Explained with ayahs 60–65
حضرت موسیٰ ؑ اور اللہ کا ایک بندہ
حضرت موسیٰ ؑ سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں آپ نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے واللہ اعلم۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقت کعتے ہیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں۔ حقب سے مراد اسی برس ہیں مجاہد ؒ ستر برس کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ زمانہ بتلاتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
سورة الْكَهْف 57
اس مرحلے پر یہ قصہ سنانے سے مقصود کفار اور مومنین دونوں کو ایک اہم حقیقت پر متنبہ کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ ظاہر بین نگاہ دنیا میں بظاہر جو کچھ ہوتے دیکھتی ہے اس سے بالکل غلط نتائج اخذ کرلیتی ہے کیونکہ اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی وہ مصلحتیں نہیں ہوتیں جنہیں ملحوظ رکھ کر وہ کام کرتا ہے۔ ظالموں کا پھلنا پھولنا اور بےگناہوں کا تکلیفوں میں مبتلا ہونا۔ نافرمانوں پر انعامات کی بارش اور فرمانبرداروں پر مصائب کا ہجوم، بدکاروں کا عیش اور نیکو کاروں کی خستہ حالی، یہ وہ مناظر ہیں جو آئے دن انسانوں کے سامنے آتے رہتے ہیں، اور محض اس لیے کہ لوگ ان کے کنہ کو نہیں سمجھتے، ان سے عام طور پر ذہنوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
حضرت موسیٰ ؑ کا خضر ؑ سے افضل ہونا موسیٰ ؑ کی خاص تربیت اور ان کے معجزے
(آیت) فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا قرآن و سنت کی تصریحات سے واضح ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت میں بھی ایک خاص امتیاز حاصل ہے اللہ تعالیٰ کی ہم کلامی کا خاص شرف ان کی مخصوص فضیلت ہے اور حضرت خضر ؑ کی تو نبوت میں بھی اختلاف ہے اور نبوت کو تسلیم بھی کیا جائے تو مقام رسالت حاصل نہیں نہ ان کی کوئی کتاب ہے نہ کوئی خاص امت اس لئے بہرحال موسیٰ ؑ خضر ؑ سے بدرجہا افضل ہیں لیکن حق تعالیٰ اپنے مقربین کی ادنیٰ سی کمی اور کوتاہی کی اصلاح…
Read the full tafseer →فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا۔
سرب کا مفہوم : سرب کے معنی برتن سے پانی کے بہہ جانے کے ہیں۔
ایک عجیب واقعہ : یہاں سرگزشت کا بہت سا حصہ حذف ہے۔ جو قرینہ سے واضح ہے۔ یعنی دونوں نے سفر کیا اور مجعم البحرین پہنچ گئے۔ یہاں ذرا دم لینے کے لیے ایک پہاڑی کے دامن میں بیٹھے، پھر وہاں سے چلے تو ناشتہ کے لیے جو مچھلی ساتھ لی تھی وہ ساتھ لینا بھول گئے۔ کچھ دور جانے کے بعد، معلوم ہوتا ہے، شاگرد کو یہ بات یاد آئی اور وہ مچھلی لینے کے لیے واپس لوٹے لیکن یہاں پہنچے تو دیکھا کہ مچھلی نے ان کے سامنے تڑپ کر پانی کی راہ لی یہ واقعہ اتنا عجیب تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
60۔ 1 نوجوان سے مراد حضرت یوشع بن نون ؑ ہیں جو موسیٰ ؑ کے وفات کے بعد ان کے جانشین بنے۔
60۔ 2 اس مقام کی تعیین کسی یقینی ذریعہ سے نہیں ہوسکی تاہم قیاس کیا جاتا ہے کہ اس سے مراد صحرائے سینا کا وہ جنوبی راستہ ہے جہاں خلیج عقبہ اور خلیج سویز دونوں آکر ملتے ہیں اور بحر احمر میں ضم ہوجاتے ہیں۔ دوسرے مقامات جن کا ذکر مفسرین نے کیا ہے ان پر سرے سے مجمع البحرین کی تعبیر ہی صادق نہیں آتی۔
60۔ 3 حقب، کے ایک معنی 70 یا 80 سال اور دوسرے معنی غیر معین مدت کے ہیں یہاں یہی دوسرا معنی مراد ہے یعنی جب تک میں مجمع البحرین (جہاں دونوں سمندر ملتے ہیں) نہیں پہنچ جاؤں گا، چلتا رہوں گا اور سفر جاری رکھوں گا، چاہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
34: حضرت موسیٰ ؑ ایک چٹان پر پہنچ کر کچھ دیر کے لیے سوگئے تھے۔ اسی دوران وہ مچھلی جو ایک زنبیل میں تھی، وہاں سے کھسک کر دریا میں جا گری، اور جس جگہ گری وہاں پانی میں سرنگ سی بن گئی جس میں جا کر مچھلی غائب ہوگئی۔ حضرت یوشع ؑ اس وقت جاگ رہے تھے۔ اور انہوں نے یہ عجیب واقعہ دیکھا، مگر چونکہ حضرت موسیٰ ؑ سوئے ہوئے تھے، اس لیے ان کو جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ بعد میں جب حضرت موسیٰ ؑ جاگ کر آگے روانہ ہوئے تو حضرت یوشع ؑ ان کو یہ بات بتانا بھول گئے۔ اور یاد اس وقت آیا جب حضرت موسیٰ ؑ نے آگے چل کر ناشتہ مانگا
Read the full tafseer →راجح بات یہ ہے کہ یہ مچھلی بھونی ہوئی تھی اور اس کا زندہ رہنا اور پھر اس کا سمندر کے اندر عجیب انداز میں گم ہوجانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ایک نشانی تھی۔ اس کے ذریعے اللہ نے ان کو بتانا تھا کہ عبدصالح کا مقام یہی ہے۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے نوکر نے جو بیان کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے قابل تعجب انداز میں سمندر میں اپنی راہ لی تھی۔ یہ بات کہ زندہ مچھلی اس کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ سمندر میں چلی گی تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ سبب ترجیح یہ ہے کہ یہ سفر سب کا سب غیبی معجزات پر مشتمل ہے۔ یہ بھی ان میں سے ایک معجزہ تھا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ عبدصالح کے…
Read the full tafseer →7 وہاں پہنچ کر ایک بڑے پتھر کے قریب جس کے نیچے آب حیات کا چشمہ جاری تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سو رہے۔ یوشع (علیہ السلام) نے دیکھا کہ بھنی ہوئی مچھلی باذن اللہ زندہ ہو کر زنبیل سے نکل پڑی اور عجیب طریقہ سے دریا میں سرنگ بناتی چلی گئی۔ وہاں پانی میں خدا کی قدرت سے ایک طاق سے کھلا رہ گیا۔ یوشع کو دیکھ کر تعجب آیا۔ چاہا کہ موسیٰ بیدار ہوں تو ان سے کہوں۔ وہ بیدار ہوئے تو دونوں آگے چل کھڑے ہوئے۔ یوشع نہ معلوم کن خیالات میں پڑ کر کہنا بھول گئے۔ روایات میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب ان کو مچھلی کی خبر گیری کے لیے کہا تھا تو ان کی زبان سے نکلا کہ یہ کوئی بڑا کام نہیں۔ لہذا متنبہ کیا گیا کہ…
Read the full tafseer →نَسِيَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا
یہ بھنی ہوئی مچھلی تھی جس کو وہ کھانے کی غرض سے اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔ اس مچھلی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی بنایا گیا تھا اور انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ جس مقام پر یہ مچھلی زندہ ہو کر دریا میں چلی جائے گی اسی جگہ مطلوبہ شخصیت سے ان کی ملاقات ہوگی۔ چناچہ مجمع البحرین کے قریب پہنچ کر وہ مچھلی زندہ ہو کر ان کے توشہ دان سے باہر آئی اور اس نے سرنگ سی بنا کر دریا میں اپنی راہ لی۔ اس منظر کو حضرت یوشع بن نون نے دیکھا بھی مگر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کا تذکرہ کرنا بھول گئے۔
Read the full tafseer →60 مردہ مچھلی کا زندہ ہو کر دریا میں چھلانگ لگانا اور سمندر میں سوراخ بنانا :۔ جب وہ سنگھم پر پہنچ گئے تو موسیٰ ایک چٹان کے سایہ میں سو گئے اور ان کے خادم سیدنا یوشع بن نون جنہیں بعد میں نبوت بھی عطا ہوئی اور سیدنا موسیٰ کے خلیفہ بھی بنے۔ وہاں بیٹھے رہے۔ اسی دوران مچھلی میں حرکت پیدا ہوئی وہ تڑپی اور دریا میں چھلانگ لگادی پہلے تو سیدنا یوشع کو خیال آیا کہ سیدنا موسیٰ کو جگا کر انھیں مچھلی کے دریا میں جانے کی اطلاع کردوں۔ مگر جب وہ جاگے اور آگے سفر کرنے کو کہا تو یوشع مچھلی کی بات انھیں بتانا بھول گئے نہ ہی موسیٰ (علیہ السلام) کو خیال آیا کہ وہ اپنی علامتی مچھلی کو دیکھ لیں۔
Read the full tafseer →93۔ یعنی اس مچھلی کو جو بطور ناشتہ ان کے ساتھ ناشتہ دان میں رکھی ہوئی تھی۔ فاخذحوتا فجعلہ فی مکتل ثم انطلق (بخاری۔ کتاب التفسیر) (آیت) ” نسیاحوتھما “۔ یعنی اس مچھلی کا انہیں خیال ہی نہ آیا جس برگزیدہ بندہ سے ملنے کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نکلے تھے۔ اس کے ملنے کی جگہ کا پتہ یہ بتایا کہ طویل سنگم پر جس مقام پر وہ ساتھ مچھلی پھر سے پانی میں چلی جائے گی وہی جگہ ان بزرگ کی ہے۔ (آیت) ” نسیاحوتھما “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ زاد راہ کا جو کہ اسباب میں سے ہے سفر میں ساتھ رکھنا توکل کے منافی نہیں۔
94۔ روایتوں میں آتا ہے کہ وہ مچھلی تلی ہوئی تھی۔ اور بطور خارق عادت زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
آیت نمبر 60 تا 65
اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کہ عمران کے بیٹے ہیں اپنے خادم یوشع بن نون سے جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت کے ساتھ ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) سے تحصیل علم بھی کرتے تھے کہا کہ میں چلتا ہی رہوں گا سفر موقوف نہ کروں گا تاآنکہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں یعنی مشرقی جانب سے بحرروم اور بحر فارس کے ملنے کی جگہ اور اگر میں منزل مقصود کو نہ پاؤں تو ایک وقت یعنی زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا چناچہ جب یہ دونوں حضرات دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو یہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے یوشع روانگی کے وقت مچھلی اٹھانا بھول گئے اور…
Read the full tafseer →فلما بلغا مجمع بینہما پس جب دونوں مجمع البحرین پر پہنچے (دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچے) یعنی مقرر پتھر تک پہنچ گئے۔ موسیٰ وہاں سو گئے اور بھونی ہوئی مچھلی تڑپ کر زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی۔
سفیان نے کہا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس پتھر کے پاس آب حیات کا چشمہ تھا (جس کی خاصیت یہ تھی کہ) جس چیز پر (یعنی جس مردہ پر) اس کا پانی لگ جاتا تھا وہ زندہ ہو کر سمندر میں جا کودتی تھی۔ کلبی نے کہا یوشع بن نون نے آب حیات سے وضو کر کے ٹوکری میں رکھی ہوئی نمکین مچھلی پر چھینٹا دیا جس سے مچھلی زندہ ہو کر پانی میں جا کو دی اور پانی کے اندر دم مارتی چلی گئی پانی کے جس حصہ پر وہ دم مارتی تھی پانی خشک ہو (کر راستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–82
(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…
Read the full tafseer →الْبَحْرِ سَرَبًا : مچھلی پانی سے باہر زندہ نہیں رہ سکتی، معلوم ہوا وہ مچھلی مردہ تھی، پھر اگر اسے نمک لگا کر خشک نہ کیا جائے تو وہ شدید بدبو دار ہوجاتی ہے اور کیڑوں سے بھر جاتی ہے۔ معلوم ہوا اسے نمک لگا کر خشک کیا گیا تھا۔ اس مردہ مچھلی کا زندہ ہونا معجزہ تھا۔
3 پانی کو موسیٰ ؑ کے لیے پہاڑوں کی شکل دینا (شعراء : 63) یا سرنگ کی، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے اور معجزۂ ربانی۔ جس طرح پانی کے ایک قطرے (نطفہ) سے احسن تقویم میں انسان کی صورت گری اس خلاق علیم کی قدرت کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔
Read the full tafseer →(تفسیر) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلما بلغا مجمع بینھما نسیا حوتھما فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا۔ بینھما کی ضمیر بحرین کے لیے ہے، یہ مجاہد نے کہا ہے۔ السراب کا معنی ہے گزرگاہ، سرنگ، یہ بھی مجاہد کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : پانی تھم گیا اور وہ سرنگ کی طرح ہوگیا۔ جمہور مفسرین نے کہا : مچھلی اپنے چلنے کی جگہ میں پانی میں موجود تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مچھلی کے پیچھے پیچھے چلے حتیٰ کہ اس کے ذریعے دریا میں ایک جزیرہ کے راستہ پر پہنچے۔ اس میں حضرت خضر (علیہ السلام) کو پایا۔ ظاہر روایات اور کتاب کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی ملاقات دریا کے ساحل پر ہوئی تھی۔ نسیا حوتھما نسیان تو صرف نوجوان کو ہوا تھا لیکن…
Read the full tafseer →خضر (علیہ السلام) سے ملاقات کا واقعہ :
5:۔ سعید بن جبیر (رح) سے دوسرے طریق سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ان کے پاس اہل کتاب میں سے ایک جماعت بھی تھی ان میں سے ایک نے کہا نوف ابی بن کعب ؓ سے روایت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) وہ نبی جنہوں نے علم طلب کیا تھا وہ موسیٰ بن میشا تھے ابن عباس ؓ نے فرمایا نوف نے جھوٹ بولا ابی بن کعب ؓ نے مجھ سے رسول اللہ ﷺ کی طرف بیان فرمایا کہ موسیٰ بنی اسرائیل نے اپنے رب سے سوال کیا اے میرے رب اگر تیرے بندوں میں سے مجھ سے زیادہ جاننے والا ہو تو مجھے اس کا بتائیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں میرے بندوں میں سے تجھ سے زیادہ علم والا…
Read the full tafseer →[فَلَمَا : پھر جب ] [بَلَغَا : وہ دونوں پہنچے ] [مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا : ان دونوں (سمندروں) کے درمیان ملنے کی جگہ ] [نَسِيَا : تو وہ دونوں بھول گئے ] [حُوْتَهُمَا : اپنی مچھلی کو ] [فَاتَّخَذَ : تو اس نے بنایا ] [سَبِيْلَهٗ : اپنا راستہ ] [فِي الْبَحْرِ : سمندر میں ] [سَرَبًا : نشیب میں گھستے ہوئے ]
(آیت۔ 61) ۔ مَجْمَعَ مضاف ہے بَیْنِھِمَا کا اور ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ سَرَبًا حال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ
مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
قصہ حضرت موسیٰ باخضر (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح .... الیٰ .... لقد جئت شیئا نکرا۔
(ربط) چونکہ قریش نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لیے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق جو سوالات کیے تھے وہ یہود کے بتلانے اور سمجھانے سے کئے تھے کہ اگر آنحضرت ﷺ ان باتوں کا جواب دے دیں تو جانو کہ وہ نبی ہیں ورنہ نہیں اس لئے یہود کے سنانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم کریں کہ نبی کے لیے یہ شرط نہیں کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہوں اور وہ تمام اخبار اور قصص کا عالم ہو بلکہ نبوت کے لیے وحی اور علوم ہدایت کی معرفت ضروری ہے۔ چناچہ موسیٰ…
Read the full tafseer →65:۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ہمسفر یوشع دنوں دریاؤں کے ملنے کی جگہ پہنچے تو وہاں ایک پتھر کے سایہ میں سستانے کے لیے رک گئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سو گئے اور حضرت یوشع بیدار تھے اسی اثنا میں انہوں نے دیکھا کہ مچھلی توشہ دان میں حرکت کرنے لگی یہاں تک کہ اس سے نکل کر دریا میں داخل ہوگئی، حضرت یوش نے سوچا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس وقت آرام کی نیند سے بیدار نہ کریں جب وہ خود اٹھیں گے انہیں حقیقتِ حال سے آگاہ کردوں گا۔ ” فی البحر سربا “ مچھلی نے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا اور اس میں گھس گئی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مچھلی کے بارے میں پوچھنا یاد نہ رہا، اس سے معلوم ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان نافرمانوں کا ذکر کیا جو قرآن کریم کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں اور حق کو گرانے کے لیے باطل کو ہمراہ لے کر جھگڑا کرتے ہیں فرمایا یہ محض اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو جلدی ہلاک نہیں کرتا بلکہ اپنے قانون کے مطابق مہلت دیتا ہے ، اللہ نے ہلاکت کا سبب ظلم و زیادتی کو قرار دیا ، قرآن پاک میں سابقہ اقوام ، عاد ، ثمودم ، قوم فرعون ، قوم لوط ، اہل مدین ، وغیرہ کا حال بھی مذکور ہے جب انہوں نے کفر وشرک کی انتہا کردی ظلم و زیادتی کو مستقل وطیرہ بنا لیا تو پھر اللہ کی گرفت آئی اور نافرمان لوگ صفحہ ہستی سے ناپید کردیے گئے گذشتہ آیات میں باغ والے مغرور…
Read the full tafseer →فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِہِمَا نَسِيَا حُوْتَہُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيْلَہٗ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا 61
بلغ
البُلُوغ والبَلَاغ : الانتهاء إلى أقصی المقصد والمنتهى، مکانا کان أو زمانا، أو أمرا من الأمور المقدّرة، وربما يعبّر به عن المشارفة عليه وإن لم ينته إليه، فمن الانتهاء : بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ الأحقاف/ 15]
( ب ل غ ) البلوغ
والبلاغ ( ن ) کے معنی مقصد اور متبٰی کے آخری حد تک پہنچے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو ۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچ جانے پر بھی بولا جاتا ہے گو انتہا تک نہ بھی پہنچا ہو۔ چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–68
1 ؎ جوان سے مراد خادم ہے جو غالباً یوشع بن نون تھے۔ 12 منہ
ترکیب : اذ قال ظرف ہے اذکر محذوف کا۔ لا ابرح اس کی خبر اسیر محذوف ہے لدلالۃ حالہ وھو السفر اور ممکن ہے کہ اصل کلام یوں ہو لایبرح مسیری حتیٰ ابلغ تب حتی ابلغ خبر ہوگا پس مسیر مضاف کو حذف کر کے مصاف الیہ ی متکلم کو اس کی جگہ قائم کردیا لا ابرح تامہ بھی ہوسکتا ہے پھر خبر کی ضرورت نہیں مجمع بینہما ظرف کی طرف مجمع کو علی الاتساع مضاف کردیا گیا۔ ان اذکرہ بدل ہے ضمیر منصوب سے جو انسانیہ میں ہے۔ اے ماانسانی ذکرہ۔ الا الشیطان خبرا بالضم العلم بالشیء یہ تمیز ہے یا مصدر ہے لم تحط کا کس لیے کہ لم تحط بمعنی لم تخیرہ ہے۔
تفسیر : یہاں سے پھر مسئلہ…
Read the full tafseer →فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِھِمَا نَسِیَا حُوْتَھُمَا فَا تَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا (الکہف : 61)
(پھر جب وہ دونوں دو دریائوں کے ملنے کی جگہ پر پہنچے تو دونوں اپنی مچھلی بھول گئے اور اس نے اپنا راستہ سرنگ کی طرح دریا میں بنا لیا۔ )
گزشتہ آیت میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عازم سفر ہوتے ہوئے اپنے خادم سے فرمایا تھا کہ چاہیے کتنا عرصہ لگ جائے مجھے بہرصورت مجمع البحرین پہنچنا ہے یعنی جہاں دو دریا آپس میں ملتے ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ کو پڑھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) اپنی منزل کی طرف عازم سفر ہوگئے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کتنی دیر تک آپ (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کے ذریعہ سے چند کاموں کے حوالے سے تکوینی امور کی حکمتیں بیان کی ہیں۔ تاکہ لوگ ان کو پیش نگاہ رکھ کر اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر صابر، شاکر رہیں بات پر ایمان لائیں۔
اس خطاب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک سفر کی روداد بیان کی ہے۔ جس میں ان کی ملاقات حضرت خضر (علیہ السلام) سے کروائی گئی تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے تکوینی امور کی حکمتوں سے کچھ نہ کچھ آگاہی حاصل ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر کا سبب بیان کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ نے فرمایا۔ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ اچانک…
Read the full tafseer →مجمع البحرین میں پہنچنا :
61: فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِھِمَا (جب وہ دونوں مجمع البحرین پر پہنچے) نَسِیَا حُوْتَھُمَا (وہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے) یعنی یوشع بن نون مچھلی کو بھول گئے کیونکہ کھانے کے ذمہ دار وہی تھے اور اس کی دلیل یہ آیت ہے فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ اور یہ تثنیہ اسی طرح لایا گیا جیسا کہ محاورہ میں کہتے ہیں نَسُوا زَادَھُمْ وہ تمام زاد راہ بھول گئے حالانکہ زاد راہ کا ذمہ دار اس کو بھولنے والا ہوتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ مچھلی نمک لگی ہوئی تھی وہ دونوں ایک رات حیات کے چشمہ پر اترے۔ موسیٰ (علیہ السلام) سوگئے جب مچھلی تک اس مائے حیات کی خوشبو پہنچی اور ٹھنڈک میسر آئی تو…
Read the full tafseer →تفسیر (61)” فلما بلغ “ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور یوشع بن نون وہاں پہنچے۔ ” مجمع بینھما “ ان دونوں فریقوں کے ملنے کی جگہ پر یا دونوں ( دریائوں) کے درمیان۔ ” نسیا “ بھول گئے یعنی ان دونوں نے اس کو وہیں چھوڑ دیا۔ ” حوتھما “ وہ مچھلی حضرت یوشع کے پاس تھی جس کو وہ بھول گئے۔ نسیان کی اضافت ان دونوں کی طرف کردی کیونکہ ان دونوں نے سفر کے لیے زاد راہ باندھا تھا۔ جیسے کہاجاتا ہے فلاں لوگ سفر کو نکلے اور کھانے کے لیے انہوں نے کھانا ساتھ لے لیا حالانکہ ساتھ لینے والا اور اٹھانے والا صرف ایک آدمی ہوتا ہے لیکن رکھنے والے سب ہوتے ہیں۔ اس لیے سب کی طرف ساتھ لینے اور اٹھانے کی نسبت کردی جاتی ہے۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
60۔ 66:۔ ان آیتوں میں مختصر طور پر قصہ شروع بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ اس زمانہ میں اے موسیٰ بڑا صاحب علم کون ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں ہوں اللہ تعالیٰ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ جواب پسند نہیں آیا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اس حکم کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خاص رفیق یوشع بن نون کو ساتھ لیکر خضر (علیہ السلام) کے ملنے کی غرض سے سفر کا ارادہ کیا 1 ؎۔ اب آگے وہی قصہ ہے جو ان آیتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–73
آیت 59
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریععے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کردیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کر تتوں سے باز نہ آئے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے انجان بنا رہے اور اللہ عالم الغیوب کو اپنے اوپر نگران نہ سمجھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی۔۔۔ یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ…
Read the full tafseer →بھول ایک کی، اضافت دونوں کی طرف
قول باری ہے (نسیا حوتھما تو دونوں اپنی مچھلی سے غافل ہوگئے) نسیان تو یوشع بن نون کو لاحق ہوا تھا لیکن دونوں کی طرف اس کی اضافت کی گئی ہے اس کی مثال یہ محاورہ ہے ” نسی القوم زادھم “ (پورا گروہ اپنی زاد راہ بھول گیا) حالانکہ بھولنے والا ان میں سے ایک ہوتا ہے جس کے سپرد زاد راہ ہوتی ہے۔ یا جس طرح حضور ﷺ نے مالک بن الحویرث اور ان کے غمزاد کو حکم دیا تھا کہ ” جب تم دونوں سفر کروتو دونوں اذان اور اقامت کہنا اور تم میں سے ایک امامت کرائے گا۔ حالانکہ اذان و اقامت کا فریضہ ان میں سے ایک کو ادا کرنا ہوتا۔ یا جس طرح یہ قول باری ہے (یامعشر الجن والانس الم یا تکم رسل منکم…
Read the full tafseer →112۔ مچھلی کو بھول جانے کا قصہ اور اس میں درس عبرت :۔
سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے خادم دونوں اس مچھلی کو بھول گئے جس کو وہ بھون کر علامت کے طور پر اپنے ساتھ لائے تھے کہ جس جگہ یہ زندہ ہوجائے گی اسی مقام پر وہ ہستی موجود ہوگی جس سے ملنے کیلئے آپ یہ سفر کررہے تھے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر عالم غیب نہیں ہوتے۔ ورنہ نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی کو علامت کی ضرورت ہوتی اور نہ ہی بعد میں اس کے بھولنے کا سوال پیدا ہوتا۔ مگر افسوس کہ قرآن وسنت کی ایسی بیشمار صاف وصریح نصوص کے باوجود اہل بدعت کا کہنا ہے کہ پیغمبر عالم غیب ہوتے ہیں۔ بلکہ اس سے بڑھ کر ان لوگوں کا یہ بھی کہنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کا قصہ اور کئی نصیحتیں
تشریح : اس قصہ کا ذکر ایک تو اس لیے کیا گیا کہ اہل عرب کے آنحضرت ﷺ سے تین سوالوں میں سے دوسرے کا جواب یہ تھا۔ پھر یہ کہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا اس کام کے کرنے کے لیے اللہ چاہے کسی کو بھی وسیلہ بنا دے۔
تیسرے یہ کہ ایک دینی اور اخلاقی قانون واضح کردیا گیا کہ غلطی چاہے عام انسان سے ہو یا نبی سے ہو اللہ اس کی پکڑ ضرور کرتا ہے۔ یہاں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کبھی بھی اپنی بڑائی کا کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے۔ ہوا اس طرح کہ کسی اجتماع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
(رکوع نمبر 9)
اسرارومعارف
جہاں تک ان لوگوں کے متکبرانہ رویے کا تعلق ہے تو وہ ایسا ہے کہ اگر کسی مقبول بارگاہ یعنی نبی اور رسول سے بھی کوئی کلمہ غیر ارادی طور پر بھی نکل جائے تو اس پر بھی تنبیہ کی جاتی ہے اور انہیں تعلیم فرمانے کے لیے آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے پہلے گذر چکا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کل جواب دوں گا تو پندہ روز وحی نہ آئی اور کفار نے بہت تمسخر اڑایا پھر تعلیم فرمایا گیا کہ انشاء اللہ فرمایا کیجئے ایسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) سے جو الوالعزم رسول اور کلیم اللہ تھے ایک چھوٹی سی بات صادر ہوئی تو انہیں تعلیم فرمانے کے لیے ایک پوری آزمائش سے گذارا گیا ، اگر مقبولان بارگاہ سے غیر ارادی طور…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی اس سے غافل ہوگئے8 حضرت ابی بن کعب کے مذکورہ بالا روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ اور یوشع چلتے چلیت ایک چٹان پر پہنچے، وہاں انہیں نیند آنے لگی اور وہ سو گئے اسی اثناء میں وہ مچھلی یکایک تڑپی اور ٹوکری سے نکل کر اس طرح سمندر میں چلی گی جیسے کوئی سرنگ لگی ہو جہاں مچھلی گری وہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی کو چلنے سے روک دیا اور وہ ایک طشت کی طرح بن گیا حضرت یوشع نے یہ منظر دیکھا مگر جب حضرت موسیٰ بیدار ہوئے تو وہ انہیں بتانا بھول گئے چناچہ انہوں نے آگے سفر شروع کیا اور ایک رات دن چلتے رہے۔ (ابن کثیر) بعض آثار میں ہے کہ یہ واقعہ توراۃ ملنے کے بعد پیش آیا۔
Read the full tafseer →(18:61) مجمع بینہما۔ ان دونوں کا جائے اجتماع۔ ان دونوں کا سنگھم۔ ان دونوں دریائوں کے اتصال کی جگہ۔ ھما ضمیر تثنیہ مؤنث غائب البحرین کے لئے ہے۔ حرتھما۔ میں ضمیر تثنیہ مؤنث حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے خادم کے لئے ہے۔ ان دونوں کی مچھلی۔ سربا۔ السرب۔ ( نصر) اس کے اصل معنی نشیب کی طرف جانے کے ہیں (اور اسم کے طور پر) نشیبی جگہ کو بھی سرب کہتے ہیں۔ سرب (نصر) انسراب (انفعال) ایک ہی معنی میں آتے ہیں۔ اور بولتے ہیں انسربت الحیۃ الی جحرھا سانپ اپنے بل میں اتر گیا۔
فاتخذ سبی کہ فی البحر سربا۔ اس نے سرنگ بناتے ہوئے دریا میں اپنی راہ پکڑی۔ یعنی وہ دریا میں اتر گئی جیسے کوئی جانور سرنگ میں نیچے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
لغات القرآن آیت نمبر 60 تا 64
فتی نوجوان، شاگرد۔ لا ابرح میں ہرگز نہ چھوڑوں گا۔ حتی ابلغ جب تک پہنچ نہ جاؤں۔ مجمع البحرین دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ۔ حقب (احقاب) طویل مدت۔ بلغا وہ دونوں پہنچے۔ حوث مچھلی۔ جاوزا دونوں گذر گئے۔ السخرۃ چٹان، پتھر نبغ ہم تلاش کر رہے ہیں۔ ارتدا وہ دونوں لوٹے۔ اثار نشان قدم۔ قصص ڈھونڈنا، تلاش کرنا۔
تشریح : آیت نمبر 60 تا 64
چونکہ نبی اور رسول اللہ کے بندے اور اللہ کے نمئاندے ہوتے ہیں اس لئے ان کی تعلیم و تربیت اور عرفت براہ راست اللہ کی طرف سے کی جاتی ہے تاکہ ان کی زندگی کا ہر عمل دوسروں کے لئے مثال، نمونہ اور اسوہ بن جائے۔ اللہ کے تمام نبی اور رسول گناہوں سے معصوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کی ملاقات کا ذکر
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں وعظ فرما رہے تھے۔ کہ ایک شخص نے پوچھا :” سب میں زیادہ عالم کون ہے “۔ آپ نے فرمایا :” میں “۔ یہ بات خدا کو ناگوار معلوم وہئی کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ تم سے بھی زیادہ عالم ہے ، جو مجمع البحرین کے موقع پر ملے گا پھر موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے۔ فرمایا :” اپنے تھیلے میں رکھ لو پھر جہاں وہ مچھلی گم جاوے وہ وہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–75
[23] حدیث میں یوں آیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کوئی آپ سے زیادہ بھی علم رکھتا ہے ؟ فرمایا میں نہیں جانتا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہی سب سے بڑے عالم ہیں۔ اس پر وحی آئی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں ملاقات ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) !
(ف 1) حضور ﷺ سے قبل یہودیوں اور عیسائیوں میں جن مباحث اور قصص کا چرچا تھا ، ان میں ایک بحث یہ بھی تھی ، کہ اصحاب کہف کون تھے ، موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ کیونکر ہے ، اور ذوالقرنین کے حالات کیا ہیں ؟ اس لئے ان کو حضور ﷺ سے بھی ان مسائل کے متفق پوچھنا ضروری ہے تھا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے علم کے لئے ان قصوں کی حقیقت بیان فرمائی ، اور نکات ومعارف کی جانب اشارہ فرمایا جو ان قصے کے ضمن میں پنہاں ہیں اصحاب کہف کے قصہ میں یہ بتلایا کہ خدا پرستوں کو خدا کیونکر کامیاب وکامران فرماتا ہے ، اور کیونکر باطل پرستوں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے…
Read the full tafseer →-6 1 پھر جب وہ دونوں کے دونوں یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت یوشع (علیہ السلام) دو دریائوں کے ملنے کی جگہ پہنچے تو وہ اپنی مچھلی وہاں بھول گئے اور اس مچھلی نے زندہ ہو کر دریا میں اپنا راستہ لیا اور سرنگ بناتی ہوئی چلی گئی۔ یعنی مجمع البحرین پر پہنچ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک پتھر پر سر رکھ کر سو گئے حضرت یوشع وضو کرنے لگے انہوں نے دیکھا کہ وہ مچھلی جس کے وہ محافظ تھے اور اس کی حفاظت کو معمولی بات سمجھتے تھے وہ زندہ ہو کر پانی کو پھاڑتی ہوئی دریا میں گھس گئی اور اس کے جانے سے پانی میں ایک طاق سا بن گیا خواہ وہ مچھلی کے جانے کا راستہ کھلا رہ گیا ہو یا مل گیا ہو حضرت یوشع (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
ف 5۔ وجہ اس سفر کی یہ ہوئی تھی کہ ایک بار موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل میں وعظ فرمایا تو کسی نے پوچھا کہ اس وقت آدمیوں میں سب سے بڑا عالم کون شخص ہے۔ آپ نے فرمایا میں۔ مطلب یہ تھا کہ ان علوم میں کہ جن کو قرب الی اللہ کی تحصیل میں دخل ہے میرے برابر کوئی نہیں۔ اور یہ فرمانا صحیح تھا، لیکن چونکہ ظاہرا لفظ مطلق تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ آپ کو احتیاط فی الکلام کی تعلیم دی جائے، ارشاد ہوا کہ مجمع البحرین میں ایک بندہ ہمارا تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے، مطلب یہ تھا کہ بعض علوم میں وہ زیادہ ہے، گو ان علوم کو قرب الہی میں دخل نہہو، لیکن اس بناء پر جواب میں مطلقا تو اپنے کو اعلم نہ…
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) ابھی اصل جگہ نہیں پہنچے تھے کہ آپ کھانے کے لئے بےقرار ہوگئے :
66۔ یہ راستہ جو دونوں دوستوں نے طے کرنا شروع کیا تھا کتنے دنوں تک چلنے کے بعد طے ہوا قرآن کریم نے اس کو زائد از مقصد سمجھتے ہوئے بیان نہیں کیا ہاں اتنا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کئی دنوں پر مشتمل تھا اور چونکہ دریا کے کنارے کنارے تھا اس لئے دونوں ساتھی مچھلی کا شکار کرتے ، اس کو پکڑتے اور کھاتے چلے جا رہے تھے ، راستہ میں جب مچھلی پکڑی ضرورت کے مطابق پکائی اور باقی کو اس طرح ٹوکری میں رکھ لیا کہ ضرورت کے وقت پھر اس کو استعمال کے لئے پکا لیا جائے گا کسی جگہ آرام کے لئے بیٹھے خواہ اس جگہ جہاں سے مچھلی شکار کرکے پکائی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
Precedence of Sayyidna Musa (علیہ السلام) over Al-Khadir (علیہ السلام) ، his up-bringing and miracles
In the next verse, it was said:
فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا
So, when they reached the meeting point of the two seas, they forgot their fish and it made its way into the sea as in a tunnel- 61.
Before we explain the nature of the extraordinary happening there, it is appropriate to first refer to the distinct position bestowed upon Sayyidna Musa 1 in the comity of prophets. This has been mentioned explicitly in the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
57. Though this story was told in answer to the question of the disbelievers, it has been used to impress a very important truth on the minds of both the disbelievers and the believers. It is this: those people who draw their conclusions only from the seeming aspects of events, make a very serious error in their deductions, for they only see what is apparent and do not go deep into the divine wisdom that underlies them. When they daily see the prosperity of the tyrants and the afflictions of the innocent people, the affluence of the disobedient people and the indigence of the obedient people,…
Read the full tafseer →