Al-Kahf 18:76

Al-Kahf · from ayah 76

18:76

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ ۚ— قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا ۟قَالَ اِنۡ سَاَ لۡـتُكَ عَنۡ شَىۡءٍۢ بَعۡدَهَا فَلَا تُصٰحِبۡنِىۡ‌ ۚ قَدۡ بَلَـغۡتَ مِنۡ لَّدُنِّىۡ عُذۡرًا

انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Moses] said, "If I should ask you about anything after this, then do not keep me as a companion. You have obtained from me an excuse."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 10 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:76

موسیٰؑ نے کہا " اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں لیجیے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

موسیٰ ؑ نے جواب دیا اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً آپ میری طرف سے (حد) عذر کو پہنچ چکے

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ بولے : اگر اب میں آپ سے کوئی بات پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے۔ یقینا آپ میری طرف سے عذر کی حد کو پہنچ گئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا اس کے بعد میں تم سے کچھ پوچھوں تو پھر میرے ساتھ نہ رہنا، بیشک میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہوچکا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

موسٰی ؑ نے کہا: اگر میں اس کے بعد آپ سے کسی چیز کی نسبت سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا، بیشک میری طرف سے آپ حدِ عذر کو پہنچ گئے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا اگر میں تجھ سے اس کے بعد کسی چیز کے متعلق پوچھوں تو مجھے ساتھ نہ رکھنا، یقینا تو میری طرف سے پورے عذر کو پہنچ چکا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے کہا : اگر اس کے بعد میں نے کوئی بات پوچھی تو پھر مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا۔ اب میری طرف سے آپ پر کوئی عذر باقی نہ رہے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

موسیٰ نے کہا، اب اس کے بعد اگر میں آپ سے کسی امر کے متعلق پوچھوں تو مجھے ساتھ نہ رکھیے گا۔ آپ میری جانب سے عذر کو پہنچ گئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

موسیٰ نے کہا اگر میں نے اس کے بعد آپ سے کچھ پوچھا تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا کہ بلاشبہ آپ میری طرف سے معذوری تک پہنچ گئے،

— مولانا اسحاق مدنی

(موسی ؑ نے) کہا (اچھا اب) اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے متعلق پوچھوں تو آپ مجھ کو اپنے ساتھ نہ رکھئے بیشک آپ میرے بارے میں حد عذر کو پہنچ چکے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

موسیٰ نے کہا : اگر میں آپ سے سوال کروں کسی چیز کے بارے میں اس کے بعد تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا آپ پہنچ چکے ہیں میری طرف سے حد عذر کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

انہوں نے کہا کہ اگر اس کے بعد پھر کوئی اعتراض کروں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں کیونکہ آپ میری طرف سے عذر قبول کرنے میں انتہا کو پہنچ گئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Moses said: "Keep me no more in your company if I question you concerning anything after this. You will then be fully justified."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Musa) said, :If I ask you about something after this, do not allow me your company. You have now reached a point where you have a valid excuse (to part with me) from my own side. :

— Muhammad Taqi Usmani

He (Musa) said, :If I ask you about something after this, do not allow me your company. You have now reached a point where you have a valid excuse (to part with me) from my own side. :

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "If I ask you anything after this, keep me not in your company, you have received an excuse from me."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Moses) said: If I ask thee after this concerning aught, keep not company with me. Thou hast received an excuse from me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Moses] said, "If I should ask you about anything after this, then do not keep me as a companion. You have obtained from me an excuse."

— Saheeh International

Moses said, "If I ask you such questions again, abandon me; you will have enough reason to do so."

— Muhammad Sarwar

He said: If I ask you about anything after this, keep me not in your company; indeed you shall have (then) found an excuse in my case.

— Muhammad Habib Shakir

Musa said: if I ask thee regarding aught after this, company not with me; surely there hath reached to thee from my side an excuse.

— Abdul Majid Daryabadi

(Moses) said: "If ever I ask thee about anything after this, keep me not in thy company: then wouldst thou have received (full) excuse from my side."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:76

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–76

موسیٰ ؑ کی بےصبری۔ حضرت خضر ؑ نے اس دوسری مرتبہ اور زیادہ تاکید سے حضرت موسیٰ ؑ کو ان کی منظور کی ہوئی شرط کے خلاف کرنے پر تنبیہہ فرمائی۔ اسی لئے حضرت موسیٰ ؑ نے بھی اس بار اور ہی راہ اختیار کی اور فرمانے لگے اچھا اب کی دفعہ اور جانے دو اب اگر میں آپ پر اعتراض کروں تو مجھے آپ اپنے ساتھ نہ رہنے دینا، یقینا آپ بار بار مجھے متنبہ فرماتے رہے اور اپنی طرف سے آپ نے کوئی کمی نہیں کی اب اگر قصور کروں تو سزا پاؤں۔ ابن جریر میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی یاد آجاتا اور اس کے لئے آپ دعا کرتے تو پہلے اپنے لئے کرتے۔ ایک روز فرمانے لگے ہم پر اللہ کی رحمت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–81

سورة الْكَهْف 59 اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔ حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–76

(آیت) حَتّىٰٓ اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا لفظ غلام عربی زبان کے اعتبار سے نابالغ لڑکے کو کہا جاتا ہے یہ لڑکا جس کو خضر ؑ نے قتل کیا اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور اکثر مفسرین نے یہی کہا ہے کہ وہ نابالغ تھا اور آگے جو اس کے متلعق آیا نَفْسًا زَكِيَّةًۢ اس سے بھی اس کے نابالغ ہونے کی تائید ہوتی ہے کیونکہ زکیہ کے معنی ہیں گناہوں سے پاک اور یہ صفت یا پیغمبر کی ہو سکتی ہے یا نابالغ بچے کی جس کے افعال و اعمال پر مواخذہ نہیں اس کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 74–76

تفسیر آیات 74 تا 76: فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غُلامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا (74) قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (75) قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا (76) لڑکے کے قتل کا واقعہ : پھر کہیں کو چکے۔ راستہ میں ایک لڑکا ملا۔ خضر نے اس کو قتل کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ ؑ پر بپھر گئے۔ بولے یہ آپ نے کیا کر ڈالا، ایک معصوم کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو، آپ نے قتل کرڈالا۔ یہ تو آپ نے بڑی بھونڈی حرکت کی ! حضرت خضر نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

76۔ 1 یعنی اب اگر سوال کروں تو اپنے ساتھ رکھنے کے شرف سے مجھے محروم کردیں، مجھے کوئی احتراز نہیں ہوگا، اس لئے کہ آپ کے پاس معقول عذر ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 74–76

39: مذکورہ حدیث میں ہے کہ وہ لڑکا دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حضرت خضر ؑ نے اس کا سر دھڑ سے الگ کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اندازہ ہوگیا کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کے تحیر خیز حالات و واقعات کا چپ چاپ مشاہدہ کرتے رہنا بہت ٹیڑھی کھیر ہے۔ اس لیے آخری بات کہہ دی کہ اس مرتبہ اگر سوال کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں ایسا کرنے میں آپ معذور ہوں گے اور میری طرف سے کوئی الزام آپ پر عائد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ تین مرتبہ موقع دے کر آپ حجت تمام کرچکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 76 قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍۢ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِيْ ایک دفعہ پھر آپ میری اس بھول کو نظر انداز کردیں لیکن اگر تیسری مرتبہ ایسا ہوا تب بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ رکھنے سے انکار کردیں۔ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّىْ عُذْرًا یعنی آپ کی طرف سے مجھ پر حجت قائم ہوچکی ہے۔ لہٰذا اس کے بعد آپ مجھے ساتھ نہ رکھنے کے بارے میں عذر کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 74–76

64 خضر نے نوجوان کو کیوں مارا ؟ :۔ یہ ایک خوبصورت نوجوان لڑکا تھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ مل کر کھیل رہا تھا۔ سیدنا خضر نے اس لڑکے کو پکڑ کر اس کی گردن کو مروڑا۔ حتیٰ کہ اس کی جان نکل گئی۔ اب ظاہر ہے کہ ایک شریعت کا علمبردار اولوالعزم پیغمبر ایسی بات کیسے برداشت کرسکتا تھا۔ ؟ پہلے بھی ایک کام سیدنا موسیٰ کی طبیعت کے خلاف ہوچکا تھا اور یہ کام پہلے کام سے بھی سخت تر تھا لہذا سیدنا موسیٰ رہ نہ سکے اور یہ اعتراض کر ہی دیا بلکہ ہلکی سی ملامت بھی کردی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

110۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) گویا یہ فرما رہے ہیں کہ اچھا اب کی اور درگزر سے کام لیجئے۔ لیکن آپ بھی شرائط کی خلاف ورزی کو کہاں تک برداشت کرسکتے ہیں۔ آپ اپنے عذر کی حد کو پہنچ گئے اب اگر میں آپ سے کوئی اور سوال کروں تو آپ بیشک معذور ہیں اور مجھے فورا اپنے ساتھ سے الگ کرسکتے ہیں۔ ” بعض کو اس قصہ سے یہ دھوکا ہوگیا ہے کہ پیرا گر کوئی خلاف شرع کام کرے اس پر انکار نہ کرے۔ چناچہ اسی قصہ میں حدیث میں آیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اگر صبر کرتے تو خوب ہوتا۔ جواب یہ ہے کہ خضر (علیہ السلام) کا کمال نص سے معلوم تھا۔ اس لئے سکوت جائز تھا۔ دوسرے کا ان پر قیاس کرنا مع الفارق ہے۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” عن شی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 72–78

آیت نمبر 72 تا 78 ترجمہ : حضرت خضر نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکو گے تو موسیٰ نے کہا میری بھول چوک پر مجھ سے مواخذہ نہ فرمائیں یعنی مجھ سے آپ کی فرمانبرداری میں اور آپ پر اعتراض کو ترک کرنے میں غفلت ہوگئی اور آپ مجھ پر میرے معاملہ میں تنگی نہ ڈالیں یعنی کلفت میں مبتلا نہ کریں اور آپ اپنے ساتھ میری مصاحبت کے معاملہ میں دشواری پیدا نہ کیجئے یعنی میرے ساتھ درگذر اور سہولت کا معاملہ کیجئے پھر دونوں کشتی سے اترنے کے بعد پا پیادہ چلے یہاں تک کہ جب دونوں کی ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی جو کہ ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچا تھا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور ان میں سب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال ان سالتک عن شئی بعدہا فلا تصحبنی قد بلغت من لدنی عذرا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اس (مرتبہ) کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا (مجھ سے الگ ہوجانا) آپ بیشک میری طرف سے عذر کی انتہا کو پہنچ گئے کہ تین بار مجھ سے آپ کے معاہدہ کی خلاف ورزی ہوچکی ہے۔ مسلم نے حضرت ابی بن کعب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم پر اور موسیٰ ( علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہو اگر وہ عجلت سے کام نہ لیتے تو عجیب (واقعات) دیکھتے لیکن ان کو اپنے ساتھی سے شرم آئی اور انہوں نے اِنْ سَاَلْتُکَ عَنْ شَیئٍ بَعْدَہَا فَلاَ تُصٰحِبْنِیْ قَدْ بَلَغَتْ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 60–82

(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 75–76

قَالَ اَ لَمْ اَقُلْ لَّكَ : ”کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا“ ان الفاظ میں تنبیہ پہلے سے سخت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ درگزر دو دفعہ ہوتی ہے، تیسری دفعہ کوئی معاف نہ کرے تو وہ حق بجانب اور معذور ہے اور یہ کہ استاذ اگر سمجھے کہ میں طالب علم کو نہیں پڑھا سکتا تو وہ عذر کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان سالتک عن شیء بعدھا فلا تصحبنی یہ شرط ہے اور وہ لازم ہے۔ مسلمانوں کے معاملات ان کی شرائط کے مطابق ہوتے ہیں اور جو شرائط پوری کرنے کے زیادہ حقدار ہیں وہ وہ ہیں جن کو انباء لازم کرتے ہیں اور جو انبیاء کے لئے لازم کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قد بلت من لدنی عذرا پہلی مرتبہ کچھ ہوجائے تو مطلقاً عذر خواہی کے قیام پر دلیل ہے اور دوسری مرتبہ قطعی طور پر حجت کے قیام پر دلیل ہے، یہ ابن عربی نے کہا : ابن عطیہ نے کہا ہو سکتا ہے (1) کہ قصہ احکام میں مدتوں کی اصل ہو اور وہ مدت تین دن ہے اور تین دن ہی سے احکام مختلف ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلا تصحبنی۔ جمہور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 74–76

بچوں کو قتل کرنا حرام ہے : 68:۔ ابن ابی شیبہ نے یزید بن جریر (رح) سے روایت کیا کہ نجدہ نے ابن عباس ؓ سے بچوں کے قتل کے بارے میں سوال کیا اور اس نے اپنے خط میں لکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ عالم نے (یعنی خضر (علیہ السلام) نے ایک بچہ کو قتل کیا یزید نے کہا میں اپنے ہاتھ سے ابن عباس ؓ کے خط میں لکھا نجدہ کی طرف تو نے مجھے بچوں کے قتل کے بارے میں سوال کیا ہے اور وہ تو نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی عالم کا حوالہ دیا ہے کہ اس نے لڑکوں کو قتل کیا تھا اگر ایسا ہی علم رکھتا ہے بچوں کے بارے میں جو وہ عالم ( موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھی) علم رکھتا تھا پھر تو لڑکوں کو قتل کردے یقینا تو ایسا علم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ان : اگر ] [سَاَلْتُكَ : میں پوچھوں آپ سے ] [عَنْ شَيْءٍۢ: کسی چیز کے بارے میں ] [بَعْدَهَا : اس کے بعد ] [فَلَا تُصٰحِبْنِيْ : تو آپ ساتھی نہ بنائیں مجھ کو ] [قَدْ بَلَغْتَ : آپ پہنچ چکے ہیں ] [مِنْ لَّدُنِّىْ : میرے پاس سے ] [عُذْرًا : عذر کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 60–78

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–82

بقیہ قصۂ موسیٰ (علیہ السلام) با خضر (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ قال الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ذلک تا ویل ما لم تسطع علیہ صبرا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ خضر (علیہ السلام) نے یکایک ایک معصوم اور بےگناہ بچے کو مار ڈالا تو ان سے ضبط نہ ہوسکا۔ اور بےاختیار کہہ اٹھے۔ لقد جئت شیئا نکرا۔ ( آپ (علیہ السلام) نے تو بڑی ہی بےجا اور ناپسندیدہ حرکت کی) تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے جواب میں کہا۔ اے موسیٰ کیا میں تم سے پہلے ہی اول صحبت میں یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکو گے آخر وہی ہوا جو میں نے اول بار کہہ دیا تھا۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 74–76

70:۔ یہ دوسرا واقعہ ہے جب کشتی سے اتر کر آگے چلے تو ایک لڑکا ملا حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس لڑکے کو قتل کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پھر بول اٹھے کہ تم نے ایک معصوم اور بےگناہ بچے کو قتل کرکے بہت برا فعل کیا ہے۔ اس پر حضرت خضر (علیہ السلام) نے پھر ان کو ان کا سابقہ عہد یاد دلایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں کہا، اب اگر میں تم پر اعتراض کروں تو بیشک آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں کیونکہ آپ کے پاس مجھے جدا کرنے کا معقول عذر ہوگا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ مقتول چھوٹا لڑکا نہیں تھا بلکہ نوجوان آدمی تھا اور ” غلٰم “ کے معنی نوجوان کے بھی آتے ہیں۔ وقیل کان بالغا شابا (روح ج 15 ص 338) ۔ وقیل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–78

ربط آیات : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی علمیت کے معاملہ میں ذرا سی لغزش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا ، اللہ نے فرمایا کہ تجھ سے زیادہ عالم ہمارا ایک بندہ ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے ملاقات کی خواہش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فلاں سمت سفر اختیار کرو ہمارا وہ بندہ تمہیں مجمع البحرین کے قریب مل جائے گا ، اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر فرمایا کہ جہاں تمہاری تلی ہوئی مچھلی گم ہوجائے گی ، ہمارا وہ خاص بندہ اسی مقام پر مل جائے گا بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم یوشع بن نون (علیہ السلام) کے ہمراہ سفر کیا ، جہاں پر مچھلی گم ہوئی تھی وہیں پر اللہ کے خاص بندے حضرت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍؚبَعْدَہَا فَلَا تُصٰحِبْنِيْ۝ 0ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّىْ عُذْرًا۝ 76 سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 72–78

ترکیب : عن ‘ یسئلونک سے متعلق ذکرا ‘ اتلوا کا مفعول، مکنا مفعول امرہ محذوف وجدھا جواب ہے اذابلغ کا تغرب جملہ حال ہے ضمیر وجدھا سے یا مفعول وجد حمئۃ ذات حمات۔ الحمات الطین الاسودوقرآء ابن عامر و حمزۃ حامیۃ اے حارۃ اما تخیر کے لیے جزاء کو حمزہ کسائی خفص بالنصف والتنوین پڑھتے ہیں اور باقی بالرفع والاضافۃ۔ اول تقدیر پر فلہ الحسنی جزاء ً ً جیسا کہ کہتے ہیں لک ھذا الثوب ہبۃ دوسری صورت میں الحسنی کا موصوف الفعلہ مقدر مانا جائے گا یا المثوبۃ پس جزاء موصوف ہوگی المثوبۃ الحسنیٰ کی واضافۃ الموصوف الی الصفۃ کثیر۔ تفسیر …ذوالقرنین کال اور اس کا سفر : یہ تیسرا قصہ ذوالقرنین کا ہے جو اہل کتاب کے کہنے سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 75–76

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّـکَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا۔ قَالَ اِنْ سَاَلْـتُکَ عَنْ شَیْ ئٍم بَعْدَھَا فَلاَ تُصٰحِبْنِیْ ج قَدْبَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا۔ (الکہف : 75، 76) (حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا میں نے آپ ( علیہ السلام) سے نہیں کہا تھا کہ آپ ( علیہ السلام) میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اب اگر میں آپ ( علیہ السلام) سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ ( علیہ السلام) مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا۔ آپ ( علیہ السلام) میری جانب سے حدعذر کو پہنچ گئے۔ ) حضرت خضر (علیہ السلام) نے ان کو پھر اپنی بات یاد دلائی کہ کیا میں نے آپ سے پہلے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–77

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جناب خضر (علیہ السلام) کے ہم سفر ہوئے۔ حضرت خضر نے انہیں پہلے سے ہی یہ بات کہہ دی کہ آپ اس شرط پر میرے ہمسفر ہوسکتے ہیں کہ دوران سفر جو کچھ میں کروں آپ کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ہوا یہ کہ بحری سفر کے دوران خضر (علیہ السلام) نے بیڑے کا ایک تختہ توڑ دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) چونک اٹھے اور کہا کہ کیا آپ سب کو غرق کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اعتراض نہ کرنے کا وعدہ یاد کروایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ کشتی سے اتر کر جب ان کا گزر ایک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا اگر اب اعتراض کروں تو مجھے ساتھ نہ رکھنا : 76: قَالَ اِنْ سَاَلْتُکَ عَنْ شَیْ ئٍ مبَعْدَ ھَا (موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اگر میں آپ سے اس کے بعد سوال کروں) ھاؔ ضمیر سے مراد یہاں اس مرتبہ کے بعد یا اس مسئلہ کے بعد۔ فَـلَا تُصٰحِبْنِیْ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا (تم مجھے ساتھ نہ رکھنا بیشک تم میری طرف سے عذر کی انتہاء کو پہنچ چکے ہو) یعنی تم میرے اور اپنے درمیان جدائی میں معذور ہو۔ قراءت : مدنی اور ابوبکر نے لَدُنّی کی نون کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(76)” قال “ موسیٰ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا ” ان سالتک عن شیء بعدھا “ اس مرتبہ کے بعد۔ ” فلا تصاحبنی “ آپ مجھے اپنے آپ سے جدا کرلینا۔ یعقوب نے اس کو پڑھا ” فلا تصاحبنی “ بغیر الف کے مصاحبت سے ماخوذ ہے۔ ” قد بغلت من لدنی عذرا “ ابو جعفر، نافع اور ابوبکر نے ” من لدنی “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے حضرات نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے۔ اگر میں آپ کے سامنے عذر بیان کروں جو میں نے اور تمہارے درمیان عہد کیا ہے۔ کہا گیا کہ میں پھر ڈرتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ میری طرف سے عذر قبول نہ فرمائیے گا۔ حضرت ابن بن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–82

71۔ 82:۔ جب خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم میرے ساتھ رہو گے تو تم سے میری باتوں پر صبر نہ ہو سکے گا اسی کا یہ جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہاری باتوں پر صبر کروں گا اور تمہاری کوئی بات نہ ٹالوں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎، سے جو قصہ کے شروع میں گزری اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اس وعدہ کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) اگر خضر (علیہ السلام) کی باتوں پر صبر کرکے کچھ اور خضر (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تو خوب ہوتا کیونکہ اس صورت میں اور نئی باتیں اللہ تعالیٰ اس قصہ میں ذکر فرماتا اسی سورة میں مسند امام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–82

(آیت 75) پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراض نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا، اس لئے حضرت خضر (علیہ السلام) نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا : (الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا) ” کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : (ان اسلتک عن شیء بعدھا) ” اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا “ یعنی اس مرتبہ کے بعد (فلا تصحبنی) ” تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں “ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں۔ (قد بلغت من لدنی عذرا) ” آپ میری طرف سے عذر کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 62–81

قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

1. 119 حضرت موسیٰ کی طرف سے آخری موقعہ کی تعیین : سو حضرت موسیٰ نے آخری موقعہ کی تعیین کرتے ہوئے حضرت خضر سے کہا کہ " اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کچھ پوچھا تو آپ مجھے اپنے سے علیحدہ کردینا " کہ یقینا ایسی صورت میں آپ میری طرف سے معذوری کو پہنچ گئے۔ یعنی اب مجھے الگ کردینے پر آپ معذور ہوں گے اور آپ پر کوئی الزام و اعتراض نہیں ہوگا۔ کیونکہ ایسے میں آپ بھی معذوری کی انتہاء کو پہنچ چکے ہوں گے اور اس کے بعد میں بھی آپ کے ساتھ نہیں چل سکوں گا۔ کیونکہ تین مرتبہ دینے سے حجت پوری ہوجائے گی اور حضرت موسیٰ کا یہ کلام انتہائی ندامت کی بناء پر تھا کہ مجھے اپنی طرف سے پختہ وعدہ کرنے کے باوجود حضرت خضر سے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–82

قَالَ اَلَمْ (پارہ نمبر 16) سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کی جدائی تشریح : اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ کسی اجتماع میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی دوسرا شخص عالم فاضل نہیں ہوسکتا ؟ تو آپ نے سادگی یا لاعلمی میں کہہ دیا کہ ہاں مجھ سے زیادہ کوئی اور علم نہیں رکھتا۔ تو اللہ کو یہ ناگوار گزرا، اس لیے آپ کو خضر (علیہ السلام) کے پاس بھیج دیا تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ سے زیادہ علم رکھنے والا بھی موجود ہے اور پھر سب سے بڑا علیم و حکیم تو صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ جس کو جتنا علم دینا چاہے دے دیتا ہے اس میں کسی شخص کا اپنا کوئی کمال نہیں۔ اسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–82

(رکوع نمبر 11) اسرارومعارف حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا میں نے تو آپ سے پہلے کہہ دیا تھا کہ آپ برداشت نہ کر پائیں گے آپ شریعت کے محافظ جبکہ میں آپ کی شریعت کا مکلف نہیں ہوں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بھئی ٹھیک ہے ، ایک بار برداشت کرلیجئے اور مجھے دیکھ لینے دیں اگر پھر میں کوئی سوال کروں تو آپ میری راہ الگ کر دیجئے کہ اب بہت ہوچکا اور اس سے زیادہ عذر معذرت بھی مناسب نہیں ۔ (اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہیں) کسی آدمی کے غلط کام کو اس کے کشف پر محمول نہیں کیا جاسکتا کہ اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہوتے ہیں جب تک دنیا میں ہیں ، اور بعد وصال کی عام آدمی کو خبر نہیں ہوتی ، چناچہ پھر روانہ ہوئے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 75–76

ف 1 یعنی میرا ساتھ چھوڑ دینے کے لئے آپ کو پورا عذر مل گیا۔ اس میں خضر کی انتہائی تعریف ہے۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:76) لا تصحبنی۔ تو مجھے اپنی صحبت میں نہ رکھنا۔ تو مجھے ساتھ نہ رکھنا۔ مصاحبۃ (مفاعلۃ) سے فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ یضمیر واحد متکلم۔ قد بلغت من الدنی عذرا۔ بیشک آپ میری طرف سے حد عذر کو پہنچ چکے یعنی میرا کوئی عذر نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 71–78

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 78 السفینۃ کشتی، جہاز۔ خرق سوراخ کردیا۔ لتغرق تاکہ تو غرق کر دے۔ امر ناپسندیدہ بات ، عجیب بات۔ نسیت میں بھول گیا۔ لاترھقنی نہ ڈال مجھ پر۔ عسر مشکل ، تنگی۔ زکیۃ پاک، ستھری۔ نکر بےجابات۔ لا تصاحبنی مجھے ساتھ نہ رکھنا۔ بلغت تو پہنچ گیا۔ استطعما دونوں نے کھانا طلب کیا۔ ابوا انکار کردیا۔ یضیفوا وہ مہمان بنائیں گے۔ جدار دیوار۔ ینقص وہ ٹوٹ جائے گا۔ اقام درست کردیا۔ فراق جدائی۔ انبی میں بتاؤں گا۔ تاویل حقیقت، انجام۔ تشریح :- آیت نمبر 71 تا 78 ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے جب حضرت موسیٰ نے یہ وعدہ کرلیا کہ وہ حضرت خضر سے کسی کام یا بات پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–78

حضرت موسیٰ و حضرت خضر (علیہما السلام) کے علم کا نتیجہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پھر وہی فرمایا کہ میں نہیں کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کریں گے، اور معالملات میں دخیل ہوں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ آئندہ اگر میں آپ کے معاملہ کے متعلق کچھ اعتراض کروں تو پھر مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ اس کے بعد دونون ایک گاؤں میں پہنچے۔ اور اس گا ؤن والوں کہ یہ دستور تھا کہ شام کے وقت سے گاؤں کا دروازہ بند کردیتے تھے تو پھر کسی کے واسطے ہرگز نہ کھولتے تھے۔ یہ شام کے بعد پہنچے اور گاؤں والوں سے کہا کہ دروازہ کھولو۔ کسی نے نہ کھولا پھر حضرت خضر (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 76–79

[24] مطلب یہ ہے کہ اگر تیسری بار مجھ سے ایسا قصور ہو تو آپ کو میرے جدا کرنے کا اختیار ہے اس صورت میں آپ معذور سمجھے جائیں گے اور مجھے آپ سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 71–76

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تقاضائے اصلاح اور خضر (علیہ السلام) کی عاقبت اندیشی : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب خضر (علیہ السلام) سے ملتے ہیں تو طلب علم کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور اجازت چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ رہیں ، اور ان کی صحبت سے استفادہ کریں ، اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ تعلیم صرف کتابیں پڑھا دینا نہیں ، بلکہ استاد شاگرد کو ہر لمحہ اپنے ساتھ رکھے ، اور اس کی دماغی تربیت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دے ، حضرت خضر (علیہ السلام) کہتے ہیں صبر و برداشت شرط ہے ، اگر میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو جو کچھ بھی دیکھو ، اس پر خاموشی سے غور کرنا ہوگا اور جب تک میں تمہیں خود نہ بتاؤں تم مجھ سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-76 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر میں اس واقعہ کے بعد آپ سے پکچھ پوچھوں اور آپ سے کوئی سوال کروں تو آپ مجھ کو اپنے ساتھ نہ رکھیں بیشک آپ نے میری طرف سے عذر قبول کرنے میں انتہا کردی اور میری طرف سے آپ نے الزام اتار دیا۔ یعنی آپ نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی کہ آپ پر کوئی الزام رکھا جاسکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 76–77

ف 5۔ یعنی آپ نے بہت درگزر کی، اب اگر اب ساتھ نہ رکھیں گے تو معذور ہیں۔ فائدہ۔ اب کی بار نسیان کا عذر نہ کرنے سے معلوم ہوا کہ نسیان نہ ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی دوبارہ معذرت کرلی : 81۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دفعہ بھی اپنے صاحب سے معذرت کرلی اور معذرت کے ساتھ اتنا مزید کہہ دیا کہ صاحب ! اگر میں نے آئندہ آپ پر کوئی ایسا سوال کیا تو آپ مجھے اپنی مصاحبت میں بیشک نہ رکھیے اور میری طرف سے آئندہ ایسی اپیل نہیں ہوگی اور نہ ہی میں اس کا مجاز ہوں گا ، جیسا کہ آپ پیچھے پڑھ چکے پہلی بار موسیٰ (علیہ السلام) نے بھول جانے کا عذر کیا تھا لیکن اب کی دفعہ یہ نہیں فرمایا کہ میں بھول گیا جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ سمجھ گئے کہ میری طبیعت ہی ایسی باتوں کو برداشت نہیں کرسکتی اور یہی بات ان کو باور کرانا مقصود تھی کیونکہ مصر میں جو ایک قتل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 74–76

We now move to the sentence: حَتَّىٰ إِذَا لَقِيَا غُلَامًا (until when they met a boy -74). The word: غُلَام (ghulam) in the text is used for a minor boy in the Arabic usage. This boy killed by al-Khadir (علیہ السلام) was a minor - as corroborated by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and most commentators. Further on, when the words: نَفْسًا زَكِيَّةً (innocent person) were used for him, that too supports the view that he was a minor. The reason is that زَكِيَّةً (zakiyyah) means 'free of sin' and it can be either the attribute of a prophet or a minor child who faces no accounting for what is done by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–81

59. The name of this servant has been stated to be Khidr in all the authentic books of traditions. Thus there is no reason why it should be considered at all that his name was Elijah, as some people have asserted under the influence of the Israelite traditions. Their assertion is incorrect not only because it contradicts the assertion of the Prophet (peace be upon him) but it is also absurd because Prophet Elijah (peace be upon him) was born several hundred years after Prophet Moses (peace be upon him). Though the Quran does not mention the name of the attendant of Prophet Moses (peace be…

Read the full tafseer →