Al-Kahf 18:60

Al-Kahf · from ayah 60

18:60

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤی اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا ۟وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِفَتٰٮهُ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤى اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَيۡنِ اَوۡ اَمۡضِىَ حُقُبًا

اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention] when Moses said to his servant, "I will not cease [traveling] until I reach the junction of the two seas or continue for a long period."

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 9 of surah · Ruku 21 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:60

(ذرا اِن کو وہ قصہ سناؤ جو موسیٰؑ کو پیش آیا تھا) جبکہ موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا تھا کہ "میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں، ورنہ میں ایک زمانہ دراز تک چلتا ہی رہوں گا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب کہ موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ میں تو چلتا ہی رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچوں، خواه مجھے سالہا سال چلنا پڑے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اس وقت کا ذکر سنو) جب موسیٰ نے اپنے نوجوان (شاگرد) سے کہا تھا کہ : میں اس وقت تک اپنا سفر جاری رکھوں گا جب تک دو سمندروں کے سنگھم پر نہ پہنچ جاؤں، ورنہ برسوں چلتا رہوں گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا میں باز نہ رہوں گا جب تک وہاں نہ پہنچوں جہاں دو سمندر ملے ہیں یا قرنوں (مدتوں تک) چلا جاؤں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (وہ واقعہ بھی یاد کیجئے) جب موسٰی ؑ نے اپنے (جواں سال ساتھی اور) خادم (یوشع بن نون علیہ السلام) سے کہا: میں (پیچھے) نہیں ہٹ سکتا یہاں تک کہ میں دو دریاؤں کے سنگم کی جگہ تک پہنچ جاؤں یا مدتوں چلتا رہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا میں نہیں ہٹوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر پہنچ جاؤں، یا مدتوں چلتا رہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (وہ قصہ بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا : میں تو چلتا ہی جاؤں گا تاآنکہ دو دریاؤں کے سنگھم پر نہ پہنچ جاؤں یا پھر میں مدتوں چلتا ہی رہوں گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یاد کرو، جب کہ موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ میں چلتا رہوں گا یہاں تک کہ یا تو دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر پہنچ جاؤں یا اسی طرح سال ہا سال چلتا ہی رہوں گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (ان کو وہ بھی سنا دو کہ) جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا کہ میں اپنا سفر ختم نہیں کروں گا یہاں تک کہ میں پہنچ جاؤں دونوں دریاؤں کے سنگم پر، یا چلتا رہوں گا برسہا برس تک،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ ؑ نے اپنے خادم سے فرمایا کہ میں برابر چلتا رہوں گا تاآنکہ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں۔ یا (یوں ہی) سالہا سال تک چلا کروں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے نوجوان (ساتھی) سے کہا کہ میں (چلنا) نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر پہنچ جاؤں یا میں برسوں چلتا ہی رہوں گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا جب تک میں دو دریائوں کے ملنے کی جگہ تک نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں، خواہ مدتوں چلتا رہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(And recount to them the story of Moses) when Moses said to his servant: "I will journey on until I reach the point where the two rivers meet, though I may march on for ages."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Recall) when Musa said to his young man, :I shall not give up until I reach the meeting point of the two seas, or else I shall go on traveling for years.

— Muhammad Taqi Usmani

(Recall) when Musa said to his young man, :I shall not give up until I reach the meeting point of the two seas, or else I shall go on traveling for years.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) when Musa said to his boy-servant: "I will not give up until I reach the junction of the two seas or a Huqub passes."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when Moses said unto his servant: I will not give up until I reach the point where the two rivers meet, though I march on for ages.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention] when Moses said to his servant, "I will not cease [traveling] until I reach the junction of the two seas or continue for a long period."

— Saheeh International

(Consider) when Moses said to his young companion, "I shall continue travelling until I reach the junction of the two seas or have travelled for many years".

— Muhammad Sarwar

And when Musa said to his servant: I will not cease until I reach the junction of the two rivers or I will go on for years.

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time Musa said unto his page: I shall not cease until I reach the confluence of the two seas, or I shall go on for ages.

— Abdul Majid Daryabadi

Behold, Moses said to his attendant, "I will not give up until I reach the junction of the two seas or (until) I spend years and years in travel."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:60

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 60–65

حضرت موسیٰ ؑ اور اللہ کا ایک بندہ حضرت موسیٰ ؑ سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کا ایک بندہ دو دریا ملنے کی جگہ ہے اس کے پاس وہ علم ہے جو تمہیں حاصل نہیں آپ نے اسی وقت ان سے ملاقات کرنے کی ٹھان لی اب اپنے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ میں تو پہنچے بغیر دم نہ لوں گا۔ کہتے ہیں یہ دو سمندر ایک تو بحیرہ فارس مشرقی اور دوسرا بحیرہ روم مغربی ہے۔ یہ جگہ طنجہ کے پاس مغرب کے شہروں کے آخر میں ہے واللہ اعلم۔ تو فرماتے ہیں کہ گو مجھے قرنوں تک چلنا پڑے کوئی حرج نہیں۔ کہتے ہیں کہ قیس کے لغت میں برس کو حقت کعتے ہیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں۔ حقب سے مراد اسی برس ہیں مجاہد ؒ ستر برس کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ زمانہ بتلاتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 60–63

سورة الْكَهْف 57 اس مرحلے پر یہ قصہ سنانے سے مقصود کفار اور مومنین دونوں کو ایک اہم حقیقت پر متنبہ کرنا ہے اور وہ یہ ہے کہ ظاہر بین نگاہ دنیا میں بظاہر جو کچھ ہوتے دیکھتی ہے اس سے بالکل غلط نتائج اخذ کرلیتی ہے کیونکہ اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی وہ مصلحتیں نہیں ہوتیں جنہیں ملحوظ رکھ کر وہ کام کرتا ہے۔ ظالموں کا پھلنا پھولنا اور بےگناہوں کا تکلیفوں میں مبتلا ہونا۔ نافرمانوں پر انعامات کی بارش اور فرمانبرداروں پر مصائب کا ہجوم، بدکاروں کا عیش اور نیکو کاروں کی خستہ حالی، یہ وہ مناظر ہیں جو آئے دن انسانوں کے سامنے آتے رہتے ہیں، اور محض اس لیے کہ لوگ ان کے کنہ کو نہیں سمجھتے، ان سے عام طور پر ذہنوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ ؑ نے اپنے خادم سے (جن کا نام یوشع تھا رواہ البخاری) فرمایا کہ میں (اس سفر میں) برابر چلا جاؤں گا یہاں تک کہ اس موقع پر پہنچ جاؤں جہاں دو دریا آپس میں ملے ہیں یا یوں ہی زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا (اور وجہ اس سفر کی یہ ہوئی تھی کہ ایک بار حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل میں وعظ فرمایا تو کسی نے پوچھا کہ اس وقت آدمیوں میں سب سے بڑا عالم کون شخص ہے ؟ آپ نے فرمایا میں ! مطلب یہ تھا کہ ان علوم میں کہ جن کو قرب الی اللہ کی تحصیل میں دخل ہے میرے برابر کوئی نہیں اور یہ فرمانا صحیح تھا اس لئے کہ آپ نبی اولو العزم تھے آپ کے برابر دوسرے کو یہ علم نہیں تھا لیکن ظاہراً…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 60 تا 82:۔ صبر کی عقائدی بنیادیں : پیچھے نبی کریم ﷺ کو اعدائے حق اور مستکبرین کے مقابل میں جس صبر و استقامت کی تلقین کی گئی ہے آگے کی آیات میں اسی مضمون کی تکمیل کردی گئی ہے۔ گویا سورة اس مقام پر اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی۔ صبر کے متعلق یہ بات یاد رکھیے کہ یہ کوئی نفی چیز نہیں بلکہ ایک مثبت حقیقت ہے۔ اسی پر تمام حق کے قیا و بقا کا انحصار ہے۔ جس کے اندر یہ صف راسخ نہ ہو وہ نہ تو خدا کا حق ادا کرسکتا ہے نہ بندوں کا۔ اس صفت کو راسخ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی عقائدی بنیادیں دل کے اندر راسخ ہوں۔ جب تک یہ بنیادیں اچھی طرح راسخ نہ ہوں صبر کو اوپر سے چپکایا نہیں جاسکتا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 60–62

60۔ 1 نوجوان سے مراد حضرت یوشع بن نون ؑ ہیں جو موسیٰ ؑ کے وفات کے بعد ان کے جانشین بنے۔ 60۔ 2 اس مقام کی تعیین کسی یقینی ذریعہ سے نہیں ہوسکی تاہم قیاس کیا جاتا ہے کہ اس سے مراد صحرائے سینا کا وہ جنوبی راستہ ہے جہاں خلیج عقبہ اور خلیج سویز دونوں آکر ملتے ہیں اور بحر احمر میں ضم ہوجاتے ہیں۔ دوسرے مقامات جن کا ذکر مفسرین نے کیا ہے ان پر سرے سے مجمع البحرین کی تعبیر ہی صادق نہیں آتی۔ 60۔ 3 حقب، کے ایک معنی 70 یا 80 سال اور دوسرے معنی غیر معین مدت کے ہیں یہاں یہی دوسرا معنی مراد ہے یعنی جب تک میں مجمع البحرین (جہاں دونوں سمندر ملتے ہیں) نہیں پہنچ جاؤں گا، چلتا رہوں گا اور سفر جاری رکھوں گا، چاہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

33: یہاں سے آیت نمبر 82 تک اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کا وہ واقعہ بیان فرمایا ہے جو حضرت خضر ؑ کے ساتھ پیش آیا۔ حضور سرور دو عالم ﷺ نے اس واقعے کی تفصیل ایک طویل حدیث میں بیان فرمائی ہے جو صحیح بخاری میں کئی سندوں سے منقول ہے۔ اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ ؑ سے کسی نے یہ سوال کیا کہ اس وقت روئے زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے ؟ چونکہ ہر پیغمبر اپنے وقت میں دین کا سب سے بڑا عالم ہوتا ہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ ؑ نے جواب میں یہی فرما دیا ہے کہ میں ہی سب سے بڑا عالم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں آئی اور حضرت موسیٰ ؑ کو یہ ہدایت دی گئی کہ اس سوال کا صحیح جواب یہ تھا کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 331 ایک نظر میں اس سبق میں حضرت موسیٰ السلام کی سیرت کا جو گوشتہ بیان ہوا ہے وہ صرف اسی سورت کے اسی مقام پر مذکور ہے۔ قرآن میں کسی دوسری جگہ اس کا ذکر نہیں ہے۔ قرآن کریم نے اس مقام کا بھی تعین نہیں فرمایا صرف یہ کہا ہے کہ وہ مجمع البحرین ہے۔ نیز اس واقعہ کی تاریخ بھی متعین نہیں ہے کہ آیا تو کہاں اور کس وقت پیش آیا بیت المقدس پر حملے کے وقت سے پہلے آیا یا بعد میں۔ جب موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ بیت المقدس میں داخل ہوں تو انہوں نے داخل ہونے سے انکار کردیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہاں جبار قوم بستی ہے اور قابض ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ واقعہ اس دور میں پیش آیا جب یہ صحرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 اوپر ذکر ہوا تھا کہ مغرور کافر مفلس مسلمانوں کو حقیر سمجھ کر آنحضرت ﷺ سے کہتے تھے کہ ان کو پاس نہ بٹھائیں تو ہم بیٹھیں۔ اسی پر دو شخصوں کی کہاوت سنائی، پھر دنیا کی مثال اور ابلیس کا کبرو غرور سے خراب ہونا بیان کیا۔ اب موسیٰ اور خضر کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ اللہ والے اگر سب سے افضل اور بہتر بھی ہوں تو اپنے آپ کو بہتر نہیں کہتے۔ اور کبھی بھول چوک سے کہہ گزریں تو حق تعالیٰ کی طرف سے تادیب و تنبیہ کی جاتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو نہایت موثر اور بیش بہا نصیحتیں فرما رہے تھے ایک شخص نے پوچھا۔ اے موسیٰ ! کیا روئے زمین پر آپ اپنے سے بڑا عالم کسی کو پاتے ہیں ؟ آپ نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

ان دو رکوعوں میں حضرت موسیٰ کے ایک سفر کا ذکر ہے۔ اس واقعہ کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے اور قدیم اسرائیلی روایات میں بھی جن میں سے بہت سی روایات قرآن کے بیان سے مطابقت بھی رکھتی ہیں۔ بہرحال ان روایات سے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں ان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ آپ فلاں جگہ جائیں وہاں پر آپ کو ہمارا ایک صاحب علم بندہ ملے گا آپ کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہ کر اس کے علم سے استفادہ کریں۔ ممکن ہے یہ حضرت موسیٰ کی نبوت کا ابتدائی زمانہ ہو اور اس طریقے سے آپ کی تربیت مقصود ہو جس طرح بعض روایات سے ثابت ہے کہ حضور کی تربیت کے لیے ایک فرشتہ تین سال تک مسلسل آپ کے ساتھ رہا۔ اس واقعہ میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

58 سیدنا موسیٰ کا اپنے آپ کو سب سے بڑا عالم قرار دینا :۔ یہاں سے اب قصہ موسیٰ و خضر کا آغاز ہو رہا ہے جو قریش مکہ کا دوسرا سوال تھا۔ اس کی تشریح کے لیے بخاری شریف کی درجہ ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے۔ 1۔ اللہ کی طرف سے اس کے بندہ (خضر) سے کسب فیض کا حکم :۔ سیدنا سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کو کہا کہ نوف بکالی (کعب احبار کا بیٹا) کہتا ہے کہ جو موسیٰ خضر سے ملنے گئے تھے وہ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہ تھے۔ (بلکہ وہ موسیٰ بن افراثیم بن یوسف تھے) تو ابن عباس ؓ کہنے لگے : وہ اللہ کا دشمن جھوٹ بکتا ہے میں نے خود رسول اللہ سے سنا : آپ نے فرمایا ایک دفعہ موسیٰ نے کھڑے ہو کر خطبہ سنایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

91۔ (جہاں کا پتہ مجھے ایک برگزیدہ بندۂ حق سے ملاقات کا بتایا گیا ہے) توریت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس سفر کا کوئی ذکر نہیں۔ اور اسی سے ظاہر ہے کہ توریت موجودہ ومروجہ بہ حیثیت تاریخ و تذکرہ کے بھی نامکمل وناقص ہے۔ (آیت) ” لفتہ “۔ فتی کے لفظی معنی نوجوان کے ہیں اور مجازی معنی غلام یا خادم کے۔ الفتی الطری من الشباب والانثی فتاۃ ویکنی بھما عن العبد والامۃ (راغب) والعرب تسمی الخادم فتی لان الخدم اکثر مایکونون فی سن الفتوۃ (روح) قیل للخادم فتی علی جھۃ حسن الادب (بحر) مراد حضرت یشوع بن نون سے ہے۔ حدیث بخاری میں یہ تصریح موجود ہے اور مفسرین بھی تقریبا سب اس پر متفق ہیں۔ حضرت یشوع حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 60–65

آیت نمبر 60 تا 65 اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کہ عمران کے بیٹے ہیں اپنے خادم یوشع بن نون سے جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت کے ساتھ ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) سے تحصیل علم بھی کرتے تھے کہا کہ میں چلتا ہی رہوں گا سفر موقوف نہ کروں گا تاآنکہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں یعنی مشرقی جانب سے بحرروم اور بحر فارس کے ملنے کی جگہ اور اگر میں منزل مقصود کو نہ پاؤں تو ایک وقت یعنی زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا چناچہ جب یہ دونوں حضرات دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو یہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے یوشع روانگی کے وقت مچھلی اٹھانا بھول گئے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا میں (اس سفر میں) برابر چلا جاؤں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے باپ کا نام عمران تھا ‘ صحیح حدیث میں یہی آیا ہے۔ فتیٰ سے مراد ہیں یوشع بن نون بن افراثیم بن یوسف (علیہ السلام) (حضرت مفسر (رح) نے فرمایا) میں کہتا ہوں شاید یوشع کے باپ نون ‘ افراثیم کے نسل میں سے تھے (بیٹے نہیں تھے) کیونکہ افراثیم کا زمانہ نون کے زمانہ سے بہت پہلے تھا۔ لاَ اَبْرَحُیعنی برابر مسلسل چلتا رہوں گا۔ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِدو سمندروں کا سنگم یعنی مشرقی جانب خلیج فارس و بحر روم کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 60–82

(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰي لِفَتٰىهُ۔۔ : یہاں سے تیسرا قصہ شروع ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ خضر کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے گئے۔ اگرچہ یہ اپنی جگہ ایک مستقل قصہ ہے، تاہم اس میں اس بات کی تائید بھی ہے جو پہلے دونوں قصوں میں گزری۔ اوپر ذکر فرمایا کہ کافر اپنے مال و جاہ پر مغرور رہتے اور مسلمانوں کو ذلیل سمجھ کر آپ ﷺ سے کہتے کہ اگر ان کو اپنے پاس نہ بٹھاؤ تو ہم آپ کے پاس بیٹھیں۔ اس پر دو بھائیوں کا قصہ بیان فرمایا اور پھر دنیا کی مثال بیان فرمائی اور بتایا کہ ابلیس غرور کے سبب ہی ہلاک ہوا اور اب خضر اور موسیٰ ؑ کا واقعہ بیان فرمایا کہ دیکھو موسیٰ ؑ جیسے جلیل القدر اولو العزم پیغمبر اتنے زیادہ علم و عمل کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین اوا مضی حقبا۔ ” اور یاد کرو جب کہا موسیٰ نے اپنے نوجوان (ساتھی) کو کہ میں چلتا رہوں گا یہاں تک کہ پہنچوں جہاں دو دریا ملتے ہیں (چلتے چلتے) گزار دوں گا مدت دراز۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح۔ جمہورعلماء اور اہل تاریخ کا قول یہ ہے کہ اس موسیٰ سے حضرت موسیٰ بن عمران مراد ہیں جس کا قرآن میں ذکر ہے۔ قرآن میں ان کے علاوہ کسی موسیٰ کا ذکر نہیں ہے۔ ایک فرقہ نے کہا جن میں نوف بکالی بھی ہے کہ موسیٰ بن عمران نہیں ہے۔ یہ موسیٰ بن منشا بن یوسف بن یعقوب ہے۔ یہ موسیٰ بن عمران سے پہلے نبی تھے۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن عساکر نے ابن سمعان کے طریق سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اس آیت کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ (فرمایا) (آیت) ” واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح “ یعنی میں ہمیشہ رہوں گا (آیت) ” حتی ابلغ مجمع البحرین “ یعنی دو دریاوں کے ملنے کی جگہ (آیت) ” اوامضی حقبا “ یا میں ستر سال تک چلتا رہوں گا (آیت) ” فلما بلغا مجع بینہما “ یعنی دو دریاوں کے درمیان پہنچے (آیت) ” نسیا حوتھما “ یعنی مچھلی ان دونوں کے درمیان سے نکل گئی اور گم ہوگئی اور مچھلی نمک لگی ہوئی تھی جو ان کے پاس تھی اور وہ اس کو اٹھائے ہوئے تھے وہ ٹوکری سے کود کر پانی میں جاپڑی (آیت) ” فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا “ شیطان نے موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذْ : اور جب ] [قَالَ : کہا ] [مُوْسٰي : موسٰی (علیہ السلام) نے ] [لِفَتٰىهُ : اپنے نوجوان سے ] [لَآ اَبْرَحُ : میں نہیں چھوڑوں گا (یہ سفر)] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [اَبْلُغَ : میں پہنچوں ] [مَجْـمَعَ الْبَحْرَيْنِ : دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر ] [اَوْ : یا ] [اَمْضِيَ : یہاں تک کہ میں گزرتا ہوں ] [حُقُبًا : مدتوں ] ح ق ب [حَقَبًا : (س) ] سال کا بغیر بارش والا ہونا۔ حُقْبٌ ج حُقُبٌ۔ جمع الجمع اَحْقَابٌ۔ اسّی سال یا اس سے زائد کا زمانہ۔ عرصہ دراز۔ زیر مطالعہ آیت۔ 60 ۔ لٰبِثِیْنَ فِیْھَا اَحْقَابًا (ٹھہرنے والے ہیں اس میں مدتوں) 78:23 ۔ ترکیب : (آیت۔ 60 ۔ حَتّٰی پر عطف ہونے کی وجہ سے فعل…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 60–78

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 60–74

قصہ حضرت موسیٰ باخضر (علیہما السلام) قال اللہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح .... الیٰ .... لقد جئت شیئا نکرا۔ (ربط) چونکہ قریش نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لیے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق جو سوالات کیے تھے وہ یہود کے بتلانے اور سمجھانے سے کئے تھے کہ اگر آنحضرت ﷺ ان باتوں کا جواب دے دیں تو جانو کہ وہ نبی ہیں ورنہ نہیں اس لئے یہود کے سنانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم کریں کہ نبی کے لیے یہ شرط نہیں کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہوں اور وہ تمام اخبار اور قصص کا عالم ہو بلکہ نبوت کے لیے وحی اور علوم ہدایت کی معرفت ضروری ہے۔ چناچہ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

64:۔ جواب شبہہ ثالثہ :۔ یہ تیسرے شب ہے کا جواب ہے۔ شبہہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ وخضر (علیہما السلام) کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اگرچہ غیب داں نہ تھے لیکن حضرت خضر (علیہ السلام) تو غیب داں تھے کیونکہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو امور غیبیہ بتائے تھے۔ اس شبہہ کا جواب واقعہ کے آخر میں دیا ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے خود اعتراف کیا تھا کہ ان امور کا ان کو کوئی علم نہیں تھا۔ انہیں ان باتوں کا علم اللہ تعالیٰ کے بتانے سے حاصل ہوا اور انہوں نے جو کچھ بھی کیا اللہ کے حکم سے کیا تھا ” وما فعلتہ عن امری “۔” لفتاہ “ فتی (نوجوان) سے یوشع بن نون مراد ہے جو حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–64

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان نافرمانوں کا ذکر کیا جو قرآن کریم کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں اور حق کو گرانے کے لیے باطل کو ہمراہ لے کر جھگڑا کرتے ہیں فرمایا یہ محض اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو جلدی ہلاک نہیں کرتا بلکہ اپنے قانون کے مطابق مہلت دیتا ہے ، اللہ نے ہلاکت کا سبب ظلم و زیادتی کو قرار دیا ، قرآن پاک میں سابقہ اقوام ، عاد ، ثمودم ، قوم فرعون ، قوم لوط ، اہل مدین ، وغیرہ کا حال بھی مذکور ہے جب انہوں نے کفر وشرک کی انتہا کردی ظلم و زیادتی کو مستقل وطیرہ بنا لیا تو پھر اللہ کی گرفت آئی اور نافرمان لوگ صفحہ ہستی سے ناپید کردیے گئے گذشتہ آیات میں باغ والے مغرور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰي لِفَتٰىہُ لَآ اَبْرَحُ حَتّٰٓي اَبْلُغَ مَجْـمَعَ الْبَحْرَيْنِ اَوْ اَمْضِيَ حُقُبًا۝ 60 فتی الفَتَى الطّريُّ من الشّباب، والأنثی فَتَاةٌ ، والمصدر فَتَاءٌ ، ويكنّى بهما عن العبد والأمة . قال تعالی: تُراوِدُ فَتاها عَنْ نَفْسِهِ [يوسف/ 30] (ت ی ) الفتیٰ کے معنی نوجوان کے ہیں اس کی مونث فتاۃ اور مصدر فتاء ہے بعدہ کنایہ کے طور پر یہ دونوں لفظ ( فتی اور فتاۃ ) غلام اور لونڈی کے معنی میں استعمال ہونے لگے ہیں ۔ قرآن میں ہے : تُراوِدُ فَتاها عَنْ نَفْسِهِ [يوسف/ 30] اپنے ٖغلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی تھی ۔ جس طرح نوجوان آدمی کو فتی کہا جاتا ہے بَرِحَ وما بَرِحَ : ثبت في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 60–68

1 ؎ جوان سے مراد خادم ہے جو غالباً یوشع بن نون تھے۔ 12 منہ ترکیب : اذ قال ظرف ہے اذکر محذوف کا۔ لا ابرح اس کی خبر اسیر محذوف ہے لدلالۃ حالہ وھو السفر اور ممکن ہے کہ اصل کلام یوں ہو لایبرح مسیری حتیٰ ابلغ تب حتی ابلغ خبر ہوگا پس مسیر مضاف کو حذف کر کے مصاف الیہ ی متکلم کو اس کی جگہ قائم کردیا لا ابرح تامہ بھی ہوسکتا ہے پھر خبر کی ضرورت نہیں مجمع بینہما ظرف کی طرف مجمع کو علی الاتساع مضاف کردیا گیا۔ ان اذکرہ بدل ہے ضمیر منصوب سے جو انسانیہ میں ہے۔ اے ماانسانی ذکرہ۔ الا الشیطان خبرا بالضم العلم بالشیء یہ تمیز ہے یا مصدر ہے لم تحط کا کس لیے کہ لم تحط بمعنی لم تخیرہ ہے۔ تفسیر : یہاں سے پھر مسئلہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِفَـتٰـہُ لَآاَبْرَحُ حَیّٰٓ اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا (الکہف : 60) (اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا تھا میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک دونوں دریائوں کے سنگم پر نہ پہنچ جاؤں یا میں مدتوں چلتا رہوں گا۔ ) آیت کا پس منظر یہاں سے ان واقعات کا بیان شروع ہورہا ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کے درمیان پیش آئے جنھیں مسلسل قرآن کریم نے دو رکوعوں میں پیش فرمایا ہے۔ عوام میں ان واقعات کو قصہ موسیٰ و خضر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سابقہ آیات کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دعوت اس دور میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 60–63

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کے ذریعہ سے چند کاموں کے حوالے سے تکوینی امور کی حکمتیں بیان کی ہیں۔ تاکہ لوگ ان کو پیش نگاہ رکھ کر اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر صابر، شاکر رہیں بات پر ایمان لائیں۔ اس خطاب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک سفر کی روداد بیان کی ہے۔ جس میں ان کی ملاقات حضرت خضر (علیہ السلام) سے کروائی گئی تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے تکوینی امور کی حکمتوں سے کچھ نہ کچھ آگاہی حاصل ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر کا سبب بیان کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ نے فرمایا۔ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ اچانک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

موسیٰ ( علیہ السلام) اور خضر ( علیہ السلام) کا واقعہ : 60 : وَاِذْقَالَ مُوْسٰی لِفَتٰہُ (اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جوان کو کہا) اِذْ سے پہلے اُذْکر محذوف ہے۔ فتاہؔ سے یوشع بن نون مراد ہیں۔ نکتہ : یہاں فَتَاہ فرمایا کیونکہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت کرتے تھے اور ان کے ساتھ رہتے اور ان سے علم حاصل کرتے تھے۔ لَآ اَبْرَحُ (میں برابر چلا جائوں گا) نہ ہٹوں گا۔ دلالت کلام اور حال کی وجہ سے خبر کو حذف کردیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ وہ حالت سفر تھی اس لئے خبر کو ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ دوسرا اس لئے کہ انکا قول حَتّٰی اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ ایک غایت مقرر تھی جو مقصد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(60)” واذا قال موسیٰ لفتاہ لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین “ عام اہل علم کے نزدیک ان کے باپ کا نام موسیٰ بن عمران ہے اور بعض نے کہا کہ یہ موسیٰ بن میشا، یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خضر (علیہ السلام) کی تلاش میں سفر بخاری اور مسلم نے لکھا ہے سعید جبیر ؓ نے فرمایا میں نے حضرت ابن عباسی ؓ سے عرض کیا نوف بکالی کا خیال ہے کہ خضر والے موسیٰ بنی اسرائیل والے موسیٰ (علیہ السلام) نہ تھے ( دونوں الگ الگ تھے) فرمایا دشمن خدا جھوٹ کہتا ہے ہم سے ابی بن کعب نے بیان کیا کہ انہوں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ (ایک روز) موسیٰ بنی اسرائیل کے سامنے تقریر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 60–66

60۔ 66:۔ ان آیتوں میں مختصر طور پر قصہ شروع بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ اس زمانہ میں اے موسیٰ بڑا صاحب علم کون ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں ہوں اللہ تعالیٰ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ جواب پسند نہیں آیا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اس حکم کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خاص رفیق یوشع بن نون کو ساتھ لیکر خضر (علیہ السلام) کے ملنے کی غرض سے سفر کا ارادہ کیا 1 ؎۔ اب آگے وہی قصہ ہے جو ان آیتوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–73

آیت 59 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریععے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کردیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کر تتوں سے باز نہ آئے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے انجان بنا رہے اور اللہ عالم الغیوب کو اپنے اوپر نگران نہ سمجھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی۔۔۔ یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–60

ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

109۔ قصہ موسیٰ وخضر کی تذکیر و یاددہانی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی سنو اور سناؤ جبکہ یہ قصہ پیش آیا۔ کیونکہ اس قصے میں بھی عبرت و بصیرت کے بڑے بڑے درس پنہاں ہیں۔ مثلا یہ کہ پیغمبر کیلئے سب ہی علوم کا جاننا نہ ضروری ہوتا ہے اور نہ ہی ان کے منصب کا تقاضا۔ بلکہ پیغمبر کا منصب اور ان کا اصل امتیاز یہ ہوتا ہے کہ ہدایت سے متعلق علوم میں اس کو کمال حاصل ہو۔ رہ گئے وہ دوسرے علوم جن کا تعلق تکوینیات یا دوسرے تجرباتی امور سے ہوتا ہے ان میں غیر نبی کا علم نبی سے زیادہ ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ اس قصے سے ظاہر اور واضح ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نبی و رسول بلکہ اولوالعزم رسول ہونے کے باوجود حضرت خضر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 60–74

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کا قصہ اور کئی نصیحتیں تشریح : اس قصہ کا ذکر ایک تو اس لیے کیا گیا کہ اہل عرب کے آنحضرت ﷺ سے تین سوالوں میں سے دوسرے کا جواب یہ تھا۔ پھر یہ کہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا اس کام کے کرنے کے لیے اللہ چاہے کسی کو بھی وسیلہ بنا دے۔ تیسرے یہ کہ ایک دینی اور اخلاقی قانون واضح کردیا گیا کہ غلطی چاہے عام انسان سے ہو یا نبی سے ہو اللہ اس کی پکڑ ضرور کرتا ہے۔ یہاں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کبھی بھی اپنی بڑائی کا کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے۔ ہوا اس طرح کہ کسی اجتماع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 60–70

(رکوع نمبر 9) اسرارومعارف جہاں تک ان لوگوں کے متکبرانہ رویے کا تعلق ہے تو وہ ایسا ہے کہ اگر کسی مقبول بارگاہ یعنی نبی اور رسول سے بھی کوئی کلمہ غیر ارادی طور پر بھی نکل جائے تو اس پر بھی تنبیہ کی جاتی ہے اور انہیں تعلیم فرمانے کے لیے آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے پہلے گذر چکا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کل جواب دوں گا تو پندہ روز وحی نہ آئی اور کفار نے بہت تمسخر اڑایا پھر تعلیم فرمایا گیا کہ انشاء اللہ فرمایا کیجئے ایسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) سے جو الوالعزم رسول اور کلیم اللہ تھے ایک چھوٹی سی بات صادر ہوئی تو انہیں تعلیم فرمانے کے لیے ایک پوری آزمائش سے گذارا گیا ، اگر مقبولان بارگاہ سے غیر ارادی طور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یہاں موسیٰ سے مراد اللہ کے رسول حضرت موسیٰ بن عمران ہی ہیں۔ جیسا کہ صحیحین کی روایت میں حضرت ابی بن کعب نے اسے خود نبی ﷺ سے بیان کیا ہے۔ دو سمندروں سے مراد بعض مفسرین نے بحر فارس اور بحر روم ہی لئے ہیں لیکن دونوں ملتے نہیں ہیں۔ شاید ان کے ملنے کی جگہ سے وہ جگہ مراد ہو جہاں دونوں کا فاصلہ سے کم رہ جات ا ہے۔ بعض نے ان سے دجلہ و فرات اور بعض نے افریقا کے دو دریا مراد لئے ہیں۔ واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کے سفر کا سبب بعض روایات میں مذکور ہے کہ حضرت موسیٰ سے ایک خطبہ میں ایک سائل نے سوال کیا : کیا زمین پر تجھ سے زیادہ کوئی عالم بھی ہے تو اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے فرمایا :” نہیں “ اللہ تعالیٰ کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:60) فتہ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کا نوجوان ۔ اس کا خادم ۔ فتی کے معنی نوجوان کے ہیں مجازا غلام یا خادم کو بھی کہتے ہیں۔ لا ابرح۔ برح یبرح (سمع) براح وبرح مصدر۔۔ المکان او من المکان کسی جگہ سے ہٹنا۔ رکنا۔ زائل ہونا۔ لا ابرح ۔ مضارع منفی واحد متکلم۔ افعال ناقصہ میں سے ہے ما برح غنیا۔ وہ دولت مند رہا ۔ وہ اب تک دولت مند ہے۔ لا ابرح افعل ذلک۔ میں یہ کام برابر کرتا رہوں گا۔ لا ابرح حتی ابلغ میں برابر چلتا رہوں گا تا آنکہ پہنث جائوں۔ امضی حقبا۔ مضارع واحد متکلم مضی مصدر۔ ( باب نصر، ضرب) میں چلتا جائوں گا۔ اس کا عطف ابلغ پر ہے۔ حقبا۔ حقب زمانے کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع احقاب ہے۔ لبثین فیھا احقابا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 60–64

لغات القرآن آیت نمبر 60 تا 64 فتی نوجوان، شاگرد۔ لا ابرح میں ہرگز نہ چھوڑوں گا۔ حتی ابلغ جب تک پہنچ نہ جاؤں۔ مجمع البحرین دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ۔ حقب (احقاب) طویل مدت۔ بلغا وہ دونوں پہنچے۔ حوث مچھلی۔ جاوزا دونوں گذر گئے۔ السخرۃ چٹان، پتھر نبغ ہم تلاش کر رہے ہیں۔ ارتدا وہ دونوں لوٹے۔ اثار نشان قدم۔ قصص ڈھونڈنا، تلاش کرنا۔ تشریح : آیت نمبر 60 تا 64 چونکہ نبی اور رسول اللہ کے بندے اور اللہ کے نمئاندے ہوتے ہیں اس لئے ان کی تعلیم و تربیت اور عرفت براہ راست اللہ کی طرف سے کی جاتی ہے تاکہ ان کی زندگی کا ہر عمل دوسروں کے لئے مثال، نمونہ اور اسوہ بن جائے۔ اللہ کے تمام نبی اور رسول گناہوں سے معصوم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 60–65

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کی ملاقات کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں وعظ فرما رہے تھے۔ کہ ایک شخص نے پوچھا :” سب میں زیادہ عالم کون ہے “۔ آپ نے فرمایا :” میں “۔ یہ بات خدا کو ناگوار معلوم وہئی کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہ تم سے بھی زیادہ عالم ہے ، جو مجمع البحرین کے موقع پر ملے گا پھر موسٰی (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے۔ فرمایا :” اپنے تھیلے میں رکھ لو پھر جہاں وہ مچھلی گم جاوے وہ وہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–75

[23] حدیث میں یوں آیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کوئی آپ سے زیادہ بھی علم رکھتا ہے ؟ فرمایا میں نہیں جانتا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہی سب سے بڑے عالم ہیں۔ اس پر وحی آئی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں ملاقات ہوگی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–70

موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) ! (ف 1) حضور ﷺ سے قبل یہودیوں اور عیسائیوں میں جن مباحث اور قصص کا چرچا تھا ، ان میں ایک بحث یہ بھی تھی ، کہ اصحاب کہف کون تھے ، موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ کیونکر ہے ، اور ذوالقرنین کے حالات کیا ہیں ؟ اس لئے ان کو حضور ﷺ سے بھی ان مسائل کے متفق پوچھنا ضروری ہے تھا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے علم کے لئے ان قصوں کی حقیقت بیان فرمائی ، اور نکات ومعارف کی جانب اشارہ فرمایا جو ان قصے کے ضمن میں پنہاں ہیں اصحاب کہف کے قصہ میں یہ بتلایا کہ خدا پرستوں کو خدا کیونکر کامیاب وکامران فرماتا ہے ، اور کیونکر باطل پرستوں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-60 اوپر کی آیتوں میں کفار مکہ کے اس اعتراض کا جواب تھا کہ ہم غرباء کے ساتھ بیٹھ کر قرآن کریم سننے کو تیار نہیں ہیں اور چونکہ اس اعتراض کا منشا دولت پر غور اور تکبر تھا اس کی مناسبت سے دو بھائیوں کا ذکر فرمایا جس میں ایک کو اپنے باغوں پر اور اپنے حمایتوں پر گھمنڈ تھا پھر اس کے آگے ابلیس کی امانیت اور غرور وتکبر کا ذکر فرمایا۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جس میں اسی قسم کی ایک بات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے منہ سے نکل گئی بات بظاہر صحیح تھی لیکن اس کا اظہار حضرت حق جل مجدہ، کو پسند نہیں آیا وہ بات یہ کہ ایک دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے مجمع میں تقریر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–65

ف 5۔ وجہ اس سفر کی یہ ہوئی تھی کہ ایک بار موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل میں وعظ فرمایا تو کسی نے پوچھا کہ اس وقت آدمیوں میں سب سے بڑا عالم کون شخص ہے۔ آپ نے فرمایا میں۔ مطلب یہ تھا کہ ان علوم میں کہ جن کو قرب الی اللہ کی تحصیل میں دخل ہے میرے برابر کوئی نہیں۔ اور یہ فرمانا صحیح تھا، لیکن چونکہ ظاہرا لفظ مطلق تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ آپ کو احتیاط فی الکلام کی تعلیم دی جائے، ارشاد ہوا کہ مجمع البحرین میں ایک بندہ ہمارا تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے، مطلب یہ تھا کہ بعض علوم میں وہ زیادہ ہے، گو ان علوم کو قرب الہی میں دخل نہہو، لیکن اس بناء پر جواب میں مطلقا تو اپنے کو اعلم نہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کوئی نبی نبوت ملنے سے پہلے اس بات کو نہیں جانتا کہ وہ نبی ورسول بنایا جائے گا : 64۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی میں سے اس واقع کو ذکر کیا گیا ہے جس واقعہ کا ذکر آپ کی نبوت کی زندگی سے پہلے کی زندگی کے ساتھ تھا اور آپ ﷺ سے اس کے متعلق جو سوال کیا گیا وہ بھی محض اس لئے تھا کہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ آپ ﷺ اللہ کے سچے نبی ورسول ہیں یا نہیں ؟ آپ ﷺ نے وحی الہی سے اس واقعہ کا ذکر ان کو سنادیا جس طرح آپ ﷺ کو سنایا گیا اس واقعہ کی پوری تفصیل آگے آئے گی اور آیات کے بعد ایک مربوط واقعہ کے طور پر بھی ہم بیان کریں گے لیکن اس کے شروع ہونے سے قبل ہی اتنا عرض کردینا ضروری ہے کہ یہ جو بیان کیا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary In the description of this event referred to in: وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَاهُ (And when Musa said to his young man), the opening sentence of verse 60, 'Musa' means the famous prophet, Musa son of 'Imran (علیہ السلام) . The attribution of this event to some other Musa by Nawf al-Bakali has been sternly refuted by Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ as reported in the Sahih of al-Bukhari. As for the word: فَتٰی (fata), it literally means a young man. When this word is used as attributed to a particular person, it carries the sense of his attendant or servant because it is usually a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–63

57. Though this story was told in answer to the question of the disbelievers, it has been used to impress a very important truth on the minds of both the disbelievers and the believers. It is this: those people who draw their conclusions only from the seeming aspects of events, make a very serious error in their deductions, for they only see what is apparent and do not go deep into the divine wisdom that underlies them. When they daily see the prosperity of the tyrants and the afflictions of the innocent people, the affluence of the disobedient people and the indigence of the obedient people,…

Read the full tafseer →