Al-Kahf 18:75

Al-Kahf · from ayah 75

18:75

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا ۟قَالَ اَ لَمۡ اَ قُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنۡ تَسۡتَطِيۡعَ مَعِىَ صَبۡرًا

(خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Al-Khidh r] said, "Did I not tell you that with me you would never be able to have patience?"

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 10 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:75

اُس نے کہا " میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه کہنے لگے کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراه ره کر ہرگز صبر نہیں کر سکتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا : کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہنے پر صبر نہیں کرسکیں گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہرسکیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(خضرعلیہ السلام نے) کہا: کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کر سکیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ یقینا تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(خضر نے) کہا : میں نے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ کبھی صبر نہ کرسکو گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

(خضر ؑ نے) کہا میں نے آپ سے کہہ دیا تھا ناکہ آپ سے میرے ساتھ نباہ نہ ہوسکے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس (خضر) نے کہا : کیا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہ ہو سکے گا ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: "Did I not tell you that you will not be able to patiently bear with me?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Did I not tell you that you can never bear with me patiently?

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Did I not tell you that you can never bear with me patiently?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Did I not tell you that you can have no patience with me"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Did I not tell thee that thou couldst not bear with me?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Al-Khidh r] said, "Did I not tell you that with me you would never be able to have patience?"

— Saheeh International

He responded, "Did I not tell you that you will not be able to remain patient with me?"

— Muhammad Sarwar

He said: Did I not say to you that you will not be able to have patience with me?

— Muhammad Habib Shakir

He said: said I not unto thee that thou wouldst by no means be able to have with me patience?

— Abdul Majid Daryabadi

He answered: "Did I not tell thee that thou canst have no patience with me?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:75

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–76

موسیٰ ؑ کی بےصبری۔ حضرت خضر ؑ نے اس دوسری مرتبہ اور زیادہ تاکید سے حضرت موسیٰ ؑ کو ان کی منظور کی ہوئی شرط کے خلاف کرنے پر تنبیہہ فرمائی۔ اسی لئے حضرت موسیٰ ؑ نے بھی اس بار اور ہی راہ اختیار کی اور فرمانے لگے اچھا اب کی دفعہ اور جانے دو اب اگر میں آپ پر اعتراض کروں تو مجھے آپ اپنے ساتھ نہ رہنے دینا، یقینا آپ بار بار مجھے متنبہ فرماتے رہے اور اپنی طرف سے آپ نے کوئی کمی نہیں کی اب اگر قصور کروں تو سزا پاؤں۔ ابن جریر میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی یاد آجاتا اور اس کے لئے آپ دعا کرتے تو پہلے اپنے لئے کرتے۔ ایک روز فرمانے لگے ہم پر اللہ کی رحمت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–81

سورة الْكَهْف 59 اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔ حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–76

(آیت) حَتّىٰٓ اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا لفظ غلام عربی زبان کے اعتبار سے نابالغ لڑکے کو کہا جاتا ہے یہ لڑکا جس کو خضر ؑ نے قتل کیا اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور اکثر مفسرین نے یہی کہا ہے کہ وہ نابالغ تھا اور آگے جو اس کے متلعق آیا نَفْسًا زَكِيَّةًۢ اس سے بھی اس کے نابالغ ہونے کی تائید ہوتی ہے کیونکہ زکیہ کے معنی ہیں گناہوں سے پاک اور یہ صفت یا پیغمبر کی ہو سکتی ہے یا نابالغ بچے کی جس کے افعال و اعمال پر مواخذہ نہیں اس کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 74–76

تفسیر آیات 74 تا 76: فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غُلامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا (74) قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (75) قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا (76) لڑکے کے قتل کا واقعہ : پھر کہیں کو چکے۔ راستہ میں ایک لڑکا ملا۔ خضر نے اس کو قتل کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ ؑ پر بپھر گئے۔ بولے یہ آپ نے کیا کر ڈالا، ایک معصوم کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو، آپ نے قتل کرڈالا۔ یہ تو آپ نے بڑی بھونڈی حرکت کی ! حضرت خضر نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 74–75

74۔ 1 غلام سے مراد بالغ جوان بھی ہوسکتا ہے اور نابالغ بچہ بھی۔ 74۔ 2 نکرا، فظیعامنکرا لا یعرف فی الشرع، ، ایسا بڑا برا کام جس کی شریعت میں گنجائش نہیں بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی ہیں انکر من الامر الاول پہلے کام (کشتی کے تختے توڑنے) سے زیادہ برا کام۔ اس لئے کہ قتل، ایسا کام ہے جس کا تدارک اور ازالہ ممکن نہیں۔ جبکہ کشتی کے تختے اکھیڑ دینا، ایسا کام ہے جس کا تدارک اور ازالہ کیا جاسکتا ہے، کیونکہ حضرت موسیٰ ؑ کو جو علم شریعت حاصل تھا، اس کی رو سے حضرت خضر کا یہ کام بہرحال خلاف شرع تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے اعتراض کیا اور اسے نہایت برا کام قرار دیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 74–76

39: مذکورہ حدیث میں ہے کہ وہ لڑکا دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حضرت خضر ؑ نے اس کا سر دھڑ سے الگ کردیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ اب ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ وہ اب سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دو مرتبہ وعدہ خلافی کرلی۔ اور ان کی یاد دہانی کے بعد پھر وہ بھول گئے۔ چناچہ وہ آگے بڑھ کر خود ہی اپنے لئے آخری بار مقرر فرماتے ہیں کہ اگر اب کے میں نے خلاف ورزی کی تو آپ مجھے علیحدہ کردیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 کیونکہ ایسے حالات و واقعات دیکھنے میں آئیں گے جن پر تم خاموشی کے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے۔ آخر وہی ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 74–75

قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةًۢبِغَيْرِ نَفْسٍ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا کسی کا خون نہیں بہایا تھا پھر بھی آپ نے اسے قتل کردیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 74–76

64 خضر نے نوجوان کو کیوں مارا ؟ :۔ یہ ایک خوبصورت نوجوان لڑکا تھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ مل کر کھیل رہا تھا۔ سیدنا خضر نے اس لڑکے کو پکڑ کر اس کی گردن کو مروڑا۔ حتیٰ کہ اس کی جان نکل گئی۔ اب ظاہر ہے کہ ایک شریعت کا علمبردار اولوالعزم پیغمبر ایسی بات کیسے برداشت کرسکتا تھا۔ ؟ پہلے بھی ایک کام سیدنا موسیٰ کی طبیعت کے خلاف ہوچکا تھا اور یہ کام پہلے کام سے بھی سخت تر تھا لہذا سیدنا موسیٰ رہ نہ سکے اور یہ اعتراض کر ہی دیا بلکہ ہلکی سی ملامت بھی کردی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

109۔ (اور اب اس کا ظہور پوری طرح ہونے لگا ہے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہلا سوال تو غالبا بےخیالی سے کر گزرے تھے جیسا کہ ان کے عذر (آیت) ” لا تؤاخذنی بما نسیت “ سے متبادر ہورہا ہے۔ لیکن یہ دوسرا سوال عمدا تھا چناچہ اب کی وہ اپنے سہوانسیان کا عذر بالکل نہیں پیش کرتے۔ احکام شریعت کی خلاف ورزی پر تحمل جب عام صالحین سے نہیں ہوسکتا تو موسیٰ (علیہ السلام) تو ظاہر ہے کہ پیغمبر برحق تھے۔ اور آپ کا کام ہی ہر قسم کی بدی کو روکنا اور نیکی کو پھیلانا تھا۔” موسیٰ (علیہ السلام) نے وعدہ کرکے پھر جو اعتراض فرمایا تو وجہ یہ کہ وہ وعدہ معنی مقید تھا عدم مخالفت شریعت کے ساتھ گوصورۃ مطلق تھا۔ پس اس کو خلف لازم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 72–78

آیت نمبر 72 تا 78 ترجمہ : حضرت خضر نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکو گے تو موسیٰ نے کہا میری بھول چوک پر مجھ سے مواخذہ نہ فرمائیں یعنی مجھ سے آپ کی فرمانبرداری میں اور آپ پر اعتراض کو ترک کرنے میں غفلت ہوگئی اور آپ مجھ پر میرے معاملہ میں تنگی نہ ڈالیں یعنی کلفت میں مبتلا نہ کریں اور آپ اپنے ساتھ میری مصاحبت کے معاملہ میں دشواری پیدا نہ کیجئے یعنی میرے ساتھ درگذر اور سہولت کا معاملہ کیجئے پھر دونوں کشتی سے اترنے کے بعد پا پیادہ چلے یہاں تک کہ جب دونوں کی ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی جو کہ ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچا تھا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور ان میں سب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا۔ خضر نے کہا کیا میں نے آپ سے نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں رکھ سکیں گے اس مرتبہ خضر نے اپنے کلام میں لکبڑھا دیا تاکہ خطاب سے ترک معاہدہ پر عتاب کا اظہار پُر زور طور پر ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 60–82

(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 75–76

قَالَ اَ لَمْ اَقُلْ لَّكَ : ”کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا“ ان الفاظ میں تنبیہ پہلے سے سخت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ درگزر دو دفعہ ہوتی ہے، تیسری دفعہ کوئی معاف نہ کرے تو وہ حق بجانب اور معذور ہے اور یہ کہ استاذ اگر سمجھے کہ میں طالب علم کو نہیں پڑھا سکتا تو وہ عذر کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 74–75

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : غلما علماء کا غلام کے بارے میں اختلاف کیا ہے، کیا وہ بالغ تھا یا نہیں ؟ کلبی نے کہا : وہ بالغ تھا وہ دو شہروں کے درمیان ڈاکہ ڈالتا تھا اس کا باپ ان دو شہروں میں ایک شہر کے عظماء میں سے تھا اور اس کی ماں دوسرے شہر کے عظماء میں سے تھی۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اسے پکڑا اور اسے گرا دیا اور اس کا سر تن سے جدا کردیا۔ کلبی نے کہا : غلام کا نام شمعون تھا۔ ضحاک نے کہا : حیسون تھا۔ وہب نے کہا : اس کا باپ کا نام سل اس اور اس کی ماں کا نام رحمی تھا۔ سہیلی نے اس کے باپ کا نام زیر اور اس کی ماں کا نام سہوی حکایت کیا ہے۔ جمہور علماء نے کہا : وہ بالغ نہ تھا، اسی وجہ سے حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 74–76

بچوں کو قتل کرنا حرام ہے : 68:۔ ابن ابی شیبہ نے یزید بن جریر (رح) سے روایت کیا کہ نجدہ نے ابن عباس ؓ سے بچوں کے قتل کے بارے میں سوال کیا اور اس نے اپنے خط میں لکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ عالم نے (یعنی خضر (علیہ السلام) نے ایک بچہ کو قتل کیا یزید نے کہا میں اپنے ہاتھ سے ابن عباس ؓ کے خط میں لکھا نجدہ کی طرف تو نے مجھے بچوں کے قتل کے بارے میں سوال کیا ہے اور وہ تو نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی عالم کا حوالہ دیا ہے کہ اس نے لڑکوں کو قتل کیا تھا اگر ایسا ہی علم رکھتا ہے بچوں کے بارے میں جو وہ عالم ( موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھی) علم رکھتا تھا پھر تو لڑکوں کو قتل کردے یقینا تو ایسا علم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں نے کہا ] [اَ : کیا ] [ لَمْ اَقُلْ : میں نے نہیں کہا تھا ] [لَّكَ : آپ (علیہ السلام) سے ] [انكَ : کہ آپ (علیہ السلام) ] [لَنْ تَسْتَطِيْعَ : ہرگز صلاحیت نہیں رکھیں گے ] [مَعِيَ : میرے ساتھ ] [صَبْرًا : صبر کرنے کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 60–78

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–82

بقیہ قصۂ موسیٰ (علیہ السلام) با خضر (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ قال الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ذلک تا ویل ما لم تسطع علیہ صبرا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ دیکھا کہ خضر (علیہ السلام) نے یکایک ایک معصوم اور بےگناہ بچے کو مار ڈالا تو ان سے ضبط نہ ہوسکا۔ اور بےاختیار کہہ اٹھے۔ لقد جئت شیئا نکرا۔ ( آپ (علیہ السلام) نے تو بڑی ہی بےجا اور ناپسندیدہ حرکت کی) تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے جواب میں کہا۔ اے موسیٰ کیا میں تم سے پہلے ہی اول صحبت میں یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کرسکو گے آخر وہی ہوا جو میں نے اول بار کہہ دیا تھا۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 74–76

70:۔ یہ دوسرا واقعہ ہے جب کشتی سے اتر کر آگے چلے تو ایک لڑکا ملا حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس لڑکے کو قتل کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پھر بول اٹھے کہ تم نے ایک معصوم اور بےگناہ بچے کو قتل کرکے بہت برا فعل کیا ہے۔ اس پر حضرت خضر (علیہ السلام) نے پھر ان کو ان کا سابقہ عہد یاد دلایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں کہا، اب اگر میں تم پر اعتراض کروں تو بیشک آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں کیونکہ آپ کے پاس مجھے جدا کرنے کا معقول عذر ہوگا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ مقتول چھوٹا لڑکا نہیں تھا بلکہ نوجوان آدمی تھا اور ” غلٰم “ کے معنی نوجوان کے بھی آتے ہیں۔ وقیل کان بالغا شابا (روح ج 15 ص 338) ۔ وقیل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–78

ربط آیات : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی علمیت کے معاملہ میں ذرا سی لغزش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا ، اللہ نے فرمایا کہ تجھ سے زیادہ عالم ہمارا ایک بندہ ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے ملاقات کی خواہش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فلاں سمت سفر اختیار کرو ہمارا وہ بندہ تمہیں مجمع البحرین کے قریب مل جائے گا ، اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر فرمایا کہ جہاں تمہاری تلی ہوئی مچھلی گم ہوجائے گی ، ہمارا وہ خاص بندہ اسی مقام پر مل جائے گا بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم یوشع بن نون (علیہ السلام) کے ہمراہ سفر کیا ، جہاں پر مچھلی گم ہوئی تھی وہیں پر اللہ کے خاص بندے حضرت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيْعَ مَعِيَ صَبْرًا۝ 75 الاستطاعۃ . وَالاسْتِطَاعَةُ : استفالة من الطَّوْعِ ، وذلک وجود ما يصير به الفعل متأتّيا، الاسْتِطَاعَةُ أخصّ من القدرة . قال تعالی: لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] ( ط و ع ) الطوع الاستطاعۃ ( استفعال ) یہ طوع سے استفعال کے وزن پر ہے اور اس کے معنی ہیں کسی کام کو سر انجام دینے کے لئے جن اسباب کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا موجہ ہونا ۔ اور استطاعت قدرت سے اخص ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنْفُسِهِمْ [ الأنبیاء/ 43] وہ نہ تو آپ اپنی مدد کرسکتے ہیں ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 72–78

ترکیب : عن ‘ یسئلونک سے متعلق ذکرا ‘ اتلوا کا مفعول، مکنا مفعول امرہ محذوف وجدھا جواب ہے اذابلغ کا تغرب جملہ حال ہے ضمیر وجدھا سے یا مفعول وجد حمئۃ ذات حمات۔ الحمات الطین الاسودوقرآء ابن عامر و حمزۃ حامیۃ اے حارۃ اما تخیر کے لیے جزاء کو حمزہ کسائی خفص بالنصف والتنوین پڑھتے ہیں اور باقی بالرفع والاضافۃ۔ اول تقدیر پر فلہ الحسنی جزاء ً ً جیسا کہ کہتے ہیں لک ھذا الثوب ہبۃ دوسری صورت میں الحسنی کا موصوف الفعلہ مقدر مانا جائے گا یا المثوبۃ پس جزاء موصوف ہوگی المثوبۃ الحسنیٰ کی واضافۃ الموصوف الی الصفۃ کثیر۔ تفسیر …ذوالقرنین کال اور اس کا سفر : یہ تیسرا قصہ ذوالقرنین کا ہے جو اہل کتاب کے کہنے سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 75–76

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّـکَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا۔ قَالَ اِنْ سَاَلْـتُکَ عَنْ شَیْ ئٍم بَعْدَھَا فَلاَ تُصٰحِبْنِیْ ج قَدْبَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا۔ (الکہف : 75، 76) (حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا میں نے آپ ( علیہ السلام) سے نہیں کہا تھا کہ آپ ( علیہ السلام) میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اب اگر میں آپ ( علیہ السلام) سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ ( علیہ السلام) مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا۔ آپ ( علیہ السلام) میری جانب سے حدعذر کو پہنچ گئے۔ ) حضرت خضر (علیہ السلام) نے ان کو پھر اپنی بات یاد دلائی کہ کیا میں نے آپ سے پہلے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–77

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جناب خضر (علیہ السلام) کے ہم سفر ہوئے۔ حضرت خضر نے انہیں پہلے سے ہی یہ بات کہہ دی کہ آپ اس شرط پر میرے ہمسفر ہوسکتے ہیں کہ دوران سفر جو کچھ میں کروں آپ کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ہوا یہ کہ بحری سفر کے دوران خضر (علیہ السلام) نے بیڑے کا ایک تختہ توڑ دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) چونک اٹھے اور کہا کہ کیا آپ سب کو غرق کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اعتراض نہ کرنے کا وعدہ یاد کروایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ کشتی سے اتر کر جب ان کا گزر ایک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

خضر کی یاد دہانی : 75: قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکَ اِنَّکَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا (اس نے کہا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تو میرے ساتھ رکنے کی طاقت نہیں رکھتا) اس دفعہ خضر نے اپنے کلام میں لک کا اضافہ کیا ہے تاکہ خطاب کے ذریعے معاہدہ کے چھوڑنے پر عتاب کا زیادہ اظہارہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (75)” قال “ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا ” الم اقل لک انک لن تسطیع معی صبرا “ یہاں تاکید میں مزید زیادتی کی ہے کیونکہ نقض عہد دو مرتبہ ہوچکا تھا۔ حضرت یوشع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہر مرتبہ یہی فرماتے تھے کہ اپنے اس وعدہ کو یاد کریں جو آپ نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–82

71۔ 82:۔ جب خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم میرے ساتھ رہو گے تو تم سے میری باتوں پر صبر نہ ہو سکے گا اسی کا یہ جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہاری باتوں پر صبر کروں گا اور تمہاری کوئی بات نہ ٹالوں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎، سے جو قصہ کے شروع میں گزری اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اس وعدہ کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) اگر خضر (علیہ السلام) کی باتوں پر صبر کرکے کچھ اور خضر (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تو خوب ہوتا کیونکہ اس صورت میں اور نئی باتیں اللہ تعالیٰ اس قصہ میں ذکر فرماتا اسی سورة میں مسند امام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–82

(آیت 75) پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعتراض ان کے نسیان کا نتیجہ تھا۔ دوسری مرتبہ اعتراض نسیان کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس کا سبب عدم صبر تھا، اس لئے حضرت خضر (علیہ السلام) نے عتاب کرتے ہوئے اور ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا : (الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا) ” کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : (ان اسلتک عن شیء بعدھا) ” اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کی بابت پوچھا “ یعنی اس مرتبہ کے بعد (فلا تصحبنی) ” تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں “ یعنی آپ مجھے مصاحبت میں نہ رکھنے پر معذور ہیں۔ (قد بلغت من لدنی عذرا) ” آپ میری طرف سے عذر کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 62–81

قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 69–75

118۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے صبروبرداشت کا وعدہ :۔ سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ ” آپ مجھے انشاء اللہ صابر ہی پائیں گے “ اور میں بہرحال صبر ہی سے کام لونگا ان شاء اللہ۔ ہاں اگر کوئی بھول چوک ہوجائے تو معاف کردینا۔ کیونکہ بھول چوک قابل گرفت چیز نہیں ہوتی بلکہ اس پر عفودرگزر سے کام لیا جاتا ہے۔ لہذا آپ اس طرح کی کسی بھول چوک پر میری گرفت نہیں فرمانا اور میرے بارے میں سختی سے کام نہیں لینا۔ میں بہرحال صبر ہی سے کام لونگا اور آپ کی کوئی نافرمانی نہیں کرونگا اور ایسے کاموں پر بھی کچھ نہیں کہوں گا جو بظاہر منکر ہوں گے۔ کیونکہ مجھے یہ اطمینان اور یقین ہے کہ جب مجھے میرے رب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–82

قَالَ اَلَمْ (پارہ نمبر 16) سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کی جدائی تشریح : اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ کسی اجتماع میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی دوسرا شخص عالم فاضل نہیں ہوسکتا ؟ تو آپ نے سادگی یا لاعلمی میں کہہ دیا کہ ہاں مجھ سے زیادہ کوئی اور علم نہیں رکھتا۔ تو اللہ کو یہ ناگوار گزرا، اس لیے آپ کو خضر (علیہ السلام) کے پاس بھیج دیا تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ سے زیادہ علم رکھنے والا بھی موجود ہے اور پھر سب سے بڑا علیم و حکیم تو صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ جس کو جتنا علم دینا چاہے دے دیتا ہے اس میں کسی شخص کا اپنا کوئی کمال نہیں۔ اسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 75–82

(رکوع نمبر 11) اسرارومعارف حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا میں نے تو آپ سے پہلے کہہ دیا تھا کہ آپ برداشت نہ کر پائیں گے آپ شریعت کے محافظ جبکہ میں آپ کی شریعت کا مکلف نہیں ہوں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا بھئی ٹھیک ہے ، ایک بار برداشت کرلیجئے اور مجھے دیکھ لینے دیں اگر پھر میں کوئی سوال کروں تو آپ میری راہ الگ کر دیجئے کہ اب بہت ہوچکا اور اس سے زیادہ عذر معذرت بھی مناسب نہیں ۔ (اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہیں) کسی آدمی کے غلط کام کو اس کے کشف پر محمول نہیں کیا جاسکتا کہ اولیاء اللہ شریعت کے مکلف ہوتے ہیں جب تک دنیا میں ہیں ، اور بعد وصال کی عام آدمی کو خبر نہیں ہوتی ، چناچہ پھر روانہ ہوئے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 75–76

ف 1 یعنی میرا ساتھ چھوڑ دینے کے لئے آپ کو پورا عذر مل گیا۔ اس میں خضر کی انتہائی تعریف ہے۔ (کبیر)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 71–78

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 78 السفینۃ کشتی، جہاز۔ خرق سوراخ کردیا۔ لتغرق تاکہ تو غرق کر دے۔ امر ناپسندیدہ بات ، عجیب بات۔ نسیت میں بھول گیا۔ لاترھقنی نہ ڈال مجھ پر۔ عسر مشکل ، تنگی۔ زکیۃ پاک، ستھری۔ نکر بےجابات۔ لا تصاحبنی مجھے ساتھ نہ رکھنا۔ بلغت تو پہنچ گیا۔ استطعما دونوں نے کھانا طلب کیا۔ ابوا انکار کردیا۔ یضیفوا وہ مہمان بنائیں گے۔ جدار دیوار۔ ینقص وہ ٹوٹ جائے گا۔ اقام درست کردیا۔ فراق جدائی۔ انبی میں بتاؤں گا۔ تاویل حقیقت، انجام۔ تشریح :- آیت نمبر 71 تا 78 ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے جب حضرت موسیٰ نے یہ وعدہ کرلیا کہ وہ حضرت خضر سے کسی کام یا بات پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–78

حضرت موسیٰ و حضرت خضر (علیہما السلام) کے علم کا نتیجہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پھر وہی فرمایا کہ میں نہیں کہتا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کریں گے، اور معالملات میں دخیل ہوں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ آئندہ اگر میں آپ کے معاملہ کے متعلق کچھ اعتراض کروں تو پھر مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ اس کے بعد دونون ایک گاؤں میں پہنچے۔ اور اس گا ؤن والوں کہ یہ دستور تھا کہ شام کے وقت سے گاؤں کا دروازہ بند کردیتے تھے تو پھر کسی کے واسطے ہرگز نہ کھولتے تھے۔ یہ شام کے بعد پہنچے اور گاؤں والوں سے کہا کہ دروازہ کھولو۔ کسی نے نہ کھولا پھر حضرت خضر (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–75

[23] حدیث میں یوں آیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کوئی آپ سے زیادہ بھی علم رکھتا ہے ؟ فرمایا میں نہیں جانتا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہی سب سے بڑے عالم ہیں۔ اس پر وحی آئی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں ملاقات ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 71–76

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تقاضائے اصلاح اور خضر (علیہ السلام) کی عاقبت اندیشی : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب خضر (علیہ السلام) سے ملتے ہیں تو طلب علم کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور اجازت چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ رہیں ، اور ان کی صحبت سے استفادہ کریں ، اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ تعلیم صرف کتابیں پڑھا دینا نہیں ، بلکہ استاد شاگرد کو ہر لمحہ اپنے ساتھ رکھے ، اور اس کی دماغی تربیت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دے ، حضرت خضر (علیہ السلام) کہتے ہیں صبر و برداشت شرط ہے ، اگر میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو جو کچھ بھی دیکھو ، اس پر خاموشی سے غور کرنا ہوگا اور جب تک میں تمہیں خود نہ بتاؤں تم مجھ سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-75 حضرت خضر علیہ ال سلام نے فرمایا میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہ کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 69–75

ف 4۔ یعنی مثلا اگر روک ٹوک سے منع کردیں گے تو میں روک ٹوک نہ کروں گ، اسی طرح اور کسی بات میں بھی خلاف نہ کروں گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انجام کار صاحب موسیٰ کو پھر اپنی پہلی بات کو دہرانا پڑا : 80۔ صاحب موسیٰ نے جب ایک شخص کو قتل کردیا تو موسیٰ (علیہ السلام) سے رہا نہ گیا سوال کردیا جیسا کہ پیچھے گزر چکا تو صاحب موسیٰ نے دوبارہ اپنی بات کو دہرایا کہ میں نے تو آپ کو اے موسیٰ ! پہلے ہی کہا تھا کہ آپ اس سفر میں میرے کاموں کا تحمل نہیں رکھتے اس لئے کہ ان کی حقیقت آپ کو معلوم نہیں اور جب تک حقیقت معلوم نہ ہو کتنے کام ہیں جو ظاہری صورت میں بدنما نظر آتے ہیں لیکن جب حقیقت ظاہر ہوجائے تو ساری ناگواری کافور ہوجاتی ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 74–76

We now move to the sentence: حَتَّىٰ إِذَا لَقِيَا غُلَامًا (until when they met a boy -74). The word: غُلَام (ghulam) in the text is used for a minor boy in the Arabic usage. This boy killed by al-Khadir (علیہ السلام) was a minor - as corroborated by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and most commentators. Further on, when the words: نَفْسًا زَكِيَّةً (innocent person) were used for him, that too supports the view that he was a minor. The reason is that زَكِيَّةً (zakiyyah) means 'free of sin' and it can be either the attribute of a prophet or a minor child who faces no accounting for what is done by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–81

59. The name of this servant has been stated to be Khidr in all the authentic books of traditions. Thus there is no reason why it should be considered at all that his name was Elijah, as some people have asserted under the influence of the Israelite traditions. Their assertion is incorrect not only because it contradicts the assertion of the Prophet (peace be upon him) but it is also absurd because Prophet Elijah (peace be upon him) was born several hundred years after Prophet Moses (peace be upon him). Though the Quran does not mention the name of the attendant of Prophet Moses (peace be…

Read the full tafseer →