Al-Kahf 18:7

Al-Kahf · from ayah 7

18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۟اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ اَ يُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا

جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لئے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We have made that which is on the earth adornment for it that We may test them [as to] which of them is best in deed.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:7

واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سر و سامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِن لوگوں کو آزمائیں اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لئے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

روئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اسے زمین کی رونق کا باعﺚ بنایا ہے کہ ہم انہیں آزمالیں کہ ان میں سے کون نیک اعمال واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین جانو کہ روئے زمین پر جتنی چیزیں ہیں ہم نے انہیں زمین کی سجاوٹ کا ذریعہ اس لیے بنایا ہے تاکہ لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون زیادہ اچھا عمل کرتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے زمین کا سنگھار کیا جو کچھ اس پر ہے کہ انہیں آزمائیں ان میں کس کے کام بہتر ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے اُن تمام چیزوں کو جو زمین پر ہیں اس کے لئے باعثِ زینت (و آرائش) بنایا تاکہ ہم ان لوگوں کو (جو زمین کے باسی ہیں) آزمائیں کہ ان میں سے بہ اِعتبارِ عمل کون بہتر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اس کے لیے زینت بنایا ہے، تاکہ ہم انھیں آزمائیں ان میں سے کون عمل میں بہتر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کچھ زمین پر موجود ہے اسے ہم نے اس کی زینت بنادیا ہے تاکہ ہم انھیں آزمائیں کہ ان میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

روئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اس کو زمین کے لیے سنگار بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کا امتحان کریں کہ ان میں اچھے عمل کرنے والا کون بنتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک ہم نے اس سب کچھ کو جو کہ اس زمین پر موجود ہے اس کے لئے اس کی زینت کا سامان بنایا ہے، تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ ان میں سے کون زیادہ اچھا عمل کرتا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے (اس) زمین پر جو کچھ ہے اسے اس کے لئے باعث رونق بنایا تاکہ ہم لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل کے لحاظ سے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً ہم نے بنا دیا ہے جو کچھ زمین پر ہے اسے اس کا بناؤ سنگھار تاکہ انہیں ہم آزمائیں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو چیز زمین کے لیے ہے ہم نے اس کو زمین کے لیے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely We have made all that is on the earth an embellishment for it in order to test people as to who of them is better in conduct.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, We have made what is on earth an adornment for it, so that We test them as to who among them is better in deeds.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, We have made what is on earth an adornment for it, so that We test them as to who among them is better in deeds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, we have made that which is on earth an adornment for it, in order that We may test which of them are best in deeds.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We have placed all that is on the earth as an ornament thereof that We may try them: which of them is best in conduct.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, We have made that which is on the earth adornment for it that We may test them [as to] which of them is best in deed.

— Saheeh International

We have caused earthly things to seem attractive so that We can see who will excel in good deeds.

— Muhammad Sarwar

Surely We have made whatever is on the earth an embellishment for it, so that We may try them (as to) which of them is best in works.

— Muhammad Habib Shakir

Verily We have made whatsoever is on the earth as an adornment thereof, that We may prove them - which of them is best in work.

— Abdul Majid Daryabadi

That which is on earth we have made but as a glittering show for the earth, in order that We may test them - as to which of them are best in conduct.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–8

مشرکین کی گمراہی پر افسوس نہ کرو مشرکین جو آپ سے دور بھاگتے تھے، ایمان نہ لاتے تھے اس پر جو رنج و افسوس آپ کو ہوتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ آپ کی تسلی کر رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے کہ ان پر اتنا رنج نہ کرو، اور جگہ ہے ان پر اتنے غمگین نہ ہو، اور جگہ ہے ان کے ایمان نہ لانے سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر، یہاں بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ اس قرآن پر ایمان نہ لائیں تو تو اپنی جان کو روگ نہ لگا لے اس قدر غم و غصہ رنج و افسوس نہ کر نہ گھبرا نہ دل تنگ ہو اپنا کام کئے جا۔ تبلیغ میں کوتاہی نہ کر۔ راہ یافتہ اپنا بھلا کریں گے۔ گمراہ اپنا برا کریں گے۔ ہر ایک کا عمل اس کے ساتھ ہے۔ پھر فرماتا ہے دنیا فانی ہے اس کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة الْكَهْف 4 یہ اشارہ ہے اس حالت کی طرف جس میں اس وقت نبی ﷺ مبتلا تھے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو رنج ان تکلیفوں کا نہ تھا جو آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو دی جا رہی تھیں، بلکہ جو چیز آپ کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی وہ یہ تھی کہ آپ اپنی قوم کو گمراہی اور اخلاقی پستی سے نکالنا چاہتے تھے اور وہ کسی طرح نکلنے پر آمادہ نہیں ہوتی تھی۔ آپکو یقین تھا کہ اس گمراہی کا لازمی نتیجہ تباہی اور عذاب الہٰی ہے۔ آپ ان کو اس سے بچانے کے لیے اپنے دن اور راتیں ایک کیے دے رہے تھے۔ مگر انہیں اصرار تھا کہ وہ خدا کے عذاب میں مبتلا ہو کر ہی رہیں گے۔ اپنی اس کیفیت کو نبی ﷺ خود ایک حدیث میں اس طرح بیان فرماتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَةً لَّهَا، یعنی زمین پر جو مخلوقات حیوانات، نباتات، جمادات اور زمین کے اندر مختلف چیزوں کی کانیں موجود ہیں وہ سب زمین کے لئے زینت اور رونق بنائی گئی ہیں، اس پر یہ شبہ نہ کیا جائے کہ مخلوقات ارضیہ میں تو سانپ، بچھو، درندے جانور، اور بہت سی مضر اور مہلک چیزیں بھی ہیں ان کو زمین کی زینت اور رونق کیسے کہا جاسکتا ہے، کیونکہ جتنی چیزیں دنیا میں مضر اور مہلک اور خراب سمجھی جاتی ہیں وہ ایک اعتبار سے بیشک خراب ہیں مگر مجموعہ عالم کے لحاظ سے کوئی چیز خراب نہیں، کیونکہ ہر بری سے بری چیز میں دوسری حیثیات سے بہت سے فوائد بھی اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمائے ہیں، کیا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

منکرین کے انکار کا اصل سبب : إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الأرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلا۔ یہ ان کے اعراض و انکار کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے۔ فرمایا کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ اس میں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کون اپنی عقل وتمیز سے کام لے کر آخرت کا طالب بنتا ہے اور کون اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ کر اسی دنیا کا پرستار بن کر رہ جاتا ہے۔ اس امتحان کے تقاضے سے ہم نے اس دنیا کے چہرے پر حسن و زیبائی کا ایک پرفریب غازہ مل دیا۔ اس کے مال و اولاد، اس کے کھیتوں کھلیانوں، اس کے باغوں اور چمنوں، اس کی کاروں اور کوٹھیوں، اس کے محلوں اور ایوانوں، اس کی صدارتوں اور وزارتوں میں بڑی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 روئے زمین میں جو کچھ ہے، حیوانات، جمادات، نباتات، معدنیات اور دیگر مدفون خزانے، یہ سب دنیا کی زینت اور رونق ہیں

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

1: آنحضرت ﷺ کو مشرکین کے کفر اور معاندانہ طرز عمل سے سخت صدمہ ہوتا تھا، ان آیات میں آپ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ دنیا تو لوگوں کے امتحان کے لیے بنائی گئی ہے، تاکہ یہ دیکھا جائے کہ کون ہے جو دنیا کی سجاوٹ میں محو ہو کر اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے، اور کون ہے جو اس کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق استعمال کر کے اپنے لیے آخرت کا ذخیرہ بناتا ہے۔ اور جب یہ امتحان گاہ ہے تو اس میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو امتحان میں کامیاب ہوں گے اور وہ بھی جو ناکام ہوں گے۔ لہذا اگر یہ لوگ کفر و شرک کا ارتکاب کر کے امتحان میں ناکام ہورہے ہیں تو اس میں نہ کوئی تعجب کی بات ہے اور نہ اس پر آپ کو اتنا افسوس کرنا چاہیے کہ آپ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا لنبلوھم ایھم احسن عملاً (18 : 8) ” واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی سروسامان زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے “ ال لہ کو تو خوب معلوم ہے لیکن مقصد یہ ہے کہ عملاً ان باتوں کا صدور ان سے ہوجائے اور ظاہر ہوجائے کہ زندگی میں کون ہے جو احسن رویہ اختیار کرتا ہے۔ یہاں برے اعمال کرنے والوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ ان کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے ، کیونکہ انداز کلام سے ان کے بارے میں مفہوم واضح ہے۔ اور دنیا کی اس زیب وزینت کا انجام بھی معلوم ہے۔ ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ اس دنیا کی یہ سب رنگینیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اس کی رونق پر دوڑتا ہے یا اسے چھوڑ کر آخرت کو پکڑتا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابن عمر نے سوال کیا یا رسول اللہ " اَحْسَنُ عَمَلاً " کون لوگ ہیں ؟ فرمایا " اَحْسَنُکُمْ عَقْلاً وَّاَوْرَعُکُمْ عَنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ وَاَسْرَعُکُمْ فِیْ طَاعَتِہٖ سُبْحَانَہ، " (جس کی سمجھ اچھی ہو، حرام سے زیادہ پرہیز کرے اور خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کی طرف زیادہ جھپٹے)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَةً لَّهَا یہاں یہ نکتہ ذہن نشین کرلیجئے کہ لفظ ”زینت“ اور دنیوی آرائش و زیبائش کا موضوع اس سورت کے مضامین کا عمود ہے۔ یعنی دنیا کی رونق چمک دمک اور زیب وزینت میں انسان اس قدر کھو جاتا ہے کہ آخرت کا اسے بالکل خیال ہی نہیں رہتا۔ دنیا کی یہ رنگینیاں امریکہ اور یورپ میں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ انہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور انسان اس سب کچھ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم امریکی اور یورپی اقوام کی علمی ترقی سے متاثر اور ان کے مادی اسباب و وسائل سے مرعوب ہیں۔ اپنی اسی مرعوبیت کے باعث ہم ان کی لادینی تہذیب و ثقافت کے بھی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–7

6 آپ کو کفار مکہ کے ایمان نہ لانے کا افسوس :۔ جن حالات میں یہ سورت نازل ہوئی اس آیت میں انہی حالات کا اجمالی منظر پیش کیا گیا ہے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے اور کفار مکہ اپنی ساری قوتیں اسلام کے استیصال پر صرف کر رہے تھے ان حالات میں آپ کی انتہائی آرزو یہ تھی کہ ان سرداران قریش کو یا ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ اسلام لانے کی توفیق عطا فرما دے جس سے آپ کے سامنے بالخصوص دو فوائد تھے ایک یہ کہ لوگ اللہ کی گرفت سے بچ جائیں جو پیہم نافرمانیوں کی صورت میں یقیناً واقع ہوجاتی ہے اور دوسرے یہ کہ اس طرح اسلام کو تقویت حاصل ہو اور مسلمانوں پر سختیوں میں کمی واقع ہوجائے۔ دن رات آپ کو یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ (اور کون ناقص و قاصر ٹھہرتا ہے) یہ گویا آیت سابق ہی کے مضمون کا تکملہ ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ سے ارشاد ہورہا ہے کہ یہ تو عالم ابتلاء ہے اس میں تکوینا لازمی ہے کہ کوئی مبتلائے کفر ہو اور کوئی مشرف بہ ایمان اس لیے آپ کا غم مفرط بیکار ہے۔ (آیت) ” ما علی الارض زینۃ لھا “۔ اس روئے زمین پر زینت و آرائش کی جتنی بھی چیزیں ہیں، بجائے خود ان میں سے کوئی بھی حرام نہیں۔ صرف ان کا غلط طریقہ استعمال انہیں ناجائز بنا دیتا ہے، صحیح طریقہ استعمال وہی ہے جو شریعت کے ماتحت ومطابق ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–8

آیت نمبر 6 تا 8 ترجمہ : شاید آپ ان کے پیچھے اگر یہ لوگ قرآن پر ایمان نہ لائے تو خود کو افسوس کی وجہ سے غم وغصہ میں ہلاک کرلیں گے یعنی ان کے آپ سے اعراض کرنے کے بعد آپ کے ان کے ایمان پر حریص ہونے کی وجہ سے، اور اَسَفًا مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے بیشک ہم نے زمین پر جو کچھ ہے حیوانات اور نباتات اور اشجار وانہار وغیرہ کو زمین کے لئے زینت بنایا ہے تاکہ ہم ان لوگوں کو آزمائیں۔۔۔ ان لوگوں کو آزمائیں جو اس کی طرف مائل ہیں، کہ ان میں سے کون ما علی الارض کے بارے میں عمل کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے، یعنی ان میں سے کون دنیا سے زیادہ بےرخی کرنے والا ہے اور ہم زمین کی تمام چیزوں کو چینل میدان کردیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَةً لَّهَا : زمین پر جو کچھ ہے (خواہ کانیں ہوں یا نباتات یا جاندار حیوان) اس کو ہم نے زمین (اور اہل زمین) کے لئے سجاوٹ بنایا ہے۔ ایک شبہ سانپ ‘ بچھو ‘ موذی جانور اور شیطان زمین کی زینت کس طرح ہیں۔ جواب سانپ ‘ بچھو وغیرہ بھی اپنے بنانے والے کے کمال قدرت و صنعت اور وحدت ذات وصفات پر دلالت کر رہے ہیں ‘ اس لئے یہ بھی زمین کی زینت ہی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا مَا عَلَی الْاَرْضِسے صرف انسان مراد ہیں ‘ بعض اہل تفسیر کے نزدیک صرف علماء اور صلحاء مراد ہیں ‘ بعض علماء کے نزدیک صرف وہ زینت مراد ہے جو آب رواں اور سرسبز لہلہاتے درختوں سے زمین پر ہوجاتی ہے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(7) ہم نے مردوں اور عورتوں وغیرہ کو زمین کے لیے بارونق بنایا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کی آزمایش کریں کہ ان میں زیادہ اچھا عمل کون کرتا ہے یا آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر جو نباتات اور درخت اور جانور اور دیگر قسم قسم جو نعمتیں ہیں ہم نے ان کو زمین کے لیے باعث رونق بنایا ہے تاکہ ہم اس کے ذریعے سے آزمایش کریں کہ سب سے زیادہ زہد کون کرنے والا اور تارک الدنیا کون ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَةً لَّهَا۔۔ : یعنی ہم نے زمین پر جو کچھ بھی ہے، حیوان، انسان، پودے، ندی نالے، سمندر اور پہاڑ، غرض ہر چیز اس زمین کی زینت بنائی ہے۔ زینت کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے آل عمران (14) مقصد انسانوں کی آزمائش ہے کہ ان میں سے عمل میں کون زیادہ اچھا ہے، کون دنیا کی سج دھج کی طرف دوڑتا ہے اور کون اس کو چھوڑ کر آخرت کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–11

فلعلک باخع نفسک علی اٰثارھم ان لم یومنوبھذا الحدیث اسفاً “ تو کیا آپ (فرط غم سے) تلف کردیں گے اپنی جان کو ان کے پیچھے اگر وہ ایمان نہ لائے اس قرآن کریم پر افسوس کرتے ہوئے۔” قولہ تعالیٰ : فلعلک باخع نفسک علیٰ اٰثارھم باخع اس کا معنی ہے ہلاک کرنے والا اور قتل کرنے والا اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اٰثارھم یہ اثر کی جمع ہے، اور کہا جاتا ہے : اثر ـ(پیچھے) اور اس کا معنی ہے آپ سے ان کے اعراض کرنے اور ان کے پیٹھ پھیرنے کے پیچھے (کیا آپ اپنے آپ کو ہلاک کردیں گے) ۔ ان لم یومنو بھذا الحدیث اگر وہ اس قرآن کریم پر ایمان نہ لائے۔ اسفًا یعنی ان کے کفر پر افسوس اور غصہ کرتے ہوئے اور یہ تفسیر کی بنا پر منصوب ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–8

1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا جعلنا ماعلی الارض زینۃ لھا “ سے مراد ہے کہ جو چیز بھی زمین پر ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا جعلنا ماعلی الارض زینۃ لھا “ سے مراد ہے مرد (یعنی مرد زمین کی زینت ہیں ) ۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن مردویہ نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا جعلنا ماعلی الارض زینۃ لھا “ سے مراد ہیں مرد۔ 4:۔ ابوالنصر البحزی نے ابانہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا جعلنا ماعلی الارض زینۃ لھا “ سے مراد ہے کہ علماء زمین کی زینت ہیں۔ 5:۔ ابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انا : بیشک ] [جَعَلْنَا : ہم نے بنایا ] [مَا : اس کو جو ] [عَلَي الْاَرْضِ : زمین پر ہے ] [زِيْنَةً : ایک زینت ] [لَّهَا : اس (زمین) کے لئے ] [لِنَبْلُوَهُمْ : تاکہ ہم آزمائیں ان کو ] [اَيُّهُمْ : (کہ) ان کا کون ] [اَحْسَنُ : زیادہ اچھا ہے ] [عَمَلًا : بلحاظ عمل کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–8

رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا ان آیات کے بعد اصحاب کہف کا قصہ شروع ہونے والا ہے مشرکین اور یہود رسول اللہ ﷺ سے طرح طرح کے سوال کیا کرتے تھے صحیح جواب پاتے تھے معجزات بھی دیکھتے تھے لیکن ایمان پھر بھی نہیں لاتے تھے۔ اصحاب کہف کا قصہ معلوم تو کرلیا لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ ایمان پھر بھی نہ لائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس سے رنج ہونا ظاہر تھا اس لیے قصہ سنانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دے دی کہ آپ ان کے گمراہی پر جمع رہنے کی وجہ سے اپنی جان کو غمگین کرکے ہلاک نہ کریں آپ کے ذمہ پہنچانا ہے، منوانا آپ کے ذمہ نہیں ہے اس لیے پہلے ہی فرما دیا کہ شاید آپ ان کے پیچھے اپنی جان ہی کو ہلاک کردیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

آغاز سورت بتحمید بر انزال کتاب ہدایت برائے اثبات توحید و رسالت و ذکر فنا وزوال دنیا برائے تذکیر آخرت قال اللہ تعالیٰ : الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب .... الیٰ .... صعیدا جرزا۔ (ربط) گزشتہ سورت کی طرح اس سورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت اور دنیا کے فناء وزوال اور اس کی حقارت اور آخرت کی جزاء و سزا کو بیان فرمایا اور تین قصے بیان فرمائے جن سے بھی مقصود اثبات توحید و رسالت اور اثبات قیامت ہے اور گزشتہ سورت کو حمد پر ختم فرمایا اور اس سورت کو توحید و حمد سے شروع فرمایا اور مسئلہ نبوت سے اس کی ابتداء فرمائی اور اپنی سب سے بڑی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یہ کتاب…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ ” انا جعلنا الخ “ مشرکین کیوں نہیں مانتے ؟ محض اس لیے کہ ان کے پاس دولت ہے۔ باغات اور محلات ہیں۔ تو انہیں اس دنیوی شان و شوکت پر مغرور نہیں ہوجانا چاہئے۔ زمین پر ہم نے جو کچھ پیدا کیا ہے۔ سونا، چاندی، زر و جواہر، حیوانات کی انواع و اقسام، سرسبز و شاداب کھیتیاں، رنگارنگ پھول اور میوے یہ سب زمین کے لیے چند روزہ زینت ہے اور سب کچھ محض بنی آدم کی آزمائش و امتحان کے لیے پیدا کیا ہے کہ کون اس دنیوی ساز و سامان کو معرفت خالق اور ادائے حقوق شریعت کا ذریعہ بناتا ہے اور کون اس کو شہواتِ نفسانیہ اور اغراض فاسدہ کی تکمیل میں صرف کرتا ہے (من الروح ج 15 ص 207) ۔ حضرت شیخ نے فرمایا کہ ” زینۃ “ میں تنوین…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 4–8

ربط آیات : گذشتہ درس میں قرآن پاک کے نزول کا ذکر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل ترین بندے پر ایک عظیم المرتب کتاب نازل فرمائی جس میں کسی قسم کی غلطی تضاد ، تخالف یا خلاف واقع بات نہیں ہے ، یہ کتاب سابقہ کتب سماویہ اور اللہ کے بندوں کی مصلحتوں کی محافظ اور نگران ہے ، نزول کتاب کا مقصد اللہ نے یہ بیان فرمایا ، تاکہ اللہ کا بندہ اللہ کی طرف سے آنے والی سخت گرفت سے لوگوں کو آگاہ کرے اور اہل ایمان کو خوشخبری دے کہ اعمال صالحہ انجام دینے والے لوگوں کے لیے اچھا اجر ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ (تخویف برائے تجویز کنندگان اولاد) اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے نزول کتاب کا دوسرا مقصد بیان کیا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَيُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۝ 7 جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ زين الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين، ( زی ن ) الزینہ زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–8

1 ؎ قال الفراء الجزر الارفق التی لانبات فیہ یقال جرزت الارض شی مجروزۃ وجزرہا المجرادوا الشاۃ والابل اذا کلت ما علیھا وامراۃ جروزا اذا کانت کو لا وسیف جراز اذا کان ستا صلا۔ 12 منہ ترکیب : قیما صاحب الکشاف کہتے ہیں کہ یہ الکتاب سے حال نہیں ہوسکتا بلکہ یہ منصوب ہے مضمر سے والتقدیر لم یجعل لہ عوجا و جعلہ قیما صاحب حل العقد کہتے ہیں کہ یہ بدل ہے لم یجعل لہ عوجا سے کیونکہ اس کے معنی ہیں جعلہ مستقیما۔ لینذر انزل سے متعلق ہے انذرمتعدی ہوتا ہے دو مفعولوں کی طرف کقولہ اناانذرنا کم عذابًا قریبًا مگر یہاں صرف باسا ایک مفعول پر کفایت کی گئی ویبشر معطوف ہے ینذر پر ان لہم ای بان لھم جملہ یبشر کے متعلق یا اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّھَا لِنَبْلُوَھُمْ اَیُّـھُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ۔ (الکہف : 7) (ہم نے بنایا ہے جو کچھ زمین پر ہے اس کے لیے سنگار تاکہ ہم لوگوں کا امتحان کریں کہ ان میں کون اچھا عمل کرتا ہے۔ ) کفار کے ایمان نہ لانے کا اصل سبب اس آیت کریمہ میں کفار کے ایمان نہ لانے کا اصل سبب بیان کیا گیا ہے۔ یہ سبب کہنے کو تو بہت معمولی ہے لیکن اپنے اثرات کے اعتبار سے بہت گہرا ہے۔ وہ سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کے لیے نہیں بھیجا یا یوں کہہ لیجئے کہ صرف حیوانوں کی طرح شب و روز گزارنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس دنیا کو انسان کے لیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–8

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے بارے میں لوگوں کی ہرزہ سرائی اور کفر و شرک پر قائم رہنے کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کا غم زدہ ہونا۔ رسول کریم ﷺ مشرکین کو دن رات بڑی دلسوزی اور محنت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے مگر ان کی حالت یہ تھی کہ وہ آپ کی جان کے دشمن ہونے کے ساتھ کفر و شرک میں آگے ہی آگے بڑھتے جارہے تھے۔ اس صورت حال پر آپ اس قدر دل گرفتہ ہوجاتے کہ قریب تھا کہ آپ کو کوئی جسمانی عارضہ لاحق ہوجائے۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ آپ کو اطمینان دلاتے کہ اے نبی ! اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات کے حوالے سے ایک ماننے اور اس کے ارشادات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو کیا آپ ان پر اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دُنیا آزمائش گڑھ ہے : 7: اِنَّا جَعَلْنَا مَاعَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّھَا (بیشک ہم نے بنادیا جو کچھ زمین پر ہے اس کو زمین کیلئے زینت بنایا ہے) یعنی ایسی چیزیں ہیں جو زمین اور اہل زمین کیلئے باعث زینت بن سکتی ہیں۔ جیسے زخارف ارض اور جو ان میں سے عمدہ ہیں۔ لِنَبْلُوَھُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے) حسن عمل یہ ہے کہ دنیا سے زہد بےرغبتی اختیار کرے اور اس کی وجہ سے غرور میں مبتلا نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا شبہ اور اس کا ازالہ سوال کیا جائے کہ زینت میں تو ایسی چیزیں بھی شامل ہیں جو بظاہر نقصان دہ ہیں ۔ سانپ ، بچھو ، شیاطین ۔ اس کا جواب یہ دیا کہ زینت اس اعتبار سے ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں ۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد خاص طور پر مرد ہیں کیونکہ یہی زمین کی زینت ہیں ۔ بعض نے کہا کہ زینت سے مراد علماء و صلحاء ہیں ۔ بعض نے کہا کہ زینت سے مراد نباتات ، درخت اور نہیں ہیں ۔ جیسے کہا جاتا ہے۔ ” حتیٰ اذا اخذت الارض زخرفھاوازینت “۔۔۔۔” لنبلوھم “ تا کہ ہم تمہیں اس کی خبردیں۔” ایھم احسن عملاً “ تاکہ ہم ان کے اعمال کی اصلاح کریں ، بعض نے کہا کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–7

6۔ 7:۔ تفسیر ابن جریر اور سیرۃ محمد ابن اسحاق میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس سورة کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے چند آدمیوں کو یہود کے پاس اس غرض سے بھیجا تھا کہ یہود کچھ مشکل باتیں قریش کو ایسی بتلا دیں جن کو قریش آنحضرت سے امتحان کے طور پر پوچھیں یہود نے تین باتیں بتلا کر یہ کہا کہ اگر ان باتوں کا جواب محمد ﷺ دے دیں تو جان لینا کہ وہ بلاشک سچے نبی ہیں ایک تو روح کا سوال تھا کہ روح کیا چیز ہے اور دوسرا یہ سوال تھا کہ وہ کون سے چند شخص ہیں جو دنیا میں جیتے جی غائب ہوگئے ہیں تیسرا یہ سوال تھا کہ وہ کون شخص ہے جس نے دنیا بھر کا سفر کیا ہے جب یہود کے سکھلانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–8

(آیت نمبر (1 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کو ‘ لذت بھرے ماکولات و مشروبات ‘ خوبصورت ملبوسات ‘ اشجارو انہار ‘ کھیتوں ‘ باغات ‘ دلفریب مناظر ‘ خوش منظر باغیچوں ‘ سحر انگیز آوازوں ‘ خوبصورت چہروں ‘ سونے چاندی ‘ اونٹوں اور گھروں ‘ ان سب کو دنیا کی زینت ‘ فتنہ اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ (لنبلو ھم ایھم احسن عملا ) ” تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ کون ان میں اچھے عمل کرتا ہے۔ “ یعنی کون زیادہ خالص اور زیادہ صحیح اعمال پیش کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تمام چیزوں کو مضحمل ہونے والی ‘ فانی اور زائل ہوجانے والی بنایا ہے۔ عنقریب یہ زمین بےآب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 7–9

صعید (مٹی) کے بارے میں احکام قول باری ہے (انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا لنبلوھم ایھم احسن عملاً ، وانا لجاعلون ما علیھا صعیداً جرزاً ۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سروسامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ آخر کار اس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں) اس میں یہ بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نباتات و حیوانات وغیرہ سے زمین کی زینت کا جو سامان کیا ہے اسے ایک چٹیل میدان میں تبدیل کر دے گا۔ صعید، زمین کو کہتے ہیں اور مٹی کو بھی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر قائم کی ہوئی زینت کو چٹیل میدان بنا دینے کا جو ذکر کیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

9۔ متاع دنیا ذریعہ آزمائش وابتلاء۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ زمین پر موجود سب سامان ذریعہ ابتلاء و آزمائش ہے۔ تاکہ یہ دیکھا جاس کے کہ کون اس دنیا کی اس چکا چوند اور اس کی چمک دمک میں کھو کر اپنے خالق ومالک کو، اپنی زندگی کے مقصد، اور اپنے انجام کو بھول جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ، اور کون اس کارخانہ ہست وبود کے پیچھے فرما اصل حقیقت کو پاکر صحیح راہ حق و ہدایت پر آجاتا ہے، اور وہ وحی کی تعلیمات حقہ کی روشنی میں اپنی خالق ومالک حقیقی کو پہچان لیتا ہے اور اس کے احکام و فرامین کے مطابق زندگی کی راہیں سنوارتا اور اپنی دنیا وآخرت بناتا ہے وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وھو الھادی الی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–8

لوگوں کے ایمان نہ لانے پر رسول ﷺ کا افسوس تشریح : ان آیات میں ایک بہترین انسان کی خصوصایت بیان کی گئی ہیں۔ کہ وہ کس حد تک فرض شناس، محسن انسانیت، خلقت رحمن سے پیار کرنے والا ان کو ہر مصیبت اور پریشانی سے بچانے والا، ہمدرد، مخلص اور مہربان ہے ان کی بھلائی کے لیے ہر وقت بےچین اور بےسکون رہتا ہے ان کو دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے بچانے کے لیے دن رات محنت اور کوشش کرتا رہتا ہے اور یہ محبوب الٰہی کون ہوسکتا ہے ؟ یہ ہیں پیارے رسول ﷺ اللہ ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ کیوں اس قدر فکر مند ہو رہے ہیں کہ اپنی جان تک کو تنگ کر رکھا ہے۔ آپ کا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے آگے ان لوگوں کا اپنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–12

سورة الکہف : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة کہف بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس میں انہی دو سوالوں کے جوابات ارشاد فرمائے گئے جو کفار مکہ نے یہود مدینہ سے پوچھ کر کئے تھے ، تیسرے سوال کا جواب سورة بنی اسرائیل میں اجمالا بیان ہوچکا جو روح کے بارے میں تھا ، مگر ان دونوں کے جواب مفصل دیئے گئے ، اگرچہ ان کی تفصیل بھی جغرافیائی محل وقوع تاریخی اعتبار سے زمانہ افراد کی حتمی تعداد وغیرہ باتوں کو بیان نہیں کرتی ، کہ قرآن حکیم کا موضوع تاریخ و جغرافیہ نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اور ان کی اصلاح احوال ہے تو جس حد تک واقعہ سے اس امر میں مدد حاصل ہوتی ہو اس حد تک اس واقعہ کو بیان کیا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی کون دنیا کی سج دھج کی طرف دوڑتا ہے اور کون اس کو چھوڑ کر آخرت کو پکڑتا ہے۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:7) لنبلوہم۔ میں لام تعلیل کا ہے۔ نبلو۔ مضارع جمع متکلم ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ سکان الارض۔ اہالیان ارض کے لئے ہے تا کہ ہم اہل زمین کو آزمائیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 6–8

لغات القرآن آیت نمبر 6 تا 8 لعل شاید، توقع ہے۔ باخع ہلاک کنے والا۔ اثار پیچھے چھوڑ جانے والی نشانی۔ الحدیث بات چیت۔ اسف افسوس، کسی چیز کے نہ ہونے کا غم۔ زینۃ خوبصورتی، رونق۔ صعید صاف میدان، ریت، مٹی۔ جرز سرسبز زمین جو چٹیل میدان بن جائے۔ تشریح :- آیت نمبر 6 تا 8 اعلان نبوت کے بعد نبی کریم ﷺ دن رات کفار و مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں اور آخرت کی ابدی زندگی کی راحتوں اور نہ ماننے والوں کے لئے شدید عذاب کی تبلیغ فرماتے تو وہ لوگ نبی کریم ﷺ اور دین اسلام کی صداقت پر ایمان لانے والوں کی طرح طرح سے اذیتیں اور تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ آپ کی دلی خواہش تھی کہ کفر و شرک میں زندگی گذارنے والے ایمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

چونکہ بعض اوقات موحدوں کو یہ شبہ گزرتا ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ کافروں کو دنیا میں عیش و آرام بہت ملتا ہے، ان پر تو غضب نازل ہونا چاہیے تھا بھلا نعمت کا کیا موقع۔ اب ان مسلمانوں کی تسکین کے لئے ارشاد فرمایا کہ زمین پر جو چیزیں موجود ہیں وہ اہل زمین کی زینت کے لئے ہم نے بنائی ہیں اور اس میں ہمارا مطلب یہ ہے کہ ہم اہل دنیا کو آزمائیں کہ کون شکر کرتا ہے، اور اپنے مال کو اچھے کام میں لگاتا ہے اور کون سرکشی کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–8

[1] یعنی امتحان اس بات کا ہے کہ کون اس دنیا کی زینت اور رونق میں کھو کر اللہ کی یاد سے اور آخرت سے غافل ہوجاتا ہے اور کون نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا عالم ابتلا ہے۔ اس میں تو تکویناً لازمی ہے کہ کوئی مومن ہوگا اور کوئی کافر رہے گا۔ اس لئے غم کرنا بیکار ہے۔ آپ اپنا کام کئے جایئے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-7 جو کچھ زمین پر ہے یقینا ہم نے اس سب کو زمین کے لئے موجب زینت اور موجب رونق بنایا ہے تاکہ ہم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں با اعتبار عمل کے کون زیادہ اچھا ہے۔ یعنی دیکھنا ہے کہ کون اچھا عمل کرتا ہے کون یہاں کی رونق میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ سے غافل ہوجاتا ہے اور کون اس کو مانتا اور اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اس کی رونق پر دوڑتا ہے یا اس کو چھوڑ کر آخرت کو پکڑتا ہے 12 غرض یہ دارالابتلا ہے کوئی کفر پر اڑتا ہے اور کوئی اسلام کو قبول کرتا ہے یہ دونوں ہی باتیں ہوتی ہیں اس لئے ان پر غم کھانا بیکار ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ یعنی کون تو اس کے اسباب زینت میں مشغول ہو کر حق تعالیٰ سے غافل ہوجاتا ہے، اور کون اس پر فریفتہ نہ ہو کر حق تعالیٰ کی طرف مشغول ہوتا ہے۔ غرض یہ عالم ابتلاء ٹھہرا، پس ضرور ہوا کہ کوئی مبتلائے کفر ہو، اور کوئی مشرف بایمان ہو، پھر غم بیکار، آپ اپنا کام کئے جایئے اور ان کے کفر کے نتیجے کی فکر میں نہ پڑیئے کہ اس کا مرتب کرنا ہمارا کام ہے، آپ کا فرض دعوت و تبلیغ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زمین میں جو کچھ ہے ان کی آزمائش کے لئے ہے تاکہ اچھے برے کی تمیز ہوجائے : 7۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے یہ سورت مکی ہے بلکہ مکی عہد کی آخری سورتوں میں سے ایک ہے یہ وہ وقت تھا کہ منکروں کی سرکشی انتہائی حد تک پہنچ چکی تھی اور پیغمبر اسلام کا قلب مبارک لوگوں کی شقاوت و محرومی کے غم سے بڑا ہی دل گیر ہو رہا تھا ، ان کے جوش دعوت واصلاح کا یہ حال تھا کہ چاہتے تھے ہدایت گھونٹ بنا کر ان کو پلا دیں اور منکروں کا یہ حال تھا کہ سیدھی سے سدھی بات بھی ان کے دلوں کو نہیں پکڑتی تھی ، انبیائے کرام ہدایت واصلاح کے صرف طالب ہی نہیں ہوتے عاشق ہوتے ہیں انسان کی گمراہی ان کے دلوں کا ناسور ہوتی ہے اور انسان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

It was said in verse 7: إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْ‌ضِ زِينَةً لَّهَا (Surely, We have made what is on earth an adornment for it) with reference to all living forms, vegetation, mountains, minerals and everything else present on the earth. They are its embellishment. That there are snakes, scorpions, beasts and many harmful and fatal things may lead someone to doubt as to how can they be called 'an adornment for it.' This doubt is unfounded because everything in this world considered harmful, fatal or plain bad may be so in a restricted sense but, in terms of the totality of creation,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

4. This refers to the real cause of the anxiety of the Prophet (peace be upon him) at the time of the revelation of this Surah. It clearly shows that the Prophet (peace be upon him) did not grieve at the persecution from which he and his companions were suffering but at the deviation and moral degeneration of his people. What was consuming him was that, though he was trying to bring them out from their disgraceful state, they persisted in it. He was grieved because he was convinced that their deviation would inevitably lead them to destruction and scourge of Allah. Therefore he was working…

Read the full tafseer →