Explained with ayahs 57–59
بد ترین شخص کون ہے ؟
فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے ؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں پھر قرآن وبیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا کانوں میں گرانی ہوجاتی ہے بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے اگر وہ گنہگار کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 56
اشارہ ہے سبا اور ثمود ور مدین اور قوم لوط کے اجڑے دیارؤں کی طرف جنہیں قریش کے لوگ اپنے تجارتی سروں میں آتے جاتے دیکھا کرتے تھے اور جن سے عرب کے دوسرے لوگ بھی خوب واقف تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
(آیت) وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ساری مخلوقات میں سب سے زیادہ جھگڑالو انسان واقع ہوا ہے اس کی شہادت میں ایک حدیث حضرت انس سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ایک شخص کفار میں سے پیش کیا جائے گا اس سے سوال ہوگا کہ ہم نے جو رسول بھیجا تھا ان کے متعلق تمہارا کیا عمل رہا ؟ وہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار میں تو آپ پر بھی ایمان لایا آپ کے رسول پر بھی اور عمل میں ان کی اطاعت کی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ تیرا اعمال نامہ سامنے رکھا ہے اس میں تو کچھ بھی نہیں یہ شخص کہے گا کہ میں تو اس اعمال نامہ کو نہیں مانتا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ ہمارے فرشتے تو تمہاری نگرانی…
Read the full tafseer →وَتِلْكَ الْقُرَى أَهْلَكْنَاهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَوْعِدًا۔
تاریخ کی شہادت : یہ اوپر والی بات پر تاریخی شہادت کی طرف اشارہ فرما دیا کہ یہ سامنے ان قوموں کی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ہلاک کردیا۔ یہ ان کی بستیوں پر سے اپنے سفروں میں گزرتے ہیں ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے بھی ایک وقت مقرر کیا تھا چناچہ جب وہ آگیا تو وہ تباہ کردی گئیں۔
Read the full tafseer →59۔ 1 اس سے مراد، عاد، ثمود اور حضرت شعیب ؑ اور حضرت لوط ؑ وغیرہ کی قومیں جو اہل حجاز کے قریب اور ان کے راستوں میں ہی تھیں۔ انھیں بھی اگرچہ ان کے ظلم کے سبب ہی ہلاک کیا گیا لیکن ہلاکت سے پہلے انھیں پورا موقع دیا گیا اور جب یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کا ظلم و طغیان اس حد کو پہنچ گیا ہے جہاں سے ہدایت کے راستے بالکل مسدود ہوجاتے ہیں اور ان سے خیر اور بھلائی کی امید باقی نہیں رہی، تو پھر ان کی مہلت عمل ختم اور تباہی کا وقت شروع ہوگیا۔ پھر انھیں حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا۔ یا اہل دنیا کے لئے عبرت کا نمونہ بنادیا گیا۔ یہ دراصل اہل مکہ کو سمجھایا جا رہا ہے کہ تم ہمارے آخری پیغمبر اور اشرف الرسل حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
32: یعنی ان لوگوں پر ساری حجتیں تو تمام ہوچکیں۔ اب ان کے پاس اپنے کفر پر اس کے سوا کوئی دلیل باقی نہیں رہی کہ یہ پیغمبر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جیسا عذاب پچھلی امتوں پر آیا تھا، اگر ہم باطل پر ہیں تو ویسا ہی عذاب ہم پر لا کر دکھاؤ۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پیغمبروں کا کام اپنے اختیار سے عذاب نازل کرنا نہیں ہوتا۔ وہ تو لوگوں کو عذاب سے متنبہ کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ نافرمانوں پر فوراً عذاب نہیں بھیجتا، بلکہ اپنی رحمت کی وجہ سے انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ اس مہلت کے دوران جن کو ایمان لانا ہو، وہ ایمان لے آئیں، البتہ اس کی طرف سے نافرمانوں کو عذاب دینے کے لیے ایک وقت مقرر…
Read the full tafseer →لہٰذا ان لوگوں کو چاہئے کہ اس مہلت سے دھوکہ نہ کھائیں۔ ان کی مہلت بھی ختم ہونے ہی والی ہے۔ اللہ کی سنت اپنا کام کر رہی ہے وہ اٹل ہے اور اللہ جو معیاد مقرر کرتا ہے وہ آ کر رہتی ہے۔
Read the full tafseer →5 یعنی عاد وثمود کی بستیاں جن کے واقعات مشہور و معروف ہیں دیکھ لو جب ظلم کیے کس طرح اپنے وقت معین پر تباہ و برباد کردی گئیں۔ اسی طرح تم کو ڈرتے رہنا چاہیے کہ وقت آنے پر عذاب الٰہی سے کہیں پناہ نہ ملے گی۔
Read the full tafseer →آیت 59 وَتِلْكَ الْقُرٰٓى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا
اَحقاف میں آباد قوم عاد کے افراد ہوں یا علاقۂ حجر کے باشندے اصحاب الایکہ ہوں یا عامورہ اور سدوم کے باسی سب اسی قانونِ الٰہی کے مطابق ہلاکت سے دو چار ہوئے۔
وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا
وعدے کے اس طے شدہ وقت سے پہلے کسی قوم یا بستی پر کبھی کوئی عذاب نہیں آیا۔
Read the full tafseer →57 ان تباہ شدہ بستیوں سے مراد وہ بستیاں ہیں جن پر اہل مکہ کا گذر ہوتا رہتا تھا اور وہ ان کی تباہی کے آثار بچشم خود دیکھ سکتے تھے اور یہ بستیاں قوم عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب (علیہم السلام) کی تھیں، اور قریش کو بتایا یہ جارہا ہے کہ ان لوگوں کو بھی ہم نے ان کی نافرمانی پر یکدم ہی ہلاک نہیں کر ڈالا تھا بلکہ ان کی ہلاکت کے لیے بھی ایک معین وقت مقرر تھا اسی طرح اگر ابھی تک تمہیں عذاب سے دو چار نہیں ہونا پڑا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اگر تمہارے یہی کرتوت رہے تو تم عذاب سے بچ سکو گے۔
Read the full tafseer →90۔ (چنانچہ وہ اپنے اسی وقت معین ومقرر پر ہلاک ہوئیں) (آیت) ” تلک القآی “۔ یعنی ان بستیوں کے باشندے۔ والکلام علی تقدیر مضاف اے اھل القری (روح) اشارہ ان سرکش ونافرمان پر قوت قوموں کی جانب ہے جن کی ہلاکت کا بیان قرآن مجید میں بار بار آچکا ہے۔ اور جو ہر قرآن خوان کیلئے معلوم ومعروف ہیں۔ اے قری عاد وثمود وقوم لوط واشباھھم (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
آیت نمبر 54 تا 59
ترجمہ : اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں ہر قسم کے عمدہ مضامین مختلف انداز سے بیان کئے ہیں من کل مثلٍ موصوف محذوف مثلاً کی صفت ہے یعنی ہر قسم کی مثالیں تاکہ نصیحت حاصل کریں، اور کافر انسان بڑا جھگڑالو ہے یعنی خصومت میں باطل طریقہ اختیار کرتا ہے جَدَلاً کان کے اسم سے منقول ہو کر تمیز ہے، تقدیر عبارت یہ ہے وکان جَدَلُ الانسان اکثر شئ فیہ اور لوگوں کو یعنی کفار مکہ کو ایمان لانے اور اپنے پروردگار سے معافی طلب کرنے سے ان کے پاس ہدایت قرآن پہنچنے کے بعد صرف اس انتظار نے روکا کہ ان کو بھی پہلی امتوں جیسا معاملہ پیش آجائے یا یہ کہ عذاب ان کے روبرو آکھڑا ہو، سنۃُ الاولین…
Read the full tafseer →وتلک القری اہلکنہم لما ظلموا وجعلنا لمہلکہم موعدا۔ اور یہ بستیاں (جن کے
واقعات مشہور و مذکور ہیں) جب انہوں نے شرارت کی تو ہم نے ان کو تباہ کردیا تھا۔
الْقُرٰیسے مراد ہیں قوم نوح ‘ عاد ‘ ثمود اور دوسری گزشتہ کافر اقوام کی تباہ شدہ بستیاں۔ لَمَّا ظَلَمُوْاجب انہوں نے ظلم کیا یعنی کفار قریش کی طرح انہوں نے کفر کیا (ظلم سے مراد ہے کفر و معصیت) مَہْلِکَ (مصدر میمی) ہلاک ہونا یا ہلاک کرنا۔
مَوْعِدًا یعنی معین ‘ مقررہ وقت جس سے کوئی بھی آگے بڑھ سکا نہ پیچھے ہٹ سکا۔ یعنی جس طرح گزشتہ اقوام ہالکہ کے ہلاک کرنے کا اللہ نے ایک وقت مقرر کردیا تھا جو اٹل تھا اسی طرح کفار قریش کے لئے ایک خاص وقت مقرر کردیا…
Read the full tafseer →(59) اور یہ بستیوں والے گزشتہ لوگ جن کی ہلاکت کے قصے مشہور ہیں جب انہوں نے شرک کیا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا، اور ہم نے انکے ہلاک ہونے کے لیے وقت مقرر کیا تھا۔
Read the full tafseer →وَتِلْكَ الْقُرٰٓى اَهْلَكْنٰهُمْ۔۔ : مراد ہیں سبا، ثمود، مدین اور قوم لوط کی تباہ شدہ بستیاں، جن کی سرگزشت سے عرب کے تمام لوگ واقف تھے اور جن پر قریش کا اپنے سفروں میں آتے جاتے ہمیشہ گزر ہوتا تھا۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وتلک القری اھلکنھم۔ تلک محل رفع میں مبتدا ہے۔ القریٰ نعت یا بدل ہے۔ اھلنھم خبر کے مقام پر ہے، معنی پر محمول ہے کیونکہ القرٰ سے مراد اھل القریٰ ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ تلک محل نصب میں ہو، ان علماء کے قول پر جو کہتے ہیں : زیداً صربتہ یعنی وہ بستیاں جن کی خبریں ہم نے آپ پر بیان کی ہیں جیسے قوم عاد، ثمود، مدین، لوط کی بستیاں ہم نے انہیں ہلاک کردیا جب انہوں نے ظلم کیا اور کفر کیا۔ وجعلنا لمھلکھم موعداً یعنی ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کیا ہے اس سے تجاوز نہیں ہوگا۔ مھلک، یہ اھلکوا سے مشتق ہے۔ عاصم نے مھلکھم میم اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ اس صورت میں ھلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا ان تاتیہم سنۃ الاولین “ یعنی پہلے لوگوں کی سزا (کی خبر ان کے پاس آچکی تھی)
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ پڑھا یعنی قبائل (پر عذاب کی خبریں ان کے پاس آچکی تھیں )
3:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ سے مراد ہے اچانک (ان کے پاس عذاب آیا)
4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ سے مراد ہے روبرو آمنے سامنے۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قبلا “ سے…
Read the full tafseer →[وَتِلْكَ الْقُرٰٓى: اور یہ بستیاں ] [اَهْلَكْنٰهُمْ : ہم نے ہلاک کیا (اس کے ( لوگوں کو ] [لَمَا : جب ] [ظَلَمُوْا : انھوں نے ظلم کیا ] [وَجَعَلْنَا : اور ہم نے مقرر کیا ] [لِمَهْلِكِهِمْ : ان کے ہلاک ہونے کے لئے ] [مَّوْعِدًا : وعدے کا ایک وقت ]
نوٹ۔ 1: انسان کو بحث کرنے کا اتنا زیردست چسکہ ہے کہ وہ قیامت میں اللہ تعالیٰ سے بھی بحث کرے گا۔ اس کا ثبوت ایک حدیث سے ملتا ہے جو ہم معارف القرآن سے نقل کر رہے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ایک شخص کفار میں سے پیش کیا جائے گا۔ اس سے سوال ہوگا کہ ہم نے جو رسول بھیجا تھا ان کے متعلق تمہارا کیا عمل رہا۔ وہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار میں تو…
Read the full tafseer →(وَ تِلْکَ الْقُرآی اَھْلَکْنٰھُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا) (اور ان بستیوں کو ہم نے ہلاک کردیا جب کہ انہوں نے ظلم کیا) اس سے سابقہ امتیں مراد ہیں، جو حضرات انبیاء ( علیہ السلام) کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کردی گئیں چونکہ قرآن مجید میں جگہ جگہ ان کا ذکر آیا ہے اور اہل مکہ ان میں سے بعض اقوام سے واقف بھی تھے شام کو جاتے ہوئے ہلاک شدہ بستیوں پر گزرتے تھے اس لیے تِلْکَ الْقُرآی فرمایا جس میں عہد ذہنی کے طور پر ان بستیوں کی طرف اشارہ فرما دیا۔
(وَ جَعَلْنَا لِمَھْلِکِھُمْ مَّوْعِدًا) (اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے وقت معین مقرر کر رکھا تھا) وہ اسی کے مطابق ہلاک ہوئے پس جس طرح وہ اپنے اپنے وقت پر ہلاک ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
گندم از گندم بروید جو زجو از مکافات عمل غافل مشو
غرور اور تکبر کا حال اور مال
قال اللہ تعالیٰ واذا قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وجعلنا لمہلکم موعدا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل دولت کے غرور اور تکبر کا حال بیان کیا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ تمام خرابیوں کی جڑ یہی تکبر ہے جس کا آغاز ابلیس لعین سے ہوا اور تواضع اور نیاز مندی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کردینا بھی تمام بھلائیوں اور خوبیوں کی جڑ ہے۔ جس کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا یہ تمہارے باپ کا طریقہ ہے لہٰذا تم کو چاہئے کہ اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کے طریقہ پر چلو پس خوب سمجھ لو کہ جو دولت مند کفر کرتے ہیں اور اپنے مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
62:۔ یہ بھی زجر ہے۔ ” وربک الغفور ذو الرحمۃ الخ “ یعنی اللہ تعالیٰ غفور، اور ذو الرحمۃ بھی ہے، لیکن اگر لوگوں کی بد اعمالیوں پر ان کو پکڑ لے تو اس کے عذاب سے بھی ان کو کوئی نہیں چھڑا سکتا۔
63:۔ یہ دنیا کا عذاب تو معمولی عذاب ہے آخرت کا عذاب بڑا سخت اور اس سے بچنے کی بھی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ ” موئلا “ جائے پناہ اور جائے فرار، ” و تلک القری الخ “ کا اشارہ محسوس مبصر کی طرف نہیں بلکہ معہود فی الذہن کی طرف ہے اور ” القری “ سے پہلے مضاف مقدر ہے ای اھل القری۔ اور اس سے مراد عاد وثمود اور قوم لوط ہے۔ ان اقوال کی تباہی کی داستانیں عرب میں معروف ومعلوم تھیں اس لیے انہیں بمنزلہ محسوس قرار دے کر ” تلک “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
ربط آیات :
گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مال اولاد کو دنیا کی زندگی کی رونق سے تعبیر کیا تھا اور تلقین کی تھی کہ ان چیزوں میں منہمک ہو کر اپنے مقصود حقیقی سے غافل نہ ہوجانا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں باقیات الصالحات ہی بہتر ہیں ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کا ذکر اور تسبیح کے کلمات ، تمام عبادات اور نیکی کے کام باقیات الصالحات میں داخل ہیں ، مفسر قرآن اور مشہور تابعی حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ نیکی نیتی بھی باقیات الصالحات میں شامل ہے ۔
اس کے بعد گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کی گمراہی کا ذکر کیا اور انسانوں کو آگاہ کیا کہ ابلیس اور اس کی اولاد تمہاری دشمن ہے ، انہیں اپنا…
Read the full tafseer →وَتِلْكَ الْقُرٰٓى اَہْلَكْنٰہُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَجَعَلْنَا لِمَہْلِكِہِمْ مَّوْعِدًا 59ۧ
قرية
الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية .
( ق ر ی ) القریۃ
وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
تفسیر : یہاں تک انسان کی بدی کا یقینی نتیجہ نہایت پراثر اور عمدہ پیرایہ سے بیان فرمایا گیا اور مسئلہ میعاد کی پوری تشریح کردی گئی اور دنیا کے اسباب اور اس کی بقاء کا بھی پورا نقشہ کھینچ دیا گیا، مثالیں بھی پیش کی گئیں مگر کج رو، کج طبع اس پر بھی نہیں مانتے۔ اس مضمون کو ولقد صرفنا سے شروع کیا اور یہ بھی فرمایا کہ وکان الانسان اکثر شیئٍ جدلا کہ انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے اس کی طبیعت میں حجت و تکرار ہے جس کی وجہ سے اتنی تفصیل سے سمجھانے پر بھی ایمان نہیں لاتے۔ ومامنع الناس ان یؤمنوا۔ اب ان کو ایمان لانے سے اسی بات نے روک رکھا ہے کہ یا تو جو اگلی قوموں کے ساتھ برتاؤ ہوا تھا ان کے ساتھ بھی وہی ہو…
Read the full tafseer →وَتِلْکَ الْقُرٰٓی اَھْلَکْنٰـھُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَجَعَلْنَا لِمَھْلِکِھِمْ مَّوْعِدًا۔ (الکہف : 59)
(اور یہ بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کردیا جبکہ ان کے لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کیا۔ )
گزشتہ آیت پر تاریخی شہادت
گزشتہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ آیت کریمہ اس پر دلیل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی طرف اپنا رسول بھیجتا ہے تو اس قوم کا امتحان شروع ہوجاتا ہے کہ وہ اس رسول کی دعوت کو قبول کرکے کامیابی اور نجات کا راستہ اختیار کرتی ہے یا اس دعوت کو رد کرکے اپنے لیے تباہی اختیار کرتی ہے۔ رسول اپنی قوم کی اصلاح کے لیے شب و روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء سے مذاق کرنے، حقائق سننے اور انہیں تسلیم نہ کرنے کے باوجود لوگوں کو نہیں پکڑتا تو اس کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی رحیم ہے اس نے مجرموں کی گرفت کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔
رب کریم نے اپنے گنہگار بندوں کو نہایت شفقت آمیز الفاظ کے ساتھ تسلی دیتے ہوئے دعوت دی ہے۔ کہ اے نبی ﷺ میرے بندوں کو فرمائیں جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیے ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب گناہوں کو معاف کرنے والا، نہایت مہربان اور بخشنے والا ہے۔ (الزمر : 53)
اللہ تعالیٰ لوگوں کے گناہوں اور جرائم کی وجہ سے فی الفور گرفت کرے تو کوئی اس کے عذ اب سے نہیں…
Read the full tafseer →59: وَتِلْکَ الْقُرٰی اَھْلَکْنٰـھُمْ (یہ بستیاں جن کو ہم نے ہلاک کردیا )
نحو : تلک مبتدا ہے القریؔ یہ صفت ہے کیونکہ اسمائے اشارہ کی صفت اسم جنس سے لائی جاتی ہے۔ اھلکنا ہُمْ یہ خبر ہے۔ نمبر 2۔ تلک القُرٰی یہ اَہْلَکْنَا فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اور دوسرا اَہْلَکْنَا اس کی تفسیر ہے۔ مطلب یہ ہے یہ بستیوں والے جن کو ہم نے ہلاک کردیا مراد ان سے قوم نوح، عاد، ثمود ہیں۔ لَمَّا ظَلَمُوْا (جب انہوں نے ظلم کیا) جیسا کہ اہل مکہ کر رہے ہیں۔ وَجَعَلْنَا لِمَھْلِکِھِمْ مَّوْعِدًا (اور ہم نے ان کی ہلاکت کا ایک وقت مقرر کیا) اور ہم نے ان کی ہلاکت کیلئے ایک معلوم و مقرر وقت طے کردیا۔ جس سے یہ پیچھے نہ…
Read the full tafseer →(59)” وتلک القریٰ اھلکناھم “ اس سے مراد قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط اور اس کے علاوہ اور قومیں مراد ہیں۔ ” لما ظلموا “ جب انہوں نے کفر کیا۔ ” وجعلنا لمھلکھم موعداً “ مدت معیاد مقرر ہے۔ ابوبکر نے ” لمھلکھم “ میم اور لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حفص نے میم کے فتحہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اسی طرح سورة نمل میں ذکر کیا گیا۔” مھلک “ ان کی ہلاکت کے وقت دوسرے قراء نے میم کے ضمہ اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
55۔ 59۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں میں طرح طرح کی مثالیں دے کر ان مشرکین مکہ کو سمجھایا جاتا ہے مگر یہ لوگ اپنے جھوٹے جھگڑوں سے باز نہیں آتے کبھی کہتے ہیں اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا کوئی فرشتہ ہونا چاہیے کبھی کہتے ہیں اگر تم اللہ کے رسول ہو تو مکہ کے گردو نواح کے پہاڑ ہٹا کر ان کی جگہ کھیتی کی زمین نکال دو ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے قرآن کی نصیحت نہ ماننے اور شرک سے باز نہ آنے کا یہی سبب ہے کہ اللہ کے علم غیب کے موافق ان میں سے کچھ لوگوں پر پچھلی امتوں کی طرح دنیا کا کچھ عذاب وقت مقررہ سے پہلے ان میں کے جو لوگ شرک کی حالت پر مرجائیں گے ان کے سر پر آخرت کا عذاب ناگہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–73
آیت 59
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریععے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کردیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کر تتوں سے باز نہ آئے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے انجان بنا رہے اور اللہ عالم الغیوب کو اپنے اوپر نگران نہ سمجھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی۔۔۔ یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–60
ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم
قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان
حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…
Read the full tafseer →107۔ پاداش عمل کے ثبوت کیلئے تاریخی حوالہ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ بستیاں یعنی قوم عاد وثمود اور قوم لوط وغیرہ عذاب یافتہ قوموں کی بستیاں۔ جن کو ہلاک اور تباہ کیا گیا سب ایسی ہی تھیں کہ ان کے باشندے جب اپنے کفر وانکار اور تمردو سرکشی سے باز نہ آئے تو ان کو آخر کار اسی طرح مٹا کر پیوند خاک کردیا گیا۔ والعیاذ باللہ من کل نوع من انواع غضب الجبار وعذابہ۔ سو ان تمام بستیوں، یعنی ان بستیوں کے باشندوں کو ان کے کفر وعناد اور تکذیب و سرکشی پر ڈھیل ملتی گئی۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے حد کردی اور وہ حق کی دعوت کو کسی بھی طرح ماننے کو تیار نہ ہوئے تو ہم نے انکو حرف غلط کی طرح مٹاکر ہمیشہ ہمیش کیلئے ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
ہدایت واضح ہوجانے کے بعد ایمان نہ لانے والوں کا انجام
تشریح : قرآن سو فیصد انسان کے لیے رحمت، نعمت اور برکت ہے۔ اور پیغمبر جو یہ نعمت لے کر بندوں کے پاس آئے وہ بھی انسان کے لیے بہت بڑی رحمت اور فضل ہے، مگر انسان فطرتاً جھگڑالو ہے۔ اتنا کچھ لینے اور سمجھنے کے باوجود بھی بےوقوفی اور نااہلی کا ثبوت دیتا ہے۔ کبھی شیطان کا دوست بن کر شیطانی کام کرنے لگتا ہے اور یوں اپنے لیے دنیا کی زندگی کو عذاب بنا لیتا ہے کیونکہ برے کاموں کا برا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ جو دوسروں کے لیے گڑھا بناتا ہے وہ خود بھی اس میں گرتا ہے۔ ایک چور کی زندگی جس پریشانی اور مصیبت میں گزرتی ہے وہ ایک نیک صالح اور متقی کی زندگی کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
لوگوں کو اللہ جل جلالہ کے نبی ﷺ کی نافرمانی کرکے اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالنا چاہئے مگر ان کا حال تو ایسا ہے گویا جب اللہ نے احسان فرما کر اپنے رسولوں کے ذریعے سے ہدایت پہنچا دی تو یہ بجائے اللہ سے بخشش مانگنے کے جس کا طریقہ ایمان لانا تھا الٹا پہلی تباہ ہونے والی قوموں جیسے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں یا یہ چاہتے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کا عذاب انہیں سیدھے سامنے آلے ، جبکہ انبیاء کو ثبوت نبوت کے لیے معجزات اور لوگوں کی ہدایت کیلئے واضح قوانین عطا ہوتے ہیں تو یہ لوگ ناحق جھگڑا کھڑا کرنے کے لیے باتیں بناتے ہیں کہ شاید اس طرح حق کو ٹال سکیں گے اور جواب نہ پا کر مذاق اڑاتے…
Read the full tafseer →ف 4 مراد ہیں سباء، محمود، مدین اور قوم لوط کی تباہ شدہ بستیاں جن کی سرگزشت سے عرب کے تمام لوگ واقف تھے اور جن پر اپنے سفروں میں آتے جاتے قریش کا ہمیشہ گزر ہوتا تھا۔5 تو اے کفار قریش تمہیں بھی ڈرتے رہنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ آخر کار تمہارا بھی وہی حشر ہو جو ان بستیوں کا ہوا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : اوپر ذکر فرمایا کہ کافر اپنے مال و جاہ پر مغرور رہتے اور مسلمانوں کو ذلیل سمجھ کر آنحضرت سے کہتے کہ ان کو اپنے پاس نہ بٹھائو تو ہم بیٹھیں اس پر دو بھائیوں کا قصہ بیان فرمایا اور پھر دنیا کی مثال بیان کی اور بتایا کہ ابلیس اپنے غرور کے سبب ہی ہلاک ہوا۔ اب خضر اور موسیٰکا قصہ بیان فرما کر یہ سمجھایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
(18:58) موعد۔ اسم ظرف زمان۔ وعدہ کا وقت۔ موئلا۔ اسم ظرف مکان۔ وأل مادہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ جائے پناہ۔ وأل یئل (ضرب) وأل وء ول مصدر وأل فلانا کسی سے پناہ لینا۔ وأل الی اللہ اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ الوال الموئل پناہ کی جگہ۔
(18:59) تلک القری۔ یہ بستیاں۔ مراد ان بستیوں کے باشندگان۔ اشارہ ان سرکش اور نافرمان قوموں کی طرف ہے جن کی ہلاکت کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آیا ہے۔ مثلاً قوم عاد۔ قوم ثمود۔ قوم لوط وغیرہ۔
مھلکہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا ہلاک ہونا۔ مھلک مصدر میمی ہے۔ موعدا۔ وعدہ کا وقت ۔ اسم ظرف زمان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 59
ذکر یاد دلایا گیا۔ اعرض اس نے منہ پھیر اپنی ۔ نسی وہ بھول گیا۔ قدمت آگے بھیجا۔ اکنۃ پردہ۔ ان یفقھوہ یہ کہ وہ اس کو سمجھے۔ اذا اس وقت۔ کسبوا انہوں نے کمایا۔ عجل اس نے جلدی کی۔ موئل بچنے کی جگہ۔ القریٰ بستیاں مھلک برباد ہونے۔ موعد وقت مقرر۔
تشریح :- آیت نمبر 57 تا 59
واقعی اس سے بڑھ کر زیادتی اور ظلم کیا ہوگا۔ کہ جب ایک خیر خواہ جس کی کوئی ذاتی غرض یا فائدہ نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اللہ کا کلام پورے خلوص سے پیش کر رہا ہے۔ اس کی بات نہ سنی جائے اور نہ اس پر توجہ کی جائے بلکہ اس سے منہ پھیر پھیر کر چلا جائے اور اس کو ایسا بےحقیقت سمجھا جائے کہ اس…
Read the full tafseer →یہاں فرمایا کہ وہ دیہات جن کا قصہ ہم نے تمہیں سنایا کہ انہوں نے پیغمبر کی تکذیب کی، تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کی ہلاکت کو ہم نے ایک وقت مرر رکھا تھا، جب وقت آیا ہم نے ان کو مزہ چکھایا۔ قریش ان کی اجڑی ہوئی بستیوں کو دیکھ کر عبرت کیوں نہیں پکڑتے اور شرک اور نافرمانی سے دست برادار کیوں نہیں ہوجاتے۔ عقلمند وہ ہے جو غیر کو دیکھ کر نصحیت پکڑے۔
Read the full tafseer →[22] یعنی عاد وثمود کی عذاب رسیدہ بستیاں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
(ف 1) یہ ان کی قساوت قلبی اور بدبختی کی انتہائی صورت ہے کہ دل مسخ ہوگئے ہیں ، اور کانوں میں حق کے لئے قوت سماعت نہیں رہی ۔
یہ یاد رہے کہ یہ محض ایک انداز بیان ہے ورنہ اعراض و غفلت کی کوتاہیاں ہمیشہ ان سے سرزد ہوئیں ، انہوں نے خود دلوں کو تعصب وعناد کی تاریکیوں سے آلودہ رکھا اور کانوں کو حق کی آواز سے نا آشنا اللہ اس کیفیت تغافل و انکار کو دلوں پر پردہ ڈال دینے سے تعبیر کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے ، ان لوگوں نے بھی اس بات پر اعتراض نہیں کیا ، کہ قرآن ہمیں ناقابل اصلاح ٹھہراتا ہے ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ بالکل ہمارے ارادوں کی ترجمانی ہے ۔
حل لغات :
موئلا : مرجع وماوی :
Read the full tafseer →-59 اور یہ ہیں وہ بستیاں کہ جب ان کے رہنے والوں نے شرارت اور ظلم کا شیوہ اختیار کیا تو ہم نے ان بستیوں کو ہلاک و برباد کردیا اور ان کے بھی ہلاکک ہونے کا ایک وقت ہم نے مقرر اور معین کردیا تھا مراد کعبہ کے آس پاس کی بستیاں ہیں عاد وثمود وغیرہ وہاں بھی یہی قاعدہ برتا گیا کہ وہ لوگ پیغمبروں سے عذاب کا مطالبہ کرتے رہے لیکن عذاب کا جو وقت مقرر ہوچکا تھا اس سے پہلے عذاب نہیں آیا اور تاخیر ہونے کی وجہ سے عذاب ان پر سے ٹلا نہیں اسی طرح کفار عرب بھی عذاب کی تاخیر سے یہ قیاس نہ کریں کہ عذاب نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →ف 3۔ پس کفر کا موجب ہلاک ہونا ثابت ہوا۔
4۔ اوپر روسا کفار کی اس درخواست کی تقبیح تھی کہ ہماری مجلس تعلیم میں فقراء مسلمین نہ رہنے پاویں آگے موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک قصہ سے اس تقبیح کی زیادہ توضیح ہے کہ انہوں نے تو اپنے چھوٹے کو بعض خاص علوم میں استاد بنانے سے بھی عار نہیں فرمائی۔ اور تم کو ان غریبوں کے شریک تعلیم ہونے سے عار آتی ہے۔ و نیز اس مقصود کے ساتھ اس قصہ میں آپ کی نبوت پر بھی دلالت ہوگئی جس کی وجہ ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →کتنی ہی بستیاں تھیں جن کو قبل ازیں ختم کیا جا چکا اور سب کے لئے وقت مقرر تھا :
63۔ ان بستیوں کا تفصیلی ذکر پیچھے سورة ہود میں گزر چکا ہے جن کا ذکر ثمود اور عاد ‘ مدین اور قوم لوط کے ناموں سے آپ پڑھ چکے ہیں جنہیں قریش کے لوگ بھی اپنے تجارتی سفروں میں دیکھتے تھے کیونکہ ان کے راستہ کے قریب ہی یہ واقع تھیں اور ان کے ذکر کی ضرورت اس لئے تھی کہ اوپر انکی طرف اشارہ کیا گیا تھا اور اب شہادت کے طور پر ان کی توجہ ان بستیوں کی طرف مبذول کرائی گئی تاکہ ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں اور یہ بات واضح کردی کہ ان سب بستیوں کی ہلاکت کا بھی ایک وقت مقرر تھا اور جب تک وہ وقت نہ آیا ان کو ہلاک نہ کیا گیا اور جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
The statement: وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا (And man is the most quarrel-some of all things - 54) has been testified through a Hadith narrated by Sayyidna 'Anas ؓ in which the Holy Prophet ﷺ has been reported to have said, "On the day of Qiyamah, a man from among the disbelievers will be brought forth. He will be asked, 'what was your response to the messenger We had sent to you?' He will say, '0 my Lord, as for me, I did believe in You and in Your messenger too and that I obeyed him in everything I did.' Allah Ta` ala will say, 'here is your book of deeds before you. All this…
Read the full tafseer →56. The ruined habitations were of Saba, Thamud, Midian and the people of Prophet Lot, which were visited by the Quraish during their trade journeys, and which were quite well known to other Arabs also.
Read the full tafseer →