Al-Kahf 18:63

Al-Kahf · from ayah 63

18:63

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَی الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ ؗ— وَمَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ ۚ— وَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ ۖۗ— عَجَبًا ۟قَالَ اَرَءَيۡتَ اِذۡ اَوَيۡنَاۤ اِلَى الصَّخۡرَةِ فَاِنِّىۡ نَسِيۡتُ الۡحُوۡتَ وَ مَاۤ اَنۡسٰٮنِيۡهُ اِلَّا الشَّيۡطٰنُ اَنۡ اَذۡكُرَهٗ‌ ‌ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيۡلَهٗ فِىۡ الۡبَحۡر‌ِ ‌ۖعَجَبًا

(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "Did you see when we retired to the rock? Indeed, I forgot [there] the fish. And none made me forget it except Satan - that I should mention it. And it took its course into the sea amazingly".

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 9 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:63

خادم نے کہا "آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھیرے ہوئے تھے اُس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا) بھول گیا مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا بھی؟ جب کہ ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا، دراصل شیطان نے ہی مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں۔ اس مچھلی نے ایک انوکھے طور پر دریا میں اپنا راستہ بنالیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس نے کہا : بھلا بتائیے ! (عجیب قصہ ہوگیا) جب ہم اس چٹان پر ٹھہرے تھے تو میں مچھلی (کا آپ سے ذکر کرنا) بھول گیا۔ اور شیطان کے سوا کوئی نہیں ہے جس نے مجھ سے اس کا تذکرہ کرنا بھلا یا ہو، اور اس (مچھلی) نے تو بڑے عجیب طریقے پر دریا میں اپنی راہ لے لی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولا بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو بیشک میں مچھلی کو بھول گیا، اور مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا کہ میں اس کا مذکور کروں اور اس نے تو سمندر میں اپنی راہ لی، اچنبھا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(خادم نے) کہا: کیا آپ نے دیکھا جب ہم نے پتھر کے پاس آرام کیا تھا تو میں (وہاں) مچھلی بھول گیا تھا، اور مجھے یہ کسی نے نہیں بھلایا سوائے شیطان کے کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں، اور اس (مچھلی) نے تو (زندہ ہوکر) دریا میں عجیب طریقہ سے اپنا راستہ بنا لیا تھا (اور وہ غائب ہو گئی تھی)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا کیا تو نے دیکھا جب ہم اس چٹان کے پاس جاکر ٹھہرے تھے تو بیشک میں مچھلی بھول گیا اور مجھے وہ نہیں بھلائی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے اپنا راستہ سمندر میں عجیب طرح سے بنالیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

خادم نے جواب دیا، بھلا دیکھو ! جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے تو میں آپ سے مچھلی کی بات کرنا بھول گیا۔ یہ شیطان ہی تھا جس نے مجھے آپ سے مچھلی کا ذکر کرنا بھلا دیا۔ (بات یہ ہوئی کہ) مچھلی نے بڑے عجیب طریقے سے دریا میں اپنی راہ بنا لی تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا کیا عرض کروں، جب ہم نے چٹان کے پاس پناہ لی تو میں مچھلی کو بھول گیا، اور یہ شیطان ہی تھا جس نے اس کو یاد رکھنے سے مجھے غافل کردیا، اور اس نے عجیب طرح اپنی راہ دریا میں نکال لی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

خادم نے عرض کیا (اوہو !) دیکھا آپ نے (حضرت، یہ کیا ہوا) کہ جب ہم ٹھہرے تھے اس چٹان کے پاس تو میں بھول گیا مچھلی (کے معاملہ) کو، اور شیطان نے مجھے ایسا بھلا دیا کہ میں (آپ سے) اس کا ذکر بھی نہ کرسکا، اور (قصہ اس کا یہ ہوا کہ) وہ (زندہ ہو کر) دریا میں چلی گئی ایک عجیب سا (سرنگ نما) راستہ بناتی ہوئی،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولا کہ لیجیے ہم لوگ جب اس چٹان کے قریب ٹھہرے تھے تو میں اس مچھلی کو بھول ہی گیا اور مجھے بس شیطان ہی نے بھلادیا کہ میں اس کا ذکر کرتا اور اس نے تو دریا میں عجب طرح اپنی راہ لی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس (نوجوان) نے کہا : دیکھئے جب ہم ٹھہرے تھے چٹان کے پاس تو میں بھول گیا مچھلی کو (نگاہ میں رکھنا) اور نہیں مجھے بھلائے رکھا مگر شیطان نے کہ میں (آپ سے) اس کا ذکر کروں اور اس نے تو بنا لیا تھا اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس نے کہا بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا، اور مجھے آپ سے اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا، اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا راستہ لیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The servant said: "Did you see what happened? When we betook ourselves to the rock to take rest, I forgot the fish - and it is only Satan who caused me to forget to mention it to you - so that it made its way into the sea in a strange manner."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :You see, when we stayed at the rock, I forgot the fish. It was none but Satan who made me forget it to tell you about it – and it made its way into the sea in an amazing manner.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :You see, when we stayed at the rock, I forgot the fish. It was none but Satan who made me forget it to tell you about it – and it made its way into the sea in an amazing manner.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Do you remember when we betook ourselves to the rock I indeed forgot the fish; none but Shaytan made me forget to remember it. It took its course into the sea in a strange (way)!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Didst thou see, when we took refuge on the rock, and I forgot the fish - and none but Satan caused me to forget to mention it - it took its way into the waters by a marvel.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "Did you see when we retired to the rock? Indeed, I forgot [there] the fish. And none made me forget it except Satan - that I should mention it. And it took its course into the sea amazingly".

— Saheeh International

His companion replied, "Do you remember the rock on which we took rest? Satan made me forget to mention to you the story of the fish and how it miraculously made its way into the sea.

— Muhammad Sarwar

He said: Did you see when we took refuge on the rock then I forgot the fish, and nothing made me forget to speak of it but the Shaitan, and it took its way into the river; what a wonder!

— Muhammad Habib Shakir

He said: lookest thou! when we betook ourselves to the rock, then forgot the fish; and naught but the Satan made me forget to mention it, and it took its way into the sea--a marvel!

— Abdul Majid Daryabadi

He replied: "Sawest thou (what happened) when we betook ourselves to the rock? I did indeed forget (about) the Fish: none but Satan made me forget to tell (you) about it: it took its course through the sea in a marvellous way!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 60–65

حضرت موسیٰ ؑ اور اللہ کا ایک بندہ حضرت موسیٰ ؑ سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں آپ نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے واللہ اعلم۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقت کعتے ہیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں۔ حقب سے مراد اسی برس ہیں مجاہد ؒ ستر برس کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ زمانہ بتلاتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 60–63

سورة الْكَهْف 57 اس مرحلے پر یہ قصہ سنانے سے مقصود کفار اور مومنین دونوں کو ایک اہم حقیقت پر متنبہ کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ ظاہر بین نگاہ دنیا میں بظاہر جو کچھ ہوتے دیکھتی ہے اس سے بالکل غلط نتائج اخذ کرلیتی ہے کیونکہ اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی وہ مصلحتیں نہیں ہوتیں جنہیں ملحوظ رکھ کر وہ کام کرتا ہے۔ ظالموں کا پھلنا پھولنا اور بےگناہوں کا تکلیفوں میں مبتلا ہونا۔ نافرمانوں پر انعامات کی بارش اور فرمانبرداروں پر مصائب کا ہجوم، بدکاروں کا عیش اور نیکو کاروں کی خستہ حالی، یہ وہ مناظر ہیں جو آئے دن انسانوں کے سامنے آتے رہتے ہیں، اور محض اس لیے کہ لوگ ان کے کنہ کو نہیں سمجھتے، ان سے عام طور پر ذہنوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–64

حضرت موسیٰ ؑ کا خضر ؑ سے افضل ہونا موسیٰ ؑ کی خاص تربیت اور ان کے معجزے (آیت) فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا قرآن و سنت کی تصریحات سے واضح ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت میں بھی ایک خاص امتیاز حاصل ہے اللہ تعالیٰ کی ہم کلامی کا خاص شرف ان کی مخصوص فضیلت ہے اور حضرت خضر ؑ کی تو نبوت میں بھی اختلاف ہے اور نبوت کو تسلیم بھی کیا جائے تو مقام رسالت حاصل نہیں نہ ان کی کوئی کتاب ہے نہ کوئی خاص امت اس لئے بہرحال موسیٰ ؑ خضر ؑ سے بدرجہا افضل ہیں لیکن حق تعالیٰ اپنے مقربین کی ادنیٰ سی کمی اور کوتاہی کی اصلاح…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا (63)۔ شاگرد کی معذرت : مجبوراً شاگرد کو راز سے پردہ اٹھانا پڑا۔ جھجکتے اور ڈرتے ہوئے بولے کہ کیا عرض کروں جب ہم نے پہاڑی کے دامن میں پناہ لی تھی تو میں وہی مچھلی بھول آیا تھا اور یقیناً یہ شیطان ہی کی حرکت تھی کہ میں اس کو یاد رکھنے سے قاصر رہا۔ پھر جا کے دیکھا تو مچھلی نے نہایت حیرت انگیز طریقہ سے دریا میں اپنی راہ نکال لی۔ " ارئیت " کا لفظ یہاں قائل کی جھجک کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے ہم بولتے ہیں " کیا عرض کروں " ذرا دیکھیے تو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

63۔ 1 یعنی مچھلی زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے سمندر میں سرنگ کی طرح راستہ بنادیا۔ حضرت یوشع ؑ نے مچھلی کو سمندر میں جاتے اور راستہ بنتے ہوئے دیکھا، لیکن حضرت موسیٰ ؑ کو بتلانا بھول گئے۔ حتٰی کہ آرام کرکے وہاں سے پھر سفر شروع کردیا، اس دن اور اس کے بعد رات سفر کر کے، جب دوسرے دن حضرت موسیٰ ؑ کو تھکاوٹ اور بھوک محسوس ہوئی تو اپنے جوان ساتھی سے کہا لاؤ بھئی ناشتہ، ناشتہ کرلیں۔ اس نے کہا، مچھلی تو، جہاں ہم نے پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کیا تھا، وہاں زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی تھی اور وہاں عجب طریقے سے اس نے اپنا راستہ بنایا تھا، جس کا میں آپ سے تذکرہ کرنا بھول گیا۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 61–63

34: حضرت موسیٰ ؑ ایک چٹان پر پہنچ کر کچھ دیر کے لیے سوگئے تھے۔ اسی دوران وہ مچھلی جو ایک زنبیل میں تھی، وہاں سے کھسک کر دریا میں جا گری، اور جس جگہ گری وہاں پانی میں سرنگ سی بن گئی جس میں جا کر مچھلی غائب ہوگئی۔ حضرت یوشع ؑ اس وقت جاگ رہے تھے۔ اور انہوں نے یہ عجیب واقعہ دیکھا، مگر چونکہ حضرت موسیٰ ؑ سوئے ہوئے تھے، اس لیے ان کو جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ بعد میں جب حضرت موسیٰ ؑ جاگ کر آگے روانہ ہوئے تو حضرت یوشع ؑ ان کو یہ بات بتانا بھول گئے۔ اور یاد اس وقت آیا جب حضرت موسیٰ ؑ نے آگے چل کر ناشتہ مانگا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 62–64

معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے رب کے درمیان ایک خفیہ راز تھا اور اس راز سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نوجوان بھی باخبر نہ تھے۔ ملاقات تک اسے خبر نہ تھی اور بعد کے مناظر میں بھی ان نوجوان حضرت موسیٰ اور عبدصالح کے ساتھ نظر نہیں آتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی مطلب کی بات بھول جانا اور عین موقع یادداشت پر ذہول ہونا، شیطان کی وسوسہ اندازی سے ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَمَآ اَنْسٰنِيْهُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِڰ عَجَبًا یعنی اس جگہ وہ مچھلی زندہ ہو کر عجیب طریقے سے دریا میں چلی گئی تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 62–70

61 رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ تھکاوٹ آپ کو اس وقت ہوئی جب آپ اپنی منزل مقصود سے آگے نکلے جارہے تھے اس سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

96۔” عجب طرح “ یوں کہ زندہ ہو کر خشکی سے دریا تک راہ پاگئی۔ (آیت) ” ارء یت “ کلمہ تعجب ہے اور محاورہ میں ایسے موقع پر بولتے ہیں ” ارے ! “ یا ” یہ لیجئے “ یا ” یہ ملاحظہ ہو ! “ (آیت) ” نسیت الحوت “۔ یعنی مچھلی کے عجیب قصہ کا ذکر کرنا بھی بھول گیا۔ (آیت) ” وما انسنیہ الا الشیطن “۔ مذہب کی زبان میں ہر بری بات کا انتساب شیطان ہی کی جانب کیا جاتا ہے جس کی ذات مرکز ساری برائیوں کی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں دلالت ہے اس امر پر کہ شیطان کے اثر سے وسوسہ ونسیان کا پیش آجانا ولایت بلکہ نبوت کے بھی منافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 60–65

آیت نمبر 60 تا 65 اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کہ عمران کے بیٹے ہیں اپنے خادم یوشع بن نون سے جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت کے ساتھ ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) سے تحصیل علم بھی کرتے تھے کہا کہ میں چلتا ہی رہوں گا سفر موقوف نہ کروں گا تاآنکہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں یعنی مشرقی جانب سے بحرروم اور بحر فارس کے ملنے کی جگہ اور اگر میں منزل مقصود کو نہ پاؤں تو ایک وقت یعنی زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا چناچہ جب یہ دونوں حضرات دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو یہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے یوشع روانگی کے وقت مچھلی اٹھانا بھول گئے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال ارایت اذ اوینا الی الصخرۃ فانی نسیت الحوت وما انسانیہ الا الشیطن خادم نے کہا دیکھئے تو جب ہم اس پتھر کے پاس قیام پذیر ہوئے تھے تو مچھلی (کا تذکرہ کرنا اور زندہ ہو کر دریا میں جا کودنا) میں بھول ہی گیا اور (یہ حرکت صرف شیطان کی ہے) شیطان نے ہی مجھے بھلا دیا۔ ان اذکرہ واتخذ سبیلہ فی البحر عجبا۔ کہ اس کا تذکرہ آپ سے کرتا اور (بیان کرتا کہ) مچھلی نے سمندر کے اندر (کود کر) اپنا راستہ عجیب طرح سے بنا لیا۔ الصخرۃ یعنی وہ پتھر جس کے پاس ہم سوئے تھے۔ بغوی نے ہقل بن زیاد کے حوالہ سے لکھا ہے کہ وہ پتھر وہی تھا جو دریاء زیت سے ورے تھا۔ نَسِیْتُ الْحُوْتَاس کا مطلب دو طرح سے بیان کیا گیا ایک مطلب وہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 60–82

(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 62–63

اٰتِنَا غَدَاۗءَنَا : معلوم ہوا سفر کے لیے کھانا ساتھ لے جانا انبیاء ؑ کی سنت ہے اور توکل کے منافی نہیں اور یہ کہ بھوک، پیاس، تھکاوٹ، بھول چوک، غرض انسان کو پیش آنے والی چیزیں انبیاء ؑ کو بھی پیش آتی ہیں، کیونکہ وہ بھی انسان ہوتے ہیں اور یہ بھی کہ آدمی کو جو عارضہ پیش آئے، اس کا ذکر کرسکتا ہے، بشرطیکہ اس کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے شکوے کا نہ ہو۔ rnۡ لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا : شاید اس تھکاوٹ کی وجہ اس نعمت کا احساس دلانا ہو کہ صحیح راستے پر طلب علم کے لیے جاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خاص مدد شامل ہوتی ہے، جس سے تھکن نہیں ہوتی اور جب اس کی مدد نہ ہو تو انسان تھک کر رہ جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 62–65

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتنا غدآء نا۔ اس میں ایک مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ سفر میں زادراہ ساتھ لینا، یہ جاہل صوفیاء پر رد ہے جو بیابانوں اور میدان میں بغیر زاد راہ کے جاتے ہیں یہ گمان کرتے ہوئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السللام کے نبی تھے اور اہل زمین میں سے اس کے کلیم تھے۔ انہوں نے اپنے رب کی معرفت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے باوجود زادراہ ساتھ لیا۔ صحیح بخاری میں ہے (1) یمن کے کچھ لوگ حج کرتے تھے اور زادراہ ساتھ نہیں لے جاتے تھے، اور کہتے تھے : ہم توکل کرنے والے ہیں۔ پھر جب حرم میں پہنچتے تو لوگوں سے سوال کرتے تو اللہ تعالیٰ وتزودوا کا ارشاد نازل فرمایا، یہ سورة بقرہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 62–73

خضر (علیہ السلام) بھی اولاد آدم میں سے ہیں : 10:۔ دارقطنی نے افراد میں ابن عساکر نے مقاتل بن سلیمان کے طریق سے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ خضر (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور ان کی عمر میں تاخیر کی گئی ہے یہاں تک کہ وہ دجال کی تکذیب کریں گے۔ 11:۔ بخاری، احمد، ترمذی اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ ایک سفید سوکھی زمین پر بیٹھتے تو آپ کے پیچھے سرسبز کھیتی (آپ کی برکت کی وجہ سے) ہوجاتی۔ 12:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : اس (نوجوان) نے کہا ] [اَ : کیا ] [رَءَيْتَ : آپ (علیہ السلام) نے دیکھا ] [اِذْ : جب ] [اَوَيْنَآ : ہم ٹھہرے ] [اِلَى الصَّخْرَةِ : اس چٹان پر ] [فَانى: تو بیشک میں ] [نَسِيْتُ : بھول گیا ] [الْحُوْتَ : مچھلی کو ] [وَمَآ انسٰنِيْهُ : اور نہیں بھلایا مجھ کو ] [اِلَّا : مگر ] [الشَّيْطٰنُ : شیطان نے ] [ان : کہ ] [اَذْكُرَهٗ : میں ذکر کروں اس کا ] [وَاتَّخَذَ : اور اس (مچھلی) نے بنایا ] [سَبِيْلَهٗ : اپنا راستہ ] [فِي الْبَحْرِ : سمندر میں ] [عَجبا : عجیب ہوتے ہوئے ] ص خ ر ثلاثی مجرد سے فعل استعمال نہیں ہوتا۔ صَخْرَۃٌ ج صَخْرٌ۔ چٹان۔ زیر مطالعہ آیت۔ 63 ۔ اَلَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 60–78

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 60–74

قصہ حضرت موسیٰ باخضر (علیہما السلام) قال اللہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح .... الیٰ .... لقد جئت شیئا نکرا۔ (ربط) چونکہ قریش نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لیے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق جو سوالات کیے تھے وہ یہود کے بتلانے اور سمجھانے سے کئے تھے کہ اگر آنحضرت ﷺ ان باتوں کا جواب دے دیں تو جانو کہ وہ نبی ہیں ورنہ نہیں اس لئے یہود کے سنانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم کریں کہ نبی کے لیے یہ شرط نہیں کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہوں اور وہ تمام اخبار اور قصص کا عالم ہو بلکہ نبوت کے لیے وحی اور علوم ہدایت کی معرفت ضروری ہے۔ چناچہ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 62–64

66:۔ جب دونوں مجمع البحرین سے آگے نکل گئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس سفر سے بہت تھک گئے ہیں اب کھانا لاؤ۔ ” نصبا “ تعبا یعنی تھکاوٹ اور تکلیف۔ ” قال ارءیت الخ “ ساتھی کو اب مچھلی کا واقعہ یاد آیا اور اس نے جواب میں کہا جب ہم نے پتھر کے سایہ میں آرام کیا تھا، اس وقت وہ مچھلی عجیب معجزانہ طور پر زندہ ہو کر توشہ دان سے نکل کر دریا میں گھس گئی تھی مگر آپ سے اس کا حال بیان کرنا بھول گیا۔ ” قال ذالک الخ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہماری منزل مقصود کی یہی تو علامت تھی چناچہ وہیں سے الٹے پاؤں واپس ہوئے۔ ” قصصا “ یہ مصدر ہے اور فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔ ای یقصان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–64

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان نافرمانوں کا ذکر کیا جو قرآن کریم کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں اور حق کو گرانے کے لیے باطل کو ہمراہ لے کر جھگڑا کرتے ہیں فرمایا یہ محض اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو جلدی ہلاک نہیں کرتا بلکہ اپنے قانون کے مطابق مہلت دیتا ہے ، اللہ نے ہلاکت کا سبب ظلم و زیادتی کو قرار دیا ، قرآن پاک میں سابقہ اقوام ، عاد ، ثمودم ، قوم فرعون ، قوم لوط ، اہل مدین ، وغیرہ کا حال بھی مذکور ہے جب انہوں نے کفر وشرک کی انتہا کردی ظلم و زیادتی کو مستقل وطیرہ بنا لیا تو پھر اللہ کی گرفت آئی اور نافرمان لوگ صفحہ ہستی سے ناپید کردیے گئے گذشتہ آیات میں باغ والے مغرور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اَرَءَيْتَ اِذْ اَوَيْنَآ اِلَى الصَّخْرَۃِ فَاِنِّىْ نَسِيْتُ الْحُوْتَ۝ 0ۡوَمَآ اَنْسٰنِيْہُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَہٗ۝ 0ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيْلَہٗ فِي الْبَحْرِ۝ 0ۤۖ عَجَـــبًا۝ 63 أوى المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43] ( ا و ی ) الماویٰ ۔ ( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں اور اویٰ الیٰ کذا ۔ کے معنی ہیں کسی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 60–68

1 ؎ جوان سے مراد خادم ہے جو غالباً یوشع بن نون تھے۔ 12 منہ ترکیب : اذ قال ظرف ہے اذکر محذوف کا۔ لا ابرح اس کی خبر اسیر محذوف ہے لدلالۃ حالہ وھو السفر اور ممکن ہے کہ اصل کلام یوں ہو لایبرح مسیری حتیٰ ابلغ تب حتی ابلغ خبر ہوگا پس مسیر مضاف کو حذف کر کے مصاف الیہ ی متکلم کو اس کی جگہ قائم کردیا لا ابرح تامہ بھی ہوسکتا ہے پھر خبر کی ضرورت نہیں مجمع بینہما ظرف کی طرف مجمع کو علی الاتساع مضاف کردیا گیا۔ ان اذکرہ بدل ہے ضمیر منصوب سے جو انسانیہ میں ہے۔ اے ماانسانی ذکرہ۔ الا الشیطان خبرا بالضم العلم بالشیء یہ تمیز ہے یا مصدر ہے لم تحط کا کس لیے کہ لم تحط بمعنی لم تخیرہ ہے۔ تفسیر : یہاں سے پھر مسئلہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 63–65

قَالَ اَرَئَ یْتَ اِذْ اَوَیْنَـآ اِلَی الصَّخْرَۃِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ ز وَمَـآ اَنْسٰنِیْـہُ اِلاَّ الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْکُرَہٗ ج وَا تَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِ صلے ق عَجَبًا۔ قَالَ ذٰلِکَ مَا کُنَّا نَبْغِ صلے ق فَارْتَدَّا عَلٰٓی اٰثَارِھِمَا قَصَصًا۔ فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَـآ اٰ تَیْنٰـہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰـہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا۔ (الکہف : 63، 64، 65) (خادم نے کہا، کیا عرض کروں، جب ہم چٹان کے پاس (سُستانے کے لیے) ٹھہرے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا اور نہیں فراموش کرائی مجھے وہ مچھلی، مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے بنا لیا تھا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 60–63

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کے ذریعہ سے چند کاموں کے حوالے سے تکوینی امور کی حکمتیں بیان کی ہیں۔ تاکہ لوگ ان کو پیش نگاہ رکھ کر اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر صابر، شاکر رہیں بات پر ایمان لائیں۔ اس خطاب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک سفر کی روداد بیان کی ہے۔ جس میں ان کی ملاقات حضرت خضر (علیہ السلام) سے کروائی گئی تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے تکوینی امور کی حکمتوں سے کچھ نہ کچھ آگاہی حاصل ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر کا سبب بیان کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ نے فرمایا۔ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ اچانک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مقام کی علامت سے نشاندہی : 63: قَالَ اَرَئَیْتَ اِذْ اَوَیْنآ اِلَی الصَّخْرَۃِ (کہا دیکھئے تو جب ہم اس پتھر کے پاس ٹھہرے) وہی وعدہ کی جگہ تھی۔ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ (تو میں مچھلی بھول گیا) پھر معذرت کرتے ہوئے اگلا جملہ کہا : وَمَآ اَنْسٰنِیْہُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ (اور مچھلی کو یاد رکھنا ‘ مجھے شیطان ہی نے بھلا دیا) قراءت : انسانیہُکی ہٗ کو ضمہ کے ساتھ حفص نے پڑھا۔ اَنْ اَذْکُرَہٗ (کہ میں اس کو یاد رکھتا) ہٗ ضمیر یہاں انسانیہ کی ہٗ ضمیر کا بدل ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے وما انسانی ذکرہٗ الا الشّیطان شیطان نے ہی مجھے اس کی یاد بھلائی ہے۔ ) وَاتَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِ عَجَبًا (اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (63)” قال “ خادم نے یاد کرکے کہا ” اراء یت اذا اوینا الی الضخرۃ “ وہ پتھر جس کے پاس ہم سوئے ہوئے تھے۔ معقل بن زیادہ کا قول ہے کہ وہ پتھر وہی تھا جو دریائے زیت سے ورے تھے۔ ” فانی نسیت الحوت “ اس کو وہاں چھوڑ دیا اور گم کر آئے۔ حضرت یوشع بن نون نے جب یہ واقعہ دیکھا تو کھڑے ہوگئے تاکہ اس کی خبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بتلائیں، وہ اس پر بھول گئے یہاں تک کہ وہ ایک دن رکے رہے حتیٰ کہ دوسرے دن ظہر کا وقت آگیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کھانا طلب فرمایا تو حضرت یوشع بن نون کو مچھلی یاد آگئی اور آپ نے عذر پیش کیا۔ ” وما انسانیہ الا الشیطان ان اذکرہ “ کہ مجھے اس مچھلی کے غائب ہونے کا واقعہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 60–66

60۔ 66:۔ ان آیتوں میں مختصر طور پر قصہ شروع بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ اس زمانہ میں اے موسیٰ بڑا صاحب علم کون ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں ہوں اللہ تعالیٰ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ جواب پسند نہیں آیا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اس حکم کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خاص رفیق یوشع بن نون کو ساتھ لیکر خضر (علیہ السلام) کے ملنے کی غرض سے سفر کا ارادہ کیا 1 ؎۔ اب آگے وہی قصہ ہے جو ان آیتوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–73

آیت 59 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریععے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کردیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کر تتوں سے باز نہ آئے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے انجان بنا رہے اور اللہ عالم الغیوب کو اپنے اوپر نگران نہ سمجھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی۔۔۔ یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 62–81

قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 62–63

113۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تھکاوٹ اور صورت حال سے اطلاع و آگہی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ ہم تو اپنے اس سفر میں سخت تھگ گئے ہیں “۔ روایات میں وارد ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اس مقام پر آگے گذر گئے تو ان کو تکان محسوس ہونے لگی۔ اس سے پہلے ایسے نہیں تھا۔ تب آپ نے اس طرح فرمایا۔ اور یوں یہ سفر تھا بھی کافی لمبا اور مشقت طلب۔ کیونکہ ” مجمع البحرین “ کے اس مقام مقصود سے گزرنے کے بعد وہ دونوں بقیہ پورا دن چلتے رہے اور اگلی رات بھی۔ اور اگلے روز صبح کے وقت جب سورج کافی اوپر چلا گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھوک محسوس ہوئی اور آپ نے اپنے خادم سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–74

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کا قصہ اور کئی نصیحتیں تشریح : اس قصہ کا ذکر ایک تو اس لیے کیا گیا کہ اہل عرب کے آنحضرت ﷺ سے تین سوالوں میں سے دوسرے کا جواب یہ تھا۔ پھر یہ کہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا اس کام کے کرنے کے لیے اللہ چاہے کسی کو بھی وسیلہ بنا دے۔ تیسرے یہ کہ ایک دینی اور اخلاقی قانون واضح کردیا گیا کہ غلطی چاہے عام انسان سے ہو یا نبی سے ہو اللہ اس کی پکڑ ضرور کرتا ہے۔ یہاں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کبھی بھی اپنی بڑائی کا کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے۔ ہوا اس طرح کہ کسی اجتماع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 60–70

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف جہاں تک ان لوگوں کے متکبرانہ رویے کا تعلق ہے تو وہ ایسا ہے کہ اگر کسی مقبول بارگاہ یعنی نبی اور رسول سے بھی کوئی کلمہ غیر ارادی طور پر بھی نکل جائے تو اس پر بھی تنبیہ کی جاتی ہے اور انہیں تعلیم فرمانے کے لیے آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے پہلے گذر چکا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کل جواب دوں گا تو پندہ روز وحی نہ آئی اور کفار نے بہت تمسخر اڑایا پھر تعلیم فرمایا گیا کہ انشاء اللہ فرمایا کیجئے ایسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) سے جو الوالعزم رسول اور کلیم اللہ تھے ایک چھوٹی سی بات صادر ہوئی تو انہیں تعلیم فرمانے کے لیے ایک پوری آزمائش سے گذارا گیا ، اگر مقبولان بارگاہ سے غیر ارادی طور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 62–64

ف 1 یعنی جہاں یہ مچھلی گم ہوئی وہی تو ہماری منزل مقصود تھی۔2 یعنی جس راستے سے گئے تھے اسی راستے سے واپس ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:63) ارایت۔ کیا تو نے دیکھا۔ محاورہ میں بطور کلمہ تعجب کے استعمال ہوتا ہے۔ اور بمعنی یہ لیجئے ملاحظہ ہو۔ دیکھوتو۔ اویتا۔ ماضی جمع متکلم اویمصدر اوی یاوی (ضرب) ہم اترے۔ ہم فروکش ہوئے۔ ہم ٹھہرے ۔ اذا اوی الفتیۃ الی الکھف (18:10) جب ان نوجوانوں نے غار میں جاکر پناہ لی یا غار میں جا کر فروکش ہوئے۔ الصخرۃ۔ بڑا اور سخت پتھر۔ واحد۔ اس کی جمع صخر وصخور ہے۔ فانی نسیت الحوت۔ ای نسیت ذکرہ بما رأیت منہ یعنی مچھلی کو جس حالت میں دریا میں جاتے دیکھا تو اس کا ذکر کرنا بھول گیا۔ آیت 61 میں ہے نسیا حوتہما (وہ دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے۔ اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) یہ کہ یہ بھول تو صرف حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 60–64

لغات القرآن آیت نمبر 60 تا 64 فتی نوجوان، شاگرد۔ لا ابرح میں ہرگز نہ چھوڑوں گا۔ حتی ابلغ جب تک پہنچ نہ جاؤں۔ مجمع البحرین دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ۔ حقب (احقاب) طویل مدت۔ بلغا وہ دونوں پہنچے۔ حوث مچھلی۔ جاوزا دونوں گذر گئے۔ السخرۃ چٹان، پتھر نبغ ہم تلاش کر رہے ہیں۔ ارتدا وہ دونوں لوٹے۔ اثار نشان قدم۔ قصص ڈھونڈنا، تلاش کرنا۔ تشریح : آیت نمبر 60 تا 64 چونکہ نبی اور رسول اللہ کے بندے اور اللہ کے نمئاندے ہوتے ہیں اس لئے ان کی تعلیم و تربیت اور عرفت براہ راست اللہ کی طرف سے کی جاتی ہے تاکہ ان کی زندگی کا ہر عمل دوسروں کے لئے مثال، نمونہ اور اسوہ بن جائے۔ اللہ کے تمام نبی اور رسول گناہوں سے معصوم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 60–65

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کی ملاقات کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں وعظ فرما رہے تھے۔ کہ ایک شخص نے پوچھا :” سب میں زیادہ عالم کون ہے “۔ آپ نے فرمایا :” میں “۔ یہ بات خدا کو ناگوار معلوم وہئی کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ تم سے بھی زیادہ عالم ہے ، جو مجمع البحرین کے موقع پر ملے گا پھر موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے۔ فرمایا :” اپنے تھیلے میں رکھ لو پھر جہاں وہ مچھلی گم جاوے وہ وہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–75

[23] حدیث میں یوں آیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کوئی آپ سے زیادہ بھی علم رکھتا ہے ؟ فرمایا میں نہیں جانتا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہی سب سے بڑے عالم ہیں۔ اس پر وحی آئی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں ملاقات ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–70

موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) ! (ف 1) حضور ﷺ سے قبل یہودیوں اور عیسائیوں میں جن مباحث اور قصص کا چرچا تھا ، ان میں ایک بحث یہ بھی تھی ، کہ اصحاب کہف کون تھے ، موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ کیونکر ہے ، اور ذوالقرنین کے حالات کیا ہیں ؟ اس لئے ان کو حضور ﷺ سے بھی ان مسائل کے متفق پوچھنا ضروری ہے تھا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے علم کے لئے ان قصوں کی حقیقت بیان فرمائی ، اور نکات ومعارف کی جانب اشارہ فرمایا جو ان قصے کے ضمن میں پنہاں ہیں اصحاب کہف کے قصہ میں یہ بتلایا کہ خدا پرستوں کو خدا کیونکر کامیاب وکامران فرماتا ہے ، اور کیونکر باطل پرستوں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-63 خادم نے کہا آپ نے ملاحظہ بھی کیا جب ہم اس پتھر کے پاس ٹھہرے تھے تو میں وہاں مچھلی رکھ کر بھول گیا اور مجھ کو یہ بات کہ میں آپ سے اس کا ذکر کرتا اور اس کے واقعہ کو بیان کرتا سوائے شیطان کے اور کسی نے نہیں بھلایا اور اس مچھلی نے زندہ ہو کر عجیب طریقہ سے اپنا راستہ دریا میں کرلیا اور دریا میں داخل ہوگئی۔ خادم کے تعجب کی وجہ یہ ہوئی کہ اول تو مچھلی کا زندہ ہوجانا پھر تھیلے میں سے نکل کر دریا میں گھس جانا پھر دریا میں گھسنا بھی اس انداز سے کہ سرنگ سی بناتے ہئے دریا میں چلا جانا اور بطور خرق عادت دریا میں نشان کا بن جانا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–65

ف 5۔ وجہ اس سفر کی یہ ہوئی تھی کہ ایک بار موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل میں وعظ فرمایا تو کسی نے پوچھا کہ اس وقت آدمیوں میں سب سے بڑا عالم کون شخص ہے۔ آپ نے فرمایا میں۔ مطلب یہ تھا کہ ان علوم میں کہ جن کو قرب الی اللہ کی تحصیل میں دخل ہے میرے برابر کوئی نہیں۔ اور یہ فرمانا صحیح تھا، لیکن چونکہ ظاہرا لفظ مطلق تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ آپ کو احتیاط فی الکلام کی تعلیم دی جائے، ارشاد ہوا کہ مجمع البحرین میں ایک بندہ ہمارا تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے، مطلب یہ تھا کہ بعض علوم میں وہ زیادہ ہے، گو ان علوم کو قرب الہی میں دخل نہہو، لیکن اس بناء پر جواب میں مطلقا تو اپنے کو اعلم نہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نے مچھلی کی بات بیان کردی کہ وہ تو وہیں غائب ہوگئی تھی : 68۔ اب چونکہ مچھلی کی ضرورت پیش آئی اور اس جگہ ٹھہرے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دفعہ کھانا طلب کیا تو ساتھی نے مچھلی کا سارا واقعہ کہہ سنایا کہ وہ تو اس طرح اس جگہ پر غائب ہوگئی تھی آپ چونکہ ایک پتھر پر ٹیک لگا کر سستا چکے تھے میں نے اس وقت بات عرض کرنا مناسب نہ سمجھا اور جب وہاں سے چلے تو اس وقت تک مجھے یہ بات ہی بھول چکی تھی اور شیطان نے ایسا سست کیا کہ اس طرف دھیان ہی نہ گیا کہ مچھلی کی بات آپ کے ساتھ عرض کروں حالانکہ اس نے تو بڑے عجیب طریقہ سے اچھل کر اپنی جان بچالی تھی بہتر تھا کہ اگر وہاں بات یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–64

Precedence of Sayyidna Musa (علیہ السلام) over Al-Khadir (علیہ السلام) ، his up-bringing and miracles In the next verse, it was said: فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ‌ سَرَ‌بًا So, when they reached the meeting point of the two seas, they forgot their fish and it made its way into the sea as in a tunnel- 61. Before we explain the nature of the extraordinary happening there, it is appropriate to first refer to the distinct position bestowed upon Sayyidna Musa 1 in the comity of prophets. This has been mentioned explicitly in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–63

57. Though this story was told in answer to the question of the disbelievers, it has been used to impress a very important truth on the minds of both the disbelievers and the believers. It is this: those people who draw their conclusions only from the seeming aspects of events, make a very serious error in their deductions, for they only see what is apparent and do not go deep into the divine wisdom that underlies them. When they daily see the prosperity of the tyrants and the afflictions of the innocent people, the affluence of the disobedient people and the indigence of the obedient people,…

Read the full tafseer →