Al-Kahf 18:74

Al-Kahf · from ayah 74

18:74

فَانْطَلَقَا ۥ— حَتّٰۤی اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ ۙ— قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةً بِغَیْرِ نَفْسٍ ؕ— لَقَدْ جِئْتَ شَیْـًٔا نُّكْرًا ۟فَانْطَلَقَا حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ ۙ قَالَ اَقَتَلۡتَ نَـفۡسًا زَكِيَّةً ۢ بِغَيۡرِ نَـفۡسٍ ؕ لَـقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـئًـا نُّـكۡرًا‏

پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی

— Fateh Muhammad Jalandhari

So they set out, until when they met a boy, al-Khidh r killed him. [Moses] said, "Have you killed a pure soul for other than [having killed] a soul? You have certainly done a deplorable thing."

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 10 of surah · Ruku 22 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:74

پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا اور اس شخص نے اسے قتل کر دیا موسیٰؑ نے کہا "آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اُس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟ یہ کام تو آپ نے بہت ہی برا کیا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک لڑکے کو پایا، اس نے اسے مار ڈاﻻ، موسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈاﻻ؟ بےشک آپ نے تو بڑی ناپسندیده حرکت کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ دونوں پھر روانہ ہوگئے، یہاں تک کہ ان کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی تو ان صاحب نے اسے قتل کر ڈالا۔ موسیٰ بول اٹھے : ارے کیا آپ نے ایک پاکیزہ جان کو ہلاک کردیا، جبکہ اس نے کسی کی جان نہیں لی تھی، جس کا بدلہ اس سے لیا جائے ؟ یہ تو آپ نے بہت ہی برا کام کیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک لڑکا ملا اس بندہ نے اسے قتل کردیا، موسیٰ نے کہا کیا تم نے ایک ستھری جان بے کسی جان کے بدلے قتل کردی، بیشک تم نے بہت بری بات کی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر وہ دونوں چل دیئے یہاں تک کہ دونوں ایک لڑکے سے ملے تو (خضر علیہ السلام نے) اسے قتل کر ڈالا، موسٰی ؑ نے کہا: کیا آپ نے بے گناہ جان کو بغیر کسی جان (کے بدلہ) کے قتل کر دیا ہے، بیشک آپ نے بڑا ہی سخت کام کیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر وہ دونوں چل پڑے، یہاں تک کہ جب وہ ایک لڑکے سے ملے تو اس نے اسے قتل کردیا۔ کہا کیا تو نے ایک بےگناہ جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیر قتل کردیا، بلاشبہ یقینا تو ایک بہت برے کام کو آیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ وہ دونوں پھر چل کھڑے ہوئے تاآنکہ ایک لڑکے کو ملے جسے (خضر نے) مار ڈالا۔ موسیٰ نے کہا : تم نے تو ایک بےگناہ شخص کو مار ڈالا، جس نے کسی کا خون نہ کیا تھا یہ تو تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر چلے، یہاں تک کہ جب ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی تو اس نے اس کو قتل کرڈالا۔ موسیٰ ؑ نے کہا آپ نے ایک معصوم جان کو بغیر کسی قصاص کے قتل کرڈالا۔ یہ تو آپ نے بڑی ہی منکر بات کی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا، تو اس شخص نے اس کو قتل کردیا، تو اس پر موسیٰ (غضبناک اور مشتعل ہو کر) بول اٹھے کہ کیا آپ نے ایک بےگناہ جان کو بغیر کسی جان کے بدلے کے (یونہی ناحق) قتل کردیا ؟ بلاشبہ آپ نے ایک بہت ہی برا کام کردیا۔

— مولانا اسحاق مدنی

(اس کے بعد) پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب وہ دونوں ایک لڑکے سے ملے تو (خضر ؑ نے) اسے مار ڈالا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا آپ نے ایک بےگناہ جان کو مارا ڈالا بغیر کسی جان (کے بدلہ) کے یقیناً آپ نے بڑی بےجا حرکت کی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ان کی ملاقات ہوئی ایک لڑکے سے تو اس (خضر) نے اس کو قتل کردیا موسیٰ نے کہا کیا آپ نے قتل کردیا ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے (بدلے کے) یہ تو آپ نے بہت ہی نامعقول حرکت کی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ راستہ میں ایک لڑکا ملا تو اس نے اسے مار ڈالا۔ موسیٰ نے کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ یہ تو آپ نے بری بات کی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then the two went forth until they met a lad whom he slew, whereupon Moses exclaimed: "What! Have you slain an innocent person without his having slain anyone? Surely you have done a horrible thing."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, they moved ahead until when they met a boy, he killed him (the boy). He (Musa) said, :Did you kill an innocent soul while he did not kill anyone? You have committed a heinous act indeed.

— Muhammad Taqi Usmani

So, they moved ahead until when they met a boy, he killed him (the boy). He (Musa) said, :Did you kill an innocent soul while he did not kill anyone? You have committed a heinous act indeed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then they both proceeded till they met a boy, and he (Khidr) killed him. Musa said: "Have you killed an innocent person without Nafs Verily, you have committed a thing Nukr!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So they twain journeyed on till, when they met a lad, he slew him. (Moses) said: What! Hast thou slain an innocent soul who hath slain no man? Verily thou hast done a horrid thing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So they set out, until when they met a boy, al-Khidh r killed him. [Moses] said, "Have you killed a pure soul for other than [having killed] a soul? You have certainly done a deplorable thing."

— Saheeh International

They continued on their journey until they met a young boy whom he killed. Moses said, "How could you murder an innocent soul? This is certainly a horrible act".

— Muhammad Sarwar

So they went on until, when they met a boy, he slew him. (Musa) said: Have you slain an innocent person otherwise than for manslaughter? Certainly you have done an evil thing.

— Muhammad Habib Shakir

Then the twain journeyed until when they met a boy, and he killed him. Musa said: hast thou slain a person innocent not in return for a Person Assuredly thou hast committed a thing formidable.

— Abdul Majid Daryabadi

Then they proceeded: until, when they met a young man, he slew him. Moses said: "Hast thou slain an innocent person who had slain none? Truly a foul (unheard of) thing hast thou done!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:74

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

حکمت الہی کے مظاہر فرمان ہے کہ اس واقعہ کے بعد دونوں صاحب ایک ساتھ چلے ایک بستی میں چند بچے کھیلتے ہوئے ملے ان میں سے ایک بہت ہی تیز طرار نہایت خوبصورت چالاک اور بھلا لڑکا تھا۔ اس کو پکڑ کر حضرت خضر نے اس کا سر توڑ دیا یا تو پتھر سے یا ہاتھ سے ہی گردن مروڑ دی بچہ اسی وقت مرگیا۔ حضرت موسیٰ ؑ کانپ اٹھے اور بڑے سخت لہجے میں کہا یہ کیا واہیات ہے ؟ چھوٹے بےگناہ بچے کو بغیر کسی شرعی سبب کے مار ڈالنا یہ کون سی بھلائی ہے ؟ بیشک تم نہایت منکر کام کرتے ہو۔ الحمد للہ تفسیر محمدی کا پندرھواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–81

سورة الْكَهْف 59 اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔ حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–76

(آیت) حَتّىٰٓ اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا لفظ غلام عربی زبان کے اعتبار سے نابالغ لڑکے کو کہا جاتا ہے یہ لڑکا جس کو خضر ؑ نے قتل کیا اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور اکثر مفسرین نے یہی کہا ہے کہ وہ نابالغ تھا اور آگے جو اس کے متلعق آیا نَفْسًا زَكِيَّةًۢ اس سے بھی اس کے نابالغ ہونے کی تائید ہوتی ہے کیونکہ زکیہ کے معنی ہیں گناہوں سے پاک اور یہ صفت یا پیغمبر کی ہو سکتی ہے یا نابالغ بچے کی جس کے افعال و اعمال پر مواخذہ نہیں اس کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 74–76

تفسیر آیات 74 تا 76: فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غُلامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا (74) قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (75) قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا (76) لڑکے کے قتل کا واقعہ : پھر کہیں کو چکے۔ راستہ میں ایک لڑکا ملا۔ خضر نے اس کو قتل کردیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ ؑ پر بپھر گئے۔ بولے یہ آپ نے کیا کر ڈالا، ایک معصوم کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو، آپ نے قتل کرڈالا۔ یہ تو آپ نے بڑی بھونڈی حرکت کی ! حضرت خضر نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 74–75

74۔ 1 غلام سے مراد بالغ جوان بھی ہوسکتا ہے اور نابالغ بچہ بھی۔ 74۔ 2 نکرا، فظیعامنکرا لا یعرف فی الشرع، ، ایسا بڑا برا کام جس کی شریعت میں گنجائش نہیں بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی ہیں انکر من الامر الاول پہلے کام (کشتی کے تختے توڑنے) سے زیادہ برا کام۔ اس لئے کہ قتل، ایسا کام ہے جس کا تدارک اور ازالہ ممکن نہیں۔ جبکہ کشتی کے تختے اکھیڑ دینا، ایسا کام ہے جس کا تدارک اور ازالہ کیا جاسکتا ہے، کیونکہ حضرت موسیٰ ؑ کو جو علم شریعت حاصل تھا، اس کی رو سے حضرت خضر کا یہ کام بہرحال خلاف شرع تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے اعتراض کیا اور اسے نہایت برا کام قرار دیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 74–76

39: مذکورہ حدیث میں ہے کہ وہ لڑکا دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حضرت خضر ؑ نے اس کا سر دھڑ سے الگ کردیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

پہلے تو کشتی میں شگاف ڈالا تھا اور لوگوں کی ہلاکت کا محض احتمال تھا لیکن اب تو واضح طور پر انہوں نے ایک شخص کو قتل کردیا۔ یہ قتل عمد تھا۔ محض احتمال قتل نہ تھا اور یہ گناہ کبیرہ تھا۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) صبر نہ کرسکتے تھے۔ اگرچہ انہوں نے عہد کیا تھا اور انہیں یہ عہد یاد بھی تھا۔ اس دفعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہ بھولے تھے اور نہ غافل تھے۔ اب انہوں نے بالا ارادہ اعتراض کردیا۔ کیونکہ وہ اس گناہ کبیرہ پر اعتراض کئے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔ نہ وہ اس کی کوئی تاویل کرسکتے تھے۔ ان کے خیال میں یہ لڑکا بےگناہ تھا۔ اس نے ایسا کوء فعل نہ کیا جس کے نتیجے میں اس کا قتل جائز ہو۔ بلکہ وہ تھا بھی نابالغ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 ایک گاؤں کے قریب چند لڑکے کھیل رہے تھے، ان میں سے ایک کو جو زیادہ خوبصورت اور سیانا تھا پکڑ کر مار ڈالا۔ اور چل کھڑے ہوئے بعض روایات میں اس کا نام جیسور آیا ہے۔ وہ لڑکا بالغ تھا یا نہیں ؟ بعض کا قول ہے کہ بالغ تھا اور لفظ غلام عدم بلوغ پر دلالت نہیں کرتا۔ لیکن جمہور مفسرین اس کو نابالغ ہی بیان کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ 10 یعنی بےگناہ۔ جب تک لڑکا بالغ نہ ہو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ لفظ بظاہر اس کے نابالغ ہونے کی تائید کرتا ہے۔ اگرچہ دوسروں کے لیے تاویل کی گنجائش ہے۔ 11 یعنی اول تو نابالغ قصاص میں بھی قتل نہیں کیا جاسکتا۔ اس پر مزید یہ کہ یہاں قصاص کا بھی کوئی قصہ نہ تھا۔ پھر اس سے بڑھ کر معقول…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 74–75

قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةًۢبِغَيْرِ نَفْسٍ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا کسی کا خون نہیں بہایا تھا پھر بھی آپ نے اسے قتل کردیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 74–76

64 خضر نے نوجوان کو کیوں مارا ؟ :۔ یہ ایک خوبصورت نوجوان لڑکا تھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ مل کر کھیل رہا تھا۔ سیدنا خضر نے اس لڑکے کو پکڑ کر اس کی گردن کو مروڑا۔ حتیٰ کہ اس کی جان نکل گئی۔ اب ظاہر ہے کہ ایک شریعت کا علمبردار اولوالعزم پیغمبر ایسی بات کیسے برداشت کرسکتا تھا۔ ؟ پہلے بھی ایک کام سیدنا موسیٰ کی طبیعت کے خلاف ہوچکا تھا اور یہ کام پہلے کام سے بھی سخت تر تھا لہذا سیدنا موسیٰ رہ نہ سکے اور یہ اعتراض کر ہی دیا بلکہ ہلکی سی ملامت بھی کردی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

108۔ نکرا کے معنی ہیں امر عظیم کے۔ ایسا امر جس سے سب کا نوں پر ہاتھ رکھیں۔ نکرا اے واھیۃ (بخاری) قال ابو عبیدہ نکرا اے عظیما (فتح الباری) النکر الدھاء والامرالصعب الذی لایعرف (راغب قال اللیث الدھاء والنکر لغت للامر الشدید (تاج) نکر کا درجہ قبح میں امر سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ النکر اعظم من الامر فی القبیح (کبیر) وقیل النکر ماانکرتہ العقول ونفرت منہ النفوس وھو ابلغ فی تقبیح الشیء من الامر (کبیر) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو مامور ہی تھے امر بالعروف ونہی عن المنکر پر۔ اب کی آپ کے ٹوکنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ آپ کی پہلی ہی حرکت کیا کم تھی کہ اب کی تو آپ اس سے بھی کہیں بڑھ کر بےجا حرکت کر گزرے۔ کشتی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 72–78

آیت نمبر 72 تا 78 ترجمہ : حضرت خضر نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کرسکو گے تو موسیٰ نے کہا میری بھول چوک پر مجھ سے مواخذہ نہ فرمائیں یعنی مجھ سے آپ کی فرمانبرداری میں اور آپ پر اعتراض کو ترک کرنے میں غفلت ہوگئی اور آپ مجھ پر میرے معاملہ میں تنگی نہ ڈالیں یعنی کلفت میں مبتلا نہ کریں اور آپ اپنے ساتھ میری مصاحبت کے معاملہ میں دشواری پیدا نہ کیجئے یعنی میرے ساتھ درگذر اور سہولت کا معاملہ کیجئے پھر دونوں کشتی سے اترنے کے بعد پا پیادہ چلے یہاں تک کہ جب دونوں کی ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی جو کہ ابھی سن بلوغ کو نہیں پہنچا تھا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور ان میں سب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فانطلقا اس کے بعد (کشتی سے اتر کر) دونوں چل دیئے۔ حتی اذا لقیا غلما فقتلہ یہاں تک کہ جب دونوں کو ایک لڑکا ملا تو خضر نے اس کو مار ڈالا۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ لڑکوں کے ساتھ مل کر ایک لڑکا کھیل رہا تھا جو خوش کلام اور حسین تھا ‘ سدی نے کہا وہ سب سے زیادہ حسین تھا اس کا چہرہ چمکیلا تھا۔ خضر نے اس کو پکڑ کر مار ڈالا ‘ بعض علماء نے کہا پچھاڑ کر چھری سے ذبح کردیا۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ پکڑ کر اس کا سر (گردن کی جڑ سے) اکھاڑ دیا یہ بھی کہا گیا ہے کہ پتھر مار کر اس کا سر کچل دیا۔ کسی نے کہا اس کا سر دیوار سے ٹکرا دیا۔ عبدالرزاق کی روایت میں آیا ہے کہ تین انگلیوں کے اشارے سے اس کا سر اکھاڑ دیا ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 60–82

(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَانْطَلَقَا ۪حَتّىٰٓ اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ : اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکا جوان تھا، اگرچہ وہ اپنے جیسے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ کیونکہ گزشتہ حدیث میں ہے کہ وہ کافر تھا جب کہ اس کے والدین مومن تھے، اگر وہ بچہ ہوتا تو اسے کافر نہ کہا جاتا، کیونکہ مومنوں کی اولاد کو بچپن میں کافر نہیں کہا جاتا۔ موسیٰ ؑ نے بھی اسے کسی کو قتل نہ کرنے کی وجہ سے بےگناہ کہا ہے، بچہ ہونے کی وجہ سے نہیں۔ اس لیے خضر ؑ کا اللہ کے حکم سے ایک کافر کو قتل کرنا کوئی جائے اعتراض نہیں۔ ”غلام“ کا لفظ بچے کے علاوہ جوان اور ادھیڑ عمر پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ حدیث معراج میں موسیٰ ؑ نے ہمارے نبی ﷺ کو ”ھٰذَا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 74–75

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : غلما علماء کا غلام کے بارے میں اختلاف کیا ہے، کیا وہ بالغ تھا یا نہیں ؟ کلبی نے کہا : وہ بالغ تھا وہ دو شہروں کے درمیان ڈاکہ ڈالتا تھا اس کا باپ ان دو شہروں میں ایک شہر کے عظماء میں سے تھا اور اس کی ماں دوسرے شہر کے عظماء میں سے تھی۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اسے پکڑا اور اسے گرا دیا اور اس کا سر تن سے جدا کردیا۔ کلبی نے کہا : غلام کا نام شمعون تھا۔ ضحاک نے کہا : حیسون تھا۔ وہب نے کہا : اس کا باپ کا نام سل اس اور اس کی ماں کا نام رحمی تھا۔ سہیلی نے اس کے باپ کا نام زیر اور اس کی ماں کا نام سہوی حکایت کیا ہے۔ جمہور علماء نے کہا : وہ بالغ نہ تھا، اسی وجہ سے حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 74–76

بچوں کو قتل کرنا حرام ہے : 68:۔ ابن ابی شیبہ نے یزید بن جریر (رح) سے روایت کیا کہ نجدہ نے ابن عباس ؓ سے بچوں کے قتل کے بارے میں سوال کیا اور اس نے اپنے خط میں لکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ عالم نے (یعنی خضر (علیہ السلام) نے ایک بچہ کو قتل کیا یزید نے کہا میں اپنے ہاتھ سے ابن عباس ؓ کے خط میں لکھا نجدہ کی طرف تو نے مجھے بچوں کے قتل کے بارے میں سوال کیا ہے اور وہ تو نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی عالم کا حوالہ دیا ہے کہ اس نے لڑکوں کو قتل کیا تھا اگر ایسا ہی علم رکھتا ہے بچوں کے بارے میں جو وہ عالم ( موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھی) علم رکھتا تھا پھر تو لڑکوں کو قتل کردے یقینا تو ایسا علم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَانطَلَقَا : پھر وہ دونوں چلے ] [حَتّىٰٓ: یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [لَقِيَا : وہ دونوں ملے ] [غُلٰمًا : ایک لڑکے سے ] [فَقَتَلَهٗ : تو انھوں نے قتل کیا اس کو ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [اَ : کیا ] [قَتَلْتَ : آپ نے قتل کیا ] [نَفْسًا زَكِيَّةًۢ: ایک پاکیزہ (معصوم) جان کو ] [بِغَيْرِ نَفْسٍ : کسی جان (کے بدلے) کے بغیر ] [لَقَدْ جِئْتَ : بیشک آپ آئے ہیں ] [شَـيْــــًٔـا نُّكْرًا : ایک ناگوار چیز کے پاس ] غ ل م [غَلَمًا : (س) ] شراب کا جوش مارنا۔ موجوں کا زور سے اٹھنا۔ غُلَامٌ ج غِلْمَانٌ۔ (1) نوجوان لڑکا۔ پھر ہر عمر کے لڑکے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 74 ۔ اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 60–78

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 60–74

قصہ حضرت موسیٰ باخضر (علیہما السلام) قال اللہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح .... الیٰ .... لقد جئت شیئا نکرا۔ (ربط) چونکہ قریش نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لیے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق جو سوالات کیے تھے وہ یہود کے بتلانے اور سمجھانے سے کئے تھے کہ اگر آنحضرت ﷺ ان باتوں کا جواب دے دیں تو جانو کہ وہ نبی ہیں ورنہ نہیں اس لئے یہود کے سنانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم کریں کہ نبی کے لیے یہ شرط نہیں کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہوں اور وہ تمام اخبار اور قصص کا عالم ہو بلکہ نبوت کے لیے وحی اور علوم ہدایت کی معرفت ضروری ہے۔ چناچہ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 74–76

70:۔ یہ دوسرا واقعہ ہے جب کشتی سے اتر کر آگے چلے تو ایک لڑکا ملا حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس لڑکے کو قتل کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پھر بول اٹھے کہ تم نے ایک معصوم اور بےگناہ بچے کو قتل کرکے بہت برا فعل کیا ہے۔ اس پر حضرت خضر (علیہ السلام) نے پھر ان کو ان کا سابقہ عہد یاد دلایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں کہا، اب اگر میں تم پر اعتراض کروں تو بیشک آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں کیونکہ آپ کے پاس مجھے جدا کرنے کا معقول عذر ہوگا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ مقتول چھوٹا لڑکا نہیں تھا بلکہ نوجوان آدمی تھا اور ” غلٰم “ کے معنی نوجوان کے بھی آتے ہیں۔ وقیل کان بالغا شابا (روح ج 15 ص 338) ۔ وقیل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–78

ربط آیات : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی علمیت کے معاملہ میں ذرا سی لغزش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا ، اللہ نے فرمایا کہ تجھ سے زیادہ عالم ہمارا ایک بندہ ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے ملاقات کی خواہش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فلاں سمت سفر اختیار کرو ہمارا وہ بندہ تمہیں مجمع البحرین کے قریب مل جائے گا ، اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر فرمایا کہ جہاں تمہاری تلی ہوئی مچھلی گم ہوجائے گی ، ہمارا وہ خاص بندہ اسی مقام پر مل جائے گا بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم یوشع بن نون (علیہ السلام) کے ہمراہ سفر کیا ، جہاں پر مچھلی گم ہوئی تھی وہیں پر اللہ کے خاص بندے حضرت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَانْطَلَقَا ۝ 0۪ حَتّٰٓي اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا فَقَتَلَہٗ۝ 0ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّۃًۢ بِغَيْرِ نَفْسٍ۝ 0ۭ لَقَدْ جِئْتَ شَـيْــــًٔـا نُّكْرًا۝ 74 لقی اللِّقَاءُ : مقابلة الشیء ومصادفته معا، وقد يعبّر به عن کلّ واحد منهما، يقال : لَقِيَهُ يَلْقَاهُ لِقَاءً ولُقِيّاً ولُقْيَةً ، ويقال ذلک في الإدراک بالحسّ ، وبالبصر، وبالبصیرة . قال : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] ، وقال : لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . ومُلَاقَاةُ اللہ عز وجل عبارة عن القیامة، وعن المصیر إليه . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 72–78

ترکیب : عن ‘ یسئلونک سے متعلق ذکرا ‘ اتلوا کا مفعول، مکنا مفعول امرہ محذوف وجدھا جواب ہے اذابلغ کا تغرب جملہ حال ہے ضمیر وجدھا سے یا مفعول وجد حمئۃ ذات حمات۔ الحمات الطین الاسودوقرآء ابن عامر و حمزۃ حامیۃ اے حارۃ اما تخیر کے لیے جزاء کو حمزہ کسائی خفص بالنصف والتنوین پڑھتے ہیں اور باقی بالرفع والاضافۃ۔ اول تقدیر پر فلہ الحسنی جزاء ً ً جیسا کہ کہتے ہیں لک ھذا الثوب ہبۃ دوسری صورت میں الحسنی کا موصوف الفعلہ مقدر مانا جائے گا یا المثوبۃ پس جزاء موصوف ہوگی المثوبۃ الحسنیٰ کی واضافۃ الموصوف الی الصفۃ کثیر۔ تفسیر …ذوالقرنین کال اور اس کا سفر : یہ تیسرا قصہ ذوالقرنین کا ہے جو اہل کتاب کے کہنے سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَانْطَلَقَا وقفۃ حَتّٰیٓ اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَہٗ لا قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَکِیَّۃً م بِغَیْرِ نَفْسٍ ط لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّـکْرًا۔ (الکہف : 74) (پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے اسے قتل ڈالا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بول پڑے، آپ ( علیہ السلام) نے ایک معصوم جان کو کسی نفس کے بدلے کے بغیر قتل کر ڈالا، یہ تو آپ ( علیہ السلام) نے بڑی ہی منکر بات کی۔ ) لڑکے کے قتل کا واقعہ گزشتہ واقعہ پر معافی تلافی کے بعد پھر دونوں بزرگ روانہ ہوئے تو راستے میں ایک لڑکا ملا، حضرت خضر (علیہ السلام) نے بغیر کسی وجہ کے اسے قتل کر ڈالا۔ ایک نابالغ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 69–74

فہم القرآن ربط کلام : خضر (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ انشاء اللہ آپ مجھے حوصلہ کرنے والا پائیں گے میں آپ کی مخالفت نہیں کروں گا۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو میرے کسی کام کے بارے میں سوال نہ کرنا یہاں تک کہ میں خود اس کی وضاحت کروں۔ یہ بات طے کرنے کے بعد دونوں چل پڑے ا وردریاعبور کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوئے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے کشتی کا ایک تختہ توڑدیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونک اٹھے اور فرمایا کیا آپ کشتی والوں کو ڈبو نا چاہتے ہیں ؟ آپ نے عجب کام کر دکھایا ہے۔ حضرت خضر (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

74: فَانْطَلَقَا حَتّٰی اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَہٗ (دونوں چل دئیے کہ یہاں تک کہ جب دونوں ایک لڑکے کو ملے تو خضر نے اس کو قتل کردیا) ایک قول یہ ہے کہ اس کے سر کو دیوار پر مارا اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس کو لٹا کر چاقو سے ذبح کردیا۔ نکتہ : آیت میں قتلہ سے پہلے فاء لائی گئی ہے مگر خرقا سے پہلے فاء نہیں کیونکہ خرقا کو تو شرط کی جزاء بنایا گیا اور قتلہٗ کو جملہ شرطیہ بنایا گیا جس پر عطف ہورہا ہے اور جزاء قال اَقَتَلْتَ نَفْسًاہے۔ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا (اس نے کہا کیا تم نے ایک جان کو قتل کردیا) ان دونوں کے درمیان خرق اس لئے لایا گیا کیونکہ کشتی کا پھٹنا سوار ہونے کے فورًا بعد نہیں تھا البتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(74)” فانطلقا حتی اذا لقیا غلاماً فقتلہ “ جب وہ دونوں سمندر سے باہر نکلے تو پیدل چلنے لگے۔ یہاں تک کہ دو لڑکوں کے پاس سے گزرے جو کھیل میں مصروف تھے۔ حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس لڑکے کو پکڑ ا جس کا چہرہ بارونق، حسین اور خوش کلام تھا۔ اس کو لٹایا اور ذبح کردیا۔ سدی کا قول ہے کہ وہ سب سے زیادہ حسین تھا۔ اس کا چہرہ چمکیلا تھا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ اس کو سر سے پکڑ ا اور اپنے ہاتھ کے ساتھ اس کا سر جسم سے جدا کردیا۔ عبدالرزاق کی روایت کے مطابق اس کا سر ہاتھ کی انگلیوں کے اشارے سے جدا کردیا۔ تین انگلیاں ابہام، سبابہ اور وسطی ہیں۔ اس طرح اس کا سر جدا ہوگیا اور ایک روایت میں آتا ہے کہ اس کا سر پتھر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 71–82

71۔ 82:۔ جب خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم میرے ساتھ رہو گے تو تم سے میری باتوں پر صبر نہ ہو سکے گا اسی کا یہ جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہاری باتوں پر صبر کروں گا اور تمہاری کوئی بات نہ ٹالوں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎، سے جو قصہ کے شروع میں گزری اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اس وعدہ کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) اگر خضر (علیہ السلام) کی باتوں پر صبر کرکے کچھ اور خضر (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تو خوب ہوتا کیونکہ اس صورت میں اور نئی باتیں اللہ تعالیٰ اس قصہ میں ذکر فرماتا اسی سورة میں مسند امام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 74 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰ اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نون تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا : (آیت) ” جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں۔ “ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 62–81

قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 69–75

118۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے صبروبرداشت کا وعدہ :۔ سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ ” آپ مجھے انشاء اللہ صابر ہی پائیں گے “ اور میں بہرحال صبر ہی سے کام لونگا ان شاء اللہ۔ ہاں اگر کوئی بھول چوک ہوجائے تو معاف کردینا۔ کیونکہ بھول چوک قابل گرفت چیز نہیں ہوتی بلکہ اس پر عفودرگزر سے کام لیا جاتا ہے۔ لہذا آپ اس طرح کی کسی بھول چوک پر میری گرفت نہیں فرمانا اور میرے بارے میں سختی سے کام نہیں لینا۔ میں بہرحال صبر ہی سے کام لونگا اور آپ کی کوئی نافرمانی نہیں کرونگا اور ایسے کاموں پر بھی کچھ نہیں کہوں گا جو بظاہر منکر ہوں گے۔ کیونکہ مجھے یہ اطمینان اور یقین ہے کہ جب مجھے میرے رب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–74

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کا قصہ اور کئی نصیحتیں تشریح : اس قصہ کا ذکر ایک تو اس لیے کیا گیا کہ اہل عرب کے آنحضرت ﷺ سے تین سوالوں میں سے دوسرے کا جواب یہ تھا۔ پھر یہ کہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا اس کام کے کرنے کے لیے اللہ چاہے کسی کو بھی وسیلہ بنا دے۔ تیسرے یہ کہ ایک دینی اور اخلاقی قانون واضح کردیا گیا کہ غلطی چاہے عام انسان سے ہو یا نبی سے ہو اللہ اس کی پکڑ ضرور کرتا ہے۔ یہاں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کبھی بھی اپنی بڑائی کا کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے۔ ہوا اس طرح کہ کسی اجتماع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–74

(رکوع نمبر 10) اسرارومعارف چناچہ دونوں حضرات روانہ ہوئے یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہونا پڑا ، اور اہل کشتی نے دو نیک سیرت انسان دیکھ کر بہت احترام کیا بلکہ حدیث شریف کے مطابق بغیر اجرت لیے سوار کرلیا مگر حضرت خضر (علیہ السلام) نے ایک جگہ ہاتھ پھیرا تو کشتی کا تختہ چیر دیا جسے موسیٰ (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے فورا بول اٹھے کہ یہ آپ کی کرامت ہے بھلا جن لوگوں نے بڑی عزت سے ہمیں ساتھ سوار کرلیا ان کو بھی معاف نہ کیا اور پھاڑ کر رکھ دی اب اگر یہ تختہ یہاں سے اکھڑ گیا تو یہ سب غرق نہ ہوجائیں گے ، آپ نے یہ معمولی حرکت نہیں کی بلکہ بہت بڑی زیادتی ہے ، حضرت خضر (علیہ السلام) نے عرض کیا میں نے تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 پہلے سے بھی زیادہ خراب کیونکہ کشتی کا تختہ تو پھر بھی جوڑا جاسکتا تھا مگر اس لڑکے کی گئی ہوئی جان کہاں سے آئے گی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:74) زکیۃ۔ گناہوں سے پاک، معصوم زکاء بروزن فعیلۃ صفت مشبہ کا واحد مؤنث۔ بغیر نفس۔ بغیر کسی سبب کے (ابن کثیر) بغیر قصاص کے۔ بغیر کسی گناہ کے ۔ بغیر کسی جان کے بدلہ کے۔ نکرا۔ ایسا مشکل امر جو سمجھ میں نہ آسکے ۔ امر عظیم ۔ ایسا امر جس سے سب کانوں پر ہاتھ رکھیں۔ نکر۔ کا درجہ قسبح میں امر سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ سخت نامرغوب۔ الانکار کے اصل معنی انسان کے دل پر کسی ایسی چیز کے وارد ہونے کے ہیں جسے وہ تصور میں نہ لاسکتا ہو۔ المنکر ہر وہ فعل جسے عقل سلیم قبیح خیال کرے یا عقل کو اس کے حسن وقسبح میں توقف ہو۔ مگر شریعت نے بھی اس کے قبیح ہونے کا حکم ہو۔ لقد جئت شیئا نکرا۔ یقینا آپ نے بڑا بیجا اور نازیبا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 71–78

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 78 السفینۃ کشتی، جہاز۔ خرق سوراخ کردیا۔ لتغرق تاکہ تو غرق کر دے۔ امر ناپسندیدہ بات ، عجیب بات۔ نسیت میں بھول گیا۔ لاترھقنی نہ ڈال مجھ پر۔ عسر مشکل ، تنگی۔ زکیۃ پاک، ستھری۔ نکر بےجابات۔ لا تصاحبنی مجھے ساتھ نہ رکھنا۔ بلغت تو پہنچ گیا۔ استطعما دونوں نے کھانا طلب کیا۔ ابوا انکار کردیا۔ یضیفوا وہ مہمان بنائیں گے۔ جدار دیوار۔ ینقص وہ ٹوٹ جائے گا۔ اقام درست کردیا۔ فراق جدائی۔ انبی میں بتاؤں گا۔ تاویل حقیقت، انجام۔ تشریح :- آیت نمبر 71 تا 78 ان آیات میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے جب حضرت موسیٰ نے یہ وعدہ کرلیا کہ وہ حضرت خضر سے کسی کام یا بات پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 70–74

فضائل القرآن : (1) امام دارمی وغیرہ نے حضرت عبیدہ بن لبابہ کی سند سے انہوں نے رزبن جیش سے نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں جو شخص سورة کہف کے آخر کی آیتوں کو اس نیت سے پڑھے کہ فلاں شب (اس کی آنکھ کھل جائے اور) وہ اٹھ جائے تو وہ برابر اٹھ جائے گا۔ عبیدہ فرماتے ہیں ہم نے اس کا تجربہ کیا ہے واقعی اسی طرح ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–75

[23] حدیث میں یوں آیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کوئی آپ سے زیادہ بھی علم رکھتا ہے ؟ فرمایا میں نہیں جانتا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہی سب سے بڑے عالم ہیں۔ اس پر وحی آئی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں ملاقات ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 71–76

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تقاضائے اصلاح اور خضر (علیہ السلام) کی عاقبت اندیشی : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب خضر (علیہ السلام) سے ملتے ہیں تو طلب علم کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور اجازت چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ رہیں ، اور ان کی صحبت سے استفادہ کریں ، اس واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ تعلیم صرف کتابیں پڑھا دینا نہیں ، بلکہ استاد شاگرد کو ہر لمحہ اپنے ساتھ رکھے ، اور اس کی دماغی تربیت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دے ، حضرت خضر (علیہ السلام) کہتے ہیں صبر و برداشت شرط ہے ، اگر میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو جو کچھ بھی دیکھو ، اس پر خاموشی سے غور کرنا ہوگا اور جب تک میں تمہیں خود نہ بتاؤں تم مجھ سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-74 پھر دونوں بزرگ روانہ ہوگئے یہاں تک کہ جب ان دونوں نے ایک کم سن اور نابالغ لڑکے سے ملاقات کی تو حضرت خضر نے اس لڑکے کو مار ڈالا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا آپ نے ایک پاکیزہ اور بےگناہ جان کو قتل کردیا اور وہ بھی بغیر کسی جان کے بدلے قتل کیا بلاشبہ تو آپ نے بڑی ان ہوئی اور بےجا حرکت کی۔ یعنی اس نے کسی کو قتل نہیں کیا تھا جو قصاص کے طور پر قتل کرتے اس سے بڑھ کر اور کیا بےجا اور ان ہوئی حرکت ہوسکتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ستھری یعنی بےگناہ جب تک لڑکا بالغ نہ ہو اس پر کچھ گناہ نہیں ایک گائوں پاس لڑکے کھیلتے تھے ایک لڑکے کو مار ڈالا اور چل کھڑے ہوئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 69–75

ف 4۔ یعنی مثلا اگر روک ٹوک سے منع کردیں گے تو میں روک ٹوک نہ کروں گ، اسی طرح اور کسی بات میں بھی خلاف نہ کروں گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

صاحب موسیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی معذرت قبول کرتے ہوئے سفر کو دوبارہ شروع کیا : 79۔ صاحب موسیٰ ، موسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر اس جگہ سے تجدید عہد کے بعد دوبارہ سفر جاری رہا اور کتنا سفر طے ہوا اور راستے میں کیا کچھ ہوا اس کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ضرورت ذکر نہ تھی اور چلتے چلتے وہ ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ صاحب موسیٰ نے اچانک ایک نوجوان کو پکڑا اور زمین پر پٹخ دیا اور ایک وار میں اس کا کام تمام ہوگیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے صاحب کی یہ حرکت دیکھی تو آپ کی رگ پھر پھڑک گئی اور بولے کہ ارے صاحب ! یہ آپ نے کیا کردیا ایک ایسے انسان کو اس طرح قتل کردینا کہاں کی شرافت ہے ۔ اس بیچارے نے کیا کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 74–76

We now move to the sentence: حَتَّىٰ إِذَا لَقِيَا غُلَامًا (until when they met a boy -74). The word: غُلَام (ghulam) in the text is used for a minor boy in the Arabic usage. This boy killed by al-Khadir (علیہ السلام) was a minor - as corroborated by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ and most commentators. Further on, when the words: نَفْسًا زَكِيَّةً (innocent person) were used for him, that too supports the view that he was a minor. The reason is that زَكِيَّةً (zakiyyah) means 'free of sin' and it can be either the attribute of a prophet or a minor child who faces no accounting for what is done by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–81

59. The name of this servant has been stated to be Khidr in all the authentic books of traditions. Thus there is no reason why it should be considered at all that his name was Elijah, as some people have asserted under the influence of the Israelite traditions. Their assertion is incorrect not only because it contradicts the assertion of the Prophet (peace be upon him) but it is also absurd because Prophet Elijah (peace be upon him) was born several hundred years after Prophet Moses (peace be upon him). Though the Quran does not mention the name of the attendant of Prophet Moses (peace be…

Read the full tafseer →