Explained with ayahs 60–65
حضرت موسیٰ ؑ اور اللہ کا ایک بندہ
حضرت موسیٰ ؑ سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں آپ نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے واللہ اعلم۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقت کعتے ہیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں۔ حقب سے مراد اسی برس ہیں مجاہد ؒ ستر برس کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ زمانہ بتلاتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
سورة الْكَهْف 59
اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔
حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔
Read the full tafseer →حضرت خضر ؑ سے ملاقات اور ان کی نبوت کا مسئلہ
قرآن کریم میں اگرچہ اس صاحب واقعہ کا نام مذکور نہیں بلکہ (آیت) عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ کہا گیا مگر صحیح بخاری کی حدیث میں ان کا نام خضر بتلایا گیا ہے خضر کے لفظی معنی ہرے بھرے کے ہیں ان کا نام خضر ہونے کی وجہ عام مفسرین نے یہ بتلائی ہے کہ یہ جس جگہ بیٹھ جاتے تو کیسی ہی زمین ہو وہاں گھاس اگ جاتی اور زمین سر سبز ہوجاتی تھی قرآن کریم نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ خضر ؑ کوئی پیغمبر تھے یا اولیاء اللہ میں سے کوئی فرد تھے لیکن جمہور علماء کے نزدیک ان کا نبی ہونا خود قرآن کریم میں ذکر کئے ہوئے واقعات سے ثابت ہے کیونکہ خضر ؑ سے اس سفر میں جتنے واقعات ثابت…
Read the full tafseer →فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْمًا (65)
حضرت خضر سے ملاقات : یہاں ان کی ملاقات ایک خاص بندے سے ہوئی جس پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا اور جس کو اس نے اپنے کچھ خاص علم سے نوازا تھا۔ یہ کون تھے ؟ قرآن نے ان کا نام نہیں بتایا ہے۔ صرف ان کے بعض مخصوص اوصاف کا ذکر کیا ہے۔ بعض حدیثوں میں ان کا نام خضر آیا ہے۔ چونکہ ان حدیثوں کے اکار کی کوئی وجہ ہمارے پاس نہیں ہے اس وجہ سے یہی نام ہم اختیار کرلیتے ہیں۔
حضرت خضر نبی تھے : حضرت خضر علیہ السلا بعض قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی تھے۔ اس کا اول قرینہ تو یہ ہے کہ حضرت موسیٰ جیسے جلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
65۔ 1 اس بندے سے مراد حضرت خضر ہیں، جیسا کہ صحیح احادیث میں وضاحت ہے۔ خضر کے معنی سرسبز اور شاداب کے ہیں، یہ ایک مرتبہ سفید زمین پر بیٹھے تو وہ حصہ زمین ان کے نیچے سے سرسبز ہو کر لہلہانے لگا، اسی وجہ سے ان کا نام خضر پڑگیا (صحیح بخاری، تفسیر سورة کہف)
65۔ 2 رَحْمَۃ سے مراد مفسرین نے وہ خصوصی انعامات مراد لئے ہیں جو اللہ نے اپنے اس خاص بندے پر فرمائے اور اکثر مفسرین نے اس سے مراد نبوت لی ہے۔
65۔ 3 اس سے علم نبوت کے علاوہ جس سے حضرت موسیٰ ؑ بھی بہرہ ور تھے، بعض خاص امور کا علم ہے جس اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت خضر کو نوازا تھا، حضرت موسیٰ ؑ کے پاس بھی وہ علم نہیں تھا۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
36: صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق یہ حضرت خضر ؑ تھے، جب حضرت موسیٰ ؑ اس چٹان کے پاس واپس پہنچے تو وہاں وہ چادر اوڑھے ہوئے لیٹے نظر آئے۔ اور ان کو جس خصوصی علم کے سکھانے کا ذکر فرمایا گیا ہے، اس سے مراد تکوینیات کا علم ہے جس کی تشریح اس واقعے کے آخر میں آرہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت ہی احترام سے ان سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا آپ ہمیں کچھ سکھائیں گے ؟ یعنی آپ کو اللہ نے جو علم دیا ہے اس میں سے کوئی راہنمائی اور دانشمندی ہمیں بھی سکھائیں گے۔ لیکن اس شخص کا علم وہ علم نہ تھا جو انسانوں کو سکھایا گیا ہے اور جس کے اسباب و نتائج معلمو اور قریب الفہم ہوتے ہیں بلکہ اس کے علم کا تعلق علم لدنی اور اس کائنات کے تکوینی انتظام کے ساتھ تھا۔ یہ اللہ کے غیبی امور کا ایک حصہ تھا۔ جو اس عبدصالح کو اللہ نے اپنی مخصوص مصلحتوں اور حکمت کے تحت سکھایا ہوا تھا۔ اس لئے عبدصالح کو معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ اس کے تصرفات کو برداشت نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ تو رسول اور نبی…
Read the full tafseer →2 وہ بندہ حضرت خضر (علیہ السلام) تھے۔ جن کو حق تعالیٰ نے رحمت خصوصی سے نوازا اور اسرار کونیہ کے علم سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔ اس میں اختلاف ہے کہ حضرت خضر کو رسول مانا جائے یا نبی یا محض ولی کے درجہ میں رکھا جائے۔ ایسے مباحث کا فیصلہ یہاں نہیں ہوسکتا۔ تاہم احقر کا رجحان اسی طرف ہے کہ ان کو نبی تسلیم کیا جائے اور جیسا کہ بعض محققین کا خیال ہے کہ جو انبیاء جدید شریعت لے کر نہیں آتے ان کو بھی اتنا تصرف و اختیار عطاء ہوتا ہے کہ مصالح خصوصیہ کی بناء پر شریعت مستقلہ کے کسی عام کی تخصیص یا مطلق کی تقیید یا عام ضابطہ سے بعض جزئیات کا استثناء کرسکیں۔ اسی طرح جزئی تصرفات حضرت خضر کو بھی حاصل تھے،…
Read the full tafseer →آیت 65 فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ اٰتَيْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس سے اپنے خاص خزانۂ فیض سے اسے خصوصی علم عطا کر رکھا تھا۔ ”علم لدنی“ کی اصطلاح یہیں سے اخذ کی گئی ہے۔ لَدُن کے معنی قریب یا نزدیک کے ہیں۔ چناچہ علم لدنی سے مراد وہ علم ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت سے کسی کو عطا کر دے۔ یعنی ایک علم تو وہ ہے جو انسان اپنے حواس خمسہ کے ذریعے سے باقاعدہ محنت و مشقت کے عمل سے گزر کر حاصل کرتا ہے جیسے مدارس عربیہ میں صرف و نحو تفسیر و حدیث اور فقہ وغیرہ علوم حاصل کیے جاتے ہیں یا سکول و کالج میں متداول عمرانی و سائنسی علوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–70
61 رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ تھکاوٹ آپ کو اس وقت ہوئی جب آپ اپنی منزل مقصود سے آگے نکلے جارہے تھے اس سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →98۔ حدیث بخاری اور دیگر احادیث میں ان عبد مقرب ومقبول کا نام حضر آیا ہے۔ (آیت) ” رحمۃ من عندنا “۔ اس خصوصی (آیت) ” رحمۃ “۔ سے مراد مقبولیت کا ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ البتہ یہ لازمی نہیں کہ نبوت ہی کی شکل میں ہو۔ چناچہ حضرت خضر کی نبوت ایک اختلافی مسئلہ ہے۔ فالجمھور علی انہ (علیہ السلام) نبی ولیس برسول وقیل ھو رسول وقیل ھو ولی وعلیہ القشیری وجماعۃ (روح) ولم یکن الخضر نبیا عند اکثر اھل العلم (معالم) (آیت) ” علمنہ من لدنا علما “۔ یہ علم بلاواسطہ اسباب واکتساب وتعلیم براہ راست حضرت حق سے عطا ہوا تھا۔ اور یہ علم اسرار کونیہ کا تھا۔ محققین نے کہا ہے کہ جس علم پر قرب الہی مرتب ہوتا ہے وہ علم اسرار کونیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
آیت نمبر 60 تا 65
اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کہ عمران کے بیٹے ہیں اپنے خادم یوشع بن نون سے جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت کے ساتھ ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) سے تحصیل علم بھی کرتے تھے کہا کہ میں چلتا ہی رہوں گا سفر موقوف نہ کروں گا تاآنکہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں یعنی مشرقی جانب سے بحرروم اور بحر فارس کے ملنے کی جگہ اور اگر میں منزل مقصود کو نہ پاؤں تو ایک وقت یعنی زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا چناچہ جب یہ دونوں حضرات دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو یہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے یوشع روانگی کے وقت مچھلی اٹھانا بھول گئے اور…
Read the full tafseer →فوجدا عبدا من عبادنا (وہاں) ان دونوں نے ہمارے ایک بندہ کو پایا۔ جمہور علماء کے نزدیک یہ خضر تھے
صحیح حدیث میں یہی آیا ہے خضر کا نام بلیا بن ملکان یا الیسع یا الیاس کہا گیا ہے ‘ خضر لقب تھا اس لقب کی وجہ بغوی نے ہمام ابن منبہ کی روایت کو قرار دیا ہے۔ ہمام راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خضر کو خضر کہنے کی یہ وجہ تھی کہ خضر جب خشک زمین یا خشک گھاس پر بیٹھ جاتے تو وہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگتی تھی۔ مجاہد نے کہا جس جگہ خضر نماز پڑھتے تھے اس کے گرداگرد سبزہ ہی سبزہ ہوجاتا تھا۔
بغوی نے خضر کو اسرائیلی نسل سے قرار دیا ہے کسی نے کہا شاہزادہ تھے جو تارک الدنیا ہوگئے تھے۔ حضرت مفسر نے فرمایا میرے نزدیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–82
(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…
Read the full tafseer →عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ : اس سے مراد خضر ؑ ہیں (خاء کے فتحہ اور ضاد کے کسرہ کے ساتھ، یا خاء کے کسرہ اور ضاد کے سکون کے ساتھ)۔ نبی ﷺ نے فرمایا : (إِنَّمَا سُمِّيَ الْخَضِرُ لِأَنَّہٗ جَلَسَ عَلٰی فَرْوَۃٍ بَیْضَاءَ فَإِذَا ھِيَ تَھْتَزُّ مِنْ خَلْفِہٖ خَضْرَاءَ) [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب حدیث الخضر۔۔ : 3402 ]”ان کا نام خضر اس لیے پڑا کہ وہ سفید زمین کے ایک قطعے پر بیٹھے تو وہ ان کے پیچھے سرسبز ہو کر لہلہانے لگا۔“ یہ اللہ کے نبی تھے، اس کی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے آخر میں فرمایا کہ میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا۔ (کہف : 82) بلکہ یہ سب اللہ کے حکم سے تھا جو وحی کی صورت میں انبیاء کو صادر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتنا غدآء نا۔ اس میں ایک مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ سفر میں زادراہ ساتھ لینا، یہ جاہل صوفیاء پر رد ہے جو بیابانوں اور میدان میں بغیر زاد راہ کے جاتے ہیں یہ گمان کرتے ہوئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السللام کے نبی تھے اور اہل زمین میں سے اس کے کلیم تھے۔ انہوں نے اپنے رب کی معرفت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے باوجود زادراہ ساتھ لیا۔ صحیح بخاری میں ہے (1) یمن کے کچھ لوگ حج کرتے تھے اور زادراہ ساتھ نہیں لے جاتے تھے، اور کہتے تھے : ہم توکل کرنے والے ہیں۔ پھر جب حرم میں پہنچتے تو لوگوں سے سوال کرتے تو اللہ تعالیٰ وتزودوا کا ارشاد نازل فرمایا، یہ سورة بقرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–73
خضر (علیہ السلام) بھی اولاد آدم میں سے ہیں :
10:۔ دارقطنی نے افراد میں ابن عساکر نے مقاتل بن سلیمان کے طریق سے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ خضر (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور ان کی عمر میں تاخیر کی گئی ہے یہاں تک کہ وہ دجال کی تکذیب کریں گے۔
11:۔ بخاری، احمد، ترمذی اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ ایک سفید سوکھی زمین پر بیٹھتے تو آپ کے پیچھے سرسبز کھیتی (آپ کی برکت کی وجہ سے) ہوجاتی۔
12:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا…
Read the full tafseer →[فَوَجَدَا : تو ان دونوں نے پایا ] [عَبْدًا : ایک ایسا بندہ ] [مِّنْ عِبَادِنَآ : ہمارے بندوں میں سے ] [اٰتَيْنٰهُ : ہم نے دی تھی جس کو ] [رَحْمَةً : ایک رحمت ] [مِّنْ عِنْدِنَا : اپنے پاس سے ] [وَعَلَّمْنٰهُ : اور ہم نے تعلیم دی تھی جس کو ] [مِنْ لَّدُنَا : اپنے خزانے سے ] [عِلْمًا : ایک علم کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ
مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
قصہ حضرت موسیٰ باخضر (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح .... الیٰ .... لقد جئت شیئا نکرا۔
(ربط) چونکہ قریش نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لیے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق جو سوالات کیے تھے وہ یہود کے بتلانے اور سمجھانے سے کئے تھے کہ اگر آنحضرت ﷺ ان باتوں کا جواب دے دیں تو جانو کہ وہ نبی ہیں ورنہ نہیں اس لئے یہود کے سنانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم کریں کہ نبی کے لیے یہ شرط نہیں کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہوں اور وہ تمام اخبار اور قصص کا عالم ہو بلکہ نبوت کے لیے وحی اور علوم ہدایت کی معرفت ضروری ہے۔ چناچہ موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
67:۔ اس بندے سے قول مختار کے مطابق حضرت خضر (علیہ السلام) مراد ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے تکوینیات کا وہ علم عطا فرمایا تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس نہیں تھا جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو علم شرائع حاصل تھا جو حضرت خضر (علیہ السلام) کے پاس نہیں تھا، چناچہ جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو حضرت خضر نے کہا یموسا انا علی علم علمنی اللہ لا تعلمہ انت وانت علی علم علمک اللہ لا اعلمہ انا (کبیر ج 5 ص 734) ۔ حضرت خضر کے بارے میں بعض نے لکھا ہے کہ وہ فرشتہ تھا، بعض نے کہا ہے وہ ولی تھے، لیکن جمہور کا مسلک یہ ہے کہ وہ نبی تھے۔ حضرت خفر (علیہ السلام) کی نبوت پر خود قرآنی قرائن شاہد ہیں۔ اول یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
ربط آیات :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک معمولی سی لغزش ہوگئی تھی جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ابتلا میں ڈال دیا اور فرمایا کہ ہمارے بندوں میں سے ایک ایسا بندہ ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا ، مولا کریم ! میں تیرے اس بندے تک کیسے رسائی حاصل کرسکتا ہوں تاکہ اس سے کچھ حاصل کرسکوں اللہ نے حکم دیا کہ آپ فلاں سفر پر روانہ ہوجائیں اور ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ہمراہ لے لیں جب مقام پر وہ مچھلی گم ہوجائے گی ، میرا خاص بندہ تمہیں وہیں مل جائے گا ، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ایک شاگرد اور خادم حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) کو ہمراہ لیا اور سفر پر روانہ…
Read the full tafseer →فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ اٰتَيْنٰہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا 65
وجد
الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه .
ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] .
( و ج د ) الو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–68
1 ؎ جوان سے مراد خادم ہے جو غالباً یوشع بن نون تھے۔ 12 منہ
ترکیب : اذ قال ظرف ہے اذکر محذوف کا۔ لا ابرح اس کی خبر اسیر محذوف ہے لدلالۃ حالہ وھو السفر اور ممکن ہے کہ اصل کلام یوں ہو لایبرح مسیری حتیٰ ابلغ تب حتی ابلغ خبر ہوگا پس مسیر مضاف کو حذف کر کے مصاف الیہ ی متکلم کو اس کی جگہ قائم کردیا لا ابرح تامہ بھی ہوسکتا ہے پھر خبر کی ضرورت نہیں مجمع بینہما ظرف کی طرف مجمع کو علی الاتساع مضاف کردیا گیا۔ ان اذکرہ بدل ہے ضمیر منصوب سے جو انسانیہ میں ہے۔ اے ماانسانی ذکرہ۔ الا الشیطان خبرا بالضم العلم بالشیء یہ تمیز ہے یا مصدر ہے لم تحط کا کس لیے کہ لم تحط بمعنی لم تخیرہ ہے۔
تفسیر : یہاں سے پھر مسئلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
قَالَ اَرَئَ یْتَ اِذْ اَوَیْنَـآ اِلَی الصَّخْرَۃِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ ز وَمَـآ اَنْسٰنِیْـہُ اِلاَّ الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْکُرَہٗ ج وَا تَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِ صلے ق عَجَبًا۔ قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ صلے ق فَارْتَدَّا عَلٰٓی اٰثَارِھِمَا قَصَصًا۔ فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَـآ اٰ تَیْنٰـہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰـہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا۔ (الکہف : 63، 64، 65)
(خادم نے کہا، کیا عرض کروں، جب ہم چٹان کے پاس (سُستانے کے لیے) ٹھہرے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا اور نہیں فراموش کرائی مجھے وہ مچھلی، مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے بنا لیا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھول کر دریا کے سنگھم سے آگے گزر جانا اور معلوم ہونے پر واپس پلٹنا۔
یوشع بن نون نے جب عرض کی کہ حضرت جہاں آپ نے آرام کیا تھا وہاں مچھلی دریا میں کود گئی۔ لیکن میں آپ سے عرض کرنا بھول گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فوراً فرمایا یہی تو ہماری منزل تھی۔ پھر انہی قدموں پر منزل تلاش کرتے ہوئے واپس پلٹے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ دونوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا۔ جس کو ہم نے اپنی رحمت سے نواز رکھا تھا اور اپنی طرف سے خصوصی علم عطا کیا تھا۔ قرآن مجید نے اس بندے کا نام نہیں بتلایا البتہ حدیث شریف میں اس کا نام خضر آیا ہے۔ حضرت…
Read the full tafseer →65: فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا (پس ان دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا) عبد سے مراد خضر ہیں نمبر 1۔ جو ایک کپڑے کے نیچے آرام فرما رہے تھے۔ نمبر 2۔ سمندر میں بیٹھے تھے۔ اٰتَیْنٰہٗ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا (جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت عطاء کی تھی) رحمت سے مراد وحی، نبوت نمبر 2۔ علم نمبر 3۔ طول حیات وَعَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا (اور اس کو ہم نے اپنی طرف سے علم دیا تھا) اخبار غیوب کا علم نمبر 2۔ علم لدنی جو بطور الہام کے بندے کو ملتا ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر (65)” فوجد اعبدًا من عبادنا آتیناہ رحمۃ “ رحمت سے مراد نعمت ہے۔ ” من عندنا وعلمناہ من لدنا علماً “ اس سے مراد باطن کا علم ہے جو بطور الہام کے حاصل ہوتا ہے۔ اکثر اہل علم کے نزدیک حضرت خضر (علیہ السلام) نبی نہیں تھے کہا جائے گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی اتباع کا حکم دیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
60۔ 66:۔ ان آیتوں میں مختصر طور پر قصہ شروع بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ اس زمانہ میں اے موسیٰ بڑا صاحب علم کون ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں ہوں اللہ تعالیٰ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ جواب پسند نہیں آیا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اس حکم کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خاص رفیق یوشع بن نون کو ساتھ لیکر خضر (علیہ السلام) کے ملنے کی غرض سے سفر کا ارادہ کیا 1 ؎۔ اب آگے وہی قصہ ہے جو ان آیتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–73
آیت 59
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریععے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کردیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کر تتوں سے باز نہ آئے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے انجان بنا رہے اور اللہ عالم الغیوب کو اپنے اوپر نگران نہ سمجھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی۔۔۔ یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–81
قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
115۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حضرت خضر سے ملاقات :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” وہاں پہنچ کر انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا “ جن کا نام نامی صحیح حدیث کے مطابق خضر تھا۔ جن کی نبوت کے بارے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ اور راجح قول کے مطابق آپ نبی نہیں تھے۔ اور اگر ان کی نبوت تسلیم بھی کرلی جائے تو پھر بھی آپ کا درجہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے برابر نہیں پہنچتا۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رسول تھے۔ اور رسول بھی اولو العزم رسول۔ جن کے پاس نئی شریعت اور نئی کتاب تھی اور آپ ایک مستقل امت کے ہادی اور راہنما تھے۔ بخلاف حضرت خضر کے کہ ان کے پاس ان میں سے کوئی بھی چیز نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کا قصہ اور کئی نصیحتیں
تشریح : اس قصہ کا ذکر ایک تو اس لیے کیا گیا کہ اہل عرب کے آنحضرت ﷺ سے تین سوالوں میں سے دوسرے کا جواب یہ تھا۔ پھر یہ کہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا اس کام کے کرنے کے لیے اللہ چاہے کسی کو بھی وسیلہ بنا دے۔
تیسرے یہ کہ ایک دینی اور اخلاقی قانون واضح کردیا گیا کہ غلطی چاہے عام انسان سے ہو یا نبی سے ہو اللہ اس کی پکڑ ضرور کرتا ہے۔ یہاں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کبھی بھی اپنی بڑائی کا کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے۔ ہوا اس طرح کہ کسی اجتماع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
(رکوع نمبر 9)
اسرارومعارف
جہاں تک ان لوگوں کے متکبرانہ رویے کا تعلق ہے تو وہ ایسا ہے کہ اگر کسی مقبول بارگاہ یعنی نبی اور رسول سے بھی کوئی کلمہ غیر ارادی طور پر بھی نکل جائے تو اس پر بھی تنبیہ کی جاتی ہے اور انہیں تعلیم فرمانے کے لیے آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے پہلے گذر چکا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کل جواب دوں گا تو پندہ روز وحی نہ آئی اور کفار نے بہت تمسخر اڑایا پھر تعلیم فرمایا گیا کہ انشاء اللہ فرمایا کیجئے ایسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) سے جو الوالعزم رسول اور کلیم اللہ تھے ایک چھوٹی سی بات صادر ہوئی تو انہیں تعلیم فرمانے کے لیے ایک پوری آزمائش سے گذارا گیا ، اگر مقبولان بارگاہ سے غیر ارادی طور…
Read the full tafseer →ف 3 عبداً من عبادناً کے نام میں اختلاف ہے بعض نے ان کا نام ” الیسع “ اور بعض نے ” الیاس نقل کیا ہے مگر جمہور مفسرین نے ان کا نام خضر ہی بتایا ہے جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ ان کو خضر کیوں کہا جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ سفید زمین پر بیٹھے تو وہ جگہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگی اس سے ان کا لقب خضر مشہور ہوگیا۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ایک حدیث سے بھی ثابت ہے۔ امام نووی لکھتے ہیں والصواب الاول یعنی یہی وجلقب درست ہے۔ (روح شوکانی)4 جمہور علما کے نزدیک یہاں رحمت سے مراد وحی اور نبوت ہے اور قرآن میں متعدد مواضع پر یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے جمہور مفسرین…
Read the full tafseer →(18:25) من لدنا۔ ہماری طرف سے۔ لدن ظرف زمان وظرف مکان ہر دو مستعمل ہے مثلاً اقمت عندہ من لدن طلوع الشمس الی غروبھا۔ میں اس کے پاس مقیم رہا ابتداء طلوع شمس سے غروب آفتاب تک (ظرف زمان) اور فھب لی من لدنک ولیا۔ (19:5) مجھے عطا فرما اپنی جانب سے کوئی جانشین (ظرف مکان) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 70
وجدا دونوں نے پایا۔ علمنا ہم نے سکھایا۔ علمت تجھے سکھایا گیا۔ رشد ہدایت۔ لن تستطیع تو ہرگز طاقت نہیں رکھتا۔ لم تحط گھیرتا نہیں ہے۔ لا اعصی میں نافرمانی نہیں کروں گا۔ لاتسئلنی مجھ سے نہ پوچھنا ۔ حتی احدث جب تک میں بیان نہ کردوں۔ ذکر ذکر، بات۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 70
جب حضرت موسیٰ اللہ کے حکم سے حضرت خضر (علیہ السلام) کی تلاش میں نکلے تو ان کی ملاقات ایک سنگم پر حضرت خضر سے ہوگئی۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ نے حضرت خضر سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے آپ کو جو خصوصی علوم و معارف عطا کئے ہیں میں آپ کے پاس رہ کر انہیں سیکھنا چاہتا ہوں۔ حضرت خضر نے کہا اے موسیٰ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کی ملاقات کا ذکر
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں وعظ فرما رہے تھے۔ کہ ایک شخص نے پوچھا :” سب میں زیادہ عالم کون ہے “۔ آپ نے فرمایا :” میں “۔ یہ بات خدا کو ناگوار معلوم وہئی کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ تم سے بھی زیادہ عالم ہے ، جو مجمع البحرین کے موقع پر ملے گا پھر موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے۔ فرمایا :” اپنے تھیلے میں رکھ لو پھر جہاں وہ مچھلی گم جاوے وہ وہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–75
[23] حدیث میں یوں آیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کوئی آپ سے زیادہ بھی علم رکھتا ہے ؟ فرمایا میں نہیں جانتا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہی سب سے بڑے عالم ہیں۔ اس پر وحی آئی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں ملاقات ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) !
(ف 1) حضور ﷺ سے قبل یہودیوں اور عیسائیوں میں جن مباحث اور قصص کا چرچا تھا ، ان میں ایک بحث یہ بھی تھی ، کہ اصحاب کہف کون تھے ، موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ کیونکر ہے ، اور ذوالقرنین کے حالات کیا ہیں ؟ اس لئے ان کو حضور ﷺ سے بھی ان مسائل کے متفق پوچھنا ضروری ہے تھا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے علم کے لئے ان قصوں کی حقیقت بیان فرمائی ، اور نکات ومعارف کی جانب اشارہ فرمایا جو ان قصے کے ضمن میں پنہاں ہیں اصحاب کہف کے قصہ میں یہ بتلایا کہ خدا پرستوں کو خدا کیونکر کامیاب وکامران فرماتا ہے ، اور کیونکر باطل پرستوں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے…
Read the full tafseer →-65 پس انہوں نے وہاں پہنچ کر ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پا لیا جس کو ہم نے اپنے پاس سے ایک خاص رحمت عنایت کی تھی اور ہم نے اپنے پاس سے اس کو ایک خاص علم سکھایا تھا۔ یعنی حضرت خضر (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی رحمت یعنی نبوت یا ولایت خاص علم یعنی اسرار کو نیہ کا علم نہ اسرار الٰہیہ کا علم جو موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے خاص تھا اور وہ قرب الٰہی حاصل کرنے کا صحیح ذریعہ اور موجب تھا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں وہ بندہ خضر (علیہ السلام) تھا مل کر سبب پوچھا آنے کا موسیٰ (علیہ السلام) نے بتایا خضر (علیہ السلام) نے کہا تم کو اللہ نے تربیت فرمائی پر بات یوں ہے کہ اللہ کا ایک علم مجھ کو ہے تم کو نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
ف 5۔ وجہ اس سفر کی یہ ہوئی تھی کہ ایک بار موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل میں وعظ فرمایا تو کسی نے پوچھا کہ اس وقت آدمیوں میں سب سے بڑا عالم کون شخص ہے۔ آپ نے فرمایا میں۔ مطلب یہ تھا کہ ان علوم میں کہ جن کو قرب الی اللہ کی تحصیل میں دخل ہے میرے برابر کوئی نہیں۔ اور یہ فرمانا صحیح تھا، لیکن چونکہ ظاہرا لفظ مطلق تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ آپ کو احتیاط فی الکلام کی تعلیم دی جائے، ارشاد ہوا کہ مجمع البحرین میں ایک بندہ ہمارا تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے، مطلب یہ تھا کہ بعض علوم میں وہ زیادہ ہے، گو ان علوم کو قرب الہی میں دخل نہہو، لیکن اس بناء پر جواب میں مطلقا تو اپنے کو اعلم نہ…
Read the full tafseer →جب وہ واپس اس مقام پر پہنچے تو ان کی ملاقات ایک اللہ کے بندہ سے ہوگئی :
70۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنے ساتھی کی بات سنی تو مطمئن ہوگئے اور وہاں سے واپس چل کر جب اس مقام پر پہنچے تو اس جگہ ان کی ملاقات ایک بندے سے ہوگئی جو عام بندہ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں سے ایک تھا جو اس وقت کی اس علاقہ کی حکومت کا کوئی صاحب اختیار بندہ تھا جو باقاعدہ کسی مہم پر نکلا تھا جیسا کہ اس کے کاموں سے خودبخود اس بات کا ثبوت مل جاتا ہے جو آگے بیان ہوئے ہیں اور اس علاقہ کی اس وقت کی حکومت کا کھوج نکالا جائے اور تاریخ کے ابواب کی ورق گردانی کی جائے تو یہ بات یقینا پایہ ثبوت کو پہنچ جائے گی کہ اس…
Read the full tafseer →About al-Khadir (علیہ السلام) and the issue of his prophet-hood
Though the name of the person concerned in this event has not been mentioned in the Qur'an - in fact, he has been called: عَبداً مِن عِبَادِنَا (a servant from among Our servants - 65) - but, in the Hadith of Sahih al-Bukhari, his name has been given as: اَلخِضر (al-Khadir). Literally, it means green, verdant. Giving the reason for his name being al-Khadir, commen-tators at large say that grass would grow at the spot where he would sit, no matter what the nature of the land. It would just turn green. The Qur'an has also not made…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
59. The name of this servant has been stated to be Khidr in all the authentic books of traditions. Thus there is no reason why it should be considered at all that his name was Elijah, as some people have asserted under the influence of the Israelite traditions. Their assertion is incorrect not only because it contradicts the assertion of the Prophet (peace be upon him) but it is also absurd because Prophet Elijah (peace be upon him) was born several hundred years after Prophet Moses (peace be upon him). Though the Quran does not mention the name of the attendant of Prophet Moses (peace be…
Read the full tafseer →