Explained with ayahs 80–81
اللہ کی رضا اور انسان۔
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اس نوجوان کا نام حیثور تھا۔ حدیث میں ہے کہ اس کی جبلت میں ہی کفر تھا۔ حضرت خضر فرماتے ہیں کہ بہت ممکن تھا کہ اس بچے کی محبت اس کے ماں باپ کو بھی کفر کی طرف مائل کر دے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں اس کی پیدائش سے اس کے ماں باپ بہت خوش ہوئے تھے اور اس کی ہلاکت سے وہ بہت غمگین ہوئے حالانکہ اس کی زندگی ان کے لئے ہلاکت تھی۔ پس انسان کو چاہے کہ اللہ کی قضا پر راضی رہے۔ رب انجام کو جانتا ہے اور ہم اس سے غافل ہیں۔ مومن جو کام اپنے لئے پسند کرتا ہے، اس کی اپنی پسند سے وہ اچھا ہے جو اللہ اس کے لئے پسند فرماتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کے لئے اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
سورة الْكَهْف 59
اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔
حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔
Read the full tafseer →(آیت) فَاَرَدْنَآ اَنْ يُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّاَقْرَبَ رُحْمًا یعنی اس لئے ہم نے ارادہ کیا کہ اللہ تعالیٰ ان صالح ماں باپ کو اس لڑکے کے بدلے میں اس سے بہتر اولاد دیدے جو اعمال و اخلاق میں پاکیزہ بھی ہو اور ماں باپ کے حقوق کو بھی پورا کرے
اس واقعہ میں خَشِيْنَآ اور اَرَدْنَآ میں جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرمایا اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ ارادہ اور خشیت خضر ؑ نے اپنی اور اللہ تعالیٰ دونوں کی طرف منسوب کیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خود اپنی ہی طرف منسوب کیا ہو تو پھر اردنا کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے اللہ سے دعا کی کیونکہ کسی لڑکے کے بدلے میں اس سے بہتر اولاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
تفسیر آیات 80 تا 81: وَأَمَّا الْغُلامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا (80) فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا (81)
رُحم کے معنی رقت قلب، ہمدردی اور محبت و شفقت کے ہیں۔ خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا، یعنی طبیعت اور اخلاق کی پاکزگی کے اعتبار سے اس سے بہتر اور دردمندی اور مروت کے اعتبار سے اس سے زیادہ پاس ولحاظ والا۔
لڑکے کے قتل کی حکمت : اب یہ لڑکے کے قتل کی حکمت بتائی کہ اس کے ماں باپ مومن تھے اور یہ کفر پر اٹھنے والا تھا، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ جوان ہو کر ماں باپ کو اپنی سرکشی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
78۔ 1 حضرت خضرنے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام، یہ تیسرا موقعہ ہے کہ تو صبر نہیں کرسکا اور اب خود تیرے کہنے کے مطابق میں تجھے ساتھ رکھنے سے معذور ہوں۔
78۔ 2 لیکن جدائی سے قبل حضرت خضر نے تینوں واقعات کی حقیقت سے انھیں آگاہ اور باخبر کرنا ضروری خیال کیا تاکہ موسیٰ ؑ کسی مغالطے کا شکار نہ رہیں اور وہ یہ سمجھ لیں کہ علم نبوت اور ہے، جس سے انھیں نوازا گیا ہے اور بعض اہم امور کا علم اور ہے جو اللہ کی حکمت ومشیت کے تحت، حضرت خضر کو دیا گیا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے ایسے کام کیے جو علم شریعت کی رو سے جائز نہیں تھے اور اسی لئے حضرت موسیٰ ؑ بجا طور پر ان پر خاموش نہیں رہ سکے تھے۔ انہی اہم امور کی انجام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–81
40: مطلب یہ ہے کہ بستی والوں نے مہمانی سے تو انکار کردیا تھا، لیکن اس دیوار کی مرمت پر ان سے جائز اجرت وصول کی جاسکتی تھی، جس سے ہمارے کھانے کا بھی انتظام ہوسکتا تھا۔
Read the full tafseer →یہ دیوار جسے از سر نو کھڑا کرنے میں اس شخص نے اپنے آپ کو تھکایا اور گائوں والوں سے اس پر کوئی اجر بھی طلب نہ کیا۔ جبکہ دونوں بھوکے بھی تھے اور گائوں والوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار بھی کردیا تھا۔ اس کے نیچے خزانہ تھا اور یہ خزانہ گائوں کے دو ضعیف یتیموں کی ملکیت تھا۔ اگر یہ دیوار گر جاتی ، خزانہ ظاہر ہوجاتا تو لوگ اسے اڑا لیتے اور یہ یتیم کوئی مدافعت نہ کرسکتے چونکہ ان کا باپ صالح تھا اس لئے باپ کی نیکی نے ان بچوں کو فائدہ دیا۔ ان کی ذاتی کمزوریوں پر بھی اللہ کو رحم آیا۔ اس لئے اللہ کے حکم سے یہ دیوار تعمیر ہوئی کہ وہ ذرا مضبوط ہوجائیں اور اپنا خزانہ نکالیں اور اسے بچا بھی سکیں۔
اس…
Read the full tafseer →9 یعنی لڑکے کے مارے جانے سے اس کے والدین کا ایمان محفوظ ہوگیا اور جو صدمہ ان کو پہنچا، حق تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی تلافی ایسی اولاد سے کر دے جو اخلاق پاکیزگی میں مقتول لڑکے سے بہتر ہو، ماں باپ اس پر شفقت کریں۔ وہ ماں باپ کے ساتھ محبت و تعظیم اور حسن سلوک سے پیش آئے۔ کہتے ہیں اس کے بعد خدا تعالیٰ نے نیک لڑکی دی جو ایک نبی سے منسوب ہوئی اور ایک نبی اس سے پیدا ہوئے جس سے ایک امت چلی۔
Read the full tafseer →آیت 81 فَاَرَدْنَآ اَنْ يُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّاَقْرَبَ رُحْمًا
بچے کے والدین چونکہ نیک اور صالح لوگ تھے اس لیے ان کے رب نے چاہا کہ اس بچے کی جگہ انہیں ایک ایسا فرزند عطا فرمائے جو پاکیزہ نفسی و پرہیزگاری میں اس سے بہتر اور مروّت و دردمندی میں اس سے بڑھ کر ہو۔ چناچہ وقتی طور پر تو بچے کے فوت ہونے سے والدین پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہوگا لیکن حقیقت میں یہ سب کچھ ان کی بہتری کے لیے ہی کیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →69 چناچہ اس مقتول لڑکے کے نعم البدل کے طور پر اللہ نے انھیں جو اولاد دی وہ اللہ کی اور والدین کی بڑی فرمانبردار تھی والدین اس سے محبت کرتے تھے اور وہ والدین سے بہت محبت کرتا تھا۔ اس سلسلہ میں بھی میں نے کوئی برا کام نہیں کیا بلکہ نیک والدین کو گمراہ ہونے سے بچا لیا۔ پھر اللہ نے اس کا نعم البدل بھی انھیں عطا کرنا ان کے مقدر میں لکھ رکھا تھا۔
Read the full tafseer →122۔ (اور اس لڑکے کا ہم کام ہی تمام کردیں) (آیت) ” زکوٰۃ “۔ پاکیزگی میں یعنی دین واخلاق میں۔ اے طھارۃ من الذنوب والاخلاق الردیۃ (بیضاوی) (آیت) ” رحبا “۔ محبت کرنے میں، یعنی ماں باپ سے محبت کرنے میں۔ (آیت) ” رحما “۔ رحم سے ہے اور معنی میں زور وقوت رحمت سے زیادہ رکھتا ہے۔ رحما من الرحمۃ وھی اشد مبالغۃ من الرحمۃ (بخاری) ابوعبیدہ لغوی کا قول ہے کہ رحم رحم سے ہے جس کے معنی قرابت کے ہیں اور رحمت سے زیادہ زور دار ہے۔ جس کے معنی محض رقت قلب کے ہیں وحاصل کلامہ ان رحما من الرحم التیھی القرابۃ وھی ابلغ من الرحمۃ التیھی رقۃ القلب (فتح القدیر) اقرب رحمااے ابر لوالدیہ (ابن جریر عن قتادۃ) (آیت) ” خشینا۔۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
آیت نمبر 79 تا 82
بہرحال وہ کشتی چند یعنی دس غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں اس کشتی کو کرایہ پر چلا کر روزی کماتے تھے میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور اس کے آگے ایک کافر بادشاہ تھا جو ہر صحیح سالم کشتی کو غصب کرلیتا تھا غصبًا کا نصب اَنِ مصدریۃ کی بنا پر ہے جو کہ بیان نوعیت کے لئے ہے بہرحال لڑکا تو اس کے ماں باپ مومن تھے پس ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا ان دونوں پر سرکشی اور کفر سے چھا جائے گا مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ وہ لڑکا فطرت کفر پر پیدا کیا گیا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو یقیناً وہ اپنے والدین پر غالب آجاتا اور وہ اس سے محبت کی وجہ سے کفر میں اس کی اتباع کرتے، اس لئے ہم نے…
Read the full tafseer →فاردنا پس ہم نے چاہا۔ حضرت خضر نے جمع کا صیغہ بول کر اپنے ساتھ ارادہ کرنے میں اللہ کو شریک بنا لیا اور ظاہر ہے
کہ اللہ کے ارادے کا تعلق اللہ کے فعل سے ہوسکتا ہے لیکن خضر کے ارادے کا تعلق اللہ کے فعل سے ہوجائے یہ ناممکن ہے۔ خضر کے ارادے سے اللہ کا فعل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے ارادہ کا معنی اس جگہ حقیقی نہیں بلکہ چاہنا مراد ہے۔
ان یبدلہما ربہما کہ ان کا رب (اس لڑکے کا) عوض عطا فرما دے اوّل لڑکے کو ہلاک کرنے کی جگہ دوسرے
لڑکے کو پیدا کردینا پہلے لڑکے کے ہلاک ہونے کا عوض اور بدل تھا اور ہلاک کرنے کے مرتکب حضرت خضر تھے مگر دوسرے لڑکے کو پیدا کرنا خالص اللہ کا کام تھا اس میں حضرت خضر کے فعل کو دخل نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–82
(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
وَاَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَيْنِ۔۔ : ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے مومن بندوں کی آنے والے فتنوں سے بھی حفاظت کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) [ الحج : 38 ] ”بیشک اللہ ان لوگوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے جو ایمان لائے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واما الغلم فکان ابوہ مومنین صحیح حدیث میں ہے : ” اس پر کافر ہونے کی مہر لگائی گئی تھی “ (3) یہ اس کی تائید کرتا ہے کہ وہ بالغ نہیں تھا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اس کے متعلق خبر ہو جبکہ وہ بالغ ہو، یہ مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فخشینا ان یرھقھما بعض علماء نے فرمایا : یہ حضرت خضر (علیہ السلام) کے کلام سے ہے۔ سیاق کلام بھی اسی کی تائید کرتا ہے اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے یعنی ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ انہیں سرکشی اور کفر پر مجبور کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر (علیہ السلام) کے لیے اس جہت پر نفوس کے قتل میں اجتہاد کو مباح کردیا تھا۔ بعض علماء نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
نیکی اور بدی کے اثرات :
107:۔ ابن ابی حاتم نے شیبہ کے طریق سے سلیمان بن سلیم بن سلمہ (رح) سے روایت کیا کہ تورات شریف میں لکھا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن بندے کی وجہ سے اس کی سات نسلوں تک حفاظت فرماتا ہے اور ایک بدکار کی وجہ سے ساتھ نسلوں کو ہلاک فرماتا ہے۔
108:۔ احمد نے زہد میں وھب (رح) سے روایت کیا کہ رب تبارک وتعالیٰ نے فرمایا بعض باتوں میں جو بنی اسرائیل کو فرمائیں گئی کہ جب تو اطاعت میری کرے گا تو میں راضی ہوں گا اور جب میں راضی ہوں گا برکت دوں گا اور میری برکت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ جب تو نافرمانی کرے گا تو میں ناراض ہوں گا اور لعنت کروں گا اور میری لعنت اولاد میں ساتویں (پشت) تک…
Read the full tafseer →[فَاَرَدْنَآ : پھر ہم نے چاہا ] [ان : کہ ] [يُّبْدِلَهُمَا : بدلے میں دے ان دونوں کو ] [رَبُّهُمَا : ان کا رب ] [خَيْرًا : زیادہ اچھا ] [مِّنْهُ (رح) : اس سے ] [زَكٰوةً : بلحاظ پاکیزگی کے ] [وَّاَقْرَبَ : اور زیادہ قریب ] [رُحْمًا : بلحاظ صلہ رحمی کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
لڑکے کو کیوں قتل کیا
اب رہی لڑکے کی بات تو اس کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کافر تھا اور کفر پر ڈھال دیا گیا تھا۔ بالغ ہو کر کبھی بھی وہ مسلمان ہونے والا نہ تھا (فی صحیح مسلم و اما الغلام فطبع یوم طبع کافرا صفحہ 271 ج 2) اس کے ماں باپ کو اس سے بہت زیادہ محبت تھی، اندیشہ تھا کہ بڑا ہو کر اپنے ماں باپ کو بھی کفر پر نہ ڈال دے۔ ایسا نہ ہو کہ محبت کے جوش میں وہ اس کے کفر کے ساتھی بن جائیں۔ پیاری اولاد کا ماں باپ پر جو زور چلتا ہے اس زور کو استعمال کرکے یہ انہیں سرکش اور کافر نہ بنا دے، لہٰذا اس کو تو قتل کردیا اور اس کے بدلہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسری اولاد عطا فرما دی جو پاکیزہ ہونے کے اعتبار سے بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
بقیہ قصۂ موسیٰ (علیہ السلام) با خضر (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ۔ قال الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ذلک تا ویل ما لم تسطع علیہ صبرا
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ خضر (علیہ السلام) نے یکایک ایک معصوم اور بےگناہ بچے کو مار ڈالا تو ان سے ضبط نہ ہوسکا۔ اور بےاختیار کہہ اٹھے۔ لقد جئت شیئا نکرا۔ ( آپ (علیہ السلام) نے تو بڑی ہی بےجا اور ناپسندیدہ حرکت کی) تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے جواب میں کہا۔ اے موسیٰ کیا میں تم سے پہلے ہی اول صحبت میں یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکو گے آخر وہی ہوا جو میں نے اول بار کہہ دیا تھا۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
72:۔ یہ پہلے واقعہ کی حکمت ہے، حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا، اس کشتی کے مالک بہت غریب اور مسکین اور یہی کشتی ان کا ذریعہ معاش تھی، وقت کا بادشاہ زبردست تھا جو ہر اچھی اور بےعیب کشتی جبراً چھین لیتا تھا اس لیے میں نے اس کشتی کو توڑ کر عیب دار کردیا تاکہ بادشاہ اسے چھین نہ لے۔ ” واما الغلم الخ “ یہ دوسرے واقعہ کی حکمت ہے، یعنی میں نے اس غلام (لڑکا یا نوجوان) کو اس لیے قتل کیا کہ وہ بدکردار اور کافر ہونے والا تھا یا وہ بالفعل بدکردار اور کافر تھا لیکن اس کے والدین نیک اور صالح تھے اور مومن تھے تو ہمیں اندیشہ لاحق ہوا کہ اگر وہ زندہ رہا تو کفر اور سرکشی سے ان کو تنگ کرے گا۔ اس لیے ہم نے ارادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
ربط آیات :
خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کے تیسرے اعتراض پر کہا (آیت) ” ھذا فراق بینی وبینک “۔ اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی ہے ، البتہ پیش آمدہ تینوں واقعات کی حقیقت میں آپ پر واضح کیے دیتا ہوں ، کشتی کے واقعہ کے متعلق فرمایا کہ وہ چند مساکین کی کشتی تھی جو کشتی کے ذریعے محنت مزدوری کرکے اپنی اور اپنے معذور بھائیوں کی پیٹ پروری کرتے تھے ، ان کی کشتی کو عیب دار بنانے کی وجہ یہ تھی کہ آگے ایک ظالم بادشاہ تھا جو تمام صحیح سلامت کشتیوں کو بیگار میں پکڑ رہا تھا تو میں نے اس کشتی کو اس لیے توڑ دیا تاکہ یہ ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ جائے اور ان مساکین کا ذریعہ روزگار برقرار…
Read the full tafseer →فَاَرَدْنَآ اَنْ يُّبْدِلَہُمَا رَبُّہُمَا خَيْرًا مِّنْہُ زَكٰوۃً وَّاَقْرَبَ رُحْمًا 81
بدل
الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا أعمالا صالحة تبطل ما قدّموه من الإساءة، وقیل : هو أن يعفو تعالیٰ عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–88
3 ؎ رحمایسکون الحاء وقری بضھا الرحمۃ یقال (رح) رحمۃ ورحما والالف للتانیث۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
وَاَمَّا الْغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَآ اَنْ یُّرْھِقَھُمَا طُغْیَانًا وَّکُـفْرًا۔ فَاَرَدْنَـآ اَنْ یُّبْدِلَہُمَا رَبُّھُمَا خَیْرًا مِّنْہُ زَکٰوۃً وَّاَقْرَبَ رُحْمًا۔ (الکہف : 80، 81)
(اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ صاحب ایمان تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ بڑا ہو کر سرکشی اور ناشکری سے ان پر تعدّی نہ کرے۔ پس ہم نے چاہا کہ ان کا رب ان کو اس کی جگہ بہتر بدلہ (اولاد) عطا فرمائے پاکیزہ نفسی میں اور وہ بڑھ کر ہو مروت و دردمندی میں۔ )
زَکٰوۃ …کا معنی ہے طبیعت اور اخلاق کی پاکیزگی یعنی پاکیزہ نفسی۔
رُحْم … کا معنی ہے رقت قلب، ہمدردی اور محبت و شفقت۔
لڑکے کے قتل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، بچے کو قتل کرنے کی حکمت۔
حضرت خضر (علیہ السلام) بچے کو قتل کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ رہا بچے کو قتل کرنے کا معاملہ۔ تو میں نے اس بچے کو اس لیے قتل کیا کہ اس کے ماں باپ مومن اور نہایت ہی اچھے لوگ ہیں۔ ہم نے خطرہ جانا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر نہ صرف کفر و شرک کرے گا بلکہ اپنی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے اپنے ماں باپ کو بھی کفر اور نافرمانی پر مجبور کرے گا اس لیے میں نے اسے قتل کردیا کیونکہ ہم نے چاہا ان کا رب اس کے بدلے میں اس سے نیک، رحمدل اور شریف النفس بیٹا عطا فرمائے۔
حضرت خضر کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض امور کی حکمت کا علم دے کر کچھ ایسے کام…
Read the full tafseer →81: فَاَرَدْنَا اَنْ یُّبْدِ لَھُمَا رَبُّھَمَا (پس ہم نے چاہا کہ انکا رب اس کے عوض عنایت فرما دے)
قراءت : مدنی اور ابو عمرو نے یبدلھما پڑھا ہے۔
خَیْرًا مِّنْہُ زَکٰوۃً (جو پاکیزگی میں اس سے زیادہ بہترہو) طہارت اور گناہوں سے پاکیزگی میں وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا (اور مہربانی اور رحم کرنے کے لحاظ سے بڑا قرب رکھنے والاہو) رحم کا معنی رحمت و شفقت ہے۔
نحو : زکاۃؔ اور رُحمًاؔ ہر دو تمیز ہیں۔
تفسیری روایت ہے ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کی شادی ایک پیغمبر سے ہوئی جس سے ایک پیغمبر کی ولادت ہوئی نمبر 2۔ ستّر پیغمبروں کی پیدائش ہوئی۔ نمبر 3۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بدلے میں مومن بیٹا عنایت فرمایا جو انہی…
Read the full tafseer →(81)” فاردنا ان یبدلھما ‘ ‘ ابو جعفر، نافع اور ابو عمرد نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ اسی طرح سورة تحریم میں اور سور ۃ قلم میں اور دوسراے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور اس میں دونوں لغات جائز ہیں اور اس میں بعض حضرات نے یہ فرق بیان کیا کہ تبدیل عام ہے۔ نفس شئی کو ہی بدل دینا یا اس کی حالت کو بدل دینا دونوں کو تبدیل کہتے ہیں اور ابدال اصل شئی کو بدلنے کو کہتے ہیں۔ ” ربھما خیراً منہ زکاۃ “ اس کی اصلاح اور اس کا تقویٰ ۔
” واقرب رحما “ ابن عامر، ابو جعفرو یعقوب نے حاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرائے قراء کے نزدیک جزم پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ رحمت پر عطف ہوگا اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد رحم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
71۔ 82:۔ جب خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم میرے ساتھ رہو گے تو تم سے میری باتوں پر صبر نہ ہو سکے گا اسی کا یہ جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہاری باتوں پر صبر کروں گا اور تمہاری کوئی بات نہ ٹالوں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎، سے جو قصہ کے شروع میں گزری اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اس وعدہ کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) اگر خضر (علیہ السلام) کی باتوں پر صبر کرکے کچھ اور خضر (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تو خوب ہوتا کیونکہ اس صورت میں اور نئی باتیں اللہ تعالیٰ اس قصہ میں ذکر فرماتا اسی سورة میں مسند امام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
(آیت 75)
پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراض نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا، اس لئے حضرت خضر (علیہ السلام) نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا : (الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا) ” کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : (ان اسلتک عن شیء بعدھا) ” اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا “ یعنی اس مرتبہ کے بعد (فلا تصحبنی) ” تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں “ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں۔ (قد بلغت من لدنی عذرا) ” آپ میری طرف سے عذر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–81
قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
123 لفظ وراء کا معنیٰ و مطلب ؟ : لفظ وراء ویسے تو اضداد میں سے ہے۔ یعنی اس کے معنیٰ " اَمام " یعنی " آگے " کے بھی آتے ہیں اور " خلف " " پیچھے " کے بھی۔ (مدارک وغیرہ) ۔ مگر یہاں پر عام طور پر حضرات مفسرین کرام نے اس کو " اَمام " یعنی " آگے " کے معنیٰ میں ہی لیا ہے۔ یعنی ان مسکینوں کے آگے جدہر یہ جا رہے تھے ایک ایسا ظالم بادشاہ تھا جو اپنی کسی جنگی مہم کے لیے یا یوں ہی ظلم کی بنا پر ایسی ہر کشتی کو چھین لیتا تھا جو کہ صحیح وسالم ہوتی تھی۔ تو اس بناء پر حضرت خضر نے ان کی کشتی کا پھٹہ اکھاڑ دیا تاکہ ان کی وہ کشتی جو کہ ان مسکینوں کا واحد ذریعہ معاش تھی اس ظالم کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ اور اس طرح یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
قَالَ اَلَمْ (پارہ نمبر 16)
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کی جدائی
تشریح : اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ کسی اجتماع میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی دوسرا شخص عالم فاضل نہیں ہوسکتا ؟ تو آپ نے سادگی یا لاعلمی میں کہہ دیا کہ ہاں مجھ سے زیادہ کوئی اور علم نہیں رکھتا۔ تو اللہ کو یہ ناگوار گزرا، اس لیے آپ کو خضر (علیہ السلام) کے پاس بھیج دیا تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ سے زیادہ علم رکھنے والا بھی موجود ہے اور پھر سب سے بڑا علیم و حکیم تو صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ جس کو جتنا علم دینا چاہے دے دیتا ہے اس میں کسی شخص کا اپنا کوئی کمال نہیں۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
(رکوع نمبر 11)
اسرارومعارف
حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا میں نے تو آپ سے پہلے کہہ دیا تھا کہ آپ برداشت نہ کر پائیں گے آپ شریعت کے محافظ جبکہ میں آپ کی شریعت کا مکلف نہیں ہوں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بھئی ٹھیک ہے ، ایک بار برداشت کرلیجئے اور مجھے دیکھ لینے دیں اگر پھر میں کوئی سوال کروں تو آپ میری راہ الگ کر دیجئے کہ اب بہت ہوچکا اور اس سے زیادہ عذر معذرت بھی مناسب نہیں ۔
(اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہیں)
کسی آدمی کے غلط کام کو اس کے کشف پر محمول نہیں کیا جاسکتا کہ اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہوتے ہیں جب تک دنیا میں ہیں ، اور بعد وصال کی عام آدمی کو خبر نہیں ہوتی ، چناچہ پھر روانہ ہوئے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ف 6 اگر بھی دیوار گر پڑتی تو دوسرے لوگ ان کا خزانہ لے اڑتے۔
1 نبی ﷺ کا ارشاد ہے ” اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے اگر صبر کرتے تو عجیب عجیب باتیں دیکھتے۔ (بخاری مسلم) بعض آثار و روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری مرتبہ حضرت موسیٰنے عمداً اعتراض کیا تاکہ ان سے جدا ہوجائیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(18:81) یبدلہما۔ مضارع منصوب واحد مذکر غائب ابدالمصدر۔ ہما ضمیر مفعول تثنیہ مذکر۔ کہ وہ ان دونوں کو بدلہ میں دے دے۔ ھماضمیر مفعول اول ہے اس کے بعد ولدا (محذوف ) مفعول ثانی ہے۔ ای ان یبدلھما ربہما ولدا خیرا منہ کہ ان کا پروردگار ان کو بیٹا جو اس (پہلے جس کو قتل کیا گیا تھا) سے بہتر ہو۔
زکوۃ۔ گناہوں اور اخلاق رذیلہ سے پاکیزگی۔ رحما۔ مصدر ہے۔ رحم یرحم رحمۃ ومرحمۃ ورحما ورحما۔ مہربان ہونا۔ شفقت کرنا۔ ہر دو زکوۃ ورحمامنصوب بوجہ تمیز کے ہیں (جو پاکیزگی میں اس سے بہتر اور شفقت میں اس سے بڑھ کر ہو۔ اقرب۔ افعل التفصیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ قریب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 82
السفینۃ کشتی، جہاز۔ یعملون وہ محنت مزدوری کرتے ہیں۔ اردت میں نے چاہا۔ اعیب عیب دار کر دوں۔ وراء پیچھے۔ غصب زبردستی۔ یرھق ڈھانپ لیتا ہے۔ زکوۃ پاکیزگی۔ کنز خزانہ، مال گڑا ہوا۔ امری میرا اختیار۔
تشریح : آیت نمبر 79 تا 82
یہ کائنات اور اس کا نظام کیا ہے ؟ وہ کس طرح چل رہا ہے کبھی یہ سوچتے ہوئے ذہن الجھ سا جاتا ہے کبھی ہم سوچتے ہیں کہ اگر ایسا ہوجاتا تو اچھا تھا لیکن زیادہ عرصہ نہیں گذرتا کہ ہر کام کی حقیقت سامنے آجاتی ہے اور اس کام میں جو حکمت و مصلحت پوشیدہ تھی اس کے کھلنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اچھا ہوا فلاں کام نہ ہو اور نہ اس سے مجھے بہت نقصان پہنچ جاتا۔ یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
اس ایت کا مطلب یہ ہے کہ کشتی کا تکتہ توڑنے کا سبب حضرت خضر (علیہ السلام) نے یہ بیان کیا کہ وہ کشتی ایسے مھتاجون کی تھی جن کی گزر اسی کشتی کے کرایہ کی آمدنی پر تھی، اور دریا کے پرلے کنارے پر ایک ظالم بادشاہ تھا۔ جس کے حکم سے بادشاہی لوگ ایسی ثابت کشتیاں مفت بیگار میں پکڑ لیتے تھے۔ اس واسطے میں نے اس کشتی کا ایک تختہ توڑ کر اس کو عیب دار کردیا کہ بادشاہی لوگ اس کشتی کو نہ پکڑیں اور ان مھتاجوں کی آمدنی میں خلل نہ پڑے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ جو کوئی اس بادشاہ کی طرح کسی کا کچھ مال زبردستی چھین لے گا قیامت کے دن اس کی اسی قدر نیکیاں چھین کر مالک مال کو دے دی جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
[25] اور وہ دونوں اپنی طبعی محبت سے اس کا ساتھ بےدینی میں دینے لگیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
(ف 2) لڑکے کو اس لئے مارو ، کہ اس کے والدین نیک اور صالح تھے اس کے چال چلن اور قرائن سے معلوم ہوتا تھا ، کہ بڑا ہو کر یہ کفر وسرکشی کا پیکر ہوگا والدین کو سخت مصیبت میں ڈال دیگا ، اس لئے اس کا زندگی سے محروم ہوجانا والدین کے لئے خیرو برکت کا موجب تھا ، یہاں یہ ملحوظ رہے کہ کسی شخص کے متعلق اس نوع کا حتمی فیصلہ عام انسان نہیں کرسکتے ، حتی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی مظاہر اس واقعہ کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے ، اس کے لئے خضر (علیہ السلام) کی دور رس نگاہیں چاہئیں ، جو مستقبل کی تاریکیوں کو خیال کی روشنی میں دیکھ سکیں ،
Read the full tafseer →-8 1 لہٰذا ہم نے یہ ارادہ کیا کہ ان دونوں ماپ کا پروردگار ان کو اس لڑکے کی بجائے کوئی اور اولاد دیدے جو پاکیزگی میں اس مقتول لڑکے سے بہتر اور محبت اور شفقت میں قرب تر ہو۔ یعنی کوئی ایسی اولاد عطا کر دے جو خصائل رذیلہ اور کفر و بد دینی کی آلائشوں سے پاک ہو اور بنی نوع انسان کی ہمدرد اور شفقت و محبت کرنے والی ہو۔ یہ دونوں خوبیاں ظاہر ہے کہ مسلمان میں ہی ہوسکتی ہیں یا جس میں یہ خوبیاں ہوں وہ مسلمان ہی ہوسکتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اسی ماں باپ کے گھر پیچھے ایک بیٹی پیدا ہوئی ایک نبی سے بیاہی گئی اس سے ایک نبی پیدا ہوئے جس سے ایک امت قائم ہوئی۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
ف 6۔ عجب نہیں کہ ان اسرار کا بتلانا اس درخواست کا پورا کرنا بھی ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تھی تعلمن مما علمت گو نمونہ ہی کے طور پر سہی۔ اور زیادہ ساتھ رہنے میں غالبا وہ مناسب موقع پر خود ہی بتلاتے اور ہر واقعہ پر بتلاتے تو یہ علم زیادہ ہوتا۔ گو یہ علم موسوی کے برابر مفید عام نہ ہو، کیونکہ قابل اتباع نہیں تاہم اس معنی کو مفید خاص ضرور ہے کہ بعض حکمتیں مفصلا منکشف ہوتی ہیں، گو اجمالی عقیدہ کہ ہر واقعہ جو مشتمل حکمتوں پر ہوتا ہے قرب کے لئے کافی ہے۔
Read the full tafseer →ہماری دعا ہے کہ اللہ اس نوجوان کے والدین کو ولدصالح عطا فرمادے :
87۔ وہ نوجوان تو اپنے انجام کو پہنچ گیا اب ہم چاہتے ہیں یعنی ہماری دعا ہے کہ ان دونوں کا رب یعنی اس نوجوان کے والدین کو اللہ اس سے بہتر فرزند عطا کرے جو اچھے کام کر کے اپنی زندگی کو بھی اچھی طرح سے بسر کرے اور والدین کے لئے بھی سکون کا باعث ہو ۔ مطلب یہ ہے کہ اب ہمارا یہ خدشہ تو دور ہوا کہ اس نوجوان کے والدین کو کوئی ناگہانی آفت نہ پڑے کیونکہ ان کو وہ بیٹا جس کے باعث ان کی اپنی حالت بھی مخدوش ہوچکی تھی وہ تو اپنے انجام کو پہنچ چکا اب ہم سوائے دعا کے کیا کرسکتے ہیں ۔ (اراد یراد) چاہت ‘ خواہش یعنی ہم تو چاہتے ہیں اور ہماری خواہش…
Read the full tafseer →In verse 81, it was said: فَأَرَدْنَا أَن يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا " We, therefore, wished that their Lord would replace him with someone better than him in piety [ having good deeds and morals ] and more akin to affection [ fulfilling due rights of the parents ]."
It will be noticed that the form used in this situation is plural: خَشِينَا (we apprehended) and: أَرَدْنَا (we wished). One reason for it could be that al Khadir (علیہ السلام) attributed this apprehension and wish to himself and to Allah Ta` ala both. And it is also possible that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
59. The name of this servant has been stated to be Khidr in all the authentic books of traditions. Thus there is no reason why it should be considered at all that his name was Elijah, as some people have asserted under the influence of the Israelite traditions. Their assertion is incorrect not only because it contradicts the assertion of the Prophet (peace be upon him) but it is also absurd because Prophet Elijah (peace be upon him) was born several hundred years after Prophet Moses (peace be upon him). Though the Quran does not mention the name of the attendant of Prophet Moses (peace be…
Read the full tafseer →