Explained with ayahs 77–78
ایک اور انوکھی بات۔
دو دفعہ کے اس واقعہ کے بعد پھر دونوں صاحب مل کر چلے اور ایک بستی میں پہنچے مروی ہے وہ بستی ایک تھی یہاں کے لوگ بڑے ہی بخیل تھے۔ انتہا یہ کہ دو بھوکے مسافروں کے طلب کرنے پر انہوں نے روٹی کھلانے سے بھی صاف انکار کردیا۔ وہاں دیکھتے ہیں کہ ایک دیوار گرنا ہی چاہتی ہے، جگہ چھوڑ چکی ہے، جھک پڑی ہے۔ دیوار کی طرف ارادے کی اسناد بطور استعارہ کے ہے۔ اسے دیکھتے ہی کمرکس کر لگ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے مضبوط کردیا اور بالکل درست کردیا پہلے حدیث بیان ہوچکی ہے کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے لوٹا دیا۔ زخم ٹھیک ہوگیا اور دیوار درست بن گئی۔ اس وقت پھر کلیم اللہ ؑ بول اٹھے کہ سبحان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
سورة الْكَهْف 59
اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔
حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(آیت) اَهْلَ قَرْيَـةِ بستی جس میں حضرت موسیٰ ؑ اور خضر ؑ کا گذر ہوا اور اس کے لوگوں نے ان کی مہمانی سے انکار کیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں انطاکیہ اور ابن سیرین کی روایت میں ایکہ تھی اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ وہ اندلس کی کوئی بستی تھی (مظہری) واللہ اعلم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
تفسیر ٓیات 77 تا 78: فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا (77)۔ قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا (78)
بستی والوں کا واقعہ : پھر آگے کو چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے۔ بھوکے تھے اس وجہ سے بستی والوں سے کچھ کھلانے کی فرمائش کی۔ شریف لوگ بن کہے بھی مسافروں کی میزبانی ایک سعادت سمجھتے ہیں لیکن اس بستی کے لوگ ایسے لئیم نکلے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ اور حضرت…
Read the full tafseer →77۔ 1 یعنی یہ بخیلوں کی بستی تھی کہ مہمانوں کی مہمان نوازی سے انکار کردیا، دراں حالیکہ مسافروں کو کھانا کھلانا اور مہمان نوازی کرنا ہر شریعت کی اخلاقی تعلیمات کا اہم حصہ رہا ہے۔ نبی ﷺ نے بھی مہمان نوازی کو ایمان کا تقاضا قرار دیا ہے اور فرمایا ' جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ مہمان کی عزت و تکریم کرے۔
77۔ 2 حضرت خضر نے اس دیوار کو ہاتھ لگایا اور اللہ کے حکم سے معجزانہ طور پر سیدھی ہوگئی۔ جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت سے واضح ہے۔
77۔ 3 حضرت موسیٰ علیہ السلام، جو اہل بستی کے رویے سے پہلے ہی کبیدہ خاطر تھے، حضرت خضر کے بلا معاوضہ احسان پر خاموش نہ رہ سکے اور بول پڑے کہ جب ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–81
40: مطلب یہ ہے کہ بستی والوں نے مہمانی سے تو انکار کردیا تھا، لیکن اس دیوار کی مرمت پر ان سے جائز اجرت وصول کی جاسکتی تھی، جس سے ہمارے کھانے کا بھی انتظام ہوسکتا تھا۔
Read the full tafseer →یہ دونوں بھوک تھے۔ لیکن وہ دونوں ایسے گائوں میں تھے جس کے باشندے بخیل تھے۔ وہ کسی بھوکے کو کھانا نہ کھلاتے تھے نہ کسی مہمان کی مہمان نوازی کرتے تھے۔ اچانک یہ شخص دیکھتا ہے کہ ایک دیوار گرا چاہتی ہے۔ یہاں بھی انداز ایسا ہے کہ دیوار گویا زندہ ہے اور وہ بالا ارادہ گرنا چاہتی ہے۔
یرید ان ینقص (81 : 88) ” وہ ارادہ کرتی ہے کہ گر جائے۔ “ یہ بندئہ خدا بس دیکھتے ہی بغیر کسی معاوضہ کے دیوار کو از سر نو کھڑا کرنے میں لگ گیا۔
یہاں موسیٰ (علیہ السلام) سہ بارہ محسوس کرتے ہیں کہ اس شخص کے طرز عمل میں کھلا تضاد ہے۔ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ یہ شخص مشقت برداشت کرتا ہے اور اس گائوں میں یہ نیکی کا کام کرتا ہے جبکہ…
Read the full tafseer →3 یعنی ایک بستی میں پہنچ کر وہاں کے لوگوں سے ملے اور چاہا کہ بستی والے مہمان سمجھ کر کھانا کھلائیں۔ مگر یہ سعادت ان کی قسمت میں نہ تھی، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) و خضر (علیہ السلام) جیسے مقربین کی مہمانی سے انکار کردیا۔ یہ معاملہ دیکھ کر چاہیے تھا کہ ایسے تنگ دل اور بےمروت لوگوں پر غصہ آتا، مگر حضرت خضر (علیہ السلام) نے غصہ کے بجائے ان پر احسان کیا۔ بستی میں ایک بڑی بھاری دیوار جھکی ہوئی تھی قریب تھا کہ زمین پر آرہے، لوگ اس کے نیچے گزرتے ہوئے خوف کھاتے تھے، حضرت خضر (علیہ السلام) نے ہاتھ لگا کر سیدھی کردی اور منہدم ہونے سے بچا لیا۔ (تنبیہ) حتی اذآ اتیآ اہل قریۃٍ میں اہل کا لفظ شاید اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
آیت 77 فَانْطَلَقَا ۪حَتّٰٓي اِذَآ اَتَيَآ اَهْلَ قَرْيَـةِۨ اسْـتَطْعَمَآ اَهْلَهَا
کہ ہم مسافر ہیں بھوکے ہیں ہمیں کھانا چاہیے۔
فَاَبَوْا اَنْ يُّضَيِّفُوْهُمَا
اس بستی کے باشندے کچھ ایسے کٹھور دل تھے کہ پوری بستی میں سے کسی ایک شخص نے بھی انہیں کھانا کھلانے کی حامی نہ بھری۔
قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ اَجْرًا
یہ ایسے ناہنجار لوگ ہیں کہ انہوں نے ہمیں کھانا تک کھلانے سے انکار کردیا تھا اور آپ نے بغیر کسی معاوضے کے ان کی دیوار مرمت کردی ہے۔ بہتر ہوتا اگر آپ اس کام کی کچھ اجرت طلب کرتے اور اس کے عوض ہم کھانا ہی کھالیتے۔
Read the full tafseer →65 بستی والوں کی بےمروتی اور ان پر احسان کیوں کیا ؟ :۔ یعنی بستی والوں کی بےمروتی کا تو یہ عالم ہے کہ ہم مسافروں کے کھانا طلب کرنے پر بھی انہوں نے ہمیں کھانا تک نہ کھلایا اور ایسے لوگوں پر آپ کے احسان کا یہ حال ہے کہ جس دیوار کے نیچے سے گزرنے سے بھی وہ لوگ ڈرتے تھے کہیں ہمارے اوپر ہی نہ گرپڑے اس دیوار کی مرمت کرکے آپ نے اسے قائم اور سیدھا کردیا حالانکہ اس کام پر اجرت لینا آپ کا حق تھا۔ بالخصوص ایسے بےمروت لوگوں سے تو یہ اجرت چھوڑنا ہی نہ چاہیئے تھی اور اس اجرت سے ہم اپنی بھوک بھی دور کرسکتے تھے۔
Read the full tafseer →111۔ (اور حضرت خضر (علیہ السلام) نے وہ بات رفت وگزشت ہوجانے دی)
112۔ (کہ ہم اسی اجنبی شہر میں مہمان ہیں) قدیم زمانہ میں جب کہ نہ قدم قدم پر مہمان سراؤں کا رواج تھا۔ نہ ہوٹلوں اور کھانے پینے کی دکانوں کا۔ مسافر اور نووارداپنا حق سمجھتے تھے کہ بستی والوں سے کھانا پانی طلب کریں اور بستی والے ان کی مہمانداری اپنا فرض سمجھتے تھے اور عموما اسے بڑی خوش دلی سے بجا لاتے تھے قرآن مجید سے اشارۃ یہ بات بھی نکل آئی کہ میزبانی اور مہمانی کا یہی جذبہ صحیح تھا۔
113۔ (جو اس قدیم تہذیب میں ایک بہت ہی قبیح جرم تھا)
114۔ (کہ ہم لوگوں کا کام بھی چل جاتا اور ان لوگوں کی تادیب بھی کسی قدر ہوجاتی) (آیت) ” یرید ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–78
آیت نمبر 72 تا 78
ترجمہ : حضرت خضر نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکو گے تو موسیٰ نے کہا میری بھول چوک پر مجھ سے مواخذہ نہ فرمائیں یعنی مجھ سے آپ کی فرمانبرداری میں اور آپ پر اعتراض کو ترک کرنے میں غفلت ہوگئی اور آپ مجھ پر میرے معاملہ میں تنگی نہ ڈالیں یعنی کلفت میں مبتلا نہ کریں اور آپ اپنے ساتھ میری مصاحبت کے معاملہ میں دشواری پیدا نہ کیجئے یعنی میرے ساتھ درگذر اور سہولت کا معاملہ کیجئے پھر دونوں کشتی سے اترنے کے بعد پا پیادہ چلے یہاں تک کہ جب دونوں کی ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی جو کہ ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچا تھا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور ان میں سب سے…
Read the full tafseer →فانطلقا حتی اذا اتیا اہل قریۃ پھر دونوں چل دیئے یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس پہنچے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ بستی انطاکیہ تھی ابن سیرین نے کہا ایکہ تھی کسی نے اس کا نام برقہ کہا ہے بغوی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ اندلس میں ایک شہر تھا وہی مراد ہے۔
استعطما اہلہا فابوا ان یضیفوہما تو دونوں نے وہاں کے باشندوں سے کھانا طلب کیا مگر انہوں نے
میزبانی کرنے سے انکار کردیا (کھانا نہ دیا) بغوی نے حضرت ابی بن کعب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ بستی والے کنجوس تھے دونوں حضرات ان کے پاس پہنچے ان کی مجلسوں میں گشت کیا اور کھانا طلب کیا لیکن انہوں نے نہیں دیا حق مہمانی طلب کی تو کسی نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–82
(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…
Read the full tafseer →اسْـتَطْعَمَآ اَهْلَهَا : بعض صوفیوں نے اس آیت سے گدائی کے مستحب ہونے کا استدلال کیا ہے اور اسے باقاعدہ سالک کے آداب میں شمار کیا ہے، اس لیے عموماً صوفی لوگ روزی کمانے کے بجائے گدائی کو اور دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے کو کمال ولایت و توکل سمجھتے ہیں اور اس کام میں مہارت رکھتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی جہالت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا زَال الرَّجُلُ یَسْأَلُ النَّاسَ حَتّٰی یَأْتِيَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ فِيْ وَجْھِہِ مُزْعَۃُ لَحْمٍ) [ بخاري، الزکوٰۃ، باب من سأل تکثرًا : 1474۔ مسلم : 104؍ 1040 ] ”آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتی اذا اتیا اھل قریۃ صحیح مسلم میں حضرت ابی بن کعب سے مروی ہے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے ” لئام “ کا لفظ روایت کیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) مجالس میں گھومتے تھے اور ان سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے میزبانی کرنے سے انکار کیا، پھر ان دونوں نے ایک جھکی ہوئی دیوار دیکھی تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ سے درست کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ہم اس قوم کے پاس آئے انہوں نے نہ ہماری میزبانی کی اور نہ کھانا کھلایا، اگر آپ چاہتے تو اس پر محنت ہی طلب کرلیتے، تو حضرت خضر علیہ السللام نے کہا : یہ تمہاری اور میری جدائی کا…
Read the full tafseer →مہمان نوازنہ کرنے والی بستی :
77ـ:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اتیا اھل قریۃ “ سے ابرقہ بستی مراد ہے پھر فرمایا کہ مجھے ایک آدمی نے بیان کیا کہ وہ انطاکیہ میں ہے۔
78:۔ ابن ابی حاتم نے ایوب بن موسیٰ (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ سوال کرنے محتاج کے لئے اچھی بات ہے کیا تو نے نہیں سنا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھی (خضر علیہ السلام) نے بستی کے رہنے والوں سے کھانا مانگا تھا۔
79:۔ نسائی اور ابن مردویہ نے ابی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت ) ’ ’ فابوا ان یضیفوھما “ شد کے ساتھ پڑھا۔
80:۔ دیلمی نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[فَانطَلَقَا ۪: پھر وہ دونوں چلے ] [حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [اِذَآ : جب ] [اَتَيَآ : وہ دونوں پہنچے ] [اَهْلَ قَرْيَـةِۨ: ایک بستی والوں کے پاس ] [اسْـتَطْعَمَآ : تو دونوں نے کھانا مانگا ] [اَهْلَهَا : اس (بستی) کے لوگوں سے ] [فَاَبَوْا : تو انھوں نے انکار کیا ] [ان : کہ ] [يُّضَيِّفُوْهُمَا : وہ مہمان بنائیں دونوں کو ] [فَوَجَدَا : پھر دونوں نے پایا ] [فِـيْهَا : اس (بستی) میں ] [جِدَارًا : ایک ایسی دیوار کو جو ] [يُّرِيْدُ : ارادہ کرتی تھی ] [ان : کہ ] [يَّنْقَضَّ : وہ گرپڑے ] [فَاَقَامَهٗ : تو انھوں نے کھڑا کردیا اس کو ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لَوْ : اگر ] [شِئْتَ : آپ چاہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ
مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
بقیہ قصۂ موسیٰ (علیہ السلام) با خضر (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ۔ قال الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ذلک تا ویل ما لم تسطع علیہ صبرا
موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ خضر (علیہ السلام) نے یکایک ایک معصوم اور بےگناہ بچے کو مار ڈالا تو ان سے ضبط نہ ہوسکا۔ اور بےاختیار کہہ اٹھے۔ لقد جئت شیئا نکرا۔ ( آپ (علیہ السلام) نے تو بڑی ہی بےجا اور ناپسندیدہ حرکت کی) تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے جواب میں کہا۔ اے موسیٰ کیا میں تم سے پہلے ہی اول صحبت میں یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکو گے آخر وہی ہوا جو میں نے اول بار کہہ دیا تھا۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
71:۔ یہ تیسرا واقعہ ہے، دونوں ایک گاؤں میں پہنچے، بھوک لگ چکی تھی اس لیے گاؤں والوں سے کھانا طلب کیا مگر انہوں نے کھانا کھلانے سے انکار کردیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو بہت پرانی تھی اور ایک طرف جھکی ہوئی تھی گویا کہ گرنا چاہتی ہے حضرت (علیہ السلام) نے وہ دیوار درست کردی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں خیال آیا کہ گاؤں والوں نے کھانا تو ان کو کھلایا نہیں، دیوار بنانے کی مزدوری ہی لے لی ہوتی، یہ بات انہوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے کہہ دی۔ اس پر انہوں نے کہا بس اب میری اور تمہاری جدائی کا وقت آگیا ہے اور اب میں تمہیں بتاؤں گا کہ ان تینوں واقعات کی حقیقت کیا جس کو نہ جاننے کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–78
ربط آیات :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی علمیت کے معاملہ میں ذرا سی لغزش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا ، اللہ نے فرمایا کہ تجھ سے زیادہ عالم ہمارا ایک بندہ ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے ملاقات کی خواہش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فلاں سمت سفر اختیار کرو ہمارا وہ بندہ تمہیں مجمع البحرین کے قریب مل جائے گا ، اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر فرمایا کہ جہاں تمہاری تلی ہوئی مچھلی گم ہوجائے گی ، ہمارا وہ خاص بندہ اسی مقام پر مل جائے گا بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم یوشع بن نون (علیہ السلام) کے ہمراہ سفر کیا ، جہاں پر مچھلی گم ہوئی تھی وہیں پر اللہ کے خاص بندے حضرت…
Read the full tafseer →فَانْطَلَقَا 0۪ حَتّٰٓي اِذَآ اَتَيَآ اَہْلَ قَرْيَـۃِۨ اسْـتَطْعَمَآ اَہْلَہَا فَاَبَوْا اَنْ يُّضَيِّفُوْہُمَا فَوَجَدَا فِـيْہَا جِدَارًا يُّرِيْدُ اَنْ يَّنْقَضَّ فَاَقَامَہٗ 0ۭ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْہِ اَجْرًا 77
طلق
أصل الطَّلَاقِ : التّخليةُ من الوثاق، يقال : أَطْلَقْتُ البعیرَ من عقاله، وطَلَّقْتُهُ ، وهو طَالِقٌ وطَلِقٌ بلا قيدٍ ، ومنه استعیر : طَلَّقْتُ المرأةَ ، نحو : خلّيتها فهي طَالِقٌ ، أي : مُخَلَّاةٌ عن حبالة النّكاح . قال تعالی: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] ، الطَّلاقُ مَرَّتانِ [ البقرة/ 229] ، وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–78
ترکیب : عن ‘ یسئلونک سے متعلق ذکرا ‘ اتلوا کا مفعول، مکنا مفعول امرہ محذوف وجدھا جواب ہے اذابلغ کا تغرب جملہ حال ہے ضمیر وجدھا سے یا مفعول وجد حمئۃ ذات حمات۔ الحمات الطین الاسودوقرآء ابن عامر و حمزۃ حامیۃ اے حارۃ اما تخیر کے لیے جزاء کو حمزہ کسائی خفص بالنصف والتنوین پڑھتے ہیں اور باقی بالرفع والاضافۃ۔ اول تقدیر پر فلہ الحسنی جزاء ً ً جیسا کہ کہتے ہیں لک ھذا الثوب ہبۃ دوسری صورت میں الحسنی کا موصوف الفعلہ مقدر مانا جائے گا یا المثوبۃ پس جزاء موصوف ہوگی المثوبۃ الحسنیٰ کی واضافۃ الموصوف الی الصفۃ کثیر۔
تفسیر …ذوالقرنین کال اور اس کا سفر : یہ تیسرا قصہ ذوالقرنین کا ہے جو اہل کتاب کے کہنے سے…
Read the full tafseer →فَانْطَلَقَا وقفۃ حَتّٰیٓ اِذَآ اَتَیَا اَھْلَ قَرْیَۃِ نِ اسْتَطْعَمَآ اَھْلَھَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْھُمَا فَوَجَدَا فِیْھَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَہٗ ط قَالَ لَوْشِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْہِ اَجْرًا۔ (الکہف : 77)
(پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک بستی والوں کے پاس تو ان سے کھانا کھلانے کی درخواست کی تو انھوں نے ان کی میزبانی سے صاف انکار کردیا، پھر ان دونوں نے اس گائوں میں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی، تو حضرت خضر نے وہ دیوار کھڑی کردی، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اگر آپ چاہتے اس محنت پر مزدوری ہی لے لیتے۔ )
بستی والوں کا واقعہ
پھر وہ آگے چلے، چلتے چلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ
اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جناب خضر (علیہ السلام) کے ہم سفر ہوئے۔ حضرت خضر نے انہیں پہلے سے ہی یہ بات کہہ دی کہ آپ اس شرط پر میرے ہمسفر ہوسکتے ہیں کہ دوران سفر جو کچھ میں کروں آپ کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ہوا یہ کہ بحری سفر کے دوران خضر (علیہ السلام) نے بیڑے کا ایک تختہ توڑ دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) چونک اٹھے اور کہا کہ کیا آپ سب کو غرق کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اعتراض نہ کرنے کا وعدہ یاد کروایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ کشتی سے اتر کر جب ان کا گزر ایک…
Read the full tafseer →تیسرا سفر :
77: فَانْطَلَقَا حَتّٰی اِذَآ اَتَیَآ اَھْلَ قَرْیَۃٍ (پھر دونوں پیدل چل دیئے یہاں تک کہ ایک بستی والوں کے پاس پہنچے) بقول ابن عباس وہ انطاکیہ تھی بقول ابن سیرین وہ ایلہ تھی وہ آسمان سے اللہ کی زمین پر سب سے زیادہ دور تھی۔
ان سے کھانا طلب کیا :
ِاِسْتَطْعَمَآ اَھْلَھَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْھُمَا (تو دونوں نے وہاں کے لوگوں سے کھانا طلب کیا مگر انہوں نے میزبانی کرنے سے انکار کردیا ( ضیف کا معنی مہمان بنانا) آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ بستی والے کمینے لوگ تھے اس روایت کو نسائی نے کبرٰی میں نقل کیا۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ بدترین بستی تھی جنہوں نے مہمانی پر بھی بخل کیا۔ فَوَجَدَا فِیْھَا…
Read the full tafseer →(77)” فانطلقا حتی اذا اتیا اھل قریۃ “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد انطا کیہ بستی ہے۔ ابن سیرین کا قول ہے کہ یہ ایک ایکہ بستی تھی، کسی نے اس کا نام برقہ کہا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ اندلس میں ایک شہر تھا وہی مراد ہے۔ ” استطعما اھلھا فابو ا ن یضیفو ھما “ حضرت ابی بن کعب ؓ کی روایت ہے۔ بیان کیا ہے کہ اس بستی والے کنجوس تھے، دونوں حضرات ان کے پاس پہنچے، ان کی مجلسوں میں گشت کیا اور کھانا طلب کیا لیکن انہوں نے نہیں دیا۔ حق مہمانی طلب کی تو کسی نے مہمان بھی نہ بنایا۔ حضرت قتادہ کا بیان ہے کہ وہ بد ترین بستی ہے جو مہمانوں کی میزبانی نہ کرے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–82
71۔ 82:۔ جب خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم میرے ساتھ رہو گے تو تم سے میری باتوں پر صبر نہ ہو سکے گا اسی کا یہ جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہاری باتوں پر صبر کروں گا اور تمہاری کوئی بات نہ ٹالوں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎، سے جو قصہ کے شروع میں گزری اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اس وعدہ کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) اگر خضر (علیہ السلام) کی باتوں پر صبر کرکے کچھ اور خضر (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تو خوب ہوتا کیونکہ اس صورت میں اور نئی باتیں اللہ تعالیٰ اس قصہ میں ذکر فرماتا اسی سورة میں مسند امام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
(آیت 75)
پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراض نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا، اس لئے حضرت خضر (علیہ السلام) نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا : (الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا) ” کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : (ان اسلتک عن شیء بعدھا) ” اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا “ یعنی اس مرتبہ کے بعد (فلا تصحبنی) ” تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں “ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں۔ (قد بلغت من لدنی عذرا) ” آپ میری طرف سے عذر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–81
قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…
Read the full tafseer →120 مکارمِ اَخلاق کا ایک نہایت عمدہ اور بےمثال نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے شہر میں ایک ایسی دیوار کو پایا جو گرا چاہتی تھی تو اس بندئہ خدا نے اس دیوار کو سیدھا کردیا "۔ اپنے ہاتھ سے دبا کر۔ اپنی کرامت کے طور پر۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں اس کا ذکر موجود ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر وغیرہ) ۔ اس لئے جمہور مفسرین کرام کے نزدیک یہ کام آپ سے خرق عادت اور معجزانہ طور پر صادر ہوا۔ (مراغی، ابن کثیر اور صفوۃ وغیرہ) ۔ اور یوں دوسرا قول اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اس کو گرا کر دوبارہ بنایا۔ ابن عباس سے دونوں قول مروی ہیں۔ (صفوۃ وغیرہ) ۔ وَالظَّاھِرُ ھُوَ الْاَوَّلُ وَعَلَیْہِ الْجَمْھُوْرُ ۔ بہرکیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
قَالَ اَلَمْ (پارہ نمبر 16)
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کی جدائی
تشریح : اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ کسی اجتماع میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی دوسرا شخص عالم فاضل نہیں ہوسکتا ؟ تو آپ نے سادگی یا لاعلمی میں کہہ دیا کہ ہاں مجھ سے زیادہ کوئی اور علم نہیں رکھتا۔ تو اللہ کو یہ ناگوار گزرا، اس لیے آپ کو خضر (علیہ السلام) کے پاس بھیج دیا تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ سے زیادہ علم رکھنے والا بھی موجود ہے اور پھر سب سے بڑا علیم و حکیم تو صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ جس کو جتنا علم دینا چاہے دے دیتا ہے اس میں کسی شخص کا اپنا کوئی کمال نہیں۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
(رکوع نمبر 11)
اسرارومعارف
حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا میں نے تو آپ سے پہلے کہہ دیا تھا کہ آپ برداشت نہ کر پائیں گے آپ شریعت کے محافظ جبکہ میں آپ کی شریعت کا مکلف نہیں ہوں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بھئی ٹھیک ہے ، ایک بار برداشت کرلیجئے اور مجھے دیکھ لینے دیں اگر پھر میں کوئی سوال کروں تو آپ میری راہ الگ کر دیجئے کہ اب بہت ہوچکا اور اس سے زیادہ عذر معذرت بھی مناسب نہیں ۔
(اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہیں)
کسی آدمی کے غلط کام کو اس کے کشف پر محمول نہیں کیا جاسکتا کہ اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہوتے ہیں جب تک دنیا میں ہیں ، اور بعد وصال کی عام آدمی کو خبر نہیں ہوتی ، چناچہ پھر روانہ ہوئے تو…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی انہوں نے تو ہمیں کھانا تک نہ دیا مگر آپ ہیں کہ ان کی دیوار سیدھی کردی اور کوئی اجرت طلب نہ کی اگر اجرت لیتے تو ہم کچھ کھا پی ہی لیتے اس بستی کا نام بعض نے ایلہ اور بعض نے انطاکیہ لکھا ہے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(18:77) استطعما۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب استطعام (استفعال) ان دونوں نے کھانا مانگا۔
ابوا۔ انہوں نے سختی سے انکار کیا۔ باب ضرب وفتح۔ ابی مادہ اباء مصدر۔ الابائ۔ کے معنی سختی سے انکار کرنا کے ہیں۔ یہ لفظ امتناع سے خاص ہے ہر اباء کو امتناع کہہ سکتے ہیں۔ مگر ہر امتناع کو ابائ نہیں کہہ سکتے۔ ابی واستکبر (2:34) اس نے سختی سے انکار کیا اور تکبر کیا۔
یضیفوہما۔ ضیف یضیف تضییت (تفعیل) مضارع جمع مذکر غائب ھما ضمیر مفعول تثنیہ مذکر غائب (کہ) وہ ان دونوں کو مہمان بنائیں۔ یعنی ان کی مہمانی کریں۔ (ان) ینقض۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ عمل ان۔ انقضاض (انفعال) کہ گرپڑے۔ یرید ان ینقض وہ (جھک کر) گرا چاہتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–78
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 78
السفینۃ کشتی، جہاز۔ خرق سوراخ کردیا۔ لتغرق تاکہ تو غرق کر دے۔ امر ناپسندیدہ بات ، عجیب بات۔ نسیت میں بھول گیا۔ لاترھقنی نہ ڈال مجھ پر۔ عسر مشکل ، تنگی۔ زکیۃ پاک، ستھری۔ نکر بےجابات۔ لا تصاحبنی مجھے ساتھ نہ رکھنا۔ بلغت تو پہنچ گیا۔ استطعما دونوں نے کھانا طلب کیا۔ ابوا انکار کردیا۔ یضیفوا وہ مہمان بنائیں گے۔ جدار دیوار۔ ینقص وہ ٹوٹ جائے گا۔ اقام درست کردیا۔ فراق جدائی۔ انبی میں بتاؤں گا۔ تاویل حقیقت، انجام۔
تشریح :- آیت نمبر 71 تا 78
ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے جب حضرت موسیٰ نے یہ وعدہ کرلیا کہ وہ حضرت خضر سے کسی کام یا بات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
حضرت موسیٰ و حضرت خضر (علیہما السلام) کے علم کا نتیجہ
حضرت خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پھر وہی فرمایا کہ میں نہیں کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کریں گے، اور معالملات میں دخیل ہوں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ آئندہ اگر میں آپ کے معاملہ کے متعلق کچھ اعتراض کروں تو پھر مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ اس کے بعد دونون ایک گاؤں میں پہنچے۔ اور اس گا ؤن والوں کہ یہ دستور تھا کہ شام کے وقت سے گاؤں کا دروازہ بند کردیتے تھے تو پھر کسی کے واسطے ہرگز نہ کھولتے تھے۔ یہ شام کے بعد پہنچے اور گاؤں والوں سے کہا کہ دروازہ کھولو۔ کسی نے نہ کھولا پھر حضرت خضر (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
[24] مطلب یہ ہے کہ اگر تیسری بار مجھ سے ایسا قصور ہو تو آپ کو میرے جدا کرنے کا اختیار ہے اس صورت میں آپ معذور سمجھے جائیں گے اور مجھے آپ سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →حضرت خضر (علیہ السلام) کا حسن سلوک اور گاؤں والوں کی بدبختی :
(ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) طویل مسافت طے کرنے کے بعد ایک گاؤں میں پہنچے بھوک سے بےقرار ہو رہے تھے ، گاؤں والوں سے کہا کہ ہم مسافر ہیں ، ہمیں اپنا مہمان بناؤ ، انہوں نے ازراہ شقاوت انکار کردیا اور شرف مہمان نوازی سے محروم رہے ، حضرت خضر (علیہ السلام) ان کی اس حرکت سے قطعا ملول نہ ہوئے ، اتفاق سے ایک دیوار پر نظر پڑی ، تو دیکھا کہ کہنگی اور بوسیدگی کے باعث گر رہی ہے آپ اٹھے اور اس کی تعمیر میں مصروف ہوگئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے روکا اور کہا جو گاؤں اخلاق کی مبادیات سے بھی ناواقف ہے اور اس درجہ…
Read the full tafseer →-77 پھر یہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب ایک گائوں والوں پر پہنچے تو بستی والوں سے کھانا طلب کیا مگر ان گائوں والوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی اور کھانا مہیا کرنے سے انکار کردیا پھر ان دونوں اس گائوں میں ایک دیوار دیکھی جو اس قدر جھک گئی تھی کہ گراہی چاہتی تھی۔ یہ دیکھ کر حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس دیوار کو سیدھا کردیا۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر فرمایا اگر آپ چاہتے تو اس دیوار کی درستی پر ان گائوں والوں سے کچھ مزدوری لے لیتے۔ یعنی آپ نے ایسے لوگوں کے ساتھ سلوک کیا جو اپنے بخل کی وجہ سے اس سلوک کے مستحق نہیں تھے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی گائوں کے لوگوں نے مسافر کا حق نہ سمجھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
ف 5۔ یعنی آپ نے بہت درگزر کی، اب اگر اب ساتھ نہ رکھیں گے تو معذور ہیں۔ فائدہ۔ اب کی بار نسیان کا عذر نہ کرنے سے معلوم ہوا کہ نسیان نہ ہوا تھا۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے مصاحب کے ساتھ تیسری بار سفر شروع کیا :
82۔ اب تجدید عہد کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے مصاحب کے ساتھ تیسری بار سفر کو جاری رکھنے کے لئے کمر ہمت باندھی ، سفر جاری تھا کہ ان کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا جس میں وہ عین اس وقت پہنچے کہ کھانے کا وقت تھا اور ان کو کھانے کی ضرورت بھی تھی مصاحب موسیٰ چونکہ حکومت کے کارندہ ہیں ظاہر ہے کہ انہوں نے اس بستی کے لوگوں کے کئی ایک امور پر تبادلہ خیال بھی کیا ہوگا لیکن اتفاق یہ ہوا کہ کسی شخص نے ان کو کھانے کی دعوت نہ دی جب کہ وہ کھانے کی طلب بھی رکھتے تھے اور کھانے کا وقت بھی تھا لیکن ان ساری باتوں کے باوجود کسی نے پوچھا تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
The habitation mentioned أَهْلَ قَرْيَةٍ (the people of a town - 77) which Sayyidna Musa and al-Khadir (علیہ السلام) passed through and whose inhabitants refused to host them was Antakiah, as in the report of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، and Aikah, as in the report of Ibn Sirin. It has also been reported from Sayyidna Abu Hurairah ؓ that it was some habitation of al-Andulus (Spain) (Mazhari). Allah knows best.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
59. The name of this servant has been stated to be Khidr in all the authentic books of traditions. Thus there is no reason why it should be considered at all that his name was Elijah, as some people have asserted under the influence of the Israelite traditions. Their assertion is incorrect not only because it contradicts the assertion of the Prophet (peace be upon him) but it is also absurd because Prophet Elijah (peace be upon him) was born several hundred years after Prophet Moses (peace be upon him). Though the Quran does not mention the name of the attendant of Prophet Moses (peace be…
Read the full tafseer →