Al-Kahf 18:83

Al-Kahf · from ayah 83

18:83

وَیَسْـَٔلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ ؕ— قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًا ۟ؕوَيَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنۡ ذِى الۡقَرۡنَيۡنِ‌ ؕ قُلۡ سَاَ تۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ مِّنۡهُ ذِكۡرًا

اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they ask you, [O Muhammad], about Dhul-Qarnayn. Say, "I will recite to you about him a report."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 11 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:83

اور اے محمدؐ، یہ لوگ تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں ان سے کہو، میں اس کا کچھ حال تم کو سناتا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ یہ لوگ دریافت کر رہے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ میں ان کا تھوڑا سا حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ لوگ تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ : میں ان کا کچھ حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم سے ذوالقرنین کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ میں تمہیں اس کا مذکور پڑھ کر سناتا ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے حبیبِ معظّم!) یہ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں، فرما دیجئے: میں ابھی تمہیں اس کے حال کا تذکرہ پڑھ کر سناتا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ تجھ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں تو کہہ میں تمہیں اس کا کچھ ذکر ضرور پڑھ کر سناؤں گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے پوچھتے ہیں۔ آپ انھیں کہئے کہ ابھی میں اس کا کچھ حال تمہیں سناؤں گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ تم سے ذوالقرنین کے بابت سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو ، میں تم کو اس کا کچھ سبق آموز احوال سناؤں گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور پوچھتے ہیں یہ لوگ آپ سے (اے پیغمبر) ذوالقرنین کے بارے میں تو ان سے کہو کہ میں تم کو سنائے دیتا ہوں اس کا کچھ حال،

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ سے (لوگ) ذوالقرنین کے باب میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ ان کا ذکر میں ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہیے کہ ابھی میں آپ لوگوں کو اس کا حال بتاتا ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Muhammad), they ask you about Dhu al-Qarnayn. Say: "I will give you an account of him."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They ask you about Dhul-Qarnain. Say, :I shall now recite to you an account of him.

— Muhammad Taqi Usmani

They ask you about Dhul-Qarnain. Say, :I shall now recite to you an account of him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they ask you about Dhul-Qarnayn. Say: "I shall recite to you something of his story."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They will ask thee of Dhu'l-Qarneyn. Say: I shall recite unto you a remembrance of him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they ask you, [O Muhammad], about Dhul-Qarnayn. Say, "I will recite to you about him a report."

— Saheeh International

(Muhammad), they will ask you about Dhu 'l-Qarnayn. Say, "I shall tell you something about him".

— Muhammad Sarwar

And they ask you about Zulqarnain. Say: I will recite to you an account of him.

— Muhammad Habib Shakir

And they ask thee of Zul Qarnain. Say thou: shall recite unto you of him some mention.

— Abdul Majid Daryabadi

They ask thee concerning Zul-qarnain. Say, "I will rehearse to you something of his story."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:83

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 83–84

کفار کے سوالات کے جوابات۔ پہلے گزر چکا ہے کہ کفار مکہ نے اہل کتاب سے کہلوایا تھا کہ ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلاؤ جو ہم محمد ﷺ سے دریافت کریں اور ان کے جواب آپ سے نہ بن پڑیں۔ تو انہوں نے سکھایا تھا کہ ایک تو ان سے اس شخص کا واقعہ پوچھو جس نے روئے زمین کی سیاحت کی تھی۔ دوسرا سوال ان سے ان نوجوانوں کی بہ نسبت کرو جو بالکل لا پتہ ہوگئے ہیں اور تیسرا سوال ان سے روح کی بابت کرو۔ ان کے ان سوالوں کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔ یہ بھی روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور ﷺ سے ذوالقرنین کا قصہ دریافت کرنے کو آئی تھی۔ تو آپ نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا کہ تم اس لئے آئے ہو۔ پھر آپ نے وہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 83–85

سورة الْكَهْف 61 وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ کا عطف لا محالہ پچھلے قصے ہی پر ہے۔ اس سے خود بخود یہ اشارہ نکلتا ہے کہ قصۂ موسیٰ و خضر بھی لوگوں کے سوال ہی کے جواب میں سنایا گیا ہے اور یہ بات ہمارے اس قیاس کی تائید کرتی ہے کہ اس سورے کے یہ تینوں اہم قصے دراصل کفار مکہ نے اہل کتاب کے مشورے سے امتحاناً دریافت کیے تھے۔ سورة الْكَهْف 62 یہ مسئلہ قدیم زمانے سے اب تک مختلف فیہ رہا ہے کہ یہ " ذوالقرنین " جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے، کون تھا۔ قدیم زمانے میں بالعموم مفسرین کا میلان سکندر کی طرف تھا، لیکن قرآن میں اس کی جو صفات و خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ مشکل ہی سے سکندر پر چسپاں ہوتی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر ذوالقرنین کا پہلا سفر اور یہ لوگ آپ سے ذو القرنین کا حال پوچھتے ہیں (اس پوچھنے کی وجہ یہ لکھی ہے کہ ان کی تاریخ قریب قریب گم تھی اور اسی لئے اس قصبہ کے جو امور قرآن میں مذکور نہیں کہ وہ اصل قصہ سے زائد تھے ان امور کے متعلق آج تک اہل تاریخ میں اختلافات شدید پائے جاتے ہیں اسی وجہ سے قریش مکہ نے بمشورہ یہود مدینہ اس قصہ کا سوال کے لئے انتخاب کیا تھا اس لئے اس قصہ کی تفصیلات جو قرآن میں مذکور ہیں وہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کی واضح دلیل ہے) آپ فرما دیجئے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں (آگے حق تعالیٰ کی طرف سے اس کی حکایت شروع ہوئی کہ ذوالقرنین ایک ایسے جلیل القدر بادشاہ ہو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 83 تا 98: یہود کا القا کردہ ایک سوال : آگے ذوالقرنین سے متعلق ایک سوال کا جواب آ رہا ہے۔ یہ سوال اٹھایا تو ہوگا یہود نے اور اس کے اٹھانے سے ان کا مقصد وہی رہا ہوگا جس کا ذکر ہم اصحاب کہف سے متعلق سوال کے ضمن میں کرچکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو پریشان کیا جائے اور دعوت حق کی راہ میں روکاٹیں ڈالی جائیں لیکن اس کو آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کرنے کا ذریعہ انہوں نے قریش کو بنایا ہوگا۔ یہ بات کہ یہ سوال یہود کا القا کردہ ہے اس وجہ سے قرین قیاس ہے کہ ذوالقرنین سے اصل دلچسپی یہود ہی کو تھی۔ وہ ان کو، جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے، اپنا محسن بادشاہ سمجھتے تھے اور ان کے انبیاء کے صحیفوں میں ان کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

83۔ 1 یہ مشرکین کے اس تیسرے سوال کا جواب ہے جو یہودیوں کے کہنے پر انہوں نے نبی ﷺ سے کئے تھے، ذوالقرنین کے لفظی معنی دو سینگوں والے کے ہیں۔ یہ نام اس لئے پڑا کہ فی الواقع اس کے سر پر دو سینگ تھے یا اس لئے کہ اس نے مشرق ومغرب دنیا کے دونوں کناروں پر پہنچ کر سورج کی قرن یعنی شعاع کا مشاہدہ کیا، بعض کہتے ہیں کہ اس کے سر پر بالوں کی دو لٹیں تھیں، قرن بالوں کی لٹ کو بھی کہتے ہیں۔ یعنی دو لٹوں دو مینڈھیوں یا، دو زلفوں والا۔ قدیم مفسرین نے بالعموم اس کا مصداق سکندر رومی کو قرار دیا ہے جس کی فتوحات کا دائرہ مشرق ومغرب تک پھیلا ہوا تھا (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر ' ' ترجمان القرآن '۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 83–85

42: اس سورت کے تعارف میں گزرچکا ہے کہ مشرکین نے حضور سرور دو عالم ﷺ سے تین سوالات کئے تھے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ اس شخص کا حال بتائیں جس نے مشرق سے مغرب تک پوری دنیا کا سفر کیا تھا، یہاں سے اس سوال کا جواب دیا جارہا ہے، قرآن کریم نے بتایا ہے کہ اس شخص کا نام ذوالقرنین تھا، ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا، یہ کسی نامعلوم وجہ سے ایک بادشاہ کا لقب تھا، قرآن کریم نے اس بادشاہ کی تفصیلات نہیں بتائیں کہ وہ کون تھا اور کس زمانے میں تھا البتہ ہمارے زمانے کے بیشتر محققین کا رجحان یہ ہے کہ وہ ایران کا بادشاہ سائرس تھا، جس نے بنی اسرائیل کو بابل کی جلا وطنی سے نجات دلاکر انہیں دوبارہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 82–83

درس نمبر 431 ایک نظر میں یہ سورة کہف کا آخری سبق ہے۔ اس سبق کا بڑا حصہ ذوالقرنین کے قصے کے بارے میں ہے۔ اس میں ذوالقرنین کے تین سفروں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ سفر مشرق ، سفر مغرب اور سفروسط نیز اس میں یاجوج اور ماجوج کے مقابلے میں ان کی جانب سے دیوار کھڑی کرنے کا خصوصی ذکر ہے۔ قرآن کریم نے اس قصے میں ذوالقرنین کا ایک قول نقل کیا ہے۔ تعمیر سد کے بعد وہ کہتا ہے۔ قال ھذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکاء وکان وعد ربی حقاً (81 : 89) ” ذوالقرنین نے کہا ، یہ میرے رب کی رحمت ہے ، مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوند خاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ “ اس کے بعد نفخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 83–84

3 اس بادشاہ کو " ذوالقرنین " اس لیے کہتے ہیں کہ دنیا کے دونوں کناروں (مشرق و مغرب) پر پھر گیا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ لقب اسکندر رومی کا ہے اور بعض کے نزدیک کوئی مقبول خدا پرست اور دیندار بادشاہ اس سے پہلے گزرا ہے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں متعدد وجوہ دلائل سے اسی دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔ مجموعہ روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذوالقرنین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا معاصر تھا اور ان کی دعا کی برکت سے حق تعالیٰ نے خارق عادت سامان و وسائل عطا فرمائے تھے۔ جن کے ذریعہ سے اس کو مشرق و مغرب کے سفر اور محیر العقول فتوحات پر قدرت حاصل ہوئی۔ حضرت خضر (علیہ السلام) اس کے وزیر تھے، شاید اسی لیے قرآن نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 83–85

اس رکوع میں ذوالقرنین کے بارے میں یہود مدینہ کے سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک اکثر مفسرین ذوالقرنین سے ناواقف تھے۔ چناچہ تیرہ سو سال تک عام طور پر سکندر اعظم ہی کو ذوالقرنین سمجھا جاتا رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن میں ذوالقرنین کی فتوحات کا ذکر جس انداز میں ہوا ہے یہ انداز سکندر اعظم کی فتوحات سے ملتا جلتا ہے ‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ذوالقرنین کی سیرت کا وہ نقشہ جو قرآن نے پیش کیا ہے اس کی سکندر اعظم کی سیرت کے ساتھ سرے سے کوئی مناسبت ہی نہیں۔ بہرحال جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ذوالقرنین قدیم ایران کے بادشاہ کیخورس یا سائرس کا لقب تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ایران کے علاقے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 82–83

70 یعنی اگر دیوار کسی وقت گر پڑتی تو خزانہ ظاہر ہوجاتا بدنیت لوگ اس پر قبضہ کرلیتے یا اٹھا لے جاتے اور ان یتیموں کے ہاتھ کچھ بھی نہ لگتا۔ اب یہ بڑے ہو کر خود اپنے باپ کی دفن شدہ دولت نکال کر اپنے استعمال میں لاسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی مصلحتیں اللہ ہی جانتا ہے :۔ مندرجہ بالا تینوں واقعات سے دراصل مشیئت الٰہی کے کاموں میں پوشیدہ حکمتوں پر روشنی پڑتی ہے پہلا کام یہ تھا کہ کشتی والوں نے سیدنا موسیٰ و سیدنا خضر دونوں کو پردیسی سمجھ کر ان سے کرایہ نہیں لیا اور کشتی میں سوار کرلیا۔ جس کے صلہ میں سیدنا خضر نے ایسا کام کیا جو بظاہر غلط معلوم ہوتا تھا لیکن حقیقت میں سیدنا خضر نے ان سے بہت بڑی خیر خواہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

128۔ عجب نہیں کہ ان اسرار کا بتلانا اسی درخواست کا پورا کرنا بھی ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تھی، (آیت) ” تعلمن مماعلمت “ گونمونہ ہی کے طور پر سہی۔ اور زیادہ ساتھ رہنے میں وہ غالبا مناسب موقع پر خود ہی بتلاتے اور ہر واقعہ پر بتلاتے تو یہ علم زیادہ حاصل ہوتا۔ اور گویہ علم موسوی کے برابر مفید عام نہ ہو کیونکہ قابل اتباع نہیں۔ تاہم اس معنی کو مفید خاص کر ضرور ہے کہ بعض حکمتیں مفصلا منکشف ہوتی ہیں۔ گواجمالی عقیدہ کہ ہر واقعہ مشتمل حکمتوں پر ہوتا ہے قرب کے لئے کافی ہے۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں یہ نہ کہا کہ تم خلاف شرع کرتے ہو۔ وجہ یہ کہ بعد غصہ فرو ہوجانے کے اجمالا سمجھ گئے تھے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–91

آیت نمبر 83 تا 91 ترجمہ : یہود آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ دریافت کرتے ہیں اس کا نام اسکندر ہے اور وہ نبی نہیں تھا آپ کہہ دیجئے میں تم کو اس کا کچھ حال سناتا ہوں زمین میں سفر آسان کر کے ہم نے اس کو زمین میں قدرت عطا فرمائی تھی اور ہم نے اس کو ہر قسم کے وسائل جن کی (بادشاہوں) کو ضرورت ہوتی ہے بخشے تھے ایسے وسائل کہ جن کے ذریعہ اس کو اپنے مقصد تک رسائی حاصل ہو سکے، چناچہ وہ مغرب کی جانب ایک راستہ پر ہو لیا، یہاں تک کہ جب وہ انتہائے مغرب میں پہنچ گیا، تو اس کو آفتاب ایک گدلے چشمہ میں ڈوبتا ہوا نظر آیا، کالی مٹی والے چشمہ میں، حمأۃ کالی مٹی اور آفتاب کا چشمہ میں غروب ہونا یہ دیکھنے والے کی نظر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویسئلونک عن ذی القرنین اور وہ (یہودی یا مکہ کے مشرک بطور امتحان) آپ سے ذوالقرنین کے متعلق سوال کر رہے ہیں۔ بغوی نے کہا ہے بعض علماء کے نزدیک ذوالقرنین کا نام مرزبان بن مرزیہ تھا یہ یونانی تھا اور یافث بن نوح کی نسل میں سے تھا بعض نے کہا وہ رومی تھا سکندر بن قبلیس بن فیلقوس نام تھا میرے نزدیک مؤخر الذکر قول زیادہ صحیح ہے۔ شیرازی نے الالقاب میں اور ابن اسحاق وابن المنذر و ابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ یمنی کا بیان نقل کیا ہے وہب بن منبہ گزشتہ واقعات تاریخی کا بڑا عالم تھا کہ ذوالقرنین رومی تھا ایک بڑھیا کا ایک اکلوتا بیٹا تھا ‘ بڑھیا کی کوئی اور اولاد نہ تھی ذوالقرنین کا نام سکندر تھا۔ ابن المنذر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 83–98

(83 تا 98) اے محمد ﷺ مکہ والے آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں، آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو راستوں اور منزلوں کی معرفت عطا کی تھی ، چناچہ انہوں نے سفر کے لیے ایک راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو آفتاب ان کو سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور اس موقع پر انہوں نے ایک کافر قوم دیکھی ، ہم نے بطور الہام کے کہا کہ ذوالقرنین یا تو ان کو قتل کرو، یہاں تک کہ یہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں یا ان کے ساتھ پہلے نرمی کا معاملہ کرو کہ ان کو معاف کر دو اور چھوڑ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۄوَيَسْـــَٔـلُوْنَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ : واؤ کے ساتھ ذوالقرنین کے قصے کا موسیٰ ؑ کے قصے پر عطف ہے۔ بقاعی ؓ نے فرمایا، موسیٰ ؑ کے خضر ؑ کے ساتھ قصہ میں علم کے حصول کے لیے سفروں کا ذکر تھا اور ذوالقرنین کے قصہ میں جہاد فی سبیل اللہ کے لیے سفروں کا ذکر ہے۔ چونکہ علم عمل کی بنیاد ہے، اس لیے اس کا ذکر پہلے فرمایا۔ ایک مناسبت یہ ہے کہ دو باغوں والے شخص اور ابلیس کے تکبر اور ان کے انجام کے بعد موسیٰ ؑ جیسے اولو العزم پیغمبر کا اتنے مرتبے کے باوجود اور ذوالقرنین جیسے عظیم بادشاہ کا مشرق و مغرب کی سلطنت کے باوجود ہر قسم کے کبر و غرور سے پاک ہونے کا اور حد درجہ کی تواضع اختیار کرنے کا ذکر فرمایا،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویسئلونک عن ذی القرنین ط قل ساتلوا علیکم منہ ذکرا۔ ابن اسحاق نے کہا : ذی القرنین کی خبر میں سے یہ ہے کہ انہیں وہ عطا کیا گیا جو کسی دوسرے کو عطا نہیں کیا گیا اس کے لیے اسباب اتنے کشادہ ہوئے کہ وہ زمین کے مشارق و مغارب کے شہروں تک پہنچا۔ وہ کسی زمین پر پہنچا تو اس پر غالب آگیا حتیٰ کہ وہ مشرق و مغرب کے اس مقام پر پہنچا کہ جس کے بعد مخلوق نہیں ہے۔ ابن اسحاق نے کہا : مجھے اس شخص نے بتایا جو عجمیوں سے حکایات روایت کرتا ہے کہ وہ ذی القرنین کے بارے میں متواتر یہ علم رکھتے ہیں کہ وہ اہلل مصر میں سے ایک شخص تھا جس کا نام مر زبان بن مردبۃ یونانی تھا وہ یونان بن یافت بن نوح کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یہود نے نبی کریم ﷺ سے کہا اے محمد ﷺ بلاشبہ تم ذکر کرتے ہو ابراہیم کا موسیٰ کا عیسیٰ کا اور (دوسرے) نبیوں کا آپ نے ان کا ذکر ہم سے سنا اور تم ہم کو بتاؤ اس نبی کے بارے میں جس کو اللہ نے ذکر نہیں فرمایا تورات میں مگر ایک جگہ پوچھا وہ کون سا نبی ہے ؟ انہوں نے کہا وہ ذوالقرنین ہے حضور ﷺ نے فرمایا اس کے بارے میں مجھے کوئی خبر نہیں پہنچی یہود خوش ہر کر باہر نکلے اور وہ آپ پر غالب آگئے ہیں اور وہ نہ پہنچے تھے گھر کے دروازے پر کہ جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوگئے ان آیات کے ساتھ (آیت) ” ویسئلونک عن ذی القرنین، قل ساتلوا علیکم منہ ذکرا “۔ 2:۔ ابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَيَسْـــَٔـلُوْنَكَ : یہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ : ذوالقرنین کے بارے میں ] [قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [سَاَتْلُوْا : میں پڑھ کر سنائوں گا ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں کو ] [مِّنْهُ : اس میں سے ] [ذِكْرًا : بطور نصیحت کے ] نوٹ۔ 1: ذوالقرنین کا نام ذوالقرنین کیوں ہوا۔ اس کی وجہ میں بیشمار اقوال اور سخت اختلافات ہیں۔ مگر اتنی بات متعین ہے کہ قرآن نے خود ان کا نام ذوالقرنین نہیں رکھا، بلکہ یہ نام یہود نے بتلایا۔ ان کے یہاں اس نام سے ان کی شہرت ہوگئی۔ واقعۂ ذوالقرنین کا جتنا حصّہ قرآن کریم نے بتلایا ہے اس سے سوال کرنے والے یہود مطمئن ہوگئے۔ انھوں نے مزید یہ سوال نہیں کئے کہ ان کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 83–85

ذوالقرنین کا مفصل قصہ، مغرب و مشرق کا سفر کرنا یاجوج و ماجوج سے حفاظت کے لیے دیوار بنانا مذکورہ بالا آیات میں ذوالقرنین کی شخصیت اور ان کے مغرب اور مشرق کے اسفار اور ایک قوم کی درخواست کرنے پر یاجوج ماجوج سے حفاظت کرنے کے لیے دیوار بنا دینے کا تذکرہ فرمایا ہے یہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ علماء یہود نے قریش مکہ سے کہا تھا کہ تم محمد رسول اللہ ﷺ سے تین باتیں دریافت کرو اگر وہ ان کا جواب دیدیں تو سمجھ لینا کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں اور نبی مرسل ہیں، وہ تین باتیں جن کا سوال کرنے کی تلقین کی تھی ان میں ایک سوال روح کے بارے میں تھا اور دوسرا سوال اصحاب کہف کے بارے میں اور تیسرا سوال ذوالقرنین کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 83–84

بود شا ہے در زمان پیش زیں ملک دنیا بودش وہم ملک دیں قال اللہ تعالیٰ ۔ و یسئلونک عن ذی القرنین۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و کانوا لا یستطیعون سمعا۔ (ربط) شروع سورت میں اصحاب کہف کا قصہ ذکر فرمایا جو قریش کے دوسرے سوال کا جواب تھا۔ اب اخیر سورت میں ذوالقرنین کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جو قریش کے تیسرے سوال کا جواب ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ذوالقرنین ایک عادل اور نیک دل بادشاہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے مشرق سے مغرب تک کی حکمرانی اور فرمانروائی عطا کی تھی اور روئے زمین کے تمام بادشاہ اس کے زیر فرمان تھے ظاہر میں وہ بادشاہ تھا مگر باطنی طور پر وہ اصحاب کہف سے زیادہ فقیر اور درویش تھا بادشاہت اور ولایت۔ امیری اور فقیری…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

74: شبہہ رابعہ کا جواب :۔ یہ چوتھے شب ہے کا جواب ہے، شبہہ یہ تھا کہ ذو القرنین کو اللہ تعالیٰ نے بڑی قدرت اور طاقت عطا فرمائی تھی جیسا کہ خود قرآن میں بھی فرمایا۔ ” انا مکنا لہ فی الارض واتینہ من کل شیء سببا “ اس پر شبہہ ہوتا تھا کہ ذو القرنین متصرف فی الامور تھا تو اس کا جواب دیا کہ اس کو جو طاقت دی گئی تھی وہ صرف ظاہری اسباب کے تحت تھی اور وہ بھی بقدر ضرورت، لیکن مافوق الاسباب امور میں سے وہ کسی چیز پر قادر نہیں تھا اور اسباب ظاہری کے اعتبار سے بھی ہر طرف سے عاجز آگیا۔ مشرق میں بوجہ گرمی اور مغرب میں دلدل کی وجہ سے اور شمال میں یاجوج ماجوج کی وجہ سے۔ ” یسئلونک “ وہ آپ سے سوال کرتے ہیں بظاہر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 83–88

(تین واقعات تین اصول) یہ بات گذشتہ سورة اور اس سورة کے مضامین کے سلسلہ میں بیان ہوچکی ہے کہ مشرکین مکہ نے یہودیوں کے ایماء پر حضور ﷺ سے تین سوال کیے تھے ، پہلا سوال روح کے بارے میں تھا ، جس کا مختصر جواب اللہ تعالیٰ نے سورة بنی اسرائیل میں دیا ہے باقی دوسوالات اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق تھے جن میں سے اصحاب کہف کی تفصیل اسی سورة کی ابتدا میں بیان ہوچکی ہے اور ذوالقرنین کے متعلق بعض انکشافات اب آرہے ہیں ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سورة میں مذکورہ تین واقعات میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے تین بنیادی قوانین بیان فرمائے ہیں ، اصحاب کہف کے واقعہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں استقلال کا قانون…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَسْـــَٔـلُوْنَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ ۝ 0ۭ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَيْكُمْ مِّنْہُ ذِكْرًا۝ 83ۭ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 81–88

3 ؎ رحمایسکون الحاء وقری بضھا الرحمۃ یقال (رح) رحمۃ ورحما والالف للتانیث۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ ط قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْکُمْ مِّنْہُ ذِکْرًا۔ (الکہف : 83) (وہ آپ ﷺ سے ذو القرنین کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ ﷺ کہہ دیجیے میں ابھی تمہارے سامنے اس کا حال بیان کروں گا۔ ) یہود کی انگیخت پر قریش کا سوال ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ قریش نے یہود کی انگیخت پر آنحضرت ﷺ سے کچھ سوالات کیے تھے، وہ سوالات ایسے تھے جن کا عرب دنیا سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ یہود نے قریش کی معرفت یہ چاہا تھا کہ چونکہ ان سوالات کا جواب محمد ﷺ دے نہیں پائیں گے تو قریش کو یقین ہوجائے گا کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے نبی نہیں کیونکہ وہ پہلے ہی آپ ﷺ پر ایمان لانے میں متردد ہیں۔ اس سے ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 83–84

فہم القرآن ربط کلام : الکہف کے تعارف میں عرض کیا ہے کہ یہ سورة اہل مکہ کے سوالات کے جواب میں نازل ہوئی تھی۔ اہل مکہ نے رسول معظم ﷺ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا تھا۔ ان کی دن رات کوشش تھی کہ کسی ایک بات میں سہی اس نبی ﷺ کو لوگوں کی نظروں میں جھوٹا یا کم از کم لاجواب کردیا جائے۔ اس کے لیے انھوں نے مدینہ میں یہودیوں کے پاس وفد بھیجا۔ یہودیوں نے اس سورة میں ذکردوسرے سوالات کے ساتھ ایک سوال یہ بھی بتلایا کہ واپس جا کر محمد سے یہ بھی پوچھنا کہ ” ذوالقرنین “ کون تھا اور اس نے مشرق سے لے کر مغرب تک جو فتوحات حاصل کیں ان کی تفصیلات کیا ہیں۔ اہل مکہ نے واپس آکر آپ سے ذوالقرنین کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ذوالقرنین کا واقعہ : 83: وَیَسْئَلُوْنَکَ (اور وہ آپ سے سوال کرتے ہیں) یعنی یہودی بطور امتحان سوال کرتے ہیں۔ نمبر 2۔ ابو جہل اور اس کے معاونین عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ (ذوالقرنین کے متعلق) یہ وہ سکندر ہے جس نے دنیا پر حکو مت کی۔ دوسرا قول یہ ہے دنیا پر حکومت چار بادشاہوں نے کی دو مسلمان اور دو کافر۔ مسلمان سلیمانؔ نمبر 2۔ اور ذوالقرنین اور دو کافر ہیں۔ نمبر 1۔ نمرود نمبر 2 بخت نصر اور یہ سکندر نمرود کے بعد ہوا ہے ایک قول کے مطابق یہ ایک نیک بندہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر حکمرانی دی اور علم و حکمت سے نوازا اور اندھیرا اور روشنی اس کے مطیع کی۔ جب وہ چلتا تو روشنی اس کے آگے راہنما ہوتی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (83)” ویسالو نک عن ذی القرنین قل ساتلو ا علیکم منہ ذکرا “ اس سے خبر مراد ہے ذی القرنین کون تھے ذی القرنین کی نبوت کے متعلق آئمہ مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ نبی تھے۔ ابو طفیل کا بیان ہے کہ حضر ت علی ؓ سے ذوالقرنین کے متعلق دریافت کیا گیا کہ وہ نبی تھے یا بادشاہ تھے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ وہ نہ نبی تھے اور نہ ہی بادشاہ تھے، وہ ایک ایسا بندہ تھا جو اللہ سے محبت کرتا تھا اور اللہ اس سے محبت کرتا تھا۔ اس نے اللہ کی فرمانبرداری خلوص سے کی، اللہ نے اس کو خیر عطا فرمائی۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے سنا ایک شخص دوسرے کو ذوالقرنین کہہ کر پکار رہا تھا۔ فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 83–86

83۔ 86:۔ شروع سورة ایک تفسیر میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے مشرکین مکہ نے روح اصحاب کہف اور سکندر القرنین مصری اور سکندر رومی کا ایک ہونا پایا جاتا ہے 1 ؎ اور اسی روایت کی بنا پر تفسیر ابن جریر کے علاوہ بعض اور تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ قرآن شریف میں جس شخص کا قصہ ہے وہ سکندر رومی ہے لیکن حافظ ابن کثیر (رح) نے عقبہ بن عامر ؓ کی اسی روایت کو ضعیف ٹھہرا کر معتبر اہل تاریخ مثلا سہیلی ارزقی کے قول کے موافق اسی بات کو ترجیح دی ہے کہ سکندر دو شخص گزرے ہیں پہلا سکندر ذوالقرنین جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے اس سکندر اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا زمانہ ایک ہی ہے یہ سکندر ملت ابراہیمی کا پابند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–88

آیت 83 اہل کتاب تھے یا مشرکین انہوں نے رسول اللہٓ نے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : (استلوا علیکم منہ ذکرا) ” میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال “ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے۔ یعنی میں تمہیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال، تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔ (انا مکنا لہ فی الارض) ” ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کیگوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ (واتینہ من کل شیء سببا۔ فاتبع سببا) ” اور دیا ہم نے اس کو ہر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 82–110

کنز کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

127 قصہ ذوالقرنین کا کچھ ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ میں اس کا کچھ حال تم لوگوں کو سنائے دیتا ہوں۔ نہ کہ سب کا سب اور پورا قصہ۔ کیونکہ قرآن حکیم کوئی قصوں کہانیوں یا تاریخ و جغرافیہ کی کتاب نہیں کہ پورا قصہ بیان کرے۔ بلکہ یہ کتاب عظیم کتاب ہدایت ہے۔ جس کا اصل مقصد بندوں کو راہ راست سے نوازنا اور ان کو اپنے خالق ومالک سے ملانا ہے۔ اس لئے اس میں قصے کا صرف وہی حصہ بیان کیا جاتا ہے جو کہ اس کے موضوع سے مطابقت رکھتا ہو۔ اور اس اعتبار سے ضروری و مفید ہو۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہنا چاہیئے کہ اس ذوالقرنین سے مراد یونان کا وہ سکندر نہیں جس کو سکندر مقدونی اور سکندر رومی بھی کہتے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–98

نقشہ بسلسلہ قصہ ذوالقرنین ذوالقرنین کا واقعہ تشریح : قرآن پاک کے بیان کے مطابق ذوالقرنین کی تمام علامات خورس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نام کی وضاحت نہیں کی، اس لیے یہ صرف اندازہ ہی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جس قدر فاتحین گزرے ہیں ان سب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی بتائی ہوئی تمام نشانیاں خورس میں پائی جاتی ہیں۔ خورس ایک ایرانی بادشاہ تھا جس کا عروج 549 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے بڑے کم عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (ایشیائے کوچک) کو فتح کرلیا اور پھر بابل کو فتح کرنے کے بعد اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور ترکستان سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–101

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔ (ذوالقرنین کون تھا) ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ان پوچھنے والوں سے مراد کفار مکہ میں جنہوں نے یہود کے مشورہ سے تین سوالات بطور امتحان پیش کئے تھے۔ ایک روح کے بارے میں دوسرا اصحاب کہف کے بارے میں اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں …قرآن میں ذوالقرنین سے مراد کون ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں عض کہتے ہیں کہ یہ یونان کے سکندر اعظم کا لقب تھا جس نے اسکندریہ کی بنیاد رکھی تھی۔ امام رازی نے تاریخی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے اسی کو ترجیح دی ہے۔ اس کا زمانہ حضرت مسیح سے تقریباً تین سو سال قبل کا ہے۔ مگر یہ بات اس لئے صحیح معلوم نہیں ہوتی کہ قرآن کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین ایک خدا پرست اور انصاف پسند فرمانروا تھا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:83) ذی القرنین۔ مضاف مضاف الیہ۔ ترکیب اضافی بحالت جر۔ دو سینگوں والا۔ قرنین۔ جمع ۔ قرن واحد۔ دو کنارے۔ دو سینگ۔ ایک نیک عادل با اقتدار بادشاہ کا نام جس کی شخصیت کے تعین میں اختلاف ہے۔ ساتلوا۔ س حرف۔ مضارع کو مستقبل قریب کے معنی میں مخصوص کردیتا ہے۔ اتلوا۔ مضارع واحد متکلم۔ تلاوۃ مصدر۔ میں عنقریب پڑھ کر سنائوں گا۔ میں عنقریب بیان کروں گا۔ تلو مادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–91

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 91 یسئلون وہ سوال کرتے ہیں۔ ذوالقرنین بہت طاقتور۔ ساتلوا بہت جلد میں بتاؤں گا۔ مکنا ہم نے جمایا، اقتدار دیا تھا۔ سبب سامان۔ اتبع وہ پیچھے گیا۔ اس نے تیاری کی۔ حمئۃ دلدل، کیچڑ، سیاہ۔ یرد لوٹایا جائے گا۔ الحسنی بہترین، بھلا۔ یسر آسان۔ ستر پردہ، رکاوٹ، احطنا ہم نے گھیر لیا۔ لدیہ اس کے پاس ۔ خبر علم، خبر۔ تشریح :- آیت نمبر 83 تا 91 تاریخ انسانی کے ہر دور میں اچھے اور برے کردار کے لوگ گذرتے رہتے ہیں۔ بہترین کردار کے لوگوں کی زندگی دوسروں کے لئے مشعل راہ، نمونہ عمل اور نشان راہ ہوتی ہے۔ جب کہ برے اور بدکردار لوگ کسی عزت کے مستحق نہیں ہوتے۔ یوں تو ہر قوم اور اس کے افراد کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 83–89

حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) کا قصہ : شروع سورة کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے مشرکین مکہ نے روح، اصحاب کہف اور سکندر ذالقرنین کا حال اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا تھا۔ روح اور اصحان کہف کا حال تو بیان ہوچکا۔ یہ سکندر ذوالقرنین کا حال شروع ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو روئے زمین پر صاحب قدرت بنایا، اور ہر قسم کا سامان اس کو دیا۔ اور جب ان کو معلوم ہوا کہ اولاد سام میں سے ایک شخص چشم حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی، تو وہ چشمہ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے۔ اور آپ کے ساتھ حضرت خضر (علیہ السلام) بھی تھے، وہ چشمہ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے پی بھی لیا۔ مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 83–85

[28] ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا ایک معنی قوت کے بھی لئے گئے ہیں۔ قرآن کی تصریحات سے اتنا تو بہرحال معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی دیندار اور بڑی کشور کشا شخصیت تھی مگر اس سے زیادہ تعین قرآن میں نہیں۔ سب سے پہلا حل طلب مسئلہ جو مفسرین کے سامنے آیا وہ اس کا لقب تھا۔ عربی میں بھی اور عبرانی میں بھی '' قرن '' کے معنی سینگ کے ہیں۔ پس ذوالقرنین کا مطلب ہوا دو سینگوں والا۔ لیکن چونکہ تاریخ میں کسی ایسے بادشاہ کا سراغ نہیں ملا جس کا ایسا لقب ہو پھر چونکہ فتوحات کی وسعت اور مشرق و مغرب کی حکمرانی کے لحاظ سے سکندر مقدونی کی خصیت سب سے زیادہ مشہور رہی ہے اس لئے ہمارے مفسرین کی نظریں اسی کی طرف…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 82–83

(ف 3) دیوار کے متعلق بتایا کہ اس کے خیمے یتیموں کا ایک خزانہ مخفی تھا ، اگر اس کو گرنے سے نہ بچا لیا جاتا ، تو لوگ یتیموں کے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی لوٹ لیتے اور اس طرح وہ ایک بہت ضروری اعانت سے محروم رہتے ، بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ جس طرح حضرت خضر کا الہام موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے بظاہر مخالف تھا ، اسی طرح ہو سکتا ہے کہ اولیاء اللہ کا امام طریقت ظاہری شرع کے مخالف ہو ، اور حقیقت میں دوست ہو ۔ یہ استدلال غلط ہے ، حضرت خضر (علیہ السلام) کے الہامات بالکل موسوی شریعت کے مطابق تھے ، بات صرف یہ تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دقت نظر سے کام نہیں لیا ، اور قانون کا مقصد محض یہ سمجھا کہ اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-83 اور اے پیغمبر یہ منکرین مکہ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور ذوالقرنین کا حال دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ا بھی تم کو پڑھ کر سناتا ہوں اور اس کا واقعہ تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس بادشاہ کو ذوالقرنین کہتے ہیں اس واسطے کہ دنیا کے دونوں سروں پر پھر گیا تھا مشرق اور مغرب پر بعضے کہتے ہیں یہ لقب ہے سکندر کا بعضے کہتے ہیں کوئی بادشاہ پہلے گزرا ہے۔ 12 بعض حضرات نے کہا ہے ذوالقرنین نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات اور معانقہ کیا ہے اور اس کو جب معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مکہ میں ہیں تو یہ سواری پر سوار نہ ہوا اور پیدل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–83

ف 6۔ عجب نہیں کہ ان اسرار کا بتلانا اس درخواست کا پورا کرنا بھی ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تھی تعلمن مما علمت گو نمونہ ہی کے طور پر سہی۔ اور زیادہ ساتھ رہنے میں غالبا وہ مناسب موقع پر خود ہی بتلاتے اور ہر واقعہ پر بتلاتے تو یہ علم زیادہ ہوتا۔ گو یہ علم موسوی کے برابر مفید عام نہ ہو، کیونکہ قابل اتباع نہیں تاہم اس معنی کو مفید خاص ضرور ہے کہ بعض حکمتیں مفصلا منکشف ہوتی ہیں، گو اجمالی عقیدہ کہ ہر واقعہ جو مشتمل حکمتوں پر ہوتا ہے قرب کے لئے کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ذوالقرنین کا حال آپ ﷺ سے دریافت کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کو بتادیں : 89۔ سلف میں اگرچہ ” ذوالقرنین “۔ کے متعلق بہت کچھ بیان کیا گیا ہے لیکن آج اگر اس کو بیان کیا جائے گا تو لوگ ہنسیں گے اگرچہ وہ اسلام کی باتیں سمجھ کر منہ سے کچھ نہ کہیں ، یہی وجہ ہے کہ متاخرین نے اس سلسلہ میں دو راہیں اختیار کیں ایک جماعت سلف کے بعض اقوال کو نقل کرنے کے بعد یہ کہہ دینے پر اکتفا کرتی ہے کہ زیر بحث باتیں جو قرآن کریم کے بیان کردہ ” ذوالقرنین “ کے ساتھ پوری طرح مطابقت نہیں رکھتیں اس لئے ہمارے لئے یہ کافی ہے کہ ایک طرف یہ یقین جانیں کہ قرآن کریم نے جس حد تک ” ذوالقرنین “ کی شخصیت پر روشنی ڈالی ہے اس کو حق سمجھیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Verse 84 opens with the statement: يَسْأَلُونَكَ (They ask you). Who is asking? Related narratives show that they were the Quraysh of Makkah, those who were coached to ask three questions from the Holy Prophet ﷺ . The purpose was to test his prophethood and veracity. The questions were about Ruh (spirit), Ashab al-Kahf (People of Kahf) and Dhul-Qarnain. Two of these have already been answered. The story of the People of Kahf has appeared earlier in this Surah, 9-26. The question about 'Ruh' has appeared towards the later part of the previous Surah (Bani Isra'il 17:85). Who was…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 83–85

61. It is quite obvious that the conjunction wao joins this story with the previous story of Khidr. Thus it is a selfevident proof that the previous two stories of the sleepers of the cave and Moses and Khidr were also related in answer to the queries of the disbelievers of Makkah who, in consultation with the people of the Book, had put these questions to Muhammad (peace be upon him) as a test of his Prophethood. 62. The identification of Zul-Qarnain has been a controversial matter from the earliest times. In general the commentators have been of the opinion that he was Alexander the Great…

Read the full tafseer →