Al-Kahf 18:85

Al-Kahf · from ayah 85

18:85

فَاَتْبَعَ سَبَبًا ۟فَاَ تۡبَعَ سَبَبًا‏

تو اس نے (سفر کا) ایک سامان کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

So he followed a way

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 11 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:85

اس نے (پہلے مغرب کی طرف ایک مہم کا) سر و سامان کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اس نے (سفر کا) ایک سامان کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه ایک راه کے پیچھے لگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس کے نتیجے میں وہ ایک راستے کے پیچھے چل پڑے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو وہ ایک سامان کے پیچھے چلا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس وہ (مزید) اسباب کے پیچھے چل پڑا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو وہ کچھ سامان ساتھ لے کر چلا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ وہ ایک راہ (مہم) پر چل کھڑا ہوا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس وہ ایک مرتبہ وسائل کے درپے ہوا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو اس نے (پہلے مغرب کی طرف) ایک مہم کا سامان کیا،

— مولانا اسحاق مدنی

تو اس نے ایک (مہم کا) سروسامان کیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اس نے سفر کا ایک سامان کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He set out (westwards) on an expedition,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So he followed a course,

— Muhammad Taqi Usmani

So he followed a course,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So he followed a way.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So he followed a way

— Saheeh International

With these he traveled

— Muhammad Sarwar

So he followed a course.

— Muhammad Habib Shakir

Then he followed a way.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 18:85

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 85–88

ذوالقرنین کا تعارف۔ ذوالقرنین ایک راہ لگ گئے زمین کی ایک سمت یعنی مغربی دانب کوچ کردیا۔ جو نشانات زمین پر تھے ان کے سہارے چل کھڑے ہوئے۔ جہاں تک مغربی رخ چل سکتے تھے چلتے رہے یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گے۔ یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے۔ ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے۔ حضرت ذوالقرنین پہنچ گئے۔ اور یہ جو بعض قصے مشہور ہیں کہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ سے بھی آپ تجاوز کر گئے اور سورج مدتوں ان کی پشت پر غروب ہوتا رہا یہ بےبنیاد باتیں ہیں اور عموما اہل کتاب کی خرافات ہیں اور ان میں سے بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 83–85

سورة الْكَهْف 61 وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ کا عطف لا محالہ پچھلے قصے ہی پر ہے۔ اس سے خود بخود یہ اشارہ نکلتا ہے کہ قصۂ موسیٰ و خضر بھی لوگوں کے سوال ہی کے جواب میں سنایا گیا ہے اور یہ بات ہمارے اس قیاس کی تائید کرتی ہے کہ اس سورے کے یہ تینوں اہم قصے دراصل کفار مکہ نے اہل کتاب کے مشورے سے امتحاناً دریافت کیے تھے۔ سورة الْكَهْف 62 یہ مسئلہ قدیم زمانے سے اب تک مختلف فیہ رہا ہے کہ یہ " ذوالقرنین " جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے، کون تھا۔ قدیم زمانے میں بالعموم مفسرین کا میلان سکندر کی طرف تھا، لیکن قرآن میں اس کی جو صفات و خصوصیات بیان کی گئی ہیں وہ مشکل ہی سے سکندر پر چسپاں ہوتی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فَاَتْبَعَ سَبَبًا مراد یہ ہے کہ سامان تو ہر قسم کے اور دنیا کے ہر خطہ میں پہنچنے کے ان کو دیدئیے گئے تھے انہوں نے سب سے پہلے جانب مغرب سفر کے سامان سے کام لیا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَأَتْبَعَ سَبَبًا۔ " اتباع " کے معنی پیچھے لگنے، درپے ہونے، تعاقب کرنے کے ہیں۔ " اتبع سببا " کے معنی ہوں گے اس نے وسائل و ذرائع کا جائزہ لیا، اس کا اہتمام کیا۔ پھر یہیں سے ذرا وسیع معنی میں یہ کسی مہم کی تیاری کے لیے استعمال ہوا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

85۔ 1 دوسرے سبب کے معنی راستے کے کئے گئے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے وسائل سے مزید وسائل تیار اور مہیا کئے، جس طرح اللہ کے پیدا کردہ لوہے سے مختلف قسم کے ہتھیار اور اسی طرح دیگر خام مواد سے بہت سی اشیاء بنائی جاتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 83–85

42: اس سورت کے تعارف میں گزرچکا ہے کہ مشرکین نے حضور سرور دو عالم ﷺ سے تین سوالات کئے تھے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ اس شخص کا حال بتائیں جس نے مشرق سے مغرب تک پوری دنیا کا سفر کیا تھا، یہاں سے اس سوال کا جواب دیا جارہا ہے، قرآن کریم نے بتایا ہے کہ اس شخص کا نام ذوالقرنین تھا، ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا، یہ کسی نامعلوم وجہ سے ایک بادشاہ کا لقب تھا، قرآن کریم نے اس بادشاہ کی تفصیلات نہیں بتائیں کہ وہ کون تھا اور کس زمانے میں تھا البتہ ہمارے زمانے کے بیشتر محققین کا رجحان یہ ہے کہ وہ ایران کا بادشاہ سائرس تھا، جس نے بنی اسرائیل کو بابل کی جلا وطنی سے نجات دلاکر انہیں دوبارہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

مغرب الشمس وہ جگہ ہے جہاں دیکھنے والے کو سورج غروب ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ مختلف مقامات میں سورج کی جائے غروب مختلف ہوتی ہے ، بعض مقامات پر یوں نظر آتا ہے کہ سورج پہاڑ کے پیچھے غروب ہو رہا ہے ۔ بعض مقامات پر یوں نظر آتا ہے کہ سورج پانیوں میں غروب ہوتا ہے جس طرح بڑے بڑے سمندروں میں ہوتا ہے۔ بعض مقامات پر یوں نظر آتا ہے کہ سورج صحرائوں اور ریگستانوں میں غروب ہو رہا ہے ۔ مثلاً جہاں نظر کے سامنے صحرا اور ریگستان ہوں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین بحر اوقیانوس کے ساحل تک پہنچ گیا تھا۔ اسے بحر ظلمات بھی کہتے ہیں اور اس وقت یہ گمان کیا جاتا تھا کہ خشکی اس سمندر کے ساحل پر ختم ہوجاتی ہے اس لئے اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 83–85

اس رکوع میں ذوالقرنین کے بارے میں یہود مدینہ کے سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک اکثر مفسرین ذوالقرنین سے ناواقف تھے۔ چناچہ تیرہ سو سال تک عام طور پر سکندر اعظم ہی کو ذوالقرنین سمجھا جاتا رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن میں ذوالقرنین کی فتوحات کا ذکر جس انداز میں ہوا ہے یہ انداز سکندر اعظم کی فتوحات سے ملتا جلتا ہے ‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ذوالقرنین کی سیرت کا وہ نقشہ جو قرآن نے پیش کیا ہے اس کی سکندر اعظم کی سیرت کے ساتھ سرے سے کوئی مناسبت ہی نہیں۔ بہرحال جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ذوالقرنین قدیم ایران کے بادشاہ کیخورس یا سائرس کا لقب تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ایران کے علاقے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 84–85

2 7 ذوالقرنین کون تھا ؟ قریش کا تیسرا سوال ذوالقرنین سے متعلق تھا جس کا ان آیات میں جواب دیا جارہا ہے۔ ذوالقرنین کی شخصیت کی تعیین کے لیے یہ بات تو بہرحال یقینی ہے کہ یہود کو اس کے متعلق علم تھا اور اس بادشاہ کا ذکر ان کی کتابوں میں موجود تھا تبھی تو انہوں نے قریش مکہ کو یہ سوال بتایا تھا اور جو کچھ قرآن سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایک مقتدر اور نامور بادشاہ تھا اللہ سے ڈرنے والا اور منصف مزاج تھا اس کی سلطنت خاصی وسیع تھی اور ذوالقرنین کے لغوی معنی تو دو سینگوں والا ہے مگر اس کے معنی یہ نہیں کہ فی الواقع اس کے سر پر دو سینگ تھے بلکہ اسے اس لحاظ سے ذوالقرنین کہا جاتا تھا کہ اس کی سلطنت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

131۔ (جس سے وہ اپنے شاہی ارادوں اور منصوبوں کی تکمیل کرسکیں) اے من اسباب کل شیء ارادہ من اغراضہ ومقاصدہ فی ملکہ (کشاف) مطلب یہ ہوا کہ وہ ایک بڑے بادشاہ اور جلیل القدر فرمانروا تھے۔ (آیت) ” سببا “ سبب کے معنی ذریعہ، واسطہ سامان کے ہیں، جس سے مقصد پورا ہوسکے۔ کل ما یتوسل بھا الی شیء (راغب) مایتوسل بہ الی المقصود من علم اوقدرۃ اوالۃ (کشاف) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ مال کا حاصل ہونا یہاں تک کہ خزائن اور جاہ کا حاصل ہونا یہاں تک کہ سلطنت کمال کے منافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–91

آیت نمبر 83 تا 91 ترجمہ : یہود آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ دریافت کرتے ہیں اس کا نام اسکندر ہے اور وہ نبی نہیں تھا آپ کہہ دیجئے میں تم کو اس کا کچھ حال سناتا ہوں زمین میں سفر آسان کر کے ہم نے اس کو زمین میں قدرت عطا فرمائی تھی اور ہم نے اس کو ہر قسم کے وسائل جن کی (بادشاہوں) کو ضرورت ہوتی ہے بخشے تھے ایسے وسائل کہ جن کے ذریعہ اس کو اپنے مقصد تک رسائی حاصل ہو سکے، چناچہ وہ مغرب کی جانب ایک راستہ پر ہو لیا، یہاں تک کہ جب وہ انتہائے مغرب میں پہنچ گیا، تو اس کو آفتاب ایک گدلے چشمہ میں ڈوبتا ہوا نظر آیا، کالی مٹی والے چشمہ میں، حمأۃ کالی مٹی اور آفتاب کا چشمہ میں غروب ہونا یہ دیکھنے والے کی نظر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاتبع سبباً سو وہ ایک راہ پر ہو لیا۔ اَتْبَعَپہنچ گیا۔ مَازِلْتُ اِتَّبَعْتُہٗ حَتّٰی اَتْبَعْتُہٗ میں نے برابر اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ اس تک پہنچ گیا۔ کذا رومی عن الاصمعی۔ سبباً سے اس جگہ مراد ہے راستہ یعنی مغرب کی طرف حضرت ابن عباس ؓ نے ترجمہ کیا فرود گاہ۔ منزل۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 83–98

(83 تا 98) اے محمد ﷺ مکہ والے آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں، آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو راستوں اور منزلوں کی معرفت عطا کی تھی ، چناچہ انہوں نے سفر کے لیے ایک راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو آفتاب ان کو سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور اس موقع پر انہوں نے ایک کافر قوم دیکھی ، ہم نے بطور الہام کے کہا کہ ذوالقرنین یا تو ان کو قتل کرو، یہاں تک کہ یہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں یا ان کے ساتھ پہلے نرمی کا معاملہ کرو کہ ان کو معاف کر دو اور چھوڑ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 85–86

فَاَتْبَعَ سَبَبًا : ”تَبِعَ“ ساتھ گیا، ”أَتْبَعَ“ (افعال) ساتھ لے گیا، یعنی اس نے اپنے اقتدار کو مضبوط اور وسیع کرنے کے لیے اور پوری زمین پر اللہ کا کلمہ غالب کرنے کے لیے ایک لمبے سفر کی تیاری کی اور اس کے لیے درکار افواج، اسلحہ اور سامان سفر ساتھ لے کر مغرب کی طرف جہاد فی سبیل اللہ کے لیے نکل پڑا۔ راستے میں ہر مقابل کو زیر کرتا ہوا اور ہر رکاوٹ کو روندتا ہوا زمین کے اس حصے تک جا پہنچا جہاں تک اس وقت آبادی موجود تھی اور سفر ممکن تھا، اس سے آگے سمندر سے پہلے وسیع و عریض دلدلی علاقہ تھا، جس میں نہ خشکی کے ذرائع سے سفر ہوسکتا تھا، نہ بحری ذرائع سے۔ وہاں اس نے سورج غروب ہونے کا مشاہدہ کیا تو وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 84–85

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتینہ من کل شیء سببا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہر چیز کا علم عطا فرمایا جس کام کا ارادہ کرتے علم اس کا سبب بنتا۔ حسن نے کہا : جہاں کا ارادہ کرتے وہاں پہنچنا مراد ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہر وہ چیز بخشی جس کے ساتھ مخلوق کو ضرورت ہوتی ہے۔ بعض نھے فرمایا : ہر وہ چیز بخشی جس کے ساتھ بادشاہ مدد حاصل کرتے ہیں، شہروں کی فتح، دشمنوں پر غلبہ وغیرہ۔ السبب کا اصل معنی رسی ہے پھر استعارۃً ہر اس چیز کے لیے استعمال کیا گیا جس کے ذریعے کسی چیز تک پہنچا جاتا ہے۔ فاتبع سببا۔ ابن عامر، عاصم، حمزہ اور کسائی نے فاتبع ہمزہ قطعی کے ساتھ پڑھا ہے۔ اہل مدینہ اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 84–85

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتینہ من کل شیء سببا “ یعنی علم (دیا) 2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاتبع سببا “ یعنی منزل۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واتینہ من کل شیء سببا “ سے مراد ہے علم اور اس سے لوگوں کی زبانوں میں تعلیم ہے ذوالقرنین ہر قوم سے اس کی زبان میں بات کرتا تھا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن ہلال (رح) سے روایت کیا کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے کعب احبار ؓ سے پوچھا کیا تو کہتا ہے کہ ذوالقرنین اپنے گھوڑے کو اپنے اگلے دانتوں سے باندھتا تھا کعب ؓ نے ان سے فرمایا اگر میں نے ایسا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 83–85

ذوالقرنین کا مفصل قصہ، مغرب و مشرق کا سفر کرنا یاجوج و ماجوج سے حفاظت کے لیے دیوار بنانا مذکورہ بالا آیات میں ذوالقرنین کی شخصیت اور ان کے مغرب اور مشرق کے اسفار اور ایک قوم کی درخواست کرنے پر یاجوج ماجوج سے حفاظت کرنے کے لیے دیوار بنا دینے کا تذکرہ فرمایا ہے یہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ علماء یہود نے قریش مکہ سے کہا تھا کہ تم محمد رسول اللہ ﷺ سے تین باتیں دریافت کرو اگر وہ ان کا جواب دیدیں تو سمجھ لینا کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں اور نبی مرسل ہیں، وہ تین باتیں جن کا سوال کرنے کی تلقین کی تھی ان میں ایک سوال روح کے بارے میں تھا اور دوسرا سوال اصحاب کہف کے بارے میں اور تیسرا سوال ذوالقرنین کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–88

سفر اول قال اللہ تعالیٰ ۔ فاتبع سببا حتٰیٓ اذا بلغ مغرب الشمس۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وسنقول لہ من امرنا یسرا پس جب حق تعالیٰ نے ذوالقرنین کے لیے ہر قسم کا سامان مہیا کردیا جس سے وہ اپنے عزائم کو پورا کرسکے تو اس نے سفر شروع کیا۔ پہلا سفر اس کا یہ ہوا کہ اس نے بارادۂ فتوحات ملک مغرب کی راہ لی اور ایسا راستہ اختیار کیا کہ جو اسے مغرب تک پہنچا دے یہاں تک کہ جب سفر کرتے کرتے اور درمیانی ممالک کو فتح کرتے کرتے سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا۔ یعنی سمت مغرب میں منتہائے آبادی میں پہنچا جہاں آبادی ختم ہوتی تھی تو اس نے سورج کو سیاہ کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتا ہوا پایا یعنی ظاہر نظر میں اس کو ایسا دکھائی دیا جیسے سمندر کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 84–85

75:۔ ہم نے اس کو زمین میں قدرت اور طاقت دی اور اسے سلطنت عطا فرمائی ” من کل شیء سببا “ یہاں کل استغراق حقیقی کے لیے نہیں بلکہ استغراق اضافی کے لیے ہے اور اس سے صرف وہ ملکی مہمات اور مقاصد مراد ہیں جن کو سر کرنے کا ذو القرنین نے ارادہ کیا تھا اور وہ امور جن کی ملکی اصلاح کے سلسلے میں اس کو ضرورت تھی من کل شیء سببا ارادہ من مھمات ملکہ و مقاصدہ المتعلقۃ بسلطان۔ (روح ج 16 ص 31) ۔ اور اسباب سے اسباب عادیہ مراد ہیں۔ والمراد بذلک الاسباب العادیۃ (روح) تو اس سے معلوم ہوگیا کہ ذو القرنین کو نہ کلی طور پر اختیار و تصرف حاصل تھا اور نہ اسے مافوق الاسباب امور پر قدرت و طاقت حاصل تھی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 83–88

(تین واقعات تین اصول) یہ بات گذشتہ سورة اور اس سورة کے مضامین کے سلسلہ میں بیان ہوچکی ہے کہ مشرکین مکہ نے یہودیوں کے ایماء پر حضور ﷺ سے تین سوال کیے تھے ، پہلا سوال روح کے بارے میں تھا ، جس کا مختصر جواب اللہ تعالیٰ نے سورة بنی اسرائیل میں دیا ہے باقی دوسوالات اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق تھے جن میں سے اصحاب کہف کی تفصیل اسی سورة کی ابتدا میں بیان ہوچکی ہے اور ذوالقرنین کے متعلق بعض انکشافات اب آرہے ہیں ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سورة میں مذکورہ تین واقعات میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے تین بنیادی قوانین بیان فرمائے ہیں ، اصحاب کہف کے واقعہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں استقلال کا قانون…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَتْبَعَ سَبَبًا۝ 85 تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے سبب السَّبَبُ : الحبل الذي يصعد به النّخل، وجمعه أَسْبَابٌ ، قال : فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبابِ [ ص/ 10] ، والإشارة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 81–88

3 ؎ رحمایسکون الحاء وقری بضھا الرحمۃ یقال (رح) رحمۃ ورحما والالف للتانیث۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 84–85

اِنَّا مَکَّـنَّا لَـہٗ فِی الْاَرْضِ وَاٰتَیْنٰـہُ مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ سَبَبًا۔ فَاَتْبَعَ سَبَبًا (الکہف : 84، 85) (ہم نے اس کو زمین میں بڑا اقتدار بخشا تھا اور ہم نے اسے ہر چیز (تک رسائی حاصل کرنے) کا سازوسامان دیا تھا۔ پس وہ درپے ہوا اسباب و وسائل کے۔ ) سَبَبْ …کا معنی تفسیر مظہری کے مطابق مَایُوْصَلُ اِلَیْہِ مِنَ الْعِلْمِ وَالْقُدْرَۃِ وَالْآلاَتِاور کبھی یہ لفظ راستہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ذوالقرنین پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس طرح ایک معمولی حیثیت سے اٹھا اور محض اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 85–88

فہم القرآن ربط کلام : ذوالقرنین کی پہلی مہم اور اس کی فتوحات۔ قرآن مجید نے ذوالقرنین کی مملکت اور اس کے اسباب و وسائل کا ذکر کرتے ہوئے یہ لفظ استعمال فرمائے ہیں۔” فَأَتْبَعَ سَبَبًا “ اس کے دو ترجمے کیے گئے ہیں۔ ایک جماعت نے اس کا معنیٰ کیا ہے کہ وہ اسباب کے پیچھے چلا جس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ اس نے اپنی مملکت میں وسائل کے حصول کے لیے ٹھیک ٹھیک اقدامات کیے اور وسائل کی خوب منصوبہ بندی کی۔ ترقی یافتہ مملکت اور کامیاب حکمران کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ وہ وسائل کے حصول کے ساتھ اس کی پلاننگ میں کوئی کسر باقی نہ رہنے دیتا۔ ” فَأَتْبَعَ سَبَبًا “ کا دوسرا معنٰی یہ لیا گیا ہے کہ اس نے ایک راہ اختیار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

پہلا سفر مغربی جانب اور اس کے احوال : 85: فَاَتْبَعَ سَبَبًا (وہ ایک راہ پر ہولیا) السبب اس چیزکو کہتے ہیں جس سے مقصود کو پہنچ سکیں خواہ وہ علم ہو یا قدرت اس نے مغرب کی جانب پہنچنے کا ارادہ کیا پس وہ ایک راستہ پر ہولیا۔ جو اس کو مغرب تک پہنچائے یہاں تک کہ وہاں پہنچ گیا اسی طرح اس نے مشرق کا ارادہ کیا اور اس کے اسباب کے پیچھے ہو لیا۔ اور اس نے سدین میں پہنچنے کے لیے اسباب تیار کیے۔ قراءت : کوفی نے ثم اتبع اور شامی نے بھی اسی طرح باقی قراء نے الف کو ملا کر تاؔ ء کی تشدید کے ساتھ اصمعی نے اتبع بمعنی ملنا اتبع پیچھے پڑنا اگرچہ نہ ملے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(85)” فاتبع سیا “ میں برابر اس کے پیچھے چلتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کو پہنچ گیا۔ اہل حجاز اور بصرہ نے ” فاتبع ثم اتبع “ موصولاً اور تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے الف کے بغیر ” فتبع “ پڑھا ہے۔ بعض نے کہا کہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ بعض نے ان دونوں سورتوں میں معنی کے اندر فرق بیان کیا ہے جو حضرات بغیر الف کے پڑھتے ہیں ان کے نزدیک اس کا معنی ہے پانا ملنا اور جن حضرات کے نزدیک تشدید کے ساتھ ہے، ان کے ساتھ اس کا معنی ہے سار جیسا کہ کہا جاتا ہے ” مازلت اتبعۃ حتی اتبعتہ “ میں نے برابر اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ اس تک پہنچ گیا۔ بعض نے کہا کہ ” سیا “ سے مراد طریقہ ہے۔ ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 83–86

83۔ 86:۔ شروع سورة ایک تفسیر میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے مشرکین مکہ نے روح اصحاب کہف اور سکندر القرنین مصری اور سکندر رومی کا ایک ہونا پایا جاتا ہے 1 ؎ اور اسی روایت کی بنا پر تفسیر ابن جریر کے علاوہ بعض اور تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ قرآن شریف میں جس شخص کا قصہ ہے وہ سکندر رومی ہے لیکن حافظ ابن کثیر (رح) نے عقبہ بن عامر ؓ کی اسی روایت کو ضعیف ٹھہرا کر معتبر اہل تاریخ مثلا سہیلی ارزقی کے قول کے موافق اسی بات کو ترجیح دی ہے کہ سکندر دو شخص گزرے ہیں پہلا سکندر ذوالقرنین جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے اس سکندر اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا زمانہ ایک ہی ہے یہ سکندر ملت ابراہیمی کا پابند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 83–88

آیت 83 اہل کتاب تھے یا مشرکین انہوں نے رسول اللہٓ نے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں : (استلوا علیکم منہ ذکرا) ” میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال “ جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے۔ یعنی میں تمہیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال، تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔ (انا مکنا لہ فی الارض) ” ہم نے اس کو قوت عطا کی تھی زمین میں “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے بادشاہی سے نوازا اور زمین کیگوشوں پر اس کے حکم کو نافذ کیا اور لوگوں کو اس کا مطیع بنایا۔ (واتینہ من کل شیء سببا۔ فاتبع سببا) ” اور دیا ہم نے اس کو ہر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 82–110

کنز کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 84–85

128 ذو القرنین کے لیے ضروری وسائل کی فراہمی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے اس کو زمین میں بڑا اقتدار بخشا تھا اور اس کو ہر قسم کے سامان سے نوازا تھا۔ یعنی ان ذرائع و وسائل کی فراہمی جو نظام مملکت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے اس کو ضرورت کے مطابق ہر قسم کے سامان سے نوازا تھا "۔ یعنی { کل شیء } کا عموم اپنے ظاہر پر نہیں۔ یعنی اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو دنیا بھر کی ہر چیز دی گئی تھی کہ ایسا نہ تھا اور نہ ہی یہ ممکن ہوسکتا ہے۔ بلکہ اس سے مراد صرف وہ چیزیں ہیں جن کی سکندر کو اپنی حکمرانی کے لئے ضرورت تھی۔ اور یہی بلاغت کا ایک معروف ضابطہ و اصول اور اسلوب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 83–98

نقشہ بسلسلہ قصہ ذوالقرنین ذوالقرنین کا واقعہ تشریح : قرآن پاک کے بیان کے مطابق ذوالقرنین کی تمام علامات خورس میں پائی جاتی ہیں۔ مگر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نام کی وضاحت نہیں کی، اس لیے یہ صرف اندازہ ہی ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جس قدر فاتحین گزرے ہیں ان سب کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی بتائی ہوئی تمام نشانیاں خورس میں پائی جاتی ہیں۔ خورس ایک ایرانی بادشاہ تھا جس کا عروج 549 قبل مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ اس نے بڑے کم عرصہ میں میڈیا (الجبال) اور لیڈیا (ایشیائے کوچک) کو فتح کرلیا اور پھر بابل کو فتح کرنے کے بعد اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور ترکستان سے لے کر ایک طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–101

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف آپ سے ذوالقرنین کے بارے سوال کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت عظیم الشان بادشاہ گذرا تھا اور اس کے بہت سے قصے مشہور ومعروف تھے ، ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے تو کفار مکہ نے آپ ﷺ پر سوال کیا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں اور آپ ﷺ پر وحی آتی ہے تو آپ ﷺ اس کے بارے صحیح اور درست بات ارشاد فرمائیے ۔ (ذوالقرنین کون تھا) ذوالقرنین کا نام قرآن نے نہیں دیا بلکہ پہلے سے مشہور تھا اور اسی نام سے مشہور تھا اور اسی نام سے سوال ہوا تھا ، یہ نام کیوں تھا اس کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ، بعض کے مطابق اس کے سر پر دو چوٹیاں تھیں تو بعض نے کہا کہ دو سینگ نما چیزیں تھیں اور بعض کی رائے میں سر پر دونوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 84–85

ف 3 یعنی ایک راستے پر سفر شروع کیا۔ پہلے اس نے مغرب کی جانب مہم کا آغاز کیا

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–91

لغات القرآن آیت نمبر 83 تا 91 یسئلون وہ سوال کرتے ہیں۔ ذوالقرنین بہت طاقتور۔ ساتلوا بہت جلد میں بتاؤں گا۔ مکنا ہم نے جمایا، اقتدار دیا تھا۔ سبب سامان۔ اتبع وہ پیچھے گیا۔ اس نے تیاری کی۔ حمئۃ دلدل، کیچڑ، سیاہ۔ یرد لوٹایا جائے گا۔ الحسنی بہترین، بھلا۔ یسر آسان۔ ستر پردہ، رکاوٹ، احطنا ہم نے گھیر لیا۔ لدیہ اس کے پاس ۔ خبر علم، خبر۔ تشریح :- آیت نمبر 83 تا 91 تاریخ انسانی کے ہر دور میں اچھے اور برے کردار کے لوگ گذرتے رہتے ہیں۔ بہترین کردار کے لوگوں کی زندگی دوسروں کے لئے مشعل راہ، نمونہ عمل اور نشان راہ ہوتی ہے۔ جب کہ برے اور بدکردار لوگ کسی عزت کے مستحق نہیں ہوتے۔ یوں تو ہر قوم اور اس کے افراد کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 83–89

حضرت ذوالقرنین (علیہ السلام) کا قصہ : شروع سورة کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے مشرکین مکہ نے روح، اصحاب کہف اور سکندر ذالقرنین کا حال اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا تھا۔ روح اور اصحان کہف کا حال تو بیان ہوچکا۔ یہ سکندر ذوالقرنین کا حال شروع ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو روئے زمین پر صاحب قدرت بنایا، اور ہر قسم کا سامان اس کو دیا۔ اور جب ان کو معلوم ہوا کہ اولاد سام میں سے ایک شخص چشم حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی، تو وہ چشمہ حیات کی طلب میں مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے۔ اور آپ کے ساتھ حضرت خضر (علیہ السلام) بھی تھے، وہ چشمہ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں نے پی بھی لیا۔ مگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 83–85

[28] ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا ایک معنی قوت کے بھی لئے گئے ہیں۔ قرآن کی تصریحات سے اتنا تو بہرحال معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی دیندار اور بڑی کشور کشا شخصیت تھی مگر اس سے زیادہ تعین قرآن میں نہیں۔ سب سے پہلا حل طلب مسئلہ جو مفسرین کے سامنے آیا وہ اس کا لقب تھا۔ عربی میں بھی اور عبرانی میں بھی '' قرن '' کے معنی سینگ کے ہیں۔ پس ذوالقرنین کا مطلب ہوا دو سینگوں والا۔ لیکن چونکہ تاریخ میں کسی ایسے بادشاہ کا سراغ نہیں ملا جس کا ایسا لقب ہو پھر چونکہ فتوحات کی وسعت اور مشرق و مغرب کی حکمرانی کے لحاظ سے سکندر مقدونی کی خصیت سب سے زیادہ مشہور رہی ہے اس لئے ہمارے مفسرین کی نظریں اسی کی طرف…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 84–91

(ف 1) قرآن حکیم نے بتایا ہے کہ یہودیون کے تعلقات مشرکین مکہ سے بہت زیادہ تھے ، بنا برین مشرکین مکہ ان سے اسلام کے متعلق اعتراضات پوچھتے رہتے ، انہوں نے کہا ہوگا پیغمبر اسلام سے ذوالقرنین کے متعلق دریافت کرو ، تاکہ معلوم ہو کہ اس کا مبلغ علم کیا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے حضور ﷺ سے پوچھا ، یہ آیات جواب میں نازل ہوئیں ۔ قرآن حکیم کا مخصوص طرز بیان ہے ، کہ وہ غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ دیتا ہے اور قصے کے صرف اس حصہ کو بیان کرتا ہے جس کا تعلق انسانی رشد وہدایت سے ہے ، چنانچہ قرآن حکیم نے بتایا ، کہ خدائے تعالیٰ نے اسے وسیع اقتدار دے رکھا تھا ، وہ بہت بڑا فاتح تھا ، اس کا شوق فتحیابی اسے سمندر کے کنارے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-85 لہٰذا وہ ایک سامان کے پیچھے لگا اور وہ ایک راہ پر ہو لیا۔ یعنی فتوحات کے قصد سے سامان سفر کی تیاری کرنے لگا اور مغرب کی راہ ہو لیا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی سر انجام کرنے لگا سفرکا۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 84–85

ف 1۔ ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین کوئی مقبول بزرگ بادشاہ ہیں، خواہ نبی ہوں یا ولی ہوں کسی دوسرے نبی کے متبع، پھر ولایت کی صورت میں یہ مکالمت بطور الہام ہوئی ہو یا کسی نبی کے ذریعے سے، اور شاید ذوالقرنین ان کا لقب اس لئے ہوا ہو کہ قرن جانب کو کہتے ہیں، اور تثنیہ سے مراد تکریر ہو، چونکہ انہوں نے جوانب ارض پر تسلط حاصل کیا تھا اس لئے ذوالقرنین لقب ہوگیا ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس نے سب سے پہلے ایک راہ اختیار کی : 91۔ زیر نظر آیت نے صرف اتنی بات فرمائی کہ (فاتبع سببا) اس نے ایک مہم کا سازوسامان کیا اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تخت نشینی کے بعد پہلی جنگ میں جو اسے پیش آئی وہ لیڈیا کے بادشاہ کروئسیس سے تھی ، لیکن تمام تاریخیں متفق ہیں کہ حملہ کروئسیس کی طرف سے ہوا تھا اور اس نے سائرس کو دفاع پر مجبور کردیا تھا اور لیڈیا سے مقصود ایشائے کو چک کا مغربی اور شمالی حصہ ہے جو اس وقت یونانی تمدن کا ایشائی مرکز بنا گیا تھا اور اس کی حکومت بھی اپنے تمام خصائص سے ایک یونانی حکومت تھی جنگ میں سائرس فتح یاب ہوا لیکن رعایا کے ساتھ کسی طرح کی بدسلوکی نہیں کی ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse 85: فَأَتْبَعَ سَبَبًا So he followed a way) means that - though, the material means related to everything, even those that would facilitate his access to every region of the world - however, the first thing he did was to use his means to travel in the direction of the West.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 83–85

61. It is quite obvious that the conjunction wao joins this story with the previous story of Khidr. Thus it is a selfevident proof that the previous two stories of the sleepers of the cave and Moses and Khidr were also related in answer to the queries of the disbelievers of Makkah who, in consultation with the people of the Book, had put these questions to Muhammad (peace be upon him) as a test of his Prophethood. 62. The identification of Zul-Qarnain has been a controversial matter from the earliest times. In general the commentators have been of the opinion that he was Alexander the Great…

Read the full tafseer →