Al-Kahf 18:62

Al-Kahf · from ayah 62

18:62

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا ؗ— لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا ۟فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰٮهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدۡ لَقِيۡنَا مِنۡ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا

جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So when they had passed beyond it, [Moses] said to his boy, "Bring us our morning meal. We have certainly suffered in this, our journey, [much] fatigue."

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 9 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:62

آگے جا کر موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا " لاؤ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب یہ دونوں وہاں آگے بڑھے تو موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ ﻻ ہمارا کھانا دے ہمیں تو اپنے اس سفر سے سخت تکلیف اٹھانی پڑی

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جب دونوں آگے نکل گئے، تو موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ : ہمارا ناشتہ لاؤ، سچی بات یہ ہے کہ ہمیں اس سفر میں بڑی تھکاوٹ لاحق ہوگئی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جبب وہاں سے گزر گئے موسیٰ نے خادم سے کہا ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا ہوا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب وہ دونوں آگے بڑھ گئے (تو) موسٰی ؑ نے اپنے خادم سے کہا: ہمارا کھانا ہمارے پاس لاؤ بیشک ہم نے اپنے اس سفر میں بڑی مشقت کا سامنا کیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب وہ آگے گزر گئے تو اس نے اپنے جوان سے کہا ہمارا دن کا کھانا لا، بیشک ہم نے اپنے اس سفر سے تو بڑی تھکاوٹ پائی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب وہ وہاں سے آگے نکل گئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا : ہمارا کھانا لاؤ، اس سفر نے تو ہمیں بہت تھکادیا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جب وہ آگے بڑھ گئے تو موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ اب ہمارا کھانا لاؤ۔ ہمارے اس سفر سے تو ہم کو بڑی تکان ہوگئی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جب وہ دونوں وہاں سے آگے چلے گئے، تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا کہ لاؤ ہمارا ناشہ، ہم تو اس سفر میں بری طرح تھک گئے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب دونوں آگے بڑھ گئے تو اپنے خادم سے بولے کہ ہمارا ناشتہ تو لانا ہمیں اس (آج کے) سفر سے بڑی تکلیف پہنچی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب وہ دونوں (وہاں سے) آگے نکل گئے تو موسیٰ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اب ہمارا ناشتہ لے آؤ اپنے اس سفر سے تو ہمیں بہت تکان ہوگئی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب آگے چلے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا ہمارے لیے کھانا لائو اس سفر سے ہمیں بڑی تھکان ہوگئی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When they had journeyed further on, Moses said to his servant: "Bring us our repast. We are surely fatigued by today's journey."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When they went further, he said to his young man, :Bring us our morning meal; we have, indeed, had much fatigue from this journey of ours.

— Muhammad Taqi Usmani

When they went further, he said to his young man, :Bring us our morning meal; we have, indeed, had much fatigue from this journey of ours.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So when they passed further on, Musa said to his boy-servant: "Bring us our morning meal; truly, we have suffered Nasaban in this, our journey."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when they had gone further, he said unto his servant: Bring us our breakfast. Verily we have found fatigue in this our journey.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So when they had passed beyond it, [Moses] said to his boy, "Bring us our morning meal. We have certainly suffered in this, our journey, [much] fatigue."

— Saheeh International

Moses asked his young companion when they crossed this point, "Bring us our food; the journey has made us tired."

— Muhammad Sarwar

But when they had gone farther, he said to his servant: Bring to us our morning meal, certainly we have met with fatigue from this our journey.

— Muhammad Habib Shakir

And when the twain had passed by, he said unto his page: bring us our morning-meal, assuredly we have met from this journey of ours, toil

— Abdul Majid Daryabadi

When they had passed on (some distance), Moses said to his attendant: "Bring us our early meal; truly we have suffered much fatigue at this (stage of) our journey."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:62

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 60–65

حضرت موسیٰ ؑ اور اللہ کا ایک بندہ حضرت موسیٰ ؑ سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں آپ نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے واللہ اعلم۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقت کعتے ہیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں۔ حقب سے مراد اسی برس ہیں مجاہد ؒ ستر برس کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ زمانہ بتلاتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 60–63

سورة الْكَهْف 57 اس مرحلے پر یہ قصہ سنانے سے مقصود کفار اور مومنین دونوں کو ایک اہم حقیقت پر متنبہ کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ ظاہر بین نگاہ دنیا میں بظاہر جو کچھ ہوتے دیکھتی ہے اس سے بالکل غلط نتائج اخذ کرلیتی ہے کیونکہ اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی وہ مصلحتیں نہیں ہوتیں جنہیں ملحوظ رکھ کر وہ کام کرتا ہے۔ ظالموں کا پھلنا پھولنا اور بےگناہوں کا تکلیفوں میں مبتلا ہونا۔ نافرمانوں پر انعامات کی بارش اور فرمانبرداروں پر مصائب کا ہجوم، بدکاروں کا عیش اور نیکو کاروں کی خستہ حالی، یہ وہ مناظر ہیں جو آئے دن انسانوں کے سامنے آتے رہتے ہیں، اور محض اس لیے کہ لوگ ان کے کنہ کو نہیں سمجھتے، ان سے عام طور پر ذہنوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–64

حضرت موسیٰ ؑ کا خضر ؑ سے افضل ہونا موسیٰ ؑ کی خاص تربیت اور ان کے معجزے (آیت) فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا قرآن و سنت کی تصریحات سے واضح ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت میں بھی ایک خاص امتیاز حاصل ہے اللہ تعالیٰ کی ہم کلامی کا خاص شرف ان کی مخصوص فضیلت ہے اور حضرت خضر ؑ کی تو نبوت میں بھی اختلاف ہے اور نبوت کو تسلیم بھی کیا جائے تو مقام رسالت حاصل نہیں نہ ان کی کوئی کتاب ہے نہ کوئی خاص امت اس لئے بہرحال موسیٰ ؑ خضر ؑ سے بدرجہا افضل ہیں لیکن حق تعالیٰ اپنے مقربین کی ادنیٰ سی کمی اور کوتاہی کی اصلاح…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا (62) غدا کے معنی ناشتہ اور نہاری کے ہیں اور نصب کے معنی تکان کے، یہاں غداء کا لفظ اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ مچھلی بھنی ہوئی تھی۔ بےبھنی یا زندگہ مچھلی کے لیے غداء کا لفظ کسی طرح موزوں نہیں ہے۔ بالآخر جب وہاں سے کچھ دور نکل گئے تو حضرت موسیٰ نے شاگرد سے کہا کہ بھئی ! اس سفر نے تو تھکا دیا اب ناشتہ لاؤ تو کچھ کھالیا جائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 60–62

60۔ 1 نوجوان سے مراد حضرت یوشع بن نون ؑ ہیں جو موسیٰ ؑ کے وفات کے بعد ان کے جانشین بنے۔ 60۔ 2 اس مقام کی تعیین کسی یقینی ذریعہ سے نہیں ہوسکی تاہم قیاس کیا جاتا ہے کہ اس سے مراد صحرائے سینا کا وہ جنوبی راستہ ہے جہاں خلیج عقبہ اور خلیج سویز دونوں آکر ملتے ہیں اور بحر احمر میں ضم ہوجاتے ہیں۔ دوسرے مقامات جن کا ذکر مفسرین نے کیا ہے ان پر سرے سے مجمع البحرین کی تعبیر ہی صادق نہیں آتی۔ 60۔ 3 حقب، کے ایک معنی 70 یا 80 سال اور دوسرے معنی غیر معین مدت کے ہیں یہاں یہی دوسرا معنی مراد ہے یعنی جب تک میں مجمع البحرین (جہاں دونوں سمندر ملتے ہیں) نہیں پہنچ جاؤں گا، چلتا رہوں گا اور سفر جاری رکھوں گا، چاہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 61–63

34: حضرت موسیٰ ؑ ایک چٹان پر پہنچ کر کچھ دیر کے لیے سوگئے تھے۔ اسی دوران وہ مچھلی جو ایک زنبیل میں تھی، وہاں سے کھسک کر دریا میں جا گری، اور جس جگہ گری وہاں پانی میں سرنگ سی بن گئی جس میں جا کر مچھلی غائب ہوگئی۔ حضرت یوشع ؑ اس وقت جاگ رہے تھے۔ اور انہوں نے یہ عجیب واقعہ دیکھا، مگر چونکہ حضرت موسیٰ ؑ سوئے ہوئے تھے، اس لیے ان کو جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ بعد میں جب حضرت موسیٰ ؑ جاگ کر آگے روانہ ہوئے تو حضرت یوشع ؑ ان کو یہ بات بتانا بھول گئے۔ اور یاد اس وقت آیا جب حضرت موسیٰ ؑ نے آگے چل کر ناشتہ مانگا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 62–64

معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے رب کے درمیان ایک خفیہ راز تھا اور اس راز سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نوجوان بھی باخبر نہ تھے۔ ملاقات تک اسے خبر نہ تھی اور بعد کے مناظر میں بھی ان نوجوان حضرت موسیٰ اور عبدصالح کے ساتھ نظر نہیں آتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہلے نہیں تھکے۔ جب مطلب چھوٹ رہا تھا اس وقت چلنے سے تکان محسوس کیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 62 فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَاۗءَنَا ۡ لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا یہاں مفسرین نے ایک بہت اہم نکتہ بیان کیا ہے کہ آپ کو تھکاوٹ اس وجہ سے محسوس ہوئی کہ آپ مطلوبہ مقام سے آگے نکل گئے تھے۔ ورنہ اس مقام تک پہنچنے میں آپ کو کسی قسم کی تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 62–70

61 رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ تھکاوٹ آپ کو اس وقت ہوئی جب آپ اپنی منزل مقصود سے آگے نکلے جارہے تھے اس سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

95: بالکل جائز ہے بلکہ منافی کمال بھی نہیں۔ البتہ بےصبری و شکوہ وشکایت ممنوع ہے۔ یدل علی اباحۃ اظھار مثل ھذ القول عن ما یلحق الانسان نصب اوتعب فی قریۃ وان ذلک لیس بشکایۃ مکروھۃ (جصاص) آیت میں یہ بھی ظاہر ہے کہ پیغمبر بھوکے بھی ہوتے ہیں۔ زادراہ بھی ساتھ رکھتے ہیں، تھکن بھی محسوس کرتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی شے کمال ولایت کیا معنی، کمال نبوت کے بھی منافی نہیں آیت میں بڑا سبق ہے ان ” خوش عقیدہ “ مریدوں اور معتقدوں کے لئے جو ” بزرگوں “۔ کی جانب بھوک، پیاس یا اور بشری ضرورتوں کا انتساب تمامتر بےادبی سمجھتے ہیں۔ (آیت) ” فلما جاوزا “۔ یعنی جس مقام کی نشان دہی انہیں کی گئی تھی، اس سے دور نکل آئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 60–65

آیت نمبر 60 تا 65 اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کہ عمران کے بیٹے ہیں اپنے خادم یوشع بن نون سے جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت کے ساتھ ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) سے تحصیل علم بھی کرتے تھے کہا کہ میں چلتا ہی رہوں گا سفر موقوف نہ کروں گا تاآنکہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں یعنی مشرقی جانب سے بحرروم اور بحر فارس کے ملنے کی جگہ اور اگر میں منزل مقصود کو نہ پاؤں تو ایک وقت یعنی زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا چناچہ جب یہ دونوں حضرات دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو یہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے یوشع روانگی کے وقت مچھلی اٹھانا بھول گئے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما جاوزا قال لفتہ اتنا غدآئنا لقد لقینا من سفرنا ہذا نصبا۔ اس کے بعد جب دونوں (مجمع البحرین) سے آگے بڑھے (اور دوسرے دن دوپہرتک چلتے رہے) تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا کھانا لاؤ ‘ اس سفر میں ہم بہت تھک گئے۔ غَدَائصبح کے وقت کا کھانا۔ عَشَائشام کے وقت کا کھانا ‘ نَصَبٌسخت تھکان۔ جب حضرت موسیٰ مقررہ پتھر سے آگے بڑھے تو اللہ کی طرف سے آپ پر بھوک کا دورہ پڑا تاکہ کھانے کی خواہش ہو اور مچھلی یاد آجائے اور اپنے مقصد کی طرف لوٹ آئیں۔ صحیحین کی حدیث میں آیا ہے کہ جب تک مقررہ مقام سے حضرت موسیٰ آگے نہیں بڑھے تھے آپ کو تھکان نہیں ہوئی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 60–82

(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 62–63

اٰتِنَا غَدَاۗءَنَا : معلوم ہوا سفر کے لیے کھانا ساتھ لے جانا انبیاء ؑ کی سنت ہے اور توکل کے منافی نہیں اور یہ کہ بھوک، پیاس، تھکاوٹ، بھول چوک، غرض انسان کو پیش آنے والی چیزیں انبیاء ؑ کو بھی پیش آتی ہیں، کیونکہ وہ بھی انسان ہوتے ہیں اور یہ بھی کہ آدمی کو جو عارضہ پیش آئے، اس کا ذکر کرسکتا ہے، بشرطیکہ اس کا ارادہ اللہ تعالیٰ کے شکوے کا نہ ہو۔ rnۡ لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا : شاید اس تھکاوٹ کی وجہ اس نعمت کا احساس دلانا ہو کہ صحیح راستے پر طلب علم کے لیے جاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خاص مدد شامل ہوتی ہے، جس سے تھکن نہیں ہوتی اور جب اس کی مدد نہ ہو تو انسان تھک کر رہ جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 62–65

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتنا غدآء نا۔ اس میں ایک مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ سفر میں زادراہ ساتھ لینا، یہ جاہل صوفیاء پر رد ہے جو بیابانوں اور میدان میں بغیر زاد راہ کے جاتے ہیں یہ گمان کرتے ہوئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السللام کے نبی تھے اور اہل زمین میں سے اس کے کلیم تھے۔ انہوں نے اپنے رب کی معرفت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے باوجود زادراہ ساتھ لیا۔ صحیح بخاری میں ہے (1) یمن کے کچھ لوگ حج کرتے تھے اور زادراہ ساتھ نہیں لے جاتے تھے، اور کہتے تھے : ہم توکل کرنے والے ہیں۔ پھر جب حرم میں پہنچتے تو لوگوں سے سوال کرتے تو اللہ تعالیٰ وتزودوا کا ارشاد نازل فرمایا، یہ سورة بقرہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 62–73

خضر (علیہ السلام) بھی اولاد آدم میں سے ہیں : 10:۔ دارقطنی نے افراد میں ابن عساکر نے مقاتل بن سلیمان کے طریق سے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ خضر (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور ان کی عمر میں تاخیر کی گئی ہے یہاں تک کہ وہ دجال کی تکذیب کریں گے۔ 11:۔ بخاری، احمد، ترمذی اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ ایک سفید سوکھی زمین پر بیٹھتے تو آپ کے پیچھے سرسبز کھیتی (آپ کی برکت کی وجہ سے) ہوجاتی۔ 12:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَلَمَا : پھر جب ] [جَاوَزَا : وہ دونوں آگے بڑھے ] [قَالَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لِفَتٰىهُ : اپنے نوجوان سے ] [اٰتِنَا : تو دے ہم کو ] [غَدَاۗءَنَا : ہمارے ناشتہ ] [لَقَدْ لَقِيْنَا : بیشک ہم ملے ہیں ] [مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا : اپنے اس سفر میں ] [نَصَبًا : مشقت سے ] (آیت۔ 62) ۔ فَتًی مبنی کی طرح استعمال ہوتا ہے۔ یعنی رفع، نصب، جر، تینوں حالتوں میں یہ فَتًی ہی رہتا ہے۔ جب اس پر لام تعریف داخل ہو یا مضاف ہو تو تینوں حالتوں میں یہ اَلْفَتٰی یا فَتٰی آتا ہے۔ اس لئے یہاں لِفَتٰہُ میں حرف جز لِ کا عمل ظاہر نہیں ہوا۔ نَصَبًا مفعول ہے یَقِیْنَا کا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 60–78

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 60–74

قصہ حضرت موسیٰ باخضر (علیہما السلام) قال اللہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح .... الیٰ .... لقد جئت شیئا نکرا۔ (ربط) چونکہ قریش نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لیے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق جو سوالات کیے تھے وہ یہود کے بتلانے اور سمجھانے سے کئے تھے کہ اگر آنحضرت ﷺ ان باتوں کا جواب دے دیں تو جانو کہ وہ نبی ہیں ورنہ نہیں اس لئے یہود کے سنانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم کریں کہ نبی کے لیے یہ شرط نہیں کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہوں اور وہ تمام اخبار اور قصص کا عالم ہو بلکہ نبوت کے لیے وحی اور علوم ہدایت کی معرفت ضروری ہے۔ چناچہ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 62–64

66:۔ جب دونوں مجمع البحرین سے آگے نکل گئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس سفر سے بہت تھک گئے ہیں اب کھانا لاؤ۔ ” نصبا “ تعبا یعنی تھکاوٹ اور تکلیف۔ ” قال ارءیت الخ “ ساتھی کو اب مچھلی کا واقعہ یاد آیا اور اس نے جواب میں کہا جب ہم نے پتھر کے سایہ میں آرام کیا تھا، اس وقت وہ مچھلی عجیب معجزانہ طور پر زندہ ہو کر توشہ دان سے نکل کر دریا میں گھس گئی تھی مگر آپ سے اس کا حال بیان کرنا بھول گیا۔ ” قال ذالک الخ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہماری منزل مقصود کی یہی تو علامت تھی چناچہ وہیں سے الٹے پاؤں واپس ہوئے۔ ” قصصا “ یہ مصدر ہے اور فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔ ای یقصان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–64

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان نافرمانوں کا ذکر کیا جو قرآن کریم کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں اور حق کو گرانے کے لیے باطل کو ہمراہ لے کر جھگڑا کرتے ہیں فرمایا یہ محض اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو جلدی ہلاک نہیں کرتا بلکہ اپنے قانون کے مطابق مہلت دیتا ہے ، اللہ نے ہلاکت کا سبب ظلم و زیادتی کو قرار دیا ، قرآن پاک میں سابقہ اقوام ، عاد ، ثمودم ، قوم فرعون ، قوم لوط ، اہل مدین ، وغیرہ کا حال بھی مذکور ہے جب انہوں نے کفر وشرک کی انتہا کردی ظلم و زیادتی کو مستقل وطیرہ بنا لیا تو پھر اللہ کی گرفت آئی اور نافرمان لوگ صفحہ ہستی سے ناپید کردیے گئے گذشتہ آیات میں باغ والے مغرور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىہُ اٰتِنَا غَدَاۗءَنَا ۝ 0ۡلَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا ہٰذَا نَصَبًا۝ 62 جاوز قال تعالی: فَلَمَّا جاوَزَهُ هُوَ [ البقرة/ 249] ، أي : تجاوز جوزه، وقال : وَجاوَزْنا بِبَنِي إِسْرائِيلَ الْبَحْرَ [ الأعراف/ 138] ، وجَوْزُ الطریق : وسطه، وجاز الشیء كأنه لزم جوز الطریق، وذلک عبارة عمّا يسوغ، وجَوْزُ السماء : وسطها، والجوزاء قيل : سمیت بذلک لاعتراضها في جوز السماء، وشاة جوزاء أي : ابیضّ وسطها، وجُزْتُ المکان : ذهبت فيه، وأَجَزْتُهُ : أنفذته وخلّفته، وقیل : استجزت فلانا فأجازني : إذا استسقیته فسقاک، وذلک استعارة، والمَجَاز من الکلام ما تجاوز موضعه الذي وضع له،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 60–68

1 ؎ جوان سے مراد خادم ہے جو غالباً یوشع بن نون تھے۔ 12 منہ ترکیب : اذ قال ظرف ہے اذکر محذوف کا۔ لا ابرح اس کی خبر اسیر محذوف ہے لدلالۃ حالہ وھو السفر اور ممکن ہے کہ اصل کلام یوں ہو لایبرح مسیری حتیٰ ابلغ تب حتی ابلغ خبر ہوگا پس مسیر مضاف کو حذف کر کے مصاف الیہ ی متکلم کو اس کی جگہ قائم کردیا لا ابرح تامہ بھی ہوسکتا ہے پھر خبر کی ضرورت نہیں مجمع بینہما ظرف کی طرف مجمع کو علی الاتساع مضاف کردیا گیا۔ ان اذکرہ بدل ہے ضمیر منصوب سے جو انسانیہ میں ہے۔ اے ماانسانی ذکرہ۔ الا الشیطان خبرا بالضم العلم بالشیء یہ تمیز ہے یا مصدر ہے لم تحط کا کس لیے کہ لم تحط بمعنی لم تخیرہ ہے۔ تفسیر : یہاں سے پھر مسئلہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰـہُ اٰتِنَا غَدَآئَ نَا ز لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا ھٰذَا نَصَبًا۔ (الکہف : 62) (جب وہ آگے بڑھ گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے شاگرد سے کہا ہمارا کھانا لائو، بیشک ہمیں برداشت کرنا پڑی ہے اپنے سفر میں بڑی مشقت۔ ) آرام کرنے کے بعد پھر سفر شروع کیا۔ بعض اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دن اور ایک رات چلتے رہے، اب تک تو آپ ( علیہ السلام) کو تکان محسوس نہیں ہوئی تھی لیکن اس لمبے سفر کے بعد آپ ( علیہ السلام) رکے اور اپنے خادم سے فرمایا کہ ہمارا کھانا لائو، اس سفر نے ہمیں بہت تھکا دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 60–63

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کے ذریعہ سے چند کاموں کے حوالے سے تکوینی امور کی حکمتیں بیان کی ہیں۔ تاکہ لوگ ان کو پیش نگاہ رکھ کر اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر صابر، شاکر رہیں بات پر ایمان لائیں۔ اس خطاب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک سفر کی روداد بیان کی ہے۔ جس میں ان کی ملاقات حضرت خضر (علیہ السلام) سے کروائی گئی تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے تکوینی امور کی حکمتوں سے کچھ نہ کچھ آگاہی حاصل ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر کا سبب بیان کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ نے فرمایا۔ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ اچانک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

62: فَلَمَّا جَاوَزَا (جب وہ دونوں آگے گزر گئے) مجمع البحرین سے اور پھر اترے اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ انہوں نے کتنا راستہ طے کیا۔ قَالَ (موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ): لِفَتٰہُ ٰاتِنَا غَدَآ ئَ نَا لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا ھٰذَا نَصَبًا (اپنے جو ان کو کہا ہمارے لئے کھانا لائو۔ اس سفر میں ہم بہت تھک گئے) نصبؔ تھکاوٹ اس سے قبل نہ بھوک لگی نہ تھکاوٹ محسوس کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(62)” فلما جاوزا “ اس جگہ اور وہ دو دریائوں کے ملنے کی جگہ ہے۔ ” قال “ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” لفتاہ آئنا غداء نا “ ہمارا کھانا لے آئو، غذا اس کھانے کو کہتے ہیں جو صبح کے وقت کھایا جاتا ہے اور عشاء کہتے ہیں شام کے وقت کھانے کو۔ ” لقد لقینا من سفرنا ھذ ا نصباً “ تھکاوٹ اور سختی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مقررہ پتھر سے آگے بڑھے تو اللہ کی طرف سے آپ پر بھوک کا دورہ پڑا تاکہ کھانے کی خواہش ہو اور مچھلی یاد آجائے اور اپنے مقصد کی طرف لوٹ آئیں۔ صحیحین کی حدیث میں آیا کہ جب تک مقررہ مقام سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آگے بڑھے نہیں تھے آپ کو تھکان نہیں ہوئی تھی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 60–66

60۔ 66:۔ ان آیتوں میں مختصر طور پر قصہ شروع بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ اس زمانہ میں اے موسیٰ بڑا صاحب علم کون ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں ہوں اللہ تعالیٰ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ جواب پسند نہیں آیا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اس حکم کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خاص رفیق یوشع بن نون کو ساتھ لیکر خضر (علیہ السلام) کے ملنے کی غرض سے سفر کا ارادہ کیا 1 ؎۔ اب آگے وہی قصہ ہے جو ان آیتوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–73

آیت 59 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریععے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کردیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کر تتوں سے باز نہ آئے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے انجان بنا رہے اور اللہ عالم الغیوب کو اپنے اوپر نگران نہ سمجھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی۔۔۔ یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 62–81

قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 62–63

113۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تھکاوٹ اور صورت حال سے اطلاع و آگہی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ ہم تو اپنے اس سفر میں سخت تھگ گئے ہیں “۔ روایات میں وارد ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اس مقام پر آگے گذر گئے تو ان کو تکان محسوس ہونے لگی۔ اس سے پہلے ایسے نہیں تھا۔ تب آپ نے اس طرح فرمایا۔ اور یوں یہ سفر تھا بھی کافی لمبا اور مشقت طلب۔ کیونکہ ” مجمع البحرین “ کے اس مقام مقصود سے گزرنے کے بعد وہ دونوں بقیہ پورا دن چلتے رہے اور اگلی رات بھی۔ اور اگلے روز صبح کے وقت جب سورج کافی اوپر چلا گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھوک محسوس ہوئی اور آپ نے اپنے خادم سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–74

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کا قصہ اور کئی نصیحتیں تشریح : اس قصہ کا ذکر ایک تو اس لیے کیا گیا کہ اہل عرب کے آنحضرت ﷺ سے تین سوالوں میں سے دوسرے کا جواب یہ تھا۔ پھر یہ کہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا اس کام کے کرنے کے لیے اللہ چاہے کسی کو بھی وسیلہ بنا دے۔ تیسرے یہ کہ ایک دینی اور اخلاقی قانون واضح کردیا گیا کہ غلطی چاہے عام انسان سے ہو یا نبی سے ہو اللہ اس کی پکڑ ضرور کرتا ہے۔ یہاں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کبھی بھی اپنی بڑائی کا کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے۔ ہوا اس طرح کہ کسی اجتماع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 60–70

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف جہاں تک ان لوگوں کے متکبرانہ رویے کا تعلق ہے تو وہ ایسا ہے کہ اگر کسی مقبول بارگاہ یعنی نبی اور رسول سے بھی کوئی کلمہ غیر ارادی طور پر بھی نکل جائے تو اس پر بھی تنبیہ کی جاتی ہے اور انہیں تعلیم فرمانے کے لیے آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے پہلے گذر چکا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کل جواب دوں گا تو پندہ روز وحی نہ آئی اور کفار نے بہت تمسخر اڑایا پھر تعلیم فرمایا گیا کہ انشاء اللہ فرمایا کیجئے ایسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) سے جو الوالعزم رسول اور کلیم اللہ تھے ایک چھوٹی سی بات صادر ہوئی تو انہیں تعلیم فرمانے کے لیے ایک پوری آزمائش سے گذارا گیا ، اگر مقبولان بارگاہ سے غیر ارادی طور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 62–64

ف 1 یعنی جہاں یہ مچھلی گم ہوئی وہی تو ہماری منزل مقصود تھی۔2 یعنی جس راستے سے گئے تھے اسی راستے سے واپس ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:62) جاوزا۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب وہ دونوں آگے چلے۔ وہ دونوں گذرے ۔ مجاوزۃ (مفاعلۃ) مصدر جس کے معنی کسی چیز سے گذر جانے۔ اس کو پار کرنے اور آگے بڑھنے کے ہیں۔ یعنی جب وہ مجمع البحرین سے آگے بڑھ گئے۔ غداء نا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارا ناشتہ ۔ ہمارا صبح کے وقت کا کھانا۔ دن کے ابتدائی حصہ کے کھانے کو غداء کہتے ہیں۔ ناشتہ سے یہاں مراد وہ مچھلی ہے جو وہ بھون کر کھانے کے طور پر ہمراہ لائے تھے۔ نصبا۔ تھکان۔ مشقت، تھکاوٹ، تکلیف۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 60–64

لغات القرآن آیت نمبر 60 تا 64 فتی نوجوان، شاگرد۔ لا ابرح میں ہرگز نہ چھوڑوں گا۔ حتی ابلغ جب تک پہنچ نہ جاؤں۔ مجمع البحرین دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ۔ حقب (احقاب) طویل مدت۔ بلغا وہ دونوں پہنچے۔ حوث مچھلی۔ جاوزا دونوں گذر گئے۔ السخرۃ چٹان، پتھر نبغ ہم تلاش کر رہے ہیں۔ ارتدا وہ دونوں لوٹے۔ اثار نشان قدم۔ قصص ڈھونڈنا، تلاش کرنا۔ تشریح : آیت نمبر 60 تا 64 چونکہ نبی اور رسول اللہ کے بندے اور اللہ کے نمئاندے ہوتے ہیں اس لئے ان کی تعلیم و تربیت اور عرفت براہ راست اللہ کی طرف سے کی جاتی ہے تاکہ ان کی زندگی کا ہر عمل دوسروں کے لئے مثال، نمونہ اور اسوہ بن جائے۔ اللہ کے تمام نبی اور رسول گناہوں سے معصوم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 60–65

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کی ملاقات کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں وعظ فرما رہے تھے۔ کہ ایک شخص نے پوچھا :” سب میں زیادہ عالم کون ہے “۔ آپ نے فرمایا :” میں “۔ یہ بات خدا کو ناگوار معلوم وہئی کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ تم سے بھی زیادہ عالم ہے ، جو مجمع البحرین کے موقع پر ملے گا پھر موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے۔ فرمایا :” اپنے تھیلے میں رکھ لو پھر جہاں وہ مچھلی گم جاوے وہ وہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–75

[23] حدیث میں یوں آیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کوئی آپ سے زیادہ بھی علم رکھتا ہے ؟ فرمایا میں نہیں جانتا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہی سب سے بڑے عالم ہیں۔ اس پر وحی آئی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں ملاقات ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–70

موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) ! (ف 1) حضور ﷺ سے قبل یہودیوں اور عیسائیوں میں جن مباحث اور قصص کا چرچا تھا ، ان میں ایک بحث یہ بھی تھی ، کہ اصحاب کہف کون تھے ، موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ کیونکر ہے ، اور ذوالقرنین کے حالات کیا ہیں ؟ اس لئے ان کو حضور ﷺ سے بھی ان مسائل کے متفق پوچھنا ضروری ہے تھا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے علم کے لئے ان قصوں کی حقیقت بیان فرمائی ، اور نکات ومعارف کی جانب اشارہ فرمایا جو ان قصے کے ضمن میں پنہاں ہیں اصحاب کہف کے قصہ میں یہ بتلایا کہ خدا پرستوں کو خدا کیونکر کامیاب وکامران فرماتا ہے ، اور کیونکر باطل پرستوں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-62 پھر جب وہ دونوں اس جگہ سے اگٓے بڑھ گئے اور دور چلے گئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے فرمایا ہمارے چاشت کا کھانا اور ناشتہ ہمارے پاس لے آ، بلاشبہ ہم نے تو اپنے اس سفر میں بڑی مشقت اور تکلیف اٹھائی۔ یعنی جب دور نکل گئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھوک معلوم ہوئی اور مشقت و تھکن بھی زیادہ محسوس ہوئی تب خادم سے ناشتہ طلب کیا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت موسیٰ پہلے نہیں تھکے جب مطلوب چھوٹ رہا اس چلنے سے تھکے۔ 12 خلاصہ :- یہ کہ مجمع البحرین پر سونے کے بعد اٹھے تو بھوک نہ تھی جو کھانا مانگتے مچھلی کا کوئی ذکر نہیں آیا خادم کو بھی مچھلی کا واقعہ یاد نہیں آیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–65

ف 5۔ وجہ اس سفر کی یہ ہوئی تھی کہ ایک بار موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل میں وعظ فرمایا تو کسی نے پوچھا کہ اس وقت آدمیوں میں سب سے بڑا عالم کون شخص ہے۔ آپ نے فرمایا میں۔ مطلب یہ تھا کہ ان علوم میں کہ جن کو قرب الی اللہ کی تحصیل میں دخل ہے میرے برابر کوئی نہیں۔ اور یہ فرمانا صحیح تھا، لیکن چونکہ ظاہرا لفظ مطلق تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ آپ کو احتیاط فی الکلام کی تعلیم دی جائے، ارشاد ہوا کہ مجمع البحرین میں ایک بندہ ہمارا تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے، مطلب یہ تھا کہ بعض علوم میں وہ زیادہ ہے، گو ان علوم کو قرب الہی میں دخل نہہو، لیکن اس بناء پر جواب میں مطلقا تو اپنے کو اعلم نہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دوبارہ کسی جگہ ٹھہر گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی سے کھانا طلب کیا : 67۔ جب دوبارہ کسی جگہ ٹھہرے اور کھانے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ رکھی ہوئی مچھلی کے متعلق پوچھا کہ اس کو لاؤ اور پکاؤ تاکہ ایک بار پھر تازہ دم ہو لیں کہ اس سفر میں ہم نے بہت ہی تکان پائی ہے اور ابھی معلوم بھی نہیں کہ یہ سفر کہاں تک آگے چلنا ہے اس طرح کی گفتگو سے آپ کے ساتھی کو مچھلی کی وہ بات یاد آئی جو اس سے پہلے پڑاؤ پر واقع ہوئی تھی اور دراصل وہی وہ جگہ تھی جہاں دونوں دریاؤں کا سنگم ہو رہا تھا لیکن وہاں سے چلتے وقت انہوں نے اس کا خیال نہ کیا ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 61–64

Precedence of Sayyidna Musa (علیہ السلام) over Al-Khadir (علیہ السلام) ، his up-bringing and miracles In the next verse, it was said: فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ‌ سَرَ‌بًا So, when they reached the meeting point of the two seas, they forgot their fish and it made its way into the sea as in a tunnel- 61. Before we explain the nature of the extraordinary happening there, it is appropriate to first refer to the distinct position bestowed upon Sayyidna Musa 1 in the comity of prophets. This has been mentioned explicitly in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–63

57. Though this story was told in answer to the question of the disbelievers, it has been used to impress a very important truth on the minds of both the disbelievers and the believers. It is this: those people who draw their conclusions only from the seeming aspects of events, make a very serious error in their deductions, for they only see what is apparent and do not go deep into the divine wisdom that underlies them. When they daily see the prosperity of the tyrants and the afflictions of the innocent people, the affluence of the disobedient people and the indigence of the obedient people,…

Read the full tafseer →