Explained with ayahs 83–84
کفار کے سوالات کے جوابات۔
پہلے گزر چکا ہے کہ کفار مکہ نے اہل کتاب سے کہلوایا تھا کہ ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ جو ہم محمد ﷺ سے دریافت کریں اور ان کے جواب آپ سے نہ بن پڑیں۔ تو انہوں نے سکھایا تھا کہ ایک تو ان سے اس شخص کا واقعہ پوچھو جس نے روئے زمین کی سیاحت کی تھی۔ دوسرا سوال ان سے ان نوجوانوں کی بہ نسبت کرو جو بالکل لا پتہ ہوگئے ہیں اور تیسرا سوال ان سے روح کی بابت کرو۔ ان کے ان سوالوں کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ یہ بھی روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور ﷺ سے ذوالقرنین کا قصہ دریافت کرنے کو آئی تھی۔ تو آپ نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا کہ تم اس لئے آئے ہو۔ پھر آپ نے وہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
سورة الْكَهْف 61
وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ کا عطف لا محالہ پچھلے قصے ہی پر ہے۔ اس سے خود بخود یہ اشارہ نکلتا ہے کہ قصۂ موسیٰ و خضر بھی لوگوں کے سوال ہی کے جواب میں سنایا گیا ہے اور یہ بات ہمارے اس قیاس کی تائید کرتی ہے کہ اس سورے کے یہ تینوں اہم قصے دراصل کفار مکہ نے اہل کتاب کے مشورے سے امتحاناً دریافت کیے تھے۔
سورة الْكَهْف 62
یہ مسئلہ قدیم زمانے سے اب تک مختلف فیہ رہا ہے کہ یہ " ذوالقرنین " جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے، کون تھا۔ قدیم زمانے میں بالعموم مفسرین کا میلان سکندر کی طرف تھا، لیکن قرآن میں اس کی جو صفات و خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ مشکل ہی سے سکندر پر چسپاں ہوتی ہیں۔…
Read the full tafseer →(آیت) وَاٰتَيْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا لفظ سبب عربی لغت میں ہر اس چیز کیلئے بولا جاتا ہے جس سے اپنے مقصد حاصل کرنے میں کرنے میں مددلی جاتی ہے جس میں آلات و وسائل مادیہ بھی شامل ہیں اور علم و بصیرت و تجربہ وغیرہ بھی (بحرمحیط) اور مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سے مراد وہ تمام امور ہیں جن کو ضرورت نظام سلطنت کے لئے ایک بادشاہ اور حکمران کو پیش آتی ہے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ذوالقرنین کو اپنی عدل گستری اور امن عالم کے قیام اور فتوحات ممالک کے لئے جس جس سامان کی ضرورت اس زمانے میں تھی وہ سب کے سب ان کو عطا کردیئے گئے تھے۔
Read the full tafseer →إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الأرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا۔
" سبب " کا مفہوم : " سَبَبَ " کے اصل معنی وسیلہ و ذریعہ کے ہیں۔ یہاں " مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا " کا مطلب یہ ہے کہ اس کی مملکت میں ہر قسم کے وسائل و ذرائع موجود تھے۔
کیخسرو کی عظیم سلطنت : کیخسرو، جس کا اصل نام کو رش تھا، کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ چھٹی صدی قبل مسیح کے وسط میں اپنے والد کمبوچیہ کی چھوٹی سی ریاست انشان کا والی مقرر ہوا۔ برسرِ اقتدار آتے ہی اس کو مادا کے حکمران کے حملے کا مقابلہ کرنا پڑا جس میں اس کو فتح حاصل ہوئی۔ بعد کے چند سالوں میں اس نے وقت کی تمام بڑی ریاستوں کو زیر کرلیا اور بلخ اور…
Read the full tafseer →84۔ 1 ہم نے اسے ایسے ساز و سامان اور وسائل مہیا کیے، جن سے کام لے کر اس نے فتوحات حاصل کیں، دشمنوں کا غرور خاک میں ملایا اور ظالم حکمرانوں کو نیست ونابود کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
42: اس سورت کے تعارف میں گزرچکا ہے کہ مشرکین نے حضور سرور دو عالم ﷺ سے تین سوالات کئے تھے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ اس شخص کا حال بتائیں جس نے مشرق سے مغرب تک پوری دنیا کا سفر کیا تھا، یہاں سے اس سوال کا جواب دیا جارہا ہے، قرآن کریم نے بتایا ہے کہ اس شخص کا نام ذوالقرنین تھا، ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا، یہ کسی نامعلوم وجہ سے ایک بادشاہ کا لقب تھا، قرآن کریم نے اس بادشاہ کی تفصیلات نہیں بتائیں کہ وہ کون تھا اور کس زمانے میں تھا البتہ ہمارے زمانے کے بیشتر محققین کا رجحان یہ ہے کہ وہ ایران کا بادشاہ سائرس تھا، جس نے بنی اسرائیل کو بابل کی جلا وطنی سے نجات دلاکر انہیں دوبارہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو زمین میں اقتدار دیا تھا اور ایک مضبوط سلطنت دی تھی اور اسے ہر چیز کے وسائل و اسباب عطا کئے تھے۔ اس وجہ سے وہ علاقوں کے علاقے فتح کرتا چلا گیا۔ اس نے دنیا میں تعمیر اور ترقی کے کام شروع کردیئے۔ یہ شخص قوت اور ساز و سامان کے اعتبار سے اس وقت کے تمام وسائل پر دسترس رکھتا تھا۔ چناچہ اس نے اپنی قوت اور وسائل کو سب سے پہلے مغرب کی طرف متوجہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
3 اس بادشاہ کو " ذوالقرنین " اس لیے کہتے ہیں کہ دنیا کے دونوں کناروں (مشرق و مغرب) پر پھر گیا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ لقب اسکندر رومی کا ہے اور بعض کے نزدیک کوئی مقبول خدا پرست اور دیندار بادشاہ اس سے پہلے گزرا ہے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں متعدد وجوہ دلائل سے اسی دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔ مجموعہ روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذوالقرنین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا معاصر تھا اور ان کی دعا کی برکت سے حق تعالیٰ نے خارق عادت سامان و وسائل عطا فرمائے تھے۔ جن کے ذریعہ سے اس کو مشرق و مغرب کے سفر اور محیر العقول فتوحات پر قدرت حاصل ہوئی۔ حضرت خضر (علیہ السلام) اس کے وزیر تھے، شاید اسی لیے قرآن نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
اس رکوع میں ذوالقرنین کے بارے میں یہود مدینہ کے سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک اکثر مفسرین ذوالقرنین سے ناواقف تھے۔ چناچہ تیرہ سو سال تک عام طور پر سکندر اعظم ہی کو ذوالقرنین سمجھا جاتا رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن میں ذوالقرنین کی فتوحات کا ذکر جس انداز میں ہوا ہے یہ انداز سکندر اعظم کی فتوحات سے ملتا جلتا ہے ‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ذوالقرنین کی سیرت کا وہ نقشہ جو قرآن نے پیش کیا ہے اس کی سکندر اعظم کی سیرت کے ساتھ سرے سے کوئی مناسبت ہی نہیں۔
بہرحال جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ذوالقرنین قدیم ایران کے بادشاہ کیخورس یا سائرس کا لقب تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ایران کے علاقے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
2 7 ذوالقرنین کون تھا ؟ قریش کا تیسرا سوال ذوالقرنین سے متعلق تھا جس کا ان آیات میں جواب دیا جارہا ہے۔ ذوالقرنین کی شخصیت کی تعیین کے لیے یہ بات تو بہرحال یقینی ہے کہ یہود کو اس کے متعلق علم تھا اور اس بادشاہ کا ذکر ان کی کتابوں میں موجود تھا تبھی تو انہوں نے قریش مکہ کو یہ سوال بتایا تھا اور جو کچھ قرآن سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایک مقتدر اور نامور بادشاہ تھا اللہ سے ڈرنے والا اور منصف مزاج تھا اس کی سلطنت خاصی وسیع تھی اور ذوالقرنین کے لغوی معنی تو دو سینگوں والا ہے مگر اس کے معنی یہ نہیں کہ فی الواقع اس کے سر پر دو سینگ تھے بلکہ اسے اس لحاظ سے ذوالقرنین کہا جاتا تھا کہ اس کی سلطنت کا…
Read the full tafseer →130۔ (حسب وحی الہی) منہ میں مضاف خبر محذوف ہے۔ منہ اے من خبرہ (ابن عباس ؓ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–91
آیت نمبر 83 تا 91
ترجمہ : یہود آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ دریافت کرتے ہیں اس کا نام اسکندر ہے اور وہ نبی نہیں تھا آپ کہہ دیجئے میں تم کو اس کا کچھ حال سناتا ہوں زمین میں سفر آسان کر کے ہم نے اس کو زمین میں قدرت عطا فرمائی تھی اور ہم نے اس کو ہر قسم کے وسائل جن کی (بادشاہوں) کو ضرورت ہوتی ہے بخشے تھے ایسے وسائل کہ جن کے ذریعہ اس کو اپنے مقصد تک رسائی حاصل ہو سکے، چناچہ وہ مغرب کی جانب ایک راستہ پر ہو لیا، یہاں تک کہ جب وہ انتہائے مغرب میں پہنچ گیا، تو اس کو آفتاب ایک گدلے چشمہ میں ڈوبتا ہوا نظر آیا، کالی مٹی والے چشمہ میں، حمأۃ کالی مٹی اور آفتاب کا چشمہ میں غروب ہونا یہ دیکھنے والے کی نظر میں…
Read the full tafseer →انا مکنا لہ فی الارض ہم نے ہی اس کو زمین میں اقتدار عطا کیا تھا۔ وہ جس طرح چاہتا تھا حکم چلاتا تھا۔ بغوی
نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا بادل کو ذوالقرنین کے حکم کے تابع بنا دیا گیا تھا ابر پر وہ سوار ہوتا تھا اس کے ذرائع دراز کردیئے گئے تھے اس کیلئے روشنی پھیلا دی گئی تھی (یعنی رات بھی اس کیلئے روشن کردی گئی تھی) رات دن اس کے لئے برابر تھے تمکین فی الارض کا یہی معنی ہے مطلب یہ ہے کہ زمین پر رفتار اس کے لئے آسان کردی گئی اور سارے راستے اس کے لئے کھول دیئے گئے تھے (راستے آسان کرنے کا شاید یہ مقصود ہو کہ ہر طرح کی سواری اس کو میسر تھی اور رات دن یا موسم کا اختلاف اس کے رفتار پر اثر انداز نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
(83 تا 98) اے محمد ﷺ مکہ والے آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں، آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو راستوں اور منزلوں کی معرفت عطا کی تھی ،
چناچہ انہوں نے سفر کے لیے ایک راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو آفتاب ان کو سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور اس موقع پر انہوں نے ایک کافر قوم دیکھی ،
ہم نے بطور الہام کے کہا کہ ذوالقرنین یا تو ان کو قتل کرو، یہاں تک کہ یہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں یا ان کے ساتھ پہلے نرمی کا معاملہ کرو کہ ان کو معاف کر دو اور چھوڑ…
Read the full tafseer →ۭاِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِي الْاَرْضِ۔۔ : ”مَكَّنَّا“ سے مراد حکومت و اقتدار ہے۔ دیکھیے سورة حج (41) ہر چیز میں سے کچھ سامان سے مراد وہ تمام وسائل ہیں جن کی اقتدار کے لیے ضرورت ہوتی ہے، مثلاً شجاعت، قوت، تدبیر و رائے، فوج، دولت، اسلحہ، سامان سفر، تعمیر و ترقی کے ذرائع وغیرہ۔ ان اسباب کی تفصیل میں بعض مفسرین کی اسرائیلی روایات پر مبنی عجیب و غریب روایات کی کچھ حیثیت نہیں اور نہ کسی صحیح حدیث میں ان کا پتا ملتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتینہ من کل شیء سببا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہر چیز کا علم عطا فرمایا جس کام کا ارادہ کرتے علم اس کا سبب بنتا۔ حسن نے کہا : جہاں کا ارادہ کرتے وہاں پہنچنا مراد ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہر وہ چیز بخشی جس کے ساتھ مخلوق کو ضرورت ہوتی ہے۔ بعض نھے فرمایا : ہر وہ چیز بخشی جس کے ساتھ بادشاہ مدد حاصل کرتے ہیں، شہروں کی فتح، دشمنوں پر غلبہ وغیرہ۔ السبب کا اصل معنی رسی ہے پھر استعارۃً ہر اس چیز کے لیے استعمال کیا گیا جس کے ذریعے کسی چیز تک پہنچا جاتا ہے۔ فاتبع سببا۔ ابن عامر، عاصم، حمزہ اور کسائی نے فاتبع ہمزہ قطعی کے ساتھ پڑھا ہے۔ اہل مدینہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتینہ من کل شیء سببا “ یعنی علم (دیا)
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاتبع سببا “ یعنی منزل۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتینہ من کل شیء سببا “ سے مراد ہے علم اور اس سے لوگوں کی زبانوں میں تعلیم ہے ذوالقرنین ہر قوم سے اس کی زبان میں بات کرتا تھا۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن ہلال (رح) سے روایت کیا کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے کعب احبار ؓ سے پوچھا کیا تو کہتا ہے کہ ذوالقرنین اپنے گھوڑے کو اپنے اگلے دانتوں سے باندھتا تھا کعب ؓ نے ان سے فرمایا اگر میں نے ایسا…
Read the full tafseer →[انا : بیشک ہم نے ] [مَكَّنَا : اقتدار دیا ] [لَهٗ : اس کو ] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے دیا اس کو ] [مِنْ كُلِ شَيْءٍ : ہر چیز میں سے ] [سَبَبًا : ایک سامان ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ذوالقرنین کا مفصل قصہ، مغرب و مشرق کا سفر کرنا یاجوج و ماجوج سے حفاظت کے لیے دیوار بنانا
مذکورہ بالا آیات میں ذوالقرنین کی شخصیت اور ان کے مغرب اور مشرق کے اسفار اور ایک قوم کی درخواست کرنے پر یاجوج ماجوج سے حفاظت کرنے کے لیے دیوار بنا دینے کا تذکرہ فرمایا ہے یہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ علماء یہود نے قریش مکہ سے کہا تھا کہ تم محمد رسول اللہ ﷺ سے تین باتیں دریافت کرو اگر وہ ان کا جواب دیدیں تو سمجھ لینا کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں اور نبی مرسل ہیں، وہ تین باتیں جن کا سوال کرنے کی تلقین کی تھی ان میں ایک سوال روح کے بارے میں تھا اور دوسرا سوال اصحاب کہف کے بارے میں اور تیسرا سوال ذوالقرنین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
بود شا ہے در زمان پیش زیں ملک دنیا بودش وہم ملک دیں
قال اللہ تعالیٰ ۔ و یسئلونک عن ذی القرنین۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و کانوا لا یستطیعون سمعا۔
(ربط) شروع سورت میں اصحاب کہف کا قصہ ذکر فرمایا جو قریش کے دوسرے سوال کا جواب تھا۔ اب اخیر سورت میں ذوالقرنین کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جو قریش کے تیسرے سوال کا جواب ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ذوالقرنین ایک عادل اور نیک دل بادشاہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے مشرق سے مغرب تک کی حکمرانی اور فرمانروائی عطا کی تھی اور روئے زمین کے تمام بادشاہ اس کے زیر فرمان تھے ظاہر میں وہ بادشاہ تھا مگر باطنی طور پر وہ اصحاب کہف سے زیادہ فقیر اور درویش تھا بادشاہت اور ولایت۔ امیری اور فقیری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
75:۔ ہم نے اس کو زمین میں قدرت اور طاقت دی اور اسے سلطنت عطا فرمائی ” من کل شیء سببا “ یہاں کل استغراق حقیقی کے لیے نہیں بلکہ استغراق اضافی کے لیے ہے اور اس سے صرف وہ ملکی مہمات اور مقاصد مراد ہیں جن کو سر کرنے کا ذو القرنین نے ارادہ کیا تھا اور وہ امور جن کی ملکی اصلاح کے سلسلے میں اس کو ضرورت تھی من کل شیء سببا ارادہ من مھمات ملکہ و مقاصدہ المتعلقۃ بسلطان۔ (روح ج 16 ص 31) ۔ اور اسباب سے اسباب عادیہ مراد ہیں۔ والمراد بذلک الاسباب العادیۃ (روح) تو اس سے معلوم ہوگیا کہ ذو القرنین کو نہ کلی طور پر اختیار و تصرف حاصل تھا اور نہ اسے مافوق الاسباب امور پر قدرت و طاقت حاصل تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
(تین واقعات تین اصول)
یہ بات گذشتہ سورة اور اس سورة کے مضامین کے سلسلہ میں بیان ہوچکی ہے کہ مشرکین مکہ نے یہودیوں کے ایماء پر حضور ﷺ سے تین سوال کیے تھے ، پہلا سوال روح کے بارے میں تھا ، جس کا مختصر جواب اللہ تعالیٰ نے سورة بنی اسرائیل میں دیا ہے باقی دوسوالات اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق تھے جن میں سے اصحاب کہف کی تفصیل اسی سورة کی ابتدا میں بیان ہوچکی ہے اور ذوالقرنین کے متعلق بعض انکشافات اب آرہے ہیں ۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سورة میں مذکورہ تین واقعات میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے تین بنیادی قوانین بیان فرمائے ہیں ، اصحاب کہف کے واقعہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں استقلال کا قانون…
Read the full tafseer →اِنَّا مَكَّنَّا لَہٗ فِي الْاَرْضِ وَاٰتَيْنٰہُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا 84ۙ
مكن
المَكَان عند أهل اللّغة : الموضع الحاوي للشیء، قال : وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ [ الأعراف/ 10]
( م ک ن ) المکان
اہل لغت کے نزدیک مکان اس جگہ کو کہتے ہیں جو کسی جسم پر حاوی ہو ۔ قرآن میں ہے ۔
وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ [ الأعراف/ 10] اور ہم نے زمین میں تمہارا ٹھکانا بنایا ۔
أرض
الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه .
( ا رض ) الارض
( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–88
3 ؎ رحمایسکون الحاء وقری بضھا الرحمۃ یقال (رح) رحمۃ ورحما والالف للتانیث۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
اِنَّا مَکَّـنَّا لَـہٗ فِی الْاَرْضِ وَاٰتَیْنٰـہُ مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ سَبَبًا۔ فَاَتْبَعَ سَبَبًا (الکہف : 84، 85)
(ہم نے اس کو زمین میں بڑا اقتدار بخشا تھا اور ہم نے اسے ہر چیز (تک رسائی حاصل کرنے) کا سازوسامان دیا تھا۔ پس وہ درپے ہوا اسباب و وسائل کے۔ )
سَبَبْ …کا معنی تفسیر مظہری کے مطابق مَایُوْصَلُ اِلَیْہِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْقُدْرَۃِ وَالْآلاَتِاور کبھی یہ لفظ راستہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
ذوالقرنین پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس طرح ایک معمولی حیثیت سے اٹھا اور محض اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
فہم القرآن
ربط کلام : الکہف کے تعارف میں عرض کیا ہے کہ یہ سورة اہل مکہ کے سوالات کے جواب میں نازل ہوئی تھی۔
اہل مکہ نے رسول معظم ﷺ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا تھا۔ ان کی دن رات کوشش تھی کہ کسی ایک بات میں سہی اس نبی ﷺ کو لوگوں کی نظروں میں جھوٹا یا کم از کم لاجواب کردیا جائے۔ اس کے لیے انھوں نے مدینہ میں یہودیوں کے پاس وفد بھیجا۔ یہودیوں نے اس سورة میں ذکردوسرے سوالات کے ساتھ ایک سوال یہ بھی بتلایا کہ واپس جا کر محمد سے یہ بھی پوچھنا کہ ” ذوالقرنین “ کون تھا اور اس نے مشرق سے لے کر مغرب تک جو فتوحات حاصل کیں ان کی تفصیلات کیا ہیں۔ اہل مکہ نے واپس آکر آپ سے ذوالقرنین کے…
Read the full tafseer →84: اِنَّا مَکَّنَّا لَہٗ فِی الْاَرْضِ (بیشک ہم نے اس کو زمین میں ٹھکانہ دیا) اور اس کو اس میں غلبہ اور مرتبہ عنایت فرمایا۔ وَاٰتَیْنٰہُ مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ سَبَبًا (اور ہم نے اس کو ہر چیز کے اسباب مہیا فرمائے) کل شیء سے ملک میں جو کچھ تھا اس کے اغراض و مقاصد مراد ہیں۔ سببًا ذریعہ اور راستہ جس سے وہ اپنے مقاصد تک پہنچ سکے۔
Read the full tafseer →(84)” انا مکنا لہ فی الارض “ زمین کو ان کے لیے وطن ٹھہرنے کی جگہ بنایا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ بادل کو ذوالقرنین کے حکم کے تابع بنادیا گیا تھا۔ ابر پر وہ سوار ہوتا تھا، اس کے ذرائع دراز کردئیے گئے تھے۔ اس کے لیے روشنی پھیلا دی گئی تھی، رات دن اس کے لیے برابر تھے، زمین پر رفتار اس کے لیے آسان کردی گئی تھی اور سارے راستے اس کے لیے کھول دئیے گئے تھے۔ ” وآتینا ہ من کل شئی “ ہر وہ چیز جس کی طرف مخلوق محتاج ہوتی ہے وہ سب کچھ ہم نے اس کو عطا کردیا تھا یا بادشاہوں کو دشمنوں سے لڑنے اور ملک فتح کرنے میں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب ذوالقرنین کو ہم نے دے دی تھی۔ ” سیا “ جس طرح کا وہ ارادہ رکھتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
83۔ 86:۔ شروع سورة ایک تفسیر میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے مشرکین مکہ نے روح اصحاب کہف اور سکندر القرنین مصری اور سکندر رومی کا ایک ہونا پایا جاتا ہے 1 ؎ اور اسی روایت کی بنا پر تفسیر ابن جریر کے علاوہ بعض اور تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ قرآن شریف میں جس شخص کا قصہ ہے وہ سکندر رومی ہے لیکن حافظ ابن کثیر (رح) نے عقبہ بن عامر ؓ کی اسی روایت کو ضعیف ٹھہرا کر معتبر اہل تاریخ مثلا سہیلی ارزقی کے قول کے موافق اسی بات کو ترجیح دی ہے کہ سکندر دو شخص گزرے ہیں پہلا سکندر ذوالقرنین جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے اس سکندر اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا زمانہ ایک ہی ہے یہ سکندر ملت ابراہیمی کا پابند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
آیت 83
اہل کتاب تھے یا مشرکین انہوں نے رسول اللہٓ نے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : (استلوا علیکم منہ ذکرا) ” میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال “ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے۔ یعنی میں تمہیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال، تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔ (انا مکنا لہ فی الارض) ” ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کیگوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ (واتینہ من کل شیء سببا۔ فاتبع سببا) ” اور دیا ہم نے اس کو ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–110
کنز کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
128 ذو القرنین کے لیے ضروری وسائل کی فراہمی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے اس کو زمین میں بڑا اقتدار بخشا تھا اور اس کو ہر قسم کے سامان سے نوازا تھا۔ یعنی ان ذرائع و وسائل کی فراہمی جو نظام مملکت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے اس کو ضرورت کے مطابق ہر قسم کے سامان سے نوازا تھا "۔ یعنی { کل شیء } کا عموم اپنے ظاہر پر نہیں۔ یعنی اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو دنیا بھر کی ہر چیز دی گئی تھی کہ ایسا نہ تھا اور نہ ہی یہ ممکن ہوسکتا ہے۔ بلکہ اس سے مراد صرف وہ چیزیں ہیں جن کی سکندر کو اپنی حکمرانی کے لئے ضرورت تھی۔ اور یہی بلاغت کا ایک معروف ضابطہ و اصول اور اسلوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
نقشہ بسلسلہ قصہ ذوالقرنین
ذوالقرنین کا واقعہ
تشریح : قرآن پاک کے بیان کے مطابق ذوالقرنین کی تمام علامات خورس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نام کی وضاحت نہیں کی، اس لیے یہ صرف اندازہ ہی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جس قدر فاتحین گزرے ہیں ان سب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی بتائی ہوئی تمام نشانیاں خورس میں پائی جاتی ہیں۔
خورس ایک ایرانی بادشاہ تھا جس کا عروج 549 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے بڑے کم عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (ایشیائے کوچک) کو فتح کرلیا اور پھر بابل کو فتح کرنے کے بعد اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور ترکستان سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–101
(رکوع نمبر 12)
اسرارومعارف
آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔
(ذوالقرنین کون تھا)
ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
ف 3 یعنی ایک راستے پر سفر شروع کیا۔ پہلے اس نے مغرب کی جانب مہم کا آغاز کیا
Read the full tafseer →(18:84) مکنا۔ ماضی جمع متکلم تمکین (تفعیل) مصدر ہم نے تمکین بخشی۔ ہم نے جمائو عطا کیا۔ ہم نے با اقتدار بنادیا۔ مکنۃ۔ آشیانہ ۔ لکٹنے کی جگہ۔ امکان (افعال) با اقتدار ہونا، قابو پانا۔ کسی جگہ پر قدرت حاسل کرنا۔ مکین۔ جم کر رہنے والا۔
سببا۔ سامان۔ ذریعہ۔ رسی جس سے درخت پر اوپر چڑھا اور نیچے اترا جاتا ہے پھر اس مناسبت سے ہر اس شی کو سبب کہا جاتا ہے جو دوسری شے تک رسائی کا ذریعہ بنتی ہو خواہ وہ علم ہو قدرت ہو۔ آلات ہوں۔ سببا۔ یعنی ایسے ذرائع از قسم علم و قدرت و آلات کہ جن سے وہ کام لے کر ہر چیز تک رسائی حاصل کرسکتا تھا۔ اس کی جمع اسباب ہے جس سے مراد کسی چیز کو حاصل کرنے کے ذرائع ہیں۔ راہ کو بھی سبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–91
لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 91
یسئلون وہ سوال کرتے ہیں۔ ذوالقرنین بہت طاقتور۔ ساتلوا بہت جلد میں بتاؤں گا۔ مکنا ہم نے جمایا، اقتدار دیا تھا۔ سبب سامان۔ اتبع وہ پیچھے گیا۔ اس نے تیاری کی۔ حمئۃ دلدل، کیچڑ، سیاہ۔ یرد لوٹایا جائے گا۔ الحسنی بہترین، بھلا۔ یسر آسان۔ ستر پردہ، رکاوٹ، احطنا ہم نے گھیر لیا۔ لدیہ اس کے پاس ۔ خبر علم، خبر۔
تشریح :- آیت نمبر 83 تا 91
تاریخ انسانی کے ہر دور میں اچھے اور برے کردار کے لوگ گذرتے رہتے ہیں۔ بہترین کردار کے لوگوں کی زندگی دوسروں کے لئے مشعل راہ، نمونہ عمل اور نشان راہ ہوتی ہے۔ جب کہ برے اور بدکردار لوگ کسی عزت کے مستحق نہیں ہوتے۔ یوں تو ہر قوم اور اس کے افراد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) کا قصہ : شروع سورة کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے مشرکین مکہ نے روح، اصحاب کہف اور سکندر ذالقرنین کا حال اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا تھا۔ روح اور اصحان کہف کا حال تو بیان ہوچکا۔ یہ سکندر ذوالقرنین کا حال شروع ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو روئے زمین پر صاحب قدرت بنایا، اور ہر قسم کا سامان اس کو دیا۔ اور جب ان کو معلوم ہوا کہ اولاد سام میں سے ایک شخص چشم حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی، تو وہ چشمہ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے۔ اور آپ کے ساتھ حضرت خضر (علیہ السلام) بھی تھے، وہ چشمہ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے پی بھی لیا۔ مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
[28] ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا ایک معنی قوت کے بھی لئے گئے ہیں۔ قرآن کی تصریحات سے اتنا تو بہرحال معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی دیندار اور بڑی کشور کشا شخصیت تھی مگر اس سے زیادہ تعین قرآن میں نہیں۔ سب سے پہلا حل طلب مسئلہ جو مفسرین کے سامنے آیا وہ اس کا لقب تھا۔ عربی میں بھی اور عبرانی میں بھی '' قرن '' کے معنی سینگ کے ہیں۔ پس ذوالقرنین کا مطلب ہوا دو سینگوں والا۔ لیکن چونکہ تاریخ میں کسی ایسے بادشاہ کا سراغ نہیں ملا جس کا ایسا لقب ہو پھر چونکہ فتوحات کی وسعت اور مشرق و مغرب کی حکمرانی کے لحاظ سے سکندر مقدونی کی خصیت سب سے زیادہ مشہور رہی ہے اس لئے ہمارے مفسرین کی نظریں اسی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–91
(ف 1) قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ یہودیون کے تعلقات مشرکین مکہ سے بہت زیادہ تھے ، بنا برین مشرکین مکہ ان سے اسلام کے متعلق اعتراضات پوچھتے رہتے ، انہوں نے کہا ہوگا پیغمبر اسلام سے ذوالقرنین کے متعلق دریافت کرو ، تاکہ معلوم ہو کہ اس کا مبلغ علم کیا ہے ۔
چنانچہ انہوں نے حضور ﷺ سے پوچھا ، یہ آیات جواب میں نازل ہوئیں ۔
قرآن حکیم کا مخصوص طرز بیان ہے ، کہ وہ غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ دیتا ہے اور قصے کے صرف اس حصہ کو بیان کرتا ہے جس کا تعلق انسانی رشد وہدایت سے ہے ،
چنانچہ قرآن حکیم نے بتایا ، کہ خدائے تعالیٰ نے اسے وسیع اقتدار دے رکھا تھا ، وہ بہت بڑا فاتح تھا ، اس کا شوق فتحیابی اسے سمندر کے کنارے…
Read the full tafseer →-84 بلاشبہ ہم نے اس کو روئے زمین پر اقتدار دیا تھا اور ہم نے اس کو ملک میں جمایا تھا اور ہم نے اس کو ہر قسم کا ضروری ساز و سامان دیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
ف 1۔ ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین کوئی مقبول بزرگ بادشاہ ہیں، خواہ نبی ہوں یا ولی ہوں کسی دوسرے نبی کے متبع، پھر ولایت کی صورت میں یہ مکالمت بطور الہام ہوئی ہو یا کسی نبی کے ذریعے سے، اور شاید ذوالقرنین ان کا لقب اس لئے ہوا ہو کہ قرن جانب کو کہتے ہیں، اور تثنیہ سے مراد تکریر ہو، چونکہ انہوں نے جوانب ارض پر تسلط حاصل کیا تھا اس لئے ذوالقرنین لقب ہوگیا ہو۔
Read the full tafseer →” ذوالقرنین کو بہت بڑا اقتدار حاصل ہونے کی تصدیق :
90۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ یہ وہی شخصیت ہے جس کا نام ” گورش “ ’ سائرس “ ’ خورس “ اور ” خسرو “ ہے ۔ یہ شخصیت 559 قبل مسیح غیر معمولی حالات کے اندر ابھری اور اچانک اس وقت کی تمام دنیا کی نگاہیں اس کی طرف گئیں یہ پارس کے ” ایکے می نیز “ خاندان کا ایک نوجوان تھا اس کے والد کا نام کم بی سیزاول (کیقباد) تھا اور سائرس نے اپنے بیٹے کا نام بھی کم بی سیز ہی رکھا اسے پارس کے تمام امیروں نے اپنا فرمانروا تسلیم کرلیا اور پھر بغیر کسی خونریزی کے میڈیا کی مملکت بھی اس کے زیر سایہ آگئی اور اس دونوں مملکتوں نے مل کر ایران کی عظیم الشان شہنشاہی کی صورت…
Read the full tafseer →The word: سَبَب (sabab) used in: وَآتَيْنَاهُ مِن كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا (and provided for him a way to everything - 84) is employed in the Arabic lexicon to denote everything harnessed to achieve an objective. It includes material instruments and resources as well as knowledge, insight and experience etc. (al-Bahr al-Muhit). As for the expression: مِن كُلِّ شَيْءٍ (to everything), it means all things needed by a ruler to run the state system. The sense of the verse is that Allah Ta` ala had provided for the righteous king Dhul-Qarnain practically everything needed at that time in order that he…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
61. It is quite obvious that the conjunction wao joins this story with the previous story of Khidr. Thus it is a selfevident proof that the previous two stories of the sleepers of the cave and Moses and Khidr were also related in answer to the queries of the disbelievers of Makkah who, in consultation with the people of the Book, had put these questions to Muhammad (peace be upon him) as a test of his Prophethood.
62. The identification of Zul-Qarnain has been a controversial matter from the earliest times. In general the commentators have been of the opinion that he was Alexander the Great…
Read the full tafseer →