Explained with ayahs 60–65
حضرت موسیٰ ؑ اور اللہ کا ایک بندہ
حضرت موسیٰ ؑ سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں آپ نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے واللہ اعلم۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقت کعتے ہیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں۔ حقب سے مراد اسی برس ہیں مجاہد ؒ ستر برس کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ زمانہ بتلاتے ہیں۔…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 58
یعنی منزل مقصود کا یہی نشان تو ہم کو بتایا گیا تھا۔ اس سے خود بخود یہ اشارہ نکلتا ہے کہ حضرت موسیٰ کا یہ سفر اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا اور ان کو منزل مقصود کی علامت یہی بتائی گئی تھی کہ جہاں ان کے ناشتے کی مچھلی غائب ہوجائے وہی مقام اس بندے کی ملاقات کا ہے جس سے ملنے کے لیے وہ بھیجے گئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
حضرت موسیٰ ؑ کا خضر ؑ سے افضل ہونا موسیٰ ؑ کی خاص تربیت اور ان کے معجزے
(آیت) فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا قرآن و سنت کی تصریحات سے واضح ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت میں بھی ایک خاص امتیاز حاصل ہے اللہ تعالیٰ کی ہم کلامی کا خاص شرف ان کی مخصوص فضیلت ہے اور حضرت خضر ؑ کی تو نبوت میں بھی اختلاف ہے اور نبوت کو تسلیم بھی کیا جائے تو مقام رسالت حاصل نہیں نہ ان کی کوئی کتاب ہے نہ کوئی خاص امت اس لئے بہرحال موسیٰ ؑ خضر ؑ سے بدرجہا افضل ہیں لیکن حق تعالیٰ اپنے مقربین کی ادنیٰ سی کمی اور کوتاہی کی اصلاح…
Read the full tafseer →قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا (64)۔
منزل کا سراغ : شاگرد نے تو بات ڈرتے ڈرتے بتائی کہ یہ سن کر معلوم نہیں کیا عتاب نازل ہو لیکن حضرت موسیٰ یہ مژدہ سن کر پھڑک اٹھے۔ فرمایا اسی کی تو تلاش تھی ! معلوم ہوتا ہے کہ وحی یا رویا کے ذریعہ سے حضرت موسیٰ کو منزل مقصود کا سراغ یہی بتایا گیا تھا کہ جس مقام پر ان کے ناشتہ کی مچھلی زندہ ہو کر پانی کی راہ لے گی وہیں ان کی ملاقات اس بند ﷺ خاص سے ہوگی جو ان پر زندگی کے کچھ خاص راز فاش کرے گا۔ چناچہ وہ یہ سراغ پاتے ہی الٹے پاؤں اپنے نقش قدم کو تلاش کرے، اس مقام پر واپس آئے جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔
Read the full tafseer →64۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ نے کہا، اللہ کے بندے ! جہاں مچھلی زندہ ہو کر غائب ہوئی تھی، وہی تو ہمارا مطلوبہ مقام تھا، جس کی تلاش میں ہم سفر کر رہے ہیں۔ چناچہ اپنے نشانات دیکھتے ہوئے پیچھے لوٹے اور اسی مجمع البحرین پر واپس آگئے۔ قَصَصَا کے معنی ہیں پیچھے لگنا، پیچھے پیچھے چلنا۔ یعنی نشانات قدم کو دیکھتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چلتے رہے۔
Read the full tafseer →35: حضرت موسیٰ ؑ کو یہی علامت بتائی گئی تھی کہ جس جگہ پر مچھلی گم ہوگی وہیں حضرت خضر ؑ سے ملاقات ہوگی، اس لئے حضرت یوشع ؑ نے تو ڈرتے ڈرتے یہ واقعہ ذکر کیا تھا، لیکن حضرت موسیٰ ؑ اسے سن کر خوش ہوئے کہ منزل مقصود کا پتہ لگ گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے رب کے درمیان ایک خفیہ راز تھا اور اس راز سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نوجوان بھی باخبر نہ تھے۔ ملاقات تک اسے خبر نہ تھی اور بعد کے مناظر میں بھی ان نوجوان حضرت موسیٰ اور عبدصالح کے ساتھ نظر نہیں آتے۔
Read the full tafseer →1 غالباً راستہ بنا ہوا نہ ہوگا۔ اس لیے اپنے نقش قدم دیکھتے ہوئے الٹے پاؤں پھرے۔
Read the full tafseer →آیت 64 قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ
یہی تو ہمیں نشانی بتائی گئی تھی کہ جس جگہ مچھلی زندہ ہو کر دریا میں چلی جائے گی اس جگہ پر اللہ کے اس بندے سے ہماری ملاقات ہوگی۔ چناچہ چلو اب واپس اسی جگہ پر پہنچیں۔
فَارْتَدَّا عَلٰٓي اٰثَارِهِمَا قَصَصًا
واپس اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے وہ عین اسی جگہ پر آگئے جہاں چٹان کے پاس مچھلی زندہ ہو کر دریا میں کود گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–70
61 رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ تھکاوٹ آپ کو اس وقت ہوئی جب آپ اپنی منزل مقصود سے آگے نکلے جارہے تھے اس سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →97۔ یعنی وہی مقام تو ہماری منزل مقصود تھا۔ وہی کا پتہ تو ہمیں بتایا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
آیت نمبر 60 تا 65
اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کہ عمران کے بیٹے ہیں اپنے خادم یوشع بن نون سے جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت کے ساتھ ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) سے تحصیل علم بھی کرتے تھے کہا کہ میں چلتا ہی رہوں گا سفر موقوف نہ کروں گا تاآنکہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں یعنی مشرقی جانب سے بحرروم اور بحر فارس کے ملنے کی جگہ اور اگر میں منزل مقصود کو نہ پاؤں تو ایک وقت یعنی زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا چناچہ جب یہ دونوں حضرات دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو یہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے یوشع روانگی کے وقت مچھلی اٹھانا بھول گئے اور…
Read the full tafseer →قال ذلک ما کنا نبغ فارتدا علی اثارہما قصصا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا یہ ہی تو وہ چیز ہے جس کے
ہم خواستگار تھے چناچہ دونوں نقش قدم پر لوٹ پڑے۔ یہاں تک کہ مقرر پتھر تک آگئے۔ وہی مقام حضرت خضر سے ملاقات کے لئے مقرر تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–82
(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…
Read the full tafseer →فَارْتَدَّا عَلٰٓي اٰثَارِهِمَا قَصَصًا : یہ واقعہ انبیاء و اولیاء، خصوصاً موسیٰ ، یوشع بن نون اور خضر کے غیب نہ جاننے کی کئی طرح سے دلیل ہے : 1 موسیٰ ؑ کا کہنا کہ مجھ سے زیادہ کوئی عالم نہیں، حالانکہ ان سے زیادہ علم والے موجود تھے۔ 2 اللہ تعالیٰ کا ناراض ہونا۔ 3 موسیٰ ؑ کا اللہ تعالیٰ سے خضر کا پتا پوچھنا۔ 4 مجمع البحرین اور مچھلی کی نشانی کی ضرورت عالم الغیب کو نہیں ہوتی۔ 5 مچھلی کے نکل جانے کا علم نہ ہونا۔ 6 اگلا سفر، تھکاوٹ کے احساس کی وجہ معلوم نہ ہونا۔ 7 قدموں کے نشانوں کو دیکھتے ہوئے واپسی کی اسے کیا ضرورت ہے جس کی نگاہ سے کچھ اوجھل نہ ہو۔ مزید اگلی آیات میں ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتنا غدآء نا۔ اس میں ایک مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ سفر میں زادراہ ساتھ لینا، یہ جاہل صوفیاء پر رد ہے جو بیابانوں اور میدان میں بغیر زاد راہ کے جاتے ہیں یہ گمان کرتے ہوئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السللام کے نبی تھے اور اہل زمین میں سے اس کے کلیم تھے۔ انہوں نے اپنے رب کی معرفت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے باوجود زادراہ ساتھ لیا۔ صحیح بخاری میں ہے (1) یمن کے کچھ لوگ حج کرتے تھے اور زادراہ ساتھ نہیں لے جاتے تھے، اور کہتے تھے : ہم توکل کرنے والے ہیں۔ پھر جب حرم میں پہنچتے تو لوگوں سے سوال کرتے تو اللہ تعالیٰ وتزودوا کا ارشاد نازل فرمایا، یہ سورة بقرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–73
خضر (علیہ السلام) بھی اولاد آدم میں سے ہیں :
10:۔ دارقطنی نے افراد میں ابن عساکر نے مقاتل بن سلیمان کے طریق سے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ خضر (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور ان کی عمر میں تاخیر کی گئی ہے یہاں تک کہ وہ دجال کی تکذیب کریں گے۔
11:۔ بخاری، احمد، ترمذی اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ ایک سفید سوکھی زمین پر بیٹھتے تو آپ کے پیچھے سرسبز کھیتی (آپ کی برکت کی وجہ سے) ہوجاتی۔
12:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [ذٰلِكَ مَا : یہ وہ ہے جس کو ] [كُنَا نَبْغِ : ہم تلاش کر رہے تھے ] [فَارْتَدَّا : پھر وہ دونوں لوٹے ] [عَلٰٓي اٰثَارِهِمَا : اپنے نقوش قدم پر ] [قَصَصًا : پیچھا کرتے ہوئے ]
(آیت۔ 64) ۔ نَبْغِ مجزوم نہیں ہے کیونکہ یہاں مضارع کو مجزوم کرنے والا کوئی عامل نہیں ہے۔ اس لئے یہ دراصل مضارع نَبْغِیْ ہی ہے۔ اس جگہ اس کو نَبْعِ لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔
نوٹ۔ 1: یہ قصّہ سنانے سے مقصود کفار اور مؤمنین دونوں کو ایک اہم حقیقت سے آگاہ کرنا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ نگاہ دنیا میں بظاہر جو کچھ دیکھتی ہے، اس سے غلط نتائج اخذ کرلیتی ہے کیونکہ اس کے سامنے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ
مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
قصہ حضرت موسیٰ باخضر (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح .... الیٰ .... لقد جئت شیئا نکرا۔
(ربط) چونکہ قریش نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لیے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق جو سوالات کیے تھے وہ یہود کے بتلانے اور سمجھانے سے کئے تھے کہ اگر آنحضرت ﷺ ان باتوں کا جواب دے دیں تو جانو کہ وہ نبی ہیں ورنہ نہیں اس لئے یہود کے سنانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم کریں کہ نبی کے لیے یہ شرط نہیں کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہوں اور وہ تمام اخبار اور قصص کا عالم ہو بلکہ نبوت کے لیے وحی اور علوم ہدایت کی معرفت ضروری ہے۔ چناچہ موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
66:۔ جب دونوں مجمع البحرین سے آگے نکل گئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس سفر سے بہت تھک گئے ہیں اب کھانا لاؤ۔ ” نصبا “ تعبا یعنی تھکاوٹ اور تکلیف۔ ” قال ارءیت الخ “ ساتھی کو اب مچھلی کا واقعہ یاد آیا اور اس نے جواب میں کہا جب ہم نے پتھر کے سایہ میں آرام کیا تھا، اس وقت وہ مچھلی عجیب معجزانہ طور پر زندہ ہو کر توشہ دان سے نکل کر دریا میں گھس گئی تھی مگر آپ سے اس کا حال بیان کرنا بھول گیا۔ ” قال ذالک الخ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہماری منزل مقصود کی یہی تو علامت تھی چناچہ وہیں سے الٹے پاؤں واپس ہوئے۔ ” قصصا “ یہ مصدر ہے اور فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔ ای یقصان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان نافرمانوں کا ذکر کیا جو قرآن کریم کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں اور حق کو گرانے کے لیے باطل کو ہمراہ لے کر جھگڑا کرتے ہیں فرمایا یہ محض اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو جلدی ہلاک نہیں کرتا بلکہ اپنے قانون کے مطابق مہلت دیتا ہے ، اللہ نے ہلاکت کا سبب ظلم و زیادتی کو قرار دیا ، قرآن پاک میں سابقہ اقوام ، عاد ، ثمودم ، قوم فرعون ، قوم لوط ، اہل مدین ، وغیرہ کا حال بھی مذکور ہے جب انہوں نے کفر وشرک کی انتہا کردی ظلم و زیادتی کو مستقل وطیرہ بنا لیا تو پھر اللہ کی گرفت آئی اور نافرمان لوگ صفحہ ہستی سے ناپید کردیے گئے گذشتہ آیات میں باغ والے مغرور…
Read the full tafseer →قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ 0ۤۖ فَارْتَدَّا عَلٰٓي اٰثَارِہِمَا قَصَصًا 64ۙ
بغي
البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى،
والبَغْيُ علی ضربین :
- أحدهما محمود، وهو تجاوز العدل إلى الإحسان، والفرض إلى التطوع .
- والثاني مذموم، وهو تجاوز الحق إلى الباطل، أو تجاوزه إلى الشّبه، تعالی: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ [ الشوری/ 42]
( ب غ ی ) البغی
کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔
بغی دو قسم پر ہے ۔
( 1) محمود
یعنی حد عدل و انصاف سے تجاوز کرکے مرتبہ احسان حاصل کرنا اور فرض سے تجاوز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–68
1 ؎ جوان سے مراد خادم ہے جو غالباً یوشع بن نون تھے۔ 12 منہ
ترکیب : اذ قال ظرف ہے اذکر محذوف کا۔ لا ابرح اس کی خبر اسیر محذوف ہے لدلالۃ حالہ وھو السفر اور ممکن ہے کہ اصل کلام یوں ہو لایبرح مسیری حتیٰ ابلغ تب حتی ابلغ خبر ہوگا پس مسیر مضاف کو حذف کر کے مصاف الیہ ی متکلم کو اس کی جگہ قائم کردیا لا ابرح تامہ بھی ہوسکتا ہے پھر خبر کی ضرورت نہیں مجمع بینہما ظرف کی طرف مجمع کو علی الاتساع مضاف کردیا گیا۔ ان اذکرہ بدل ہے ضمیر منصوب سے جو انسانیہ میں ہے۔ اے ماانسانی ذکرہ۔ الا الشیطان خبرا بالضم العلم بالشیء یہ تمیز ہے یا مصدر ہے لم تحط کا کس لیے کہ لم تحط بمعنی لم تخیرہ ہے۔
تفسیر : یہاں سے پھر مسئلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
قَالَ اَرَئَ یْتَ اِذْ اَوَیْنَـآ اِلَی الصَّخْرَۃِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ ز وَمَـآ اَنْسٰنِیْـہُ اِلاَّ الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْکُرَہٗ ج وَا تَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِ صلے ق عَجَبًا۔ قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ صلے ق فَارْتَدَّا عَلٰٓی اٰثَارِھِمَا قَصَصًا۔ فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَـآ اٰ تَیْنٰـہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰـہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا۔ (الکہف : 63، 64، 65)
(خادم نے کہا، کیا عرض کروں، جب ہم چٹان کے پاس (سُستانے کے لیے) ٹھہرے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا اور نہیں فراموش کرائی مجھے وہ مچھلی، مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے بنا لیا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھول کر دریا کے سنگھم سے آگے گزر جانا اور معلوم ہونے پر واپس پلٹنا۔
یوشع بن نون نے جب عرض کی کہ حضرت جہاں آپ نے آرام کیا تھا وہاں مچھلی دریا میں کود گئی۔ لیکن میں آپ سے عرض کرنا بھول گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فوراً فرمایا یہی تو ہماری منزل تھی۔ پھر انہی قدموں پر منزل تلاش کرتے ہوئے واپس پلٹے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ دونوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا۔ جس کو ہم نے اپنی رحمت سے نواز رکھا تھا اور اپنی طرف سے خصوصی علم عطا کیا تھا۔ قرآن مجید نے اس بندے کا نام نہیں بتلایا البتہ حدیث شریف میں اس کا نام خضر آیا ہے۔ حضرت…
Read the full tafseer →ہماری تلاش :
64: قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ (اس نے کہا یہی تو ہم تلاش کرتے تھے) ہم تلاش کرتے ہیں۔
قراءت : مکی نے یاء سے نَبْغِیْپڑھا۔ ابو عمرو اور علی نے اس کی موافقت کی اور مدنی نے وصل میں موافقت کی۔ اور یاءؔ کے بغیر وصل و فصل میں دیگر قراء نے اختیار کیا۔ خط مصحف کا لحاظ کرتے ہوئے ذٰلک کا لفظ راستہ بنانے کی طرف اشارہ ہے تقدیر کلام اس طرح ہے ذٰلک الَّذِی کُنَّا نطلبکیون کہ مچھلی کا غائب ہونا خضر (علیہ السلام) سے ملاقات کی علامت تھی۔ فارْتَدَّا عَلٰٓی اٰثَارِھِمَا (پس وہ دونوں اپنے نشان ہائے قدم پر واپس لوٹے) وہ اسی راستے پر واپس لوٹے جس پر گئے تھے۔ قَصَصًا (نشان کی پیروی کرتے ہوئے) اس حال…
Read the full tafseer →(64)” قال “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ” ذلک ماکنا نبغ “ کہ یہی ہماری مطلوب شدہ جگہ تھی۔ ” فارتد علی اثارھما قصصا “ وہ واپس اپنے اپنے قدموں کے نشانات کے بل لوٹے اور اس جگہ کو تلاش کرنے لگے۔ پھر انہوں نے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کو پالیا۔
بعض نے کہا کہ وہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ تھا۔ صحیح وہی ہے جو تاریخ میں آیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس سے مراد حضرت خضر (علیہ السلام) ہیں اور ان کا نام بلیابن ملکان ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ بنی اسرائیل میں سے تھے۔ بعض نے کہا کہ یہ شہزادہ تھے جو تارک الدنیا ہوگئے تھے اور خضر (علیہ السلام) لقب تھا۔
حضرت خضر (علیہ السلام) کو خضر کہنے کی وجہ
حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
60۔ 66:۔ ان آیتوں میں مختصر طور پر قصہ شروع بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ اس زمانہ میں اے موسیٰ بڑا صاحب علم کون ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں ہوں اللہ تعالیٰ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ جواب پسند نہیں آیا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اس حکم کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خاص رفیق یوشع بن نون کو ساتھ لیکر خضر (علیہ السلام) کے ملنے کی غرض سے سفر کا ارادہ کیا 1 ؎۔ اب آگے وہی قصہ ہے جو ان آیتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–73
آیت 59
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریععے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کردیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کر تتوں سے باز نہ آئے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے انجان بنا رہے اور اللہ عالم الغیوب کو اپنے اوپر نگران نہ سمجھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی۔۔۔ یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–81
قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…
Read the full tafseer →114۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے نشانات قدم پر واپس لوٹنا :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” پھر وہ دونوں واپس لوٹے اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے “ کہ وہ صحرائی علاقہ تھا جس میں قدموں کے نشانات ان کی راہنمائی کررہے تھے۔ معلوم ہوا کہ پیغمبر عالم غیب نہیں ہوتے جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا ہے۔ ورنہ ان دونوں حضرات کو اس طرح قدموں کے نشانات دیکھنے کی اور ان کی مدد سے لوٹنے اور چلنے کی ضرورت نہ ہوتی، اور نہ ہی پیغمبر ہر جگہ حاضر اور موجود ہوتے ہیں۔ سو اس واقعہ سے اہل بدعت کے علم غیب کلی، اختیاری کلی اور حاضر وناضر کے خود ساختہ شرکیہ عقیدوں کی جڑ نکل جاتی ہے کیونکہ اگر ایسے ہوتا تو نہ حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کا قصہ اور کئی نصیحتیں
تشریح : اس قصہ کا ذکر ایک تو اس لیے کیا گیا کہ اہل عرب کے آنحضرت ﷺ سے تین سوالوں میں سے دوسرے کا جواب یہ تھا۔ پھر یہ کہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا اس کام کے کرنے کے لیے اللہ چاہے کسی کو بھی وسیلہ بنا دے۔
تیسرے یہ کہ ایک دینی اور اخلاقی قانون واضح کردیا گیا کہ غلطی چاہے عام انسان سے ہو یا نبی سے ہو اللہ اس کی پکڑ ضرور کرتا ہے۔ یہاں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کبھی بھی اپنی بڑائی کا کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے۔ ہوا اس طرح کہ کسی اجتماع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
(رکوع نمبر 9)
اسرارومعارف
جہاں تک ان لوگوں کے متکبرانہ رویے کا تعلق ہے تو وہ ایسا ہے کہ اگر کسی مقبول بارگاہ یعنی نبی اور رسول سے بھی کوئی کلمہ غیر ارادی طور پر بھی نکل جائے تو اس پر بھی تنبیہ کی جاتی ہے اور انہیں تعلیم فرمانے کے لیے آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے پہلے گذر چکا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کل جواب دوں گا تو پندہ روز وحی نہ آئی اور کفار نے بہت تمسخر اڑایا پھر تعلیم فرمایا گیا کہ انشاء اللہ فرمایا کیجئے ایسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) سے جو الوالعزم رسول اور کلیم اللہ تھے ایک چھوٹی سی بات صادر ہوئی تو انہیں تعلیم فرمانے کے لیے ایک پوری آزمائش سے گذارا گیا ، اگر مقبولان بارگاہ سے غیر ارادی طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
ف 1 یعنی جہاں یہ مچھلی گم ہوئی وہی تو ہماری منزل مقصود تھی۔2 یعنی جس راستے سے گئے تھے اسی راستے سے واپس ہوگئے۔
Read the full tafseer →(18:64) قال۔ ای قال موسیٰ : ذلک۔ ای امر الحوت مچھلی کی یہی بات (تو تھی جس کی ہمیں تلاش تھی) یا اس کا اس جگہ کی طرف ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا ۔ یعنی وہی تو وہ مقام تھا جس کی ہمیں تلاش تھی۔
ماکنا نبخ۔ جس کی ہم تلاش کر رہے تھے۔ کنا نبغی ماضی استمراری صیغہ جمع متکلم ۔ بغیمصدر (باب ضرب)
ارتدا۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب دونوں الٹے پھرے۔ ارتداد (افتعال) مصدر جس کے معنی جس راستہ سے آیا اسی راستہ سے واپس جانے کے ہیں رد مادہ۔
اثارہما۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان دونوں کے نشانات قدم۔ اثار جمع اثرواحد بمعنی علامت۔ نشانی ۔ نشان قدم ۔ نشان۔ پیچھے۔ ثم قفینا علی اثارہم برسلنا۔ (57:27) پھر ہم نے ان کے پیچھے اور پیغمبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
لغات القرآن آیت نمبر 60 تا 64
فتی نوجوان، شاگرد۔ لا ابرح میں ہرگز نہ چھوڑوں گا۔ حتی ابلغ جب تک پہنچ نہ جاؤں۔ مجمع البحرین دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ۔ حقب (احقاب) طویل مدت۔ بلغا وہ دونوں پہنچے۔ حوث مچھلی۔ جاوزا دونوں گذر گئے۔ السخرۃ چٹان، پتھر نبغ ہم تلاش کر رہے ہیں۔ ارتدا وہ دونوں لوٹے۔ اثار نشان قدم۔ قصص ڈھونڈنا، تلاش کرنا۔
تشریح : آیت نمبر 60 تا 64
چونکہ نبی اور رسول اللہ کے بندے اور اللہ کے نمئاندے ہوتے ہیں اس لئے ان کی تعلیم و تربیت اور عرفت براہ راست اللہ کی طرف سے کی جاتی ہے تاکہ ان کی زندگی کا ہر عمل دوسروں کے لئے مثال، نمونہ اور اسوہ بن جائے۔ اللہ کے تمام نبی اور رسول گناہوں سے معصوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کی ملاقات کا ذکر
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں وعظ فرما رہے تھے۔ کہ ایک شخص نے پوچھا :” سب میں زیادہ عالم کون ہے “۔ آپ نے فرمایا :” میں “۔ یہ بات خدا کو ناگوار معلوم وہئی کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ تم سے بھی زیادہ عالم ہے ، جو مجمع البحرین کے موقع پر ملے گا پھر موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے۔ فرمایا :” اپنے تھیلے میں رکھ لو پھر جہاں وہ مچھلی گم جاوے وہ وہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–75
[23] حدیث میں یوں آیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کوئی آپ سے زیادہ بھی علم رکھتا ہے ؟ فرمایا میں نہیں جانتا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہی سب سے بڑے عالم ہیں۔ اس پر وحی آئی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں ملاقات ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) !
(ف 1) حضور ﷺ سے قبل یہودیوں اور عیسائیوں میں جن مباحث اور قصص کا چرچا تھا ، ان میں ایک بحث یہ بھی تھی ، کہ اصحاب کہف کون تھے ، موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ کیونکر ہے ، اور ذوالقرنین کے حالات کیا ہیں ؟ اس لئے ان کو حضور ﷺ سے بھی ان مسائل کے متفق پوچھنا ضروری ہے تھا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے علم کے لئے ان قصوں کی حقیقت بیان فرمائی ، اور نکات ومعارف کی جانب اشارہ فرمایا جو ان قصے کے ضمن میں پنہاں ہیں اصحاب کہف کے قصہ میں یہ بتلایا کہ خدا پرستوں کو خدا کیونکر کامیاب وکامران فرماتا ہے ، اور کیونکر باطل پرستوں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے…
Read the full tafseer →-64 موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ تمام ماجرا سن کر فرمایا وہی تو وہ جگہ ہے جس کو ہم تلاش کر رہے تھے پھر وہ دونوں اپنے نقشہائے قدم کو تلاش کرتے اور کھوج لگاتے ہوئے واپس ہوئے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے خادم کو ساتھ لئے ہوئے واپس ہوئے اور راستہ بھول نہ جائیں اس لئے اپنے نقشہائے قدم کی کھوج لگاتے ہوئے واپس آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
ف 5۔ وجہ اس سفر کی یہ ہوئی تھی کہ ایک بار موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل میں وعظ فرمایا تو کسی نے پوچھا کہ اس وقت آدمیوں میں سب سے بڑا عالم کون شخص ہے۔ آپ نے فرمایا میں۔ مطلب یہ تھا کہ ان علوم میں کہ جن کو قرب الی اللہ کی تحصیل میں دخل ہے میرے برابر کوئی نہیں۔ اور یہ فرمانا صحیح تھا، لیکن چونکہ ظاہرا لفظ مطلق تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ آپ کو احتیاط فی الکلام کی تعلیم دی جائے، ارشاد ہوا کہ مجمع البحرین میں ایک بندہ ہمارا تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے، مطلب یہ تھا کہ بعض علوم میں وہ زیادہ ہے، گو ان علوم کو قرب الہی میں دخل نہہو، لیکن اس بناء پر جواب میں مطلقا تو اپنے کو اعلم نہ…
Read the full tafseer →ساتھی تو اپنی جگہ شرمندہ ہوا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ہی اندر سے حقیقت کا سراغ پاگئے :
69۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنے ساتھی کی یہ بات سنی تو بجائے عتاب کے آپ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی اور اپنی ساری سرگزشت بیک لمحہ آپ کی آنکھوں کے سامنے پھر گئی آپ کی فراست کسی عام انسان کی فراست نہ تھی خواہ وہ کتنا ہی عقل مند کیوں نہ ہو بلکہ ایک ہونے والے نبی کی فراست تھی یقینا اس سستانے میں آپ نے کوئی مشاہدہ کیا تھا لیکن سستانے کے بعد وہ زمین سے محو ہوگیا اور جبھی دوست نے اس مچھلی کا ذکر کیا تو بجلی کی طرح وہ واقعہ آپ کے ذہن میں چکر کھا گیا اور فورا فرمانے لگے کہ سبحان اللہ ! ہم تو منزل سے آگے نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
Precedence of Sayyidna Musa (علیہ السلام) over Al-Khadir (علیہ السلام) ، his up-bringing and miracles
In the next verse, it was said:
فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا
So, when they reached the meeting point of the two seas, they forgot their fish and it made its way into the sea as in a tunnel- 61.
Before we explain the nature of the extraordinary happening there, it is appropriate to first refer to the distinct position bestowed upon Sayyidna Musa 1 in the comity of prophets. This has been mentioned explicitly in the…
Read the full tafseer →58. That is, the same was the sign of the place of our destination. This shows that Prophet Moses (peace be upon him) had taken this journey at Allah’s behest to meet His servant. He had been told that he would meet the servant at the place where the fish would disappear.
Read the full tafseer →