Explained with ayahs 77–78
ایک اور انوکھی بات۔
دو دفعہ کے اس واقعہ کے بعد پھر دونوں صاحب مل کر چلے اور ایک بستی میں پہنچے مروی ہے وہ بستی ایک تھی یہاں کے لوگ بڑے ہی بخیل تھے۔ انتہا یہ کہ دو بھوکے مسافروں کے طلب کرنے پر انہوں نے روٹی کھلانے سے بھی صاف انکار کردیا۔ وہاں دیکھتے ہیں کہ ایک دیوار گرنا ہی چاہتی ہے، جگہ چھوڑ چکی ہے، جھک پڑی ہے۔ دیوار کی طرف ارادے کی اسناد بطور استعارہ کے ہے۔ اسے دیکھتے ہی کمرکس کر لگ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے مضبوط کردیا اور بالکل درست کردیا پہلے حدیث بیان ہوچکی ہے کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے لوٹا دیا۔ زخم ٹھیک ہوگیا اور دیوار درست بن گئی۔ اس وقت پھر کلیم اللہ ؑ بول اٹھے کہ سبحان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
سورة الْكَهْف 59
اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔
حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(آیت) اَهْلَ قَرْيَـةِ بستی جس میں حضرت موسیٰ ؑ اور خضر ؑ کا گذر ہوا اور اس کے لوگوں نے ان کی مہمانی سے انکار کیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں انطاکیہ اور ابن سیرین کی روایت میں ایکہ تھی اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ وہ اندلس کی کوئی بستی تھی (مظہری) واللہ اعلم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
تفسیر ٓیات 77 تا 78: فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا (77)۔ قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا (78)
بستی والوں کا واقعہ : پھر آگے کو چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے۔ بھوکے تھے اس وجہ سے بستی والوں سے کچھ کھلانے کی فرمائش کی۔ شریف لوگ بن کہے بھی مسافروں کی میزبانی ایک سعادت سمجھتے ہیں لیکن اس بستی کے لوگ ایسے لئیم نکلے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ اور حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
78۔ 1 حضرت خضرنے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام، یہ تیسرا موقعہ ہے کہ تو صبر نہیں کرسکا اور اب خود تیرے کہنے کے مطابق میں تجھے ساتھ رکھنے سے معذور ہوں۔
78۔ 2 لیکن جدائی سے قبل حضرت خضر نے تینوں واقعات کی حقیقت سے انھیں آگاہ اور باخبر کرنا ضروری خیال کیا تاکہ موسیٰ ؑ کسی مغالطے کا شکار نہ رہیں اور وہ یہ سمجھ لیں کہ علم نبوت اور ہے، جس سے انھیں نوازا گیا ہے اور بعض اہم امور کا علم اور ہے جو اللہ کی حکمت ومشیت کے تحت، حضرت خضر کو دیا گیا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے ایسے کام کیے جو علم شریعت کی رو سے جائز نہیں تھے اور اسی لئے حضرت موسیٰ ؑ بجا طور پر ان پر خاموش نہیں رہ سکے تھے۔ انہی اہم امور کی انجام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–81
40: مطلب یہ ہے کہ بستی والوں نے مہمانی سے تو انکار کردیا تھا، لیکن اس دیوار کی مرمت پر ان سے جائز اجرت وصول کی جاسکتی تھی، جس سے ہمارے کھانے کا بھی انتظام ہوسکتا تھا۔
Read the full tafseer →یہاں تک حضرت موسیٰ اور ہم جو قرآن پڑھتے ہیں ، یہ حیران کن واقعات دیکھتے چلے آئے ہیں۔ یہ عجیب واقعات ہیں۔ ہم ان کے راز کو نہیں جانتے۔ لیکن ان کے بارے میں ہر قاری قرآن کی رائے دہی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہے بلکہ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ شخص ہے کون جو اس قسم کے عجیب اقدامات کر رہا ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے ہمیں اس کا نام بھی نہیں بتایا۔ نام تو قرآن نے اس لئے نہیں بتایا کہ اس عجیب اور حیرت انگیز قصے ، کی فضا مزید حیران کن ہوجائے بلکہ نام کے اظہار کی یہاں اہمیت ہی نہیں ہے بلکہ اصل اہمیت کی ہے کہ اس کائنات میں ان واقعات کی پشت پر جو حکمت ہے وہ معلوم ہوجائے اور بظاہر جو تصرفات عجیب…
Read the full tafseer →5 یعنی حسب و عدہ اب مجھ سے علیحدہ ہوجائیے، آپ کا نباہ میرے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ لیکن جدا ہونے سے پہلے چاہتا ہوں کہ ان واقعات کے پوشیدہ اسرار کھول دوں۔ جن کے چکر میں پڑ کر آپ صبر و ضبط کی شان قائم نہ رکھ سکے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اس مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جان کر پوچھا رخصت ہونے کو۔ سمجھ لیا کہ یہ علم میرے ڈھب کا نہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا علم وہ تھا جس کی خلقت پیروی کرے تو ان کا بھلا ہو۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کا علم وہ تھا کہ دوسروں سے اس کی پیروی بن نہ آوے۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
آیت 77 فَانْطَلَقَا ۪حَتّٰٓي اِذَآ اَتَيَآ اَهْلَ قَرْيَـةِۨ اسْـتَطْعَمَآ اَهْلَهَا
کہ ہم مسافر ہیں بھوکے ہیں ہمیں کھانا چاہیے۔
فَاَبَوْا اَنْ يُّضَيِّفُوْهُمَا
اس بستی کے باشندے کچھ ایسے کٹھور دل تھے کہ پوری بستی میں سے کسی ایک شخص نے بھی انہیں کھانا کھلانے کی حامی نہ بھری۔
قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ اَجْرًا
یہ ایسے ناہنجار لوگ ہیں کہ انہوں نے ہمیں کھانا تک کھلانے سے انکار کردیا تھا اور آپ نے بغیر کسی معاوضے کے ان کی دیوار مرمت کردی ہے۔ بہتر ہوتا اگر آپ اس کام کی کچھ اجرت طلب کرتے اور اس کے عوض ہم کھانا ہی کھالیتے۔
Read the full tafseer →66 دنیا کے حادثات کی ظاہری شکل اور ہے اور حقیقت اور ہے :۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے سیدنا خضر کی ہمراہی کے دوران جو واقعات پیش آئے۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ کو اپنے کارخانہ مشیئت کا پردہ اٹھا کر ذرا اس کی ایک جھلک دکھائی تھی تاکہ انھیں معلوم ہوجائے کہ اس دنیا میں جو کچھ شب و روز ہو رہا ہے وہ کیسے اور کن مصلحتوں کے تحت ہو رہا ہے اور کس طرح واقعات کی ظاہری شکل و صورت اصل حقیقت سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ ایک عام انسان جب یہ دیکھتا ہے کہ ظالموں اور نافرمانوں پر اللہ کے انعامات کی بارش ہو رہی ہے اور اللہ کے فرمانبرداروں پر سختیاں اور شدائد کا ہجوم ہے ظالم مسلسل ظلم کرتے جارہے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →115۔ (جیسا کہ آپ خودہی طے کرچکے ہیں) مرشد تھانوی (رح) نے اس سے استنباط کیا کہ جب مرید سے خلاف ونزاع بار بار ظاہر ہونے لگے اور مرشد کو امید اس سے مناسبت وموافقت کی نہ باقی رہ جائے تو اسے جدا کردینا درست ہے۔
116۔ اس قصہ سے بعض کو دھوکا ہوگیا ہے کہ علم باطن علم شریعت سے افضل ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ علم باطن کے دو شعبہ ہیں۔ علم مرضیات الہی جو متعلق بالنفس ہیں اور علم اسرار کونیہ۔ پہلا تو شریعت کا ایک جزء ہے اور جزء کبھی کل سے افضل نہیں ہوسکتا اور دوسرا چونکہ قرب الہی میں میں کچھ دخل نہیں رکھتا اس لئے افضلیت کا احتمال بھی نہیں۔ دوسرا دھوکا یہ ہے کہ خضر (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) سے افضل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–78
آیت نمبر 72 تا 78
ترجمہ : حضرت خضر نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکو گے تو موسیٰ نے کہا میری بھول چوک پر مجھ سے مواخذہ نہ فرمائیں یعنی مجھ سے آپ کی فرمانبرداری میں اور آپ پر اعتراض کو ترک کرنے میں غفلت ہوگئی اور آپ مجھ پر میرے معاملہ میں تنگی نہ ڈالیں یعنی کلفت میں مبتلا نہ کریں اور آپ اپنے ساتھ میری مصاحبت کے معاملہ میں دشواری پیدا نہ کیجئے یعنی میرے ساتھ درگذر اور سہولت کا معاملہ کیجئے پھر دونوں کشتی سے اترنے کے بعد پا پیادہ چلے یہاں تک کہ جب دونوں کی ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی جو کہ ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچا تھا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور ان میں سب سے…
Read the full tafseer →قال ہذا فراق بینی وبینک خضر نے کہا یہ (تیسرا اعتراض) میرے اور آپ کے درمیان جدائی (کا
سبب) ہے۔
تیسرے اعتراض میں خواہش نفس کا کسی قدر دخل تھا جو سابق دونوں اعتراضوں میں نہ تھا اس لئے حضرت خضر نے تیسرے اعتراض کو موجب فراق قرار دیا۔ 1 [1 بعض غالی صوفیا نے بھی یہی کہا ہے حضرت مفسر نے انہی کا اتباع کیا اور طلب اجرت کو خواہش نفس کی آمیزش قرار دیا ‘ لیکن صاحب کتاب جلیل القدر
معصوم پیغمبر کی شان میں یہ غلط فہمی سوء ادب ہے۔ بعض اہل تفسیر کو بھی حضرت ابن عباس کے ایک اثر کی بنا پر یہ غلط فہمی ہوئی ہے اور تیسرے سوال میں انہوں نے حضرت موسیٰ : ( علیہ السلام) کی خواہش نفس کا دخل قرار دیا ہے۔ مگر صاحب روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–82
(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…
Read the full tafseer →ھٰذَا فِرَاقُ : اس پر اصل میں تنوین تھی، پھر تخفیف کے لیے مضاف کردیا۔
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 13 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سانبئک بتاویل مالم تستطع علیہ صبراً کسی چیز کی تاویل کا مطلب ہے اس کا انجام یعنی حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ سے کہا : میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جو کچھ میں نے کیا ہے کیوں کیا ہے ؟ ان آیات کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر حجت ہیں نہ کہ ان کے لیے تعجب ہیں، یہ اس طرح ہے کہ جب کشتی کے پھاڑنے پر انکار کیا تو آواز دی گئی : اے موسیٰ ! یہ تیری تدبیر کہاں تھی جب تو تابوت میں تھا اور تجھے دریا میں ڈالا گیا تھا، پھر جب لڑکے کے مسئلہ پر انکار کیا تو ارشاد ہوا : یہ تیرا انکار کہاں تھا تو نے جب قبطی کو مارا تھا اور اسے موت کے گھاٹ اتار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
نیکی اور بدی کے اثرات :
107:۔ ابن ابی حاتم نے شیبہ کے طریق سے سلیمان بن سلیم بن سلمہ (رح) سے روایت کیا کہ تورات شریف میں لکھا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن بندے کی وجہ سے اس کی سات نسلوں تک حفاظت فرماتا ہے اور ایک بدکار کی وجہ سے ساتھ نسلوں کو ہلاک فرماتا ہے۔
108:۔ احمد نے زہد میں وھب (رح) سے روایت کیا کہ رب تبارک وتعالیٰ نے فرمایا بعض باتوں میں جو بنی اسرائیل کو فرمائیں گئی کہ جب تو اطاعت میری کرے گا تو میں راضی ہوں گا اور جب میں راضی ہوں گا برکت دوں گا اور میری برکت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ جب تو نافرمانی کرے گا تو میں ناراض ہوں گا اور لعنت کروں گا اور میری لعنت اولاد میں ساتویں (پشت) تک…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں نے کہا ] [ھٰذَا : یہ ] [فِرَاقُ بَيْنِيْ وَبَيْنِكَ : آپ (علیہ السلام) کے درمیان اور میرے درمیان کی جدائی ہے ] [سَانبِئُكَ : میں بتادوں گا آپ (علیہ السلام) کو ] [بِتَاْوِيْلِ مَا : اس کی تعبیر ] [لَمْ تَسْتَطِعْ : آپ (علیہ السلام) نے صلاحیت نہیں رکھی ] [عَلَيْهِ : جس پر ] [صَبْرًا : صبر کرنے کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ
مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
بقیہ قصۂ موسیٰ (علیہ السلام) با خضر (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ۔ قال الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ذلک تا ویل ما لم تسطع علیہ صبرا
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ خضر (علیہ السلام) نے یکایک ایک معصوم اور بےگناہ بچے کو مار ڈالا تو ان سے ضبط نہ ہوسکا۔ اور بےاختیار کہہ اٹھے۔ لقد جئت شیئا نکرا۔ ( آپ (علیہ السلام) نے تو بڑی ہی بےجا اور ناپسندیدہ حرکت کی) تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے جواب میں کہا۔ اے موسیٰ کیا میں تم سے پہلے ہی اول صحبت میں یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکو گے آخر وہی ہوا جو میں نے اول بار کہہ دیا تھا۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
71:۔ یہ تیسرا واقعہ ہے، دونوں ایک گاؤں میں پہنچے، بھوک لگ چکی تھی اس لیے گاؤں والوں سے کھانا طلب کیا مگر انہوں نے کھانا کھلانے سے انکار کردیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو بہت پرانی تھی اور ایک طرف جھکی ہوئی تھی گویا کہ گرنا چاہتی ہے حضرت (علیہ السلام) نے وہ دیوار درست کردی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں خیال آیا کہ گاؤں والوں نے کھانا تو ان کو کھلایا نہیں، دیوار بنانے کی مزدوری ہی لے لی ہوتی، یہ بات انہوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے کہہ دی۔ اس پر انہوں نے کہا بس اب میری اور تمہاری جدائی کا وقت آگیا ہے اور اب میں تمہیں بتاؤں گا کہ ان تینوں واقعات کی حقیقت کیا جس کو نہ جاننے کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–78
ربط آیات :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی علمیت کے معاملہ میں ذرا سی لغزش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا ، اللہ نے فرمایا کہ تجھ سے زیادہ عالم ہمارا ایک بندہ ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے ملاقات کی خواہش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فلاں سمت سفر اختیار کرو ہمارا وہ بندہ تمہیں مجمع البحرین کے قریب مل جائے گا ، اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر فرمایا کہ جہاں تمہاری تلی ہوئی مچھلی گم ہوجائے گی ، ہمارا وہ خاص بندہ اسی مقام پر مل جائے گا بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم یوشع بن نون (علیہ السلام) کے ہمراہ سفر کیا ، جہاں پر مچھلی گم ہوئی تھی وہیں پر اللہ کے خاص بندے حضرت…
Read the full tafseer →قَالَ ھٰذَا فِرَاقُ بَيْنِيْ وَبَيْنِكَ 0ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِيْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَيْہِ صَبْرًا 78
فرق
الفَرْقُ يقارب الفلق لکن الفلق يقال اعتبارا بالانشقاق، والفرق يقال اعتبارا بالانفصال . قال تعالی: وَإِذْ فَرَقْنا بِكُمُ الْبَحْرَ [ البقرة/ 50] ، والفِرْقُ : القطعة المنفصلة، ومنه : الفِرْقَةُ للجماعة المتفرّدة من النّاس، وقیل : فَرَقُ الصّبح، وفلق الصّبح . قال : فَانْفَلَقَ فَكانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ [ الشعراء/ 63] ،
(ر ق ) الفرق
والفلق کے قریب ایک ہی معنی ہیں لیکن معنی انشقاق یعنی پھٹ جانا کے لحاظ سے فلق کا لفظ بولا جاتا ہے اور مغی انفعال یعنی الگ الگ ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–78
ترکیب : عن ‘ یسئلونک سے متعلق ذکرا ‘ اتلوا کا مفعول، مکنا مفعول امرہ محذوف وجدھا جواب ہے اذابلغ کا تغرب جملہ حال ہے ضمیر وجدھا سے یا مفعول وجد حمئۃ ذات حمات۔ الحمات الطین الاسودوقرآء ابن عامر و حمزۃ حامیۃ اے حارۃ اما تخیر کے لیے جزاء کو حمزہ کسائی خفص بالنصف والتنوین پڑھتے ہیں اور باقی بالرفع والاضافۃ۔ اول تقدیر پر فلہ الحسنی جزاء ً ً جیسا کہ کہتے ہیں لک ھذا الثوب ہبۃ دوسری صورت میں الحسنی کا موصوف الفعلہ مقدر مانا جائے گا یا المثوبۃ پس جزاء موصوف ہوگی المثوبۃ الحسنیٰ کی واضافۃ الموصوف الی الصفۃ کثیر۔
تفسیر …ذوالقرنین کال اور اس کا سفر : یہ تیسرا قصہ ذوالقرنین کا ہے جو اہل کتاب کے کہنے سے…
Read the full tafseer →قَالَ ھٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَبَیْنِکَ ج سَاُنَبِّئُکَ بِتَاْوِیْلِ مَالَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْہِ صَبْرًا (الکہف : 78)
(حضرت خضر نے کہا بس اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی کا وقت آگیا ہے، اب میں آپ ( علیہ السلام) کو ان باتوں کی حقیقت بتائوں گا جن پر آپ ( علیہ السلام) صبر نہ کرسکے۔ )
حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات سنی تو کہا کہ جناب حجت تمام ہوچکی۔ آپ ( علیہ السلام) نے مجھے حق دیا تھا کہ اگر آپ ( علیہ السلام) میری کسی بات پر اب کوئی سوال کریں تو میں اپنی مصاحبت سے الگ کردوں۔ چناچہ اب میں آپ ( علیہ السلام) سے کہتا ہوں کہ اب ہماری جدائی کا وقت آگیا ہے اور اب میں آپ (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
ہاں جو کام میں نے سفر کے دوران کیے ہیں۔ ان کے بارے میں عرض کیے دیتا ہوں تاکہ آپ کو ان کی حکمت کا علم ہو سکے جن کے بارے میں آپ صبر نہ کرسکے۔
کشتی کا تختہ میں نے اس لیے توڑا تھا کہ ظالم بادشاہ، ملاحوں کی کشتیاں جبرًا پکڑ رہا تھا۔ میں نے کشتی کو عیب دار کیا۔ تاکہ بادشاہ کے کارندے کشتی کو غیر معیاری سمجھ کر چھوڑ دیں اس طرح ان غریبوں کی مزدوری چلتی رہے۔ ثابت ہوتا ہے کہ ظالموں، حکمرانوں کا پرانا وطیرہ ہے کہ وہ ذاتی مفاد یا کسی اجتماعی مہم کے لیے بلامعاوضہ اور بلاتمیز لوگوں کے مال پر تصرف کرتے ہیں۔ جو ہرگز جائز نہیں البتہ ہنگامی حالات اور ملکی مفاد میں کچھ وقت…
Read the full tafseer →خضر تیری میری جدائی ہے :
78: قَالَ ھٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَبَیْنِکَ (اس نے کہا یہ میرے اور تیرے درمیان جدائی ہے) ھٰذا کا مشار الیہ تیسرا سوال ہے یعنی یہ اعتراض جدائی کا سبب ہے۔ اور اصل ؔ اسطرح ہے ھذافراقُ بینی و بینک اور اس کو پڑھا گیا پس مصدر کو ظرف کی طرف مضاف کردیا جیسا کہ مفعول بہٖ کی طرف مضاف کردیا جاتا ہے۔ سَاُ نَبِّئُکَ بِتَاْوِیْلِ مَالَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْہِ صَبْرًا (میں عنقریب تمہیں ان چیزوں کی اندرونی تشریح بتلاتا ہوں جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا) ۔
Read the full tafseer →تفسیر (78)” قال “ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا ” ھذا فراق بینی وبینک “ یہ میری اور آپ کی جدائی کا قوت ہے۔ بعض نے کہا کہ آپ کا یہ تیسرا اعتراض کرنا آپ کی اور میری جدائی کا سبب ہے۔ زجاج کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے کہ یہ ہمارے درمیان جدائی ہے۔ یعنی ہمارے اکھٹے رہنے سے جدائی کا وقت آگیا۔ ” سانبئک “ میں عنقریب آپ کو اس بات کی خبردوں گا ۔ ” ب تاویل مالم تسطیع علیہ صبرا “ بعض تفاسیر کی کتب میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چلنے سے پہلے حضرت خضر (علیہ السلام) کا دامن پکڑ لیا اور کہا ا ن واقعات کا جو علم اللہ نے آپ کو دیا ہے جدا ہونے سے پہلے مجھے بھی بتائیے۔ اس پر حضرت خضر (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
71۔ 82:۔ جب خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم میرے ساتھ رہو گے تو تم سے میری باتوں پر صبر نہ ہو سکے گا اسی کا یہ جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہاری باتوں پر صبر کروں گا اور تمہاری کوئی بات نہ ٹالوں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎، سے جو قصہ کے شروع میں گزری اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اس وعدہ کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) اگر خضر (علیہ السلام) کی باتوں پر صبر کرکے کچھ اور خضر (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تو خوب ہوتا کیونکہ اس صورت میں اور نئی باتیں اللہ تعالیٰ اس قصہ میں ذکر فرماتا اسی سورة میں مسند امام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
(آیت 75)
پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراض نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا، اس لئے حضرت خضر (علیہ السلام) نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا : (الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا) ” کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : (ان اسلتک عن شیء بعدھا) ” اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا “ یعنی اس مرتبہ کے بعد (فلا تصحبنی) ” تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں “ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں۔ (قد بلغت من لدنی عذرا) ” آپ میری طرف سے عذر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–81
قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…
Read the full tafseer →122 حضرت موسیٰ و خضر کی جدائی اور مسئلہ حیات خضر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس سے حضرت موسیٰ اور خضر کی جدائی ہوگئی۔ سو حضرت خضر نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ " یہ ہمارے درمیان جدائی کا وقت ہے "۔ یعنی جدائی کے جس وقت کے بارے میں ہمارے درمیان بات طے ہوگئی تھی وہ اب آن پہنچا ہے۔ اس لئے اب ہم ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ حضرت خضر کی زندگی کے بارے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ بہت سے اہل علم اور صوفیاء کا کہنا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ لیکن محققین کا قول اس کے خلاف ہے۔ اور ان کا کہنا ہے کہ حضرت خضر بھی عام لوگوں کی طرح اپنے وقت پر وفات پاچکے ہیں۔ کیونکہ ان کے زندہ رہنے کا قول سورة آل عمران کی آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
قَالَ اَلَمْ (پارہ نمبر 16)
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کی جدائی
تشریح : اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ کسی اجتماع میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی دوسرا شخص عالم فاضل نہیں ہوسکتا ؟ تو آپ نے سادگی یا لاعلمی میں کہہ دیا کہ ہاں مجھ سے زیادہ کوئی اور علم نہیں رکھتا۔ تو اللہ کو یہ ناگوار گزرا، اس لیے آپ کو خضر (علیہ السلام) کے پاس بھیج دیا تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ سے زیادہ علم رکھنے والا بھی موجود ہے اور پھر سب سے بڑا علیم و حکیم تو صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ جس کو جتنا علم دینا چاہے دے دیتا ہے اس میں کسی شخص کا اپنا کوئی کمال نہیں۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
(رکوع نمبر 11)
اسرارومعارف
حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا میں نے تو آپ سے پہلے کہہ دیا تھا کہ آپ برداشت نہ کر پائیں گے آپ شریعت کے محافظ جبکہ میں آپ کی شریعت کا مکلف نہیں ہوں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بھئی ٹھیک ہے ، ایک بار برداشت کرلیجئے اور مجھے دیکھ لینے دیں اگر پھر میں کوئی سوال کروں تو آپ میری راہ الگ کر دیجئے کہ اب بہت ہوچکا اور اس سے زیادہ عذر معذرت بھی مناسب نہیں ۔
(اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہیں)
کسی آدمی کے غلط کام کو اس کے کشف پر محمول نہیں کیا جاسکتا کہ اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہوتے ہیں جب تک دنیا میں ہیں ، اور بعد وصال کی عام آدمی کو خبر نہیں ہوتی ، چناچہ پھر روانہ ہوئے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ف 3 یعنی ان کی ساری پونچی صرف یہی کشتی تھی اس کو وہ کرایہ پر چلاتے اور اپنی روزی کماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فقیر بہ نسبت مسکین کے زیادہ تلاش ہوتا ہے۔ (شوکانی)4 یعنی میں نے اس کشتی کا تختہ اس لئے نکال دیا کہ جب یہ آگے جائے تو اس ظالم بادشاہ کی دست برد سے محفوظ رہے اور اسے عیب زدہ سمجھ کر چھوڑ دے۔ معلوم ہوا کہ کسی کی خیر خواہی کے لئے اس کے مال میں بلا اجازت صرف جائز ہے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(18:77) استطعما۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب استطعام (استفعال) ان دونوں نے کھانا مانگا۔
ابوا۔ انہوں نے سختی سے انکار کیا۔ باب ضرب وفتح۔ ابی مادہ اباء مصدر۔ الابائ۔ کے معنی سختی سے انکار کرنا کے ہیں۔ یہ لفظ امتناع سے خاص ہے ہر اباء کو امتناع کہہ سکتے ہیں۔ مگر ہر امتناع کو ابائ نہیں کہہ سکتے۔ ابی واستکبر (2:34) اس نے سختی سے انکار کیا اور تکبر کیا۔
یضیفوہما۔ ضیف یضیف تضییت (تفعیل) مضارع جمع مذکر غائب ھما ضمیر مفعول تثنیہ مذکر غائب (کہ) وہ ان دونوں کو مہمان بنائیں۔ یعنی ان کی مہمانی کریں۔ (ان) ینقض۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ عمل ان۔ انقضاض (انفعال) کہ گرپڑے۔ یرید ان ینقض وہ (جھک کر) گرا چاہتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–78
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 78
السفینۃ کشتی، جہاز۔ خرق سوراخ کردیا۔ لتغرق تاکہ تو غرق کر دے۔ امر ناپسندیدہ بات ، عجیب بات۔ نسیت میں بھول گیا۔ لاترھقنی نہ ڈال مجھ پر۔ عسر مشکل ، تنگی۔ زکیۃ پاک، ستھری۔ نکر بےجابات۔ لا تصاحبنی مجھے ساتھ نہ رکھنا۔ بلغت تو پہنچ گیا۔ استطعما دونوں نے کھانا طلب کیا۔ ابوا انکار کردیا۔ یضیفوا وہ مہمان بنائیں گے۔ جدار دیوار۔ ینقص وہ ٹوٹ جائے گا۔ اقام درست کردیا۔ فراق جدائی۔ انبی میں بتاؤں گا۔ تاویل حقیقت، انجام۔
تشریح :- آیت نمبر 71 تا 78
ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے جب حضرت موسیٰ نے یہ وعدہ کرلیا کہ وہ حضرت خضر سے کسی کام یا بات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
حضرت موسیٰ و حضرت خضر (علیہما السلام) کے علم کا نتیجہ
حضرت خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پھر وہی فرمایا کہ میں نہیں کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کریں گے، اور معالملات میں دخیل ہوں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ آئندہ اگر میں آپ کے معاملہ کے متعلق کچھ اعتراض کروں تو پھر مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ اس کے بعد دونون ایک گاؤں میں پہنچے۔ اور اس گا ؤن والوں کہ یہ دستور تھا کہ شام کے وقت سے گاؤں کا دروازہ بند کردیتے تھے تو پھر کسی کے واسطے ہرگز نہ کھولتے تھے۔ یہ شام کے بعد پہنچے اور گاؤں والوں سے کہا کہ دروازہ کھولو۔ کسی نے نہ کھولا پھر حضرت خضر (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
[24] مطلب یہ ہے کہ اگر تیسری بار مجھ سے ایسا قصور ہو تو آپ کو میرے جدا کرنے کا اختیار ہے اس صورت میں آپ معذور سمجھے جائیں گے اور مجھے آپ سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →حضر (علیہ السلام) کے جوابات :
(ف 2) ان آیات میں حضرت خضر (علیہ السلام) نے جناب موسیٰ (علیہ السلام) کی حیرانیوں کو دور کیا ہے ، اور واقعات کے باطن کی طرف اشارہ کیا ہے ، یعنی اس حقیقت سے آگاہ فرمایا ہیں کہ منصب نبوت اور قضاء و فیصلہ کے لئے کس قدر دوربینی وژرف نگاہی کی ضرورت ہے ، بسا اوقات واقعات کا ظاہر غلط طریق کار کی جانب راہنمائی کرتا ہے ، اور اس سے غلط نتائج مرتب ہوتے ہیں یہ حضرت موسیٰ پر چونکہ امت کی ذمہ داریاں عائد ہونے والی تھیں ، اس لئے ان کے لئے اس نوع کی علمی تربیت ضروری تھی تاکہ اس منصب کی اہمیت میں سے کما حقہ آگاہ ہوسکیں ۔
حل لغات :
یرید : دیوار کیلئے بطور مجازا محاورہ کا لفظ…
Read the full tafseer →-78 حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ وقت میری اور آپ کی علیحدگی اور میرے اور آپ کے مابین جدائی کا ہے میں آپ کو ان چیزوں کی صحیح حقیقت سے آگاہ کئے دیات ہوں اور … بتائے دیتا ہوں جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا ۔ یعنی آپ کی شرط کے مطابق اس سوال کے بعد جدائی اور علیحدگی ہے۔ ہاں ! میں آپ کو ان تمام باتوں کی حقیقت اور تاویل بتائے دیتا ہوں جن پر آپ سے صبر نہیں ہوسکا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اب کی بار موسیٰ (علیہ السلام) نے جان کر پوچھا رخصت ہونے کو سمجھ لیا کہ یہ علم میرے ڈھب کا نہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ علم تھا جس میں خلق پیروی کرے تو ان کا بھلا ہو۔ حضرت خضر (علیہ السلام) کا علم وہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
ف 6۔ عجب نہیں کہ ان اسرار کا بتلانا اس درخواست کا پورا کرنا بھی ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کی تھی تعلمن مما علمت گو نمونہ ہی کے طور پر سہی۔ اور زیادہ ساتھ رہنے میں غالبا وہ مناسب موقع پر خود ہی بتلاتے اور ہر واقعہ پر بتلاتے تو یہ علم زیادہ ہوتا۔ گو یہ علم موسوی کے برابر مفید عام نہ ہو، کیونکہ قابل اتباع نہیں تاہم اس معنی کو مفید خاص ضرور ہے کہ بعض حکمتیں مفصلا منکشف ہوتی ہیں، گو اجمالی عقیدہ کہ ہر واقعہ جو مشتمل حکمتوں پر ہوتا ہے قرب کے لئے کافی ہے۔
Read the full tafseer →صاحب موسیٰ نے کہا آپ میں اور ہم میں جدائی ہے لیکن گزشتہ واقعات کی حقیقت سن لیں :
84۔ صاحب موسیٰ نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ اعتراض سنا تو موسیٰ (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے صاحب معاملہ یہ ہے کہ اب تیسری بار بھی آپ نے وہی کیا جو پہلے دو بار کرچکے اب کی دفعہ تو آپ کا اپنا ارشاد بھی تھا کہ اس کے بعد جب میں نے کسی بات سے آپ کو روک دیا تو آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے لہذا یہ وقت آپ کی اور میری جدائی کا ہوگا سو اب آپ نے جو فرمایا تھا اس کی مدت اللہ کے نزدیک اتنی ہی تھی اب آپ ان تینوں باتوں کی اصلیت کو سمجھ لیں اس لئے کہ جو کچھ میں نے کیا میں نے نہیں کیا بلکہ باقاعدہ ایک پروگرام کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
The habitation mentioned أَهْلَ قَرْيَةٍ (the people of a town - 77) which Sayyidna Musa and al-Khadir (علیہ السلام) passed through and whose inhabitants refused to host them was Antakiah, as in the report of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، and Aikah, as in the report of Ibn Sirin. It has also been reported from Sayyidna Abu Hurairah ؓ that it was some habitation of al-Andulus (Spain) (Mazhari). Allah knows best.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
59. The name of this servant has been stated to be Khidr in all the authentic books of traditions. Thus there is no reason why it should be considered at all that his name was Elijah, as some people have asserted under the influence of the Israelite traditions. Their assertion is incorrect not only because it contradicts the assertion of the Prophet (peace be upon him) but it is also absurd because Prophet Elijah (peace be upon him) was born several hundred years after Prophet Moses (peace be upon him). Though the Quran does not mention the name of the attendant of Prophet Moses (peace be…
Read the full tafseer →