7–9

صعید (مٹی) کے بارے میں احکام قول باری ہے (انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا لنبلوھم ایھم احسن عملاً ، وانا لجاعلون ما علیھا صعیداً جرزاً ۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سروسامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ آخر کار اس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں) اس میں یہ بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نباتات و حیوانات وغیرہ سے زمین کی زینت کا جو سامان کیا ہے اسے ایک چٹیل میدان میں تبدیل کر دے گا۔ صعید، زمین کو کہتے ہیں اور مٹی کو بھی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر قائم کی ہوئی زینت کو چٹیل میدان بنا دینے کا جو ذکر کیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10۔ دنیا کا انجام فنا وزوال :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور یقینا ہم نے اس کو پھر ایک چٹیل میدان بنادینا ہے۔ تب اس کی یہ سب زیب وزینت اور چہل پہل ختم ہوجائے گی کہ یہ سب کچھ بہرحال فانی ہے۔ کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام تو پھر ایسی فانی اور عارضی چمک دمک پر لٹو ہو کر اپنی حقیقت اور اپنے انجام سے غافل ہوجانا کسی بھی عقلمند کو کیسے زیب دے سکتا ہے ؟ سو اس دنیا فانی کی اس چمک دمک پر لٹو اور فریفتہ ہو کر آخرت کو فراموش کردینا حماقت بھی ہے اور بڑے ہی خسارے کا سودا بھی کہ یہ بہرحال فانی ہے۔ اور اس نے بہرحال آخرکار مٹ کر رہنا ہے۔

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–8

لوگوں کے ایمان نہ لانے پر رسول ﷺ کا افسوس تشریح : ان آیات میں ایک بہترین انسان کی خصوصایت بیان کی گئی ہیں۔ کہ وہ کس حد تک فرض شناس، محسن انسانیت، خلقت رحمن سے پیار کرنے والا ان کو ہر مصیبت اور پریشانی سے بچانے والا، ہمدرد، مخلص اور مہربان ہے ان کی بھلائی کے لیے ہر وقت بےچین اور بےسکون رہتا ہے ان کو دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے بچانے کے لیے دن رات محنت اور کوشش کرتا رہتا ہے اور یہ محبوب الٰہی کون ہوسکتا ہے ؟ یہ ہیں پیارے رسول ﷺ اللہ ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ کیوں اس قدر فکر مند ہو رہے ہیں کہ اپنی جان تک کو تنگ کر رکھا ہے۔ آپ کا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے آگے ان لوگوں کا اپنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–12

سورة الکہف : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة کہف بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس میں انہی دو سوالوں کے جوابات ارشاد فرمائے گئے جو کفار مکہ نے یہود مدینہ سے پوچھ کر کئے تھے ، تیسرے سوال کا جواب سورة بنی اسرائیل میں اجمالا بیان ہوچکا جو روح کے بارے میں تھا ، مگر ان دونوں کے جواب مفصل دیئے گئے ، اگرچہ ان کی تفصیل بھی جغرافیائی محل وقوع تاریخی اعتبار سے زمانہ افراد کی حتمی تعداد وغیرہ باتوں کو بیان نہیں کرتی ، کہ قرآن حکیم کا موضوع تاریخ و جغرافیہ نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اور ان کی اصلاح احوال ہے تو جس حد تک واقعہ سے اس امر میں مدد حاصل ہوتی ہو اس حد تک اس واقعہ کو بیان کیا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 نہ کوئی مکان رہے گا نہ باغ نہ سبزہ نہ جانور نہ آدمی یعنی یہ ساری چہل پہل ختم ہوجائے گی۔ (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:8) صعیدا۔ زمین ۔ خاک۔ صعود مصدر جس کے معنی بلند ہونے کے ہیں۔ صعیدبروزن فعیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جرزا۔ بنجر ۔ چٹیل۔ جرز سے جس کے معنی کاٹ دینے اور کھا کر صاف کردینے کے ہیں صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ یعنی وہ زمین جس کے درخت اور گھاس چھانٹ دئیے گئے ہوں۔ چونکہ چٹیل میدان اور بنجر زمین درختوں اور گھاس سے خالی ہوتی ہے اس لئے جرز کہلاتی ہے۔ یعنی ایک دن ہم اس سرسبز و شاداب زمین کو چٹیل میدان بنادیں گے (یہ اپنی صنعت ِ ایجاد کے بعد حکمت اعدام کی طرف اشارہ ہے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 6–8

لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 8 لعل شاید، توقع ہے۔ باخع ہلاک کنے والا۔ اثار پیچھے چھوڑ جانے والی نشانی۔ الحدیث بات چیت۔ اسف افسوس، کسی چیز کے نہ ہونے کا غم۔ زینۃ خوبصورتی، رونق۔ صعید صاف میدان، ریت، مٹی۔ جرز سرسبز زمین جو چٹیل میدان بن جائے۔ تشریح :- آیت نمبر 6 تا 8 اعلان نبوت کے بعد نبی کریم ﷺ دن رات کفار و مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں اور آخرت کی ابدی زندگی کی راحتوں اور نہ ماننے والوں کے لئے شدید عذاب کی تبلیغ فرماتے تو وہ لوگ نبی کریم ﷺ اور دین اسلام کی صداقت پر ایمان لانے والوں کی طرح طرح سے اذیتیں اور تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ آپ کی دلی خواہش تھی کہ کفر و شرک میں زندگی گذارنے والے ایمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–10

اوپر والی آیت میں دنیا کی زیب وزینت کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا کہ ہم اس کو زینت ورونق کے بعد ایسا تباہ وبرباد کردیں گے کہ ساری زمین بنجر بےگھاس اور چٹیل میدان ہوجاوے گی یعنی یہ زمین فنا ہو کر حشر کے لئے دوسری نئی زمین پیدا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–8

[1] یعنی امتحان اس بات کا ہے کہ کون اس دنیا کی زینت اور رونق میں کھو کر اللہ کی یاد سے اور آخرت سے غافل ہوجاتا ہے اور کون نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا عالم ابتلا ہے۔ اس میں تو تکویناً لازمی ہے کہ کوئی مومن ہوگا اور کوئی کافر رہے گا۔ اس لئے غم کرنا بیکار ہے۔ آپ اپنا کام کئے جایئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–12

سورة کہف کی دس آیتیں : (ف 1) ابتدا کی ان دس آیتوں میں جو معارف بیان فرمائے ہیں ان کو سمجھ لینے کے بعد گمراہی کا کوئی احتمال نہیں رہتا ، اور قلب و دماغ انواروصداقت سے مستنیر ہوجاتے ہیں ذلیل میں یہ معارف درج ہیں ۔ 1۔ قرآن حکیم اللہ کی کتاب ہے ، اس میں کسی قسم کا الجھاؤ نہیں مطالب واضح اور صاف ہیں ۔ 2۔ یہ ہماری تمام ضروریات دینی کی کفیل ہے ، اس صحیفہ قیم کے بعد مزید تجدید وبعثت کی ضرورت نہیں ۔ 3۔ توحید کی راہ استقامت اور سلامت روی کی راہ ہے ، مسلمان کا نصب العین ہمیشہ یہی رہے گا کہ ایک خدا کے سامنے جھکے ، 4۔ عقیدہ شرک کی تمام صورتیں اور شکلیں غیر علمی اور غیر یقینی ہیں اور اللہ کی تقدیس پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-8 اور یقینا ہم زمین کے اوپر کی تمام چیزوں کو ایک صاف اور چٹیل میدان کرنے والے ہیں۔ یعنی ایک دن ایسا ہوگا کہ جو کچھ زمین پر ہے خواہ وہ پہاڑوں یا اشجار ہوں یا عمارات اور محلات ہوں سب کو صاف کر کے زمین کو ایک میدان کردیا جائے گا۔ قاعاً صفصفا لاتری فیھا عوجا ولا امتاً ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی گھاس اور درخت چھانٹ کر۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ کفار قریش نے تعلیم یہود امتحان نبوت ہی کے لئے آپ سے تین سوال کئے تھے، ایک روح کے متعلق جس کا جواب سورت سابقہ میں گزر چکا ہے، ایک اصحاب کہف کا قصہ جو ابھی مذکور ہوتا ہے، ایک ذو القرنین کا قصہ جو اس سورت کے آخر میں آوے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو کچھ زمین پر ہے اس کو مٹا دیا جائے گا اور زمین چٹیل میدان کردی جائے گی : 8۔ دنیا میں ایک سرے کی کوئی چیز اللہ نے پیدا نہیں کی ۔ اگر اس کا کوئی شروع ہے تو یقینا اختتام بھی ہوگا ۔ جس کا نہ شروع ہے اور نہ آخر وہ خالق ہے اور اس جگہ بحث خالق کی نہیں بلکہ مخلوق کی ہے ، فرمایا تم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ یہ سب کچھ ہم نے تمہاری عیش و عشرت کے لئے فراہم کیا ہے اس لئے تم زندگی کے مزے لوٹنے کے سوا کسی مقصد کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ تمہارا مطمع نظر درست نہیں اس لئے تم سمجھانے والے کی باتوں پر کان نہیں دھرتے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سامان عیش نہیں بلکہ وسائل امتحان ہیں جن کے درمیان تم کو رکھ کر دیکھا جا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

It was said in verse 7: إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْ‌ضِ زِينَةً لَّهَا (Surely, We have made what is on earth an adornment for it) with reference to all living forms, vegetation, mountains, minerals and everything else present on the earth. They are its embellishment. That there are snakes, scorpions, beasts and many harmful and fatal things may lead someone to doubt as to how can they be called 'an adornment for it.' This doubt is unfounded because everything in this world considered harmful, fatal or plain bad may be so in a restricted sense but, in terms of the totality of creation,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5. (Ayat 6)was addressed to the Prophet (peace be upon him), but (Ayats 7-8) have been directed to the disbelievers indirectly, as if to say: You must understand it clearly that all the things that you see in the world and which allure you, are a transitory adornment which has been arranged merely to test you, but it is a pity that you have been involved in the misunderstanding that all these things have been created to cater for your pleasure and enjoyment. That is why the only aim and object of life you have set before you is: Eat, drink and be merry. As a result of this you do not pay any…

Read the full tafseer →