Al-Kahf 18:82

Al-Kahf · from ayah 82

18:82

وَاَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَكَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا ۚ— فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَیَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا ۖۗ— رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۚ— وَمَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ ؕ— ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا ۟ؕ۠وَاَمَّا الۡجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَيۡنِ يَتِيۡمَيۡنِ فِى الۡمَدِيۡنَةِ وَكَانَ تَحۡتَهٗ كَنۡزٌ لَّهُمَا وَكَانَ اَبُوۡهُمَا صَالِحًـا ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنۡ يَّبۡلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنۡزَهُمَا ۖ رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ‌‌ ۚ وَمَا فَعَلۡتُهٗ عَنۡ اَمۡرِىۡ‌ ؕ ذٰ لِكَ تَاۡوِيۡلُ مَا لَمۡ تَسۡطِعْ عَّلَيۡهِ صَبۡرًا

اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure for them, and their father had been righteous. So your Lord intended that they reach maturity and extract their treasure, as a mercy from your Lord. And I did it not of my own accord. That is the interpretation of that about which you could not have patience."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 10 of surah · Ruku 1 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:82

اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں اس دیوار کے نیچے اِن بچّوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچّے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پرکیا گیا ہے، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے

— مولانا فتح محمد جالندہری

دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس شہر میں دو یتیم بچے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے، ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں، میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا، یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا

— مولانا محمد جوناگڑہی

رہی یہ دیوار، تو وہ اس شہر میں رہنے والے دو یتیم لڑکوں کی تھی، اور اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ گڑا ہوا تھا، اور ان دونوں کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے آپ کے پروردگار نے یہ چاہا کہ یہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کی عمر کو پہنچیں، اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ سب کچھ آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہوا ہے، اور میں نے کوئی کام اپنی رائے سے نہیں کیا۔ یہ تھا مقصد ان باتوں کا جن پر آپ سے صبر نہیں ہوسکا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں، آپ کے رب کی رحمت سے اور یہ کچھ میں نے اپنے حکم سے نہ کیا یہ پھیر ہے ان باتوں کا جس پر آپ سے صبر نہ ہوسکا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ جو دیوار تھی تو وہ شہر میں (رہنے والے) دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لئے ایک خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ صالح (شخص) تھا، سو آپ کے رب نے ارادہ کیا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور آپ کے رب کی رحمت سے وہ اپنا خزانہ (خود ہی) نکالیں، اور میں نے (جو کچھ بھی کیا) وہ اَز خود نہیں کیا، یہ ان (واقعات) کی حقیقت ہے جن پر آپ صبر نہ کر سکے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور رہ گئی دیوار تو وہ شہر میں دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کے لیے ایک خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک تھا تو تیرے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور اپنا خزانہ نکال لیں، تیرے رب کی طرف سے رحمت کے لیے اور میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا۔ یہ ہے اصل حقیقت ان باتوں کی جن پر تو صبر نہیں کرسکا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور دیوار کی بات یہ ہے کہ وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو اس شہر میں رہتے تھے۔ اس دیوار کے نیچے ان کے لئے خزانہ مدفون تھا اور ان کا باپ ایک صالح آدمی تھا۔ لہذا آپ کے پروردگار نے چاہا کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کو پہنچ کر اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ جو کچھ میں نے کیا، سب آپ کے پروردگار کی رحمت تھی۔ میں نے اپنے اختیار سے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ ہے ان باتوں کی حقیقت جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور رہا دیوار کا معاملہ تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی۔ اس کے نیچے ان کا دفینہ تھا اور ان کا باپ ایک صالح آدمی تھا۔ تیرے رب یہ چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا دفینہ نکالیں۔ یہ تیرے رب کی عنایت سے ہوا اور یہ جو کچھ میں نے کیا اپنی رائے سے نہیں کیا۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کرسکے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

رہی وہ دیوار تو اس کا معاملہ بھی یہ تھا کہ وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اس کے نیچے ان کا ایک خزانہ مدفون تھا، اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا اس لیے تمہارے رب نے محض اپنی مہربانی سے چاہا کہ وہ دونوں جوان ہو کر اپنی قوتوں کو پہنچ جائیں اور اپنا دفینہ خود نکال لیں اور یہ سب کچھ میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا، سو یہ ہے حقیقت ان سب باتوں کی جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا

— مولانا اسحاق مدنی

اور رہی وہ دیوار سو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس (دیوار) کے نیچے ان کا دفینہ تھا۔ اور ان کا باپ ایک مرد صالح تھا۔ سو آپ کے پروردگار نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی پختگی کو پہنچ جائیں اور اپنا دفینہ نکال لیں۔ (یہ سب) آپ کے پروردگار کی مہربانی سے ہوا اور یہ (کوئی کام) میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا۔ یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے خزانہ تھا ان دونوں کے لیے اور ان کا باپ نیک آدمی تھا لہٰذا آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور نکال لیں اپنا خزانہ (یہ سب امور) آپ کے رب کی رحمت سے (طے ہوئے) تھے اور میں نے اپنی رائے سے انہیں سر انجام نہیں دیا یہ ہے اصل حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ جو دیوار تھی وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں رہتے تھے اور اس کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا تو تمہارے رب نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ کر اپنا خزانہ لے لیں یہ تمہارے رب کی مہربانی ہے اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کیے۔ یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and under it there was a treasure that belonged to them. Their father was a righteous man and your Lord intended that they should come of age and then bring forth their treasure as a mercy from your Lord; I did not do this of my own bidding. This is the true meaning of things with which you could not keep your patience."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was a treasure beneath it belonging to them, and their father was a pious man. So your Lord willed that they should reach their maturity and dig out their treasure, as a mercy from your Lord. I did not do it on my own accord. This is the reality of things about which you could not remain patient.

— Muhammad Taqi Usmani

As for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was a treasure beneath it belonging to them, and their father was a pious man. So your Lord willed that they should reach their maturity and dig out their treasure, as a mercy from your Lord. I did not do it on my own accord. This is the reality of things about which you could not remain patient.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the town; and there was under it a treasure belonging to them; and their father was a righteous man, and your Lord intended that they should attain their age of full strength and take out their treasure as a mercy from your Lord. And I did them not of my own accord. That is the interpretation of those (things) over which you could not be patient.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure belonging to them, and their father had been righteous, and thy Lord intended that they should come to their full strength and should bring forth their treasure as a mercy from their Lord; and I did it not upon my own command. Such is the interpretation of that wherewith thou couldst not bear.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure for them, and their father had been righteous. So your Lord intended that they reach maturity and extract their treasure, as a mercy from your Lord. And I did it not of my own accord. That is the interpretation of that about which you could not have patience."

— Saheeh International

"The tumbling wall belonged to two orphans in the town whose father was a righteous person. Underneath the wall there was a treasure that belonged to them. Your Lord wanted the orphans to find the treasure through the mercy of your Lord when they mature. I did not repair the wall out of my own desire. These were the explanations of my deeds about which you could not remain patient."

— Muhammad Sarwar

And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the city, and there was beneath it a treasure belonging to them, and their father was a righteous man; so your Lord desired that they should attain their maturity and take out their treasure, a mercy from your Lord, and I did not do it of my own accord. This is the significance of that with which you could not have patience.

— Muhammad Habib Shakir

And as for the wall, it belonged to two orphan boys in the town and underneath it was a treasure belonging to them and their father had been righteous. So thy Lord intended that the twain should attain their maturity and bring forth for themselves their treasure as a mercy from thy Lord. And I did it not of mine own command; that is the interpretation of that wherewith thou wast not able to have patience.

— Abdul Majid Daryabadi

"As for the wall, it belonged to two youths, orphans, in the Town; there was, beneath it, a buried treasure, to which they were entitled: their father had been a righteous man: So thy Lord desired that they should attain their age of full strength and get out their treasure - a mercy (and favour) from thy Lord. I did it not of my own accord. Such is the interpretation of (those things) over which thou wast unable to hold patience."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:82

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اللہ کی حفاظت کا ایک انداز۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ بڑے شہر پر بھی قریہ کا اطلاق ہوسکتا ہے کیونکہ پہلے (اِذَآ اَتَيَآ اَهْلَ قَرْيَـةِ 77؀) 18۔ الكهف :77) فرمایا تھا اور یہاں فی المدینۃ فرمایا۔ اسی طرح مکہ شریف کو بھی قریہ کہا گیا ہے۔ فرمان ہے (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِىَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ اَخْرَجَتْكَ ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ 13؀) 47۔ محمد :13) اور آیت میں مکہ اور طائف دونوں شہروں کو قریہ فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد ہے (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ 31؀) 43۔ الزخرف :31) آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْكَهْف 60 اس قصے میں ایک بڑی پیچیدگی ہے جسے رفع کرنا ضروری ہے۔ حضرت خضر نے یہ تین کام جو کیے ہیں ان میں سے تیسرا کام تو خیر شریعت سے نہیں ٹکرا تا، مگر پہلے دونوں کام یقیناً ان احکام سے متصادم ہوتے ہیں جو ابتدائے عہد انسانیت سے آج تک تمام شرائع الہٰیہ میں ثابت رہے ہیں۔ کوئی شریعت بھی کسی انسان کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی کی مملوکہ چیز کو خراب کر دے، اور کسی متنفس کو بےقصور قتل کر ڈالے۔ حتیٰ کہ اگر کسی انسان کو بطریق الہام بھی یہ معلوم ہوجائے کہ ایک کشتی کو آگے جا کر ایک غاصب چھین لے گا، اور فلاں لڑکا بڑا ہو کر سرکش اور کافر نکلے گا، تب بھی اس کے لیے خدا کی بھیجی ہوئی شریعتوں میں سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا یہ خزانہ جو یتیم بچوں کے لئے زیر دیوار دفن تھا اس کے متعلق حضرت ابو الدرداء ؓ نے رسول کریم ﷺ سے یہ روایت کیا ہے کہ وہ سونے اور چاندی کا ذخیرہ تھا (رواہ الترمذی والحاکم وصححہ از مظہری) ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ سونے کی ایک تختی تھی جس پر نصیحت کے مندرجہ ذیل کلمات لکھے ہوئے تھے یہ روایت حضرت عثمان بن عفان ؓ نے مرفوعاً رسول کریم ﷺ سے بھی نقل فرمائی (قرطبی) 1 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ 2 تعجب ہے اس شخص پر جو تقدیر پر ایمان رکھتا ہے پھر غمگین کیونکر ہوتا ہے۔ 3 تعجب ہے اس شخص پر جو اس پر ایمان رکھتا ہے کہ رزق کا ذمہ دار اللہ ہے پھر ضرورت سے زیادہ مشقت اور فضول قسم کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا۔ دیوار کی مرمت کی حکمت : اب یہ ان لئیموں کی بستی کی ایک گرتی ہوئی دیوار کی مرمت کے لیے، بلا کسی معاوضے کے، انہوں نے جو رحمت برداشت کی اس کی حکمت سمجھائی کہ یہ دیوار درحقیقت یتیموں کی تھی، ان کے باپ نے، جو ایک نیک آدمی تھا، اس کے نیچے ایک دفینہ محفوظ کیا تھا کہ اس کے بعد یہ اس کے بچوں کے کام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

82۔ 1 حضرت خضر کی نبوت کے قائلین کی یہ دوسری دلیل ہے جس سے وہ نبوت خضر کا اثبات کرتے ہیں۔ کیونکہ کسی بھی غیر نبی کے پاس اس قسم کی وحی نہیں آتی کہ وہ اتنے اتنے اہم کام کسی اشارہ غیبی پر کر دے، نہ کسی غیر نبی کا ایسا اشارہ غیبی قابل عمل ہی ہے۔ نبوت خضر کی طرح حیات خضر بھی ایک حلقے میں مختلف ہے اور حیات خضر کے قائل بہت سے لوگوں کی ملاقاتیں حضرت خضر سے ثابت کرتے ہیں اور پھر ان سے ان کے اب تک زندہ ہونے پر دلیل پیش کرتے ہیں لیکن جس طرح حضرت خضر کی زندگی پر کوئی آیت شرعی نہیں ہے، اسی طریقے سے لوگوں کے مکاشفات یا حالت بیداری یا نیند میں حضرت خضر سے ملنے کے دعوے بھی قابل تسلیم نہیں۔ جب ان کا حلیہ ہی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

41: حضرت موسیٰ ؑ کو حضرت خضر ؑ سے ملوانے اور یہ واقعات دکھانے کا اصل مقصد ایک اہم حقیقت کا مشاہدہ کرانا تھا اور اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے قرآن کریم نے یہ واقعہ ہمارے لئے بیان فرمایا ہے، اسلامی شریعت کی رو سے کسی کے لئے یہ بالکل جائز نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کی ملکیت میں اسکی اجازت کے بغیر کوئی تصرف کرے، خاص طور پر اس کی تو ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی کے اس کی ملکیت کو کوئی نقصان پہنچادے، چاہے وہ نقصان خود مالک کے فائدے کی نیت ہی سے پہنچایا گیا ہو لیکن حضرت خضر ؑ نے کشتی والوں کی اجازت کے بغیر اس کا تختہ نکال دیا، اسی طرح کسی بےگناہ کو قتل کرنا شریعت میں انتہائی سنگین جرم ہے خاص طور پر کسی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 82–83

درس نمبر 431 ایک نظر میں یہ سورة کہف کا آخری سبق ہے۔ اس سبق کا بڑا حصہ ذوالقرنین کے قصے کے بارے میں ہے۔ اس میں ذوالقرنین کے تین سفروں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ سفر مشرق ، سفر مغرب اور سفروسط نیز اس میں یاجوج اور ماجوج کے مقابلے میں ان کی جانب سے دیوار کھڑی کرنے کا خصوصی ذکر ہے۔ قرآن کریم نے اس قصے میں ذوالقرنین کا ایک قول نقل کیا ہے۔ تعمیر سد کے بعد وہ کہتا ہے۔ قال ھذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکاء وکان وعد ربی حقاً (81 : 89) ” ذوالقرنین نے کہا ، یہ میرے رب کی رحمت ہے ، مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوند خاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ “ اس کے بعد نفخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اگر دیوار گر پڑتی تو یتیم بچوں کا جو مال وہاں گڑا ہوا تھا ظاہر ہوجاتا اور بدنیت لوگ اٹھا لیتے۔ بچوں کا باپ مرد صالح تھا اس کی نیکی کی رعایت سے حق تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ بچوں کے مال کی حفاظت کی جائے میں نے اس کے حکم سے دیوار سیدھی کردی کہ بچے جوان ہو کر باپ کا خزانہ پاسکیں۔ کہتے ہیں اس خزانہ میں دوسرے اموال کے علاوہ ایک سونے کی تختی تھی جس پر " محمد رسول اللہ " ﷺ لکھا ہوا تھا۔ 2 یعنی جو کام خدا کے حکم سے کرنا ضروری ہوا اس پر مزدوری لینا مقربین کا کام نہیں (تنبیہ) اس قصہ کے شروع میں حضرت خضر (علیہ السلام) کی نبوت و ولایت کے متعلق جو کچھ ہم لکھ چکے ہیں اس کو بیک نظر پھر مطالعہ کرلیا جائے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 82 وَاَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَيْنِ يَتِيْمَيْنِ فِي الْمَدِيْنَةِ وَكَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا باپ نے جب دیکھا ہوگا کہ میرا آخری وقت قریب آ لگا ہے اور میرے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں تو اس نے اپنی ساری پونجی اکٹھی کر کے دیوار کی بنیاد میں دفن کردی ہوگی اس امید پر کہ جب وہ بڑے ہوں گے تو نکال لیں گے۔ لیکن اگر وہ دیوار وقت سے پہلے ہی گر جاتی تو اس بستی کے نا ہنجار لوگ جو کسی مسافر کو کھانا کھلانے کے بھی روادار نہیں ان یتیموں کا دفینہ لوٹ کرلے جاتے۔ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ يَّبْلُغَآ اَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا باپ چونکہ نیک آدمی تھا اس لیے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 82–83

70 یعنی اگر دیوار کسی وقت گر پڑتی تو خزانہ ظاہر ہوجاتا بدنیت لوگ اس پر قبضہ کرلیتے یا اٹھا لے جاتے اور ان یتیموں کے ہاتھ کچھ بھی نہ لگتا۔ اب یہ بڑے ہو کر خود اپنے باپ کی دفن شدہ دولت نکال کر اپنے استعمال میں لاسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی مصلحتیں اللہ ہی جانتا ہے :۔ مندرجہ بالا تینوں واقعات سے دراصل مشیئت الٰہی کے کاموں میں پوشیدہ حکمتوں پر روشنی پڑتی ہے پہلا کام یہ تھا کہ کشتی والوں نے سیدنا موسیٰ و سیدنا خضر دونوں کو پردیسی سمجھ کر ان سے کرایہ نہیں لیا اور کشتی میں سوار کرلیا۔ جس کے صلہ میں سیدنا خضر نے ایسا کام کیا جو بظاہر غلط معلوم ہوتا تھا لیکن حقیقت میں سیدنا خضر نے ان سے بہت بڑی خیر خواہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

123۔ (جوان کے باپ سے ان کو میراث میں پہنچا ہے) (آیت) ” کنز “۔ یہاں اصطلاح فقہی کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنے عام لغوی معنی میں خزانہ یا مال عظیم کے مرادف ہے۔ (آیت) ” المدینۃ “۔ وہی شہر ہے جس کا ذکر ابھی قریہ کے نام سے اوپر آچکا۔ گویا قرآن مجید نے دونوں لفظ کو مرادف قرار دیا ہے، محققین نے کہا ہے کہ پہلا ذکر موقع ہجو ومذمت پر تھا (بہ سلسلہ بخل اہل قریہ) اس لئے لفظ بھی ہلکا لایا گیا اور یہاں محل مدح وتحسین کا ہے (بہ سلسلہ صالحیت یتیمین) اس لئے لفظ بھی اونچا لایا گیا۔ 124۔ (سو اس کی برکت سے اللہ نے اس کے مال کو اس کی اولاد کے لئے محفوظ رکھنا چاہا) (آیت) ” صالحا “۔ یہاں محل تعلیل میں وارد ہوا ہے یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 79–82

آیت نمبر 79 تا 82 بہرحال وہ کشتی چند یعنی دس غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں اس کشتی کو کرایہ پر چلا کر روزی کماتے تھے میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور اس کے آگے ایک کافر بادشاہ تھا جو ہر صحیح سالم کشتی کو غصب کرلیتا تھا غصبًا کا نصب اَنِ مصدریۃ کی بنا پر ہے جو کہ بیان نوعیت کے لئے ہے بہرحال لڑکا تو اس کے ماں باپ مومن تھے پس ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا ان دونوں پر سرکشی اور کفر سے چھا جائے گا مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ وہ لڑکا فطرت کفر پر پیدا کیا گیا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو یقیناً وہ اپنے والدین پر غالب آجاتا اور وہ اس سے محبت کی وجہ سے کفر میں اس کی اتباع کرتے، اس لئے ہم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واما الجدار فکان لغلمین یتیمین فی المدینۃ وکان تحتہ کنز لہما اور دیوار کا قصہ یہ تھا کہ وہ بستی کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور دیوار کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا۔ بغوی نے لکھا ہے ان دونوں لڑکوں کا نام اصرم اور صریم تھے۔ کنز کا ترجمہ عکرمہ نے مال کیا ہے حضرت ابو درداء ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سونے چاندی کا خزانہ تھا یہ حدیث بخاری نے تاریخ میں اور حاکم نے بیان کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے۔ طبرانی نے اس آیت کی تشریح میں حضرت ابو درداء ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ ان کے لئے کنز (نامعلوم دفینے) حلال کردیئے گئے تھے اور مال غنیمت حرام کردیا گیا تھا اور ہمارے لئے کنز حرام…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 60–82

(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا : اللہ تعالیٰ اپنے صالح بندوں کی وفات کے بعد بھی ان کی مومن اولاد کی خاص نگہداشت فرماتا ہے اور قیامت کو بھی انھیں خاص رعایت دے گا۔ دیکھیے سورة طور (21)۔ ان تینوں واقعات کی اصل حقیقت بیان کرتے ہوئے خضر ؑ نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ادب کو خاص طور پر ملحوظ رکھا ہے۔ کشتی کو عیب دار کرنے کی نسبت اپنی طرف کی ہے، لڑکے کے قتل کے ارادہ کی نسبت اپنی طرف اور اس کے صالح باپ کو بہتر اولاد عطا کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی ہے اور یتیم لڑکوں کے بالغ ہو کر اپنا خزانہ سنبھالنے کے ارادہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی ہے۔ وَمَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِيْ : یہ خضر ؑ کے نبی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واما الجدار فکان لغلمین۔ (1) یہ لڑکے دونوں چھوٹے تھے کیونکہ یتیم کے ساتھ ان کی صفت بیان کی گئی ہے۔ ان کے نام اصرام اور صریم تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : لا یتم بعد بلوغ “ بلوغت کے بعد یتیمی نہیں ہے۔ “ یہی ظاہر ہے۔ یہ بھی احتمال ہو سکتا ہے کہ ان پر شفقت کی بناء پر بعد از بلوغ یتیم کا لفظ بوالا گیا ہو اگرچہ وہ یتیم نہ تھے (2) یہ پہلے گزر چکا ہے کہ لوگوں میں یتیم وہ ہوتا ہے جس کا باپ فوت ہوجائے اور حیوانوں میں وہ ہوتا ہے جس کی ماں مر جائے۔ فی المدینۃ میں دلیل ہے کہ دیہات کو بھی مدینہ کہا جاتا ہے، اسی سے حدیث ہے امرت بقریۃ تاکل، القری (3) اور ہجرت کی حدیث میں ہے۔ لمن انت۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–82

نیکی اور بدی کے اثرات : 107:۔ ابن ابی حاتم نے شیبہ کے طریق سے سلیمان بن سلیم بن سلمہ (رح) سے روایت کیا کہ تورات شریف میں لکھا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن بندے کی وجہ سے اس کی سات نسلوں تک حفاظت فرماتا ہے اور ایک بدکار کی وجہ سے ساتھ نسلوں کو ہلاک فرماتا ہے۔ 108:۔ احمد نے زہد میں وھب (رح) سے روایت کیا کہ رب تبارک وتعالیٰ نے فرمایا بعض باتوں میں جو بنی اسرائیل کو فرمائیں گئی کہ جب تو اطاعت میری کرے گا تو میں راضی ہوں گا اور جب میں راضی ہوں گا برکت دوں گا اور میری برکت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ جب تو نافرمانی کرے گا تو میں ناراض ہوں گا اور لعنت کروں گا اور میری لعنت اولاد میں ساتویں (پشت) تک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاَمَا : اور وہ جو ] [الْجِدَارُ : دیوار تھی ] [فَكَان : تو وہ تھی ] [لِغُلٰمَيْنِ يَتِيْمَيْنِ : دو یتیم لڑکوں کے لئے ] [فِي الْمَدِيْنَةِ : اس شہر میں ] [وَكَان : اور تھا ] [تَحْتَهٗ : اس کے نیچے ] [كَنْزٌ: ایک خزانہ ] [لَّهُمَا : ان دونوں کے لئے ] [وَكَان : اور تھا ] [اَبُوْهُمَا : ان کا والد ] [صَالِحًا : نیک ] [فَاَرَادَ : تو ارادہ کیا ] [رَبُّكَ : آپ (علیہ السلام) کے رب نے ] [ان : کہ ] [يَّبْلُغَآ : وہ دونوں پہنچیں ] [اَشُدَّهُمَا : اپنی پختگی کو ] [وَيَسْتَخْرِجَا : اور دونوں نکالیں ] [كَنْزَهُمَا : اپنے خزانے کو ] [رَحْمَةً : رحمت ہوتے ہوئے ] [مِّنْ رَّبِكَ : آپ (علیہ السلام) کے رب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دیوار کو سیدھا کردینے کی وجہ اب رہی دیوار کی بات تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ بچوں کی دیوار تھی یہ بچے یتیم تھے اور دیوار کے نیچے خزانہ تھا اگر دیوار گر پڑتی تو شہر والے ان کا خزانہ لے اڑتے اور وہ دونوں اپنے باپ کی میراث سے محروم ہوجاتے اور تنگدستی کا شکار ہوجاتے، اول تو یہ بچے یتیم تھے دوسری نیک آدمی کی اولاد تھے تو یوں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی ضرورت تھی لہٰذا ہم نے دیوار کو کھڑا کردیا تاکہ بالغ ہوجائیں تو اپنا خزانہ نکال لیں اللہ تعالیٰ شانہ نے ان دونوں یتیموں پر رحم فرمایا اور گرنے والی دیوار کو سیدھا کھڑا کروا دیا۔ اگر شہر کے بالغ لوگوں نے ہمیں کھانے کے لیے کچھ نہ دیا تو اس کا بدلہ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–82

بقیہ قصۂ موسیٰ (علیہ السلام) با خضر (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ قال الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ذلک تا ویل ما لم تسطع علیہ صبرا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ خضر (علیہ السلام) نے یکایک ایک معصوم اور بےگناہ بچے کو مار ڈالا تو ان سے ضبط نہ ہوسکا۔ اور بےاختیار کہہ اٹھے۔ لقد جئت شیئا نکرا۔ ( آپ (علیہ السلام) نے تو بڑی ہی بےجا اور ناپسندیدہ حرکت کی) تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے جواب میں کہا۔ اے موسیٰ کیا میں تم سے پہلے ہی اول صحبت میں یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکو گے آخر وہی ہوا جو میں نے اول بار کہہ دیا تھا۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

73:۔ ان تینوں حادثوں میں میں نے جو کچھ کیا ہے۔ اپنی مرضی اور اختیار سے نہیں اور نہ ان باتوں کا مجھے بذات خود علم تھا بلکہ ان باتوں کا اللہ تعالیٰ نے مجھے علم دیا اور میں نے جو کچھ کیا ہے سب اللہ کے حکم سے کیا ہے۔ یہ ہے ان واقعات کی اصل حکمت اور حقیقت جس کو نہ جاننے کی وجہ سے تم صبر و ضبط سے کام نہ لے سکے۔ ” و ما فعلتہ عن امری ای عن رایی واجتھادی “ (روح ج 16 ص 14) ۔ یہ تیسرے شب ہے کا اصل جواب ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 80–82

ربط آیات : خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کے تیسرے اعتراض پر کہا (آیت) ” ھذا فراق بینی وبینک “۔ اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی ہے ، البتہ پیش آمدہ تینوں واقعات کی حقیقت میں آپ پر واضح کیے دیتا ہوں ، کشتی کے واقعہ کے متعلق فرمایا کہ وہ چند مساکین کی کشتی تھی جو کشتی کے ذریعے محنت مزدوری کرکے اپنی اور اپنے معذور بھائیوں کی پیٹ پروری کرتے تھے ، ان کی کشتی کو عیب دار بنانے کی وجہ یہ تھی کہ آگے ایک ظالم بادشاہ تھا جو تمام صحیح سلامت کشتیوں کو بیگار میں پکڑ رہا تھا تو میں نے اس کشتی کو اس لیے توڑ دیا تاکہ یہ ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ جائے اور ان مساکین کا ذریعہ روزگار برقرار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَيْنِ يَتِيْمَيْنِ فِي الْمَدِيْنَۃِ وَكَانَ تَحْتَہٗ كَنْزٌ لَّہُمَا وَكَانَ اَبُوْہُمَا صَالِحًا ۝ 0ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ يَّبْلُغَآ اَشُدَّہُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَہُمَا ۝ 0ۤۖ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّكَ۝ 0ۚ وَمَا فَعَلْتُہٗ عَنْ اَمْرِيْ ۝ 0ۭ ذٰلِكَ تَاْوِيْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَيْہِ صَبْرًا۝ 8ۭۧ يتم اليُتْمُ : انقطاع الصَّبيِّ عن أبيه قبل بلوغه، وفي سائر الحیوانات من قِبَلِ أمّه . قال تعالی: أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی[ الضحی/ 6] ، وَيَتِيماً وَأَسِيراً [ الإنسان/ 8] وجمعه : يَتَامَى. قال تعالی: وَآتُوا الْيَتامی أَمْوالَهُمْ [ النساء/ 2] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 81–88

3 ؎ رحمایسکون الحاء وقری بضھا الرحمۃ یقال (رح) رحمۃ ورحما والالف للتانیث۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَمَّا الْجِدَارُ فَکَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَۃِ وَکَانَ تَحْتَہٗ کَنْزٌلَّھُمَا وَکَانَ اَبُوْھُمَا صَالِحًا ج فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنْ یَّبْلُغَآ اَشُدَّھُمَا وَیَسْتَخْرِجَا کَنْزَھُمَا صلے ق رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ ج وَمَا فَعَلْتُہٗ عَنْ اَمْرِیْ ط ذٰلِکَ تَاْوِیْلُ مَالَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْہِ صَبْرًا۔ (الکہف : 82) (اور رہا دیوار کا معاملہ سو وہ شہر میں دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ تھا اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا، آپ کے رب نے یہ چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں، یہ تیرے رب کی عنایت سے ہوا اور یہ جو کچھ میں نے کیا اپنی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت خضر (علیہ السلام) اپنے تیسرے کام کے بارے میں وضاحت کرتے ہیں۔ حضرت خضر دیوار تعمیر کرنے کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس شہر میں یہ یتیموں کا مکان تھا جس کی دیوار گرنے ہی والی تھی۔ اس دیوار کے نیچے ایک خزانہ ہے جوان بچوں کے نیک ماں باپ نے ان کے لیے چھپا رکھا تھا۔ قریب تھا یہ دیوار گرجائے اور خزانہ لوگوں کے ہاتھ لگ جائے۔ اس لیے ہم نے یہ دیوار درست کردی ہے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! بیشک آپ کو بھوک کی حالت میں یہ مشقت اٹھانی پڑی ہے مگر تیرے رب نے یہی چاہا کہ یہ دیوار درست کردی جائے تاکہ یتیم جوان ہو کر اس خزانے کو نکال لیں۔ یہ خزانہ تیرے رب کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قراءت : شامی نے رُحُمًا پڑھا ہے اور یہ دونوں لغات ہیں۔ 82: وَاَمَّا الْجِدَارُ فَکَا نَ لِغُلٰمَیْنِ (اور پھر دیوار وہ تو دو بچوں کی تھی) اصرم، اصریم کی تھی۔ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَۃِ (جو یتیم شہر میں رہتے تھے) یہ اسی بستی کو المدینہ سے تعبیر کیا۔ وَکَانَ تَحْتَہُ کَنْزٌ لَّھُمَا (اور دیوار کے نیچے ان کا خزانہ تھا) یعنی ایک سونے کی تختی تھی جس پر یہ لکھا تھا مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جو تقدیر پر ایمان رکھتا ہے پھر غمگین ہوتا ہے نمبر 2۔ اس آدمی پر تعجب ہے جو حساب پر ایمان رکھتے ہوئے غافل ہے۔ نمبر 3۔ اس انسان پر تعجب ہے جو رزق پر ایمان رکھتا ہے پھر کس طرح تھکتا اور مشقت اٹھاتا ہے۔ نمبر 4۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

یتیم غلاموں کے نام اور خزانہ کس چیز کا تھا (82)” واما الجدار فکان لغلامین یتیمین فی المدینۃ “ ان دونوں لڑکوں کا نام اصرم اور صریم تھا۔ ” وکان تحتہ کنزلھما “ کنز کا ترجمہ و تفسیر میں آئمہ کا اختلاف ہے۔ حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سونے، چاندی کا خزانہ تھا۔ عکرمہ کا قول ہے کہ یہ مال تھا۔ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ وہ کنز کچھ صحیفوں کی شکل میں تھا جس میں علم تھا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ کنز سونے چاندی کا نہ تھا بلکہ علمی صحیفے تھے اور ابن عباس ؓ کا دوسرا قول یہ ہے کہ وہ سونے کی ایک تختی تھی جس میں تحریر تھا تعجب ہے کہ جس کا موت پر یقین ہو وہ خوش کیسے ہوتا ہے۔ تعجیب ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–82

71۔ 82:۔ جب خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم میرے ساتھ رہو گے تو تم سے میری باتوں پر صبر نہ ہو سکے گا اسی کا یہ جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہاری باتوں پر صبر کروں گا اور تمہاری کوئی بات نہ ٹالوں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎، سے جو قصہ کے شروع میں گزری اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اس وعدہ کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) اگر خضر (علیہ السلام) کی باتوں پر صبر کرکے کچھ اور خضر (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تو خوب ہوتا کیونکہ اس صورت میں اور نئی باتیں اللہ تعالیٰ اس قصہ میں ذکر فرماتا اسی سورة میں مسند امام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–82

(آیت 75) پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراض نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا، اس لئے حضرت خضر (علیہ السلام) نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا : (الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا) ” کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : (ان اسلتک عن شیء بعدھا) ” اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا “ یعنی اس مرتبہ کے بعد (فلا تصحبنی) ” تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں “ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں۔ (قد بلغت من لدنی عذرا) ” آپ میری طرف سے عذر کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 82–110

کنز کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

125 دیوار کی اصلاح و مرمت کی حکمت کا بیان : سو اس بارے حضرت خضر نے کہا کہ " وہ دیوار اس شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی۔ اور اس کے نیچے ان دونوں کا ایک خزانہ مدفون تھا۔ اور ان دونوں کا باپ ایک نیک شخص تھا "۔ ظاہر اور متبادر تو اس سے یہی ہے کہ اس باپ سے مراد ان کا حقیقی باپ تھا۔ اور اسی نے یہ خزانہ دفن کیا تھا۔ جیسا کہ بعض علماء نے کہا۔ مگر بعض روایات کے مطابق یہ شخص ان کا دور کا باپ اور ان کا جدِّ امجد تھا۔ جس کی ساتویں پشت میں یہ لڑکے پیدا ہوئے تھے۔ اور بعض میں دسویں پشت کہا گیا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی نیکی اور ان کی صالحیت ان کی اولاد کے کام آتی ہے اگرچہ اتنی دورجا کر ہو۔ (ابن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–82

قَالَ اَلَمْ (پارہ نمبر 16) سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کی جدائی تشریح : اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ کسی اجتماع میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی دوسرا شخص عالم فاضل نہیں ہوسکتا ؟ تو آپ نے سادگی یا لاعلمی میں کہہ دیا کہ ہاں مجھ سے زیادہ کوئی اور علم نہیں رکھتا۔ تو اللہ کو یہ ناگوار گزرا، اس لیے آپ کو خضر (علیہ السلام) کے پاس بھیج دیا تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ سے زیادہ علم رکھنے والا بھی موجود ہے اور پھر سب سے بڑا علیم و حکیم تو صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ جس کو جتنا علم دینا چاہے دے دیتا ہے اس میں کسی شخص کا اپنا کوئی کمال نہیں۔ اسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–82

(رکوع نمبر 11) اسرارومعارف حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا میں نے تو آپ سے پہلے کہہ دیا تھا کہ آپ برداشت نہ کر پائیں گے آپ شریعت کے محافظ جبکہ میں آپ کی شریعت کا مکلف نہیں ہوں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بھئی ٹھیک ہے ، ایک بار برداشت کرلیجئے اور مجھے دیکھ لینے دیں اگر پھر میں کوئی سوال کروں تو آپ میری راہ الگ کر دیجئے کہ اب بہت ہوچکا اور اس سے زیادہ عذر معذرت بھی مناسب نہیں ۔ (اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہیں) کسی آدمی کے غلط کام کو اس کے کشف پر محمول نہیں کیا جاسکتا کہ اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہوتے ہیں جب تک دنیا میں ہیں ، اور بعد وصال کی عام آدمی کو خبر نہیں ہوتی ، چناچہ پھر روانہ ہوئے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 81–82

ف 6 اگر بھی دیوار گر پڑتی تو دوسرے لوگ ان کا خزانہ لے اڑتے۔ 1 نبی ﷺ کا ارشاد ہے ” اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے اگر صبر کرتے تو عجیب عجیب باتیں دیکھتے۔ (بخاری مسلم) بعض آثار و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری مرتبہ حضرت موسیٰنے عمداً اعتراض کیا تاکہ ان سے جدا ہوجائیں۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:82) اشدھما۔ مضاف مضاف الیہ۔ الاشد والاشد۔ سن بلوغ۔ جوانی کی عمر پورا زور۔ بلغ فلان اشدہ وہ سن بلوغ کو پہنچا۔ وہ جوانی کی عمر تک پہنچا۔ شدودمادہ اشھما۔ اپنے سن بلوغ کو۔ یستخرجا۔ مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) تثنیہ مذکر غائب۔ اصل میں یستخرجان تھا۔ ان کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ استخراج (استفعال) مصدر، وہ دونوں نکال لیں۔ رحمۃ من ربک۔ تیرے پروردگار کی مہربانی۔ رحمۃ۔ اراد کا مفعول لہ ہے کہ ان پر رحمت کرنے کے لئے پروردگار نے چاہا کہ ان یبلغا اشدہما ویستخرجا کنزہما۔ یا یہ مصدر منصوب ہے اس صورت میں اراد بمعنی رحمہما ہے۔ عن امری۔ اپنی مرضی سے۔ اپنی رائے سے۔ ذلک۔ یعنی جو میں نے اوپر بیان کیا ہے۔ لم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 79–82

لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 82 السفینۃ کشتی، جہاز۔ یعملون وہ محنت مزدوری کرتے ہیں۔ اردت میں نے چاہا۔ اعیب عیب دار کر دوں۔ وراء پیچھے۔ غصب زبردستی۔ یرھق ڈھانپ لیتا ہے۔ زکوۃ پاکیزگی۔ کنز خزانہ، مال گڑا ہوا۔ امری میرا اختیار۔ تشریح : آیت نمبر 79 تا 82 یہ کائنات اور اس کا نظام کیا ہے ؟ وہ کس طرح چل رہا ہے کبھی یہ سوچتے ہوئے ذہن الجھ سا جاتا ہے کبھی ہم سوچتے ہیں کہ اگر ایسا ہوجاتا تو اچھا تھا لیکن زیادہ عرصہ نہیں گذرتا کہ ہر کام کی حقیقت سامنے آجاتی ہے اور اس کام میں جو حکمت و مصلحت پوشیدہ تھی اس کے کھلنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اچھا ہوا فلاں کام نہ ہو اور نہ اس سے مجھے بہت نقصان پہنچ جاتا۔ یہی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اب آگے اس لڑکے کے مار ڈالنے کا سبب بیان کیا کہ وہ لڑکا منکر ایمان و سرکش تھا کہ اس کی محبت میں آن کر اس کے ماں باپ کہیں کفر و سرکشی میں مبتلا نہ ہوجائیں، اس لئے خدا کو منظور ہوا کہ یہ مرجاوے، اور اس کے بدلے ان کو اور اولاد ملے جو تقویٰ و صلاح میں اس سے بہتر ہو، اور جو صلہ رحمی اور ماں باپ کے ساتھ سلوک کرنے میں بھی بہتر ہو۔ چناچہ اس کے بعد ان کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی جو نہایت نیک تھی، جس کے پیٹ سے ایک نبی پیدا ہوا۔ اور دیوار کا حال یہ ہے کہ وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچے خزانہ مدفون تھا اور ان کا باپ نیک مرد تھا۔ جس کی برکت سے خدا کو اس کی اولاد کے ساتھ احسان کرنا منظور تھا کہ جوان ہوکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[26] یعنی ان افعال خلاف شریعت ظاہر میں سے کوئی عمل بھی میری ذاتی رائے یا اجتہاد کا نہیں۔ سب الہامات الٰہی کے تابع ہوئے ہیں۔ [27] یہ قصہ سنانے سے کفار اور مومنین دونوں کو اس حقیقت پر متنبہ کرنا ہے کہ اس دنیا میں معاملات کی حقیقت وہی نہیں ہوا کرتی جو بظاہر دکھائی دیا کرتی ہے۔ کتنی ہی اچھائیاں ہیں جو فی الحقیقت برائیاں ہوتی ہیں اور کتنی ہی برائیاں ہیں جو فی الحقیقت اچھائیاں ہوتی ہیں۔ انسانی عقل صرف ظواہر دیکھ کر حکم لگا دیتی ہے مگر نہیں جانتی کہ ان ظواہر کی تہہ میں کیسے حقائق پوشیدہ ہیں۔ سرکشوں کے لئے اس وقت کامرانیاں ہیں اور مومنوں کے لئے محرومیاں۔ لیکن کیا فی الحقیقت سرکشوں کی کامرانیاں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 82–83

(ف 3) دیوار کے متعلق بتایا کہ اس کے خیمے یتیموں کا ایک خزانہ مخفی تھا ، اگر اس کو گرنے سے نہ بچا لیا جاتا ، تو لوگ یتیموں کے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی لوٹ لیتے اور اس طرح وہ ایک بہت ضروری اعانت سے محروم رہتے ، بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ جس طرح حضرت خضر کا الہام موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے بظاہر مخالف تھا ، اسی طرح ہو سکتا ہے کہ اولیاء اللہ کا امام طریقت ظاہری شرع کے مخالف ہو ، اور حقیقت میں دوست ہو ۔ یہ استدلال غلط ہے ، حضرت خضر (علیہ السلام) کے الہامات بالکل موسوی شریعت کے مطابق تھے ، بات صرف یہ تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دقت نظر سے کام نہیں لیا ، اور قانون کا مقصد محض یہ سمجھا کہ اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-82 اور رہی وہ دیوار سو وہ گائوں کے دو یتیم لڑکوں کی تھی جو اس قصبے میں رہتے تھے اور اس دیوار کے نیچے ان دونوں کا خزانہ دبا ہوا تھا اور ان دونوں لڑکوں کا باپ جو مرگیا تھا ایک نیک آدمی تھا، لہٰذا آپ کے پروردگار نے اپنی مہربانی سے یہ چاہا اور یہ ارادہ کیا کہ وہ دونوں یتیم لڑکے اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور خود اپنا دبا ہوا مال جو ان کو ورثہ میں ملا تھا نکال لیں اور یہ تمام کام اور ان تمام کاموں میں سے کوئی کام میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا بلکہ جو کچھ کیا وہ حضرت حق کے حکم اور الہام سے کیا ہے۔ یہ ان تمام باتوں کی صحیح حقیقت تھی جن پر آپ سے صبر نہیں ہوسکا اور آپ ان پر صبر نہیں کرسکے۔ آخر میں حضرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–83

ف 6۔ عجب نہیں کہ ان اسرار کا بتلانا اس درخواست کا پورا کرنا بھی ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تھی تعلمن مما علمت گو نمونہ ہی کے طور پر سہی۔ اور زیادہ ساتھ رہنے میں غالبا وہ مناسب موقع پر خود ہی بتلاتے اور ہر واقعہ پر بتلاتے تو یہ علم زیادہ ہوتا۔ گو یہ علم موسوی کے برابر مفید عام نہ ہو، کیونکہ قابل اتباع نہیں تاہم اس معنی کو مفید خاص ضرور ہے کہ بعض حکمتیں مفصلا منکشف ہوتی ہیں، گو اجمالی عقیدہ کہ ہر واقعہ جو مشتمل حکمتوں پر ہوتا ہے قرب کے لئے کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رہی وہ دیوار تو اس کے متعلق بھی تم سمجھ لو کہ اس کی حقیقت کیا تھی : 88۔ دیوار بلا اجرت جو بنائی گئی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بلاشبہ اس بستی کے لوگ تو اچھے نہ نکلے اور انہوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا لیکن دیوار ساری بستی والوں کی تو نہیں تھی وہ تو دو یتیم بچوں کی تھی جو بلا باپ زندگی بسر کر رہے تھے حالانکہ ان کا والد ماجد ایک نہایت نیک سیرت آدمی تھا اور یہ بات ہمارے علم میں ہے کہ اس کا خزانہ اس دیوار کے نیچے محفوظ ہے اور اگر یہ دیوار گر جاتی تو نہ معلوم اس کا کیا ہوتا اب ہم نے اس کو احسانا درست کیا ہے اور ان یتیموں کے گھر سے کھانا کھانا اور ان سے مزدوری طلب کرنا تو ظاہر ہے کہ انسانیت ہی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

About the statement: وَكَانَ تَحْتَهُ كَنزٌ لَّهُمَا (and there was beneath it a treasure for them - 82), Sayyidna Abu al-Dard' ؓ has reported from the Holy Prophet ﷺ that it was a treasure chest of gold and silver. (Narrated by Tirmidhi and a1-Hakim, from Mazhari) Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ said that it was a tablet of gold inscribed with the following good counsel. This report was also narrated by Sayyidna ` Uthman ibn ` Affan ؓ عنہ with its chain of narrators ascending to the Holy Prophet ﷺ : (Qurtubi) 1. بسم اللہ الرحمٰن الرحیم Bismillahir-Rahmanir-Rahim: With the name of Allah, the Most…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

60. In connection with this story, a very hard problem arises to which an answer must be found. Two of the three things done by Khidr are obviously against those commandments of the law which have always been in force since the creation of man. No law allows anyone the right to damage the property of another and kill an innocent person. So much so that if a man were to know by inspiration that some usurper would illegally seize a certain boat, and that a certain boy would be involved in a rebellion and unbelief, even then no law, sent down by Allah, makes it lawful that one should bore a hole…

Read the full tafseer →