Explained with ayahs 57–59
بد ترین شخص کون ہے ؟
فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے ؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں پھر قرآن وبیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا کانوں میں گرانی ہوجاتی ہے بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے اگر وہ گنہگار کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 55
یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ جس وقت کسی سے قصور سرزد ہو اسی وقت پکڑ کر اسے سزا دے ڈالے۔ یہ اس کی شان رحیمی کا تقاضا ہے کہ مجرموں کے پکڑنے میں وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور مدتوں ان کو سنبھلنے کا موقع دیتا رہتا ہے۔ مگر سخت نادان ہیں وہ لوگ جو اس ڈھیل کو غلط معنی میں لیتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ خواہ کچھ ہی کرتے رہیں، ان سے کبھی باز پرس ہوگی ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
(آیت) وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ساری مخلوقات میں سب سے زیادہ جھگڑالو انسان واقع ہوا ہے اس کی شہادت میں ایک حدیث حضرت انس سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ایک شخص کفار میں سے پیش کیا جائے گا اس سے سوال ہوگا کہ ہم نے جو رسول بھیجا تھا ان کے متعلق تمہارا کیا عمل رہا ؟ وہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار میں تو آپ پر بھی ایمان لایا آپ کے رسول پر بھی اور عمل میں ان کی اطاعت کی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ تیرا اعمال نامہ سامنے رکھا ہے اس میں تو کچھ بھی نہیں یہ شخص کہے گا کہ میں تو اس اعمال نامہ کو نہیں مانتا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ ہمارے فرشتے تو تمہاری نگرانی…
Read the full tafseer →وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ بَلْ لَهُمْ مَوْعِدٌ لَنْ يَجِدُوا مِنْ دُونِهِ مَوْئِلا
مجرموں کو مہلت دینے کی حکمت : " موئل " کے معنی پناہ کی جگہ کے ہیں۔ اب یہ سبب بتایا جا رہا ہے اس بات کا کہ جب یہ ایسے نابکار لوگ ہیں کہ یہ کبھی ہدایت قبول کرنے والے نہیں ہیں تو آخر ان کو بار زمین بنائے رکھنے سے فائدہ کیا ؟ کیوں نہ ان کے اوپر وہ عذاب بھیج کر جس کا یہ مطالبہ کر رہے ان کو ختم ہی کردیا جائے۔ فرمایا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ خدا بخشنے ولا اور رحمت کرنے والا ہے اس وجہ سے وہ مجرموں کو بھی انتہائی حد تک مہلت دیتا ہے۔ ورنہ اگر وہ ان کو…
Read the full tafseer →58۔ 1 یعنی یہ تو رب غفور کی رحمت ہے کہ وہ گناہ پر فوراً گرفت نہیں فرماتا، بلکہ مہلت دیتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پاداش عمل میں ہر شخص ہی عذاب الٰہی کے شکنجے میں کسا ہوتا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جب مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے اور ہلاکت کا وقت آجاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ مقرر کئے ہوتا ہے تو پھر فرار کا کوئی راستہ اور بچاؤ کی کوئی سبیل ان کے لئے نہیں رہتی۔ موئل۔ کے معنی ہیں جائے پناہ راہ فرار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
32: یعنی ان لوگوں پر ساری حجتیں تو تمام ہوچکیں۔ اب ان کے پاس اپنے کفر پر اس کے سوا کوئی دلیل باقی نہیں رہی کہ یہ پیغمبر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جیسا عذاب پچھلی امتوں پر آیا تھا، اگر ہم باطل پر ہیں تو ویسا ہی عذاب ہم پر لا کر دکھاؤ۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پیغمبروں کا کام اپنے اختیار سے عذاب نازل کرنا نہیں ہوتا۔ وہ تو لوگوں کو عذاب سے متنبہ کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ نافرمانوں پر فوراً عذاب نہیں بھیجتا، بلکہ اپنی رحمت کی وجہ سے انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ اس مہلت کے دوران جن کو ایمان لانا ہو، وہ ایمان لے آئیں، البتہ اس کی طرف سے نافرمانوں کو عذاب دینے کے لیے ایک وقت مقرر…
Read the full tafseer →لیکن اللہ ان لوگوں کو خالص اپنی رحمت کی وجہ سے مہلت دیتا ہے اور ان پر وہ ہلاکت نہیں لاتا جس کے لئے وہ جلدی کر رہے لیکن اس مہلت کی بھی ایک حد مقرر ہے۔
یعنی دنیا میں بھی ان پر عذاب الٰہی کے نزول کے لئے وقت مقرر ہے اور پھر آخرت میں ان کے لئے ایک وقت مقرر ہے جس میں انہیں سخت سزا دی جائے گی۔
انہوں نے چونکہ ظلم کیا ہے اس لئے یہ لوگ بھی امم سابقہ کی طرح ہلاکت کے مستحق قرار پا چکے ہیں۔ لیکن اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر کے مطابق چونکہ ان کے لئے ایک مہلت مقرر کر رکھی ہے اس لئے اللہ ان کو اس طرح ہلاکت سے دوچار نہیں کر رہا ہے جس طرح اللہ نے ظالم امم سابقہ کو ہلاک کیا۔ ہاں ان کے لئے علیحدہ میعاد مقرر ہے۔
Read the full tafseer →3 یعنی کرتوت تو ان کے ایسے کہ عذاب پہنچنے میں ایک گھنٹہ کی تاخیر نہ ہو، مگر حق تعالیٰ کا حلم و کرم فوراً تباہ کر ڈالنے سے مانع ہے، اپنی رحمت عامہ سے خاص حد تک درگزر فرماتا ہے اور سخت سے سخت مجرم کو موقع دیتا ہے کہ چاہے تو اب بھی توبہ کرلے پچھلی خطائیں بخشوالے۔ اور ایمان لا کر رحمت عظیمہ کا مستحق بن جائے۔
4 یعنی یہ تاخیر عذاب ایک وقت معین تک ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی مجرم سزا کا وعدہ آنے سے پیشتر کہیں ادھر ادھر کھسک جائے۔ جب وقت آئے گا سب بندھے چلے آئیں گے، مجال نہیں کوئی روپوش ہو سکے۔
Read the full tafseer →آیت 58 وَرَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذو الرَّحْمَةِ ۭ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ
یہ مضمون سورة النحل آیت 61 اور سورة فاطر آیت 45 میں بھی بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم اور برے اعمال کے سبب ان کا مؤاخذہ کرتا تو روئے زمین پر کوئی متنفس زندہ نہ بچتا۔
بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ يَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْىِٕلًا
جب کسی کے وعدے کی مقررہ گھڑی اجل آپہنچے گی تو اسے کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی اور اس کے لیے اس سے سرک کر ادھر ادھر ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی : فَاِذَاجَآءَ اَجَلُہُمْ لاَ یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلاَ یَسْتَقْدِمُوْنَ النحل…
Read the full tafseer →56 اللہ کا قانون امھال و تدریج ہر بات میں حتی کہ عذاب میں بھی جاری وساری ہے :۔ جس طرح اللہ کا قانون امہال و تدریج ہر کام میں جاری وساری ہے۔ رات آتی ہے تو یکدم مکمل تاریکی نہیں چھا جاتی۔ دن آتا ہے تو یکدم تیز دھوپ اور روشنی نہیں ہوتی۔ اسی طرح اس کے عذاب کا قانون ایسا نہیں کہ ادھر کسی نے کوئی جرم کیا تو ادھر فوراً اسے سزا دے دی جائے بلکہ اس معاملہ میں اللہ کا وہی قانون امہال و تدریج کام کرتا ہے اگر اس دوران بھی مجرم اپنے جرم سے باز آجائے تو پھر سزا ٹل جاتی ہے کیونکہ اللہ بخشنے والا بھی ہے اور مہربان بھی اور اگر باز نہ آئے تو عذاب اللہ کے مقرر کردہ قانون کے مطابق اپنے مقررہ وقت پر آئے گا خواہ…
Read the full tafseer →88۔ چناچہ اس صفت غفر کے تقاضہ سے اب بھی باوجود اس ہجوم عصیان وکفر کے اگر راہ راست پر آجائیں تو توبہ قبول ہوسکتی اور مغفرت حاصل ہوسکتی ہے۔ اور صفت رحمۃ کے تقاضہ سے اس نے انہیں اتنی مہلت دے رکھی ہے۔
89۔ اس حقیقت کو ایک بار پھر دہرادیا گیا ہے کہ عذاب الہی فورا نہیں آتا بلکہ بڑے سے بڑے مجرموں کو بھی مہلت ضرور ملتی رہتی ہے۔ (آیت) ” من دونہ “۔ ضمیر موعد کی طرف ہے۔ یعنی اس یوم موعود کے ادھر یاقبل یہ کوئی پناہ گاہ نہیں پاسکتے کہ پیشتر ہی سے اس میں چھپ چھپا کر اپنے کو محفوظ کرلیں۔ والضمیر المجرور عائد علی الوعد کماھو الظاہر (روح) یہ بھی جائز ہے کہ رب کی طرف سمجھی جائے۔ قیل یعود علی اللہ تعالیٰ وھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
آیت نمبر 54 تا 59
ترجمہ : اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں ہر قسم کے عمدہ مضامین مختلف انداز سے بیان کئے ہیں من کل مثلٍ موصوف محذوف مثلاً کی صفت ہے یعنی ہر قسم کی مثالیں تاکہ نصیحت حاصل کریں، اور کافر انسان بڑا جھگڑالو ہے یعنی خصومت میں باطل طریقہ اختیار کرتا ہے جَدَلاً کان کے اسم سے منقول ہو کر تمیز ہے، تقدیر عبارت یہ ہے وکان جَدَلُ الانسان اکثر شئ فیہ اور لوگوں کو یعنی کفار مکہ کو ایمان لانے اور اپنے پروردگار سے معافی طلب کرنے سے ان کے پاس ہدایت قرآن پہنچنے کے بعد صرف اس انتظار نے روکا کہ ان کو بھی پہلی امتوں جیسا معاملہ پیش آجائے یا یہ کہ عذاب ان کے روبرو آکھڑا ہو، سنۃُ الاولین…
Read the full tafseer →وربک الغفور ذوالرحمۃ لو یواخذہم بما کسبوا لعجل لہم العذاب بل لہم موعد لن یجدوا من دونہ موئلا۔ اور آپ کا رب بڑا مغفرت کرنے والا ہے ‘ رحمت والا ہے ‘ اگر ان سے ان کے اعمال پر
داروگیر کرنے لگتا تو ان پر فوراً ہی عذاب واقع کردیتا (مگر ایسا نہیں کرتا) بلکہ ان کے واسطے ایک معین وقت ہے کہ اس سے ورے کوئی پناہ کی جگہ نہیں پاسکتے۔
اَلْغَفُوْر (مبالغہ کا صیغہ ہے) بہت زیادہ مغفرت کرنے والا۔
ذُوا الرَّحْمَۃِ (رحمت والا) یعنی جس کی صفت رحمت ہے۔
یُؤَاخِذُہُمْ ۔۔ اللہ کے غفور و رحیم ہونے کی شہادت یہ ہے کہ قریش کو اس نے مہلت اور چھوٹ دے رکھی ہے باوجودیکہ وہ رسول اللہ ﷺ : کی عداوت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔…
Read the full tafseer →(58) اور آپ کا پروردگار بڑا مغفرت کرنے والا اور بڑی رحمت والا ہے کہ ان سے عذاب کو ٹال رکھا ہے، اگر ان سے ان کے شرک پر پکڑ کرنے لگتا تو ان ہی دنیا میں فوری عذاب نازل کردیتا بلکہ ان کی ہلاکت کے لیے ایک مقرر وقت ہے کہ اس عذاب الہی سے یہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں پاسکتے۔
Read the full tafseer →وَرَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذو الرَّحْمَةِ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة اعراف (156) ، سورة نجم (32) اور زمر (53)۔
لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نحل (61) اور فاطر (45)۔
بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ يَّجِدُوْا۔۔ : ”مَوْىِٕلًا“ ”وَأَلَ یَءِلُ اِلٰی مَکَانٍ“ کسی جگہ کی طرف پناہ لینا۔ ”مَوْىِٕلًا“ پناہ کی جگہ، یعنی ان کے عذاب کے وعدے کا ایک وقت ہے، دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ جب ان کی گرفت ہوگی تو اس سے بچنے کے لیے وہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے۔ تو اے کفار قریش ! تمہیں بھی ڈرتے رہنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ آخر کار تمہارا بھی وہی حشر ہو…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وربک الغفور ذوالرحمۃ یعنی وہ گناہوں کو بخشنے والا ہے، یہ اہل ایمان کے ساتھ خاص ہے۔ کفار اس میں داخل نہیں۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ (النسائ :48) ۔ ذوالرحمۃ۔ اس میں چار تاویلات ہیں۔ -1 ذوالعفو۔ معافی دینے والا۔ -2 ذوالثواب۔ ثواب دینے والا۔ ان دونوں تاویلات پر اہل ایمان کے ساتھ مختص ہوگا کفار داخل نہ ہوں گے۔ -3 ذوانعمۃ۔ نعمتیں عطا فرمانے والا۔ -4 ذوالھدی۔ ہدایت دینے والا۔ ان دونوں تاویلات کی ببناء پر یہ اہل ایمان اور کفار دونوں کو شامل ہوگا، کیونکہ وہ دنیا میں کافر پر بھی انعام فرماتا ہے جس طرح مومن پر انعام فرماتا ہے۔ اس نے اپنی ہدایت کو کافر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا ان تاتیہم سنۃ الاولین “ یعنی پہلے لوگوں کی سزا (کی خبر ان کے پاس آچکی تھی)
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ پڑھا یعنی قبائل (پر عذاب کی خبریں ان کے پاس آچکی تھیں )
3:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ سے مراد ہے اچانک (ان کے پاس عذاب آیا)
4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ سے مراد ہے روبرو آمنے سامنے۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قبلا “ سے…
Read the full tafseer →[وَرَبُّكَ : اور آپ ﷺ کا رب ] [الْغَفُوْرُ : ہی بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ذُو الرَّحْمَةِ : رحمت والا ہے ] [لَوْ : اگر ] [يُؤَاخِذُهُمْ : وہ پکڑتا ان کو ] [بِمَا : بسبب اس کے جو ] [كَسَبُوْا : انھوں نے کمایا ] [لَعَجَّلَ : تو وہ ضرور جلدی لے آتا ] [لَهُمُ : ان کے لئے ] [الْعَذَابَ : عذاب کو ] [بَلْ : بلکہ (یعنی لیکن)] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [مَّوْعِدٌ: وعدے کا ایک وقت ہے ] [لَّنْ يَّجِدُوْا : (اس وقت) وہ لوگ ہرگز نہیں پائیں گے ] [مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [مَوْىِٕلًا : کوئی پناہ لینے کی جگہ ]
و ء ل
[وَأْلًا : (ض) ] پناہ لینا۔
مَوْگلٌ اسم الظرف ہے۔ پناہ لینے کی جگہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 58 ۔
Read the full tafseer →(وَ رَبُّکَ الْغَفُوْرُ ذو الرَّحَمَۃِ ) (اور آپ کا رب بہت مغفرت کرنے والا اور بہت رحمت والا ہے) وہ ڈھیل دیتا ہے عذاب دینے میں جلدی نہیں فرماتا۔ جب بھی کوئی شخص کفر اور شرک سے توبہ کرے وہ اسے بخش دے گا اور اپنی رحمت کے دامن میں لے لے گا۔ (لَوْ یُؤَاخِذُھُمْ بِمَا کَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَھُمُ الْعَذَابَ ) (اگر اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کا مواخذہ فرمائے تو ان کے لیے جلدی عذاب بھیج دے۔ )
(بَلْ لَّھُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِہٖ مَوْءِلًا) (بلکہ ان کے لیے ایک دن مقرر ہے کہ اس سے ورے ہرگز پناہ کی جگہ نہ پائیں گے) یہ لوگ کیسی ہی عذاب کی جلدی کریں اور کیسا ہی عذاب مانگیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
گندم از گندم بروید جو زجو از مکافات عمل غافل مشو
غرور اور تکبر کا حال اور مال
قال اللہ تعالیٰ واذا قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وجعلنا لمہلکم موعدا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل دولت کے غرور اور تکبر کا حال بیان کیا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ تمام خرابیوں کی جڑ یہی تکبر ہے جس کا آغاز ابلیس لعین سے ہوا اور تواضع اور نیاز مندی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کردینا بھی تمام بھلائیوں اور خوبیوں کی جڑ ہے۔ جس کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا یہ تمہارے باپ کا طریقہ ہے لہٰذا تم کو چاہئے کہ اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کے طریقہ پر چلو پس خوب سمجھ لو کہ جو دولت مند کفر کرتے ہیں اور اپنے مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
62:۔ یہ بھی زجر ہے۔ ” وربک الغفور ذو الرحمۃ الخ “ یعنی اللہ تعالیٰ غفور، اور ذو الرحمۃ بھی ہے، لیکن اگر لوگوں کی بد اعمالیوں پر ان کو پکڑ لے تو اس کے عذاب سے بھی ان کو کوئی نہیں چھڑا سکتا۔
63:۔ یہ دنیا کا عذاب تو معمولی عذاب ہے آخرت کا عذاب بڑا سخت اور اس سے بچنے کی بھی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ ” موئلا “ جائے پناہ اور جائے فرار، ” و تلک القری الخ “ کا اشارہ محسوس مبصر کی طرف نہیں بلکہ معہود فی الذہن کی طرف ہے اور ” القری “ سے پہلے مضاف مقدر ہے ای اھل القری۔ اور اس سے مراد عاد وثمود اور قوم لوط ہے۔ ان اقوال کی تباہی کی داستانیں عرب میں معروف ومعلوم تھیں اس لیے انہیں بمنزلہ محسوس قرار دے کر ” تلک “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
ربط آیات :
گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مال اولاد کو دنیا کی زندگی کی رونق سے تعبیر کیا تھا اور تلقین کی تھی کہ ان چیزوں میں منہمک ہو کر اپنے مقصود حقیقی سے غافل نہ ہوجانا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں باقیات الصالحات ہی بہتر ہیں ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کا ذکر اور تسبیح کے کلمات ، تمام عبادات اور نیکی کے کام باقیات الصالحات میں داخل ہیں ، مفسر قرآن اور مشہور تابعی حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ نیکی نیتی بھی باقیات الصالحات میں شامل ہے ۔
اس کے بعد گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کی گمراہی کا ذکر کیا اور انسانوں کو آگاہ کیا کہ ابلیس اور اس کی اولاد تمہاری دشمن ہے ، انہیں اپنا…
Read the full tafseer →وَرَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَۃِ 0ۭ لَوْ يُؤَاخِذُہُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَہُمُ الْعَذَابَ 0ۭ بَلْ لَّہُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ يَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِہٖ مَوْىِٕلًا 58
غفر
الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285]
( غر ) الغفر
( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
تفسیر : یہاں تک انسان کی بدی کا یقینی نتیجہ نہایت پراثر اور عمدہ پیرایہ سے بیان فرمایا گیا اور مسئلہ میعاد کی پوری تشریح کردی گئی اور دنیا کے اسباب اور اس کی بقاء کا بھی پورا نقشہ کھینچ دیا گیا، مثالیں بھی پیش کی گئیں مگر کج رو، کج طبع اس پر بھی نہیں مانتے۔ اس مضمون کو ولقد صرفنا سے شروع کیا اور یہ بھی فرمایا کہ وکان الانسان اکثر شیئٍ جدلا کہ انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے اس کی طبیعت میں حجت و تکرار ہے جس کی وجہ سے اتنی تفصیل سے سمجھانے پر بھی ایمان نہیں لاتے۔ ومامنع الناس ان یؤمنوا۔ اب ان کو ایمان لانے سے اسی بات نے روک رکھا ہے کہ یا تو جو اگلی قوموں کے ساتھ برتاؤ ہوا تھا ان کے ساتھ بھی وہی ہو…
Read the full tafseer →وَرَبُّکَ الْغَفُوْرُ ذُوالرَّحْمَۃِ ط لَوْیُؤَاخِذُھُمْ بِمَا کَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَھُمُ الْعَذَابَ ط بَلْ لَّھُمْ مَّوْعِدٌلَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِہٖ مَوْئِلاً ۔ (الکہف : 58)
( اور آپ ﷺ کا رب بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے، اگر وہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے فوراً پکڑنا چاہتا تو ان پر فوراً عذاب بھیج دیتا لیکن ان کے لیے ایک مقررہ وقت ہے اور وہ اس کے مقابل میں کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے۔ )
مَوْئِل … آلَ یَئُوْلُ سے ظرف ہے، پناہ کی جگہ۔
مجرموں کو مہلت دینے کی حکمت
گزشتہ آیت سے یہ معلوم ہوا کہ افراد اور قوموں کو ایک خاص حد تک مہلت دی جاتی ہے لیکن جب وہ اس مہلت سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء سے مذاق کرنے، حقائق سننے اور انہیں تسلیم نہ کرنے کے باوجود لوگوں کو نہیں پکڑتا تو اس کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی رحیم ہے اس نے مجرموں کی گرفت کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔
رب کریم نے اپنے گنہگار بندوں کو نہایت شفقت آمیز الفاظ کے ساتھ تسلی دیتے ہوئے دعوت دی ہے۔ کہ اے نبی ﷺ میرے بندوں کو فرمائیں جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیے ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب گناہوں کو معاف کرنے والا، نہایت مہربان اور بخشنے والا ہے۔ (الزمر : 53)
اللہ تعالیٰ لوگوں کے گناہوں اور جرائم کی وجہ سے فی الفور گرفت کرے تو کوئی اس کے عذ اب سے نہیں…
Read the full tafseer →وقت موعود تک رحمت سے بچے ہوتے ہیں :
58: وَرَبُّکَ الْغَفُوْرُ (اور آپکا رب بخشنے والا ہے) انتہائی بخشش کرنے والا۔ ذُوالرَّحْمَۃِ رحمت والا ہے۔ رحمت کی صفت سے متصف ہے۔ لَوْ یُؤَا خِذُھُمْ بِمَا کَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَھُمُ الْعَذَابَ (اگر ان سے ان کے اعمال پر دا روگیر کرتا تو ان پر فوراً ہی عذاب واقع کردیتا) یعنی اہل مکہ سے جلد مواخذہ نہ کرنا۔ یہ محض اسکی رحمت ہے حالانکہ اہل مکہ کو رسول ﷺ سے شدید دشمنی ہے۔ بَلْ لَّھُمْ مَّوْعِدٌ (بلکہ ان کیلئے ایک وعدہ کا وقت ہے) اور وہ یوم بدر ہیلَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِہٖ مَوْ ئِلًا (وہ اس سے ورے کوئی پناہ کی جگہ نہیں پاسکتے) مَوپلًا کا معنی پناہ گاہ، نجات…
Read the full tafseer →(58)” وربک الغفور ذوالرحمۃ “ اس سے نعمت والا ہونا مراد ہے۔ ” لویواخذھم “ کفار کا مؤاخذہ ان کا تعاقب ” بما کسبوا “ گناہوں میں سے جو کچھ انہوں نے کمایا۔ ” لعجل لھم العذاب “ دنیا میں عذاب کو جلدی طلب کرتے ہیں۔” بل لھم موعدھم “ بعث اور حساب کتاب کے لیے۔ ” لن یجدوا من دونہ موئلاً “ اس کا ٹھکانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
55۔ 59۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں میں طرح طرح کی مثالیں دے کر ان مشرکین مکہ کو سمجھایا جاتا ہے مگر یہ لوگ اپنے جھوٹے جھگڑوں سے باز نہیں آتے کبھی کہتے ہیں اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا کوئی فرشتہ ہونا چاہیے کبھی کہتے ہیں اگر تم اللہ کے رسول ہو تو مکہ کے گردو نواح کے پہاڑ ہٹا کر ان کی جگہ کھیتی کی زمین نکال دو ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے قرآن کی نصیحت نہ ماننے اور شرک سے باز نہ آنے کا یہی سبب ہے کہ اللہ کے علم غیب کے موافق ان میں سے کچھ لوگوں پر پچھلی امتوں کی طرح دنیا کا کچھ عذاب وقت مقررہ سے پہلے ان میں کے جو لوگ شرک کی حالت پر مرجائیں گے ان کے سر پر آخرت کا عذاب ناگہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
آیت 56
یعنی ہم رسولوں کو عبث اور بےفائدہ نہیں بھیجتے نہ ان کو اس لئے مبعوث کرتے ہیں کہ لوگ ان کو معبود بنالیں اور نہ اس لئے کہ وہ خود معبود ہونے کا دعویٰ کریں بلکہ ہم نے انہیں صرف اس لئے مبعوث کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو ہر بھلائی کی طرف بلائیں اور ہر برائی سے روکیں اطاعت کرنے پر ان کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنائیں اور نافرمانی کرنے پر دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرائیں۔ پس رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر حجت قائم ہوگئی۔ بایں ہمہ ظالم کفار باطل ہتھکنڈوں کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لئے جھگڑتے ہیں۔ پس جہاں تک ممکن ہوا کفار حق کے ابطال اور اس کے نیچا دکھانے کے لئے باطل کی مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–60
ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم
قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان
حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…
Read the full tafseer →104۔ رب تعالیٰ کی شان عفو و درگزر کا حوالہ وذکر۔ سبحانہ وتعالیٰ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور تمہارا رب بڑا ہی درگزر کرنے والا انتہائی مہربان ہے “ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لئے وہ مجرموں کو فورا نہیں پکڑتا کہ شاید یہ توبہ کرکے صحیح راستے پر آجائیں۔ اور ایسی صورت میں وہ غفور ورحیم ان کے تمام گناہ بھی ان کی سچی توبہ پر معاف فرما دیتا ہے اور ایسا اور اس حد تک کہ ان کے گناہوں کے آثار و نشانات تک کو بھی مٹا دیتا ہے۔ سو اس کی رحمت و عنایت کا کوئی کنارہ نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ مگر جو بدنصیب اس کی طرف رجوع ہی نہ کریں ان کا کیا علاج ہوسکتا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ، پس نہ تو کوئی اس کی مغفرت وبخشش اور رحمت و عنایت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
ہدایت واضح ہوجانے کے بعد ایمان نہ لانے والوں کا انجام
تشریح : قرآن سو فیصد انسان کے لیے رحمت، نعمت اور برکت ہے۔ اور پیغمبر جو یہ نعمت لے کر بندوں کے پاس آئے وہ بھی انسان کے لیے بہت بڑی رحمت اور فضل ہے، مگر انسان فطرتاً جھگڑالو ہے۔ اتنا کچھ لینے اور سمجھنے کے باوجود بھی بےوقوفی اور نااہلی کا ثبوت دیتا ہے۔ کبھی شیطان کا دوست بن کر شیطانی کام کرنے لگتا ہے اور یوں اپنے لیے دنیا کی زندگی کو عذاب بنا لیتا ہے کیونکہ برے کاموں کا برا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ جو دوسروں کے لیے گڑھا بناتا ہے وہ خود بھی اس میں گرتا ہے۔ ایک چور کی زندگی جس پریشانی اور مصیبت میں گزرتی ہے وہ ایک نیک صالح اور متقی کی زندگی کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
لوگوں کو اللہ جل جلالہ کے نبی ﷺ کی نافرمانی کرکے اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالنا چاہئے مگر ان کا حال تو ایسا ہے گویا جب اللہ نے احسان فرما کر اپنے رسولوں کے ذریعے سے ہدایت پہنچا دی تو یہ بجائے اللہ سے بخشش مانگنے کے جس کا طریقہ ایمان لانا تھا الٹا پہلی تباہ ہونے والی قوموں جیسے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں یا یہ چاہتے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کا عذاب انہیں سیدھے سامنے آلے ، جبکہ انبیاء کو ثبوت نبوت کے لیے معجزات اور لوگوں کی ہدایت کیلئے واضح قوانین عطا ہوتے ہیں تو یہ لوگ ناحق جھگڑا کھڑا کرنے کے لیے باتیں بناتے ہیں کہ شاید اس طرح حق کو ٹال سکیں گے اور جواب نہ پا کر مذاق اڑاتے…
Read the full tafseer →ف 2 چاہے قیامت کے دن اور چاہے اس دنیا میں3 یعنی آخر کار ذلیل و خوار رہوں گے جب ان کی گرفت ہوگی تو اس سے بچنے کے لئے کوئی پناہ گاہ نہیں بنائینگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
(18:58) موعد۔ اسم ظرف زمان۔ وعدہ کا وقت۔ موئلا۔ اسم ظرف مکان۔ وأل مادہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ جائے پناہ۔ وأل یئل (ضرب) وأل وء ول مصدر وأل فلانا کسی سے پناہ لینا۔ وأل الی اللہ اللہ کی طرف رجوع کرنا۔ الوال الموئل پناہ کی جگہ۔
(18:59) تلک القری۔ یہ بستیاں۔ مراد ان بستیوں کے باشندگان۔ اشارہ ان سرکش اور نافرمان قوموں کی طرف ہے جن کی ہلاکت کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آیا ہے۔ مثلاً قوم عاد۔ قوم ثمود۔ قوم لوط وغیرہ۔
مھلکہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا ہلاک ہونا۔ مھلک مصدر میمی ہے۔ موعدا۔ وعدہ کا وقت ۔ اسم ظرف زمان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 59
ذکر یاد دلایا گیا۔ اعرض اس نے منہ پھیر اپنی ۔ نسی وہ بھول گیا۔ قدمت آگے بھیجا۔ اکنۃ پردہ۔ ان یفقھوہ یہ کہ وہ اس کو سمجھے۔ اذا اس وقت۔ کسبوا انہوں نے کمایا۔ عجل اس نے جلدی کی۔ موئل بچنے کی جگہ۔ القریٰ بستیاں مھلک برباد ہونے۔ موعد وقت مقرر۔
تشریح :- آیت نمبر 57 تا 59
واقعی اس سے بڑھ کر زیادتی اور ظلم کیا ہوگا۔ کہ جب ایک خیر خواہ جس کی کوئی ذاتی غرض یا فائدہ نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اللہ کا کلام پورے خلوص سے پیش کر رہا ہے۔ اس کی بات نہ سنی جائے اور نہ اس پر توجہ کی جائے بلکہ اس سے منہ پھیر پھیر کر چلا جائے اور اس کو ایسا بےحقیقت سمجھا جائے کہ اس…
Read the full tafseer →اس آیت میں فرمایا کہ تمہارا پروردگار مغفرت کرنے والا ہے اور بندوں کے حال پر مہربان ہے۔ اگر کافر بھی توبہ کرلیں تو ان کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ یہیں ان کے اعمال کی گرفت کرنا چاہے تو یہیں عذاب بھیج دے مگر اللہ کو یہ منظور نہیں۔ بلکہ اللہ کو یہ منظور ہے کہ دنیا میں ان کو مہلت دے جائے اور قیامت کو ان کی سزا کا دن مقرر کیا جائے۔ خدا کے سوا ان کو کوئی پناہ دینے والا نہیں وہ جس کو چاہے پناہ دے جس کو چاہے نہ دے۔
Read the full tafseer →[21] یعنی یوم قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
(ف 1) یہ ان کی قساوت قلبی اور بدبختی کی انتہائی صورت ہے کہ دل مسخ ہوگئے ہیں ، اور کانوں میں حق کے لئے قوت سماعت نہیں رہی ۔
یہ یاد رہے کہ یہ محض ایک انداز بیان ہے ورنہ اعراض و غفلت کی کوتاہیاں ہمیشہ ان سے سرزد ہوئیں ، انہوں نے خود دلوں کو تعصب وعناد کی تاریکیوں سے آلودہ رکھا اور کانوں کو حق کی آواز سے نا آشنا اللہ اس کیفیت تغافل و انکار کو دلوں پر پردہ ڈال دینے سے تعبیر کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے ، ان لوگوں نے بھی اس بات پر اعتراض نہیں کیا ، کہ قرآن ہمیں ناقابل اصلاح ٹھہراتا ہے ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ بالکل ہمارے ارادوں کی ترجمانی ہے ۔
حل لغات :
موئلا : مرجع وماوی :
Read the full tafseer →-58 اور عذاب میں تاخیر ہونے کی وجہ سے یہ سمجھتے ہوں کہ عذاب آئے گا ہی نہیں تو یہ غلط ہے بلکہ تاخیر کی وجہ یہ ہ کہ اے پیغمبر آپ کا پروردگار بڑا بخشنے والا ہے اور رحمت و مہربانی اس کا شیوہ ہے اگر اللہ تعالیٰ ان کے اعمال پر دارد گیر کرتا اور ان کے کئے پر پکڑتا تو فوراً ہی عذاب بھیج دیتا اور عذاب نازل کرنے میں جلدی اور تعجیل سے کام لیتا مگر ان کے عذاب کے لئے ایکم عین وقت ٹھہرا رکھا ہ اور عذاب کا ایک وقت موعود ہے اس وقت یہ عذاب سے درے اور عذاب سے پہلے کوئی سرک جانے کی جگہ نہ پائیں۔ یعنی تاخیر کی وجہ محض شفقت اور اس کا غفور ہونا ہے اس کا یہ طریقہ نہیں کہ گنہگاروں کی گرفت میں عجلت سے کام لے۔ ہر مجرم…
Read the full tafseer →ف 2۔ پس مہلت اس لئے دی ہے کہ اگر مسلمان ہوجاویں تو ان کی مغفرت کردوں گا دوسرے خود رحمت بھی مقتضی ہے کہ ایمان نہ لانے پر بھی دنیا میں عذاب شدید سے مہلت دی جاوے۔
Read the full tafseer →بدعملیوں میں جو ان کو نہیں پکڑا جا رہا تو یہ اس کی رحمت کے باعث ہے :
62۔ قانون الہی یہ نیں کہ جب کوئی شخص قانون الہی کی خلاف ورزی کرے تو اس کو اسی وقت پکڑ لے ، کیوں ؟ اس لئے کہ اگر وہ ایسا کرے تو انسان کو خود اختیاری کا جو تمغہ اس نے دیا ہے وہ برقرار نہیں رہتا اس لئے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہی معا اس کو پکڑ لیا جائے اس کے قانون کے خلاف ہے اور اپنے قانون کے خلاف وہ ہرگز ہرگز نہیں کرتا اس لئے اس کی مغفرت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک وقت تک اس کو ڈھیل دی جائے جب تک اس کے قانون میں ڈھیل دیا جانا منظور ہے وہ دیتا رہتا ہے اور جب وہ وقت ختم ہوجاتا ہے پھر اس کو کوئی پناہ دینا بھی چاہے تو نہیں دی جاسکتی ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
The statement: وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا (And man is the most quarrel-some of all things - 54) has been testified through a Hadith narrated by Sayyidna 'Anas ؓ in which the Holy Prophet ﷺ has been reported to have said, "On the day of Qiyamah, a man from among the disbelievers will be brought forth. He will be asked, 'what was your response to the messenger We had sent to you?' He will say, '0 my Lord, as for me, I did believe in You and in Your messenger too and that I obeyed him in everything I did.' Allah Ta` ala will say, 'here is your book of deeds before you. All this…
Read the full tafseer →55. This is to warn the foolish people that they should not be deluded by the respite that is given to them and presume that they will never be taken to task whatever they may go on doing. They forget that Allah gives them respite because He is Forgiving and Forbearing and does not punish the evil doers on the spot, for His Mercy demands that the evil doers should be given respite so that they may mend their ways.
Read the full tafseer →