Al-Kahf 18:80

Al-Kahf · from ayah 80

18:80

وَاَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّكُفْرًا ۟ۚوَاَمَّا الۡغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِيۡنَاۤ اَنۡ يُّرۡهِقَهُمَا طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا‌ۚ‏

اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And as for the boy, his parents were believers, and we feared that he would overburden them by transgression and disbelief.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 10 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:80

رہا وہ لڑکا، تو اس کے والدین مومن تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس لڑکے کے ماں باپ ایمان والے تھے۔ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں یہ انہیں اپنی سرکشی اور کفر سے عاجز وپریشان نہ کر دے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور لڑکے کا معاملہ یہ تھا کہ اس کے ماں باپ مومن تھے، اور ہمیں اس بات کا اندیشہ تھا کہ یہ لڑکا ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ ان کو سرکشی اور کفر پر چڑھاوے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ جو لڑکا تھا تو اس کے ماں باپ صاحبِ ایمان تھے پس ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ (اگر زندہ رہا تو کافر بنے گا اور) ان دونوں کو (بڑا ہو کر) سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے تو ہم ڈرے کہ وہ ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں پھنسا دے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور لڑکے کا قصہ یہ ہے کہ اس کے والدین مومن تھے۔ ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت نہ لاکھڑی کرے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ باایمان تھے۔ ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ بڑا ہو کر سرکشی و ناشکری سے ان پر تعدی نہ کرے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

رہا وہ لڑکا تو اس کا قصہ یہ تھا کہ اس کے والدین ایماندار تھے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ بڑا ہو کر ان کو بھی سرکشی اور کفر میں مبتلا نہ کردے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ جو لڑکا تھا سو اس کے ماں باپ ایمان والے تھے۔ سو ہم کو معلوم ہوا کہ وہ ان دونوں پر بھی سرکشی اور کفر کا اثر ڈال دے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

رہا وہ لڑکا تو اس کے والدین دونوں مؤمن تھے تو ہمیں خدشہ ہوا کہ وہ سرکشی اور ناشکری سے ان پر تعدی کرے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ بڑے نیک لوگ تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ بڑا ہو کر کہیں ان کو سر کشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for the lad, his parents were people of faith, and we feared lest he should plague them with transgression and disbelief,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for the boy, his parents were believers. We apprehended that he would impose rebellion and infidelity upon them.

— Muhammad Taqi Usmani

As for the boy, his parents were believers. We apprehended that he would impose rebellion and infidelity upon them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And as for the boy, his parents were believers, and we feared he would oppress them by rebellion and disbelief."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And as for the lad, his parents were believers and we feared lest he should oppress them by rebellion and disbelief.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And as for the boy, his parents were believers, and we feared that he would overburden them by transgression and disbelief.

— Saheeh International

"The young boy had very faithful parents. We were afraid that out of love for him they would lose their faith in God and commit rebellion

— Muhammad Sarwar

And as for the boy, his parents were believers and we feared lest he should make disobedience and ingratitude to come upon them:

— Muhammad Habib Shakir

And as for the boy, his parents were believers, and we apprehended that he might impose upon the twain exorbitance and infidelity.

— Abdul Majid Daryabadi

"As for the youth, his parents were people of Faith, and we feared that he would grieve them by obstinate rebellion and ingratitude (to Allah and man).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:80

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 80–81

اللہ کی رضا اور انسان۔ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اس نوجوان کا نام حیثور تھا۔ حدیث میں ہے کہ اس کی جبلت میں ہی کفر تھا۔ حضرت خضر فرماتے ہیں کہ بہت ممکن تھا کہ اس بچے کی محبت اس کے ماں باپ کو بھی کفر کی طرف مائل کر دے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں اس کی پیدائش سے اس کے ماں باپ بہت خوش ہوئے تھے اور اس کی ہلاکت سے وہ بہت غمگین ہوئے حالانکہ اس کی زندگی ان کے لئے ہلاکت تھی۔ پس انسان کو چاہے کہ اللہ کی قضا پر راضی رہے۔ رب انجام کو جانتا ہے اور ہم اس سے غافل ہیں۔ مومن جو کام اپنے لئے پسند کرتا ہے، اس کی اپنی پسند سے وہ اچھا ہے جو اللہ اس کے لئے پسند فرماتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کے لئے اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–81

سورة الْكَهْف 59 اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔ حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَاَمَّا الْغُلٰمُ یہ لڑکا جس کو حضرت خضر ؑ نے قتل کیا اس کی حقیقت یہ بیان فرمائی کہ اس لڑکے کی طبیعت میں کفر اور والدین کے خلاف سرکشی تھی والدین اس کے نیک اور صالح تھے حضرت خضر ؑ نے فرمایا کہ ہمیں خطرہ تھا کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر ان صالح ماں باپ کو ستائے گا اور تکلیف پہنچائے گا اور کفر میں مبتلا ہو کر ماں باپ کے لئے بھی ایک فتنہ بنے گا اس کی محبت میں ماں باپ کا ایمان بھی خطرے میں پڑجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 80–81

تفسیر آیات 80 تا 81: وَأَمَّا الْغُلامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا (80) فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا (81) رُحم کے معنی رقت قلب، ہمدردی اور محبت و شفقت کے ہیں۔ خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا، یعنی طبیعت اور اخلاق کی پاکزگی کے اعتبار سے اس سے بہتر اور دردمندی اور مروت کے اعتبار سے اس سے زیادہ پاس ولحاظ والا۔ لڑکے کے قتل کی حکمت : اب یہ لڑکے کے قتل کی حکمت بتائی کہ اس کے ماں باپ مومن تھے اور یہ کفر پر اٹھنے والا تھا، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ جوان ہو کر ماں باپ کو اپنی سرکشی و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 78–81

78۔ 1 حضرت خضرنے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام، یہ تیسرا موقعہ ہے کہ تو صبر نہیں کرسکا اور اب خود تیرے کہنے کے مطابق میں تجھے ساتھ رکھنے سے معذور ہوں۔ 78۔ 2 لیکن جدائی سے قبل حضرت خضر نے تینوں واقعات کی حقیقت سے انھیں آگاہ اور باخبر کرنا ضروری خیال کیا تاکہ موسیٰ ؑ کسی مغالطے کا شکار نہ رہیں اور وہ یہ سمجھ لیں کہ علم نبوت اور ہے، جس سے انھیں نوازا گیا ہے اور بعض اہم امور کا علم اور ہے جو اللہ کی حکمت ومشیت کے تحت، حضرت خضر کو دیا گیا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے ایسے کام کیے جو علم شریعت کی رو سے جائز نہیں تھے اور اسی لئے حضرت موسیٰ ؑ بجا طور پر ان پر خاموش نہیں رہ سکے تھے۔ انہی اہم امور کی انجام…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 77–81

40: مطلب یہ ہے کہ بستی والوں نے مہمانی سے تو انکار کردیا تھا، لیکن اس دیوار کی مرمت پر ان سے جائز اجرت وصول کی جاسکتی تھی، جس سے ہمارے کھانے کا بھی انتظام ہوسکتا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ لڑنا بظاہر تو قتل کے مستحق نہ تھا۔ نہ واجب القتل تھا ، لیکن مستقبل میں وہ بہت ہی خطرناک بن رہا تھا۔ سخت کافر اور حد سے تجاوز کرنے والا ہو رہا تھا۔ اس کے نفس کے اندر ان برائیوں کے بیج موجود اور بعد میں ظاہر ہونے والے تھے۔ اگر یہ زندہ رہتا تو اپنے کفر اور سرکشی کی وجہ سے والدین کی نافرمانی کرتا اور یہ والدین اس کی محبت کی وجہ سے اس کی راہ پر چلتے۔ اس لئے اللہ نے اس بندئہ صالح کو حکم دیا کہ اس لڑکے کو قتل کر دے اور اللہ اس کے والدین کو اس کے بدلے نہایت ہی صالح اولاد دے دے گا جو والدین کے ساتھ زیادہ حسن سلوک کرنے والی ہوگی۔ اگر ان امور کو انسان کے ظاہری علم ہی پر چھوڑ دیا جاتا تو انسان اس لڑکے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 گو اصل فطرت سے ہر بچہ مسلمان پیدا ہوتا ہے مگر آگے چل کر خارجی اثرات سے بچپن ہی میں بعض کی بنیاد بری پڑجاتی ہے جس کا پورا یقینی علم تو خدا تعالیٰ کو ہوتا ہے تاہم کچھ آثار اہل بصیرت کو بھی نظر آنے لگتے ہیں۔ اس لڑکے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر (علیہ السلام) کو آگاہ فرما دیا کہ اس کی بنیاد بری پڑی تھی۔ بڑا ہوتا تو موذی اور بدراہ ہوتا اور ماں باپ کو بھی اپنے ساتھ لے ڈوبتا۔ وہ اس کی محبت میں کافر بن جاتے، اس طرح لڑکے کا مارا جانا والدین کے حق میں رحمت اور ان کی حفاظت کا ذریعہ بن گیا۔ خدا کو منظور تھا کہ اس کے ماں باپ ایمان پر قائم رہیں، حکمت الٰہیہ ہوئی کہ آنے والی رکاوٹ ان کی راہ سے دور کردی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 80 وَاَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِيْنَآ اَنْ يُّرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَّكُفْرًا حضرت خضر کو اپنے خاص علم کی بنا پر معلوم ہوا ہوگا کہ اس بچے کے genes اچھے نہیں ہیں اور بڑا ہو کر اپنے والدین کے لیے سوہان روح ثابت ہوگا اور سرکشی اور ناشکری کی روش اختیار کر کے ان کو عاجز کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

68 یعنی وہ لڑکا بہت خوب صورت تھا اور مجھے اس بات کا (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) علم تھا کہ یہ گمراہی کا راستہ اختیار کرے گا اور والدین کو چونکہ اس سے بےحد محبت تھی لہذا یہ عین ممکن تھا کہ وہ اپنے ساتھ اپنے والدین کو بھی لے ڈوبے جو اللہ کے سچے فرمانبردار ہیں، لہذا اللہ تعالیٰ کی حکمت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ اس لڑکے کا کام ہی تمام کر ڈالا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

120۔ (اور مجھ کو کشف تکوینی سے یہ علم ہوا کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر کافر ہوگا) یہ علم مکاشفہ وہی ہے جس کا ذکر اوپر (آیت) ” علمنہ من لدنا علما “۔ کے تحت میں موقع مدح پر آچکا ہے۔ ملاحظہ ہو آیت نمبر 65 اور حاشیہ نمبر 98 پارہ 15۔ 121۔ (اور وہ دونوں اپنی طبعی محبت سے اس کا ساتھ بےدینی میں دینے لگیں گے) خشینا۔ خشیت یہاں خوف واندیشہ کے معنی میں نہیں علم ویقین کے معنی میں ہے۔ والخشیۃ والخوف تو جھھا العرب الی معنی الظن و توجہ ھذہ الحروف الی معنی العلم بالشیء الذی یدرک من غیر جھۃ الحس والعیان (ابن جریر) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خشیت اپنے اصلی معنی پر رہے اور حق تعالیٰ نے جب خضر (علیہ السلام) کو پوری اطلاع اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 79–82

آیت نمبر 79 تا 82 بہرحال وہ کشتی چند یعنی دس غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں اس کشتی کو کرایہ پر چلا کر روزی کماتے تھے میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور اس کے آگے ایک کافر بادشاہ تھا جو ہر صحیح سالم کشتی کو غصب کرلیتا تھا غصبًا کا نصب اَنِ مصدریۃ کی بنا پر ہے جو کہ بیان نوعیت کے لئے ہے بہرحال لڑکا تو اس کے ماں باپ مومن تھے پس ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا ان دونوں پر سرکشی اور کفر سے چھا جائے گا مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ وہ لڑکا فطرت کفر پر پیدا کیا گیا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو یقیناً وہ اپنے والدین پر غالب آجاتا اور وہ اس سے محبت کی وجہ سے کفر میں اس کی اتباع کرتے، اس لئے ہم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واما الغلم فکان ابواہ مؤمنین فخشینا ان یرہقہما طغیانا وکفرا۔ اور رہا وہ لڑکا تو اس کے ماں باپ ایمان دار تھے ہم کو اندیشہ ہوا کہ یہ ان پر سرکشی اور کفر کا اثر (نہ) ڈال دے ‘ یعنی اپنی نافرمانی اور بدسلوکی کی وجہ سے ماں باپ پر چھا جائے گا اور بےچارے والدین دکھ اور مصیبت میں پڑجائیں گے یا یہ مطلب ہے کہ ماں باپ کے ایمان کے ساتھ اپنے کفر اور طغیان کو جمع کر دے گا ایک ہی گھر میں ماں باپ کا ایمان بھی ہوگا اور بیٹے کا کفر و طغیان بھی۔ یا یہ مطلب ہے کہ ماں باپ پر ایسا غلبہ پالے گا کہ زبردستی ان کو کافر بنا دے گا ‘ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ مؤمن ماں باپ بیٹے کی محبت کی وجہ سے آئندہ گمراہ اور کافر ہوجائیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 60–82

(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 80–81

وَاَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَيْنِ۔۔ : ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے مومن بندوں کی آنے والے فتنوں سے بھی حفاظت کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) [ الحج : 38 ] ”بیشک اللہ ان لوگوں کی طرف سے دفاع کرتا ہے جو ایمان لائے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 80–81

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واما الغلم فکان ابوہ مومنین صحیح حدیث میں ہے : ” اس پر کافر ہونے کی مہر لگائی گئی تھی “ (3) یہ اس کی تائید کرتا ہے کہ وہ بالغ نہیں تھا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اس کے متعلق خبر ہو جبکہ وہ بالغ ہو، یہ مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فخشینا ان یرھقھما بعض علماء نے فرمایا : یہ حضرت خضر (علیہ السلام) کے کلام سے ہے۔ سیاق کلام بھی اسی کی تائید کرتا ہے اور اکثر مفسرین کا یہی قول ہے یعنی ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ انہیں سرکشی اور کفر پر مجبور کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر (علیہ السلام) کے لیے اس جہت پر نفوس کے قتل میں اجتہاد کو مباح کردیا تھا۔ بعض علماء نے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–82

نیکی اور بدی کے اثرات : 107:۔ ابن ابی حاتم نے شیبہ کے طریق سے سلیمان بن سلیم بن سلمہ (رح) سے روایت کیا کہ تورات شریف میں لکھا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن بندے کی وجہ سے اس کی سات نسلوں تک حفاظت فرماتا ہے اور ایک بدکار کی وجہ سے ساتھ نسلوں کو ہلاک فرماتا ہے۔ 108:۔ احمد نے زہد میں وھب (رح) سے روایت کیا کہ رب تبارک وتعالیٰ نے فرمایا بعض باتوں میں جو بنی اسرائیل کو فرمائیں گئی کہ جب تو اطاعت میری کرے گا تو میں راضی ہوں گا اور جب میں راضی ہوں گا برکت دوں گا اور میری برکت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ جب تو نافرمانی کرے گا تو میں ناراض ہوں گا اور لعنت کروں گا اور میری لعنت اولاد میں ساتویں (پشت) تک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاَمَا : اور وہ جو ] [الْغُلٰمُ : لڑکا تھا ] [فَكَان : تو تھے ] [اَبَوٰهُ : اس کے والدین ] [مُؤْمِنَيْنِ : مومن ] [فَخَشِيْنَآ : پھر ہمیں اندیشہ ہوا ] [ان : کہ ] [يُّرْهِقَهُمَا : وہ ڈال دے ان دونوں پر ] [طُغْيَانا : سرکشی ] [وَّكُفْرًا : اور ناشکری ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 80–81

لڑکے کو کیوں قتل کیا اب رہی لڑکے کی بات تو اس کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کافر تھا اور کفر پر ڈھال دیا گیا تھا۔ بالغ ہو کر کبھی بھی وہ مسلمان ہونے والا نہ تھا (فی صحیح مسلم و اما الغلام فطبع یوم طبع کافرا صفحہ 271 ج 2) اس کے ماں باپ کو اس سے بہت زیادہ محبت تھی، اندیشہ تھا کہ بڑا ہو کر اپنے ماں باپ کو بھی کفر پر نہ ڈال دے۔ ایسا نہ ہو کہ محبت کے جوش میں وہ اس کے کفر کے ساتھی بن جائیں۔ پیاری اولاد کا ماں باپ پر جو زور چلتا ہے اس زور کو استعمال کرکے یہ انہیں سرکش اور کافر نہ بنا دے، لہٰذا اس کو تو قتل کردیا اور اس کے بدلہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دوسری اولاد عطا فرما دی جو پاکیزہ ہونے کے اعتبار سے بھی اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–82

بقیہ قصۂ موسیٰ (علیہ السلام) با خضر (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ قال الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ذلک تا ویل ما لم تسطع علیہ صبرا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ خضر (علیہ السلام) نے یکایک ایک معصوم اور بےگناہ بچے کو مار ڈالا تو ان سے ضبط نہ ہوسکا۔ اور بےاختیار کہہ اٹھے۔ لقد جئت شیئا نکرا۔ ( آپ (علیہ السلام) نے تو بڑی ہی بےجا اور ناپسندیدہ حرکت کی) تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے جواب میں کہا۔ اے موسیٰ کیا میں تم سے پہلے ہی اول صحبت میں یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکو گے آخر وہی ہوا جو میں نے اول بار کہہ دیا تھا۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 79–81

72:۔ یہ پہلے واقعہ کی حکمت ہے، حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا، اس کشتی کے مالک بہت غریب اور مسکین اور یہی کشتی ان کا ذریعہ معاش تھی، وقت کا بادشاہ زبردست تھا جو ہر اچھی اور بےعیب کشتی جبراً چھین لیتا تھا اس لیے میں نے اس کشتی کو توڑ کر عیب دار کردیا تاکہ بادشاہ اسے چھین نہ لے۔ ” واما الغلم الخ “ یہ دوسرے واقعہ کی حکمت ہے، یعنی میں نے اس غلام (لڑکا یا نوجوان) کو اس لیے قتل کیا کہ وہ بدکردار اور کافر ہونے والا تھا یا وہ بالفعل بدکردار اور کافر تھا لیکن اس کے والدین نیک اور صالح تھے اور مومن تھے تو ہمیں اندیشہ لاحق ہوا کہ اگر وہ زندہ رہا تو کفر اور سرکشی سے ان کو تنگ کرے گا۔ اس لیے ہم نے ارادہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 80–82

ربط آیات : خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کے تیسرے اعتراض پر کہا (آیت) ” ھذا فراق بینی وبینک “۔ اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی ہے ، البتہ پیش آمدہ تینوں واقعات کی حقیقت میں آپ پر واضح کیے دیتا ہوں ، کشتی کے واقعہ کے متعلق فرمایا کہ وہ چند مساکین کی کشتی تھی جو کشتی کے ذریعے محنت مزدوری کرکے اپنی اور اپنے معذور بھائیوں کی پیٹ پروری کرتے تھے ، ان کی کشتی کو عیب دار بنانے کی وجہ یہ تھی کہ آگے ایک ظالم بادشاہ تھا جو تمام صحیح سلامت کشتیوں کو بیگار میں پکڑ رہا تھا تو میں نے اس کشتی کو اس لیے توڑ دیا تاکہ یہ ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ جائے اور ان مساکین کا ذریعہ روزگار برقرار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰہُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِيْنَآ اَنْ يُرْہِقَہُمَا طُغْيَانًا وَّكُفْرًا۝ 80ۚ غلم الْغُلَامُ الطّارّ «3» الشّارب . يقال : غُلَامٌ بيّن الغُلُومَةِ والغُلُومِيَّةِ. قال تعالی: أَنَّى يَكُونُ لِي غُلامٌ [ آل عمران/ 40] ، وَأَمَّا الْغُلامُ فَكانَ أَبَواهُ مُؤْمِنَيْنِ [ الكهف/ 80] ، وقال : وَأَمَّا الْجِدارُ فَكانَ لِغُلامَيْنِ [يوسف/ 19] ، وقال في قصة يوسف : هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، والجمع : غِلْمَةٌ وغِلْمَانٌ ، واغْتَلَمَ الْغُلَامُ :إذا بلغ حدّ الغلومة، ولمّا کان من بلغ هذا الحدّ كثيرا ما يغلب عليه الشّبق قيل للشّبق : غِلْمَةٌ ، واغْتَلَمَ الفحلُ. ( غ ل م )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

2 ؎ اس جملہ کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ یہ لڑکا یعنی نوجوان ناہنجار ہے، کافر بھی ہے، رہزنی بھی کرتا ہے کہیں ماں باپ اس کی محبت میں آ کر اس کا ساتھ نہ دیں اور اس کے سبب وہ بھی کفروظلم میں مبتلا نہ ہوجائیں دوسرے یہ کہ کہیں یہ ان سے کفران نعمت اور سرکشی کر کے ایذائیں نہ دے۔ اول معنی زیادہ مناسب ہیں۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 80–81

وَاَمَّا الْغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَآ اَنْ یُّرْھِقَھُمَا طُغْیَانًا وَّکُـفْرًا۔ فَاَرَدْنَـآ اَنْ یُّبْدِلَہُمَا رَبُّھُمَا خَیْرًا مِّنْہُ زَکٰوۃً وَّاَقْرَبَ رُحْمًا۔ (الکہف : 80، 81) (اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ صاحب ایمان تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ بڑا ہو کر سرکشی اور ناشکری سے ان پر تعدّی نہ کرے۔ پس ہم نے چاہا کہ ان کا رب ان کو اس کی جگہ بہتر بدلہ (اولاد) عطا فرمائے پاکیزہ نفسی میں اور وہ بڑھ کر ہو مروت و دردمندی میں۔ ) زَکٰوۃ …کا معنی ہے طبیعت اور اخلاق کی پاکیزگی یعنی پاکیزہ نفسی۔ رُحْم … کا معنی ہے رقت قلب، ہمدردی اور محبت و شفقت۔ لڑکے کے قتل کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 80–81

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، بچے کو قتل کرنے کی حکمت۔ حضرت خضر (علیہ السلام) بچے کو قتل کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ رہا بچے کو قتل کرنے کا معاملہ۔ تو میں نے اس بچے کو اس لیے قتل کیا کہ اس کے ماں باپ مومن اور نہایت ہی اچھے لوگ ہیں۔ ہم نے خطرہ جانا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر نہ صرف کفر و شرک کرے گا بلکہ اپنی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے اپنے ماں باپ کو بھی کفر اور نافرمانی پر مجبور کرے گا اس لیے میں نے اسے قتل کردیا کیونکہ ہم نے چاہا ان کا رب اس کے بدلے میں اس سے نیک، رحمدل اور شریف النفس بیٹا عطا فرمائے۔ حضرت خضر کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض امور کی حکمت کا علم دے کر کچھ ایسے کام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

80: وَاَمَّا الْغُلٰمُ فَکَانَ اَبَوٰہُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَآ اَنْ یُّرْھِقَھُمَا طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا (اور رہا وہ لڑکا تو اس کے ماں باپ ایمان دار تھے ہم کو اندیشہ ہوا کہ یہ ان پر سرکشی اور کفر کا اثرڈال دے) ہمیں خطرہ ہوا کہ وہ مومن والدین کو سرکشی سے ڈھانپ لے اور ان کی نافرمانی کر کے ان کے انعامات کا منکر ہوجائے۔ اور ان سے بدسلوکی کرے جس سے ان کو شر اور مصیبت پہنچے۔ نمبر 2۔ اپنی بیماری ان تک منتقل کر دے۔ نمبر 3۔ اپنی گمراہی سے ان کو گمراہی میں ڈال دے جس سے وہ مرتد ہوجائیں۔ یہ خضر (علیہ السلام) کا کلام ہے خضر کو اس بچے کی طرف سے یہ خطرہ محسوس ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(80)” واما الغلام فکان ابواہ مومنین فخشینا “ مجھے علم ہوا یا مجھے اندیشہ ہوا۔ ابن عباس ؓ کی قرأت میں ” واما الغلام فکان کافراً و کان ابواہ مومنین فخشینا “ پڑھتے ہیں۔ ” ان یرھقھما “ ان دونوں کو ڈھانپ دے۔ کلبی کا بیان ہے کہ ہم اس کو مکلف بنادیں۔” طغیاناً و کفراً “ سعید بن جبیر ؓ کا بیان ہے مطلب یہ ہے کہ مجھے اس بات کا اندیشہ ہوا کہ وہ لڑکا اپنے ماں باپ کو اپنی محبت میں اپنے دین کا پیروکار بنالے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–82

71۔ 82:۔ جب خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم میرے ساتھ رہو گے تو تم سے میری باتوں پر صبر نہ ہو سکے گا اسی کا یہ جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہاری باتوں پر صبر کروں گا اور تمہاری کوئی بات نہ ٹالوں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎، سے جو قصہ کے شروع میں گزری اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اس وعدہ کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) اگر خضر (علیہ السلام) کی باتوں پر صبر کرکے کچھ اور خضر (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تو خوب ہوتا کیونکہ اس صورت میں اور نئی باتیں اللہ تعالیٰ اس قصہ میں ذکر فرماتا اسی سورة میں مسند امام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–82

(آیت 75) پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراض نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا، اس لئے حضرت خضر (علیہ السلام) نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا : (الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا) ” کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : (ان اسلتک عن شیء بعدھا) ” اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا “ یعنی اس مرتبہ کے بعد (فلا تصحبنی) ” تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں “ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں۔ (قد بلغت من لدنی عذرا) ” آپ میری طرف سے عذر کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 62–81

قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 79–81

123 لفظ وراء کا معنیٰ و مطلب ؟ : لفظ وراء ویسے تو اضداد میں سے ہے۔ یعنی اس کے معنیٰ " اَمام " یعنی " آگے " کے بھی آتے ہیں اور " خلف " " پیچھے " کے بھی۔ (مدارک وغیرہ) ۔ مگر یہاں پر عام طور پر حضرات مفسرین کرام نے اس کو " اَمام " یعنی " آگے " کے معنیٰ میں ہی لیا ہے۔ یعنی ان مسکینوں کے آگے جدہر یہ جا رہے تھے ایک ایسا ظالم بادشاہ تھا جو اپنی کسی جنگی مہم کے لیے یا یوں ہی ظلم کی بنا پر ایسی ہر کشتی کو چھین لیتا تھا جو کہ صحیح وسالم ہوتی تھی۔ تو اس بناء پر حضرت خضر نے ان کی کشتی کا پھٹہ اکھاڑ دیا تاکہ ان کی وہ کشتی جو کہ ان مسکینوں کا واحد ذریعہ معاش تھی اس ظالم کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ اور اس طرح یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–82

قَالَ اَلَمْ (پارہ نمبر 16) سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کی جدائی تشریح : اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ کسی اجتماع میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی دوسرا شخص عالم فاضل نہیں ہوسکتا ؟ تو آپ نے سادگی یا لاعلمی میں کہہ دیا کہ ہاں مجھ سے زیادہ کوئی اور علم نہیں رکھتا۔ تو اللہ کو یہ ناگوار گزرا، اس لیے آپ کو خضر (علیہ السلام) کے پاس بھیج دیا تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ سے زیادہ علم رکھنے والا بھی موجود ہے اور پھر سب سے بڑا علیم و حکیم تو صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ جس کو جتنا علم دینا چاہے دے دیتا ہے اس میں کسی شخص کا اپنا کوئی کمال نہیں۔ اسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–82

(رکوع نمبر 11) اسرارومعارف حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا میں نے تو آپ سے پہلے کہہ دیا تھا کہ آپ برداشت نہ کر پائیں گے آپ شریعت کے محافظ جبکہ میں آپ کی شریعت کا مکلف نہیں ہوں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بھئی ٹھیک ہے ، ایک بار برداشت کرلیجئے اور مجھے دیکھ لینے دیں اگر پھر میں کوئی سوال کروں تو آپ میری راہ الگ کر دیجئے کہ اب بہت ہوچکا اور اس سے زیادہ عذر معذرت بھی مناسب نہیں ۔ (اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہیں) کسی آدمی کے غلط کام کو اس کے کشف پر محمول نہیں کیا جاسکتا کہ اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہوتے ہیں جب تک دنیا میں ہیں ، اور بعد وصال کی عام آدمی کو خبر نہیں ہوتی ، چناچہ پھر روانہ ہوئے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی ایسا نہ ہو کہ یہ اپنے مومن والدین کو کفر و سرکشی میں اپنے ساتھ شامل کرلے اور اس کی محبت میں وہ بھی مرتد ہوجائیں اگر یہ غلام بالغ ہو تو کافر بالغل کا قتل جائز ہے اور اگر نابالغ ہو جیسا کہ مشہور ہے تو خصر کی شریعت میں یہ جائز تھا کیونکہ جمہور کے نزدیک حضرت خضر (علیہ السلام) نبی تھے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے قتل کیا تھا جیسا کہ آخر میں وما فعلتہ عن امیر سے معلوم ہوتا ہے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:80) فخشینا۔ ماضی جمع متکلم۔ خشیۃ مصدر (باب سمع) ہم ڈرے۔ ہمیں اندیشہ ہوا الخازن میں ہے فعلمنا۔ ہمیں معلوم ہوا ان یرھقہما۔ ارھق یرھق ارھاق (افعال) مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل ان۔ ہما تثنیہ مذکر غائب۔ ارھاق اثر انداز ہونا۔ اکسانا ۔ مبتلا کرنا۔ مجبور کرنا۔ زبردستی چھا جانا۔ دشواری میں ڈالنا۔ ارھقہ ظلما ظلم میں مبتلا کرنا۔ ارھقہ اثما۔ کسی کو گناہ پر اکسانا۔ رھق وارھق (مجرد و مزید فیہ) دونوں کے ایک ہی معنی ہیں۔ قرآن مجید میں ہے وترھقہم ذلۃ (10:27) اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ اور سارھقہ صعودا۔ (74:17) ہم عنقریب اس کو عذاب سخت میں مبتلا کریں گے۔ اور ولا ترھقنی من امری عسرا (18:3) اور میرے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 79–82

لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 82 السفینۃ کشتی، جہاز۔ یعملون وہ محنت مزدوری کرتے ہیں۔ اردت میں نے چاہا۔ اعیب عیب دار کر دوں۔ وراء پیچھے۔ غصب زبردستی۔ یرھق ڈھانپ لیتا ہے۔ زکوۃ پاکیزگی۔ کنز خزانہ، مال گڑا ہوا۔ امری میرا اختیار۔ تشریح : آیت نمبر 79 تا 82 یہ کائنات اور اس کا نظام کیا ہے ؟ وہ کس طرح چل رہا ہے کبھی یہ سوچتے ہوئے ذہن الجھ سا جاتا ہے کبھی ہم سوچتے ہیں کہ اگر ایسا ہوجاتا تو اچھا تھا لیکن زیادہ عرصہ نہیں گذرتا کہ ہر کام کی حقیقت سامنے آجاتی ہے اور اس کام میں جو حکمت و مصلحت پوشیدہ تھی اس کے کھلنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اچھا ہوا فلاں کام نہ ہو اور نہ اس سے مجھے بہت نقصان پہنچ جاتا۔ یہی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 79–81

اس ایت کا مطلب یہ ہے کہ کشتی کا تکتہ توڑنے کا سبب حضرت خضر (علیہ السلام) نے یہ بیان کیا کہ وہ کشتی ایسے مھتاجون کی تھی جن کی گزر اسی کشتی کے کرایہ کی آمدنی پر تھی، اور دریا کے پرلے کنارے پر ایک ظالم بادشاہ تھا۔ جس کے حکم سے بادشاہی لوگ ایسی ثابت کشتیاں مفت بیگار میں پکڑ لیتے تھے۔ اس واسطے میں نے اس کشتی کا ایک تختہ توڑ کر اس کو عیب دار کردیا کہ بادشاہی لوگ اس کشتی کو نہ پکڑیں اور ان مھتاجوں کی آمدنی میں خلل نہ پڑے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ جو کوئی اس بادشاہ کی طرح کسی کا کچھ مال زبردستی چھین لے گا قیامت کے دن اس کی اسی قدر نیکیاں چھین کر مالک مال کو دے دی جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–81

[25] اور وہ دونوں اپنی طبعی محبت سے اس کا ساتھ بےدینی میں دینے لگیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 80–81

(ف 2) لڑکے کو اس لئے مارو ، کہ اس کے والدین نیک اور صالح تھے اس کے چال چلن اور قرائن سے معلوم ہوتا تھا ، کہ بڑا ہو کر یہ کفر وسرکشی کا پیکر ہوگا والدین کو سخت مصیبت میں ڈال دیگا ، اس لئے اس کا زندگی سے محروم ہوجانا والدین کے لئے خیرو برکت کا موجب تھا ، یہاں یہ ملحوظ رہے کہ کسی شخص کے متعلق اس نوع کا حتمی فیصلہ عام انسان نہیں کرسکتے ، حتی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی مظاہر اس واقعہ کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے ، اس کے لئے خضر (علیہ السلام) کی دور رس نگاہیں چاہئیں ، جو مستقبل کی تاریکیوں کو خیال کی روشنی میں دیکھ سکیں ،

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-80 اور رہا وہ لڑکا تو اس کا حال یہ تھا کہ اس کے ماں باپ دونوں صاحب ایمان تھے پس ہم اس بات سے ڈرے کہ کہیں یہ ماں باپ پر سرکشی اور کفر کا اثر نہ ڈال دے۔ یعنی ماں باپ ہیں مومن اور اس لڑکے سے ان کو محبت بہت ہے یہ بڑا ہو کر کافر ہوگا کہیں ایسا نہ ہو کہ جو ان ہو کر ماں باپ کو مجبور کرے ۔ چونکہ یہ بات تحقیق تھی اس لئے حضرت خضر (علیہ السلام) کو ڈر ہوا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اگر وہ بڑا ہوتا تو موذی اور بد راہ ہوتا تو اس کے ماں باپ اس کے ساتھ خراب ہوتے بعضے آدمی کو بنیاد بری پڑتی ہے اور بعضے کی بھلی جیسے ککڑی کھیرا کوئی میٹھا پڑا کوئی کڑوا اسی طرح آدمی کی بنیاد بھی اصل بہتر ہے بگڑ کر کوئی پھل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–83

ف 6۔ عجب نہیں کہ ان اسرار کا بتلانا اس درخواست کا پورا کرنا بھی ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تھی تعلمن مما علمت گو نمونہ ہی کے طور پر سہی۔ اور زیادہ ساتھ رہنے میں غالبا وہ مناسب موقع پر خود ہی بتلاتے اور ہر واقعہ پر بتلاتے تو یہ علم زیادہ ہوتا۔ گو یہ علم موسوی کے برابر مفید عام نہ ہو، کیونکہ قابل اتباع نہیں تاہم اس معنی کو مفید خاص ضرور ہے کہ بعض حکمتیں مفصلا منکشف ہوتی ہیں، گو اجمالی عقیدہ کہ ہر واقعہ جو مشتمل حکمتوں پر ہوتا ہے قرب کے لئے کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ نوجوان حکومت اور والدین کا باغی تھا اور حکومت نے اس کو اشتہاری قرار دیا ہوا تھا : 86۔ غلام کا لفظ بلاشبہ چھوٹے بچہ سے لے کر جوان بلکہ بوڑھے شخص تک بولا جاتا ہے ، اس جگہ مفسرین نے عام طور پر اس کو بچہ ہی قرار دیا ہے لیکن یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی ، موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اس کو ” نفس ذکیہ “ کہا ہے تو ظاہر ہے کہ ناواقفی کی بنا پر تھا کو ن کہ اس وقت جب وہ پکڑا گیا اور قتل کیا گیا اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو دیکھا اور ظاہر ہے کہ اس وقت تو اس نے کچھ نہیں کیا تھا جو کچھ کیا تھا وہ تو اس سے پہلے کرچکا تھا جس کی پاداش میں وہ قتل کیا گیا یہی بات صاحب موسیٰ نے کہی کہ یہ نوجوان ایسا تھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The opening sentence of verse 80: وَأَمَّا الْغُلَامُ (As for the boy) means the boy who was killed by al-Khadir (علیہ السلام) . The reality behind it, as stated by him, was that the boy was cut out for infidelity and rebellion against parents. But, his parents were pious people. Al-Khadir (علیہ السلام) said that they apprehended that, once this boy grew up, he would harass his parents and cause them pain. And when he took to infidelity as a young man, he would not only become a live trial for the parents but would also endanger the very faith of his parents because of their love for him.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–81

59. The name of this servant has been stated to be Khidr in all the authentic books of traditions. Thus there is no reason why it should be considered at all that his name was Elijah, as some people have asserted under the influence of the Israelite traditions. Their assertion is incorrect not only because it contradicts the assertion of the Prophet (peace be upon him) but it is also absurd because Prophet Elijah (peace be upon him) was born several hundred years after Prophet Moses (peace be upon him). Though the Quran does not mention the name of the attendant of Prophet Moses (peace be…

Read the full tafseer →