اللہ کی مصلحتوں کی وضاحت۔
بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کے انجام سے حضرت خضر کو مطلع کردیا تھا اور انہیں جو حکم ملا تھا حضرت موسیٰ ؑ کو اس راز کا علم نہ تھا اس لئے بظاہر اسے خلاف سمجھ کر اس پر انکار کرتے تھے لہذا حضرت خضر نے اب اصل معاملہ سمجھا دیا۔ فرمایا کہ کشتی کو عیب دار کرنے میں تو یہ مصلحت تھی کہ اگر صحیح سالم ہوتی تو آگے چل کر ایک ظالم بادشاہ تھا جو ہر ایک اچھی کشتی کو ظلما چھین لیتا تھا۔ جب اسے وہ ٹوٹی پھوٹی دیکھے گا تو چھوڑ دے گا اگر یہ ٹھیک ٹھاک اور ثابت ہوتی تو ساری کشتی ہی ان مسکینوں کے ہاتھ سے چھن جاتی اور ان کی روزی کمانے کا یہی ایک ذریعہ تھا جو بالکل جاتا رہتا۔ مروی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
سورة الْكَهْف 59
اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔
حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور وہ جو کشتی تھی سو چند غریب آدمیوں کی تھی (جو اس کے ذریعہ) دریا میں محنت مزدوری کرتے تھے (اسی پر ان کی گذر اوقات تھی) سو میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں اور (وجہ اس کی یہ تھی کہ) ان لوگوں سے آگے سے آگے کی طرف ایک (ظالم) بادشاہ تھا جو ہر (اچھی) کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا (اگر میں کشتی میں عیب ڈال کر بظاہر بیکار نہ کردیتا تو یہ کشتی بھی چھین لی جاتی اور ان غریبوں کی مزدوری کا سہارا بھی ختم ہوجاتا اس لئے توڑنے میں یہ مصلحت تھی) اور رہا وہ لڑکا سو اس کے ماں باپ ایمان دار تھے (اور اگر وہ بڑا ہوتا تو کافر ظالم ہوتا اور ماں کو اس سے محبت بہت تھی) سو ہم کو اندیشہ ہوا کہ یہ ان…
Read the full tafseer →واقعات کی حکمت : أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا (79)۔
اب یہ حضرت خضر نے حضرت موسیٰ کو اپنے ایک ایک فعل کی وہ حکمت بتائی جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ فعل کرائے۔ کشتی کے اندر چھید کرنے کی حکمت یہ بتائی کہ یہ کشتی مسکینوں کی تھی جو اسی کے ذریعہ سے دریا میں محنت مزدور کرکے اپنے پیٹ پالتے تھے۔ پرے ایک بادشاہ تھا جو علاقہ کی تمام کشتیوں کو غالباً اپنی کسی جنگی مہم کے لیے زبردستی قبضہ میں کررہا تھا۔ حضرت خضر فرماتے ہیں کہ میں نے یہ چاہا کہ مسکینوں کی اس کشتی کو عیب دار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
78۔ 1 حضرت خضرنے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام، یہ تیسرا موقعہ ہے کہ تو صبر نہیں کرسکا اور اب خود تیرے کہنے کے مطابق میں تجھے ساتھ رکھنے سے معذور ہوں۔
78۔ 2 لیکن جدائی سے قبل حضرت خضر نے تینوں واقعات کی حقیقت سے انھیں آگاہ اور باخبر کرنا ضروری خیال کیا تاکہ موسیٰ ؑ کسی مغالطے کا شکار نہ رہیں اور وہ یہ سمجھ لیں کہ علم نبوت اور ہے، جس سے انھیں نوازا گیا ہے اور بعض اہم امور کا علم اور ہے جو اللہ کی حکمت ومشیت کے تحت، حضرت خضر کو دیا گیا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے ایسے کام کیے جو علم شریعت کی رو سے جائز نہیں تھے اور اسی لئے حضرت موسیٰ ؑ بجا طور پر ان پر خاموش نہیں رہ سکے تھے۔ انہی اہم امور کی انجام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–81
40: مطلب یہ ہے کہ بستی والوں نے مہمانی سے تو انکار کردیا تھا، لیکن اس دیوار کی مرمت پر ان سے جائز اجرت وصول کی جاسکتی تھی، جس سے ہمارے کھانے کا بھی انتظام ہوسکتا تھا۔
Read the full tafseer →اور اس عیب کی وجہ سے یہ کشتی بیگار میں پکڑے جانے سے بچ گئی اور یہ عیب ایک چھوٹا نقصان تھا اور ایک بڑے نقصان سے بچنے کے لئے چھوٹا نقصان برداشت کیا جاسکتا ہے۔ اگر کشتی کو یہ تھوڑا سا نقصان نہ پہنچایا جاتا تو اس کو شدید نقصان اٹھانا پڑتا۔
Read the full tafseer →6 یعنی دریا میں محنت مزدوری کر کے پیٹ پالتے تھے۔
7 یعنی جدھر کشتی جانے والی تھی اس طرف ایک ظالم بادشاہ جو اچھی کشتی دیکھتا چھین لیتا، یا بیگار میں پکڑ لیتا تھا میں نے چاہا کہ عیب دار کر دوں، تاکہ اس ظالم کی دستبرد سے محفوظ رہے اور ٹوٹی ہوئی خراب کشتی سمجھ کر کوئی تعرض نہ کرے۔ بعض آثار میں ہے کہ خطرہ کے مقام سے آگے نکل کر پھر حضرت خضر نے کشتی اپنے ہاتھ سے درست کردی۔
Read the full tafseer →آیت 79 اَمَّا السَّفِيْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ يَعْمَلُوْنَ فِي الْبَحْرِ
وہ بہت غریب اور نادار لوگ تھے صرف وہ کشتی ہی ان کے معاش کا سہارا تھی۔ اس کے ذریعے وہ لوگوں کو دریا کے آر پار لے جاتے اور اس مزدوری سے اپنا پیٹ پالتے تھے۔
فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِيْبَهَا وَكَانَ وَرَاۗءَهُمْ مَّلِكٌ يَّاْخُذُ كُلَّ سَفِيْنَةٍ غَصْبًا
بادشاہ ہر اس کشتی کو اپنے قبضے میں لے لیتا تھا جو صحیح وسالم ہوتی تھی۔ ان نادار لوگوں کی کشتی بھی اگر بےعیب ہوتی تو بادشاہ ان سے زبردستی چھین لیتا۔ چناچہ میں نے اس کا ایک تختہ توڑ کر اسے عیب دار کردیا۔ اب جب بادشاہ اس عیب دار کشتی کو دیکھے گا تو اسے چھوڑ دے گا اور اس طرح ان…
Read the full tafseer →67 یعنی ہر اچھی کشتی کو وہ بےگار میں لے لیتا تھا اور میں نے سوچا کہ اگر یہ کشتی ان سے چھن گئی تو ان بےچاروں کا روزگار بند ہوجائے گا لہذا میں نے کشتی سے ایک تختہ توڑد یا اور وہ غصب ہونے سے بچ گئی میں نے دراصل یہ کشتی والوں سے بھلائی کی تھی۔ آخر میں نے اس میں کیا برا کیا تھا ؟
Read the full tafseer →117۔ (اس کے ذریعہ سے محنت مزدوری کرکے کچھ کما لیتے تھے) فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ آلات حرفہ وتجارت پر زکوۃ نہیں۔ چناچہ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان ملاحوں کو باوجود کشتی کے مالک ہونے کے مسکین ہی کہا۔ فقہاء مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ مسکین کا اطلاق ہر اس شخص پر جائز ہے جو اگرچہ مال رکھتا ہو مگر وہ اس کی ضروریات کے لئے کافی نہ ہو۔ وھو دلیل علی ان المسکین یطلق علی من یملک شیئا اذا لم یکفہ (بیضاوی) وفیہ دلیل علی ان المسکین وان کان یملک شیئا فلایزول عنہ اسم المسکنۃ اذا لم یعم مایملک بکفایتہ (معالم)
118۔ (آیت) ” ورآء “۔ یہاں بہ معنی امام (سامنے) کے ہے۔ اور (آیت) ” ورآء “۔ کے امام کے مترادف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
آیت نمبر 79 تا 82
بہرحال وہ کشتی چند یعنی دس غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں اس کشتی کو کرایہ پر چلا کر روزی کماتے تھے میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں اور اس کے آگے ایک کافر بادشاہ تھا جو ہر صحیح سالم کشتی کو غصب کرلیتا تھا غصبًا کا نصب اَنِ مصدریۃ کی بنا پر ہے جو کہ بیان نوعیت کے لئے ہے بہرحال لڑکا تو اس کے ماں باپ مومن تھے پس ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا ان دونوں پر سرکشی اور کفر سے چھا جائے گا مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ وہ لڑکا فطرت کفر پر پیدا کیا گیا تھا اگر وہ زندہ رہتا تو یقیناً وہ اپنے والدین پر غالب آجاتا اور وہ اس سے محبت کی وجہ سے کفر میں اس کی اتباع کرتے، اس لئے ہم نے…
Read the full tafseer →اما السفینۃ فکانت لمسکین یعملون فی البحر فاردت ان اعیبہا وکان وراۂم ملک یاخذ کل سفینۃ غصبا۔ کشتی تو تھی چند غریبوں کی جو دریا میں کمائی کرتے تھے (لوگوں کو دریائی سفر کراتے اور کرایہ
لیتے تھے) میں نے کشتی کو (توڑ کر) عیب دار کرنا چاہا (اور عیب دار کردیا) کیونکہ ان سے پرے راستہ میں) ایک بادشاہ تھا جو ہر (عمدہ سالم کشتی) کو چھین لیتا ہے۔
کعب نے کہا یہ کشتی دس غریبوں کی تھی جو بھائی بھائی تھے ‘ پانچ تو اپاہج تھے اور پانچ کام کرتے تھے۔ آیت بتارہی ہے کہ مسکین کا اطلاق اس شخص پر بھی ہوتا ہے جس کے پاس مال تو ہو مگر ناکافی ہو۔ بقدر ضرورت نہ ہو یا اصلی ضرورتوں سے زائد نہ ہو۔
ورائ سے مراد ہے سامنے جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–82
(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…
Read the full tafseer →فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ۔۔ : اس آیت میں کشتی کا مالک ہونے اور اسے کرایہ پر چلانے کے باوجود ان لوگوں کو مسکین کہا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ مسکین وہ ہے جس کی آمدنی اس کی ضروریات سے کم ہو، یعنی وہ ضرورت مند لوگ جو نہ مانگتے ہیں اور نہ کسی کو ان کی حالت کی خبر ہوتی ہے کہ ان پر صدقہ کریں۔ [ دیکھیے بخاري، الزکوٰۃ، باب قول اللہ عز و جل : (لا یسئلون الناس إلحافا۔۔) : 1479۔ مسلم : 1039، عن أبي ہریرہ ؓ ] فقیر کی حالت مسکین سے بدتر ہوتی ہے۔ ”كَانَ وَرَاۗءَهُمْ“ کا معنی ابن عباس ؓ نے ”ان کے آگے“ کیا ہے۔ [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (فلما بلغا مجمع بینھما
نسیا۔۔) : 4726 ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اما السفینۃ فکانت لمسکین یعملون فی البحر جو علماء کہتے ہیں فقیر سے مسکین بہتر حال میں ہوتا ہے انہوں نے اس آیت سے استدلالل کیا ہے، اس کا معنی سورة براءۃ میں تفصیلاً گذر چکا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ لوا تاجر تھے، لیکن چونکہ وہ مسافر تھے وہ دریا کے اوپر تھے ان کے پاس مال کم تھا اور تکلیف کو دور کرنے کی حالت میں کمزور تھے تو انہیں مساکین کہا گیا کیونکہ وہ ایسی حالت میں تھے کہ اس کے سبب ان پر شفقت کی گئی ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے تو کسی غنی شخص کے بارے میں کہتا ہے جو کسی تکلیف اور مصیبت میں واقع ہوا ہے : مسکین ہے۔ کعب وغیرہ نے کہا : یہ مساکین دس بھائی تھے جن کو کشتی باپ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
نیکی اور بدی کے اثرات :
107:۔ ابن ابی حاتم نے شیبہ کے طریق سے سلیمان بن سلیم بن سلمہ (رح) سے روایت کیا کہ تورات شریف میں لکھا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن بندے کی وجہ سے اس کی سات نسلوں تک حفاظت فرماتا ہے اور ایک بدکار کی وجہ سے ساتھ نسلوں کو ہلاک فرماتا ہے۔
108:۔ احمد نے زہد میں وھب (رح) سے روایت کیا کہ رب تبارک وتعالیٰ نے فرمایا بعض باتوں میں جو بنی اسرائیل کو فرمائیں گئی کہ جب تو اطاعت میری کرے گا تو میں راضی ہوں گا اور جب میں راضی ہوں گا برکت دوں گا اور میری برکت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ جب تو نافرمانی کرے گا تو میں ناراض ہوں گا اور لعنت کروں گا اور میری لعنت اولاد میں ساتویں (پشت) تک…
Read the full tafseer →[اَمَا : وہ جو ] [السَّفِيْنَةُ : کشتی تھی ] [فَكَانتْ : تو وہ تھی ] [لِمَسٰكِيْنَ : کچھ ایسے مسکینوں کے لئے جو ] [يَعْمَلُوْنَ : عمل (یعنی مزدوری) کرتے تھے ] [فِي الْبَحْرِ : دریا میں ] [فَاَرَدْتُّ : پس میں نے ارادہ کیا ] [ان : کہ ] [اَعِيْبَهَا : میں عیب دار کر دوں اس کو ] [وَ : اس حال میں کہ ] [كَان : تھا ] [وَرَاۗءَهُمْ : ان کے پیچھے ] [مَّلِكٌ: ایک ایسا بادشاہ جو ] [يَّاْخُذُ : پکڑتا تھا ] [كُلَّ سَفِيْنَةٍ : ہر ایک کشتی کو ] [غَصْبًا : غضب کرتے ہوئے ]
ع ی ب
[عَیْبًا : (ض) ] عیب دار ہونا۔ عیب دار کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 79
غ ص ب
[غَضْبًا : (ض) ] زبردستی چھین لینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 79
Read the full tafseer →حضرت خضر (علیہ السلام) کا تینوں باتوں کی حقیقت بتانا
حضرت خضر (علیہ السلام) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جدا کرنے لگے تو فرمایا کہ آپ کو ان باتوں کی حقیقت بتائے دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے تین کام کیے تھے جن میں سے دو تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نزدیک بہت ہی زیادہ قابل اعتراض تھے اور تیسری جو بات تھی وہ کوئی منکر نہ تھا لیکن بستی والوں نے چونکہ طلب کرنے پر بھی کھانے کو کچھ نہیں دیا اس لیے حالت اور ضرورت کے پیش نظر یوں فرما دیا کہ اگر آپ چاہتے تو ان لوگوں سے کچھ مزدوری لے لیتے جس کے ذریعہ ہم کچھ خرید کر کھالیتے۔ (فی صحیح البخاری قال سعید اجراً ناکلہ صفحہ 689…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
بقیہ قصۂ موسیٰ (علیہ السلام) با خضر (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ۔ قال الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ذلک تا ویل ما لم تسطع علیہ صبرا
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ خضر (علیہ السلام) نے یکایک ایک معصوم اور بےگناہ بچے کو مار ڈالا تو ان سے ضبط نہ ہوسکا۔ اور بےاختیار کہہ اٹھے۔ لقد جئت شیئا نکرا۔ ( آپ (علیہ السلام) نے تو بڑی ہی بےجا اور ناپسندیدہ حرکت کی) تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے جواب میں کہا۔ اے موسیٰ کیا میں تم سے پہلے ہی اول صحبت میں یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکو گے آخر وہی ہوا جو میں نے اول بار کہہ دیا تھا۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
72:۔ یہ پہلے واقعہ کی حکمت ہے، حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا، اس کشتی کے مالک بہت غریب اور مسکین اور یہی کشتی ان کا ذریعہ معاش تھی، وقت کا بادشاہ زبردست تھا جو ہر اچھی اور بےعیب کشتی جبراً چھین لیتا تھا اس لیے میں نے اس کشتی کو توڑ کر عیب دار کردیا تاکہ بادشاہ اسے چھین نہ لے۔ ” واما الغلم الخ “ یہ دوسرے واقعہ کی حکمت ہے، یعنی میں نے اس غلام (لڑکا یا نوجوان) کو اس لیے قتل کیا کہ وہ بدکردار اور کافر ہونے والا تھا یا وہ بالفعل بدکردار اور کافر تھا لیکن اس کے والدین نیک اور صالح تھے اور مومن تھے تو ہمیں اندیشہ لاحق ہوا کہ اگر وہ زندہ رہا تو کفر اور سرکشی سے ان کو تنگ کرے گا۔ اس لیے ہم نے ارادہ…
Read the full tafseer →ربط آیات :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا جو واقعہ بیان ہورہا ہے اس سے موسیٰ (علیہ السلام) کی تربیت مطلوب تھی ، اللہ تعالیٰ نے ان کی لغزش پر انہیں آزمائش میں ڈال دیا ، انہیں لمبا چوڑا سفر اختیار کرنا پڑا ، پھر خضر (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو بعض شرائط کے تھت ان کی رفاقت منظور ہوئی ، مگر موسیٰ (علیہ السلام) ان شرائط پر قائم نہ رہ سکے ، خضر (علیہ السلام) کی معیت میں تین واقعات پیش آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) وعدہ کے مطابق خاموش نہ رہ سکے انہوں نے پہلا اعتراض بھول کر کیا تھا پر دوسرا اعتراض پر خود پیش کش کی کہ اس بار درگزر کیا جائے اور اگر آئندہ اعتراض کروں تو بیشک مجھے الگ…
Read the full tafseer →اَمَّا السَّفِيْنَۃُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ يَعْمَلُوْنَ فِي الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِيْبَہَا وَكَانَ وَرَاۗءَہُمْ مَّلِكٌ يَّاْخُذُ كُلَّ سَفِيْنَۃٍ غَصْبًا 79
سفن
السَّفَنُ : نحت ظاهر الشیء، كَسَفَنَ العودَ ، والجلدَ ، وسَفَنَ الرّيح التّراب عن الأرض، قال الشاعر : فجاء خفيّا يَسْفِنُ الأرض صدره والسَّفَنُ نحو النّقض لما يُسْفَنُ ، وخصّ السَّفَنُ بجلدة قائم السّيف، وبالحدیدة التي يَسْفِنُ بها، وباعتبار السَّفْنِ سمّيت السَّفِينَةُ. قال اللہ تعالی: أَمَّا السَّفِينَةُ [ الكهف/ 79] ، ثمّ تجوّز بالسفینة، فشبّه بها كلّ مرکوب سهل .
( سن ) السفن
۔ اس کے اصل معنی چوب اور چمڑا وغیرہ کو چھیلنے…
Read the full tafseer →1 ؎ وراء کے معنی آگے کے ہیں جیسا کہ تفسیر میں حضرت علی و ابن عباس ؓ امامہم فرمایا کرتے تھے اور اس کے معنی پیچھے کے بھی ہیں، دونوں ہوسکتے ہیں۔ 12۔
Read the full tafseer →اَمَّا السَّفِیْنَۃُ فَکَانَتْ لِمَسٰکِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْر ِفَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَھَا وَکَانَ وَرَآئَ ھُمْ مَّلِکٌ یَّاْخُذُ کُلَّ سَفِیْنَۃٍ غَصْبًا۔ (الکہف : 79)
(رہی کشتی تو وہ چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں (ملاحی کا) کام کرتے تھے، میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے آگے ایک (جابر) بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی ضبط کررہا تھا۔ )
کشتی کے توڑنے کی حکمت
یعنی میں نے اس کشتی کو اس لیے توڑا تاکہ وہ ہر دیکھنے والے کی نظر میں ایک ناکارہ کشتی معلوم ہو اور یہ میں نے اس لیے کیا کہ آگے جا کے انھیں ایک ایسے ظالم حکمران سے واسطہ پڑنے والا تھا جو ہر کارآمد کشتی کو زبردستی چھین رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
ہاں جو کام میں نے سفر کے دوران کیے ہیں۔ ان کے بارے میں عرض کیے دیتا ہوں تاکہ آپ کو ان کی حکمت کا علم ہو سکے جن کے بارے میں آپ صبر نہ کرسکے۔
کشتی کا تختہ میں نے اس لیے توڑا تھا کہ ظالم بادشاہ، ملاحوں کی کشتیاں جبرًا پکڑ رہا تھا۔ میں نے کشتی کو عیب دار کیا۔ تاکہ بادشاہ کے کارندے کشتی کو غیر معیاری سمجھ کر چھوڑ دیں اس طرح ان غریبوں کی مزدوری چلتی رہے۔ ثابت ہوتا ہے کہ ظالموں، حکمرانوں کا پرانا وطیرہ ہے کہ وہ ذاتی مفاد یا کسی اجتماعی مہم کے لیے بلامعاوضہ اور بلاتمیز لوگوں کے مال پر تصرف کرتے ہیں۔ جو ہرگز جائز نہیں البتہ ہنگامی حالات اور ملکی مفاد میں کچھ وقت…
Read the full tafseer →تینوں معاملات کی حقیقت کا انکشاف :
79: اَمَّا السَّفِیْنَۃُ فَکَانَتْ لِمَسٰکِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ (اور کشتی تو چند غریبوں کی تھی جو دریا میں کمائی کرتے تھے) نمبر 1۔ وہ دس بھائی تھے جن میں پانچ اپاہج تھے اور پانچ دریا میں کام کرتے تھے۔ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَھَا (میں نے اس کو عیب دار کرنا چاہا) تاکہ عیب والی بنا دوں۔ وَکَانَ وَرَآئَ ھُمْ مَّلِکٌ (ان سے آگے ایک بادشاہ تھا) نمبر 1۔ وراء کا معنی امام ہے نمبر 2۔ پیچھے۔ ان کی واپسی کے راستہ پر وہ بادشاہ تھا اور ان کو اس کی اطلاع نہ تھی اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) کو بتلادیا۔ اور اس بادشاہ کا نام جلندی تھا۔
یَّاْخُذُ کُلَّ…
Read the full tafseer →(79)” اما السفینۃ فکانت لمسا کین یعملون فی البحر “ کعب کا بیان ہے کہ یہ کشتی دس غریبوں کی تھی جو بھائی بھائی تھے، پانچ تو اپاہج تھے اور پانچ کام کرتے تھے۔ آیات سے واضح ہوتا ہے کہ مسکین کا اطلاق اس شخص پر بھی ہوتا ہے جس کے پاس مال تو ہو مگر ناکافی ہو، بقدر ضرورت نہ ہو اصلی ضرورتوں سے زائد نہ ہو۔ وہ دریا میں کشتی کے ذریعے کمائی کرتے تھے۔ ” فاردت ان اعیبھا “ اس کو عیب دار بنادیا۔ ” وکان وراء ھم “ ان کے سامنے۔ ” ملک “ جیسا کہ کہاجاتا ہے ” من وراء ہ جھنم “ ان کے پیچھے اور بعض کے نزدیک اس کا معنی ہے آگے۔ واپسی میں اس ظالم بادشاہ کی حدود سے ان کو گزرنا تھا ۔ اول تفسیر صحیح ہے۔ حضرت ابن عباس ری اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
71۔ 82:۔ جب خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم میرے ساتھ رہو گے تو تم سے میری باتوں پر صبر نہ ہو سکے گا اسی کا یہ جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہاری باتوں پر صبر کروں گا اور تمہاری کوئی بات نہ ٹالوں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎، سے جو قصہ کے شروع میں گزری اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اس وعدہ کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) اگر خضر (علیہ السلام) کی باتوں پر صبر کرکے کچھ اور خضر (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تو خوب ہوتا کیونکہ اس صورت میں اور نئی باتیں اللہ تعالیٰ اس قصہ میں ذکر فرماتا اسی سورة میں مسند امام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
(آیت 75)
پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراض نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا، اس لئے حضرت خضر (علیہ السلام) نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا : (الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا) ” کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : (ان اسلتک عن شیء بعدھا) ” اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا “ یعنی اس مرتبہ کے بعد (فلا تصحبنی) ” تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں “ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں۔ (قد بلغت من لدنی عذرا) ” آپ میری طرف سے عذر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–81
قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
123 لفظ وراء کا معنیٰ و مطلب ؟ : لفظ وراء ویسے تو اضداد میں سے ہے۔ یعنی اس کے معنیٰ " اَمام " یعنی " آگے " کے بھی آتے ہیں اور " خلف " " پیچھے " کے بھی۔ (مدارک وغیرہ) ۔ مگر یہاں پر عام طور پر حضرات مفسرین کرام نے اس کو " اَمام " یعنی " آگے " کے معنیٰ میں ہی لیا ہے۔ یعنی ان مسکینوں کے آگے جدہر یہ جا رہے تھے ایک ایسا ظالم بادشاہ تھا جو اپنی کسی جنگی مہم کے لیے یا یوں ہی ظلم کی بنا پر ایسی ہر کشتی کو چھین لیتا تھا جو کہ صحیح وسالم ہوتی تھی۔ تو اس بناء پر حضرت خضر نے ان کی کشتی کا پھٹہ اکھاڑ دیا تاکہ ان کی وہ کشتی جو کہ ان مسکینوں کا واحد ذریعہ معاش تھی اس ظالم کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ اور اس طرح یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
قَالَ اَلَمْ (پارہ نمبر 16)
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کی جدائی
تشریح : اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ کسی اجتماع میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی دوسرا شخص عالم فاضل نہیں ہوسکتا ؟ تو آپ نے سادگی یا لاعلمی میں کہہ دیا کہ ہاں مجھ سے زیادہ کوئی اور علم نہیں رکھتا۔ تو اللہ کو یہ ناگوار گزرا، اس لیے آپ کو خضر (علیہ السلام) کے پاس بھیج دیا تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ سے زیادہ علم رکھنے والا بھی موجود ہے اور پھر سب سے بڑا علیم و حکیم تو صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ جس کو جتنا علم دینا چاہے دے دیتا ہے اس میں کسی شخص کا اپنا کوئی کمال نہیں۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
(رکوع نمبر 11)
اسرارومعارف
حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا میں نے تو آپ سے پہلے کہہ دیا تھا کہ آپ برداشت نہ کر پائیں گے آپ شریعت کے محافظ جبکہ میں آپ کی شریعت کا مکلف نہیں ہوں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بھئی ٹھیک ہے ، ایک بار برداشت کرلیجئے اور مجھے دیکھ لینے دیں اگر پھر میں کوئی سوال کروں تو آپ میری راہ الگ کر دیجئے کہ اب بہت ہوچکا اور اس سے زیادہ عذر معذرت بھی مناسب نہیں ۔
(اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہیں)
کسی آدمی کے غلط کام کو اس کے کشف پر محمول نہیں کیا جاسکتا کہ اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہوتے ہیں جب تک دنیا میں ہیں ، اور بعد وصال کی عام آدمی کو خبر نہیں ہوتی ، چناچہ پھر روانہ ہوئے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ف 3 یعنی ان کی ساری پونچی صرف یہی کشتی تھی اس کو وہ کرایہ پر چلاتے اور اپنی روزی کماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فقیر بہ نسبت مسکین کے زیادہ تلاش ہوتا ہے۔ (شوکانی)4 یعنی میں نے اس کشتی کا تختہ اس لئے نکال دیا کہ جب یہ آگے جائے تو اس ظالم بادشاہ کی دست برد سے محفوظ رہے اور اسے عیب زدہ سمجھ کر چھوڑ دے۔ معلوم ہوا کہ کسی کی خیر خواہی کے لئے اس کے مال میں بلا اجازت صرف جائز ہے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(18:79) یعلمون فی البحر۔ جو دریا میں کام کرتے تھے، یعنی جو دریا میں ملاحی کا کام کرتے تھے۔ اعیبھا۔ مضارع منصوب واحد متکلم۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ نصب بوجہ عمل ان ہے۔ (کہ ) میں اسے عیب دار کر دوں۔
سراء ہم۔ وری یری سے وراء مصدر ہے جس کے معنی حد فاصل ۔ آڑ ۔ کسی چیز کا آگے ہونا یا پیچھے ہونا۔ علاوہ ۔ سوا۔ ہونا کے ہیں۔ آگے کے معنی میں وکان وراء ہم ملک (ایت ھذا) اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا۔ پیچھے کے معنی میں۔ ارجعوا ورائکم فالتمسوا نورا (57:13) پیچھے کو لوٹ جائو اور (وہاں) نور تلاش کرو۔ آڑ کے معنی میں۔ او من وراء جدر۔ (59:14) یا دیواروں کی اوٹ میں۔ علاوہ وسوا کے معنی میں۔ فمن ابتغی وراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 82
السفینۃ کشتی، جہاز۔ یعملون وہ محنت مزدوری کرتے ہیں۔ اردت میں نے چاہا۔ اعیب عیب دار کر دوں۔ وراء پیچھے۔ غصب زبردستی۔ یرھق ڈھانپ لیتا ہے۔ زکوۃ پاکیزگی۔ کنز خزانہ، مال گڑا ہوا۔ امری میرا اختیار۔
تشریح : آیت نمبر 79 تا 82
یہ کائنات اور اس کا نظام کیا ہے ؟ وہ کس طرح چل رہا ہے کبھی یہ سوچتے ہوئے ذہن الجھ سا جاتا ہے کبھی ہم سوچتے ہیں کہ اگر ایسا ہوجاتا تو اچھا تھا لیکن زیادہ عرصہ نہیں گذرتا کہ ہر کام کی حقیقت سامنے آجاتی ہے اور اس کام میں جو حکمت و مصلحت پوشیدہ تھی اس کے کھلنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اچھا ہوا فلاں کام نہ ہو اور نہ اس سے مجھے بہت نقصان پہنچ جاتا۔ یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
اس ایت کا مطلب یہ ہے کہ کشتی کا تکتہ توڑنے کا سبب حضرت خضر (علیہ السلام) نے یہ بیان کیا کہ وہ کشتی ایسے مھتاجون کی تھی جن کی گزر اسی کشتی کے کرایہ کی آمدنی پر تھی، اور دریا کے پرلے کنارے پر ایک ظالم بادشاہ تھا۔ جس کے حکم سے بادشاہی لوگ ایسی ثابت کشتیاں مفت بیگار میں پکڑ لیتے تھے۔ اس واسطے میں نے اس کشتی کا ایک تختہ توڑ کر اس کو عیب دار کردیا کہ بادشاہی لوگ اس کشتی کو نہ پکڑیں اور ان مھتاجوں کی آمدنی میں خلل نہ پڑے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ جو کوئی اس بادشاہ کی طرح کسی کا کچھ مال زبردستی چھین لے گا قیامت کے دن اس کی اسی قدر نیکیاں چھین کر مالک مال کو دے دی جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
[24] مطلب یہ ہے کہ اگر تیسری بار مجھ سے ایسا قصور ہو تو آپ کو میرے جدا کرنے کا اختیار ہے اس صورت میں آپ معذور سمجھے جائیں گے اور مجھے آپ سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →(ف 1) حضرت خضر (علیہ السلام) نے بتایا کہ کشتی کو عیب دار کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان غریب ملاحوں کے لئے ہر حال وسیلہ روز گار بنی رہے ، ایسا نہ ہو کہ اسے کار آمد سمجھ کرلو گرشاہی اپنے لئے مخصوص کرلے ، ان مسکینوں کی گذر محض کشتی پر تھی اس وقت کا بادشاہ ظالم اور غاصب تھا ، رعایا کی ہر اچھی چیز چھنوا لیتا ، اور اپنے لئے مخصوص کرلیتا ۔
Read the full tafseer →-79 بہرحال وہ جو کشتی تھی وہ چند غریب اور مساکین لوگوں کی تھی یہ مساکین دریا میں اس کشتی سے محنت مزدوری کیا کرتے تھے میں نے یہ چاہا اور ارادہ کیا کہ اس کشتی میں کوئی عیب پیدا کر دوں کیونکہ ان کے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر بےعیب کشتی غصب کرلیا کرتا تھا اور زبردستی چھین لیا کرتا تھا۔ یعنی کشتی تھی مساکین کی اگر ظاہری طور پر ٹھیک رہتی تو ظالم بادشاہ چھین لیتا میرے عیب پیدا کردینے سے اس غاصب کے غصب سے ان کی کشتی محفوظ رہ گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
ف 6۔ عجب نہیں کہ ان اسرار کا بتلانا اس درخواست کا پورا کرنا بھی ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تھی تعلمن مما علمت گو نمونہ ہی کے طور پر سہی۔ اور زیادہ ساتھ رہنے میں غالبا وہ مناسب موقع پر خود ہی بتلاتے اور ہر واقعہ پر بتلاتے تو یہ علم زیادہ ہوتا۔ گو یہ علم موسوی کے برابر مفید عام نہ ہو، کیونکہ قابل اتباع نہیں تاہم اس معنی کو مفید خاص ضرور ہے کہ بعض حکمتیں مفصلا منکشف ہوتی ہیں، گو اجمالی عقیدہ کہ ہر واقعہ جو مشتمل حکمتوں پر ہوتا ہے قرب کے لئے کافی ہے۔
Read the full tafseer →کشتی جس کو عیب دار بنایا گیا اس کی اصلیت کیا تھی ؟
85۔ صاحب موسیٰ نے کہا کہ تفریق سے پہلے اس سفر میں جن باتوں پر آپ صبر نہ کرسکے ایک بار سن لیں ، آپ کو معلوم ہے کہ پہلا واقعہ کشتی کا تھا جس کو میں نے عیب دار بنادیا تھا اور آپ کو یہ بات بری لگی تھی اس کی اصلیت کیا تھی ؟ اس کی حقیقت یہ تھی کہ وہ کشتی چند مساکین کی ملکیت تھی جو اس دریا میں چلا کر اس کی قلیل مزدوری پر گزارہ کرتے تھے اور بڑی مشکل سے اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرتے تھے ، میں نے ان کی کشتی کو عیب دار کیا تاکہ اپنے عیب کی وجہ سے ظلما لی جانے سے بچ جائے اور اس کے ظلما لی جانے کی اصلیت یہ تھی کہ یہاں کی حکومت کے کارندوں کو کچھ…
Read the full tafseer →Commentary
In the first verse, it was said: أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ (As for the boat, it belonged to some poor people - 79). About the poor people to whom this boat belonged, it has been reported from Sayyidna Ka'b al-Ahbar ؓ that they were ten brothers. Five of them were handicapped while the other five worked hard to eke out a living for all of them by plying a boat against whatever fare they could collect.
The definition of a Miskin
A miskin has been defined as one who has nothing. But, from this verse, we learn the true definition of a miskin: Anyone who does not have…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
59. The name of this servant has been stated to be Khidr in all the authentic books of traditions. Thus there is no reason why it should be considered at all that his name was Elijah, as some people have asserted under the influence of the Israelite traditions. Their assertion is incorrect not only because it contradicts the assertion of the Prophet (peace be upon him) but it is also absurd because Prophet Elijah (peace be upon him) was born several hundred years after Prophet Moses (peace be upon him). Though the Quran does not mention the name of the attendant of Prophet Moses (peace be…
Read the full tafseer →