Al-Kahf 18:57

Al-Kahf · from ayah 57

18:57

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ ؕ— اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَفِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا ؕ— وَاِنْ تَدْعُهُمْ اِلَی الْهُدٰی فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا ۟وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعۡرَضَ عَنۡهَا وَنَسِىَ مَا قَدَّمَتۡ يَدٰهُ‌ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا‌ ؕ وَاِنۡ تَدۡعُهُمۡ اِلَى الۡهُدٰى فَلَنۡ يَّهۡتَدُوۡۤا اِذًا اَبَدًا

اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اُس نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو رستے کی طرف بلاؤ تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And who is more unjust than one who is reminded of the verses of his Lord but turns away from them and forgets what his hands have put forth? Indeed, We have placed over their hearts coverings, lest they understand it, and in their ears deafness. And if you invite them to guidance - they will never be guided, then - ever.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 8 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:57

اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جائے اور وہ اُن سے منہ پھیرے اور اُس برے انجام کو بھول جائے جس کا سر و سامان اس نے اپنے لیے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے؟ (جن لوگوں نے یہ روش اختیار کی ہے) ان کے دلوں پر ہم نے غلاف چڑھا دیے ہیں جو انہیں قرآن کی بات نہیں سمجھنے دیتے، اور اُن کے کانوں میں ہم نے گرانی پیدا کر دی ہے تم انہیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بلاؤ، وہ اس حالت میں کبھی ہدایت نہ پائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اُس نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو رستے کی طرف بلاؤ تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے؟ جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے وه پھر منھ موڑے رہے اور جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھا ہے اسے بھول جائے، بےشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وه اسے (نہ) سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے، گو تو انہیں ہدایت کی طرف بلاتا رہے، لیکن یہ کبھی بھی ہدایت نہیں پانے کے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیتوں کے حوالے سے نصیحت کی جائے، تو وہ ان سے منہ موڑ لے، اور اپنے ہاتھوں کے کرتوت کو بھلا بیٹھے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے (ان لوگوں کے کرتوت کی وجہ سے) ان کے دلوں پر غلاف چڑھا دیے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس (قرآن) کو نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دی ہے۔ اور اگر تم انہیں ہدایت کی طرف بلاؤ، تب بھی وہ صحیح راستے پر ہرگز نہیں آئیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کی ہنسی بنالی اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جسے اس کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو وہ ان سے منہ پھیرلے اور اس کے ہاتھ جو آگے بھیج چکے اسے بھول جائے ہم نے ان کے دلوں پر غلاف کردیے ہیں کہ قرآن نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی اور اگر تم انہیں ہدایت کی طرف بلاؤ تو جب بھی ہرگز کبھی راہ نہ پائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی نشانیاں یاد دلائی گئیں تو اس نے ان سے رُوگردانی کی اور ان (بداَعمالیوں) کو بھول گیا جو اس کے ہاتھ آگے بھیج چکے تھے، بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس حق کو سمجھ (نہ) سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ پیدا کر دیا ہے (کہ وہ اس حق کو سن نہ سکیں)، اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو وہ کبھی بھی قطعًا ہدایت نہیں پائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی تو اس نے ان سے منہ پھیرلیا اور اسے بھول گیا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا تھا، بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے بنا دیے ہیں، اس سے کہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ رکھ دیا ہے اور اگر تو انھیں سیدھی راہ کی طرف بلائے تو اس وقت وہ ہرگز کبھی راہ پر نہ آئیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اللہ کی آیات سے نصیحت کی جائے اور وہ اس سے منہ پھیر لے اور اپنے وہ سب کام بھول جائے جو اس نے آگے بھیجے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ قرآن کو سمجھ ہی نہیں سکتے اور ان کے کانوں میں گرانی ہے اور اگر آپ انھیں راہ راست کی طرف بلائیں بھی تو وہ کبھی اس راہ پر نہیں آئیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جن کو ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے یاد دہانی کی جائے تو وہ اس سے اعراض کریں اور اپنے ہاتھوں کی کرتوت کو بھول جائیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے دی ہے کہ اس کو نہ سنیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جس کو نصیحت کی جائے اس کے رب کی آیتوں کے ذریعے، بیشک ہم نے ایسے لوگوں کے دلوں پر پردے ڈال دئیے ہیں اس سے کہ وہ سمجھیں اس (پیغام و صداقت) کو، اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دئیے ہیں (اس سے کہ وہ اس کو سنیں) ، اور اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو ایسی صورت میں وہ کبھی بھی ہدایت نہیں پاسکیں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے پروردگار کی نشانیوں کی ذریعہ سے نصیحت کی جائے سو وہ اس سے روگردانی کرے اور جو کچھ اپنے ہاتھوں سمیٹ رہا ہے اسے بھلادے۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں اس کے سمجھنے سے اور اس کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھی ہے۔ اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو یہ ایسی حالت میں ہرگز راہ پر نہ آئیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے نصیحت کی گئی ہو اس کے رب کی آیات کے ذریعے تو اس نے اعراض کیا ان سے اور وہ بھول گیا کہ کیا آگے بھیجا ہے اس کے دونوں ہاتھوں نے یقیناً ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ اس (قرآن) کو سمجھ نہ پائیں اور ان کے کانوں میں بوجھ (ڈال دیا ہے) اور اگرچہ آپ بلائیں انہیں ہدایت کی طرف تب بھی وہ کبھی ہدایت نہیں پائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے رب کے کلام سے سمجھایا گیا تو اس نے اس سے منہ پھیرلیا، اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں اور اگر آپ ان کو رستے کی طرف بلائیں تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Who is more wicked than the man who, when he is reminded by the revelations of his Lord, turns away from them and forgets (the consequence of) the deeds wrought by his own hands? We have laid veils over their hearts lest they understand the message of the Qur'an, and We have caused heaviness in their ears. Call them as you may to the Right Path, they will not be ever guided aright.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Who is more unjust than the one who was reminded through the signs of his Lord, but he turned away from them, and forgot what his own hands sent ahead. Indeed We have put covers on their hearts that bar them from understanding it, and (We have created) deafness in their ears. And if you call them to guidance, even then they will never adopt the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

Who is more unjust than the one who was reminded through the signs of his Lord, but he turned away from them, and forgot what his own hands sent ahead. Indeed We have put covers on their hearts that bar them from understanding it, and (We have created) deafness in their ears. And if you call them to guidance, even then they will never adopt the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And who does more wrong than he who is reminded of the Ayat (signs) of his Lord, but turns away from them, forgetting what his hands have sent forth. Truly, We have set over their hearts Akinnah, lest they should understand this (the Qur'an), and in their ears, deafness. And if you call them to guidance, even then they will never be guided.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And who doth greater wrong than he who hath been reminded of the revelations of his Lord, yet turneth away from them and forgetteth what his hands send forward (to the Judgment)? Lo! on their hearts We have placed coverings so that they understand not, and in their ears a deafness. And though thou call them to the guidance, in that case they can never be led aright.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And who is more unjust than one who is reminded of the verses of his Lord but turns away from them and forgets what his hands have put forth? Indeed, We have placed over their hearts coverings, lest they understand it, and in their ears deafness. And if you invite them to guidance - they will never be guided, then - ever.

— Saheeh International

Who are more unjust than those who are reminded of the revelations of their Lord but have disregarded them and have forgotten their deeds? We have veiled their hearts and sealed their ears so that they cannot understand. Even if you call them to the right path, they will never accept guidance.

— Muhammad Sarwar

And who is more unjust than he who is reminded of the communications of his Lord, then he turns away from them and forgets what his two hands have sent before? Surely We have placed veils over their hearts lest they should understand it and a heaviness in their ears; and if you call them to the guidance, they will not ever follow the right course in that case.

— Muhammad Habib Shakir

And who doth greater wrong than he who is admonished with the signs of His Lord yet turneth away from them and forgetteth that which his hands have sent forth? Verily We have set up veils over lest they should understand it, and in their ears a heaviness; and if thou callest them to the guidance, lo! they will not let themselves be guided ever.

— Abdul Majid Daryabadi

And who doth more wrong than one who is reminded of the Signs of his Lord, but turns away from them, forgetting the (deeds) which his hands have sent forth? Verily We have set veils over their hearts lest they should understand this, and over their ears, deafness, if thou callest them to guidance, even then will they never accept guidance.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:57

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–59

بد ترین شخص کون ہے ؟ فی الحقیقت اس سے بڑھ کر پاپی کون ہے ؟ جس کے سامنے اس کے پالنے پوسنے والے کا کلام پڑھا جائے اور وہ اس کی طرف التفات تک نہ کرے اس سے مانوس نہ ہو بلکہ منہ پھیر کر انکار کر جائے اور بدعملیاں اور سیاہ کاریاں اس سے پہلے کی ہیں انہیں بھی فراموش کر جائے۔ اس ڈھٹائی کی سزا یہ ہوتی ہے کہ دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں پھر قرآن وبیان کا سمجھنا نصیب نہیں ہوتا کانوں میں گرانی ہوجاتی ہے بھلی بات کی طرف توجہ نہیں رہتی اب لاکھ دعوت ہدایت دو لیکن راہ یابی مشکل و محال ہے۔ اے نبی تیرا رب بڑا ہی مہربان بہت اعلیٰ رحمت والا ہے اگر وہ گنہگار کی سزا جلدی ہی کر ڈالا کرتا، تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْكَهْف 54 یعنی جب کوئی شخص یا گروہ دلیل و حجت اور خیر خواہانہ نصیحت کے مقابلے میں جھگڑالو پن پر اتر آتا ہے، اور حق کا مقابلہ جھوٹ اور مکر و فریب کے ہتھیاروں سے کرنے لگتا ہے، اور اپنے کرتوتوں کا برا انجام دیکھنے سے پہلے کسی کے سمجھانے سے اپنی غلطی ماننے پر تیار نہیں ہوتا، تو اللہ تعالیٰ پھر اس کے دل پر قفل چڑھا دیتا ہے اور اس کے کان ہر صدائے حق کے لیے بہرے کردیتا ہے۔ ایسے لوگ نصیحت سے نہیں مانا کرتے بلکہ ہلاکت کے گڑھے میں گر کر ہی انہیں یقین آتا ہے کہ وہ ہلاکت تھی جس کی راہ پر وہ بڑھے چلے جا رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–59

(آیت) وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ساری مخلوقات میں سب سے زیادہ جھگڑالو انسان واقع ہوا ہے اس کی شہادت میں ایک حدیث حضرت انس سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ایک شخص کفار میں سے پیش کیا جائے گا اس سے سوال ہوگا کہ ہم نے جو رسول بھیجا تھا ان کے متعلق تمہارا کیا عمل رہا ؟ وہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار میں تو آپ پر بھی ایمان لایا آپ کے رسول پر بھی اور عمل میں ان کی اطاعت کی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ تیرا اعمال نامہ سامنے رکھا ہے اس میں تو کچھ بھی نہیں یہ شخص کہے گا کہ میں تو اس اعمال نامہ کو نہیں مانتا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ ہمارے فرشتے تو تمہاری نگرانی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِنْ تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَى فَلَنْ يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًا بدقسمتوں کے حال پر افسوس : یہ ان بدقسمت لوگوں کی حالت پر افسوس کیا ہے کہ اپنی جانوں پر ان سے بڑھ کر ظلم ڈھانے والا کون ہوسکتا ہے جن کو آیات الٰہی کے ذریعے سے یاد دہانی کی جائے لیکن وہ اس سے نفع اٹھانے کے بجائے ان کو ٹھکرائیں اور عذاب کا مطالبہ کریں اور یہ نہ سوچیں کہ جو اعمال انہوں نے کیے ہیں ان کی بنا پر وہ ہر وقت عذاب الٰہی کے سزاوار ہیں۔ اگر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

57۔ 1 یعنی ان کے اس ظلم عظیم کی وجہ سے کہ انسان نے رب کی آیات سے اعراض کیا اور اپنے کرتوتوں کو بھولے رہے، ان کے دلوں پر ایسے پردے اور ان کے کانوں پر ایسے بوجھ ڈال دیئے گئے ہیں، جس سے قرآن کا سمجھنا، سننا اور اس سے ہدایت قبول کرنا ان کے لئے ناممکن ہوگیا۔ ان کو کتنا بھی ہدایت کی طرف بلا لو، یہ کبھی بھی ہدایت کا راستہ اپنانے کے لئے تیار نہیں ہونگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 55–59

32: یعنی ان لوگوں پر ساری حجتیں تو تمام ہوچکیں۔ اب ان کے پاس اپنے کفر پر اس کے سوا کوئی دلیل باقی نہیں رہی کہ یہ پیغمبر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جیسا عذاب پچھلی امتوں پر آیا تھا، اگر ہم باطل پر ہیں تو ویسا ہی عذاب ہم پر لا کر دکھاؤ۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پیغمبروں کا کام اپنے اختیار سے عذاب نازل کرنا نہیں ہوتا۔ وہ تو لوگوں کو عذاب سے متنبہ کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ نافرمانوں پر فوراً عذاب نہیں بھیجتا، بلکہ اپنی رحمت کی وجہ سے انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ اس مہلت کے دوران جن کو ایمان لانا ہو، وہ ایمان لے آئیں، البتہ اس کی طرف سے نافرمانوں کو عذاب دینے کے لیے ایک وقت مقرر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ لوگ دراصل اللہ کی آیات اور اللہ کے رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ اسلئے ان سے یہ توقع نہ کی جائے کہ یہ لوگ قرآن کو سمجھ لیں گے۔ نہ ان سے یہ توقع کر ھی جائے کہ یہ لوگ اس کی تعلیمات سے نفع اٹھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش کی وجہ سے ان دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے۔ لہٰذا یہ نہ سن سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں اور ان کی اس روش مذاق اور استہزاء کی وجہ سے ان کے لئے ضلالت لکھ دی گئی ہے۔ لہٰذا اب ان کو کبھی بھی ہدایت نہیں ملے گی کیونکہ ہدایت ان لوگوں کو ملتی ہے جو کھلے دل و دماغ سے بات کو سنتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی کبھی بھول کر بھی خیال نہ آیا کہ تکذیب حق اور استہزاء و تمسخر کا جو ذخیرہ آگے بھیج رہا ہے اس کی سزا کیا ہے۔ 2 یعنی ان کے جدال بالباطل اور استہزاء بالحق کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے اور کانوں میں ڈاٹ ٹھونک دی۔ اب نہ حق کو سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں بالکل مسخ ہوگئے۔ پھر حق کی طرف متوجہ ہوں تو کیسے ہوں اور انجام کا خیال کریں تو کیسے کریں۔ ایسے بدبختوں کے راہ پر آنے کی کبھی توقع نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 57 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ بجائے ایمان لانے کے اور اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کرنے کے اس نے اللہ کی آیات سے روگردانی کی روش اپنائے رکھی۔ اس ضد اور ہٹ دھرمی میں وہ اپنے اعمال کے اس جھاڑ جھنکاڑ کو بھی بھول گیا جو اس نے اپنی آخرت کے لیے تیار کر رکھا تھا۔ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا یہ مضمون سورة بنی اسرائیل میں اس طرح آچکا ہے : وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا ”اور جب آپ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

55 یعنی جب کوئی انسان ہٹ دھرمی پر اتر آتا ہے اور حق کے مقابلہ میں جھوٹ اور مکر و فریب کے ہتھکنڈوں سے کام لینا چاہتا ہے مگر اسے حق بات کو قبول کرلینا کسی قیمت پر گوارا نہیں ہوتا تو ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق متعدد مقامات پر مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں یعنی اللہ ان کے دلوں پر پردے ڈال دیتا ہے یا مہر لگا دیتا ہے یا قفل چڑھا دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب ان کے دل حق کو قبول کرنے پر قطعاً تیار نہ ہوں گے نہ ہی ان کے کان حق بات سننے پر آمادہ ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

85۔ (آیت) ” ماقدمت یدہ “۔ یعنی اپنی عصیان کاری کو۔ (آیت) ” نسی “۔ نسیان سے یہاں غیر ارادی سہومراد نہیں۔ بلکہ ارادی تغافل مراد ہے۔ والمراد من النسیان التشاغل والتغافل عن کفرہ المتقدم (کبیر) 86۔ (اس کے سننے سے) (آیت) ” یفقھوہ میں ضمیر ہ الحق کی طرف ہے جو ایک آیت قبل (آیت) ” لیدحضوا بہ الحق “۔ میں گزر چکا۔ (آیت) ” علی قلوبھم اکنۃ۔ فی اذانھم وقرا “۔ دلوں پر پردہ پڑنے اور کانوں میں ڈاٹ دے رکھنے پر حاشیے کئی بار پہلے گزر چکے۔ بندہ جب اپنے قصد واختیار سے کام لے کر حق کی مخالفت عرصہ تک کرتا رہتا ہے کہ نتیجہ کے طور پر اس سے توفیق ہی حق کے سمجھنے اور سننے کی سلب ہوجاتی ہے۔ حق تعالیٰ کی طرف سے یہ فعل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 54–59

آیت نمبر 54 تا 59 ترجمہ : اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں ہر قسم کے عمدہ مضامین مختلف انداز سے بیان کئے ہیں من کل مثلٍ موصوف محذوف مثلاً کی صفت ہے یعنی ہر قسم کی مثالیں تاکہ نصیحت حاصل کریں، اور کافر انسان بڑا جھگڑالو ہے یعنی خصومت میں باطل طریقہ اختیار کرتا ہے جَدَلاً کان کے اسم سے منقول ہو کر تمیز ہے، تقدیر عبارت یہ ہے وکان جَدَلُ الانسان اکثر شئ فیہ اور لوگوں کو یعنی کفار مکہ کو ایمان لانے اور اپنے پروردگار سے معافی طلب کرنے سے ان کے پاس ہدایت قرآن پہنچنے کے بعد صرف اس انتظار نے روکا کہ ان کو بھی پہلی امتوں جیسا معاملہ پیش آجائے یا یہ کہ عذاب ان کے روبرو آکھڑا ہو، سنۃُ الاولین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ فاعرض عنہا ونسی ما قدمت یدہ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس کو اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی گئی اور اس نے آیات سے منہ پھیرلیا اور جو کچھ وہ پہلے کرچکا ہے اس (کے نتیجہ) کو بھول گیا ‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر اور کوئی ظالم نہیں جس کو قرآن کی آیات سے نصیحت کی گئی اور آیات کے الفاظ و معانی کا معجزہ ہونا اس پر واضح ہوگیا امر بھی اس نے آیات پر غور نہیں کیا اور نصیحت پذیر نہ ہوا اور جو گناہ پہلے کرچکا ہے اس کے انجام کو نہیں سوچا (سب کو بھولا بسرا کردیا) ۔ انا جعلنا علی قلوبہم اکنۃ ان یفقہوہ وفی اذانہم وقرا وان تدعہم الی الہدی فلن یہتدوا اذا ابدا۔ ہم نے اس (حق…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(57) اور اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جس کو اس کے رب کی آیات سے نصیحت کی جائے اور پھر اس سے انکار کے ساتھ روگردانی کرے اور جو کچھ اپنے ہاتھوں گناہ سمیٹ رہا ہے اس کے نتیجہ کو بھول جائے، ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں تاکہ یہ حق اور ہدایت کی بات ہی نہ سمجھ سکیں اور ان باتوں کے سمجھنے سے ان کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھے ہے اور اگر آپ ان کو توحید کی طرف بلائیں تو یہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ۔۔ : یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں۔ قرآن مجید میں یہ لفظ جس جس کے متعلق آیا ہے وہ سب ایسے ہیں کہ ان سے بڑا ظالم کوئی نہیں، مثلاً اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ دیکھیے سورة کہف (15)۔ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً۔۔ : ”اَكِنَّةً“ ”کِنَانٌ“ کی جمع ہے، پردے۔ ”وَقْرًا“ کا معنی ہے بوجھ، بہرا پن۔ یعنی جب کوئی شخص کسی کے سیدھی طرح سمجھانے سے کوئی اثر نہیں لیتا، بلکہ جانتے بوجھتے ہٹ دھرم اور جھگڑالو بن جاتا ہے، اللہ کی واضح آیات کا مذاق اڑاتا ہے اور اپنے کرتوتوں اور ان کے برے نتائج سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کرتا تو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ فاعرض عنھا یعنی کوئی اس سے اپنے نفس پر زیادہ ظلم کرنے والا نہیں جسے اس کے رب کی آیات سے نصیحت کی گئی پھر اس نے ان سے نصیحت حاصل کرنے میں کوتاہی کی اور ان کو قبول کرنے سے اعراض کیا۔ ونسی ما قدمت یدہ اپنے کفر اور گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس سے توبہ نہ کی، یہاں سیان کا معنی ترک کرنا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے اسے ببھول گیا جو اس نے اپنے لیے آگے بھیجا اور جو اس نے عذاب حاصل کیا۔ ان دونوں اقوال کا معنی قریب قریب ہے۔ انا جعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ وفی اذانھم وقراً یعنی ان کے کفر کے سبب ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے اور کانوں میں گرانی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 55–59

1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا ان تاتیہم سنۃ الاولین “ یعنی پہلے لوگوں کی سزا (کی خبر ان کے پاس آچکی تھی) 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ پڑھا یعنی قبائل (پر عذاب کی خبریں ان کے پاس آچکی تھیں ) 3:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ سے مراد ہے اچانک (ان کے پاس عذاب آیا) 4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ سے مراد ہے روبرو آمنے سامنے۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قبلا “ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَنْ : اور کون ] [اَظْلَمُ : زیادہ ظالم ہے ] [مِمَنْ : اس سے جس کو ] [ذُكِّرَ : یاد دہانی کرائی گئی ] [بِاٰيٰتِ رَبِهٖ : اس کے رب کی نشانیوں سے ] [فَاَعْرَضَ : تو اس نے اعراض کیا ] [عَنْهَا : ان سے ] [وَنَسِيَ : اور وہ بھول گیا ] [مَا : اس کو جو ] [قَدَّمَتْ : آگے کیا ] [يَدٰهُ : اس کے دونوں ہاتھوں نے ] [انا : بیـشک ہم نے ] [جَعَلْنَا : بنائے ] [عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں پر ] [اَكِنَّةً : کچھ پردے ] [ان : کہ (کہیں)] [يَّفْقَهُوْهُ : وہ سمجھ لیں اس کو ] [وَفِيْٓ اٰذَانهِمْ : اور (بنایا) ان کے کانوں میں ] [وَقْرًا : ایک بوجھ ] [وَان : اور اگر ] [تَدْعُهُمْ : آپ ﷺ بلائیں گے ان کو ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ فَاَعْرَضَ عَنْھَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ ) (اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ نصیحت کی گئی تو اس نے ان سے رو گردانی کی اور جو اعمال اس نے آگے بھیجے ہیں ان کو بھول گیا) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ نزول قرآن کے وقت چونکہ مشرکین مکہ مخاطبین اولین تھے اس لیے اولاً یہ مضمون مشرکین مکہ کو اور ثانیاً دیگر تمام مشرکین اور کافرین کو شامل ہے جن لوگوں کو ایمان لانا نہیں ان کا یہ شغل ہے کہ آیات سنتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اور جو اعمال پہلے بھیج چکے ہیں یعنی کفر و شرک ان کو انہوں نے فراموش کر رکھا ہے وہ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–59

گندم از گندم بروید جو زجو از مکافات عمل غافل مشو غرور اور تکبر کا حال اور مال قال اللہ تعالیٰ واذا قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وجعلنا لمہلکم موعدا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل دولت کے غرور اور تکبر کا حال بیان کیا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ تمام خرابیوں کی جڑ یہی تکبر ہے جس کا آغاز ابلیس لعین سے ہوا اور تواضع اور نیاز مندی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کردینا بھی تمام بھلائیوں اور خوبیوں کی جڑ ہے۔ جس کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا یہ تمہارے باپ کا طریقہ ہے لہٰذا تم کو چاہئے کہ اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کے طریقہ پر چلو پس خوب سمجھ لو کہ جو دولت مند کفر کرتے ہیں اور اپنے مال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 56–57

60:۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے، مشرکین نے کہا جب ہم نہیں مانتے تو ہمیں فوری عذاب سے ہلاک کیوں نہیں کردیا جاتا تو فرمایا ہم رسول اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ وہ ہمارے احکام کی تبلیغ کریں ماننے والوں کو خوشخبری سنائیں اور منکرین کو عذاب سے ڈرائیں تاکہ ان پر ہماری حجت قائم ہوجائے اس کے بعد بھی نہ مانیں تو پھر عذاب آئے گا۔ 61:۔ یہ کفار مجادلین پر زجر ہے، ” بالباطل “ میں با سببیہ ہے اور باطل سے شبہات واہیہ، شکوک باطلہ اور من گھڑت قصے مراد ہیں۔ یعنی یہ لوگ باطل شے پیش کر کے حق کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے میری آیتوں کو اور میری طرف سے عذاب و عقاب کی دھمکیوں کو محض استہزاء و تمسخر کا نشانہ بنا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 54–59

ربط آیات : گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مال اولاد کو دنیا کی زندگی کی رونق سے تعبیر کیا تھا اور تلقین کی تھی کہ ان چیزوں میں منہمک ہو کر اپنے مقصود حقیقی سے غافل نہ ہوجانا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں باقیات الصالحات ہی بہتر ہیں ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کا ذکر اور تسبیح کے کلمات ، تمام عبادات اور نیکی کے کام باقیات الصالحات میں داخل ہیں ، مفسر قرآن اور مشہور تابعی حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ نیکی نیتی بھی باقیات الصالحات میں شامل ہے ۔ اس کے بعد گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کی گمراہی کا ذکر کیا اور انسانوں کو آگاہ کیا کہ ابلیس اور اس کی اولاد تمہاری دشمن ہے ، انہیں اپنا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّہٖ فَاَعْرَضَ عَنْہَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدٰہُ۝ 0ۭ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِہِمْ اَكِنَّۃً اَنْ يَّفْقَہُوْہُ وَفِيْٓ اٰذَانِہِمْ وَقْرًا۝ 0ۭ وَاِنْ تَدْعُہُمْ اِلَى الْہُدٰى فَلَنْ يَّہْتَدُوْٓا اِذًا اَبَدًا۝ 57 ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 54–59

تفسیر : یہاں تک انسان کی بدی کا یقینی نتیجہ نہایت پراثر اور عمدہ پیرایہ سے بیان فرمایا گیا اور مسئلہ میعاد کی پوری تشریح کردی گئی اور دنیا کے اسباب اور اس کی بقاء کا بھی پورا نقشہ کھینچ دیا گیا، مثالیں بھی پیش کی گئیں مگر کج رو، کج طبع اس پر بھی نہیں مانتے۔ اس مضمون کو ولقد صرفنا سے شروع کیا اور یہ بھی فرمایا کہ وکان الانسان اکثر شیئٍ جدلا کہ انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے اس کی طبیعت میں حجت و تکرار ہے جس کی وجہ سے اتنی تفصیل سے سمجھانے پر بھی ایمان نہیں لاتے۔ ومامنع الناس ان یؤمنوا۔ اب ان کو ایمان لانے سے اسی بات نے روک رکھا ہے کہ یا تو جو اگلی قوموں کے ساتھ برتاؤ ہوا تھا ان کے ساتھ بھی وہی ہو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَیِاٰیٰتِ رَبِّہٖ فَاَعْرَضَ عَنْھَا وَنَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ ط اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّـۃً اَنْ یَّفْقَھُوْہُ وَفِیْٓ اٰذَانِھِمْ وَقْرًا ط وَاِنْ تَدْعُھُمْ اِلَی الْھُدٰی فَلَنْ یَّھْتَدُوْٓا اِذًا اَبَدًا۔ (الکہف : 57) (اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سے نصیحت کی گئی تو اس نے اس سے روگردانی کی اور فراموش کردیا اس نے ان اعمالِ بد کو جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجے تھے، ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے تاکہ وہ قرآن کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی (تاکہ وہ قرآن کو نہ سنیں) اور اگر تم انھیں ہدایت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 56–57

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اقوام کو دنیا کی ہلاکت اور آخرت کے عذاب سے بچانے کے لیے انبیاء ( علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ لیکن لوگوں نے ان کے ساتھ جھگڑا کیا۔ قرآن مجید نے انبیاء کی تشریف آوری کا مقصد بیان کرتے ہوئے کئی بار وضاحت فرمائی ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے مبعوث فرمایا ہے کہ وہ حق قبول کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی نعمتوں کی خوشخبری دیں اور حق ٹھکرانے والوں کو دنیا میں ہلاکت اور آخرت کے عذاب سے ڈرائیں۔ لیکن حق کا انکار کرنے والے ناجائز طریقوں اور باطل دلیلوں کے ساتھ انبیاء کرام کے ساتھ جھگڑتے رہے تاکہ حق کو ناحق ثابت کرسکیں۔ انبیاء…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قرآن سے نصیحت کی جاتی ہے مگر یہ منہ موڑنے والے ہیں : 57: وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ (اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا۔ جس کو اس کے رب کی آیات کے ذریعہ نصیحت کی گئی) آیات سے قرآن مراد ہے۔ اسی لئے ضمیر اَنْ یفقہوہُ میں مذکر لائی گئی ہے۔ فَاَعْرَضَ عَنْہَا (پھر اسنے ان آیات سے اعراض کیا) نصیحت کے وقت نصیحت کو قبول نہ کیا۔ اور نہ تدبر سے کام لیا۔ وَنَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہٗ (اور جو کچھ وہ کرچکا اس کو بھول گیا) یعنی اس کے انجام کو بھول گیا جو اس کے ہاتھوں نے کر کے آگے بھیج دیا ہے۔ جیسے کفر، معاصی بلاکسی سوچ و بچار اور بغیر اس بات کو پیش نظر رکھنے کے کہ گناہ گار اور نیکو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(57)” ومن اظلم ممن ذکر “ جس کو نصیحت کی گئی ہو۔ ” بایات ربہ فاعرض عنھا “ اس سے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں اور اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔” ونسی ما قدمت یداہ “ اور جو وہ اس سے پہلے معاصی میں سے کرچکے تھے۔ ” انا جعلنا علی قلوبھم اکنۃ “ ان کے کانوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ ” ان یفقھوہ “ رب کی طرف سے آیات کے سمجھنے سے عاجز آگیا ۔ ” وفی آذا نھم وقرا “ ان کے کانوں پر ڈاٹ اور بوجھ پڑے ہوئے ہیں۔ ” وان تدعھم “ اے محمد ! (ﷺ) ” الی الھدی “ دین کی طرف۔ ” فلن یھتدوا اذا ابدا “ ان قوموں کے متعلق جانتے تھے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 55–59

55۔ 59۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں میں طرح طرح کی مثالیں دے کر ان مشرکین مکہ کو سمجھایا جاتا ہے مگر یہ لوگ اپنے جھوٹے جھگڑوں سے باز نہیں آتے کبھی کہتے ہیں اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا کوئی فرشتہ ہونا چاہیے کبھی کہتے ہیں اگر تم اللہ کے رسول ہو تو مکہ کے گردو نواح کے پہاڑ ہٹا کر ان کی جگہ کھیتی کی زمین نکال دو ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے قرآن کی نصیحت نہ ماننے اور شرک سے باز نہ آنے کا یہی سبب ہے کہ اللہ کے علم غیب کے موافق ان میں سے کچھ لوگوں پر پچھلی امتوں کی طرح دنیا کا کچھ عذاب وقت مقررہ سے پہلے ان میں کے جو لوگ شرک کی حالت پر مرجائیں گے ان کے سر پر آخرت کا عذاب ناگہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–58

آیت 56 یعنی ہم رسولوں کو عبث اور بےفائدہ نہیں بھیجتے نہ ان کو اس لئے مبعوث کرتے ہیں کہ لوگ ان کو معبود بنالیں اور نہ اس لئے کہ وہ خود معبود ہونے کا دعویٰ کریں بلکہ ہم نے انہیں صرف اس لئے مبعوث کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو ہر بھلائی کی طرف بلائیں اور ہر برائی سے روکیں اطاعت کرنے پر ان کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنائیں اور نافرمانی کرنے پر دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرائیں۔ پس رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر حجت قائم ہوگئی۔ بایں ہمہ ظالم کفار باطل ہتھکنڈوں کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لئے جھگڑتے ہیں۔ پس جہاں تک ممکن ہوا کفار حق کے ابطال اور اس کے نیچا دکھانے کے لئے باطل کی مدد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–60

ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 56–57

98۔ کافروں کی طرف سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” کافر لوگ باطل کے ہتھیاروں سے لڑتے ہیں تاکہ اس طرح وہ حق کو نیچا دکھا سکیں “۔ نت نئے قضیے کھڑے کرکے اور طرح طرح کے شکوک ڈال کر اور شبہات پیدا کرکے۔ سو اس طرح یہ لوگ حق کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے البتہ اس پر خود اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان ضرور کرتے ہیں کہ سورج پر تھوکنے سے اس کا تو کچھ نہیں بگڑتا مگر تھوکنے والے کی تحقیر و تذلیل کا سامان ضرور ہوتا ہے۔ سو اس طرح یہ لوگ اپنے لئے ضلال اور اضلال کے دوہرے جرم کا ارتکاب اور ڈبل بوجھ کا سامان کرتے ہیں اور یہی ایسے لوگوں کی ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کا ایک کھلا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 54–59

ہدایت واضح ہوجانے کے بعد ایمان نہ لانے والوں کا انجام تشریح : قرآن سو فیصد انسان کے لیے رحمت، نعمت اور برکت ہے۔ اور پیغمبر جو یہ نعمت لے کر بندوں کے پاس آئے وہ بھی انسان کے لیے بہت بڑی رحمت اور فضل ہے، مگر انسان فطرتاً جھگڑالو ہے۔ اتنا کچھ لینے اور سمجھنے کے باوجود بھی بےوقوفی اور نااہلی کا ثبوت دیتا ہے۔ کبھی شیطان کا دوست بن کر شیطانی کام کرنے لگتا ہے اور یوں اپنے لیے دنیا کی زندگی کو عذاب بنا لیتا ہے کیونکہ برے کاموں کا برا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ جو دوسروں کے لیے گڑھا بناتا ہے وہ خود بھی اس میں گرتا ہے۔ ایک چور کی زندگی جس پریشانی اور مصیبت میں گزرتی ہے وہ ایک نیک صالح اور متقی کی زندگی کی طرح…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 54–59

(رکوع نمبر 8) اسرارومعارف لوگوں کو اللہ جل جلالہ کے نبی ﷺ کی نافرمانی کرکے اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالنا چاہئے مگر ان کا حال تو ایسا ہے گویا جب اللہ نے احسان فرما کر اپنے رسولوں کے ذریعے سے ہدایت پہنچا دی تو یہ بجائے اللہ سے بخشش مانگنے کے جس کا طریقہ ایمان لانا تھا الٹا پہلی تباہ ہونے والی قوموں جیسے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں یا یہ چاہتے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کا عذاب انہیں سیدھے سامنے آلے ، جبکہ انبیاء کو ثبوت نبوت کے لیے معجزات اور لوگوں کی ہدایت کیلئے واضح قوانین عطا ہوتے ہیں تو یہ لوگ ناحق جھگڑا کھڑا کرنے کے لیے باتیں بناتے ہیں کہ شاید اس طرح حق کو ٹال سکیں گے اور جواب نہ پا کر مذاق اڑاتے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی جب کوئی شخص کسی کے سیدھی طرح سمجھانے سے کوئی اثر نہیں لیتا بلکہ جانتے بوجھتے ہٹ دھرمی اور جھگڑا لو پن پر اتر آتا ہے۔ اللہ کی واضح آیات کا مذاق اڑاتا ہے اور اپنے کرتوتوں اور ان کے برے نتائج سے بھی کوئی سابق حاصل نہیں کرتا تو آخر کار اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل پر پردہ پڑجاتا ہے اور اس کے کان حق بات سننے سے بہرے ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص اس کو سیدھی راہ کی طرف بلائے بھی نوٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اس کی یہ کیفیت اس کے اپنے عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ مگر خلاق چونکہ ہر چیز کا اللہ ہے اس لئے اس کیفیت کو پیدا کرنے کے فعل کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:57) اکنۃ جمع کنان واحد۔ پردے۔ غلاف۔ الکن ہر وہ چیز جس میں کسی چیز کو محفوظ کیا جائے کننت الشیء کنا کسی چیز کو کن میں محفوظ کردیا۔ کننت (ثلاثی مجرد) خصوصیت کے ساتھ کسی مادی شے کو گھر یا کپڑے میں چھپانے پر بولا جاتا ہے۔ جیسے قرآن پاک میں آتا ہے کانہن بیض مکنون (37:49) گویا وہ چھپائے ہوئے محفوظ انڈے ہیں۔ باب افعال سے کسی بات کو دل میں چھپانے پر بولا جاتا ہے مثلاً او اکننتم فی انفسکم (2:235) یا (نکاح کی خواہش کو) اپنے دلوں میں مخفی رکھو۔ ک ن ت مادہ۔ ان یفقہوہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب القران کے لئے ہے۔ کہ اسے سمجھ سکیں ۔ مراد اس سے یہ ہے لئلا یفقہوہ کہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ فی اذانہم وقرا۔ ای…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 57–59

لغات القرآن آیت نمبر 57 تا 59 ذکر یاد دلایا گیا۔ اعرض اس نے منہ پھیر اپنی ۔ نسی وہ بھول گیا۔ قدمت آگے بھیجا۔ اکنۃ پردہ۔ ان یفقھوہ یہ کہ وہ اس کو سمجھے۔ اذا اس وقت۔ کسبوا انہوں نے کمایا۔ عجل اس نے جلدی کی۔ موئل بچنے کی جگہ۔ القریٰ بستیاں مھلک برباد ہونے۔ موعد وقت مقرر۔ تشریح :- آیت نمبر 57 تا 59 واقعی اس سے بڑھ کر زیادتی اور ظلم کیا ہوگا۔ کہ جب ایک خیر خواہ جس کی کوئی ذاتی غرض یا فائدہ نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اللہ کا کلام پورے خلوص سے پیش کر رہا ہے۔ اس کی بات نہ سنی جائے اور نہ اس پر توجہ کی جائے بلکہ اس سے منہ پھیر پھیر کر چلا جائے اور اس کو ایسا بےحقیقت سمجھا جائے کہ اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

یہاں فرمایا کہ خیال کرنے کی بات ہے کہ اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے کہ جس کے سامنے قرآن پڑھا جاوے اور اس کے مضامین بیان ہوں اور وہ شخص منہ پھیرے اور قبول نہ کرے اور اپنے افعال کے انجام کو بھول جائے اس کو اتی عقل نہ ہو کہ اس کفر اور انکار کا نتیجہ دوزخ ہے اور وہ اس بات کو نہ جانتا ہو کہ انبیاء (علیہ السلام) کی پیروی میں نجات ہے اور کافروں کی پیروی کا انجام برا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور ان کو سمجھنے کی قوت نہیں دی۔ اور ان کے کانوں کو بھی بہرا کردیا ہے یعنی انہیں سننے کا بھی شوق نہیں اگر تم ان کو ہدایت کی راہ پر لانا چاہو گے تو بےفائدہ ہے، وہ کب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 55–57

[20] یعنی جو کچھ اگلی قوموں کو مسلسل نافرمانی کی پاداش میں آچکا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 57–59

(ف 1) یہ ان کی قساوت قلبی اور بدبختی کی انتہائی صورت ہے کہ دل مسخ ہوگئے ہیں ، اور کانوں میں حق کے لئے قوت سماعت نہیں رہی ۔ یہ یاد رہے کہ یہ محض ایک انداز بیان ہے ورنہ اعراض و غفلت کی کوتاہیاں ہمیشہ ان سے سرزد ہوئیں ، انہوں نے خود دلوں کو تعصب وعناد کی تاریکیوں سے آلودہ رکھا اور کانوں کو حق کی آواز سے نا آشنا اللہ اس کیفیت تغافل و انکار کو دلوں پر پردہ ڈال دینے سے تعبیر کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے ، ان لوگوں نے بھی اس بات پر اعتراض نہیں کیا ، کہ قرآن ہمیں ناقابل اصلاح ٹھہراتا ہے ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ بالکل ہمارے ارادوں کی ترجمانی ہے ۔ حل لغات : موئلا : مرجع وماوی :

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-57 اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم اور بےانصاف ہوسکتا ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی گئی پھر اس نے ان آیتوں سے اعراض کیا اور منہ پھیرلیا اور جو اس کے ہاتھ گناہ سمیٹ سمیٹ کر آگے بھیج رہے ہیں ان کو اور ان کی جزا کو فراموش کر رکھا ہو یقینا ہم نے اس کلام کو سمجھنے سے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے اور اگر آپ ان کو صحیح راہ کی طرف بلائیں بھی تو ایسی حالت میں ہرگز راہ راست پر نہ آئیں گے۔ یعنی ان کے عناد اور ان کی سرکشی کے باعث ان کے دلوں پر پردے اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا گیا ہے نہ سمجھتے ہیں نہ سنتے ہیں اور ان کے ہاتھ جو کچھ کما رہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 55–57

ف 1۔ مطلب یہ کہ کیا اس لئے ایمان نہیں لاتے کہ ایسے امور کا وقوع ہو تب ایمانلاویں گے، جیسا کہ ان کے حال سے مترشح ہے اور کہہ بھی ڈالتے تھے کہ ایسے امور کیوں نہیں واقع ہوتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

احکام الہی سے منہ موڑنے والے سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے ؟ : 60۔ ظلم شرک ہے ، ظلم اندھیرا ہے ، ظلم زیادتی ہے اسی طرح ظالم ہر شرک کرنے والا ہے ، ہر اندھیرے میں رکھنے والا ہے اور ہر زیادتی کرنے والا ہے اور سب سے بڑے ظالم وہ ہیں جن کے سامنے اللہ کی آیتیں پڑھی جائیں اور وہ ان کے احکام کو سمجھ جائیں لیکن اس کے باوجود ان سے منہ پھیر دیں اور وہی کریں جو سارے لوگ کر رہے ہیں اگرچہ وہ احکام الہی کی خلاف ورزی کر رہے ہوں ، لیکن چونکہ ان کی کثرت ہے اس لئے وہ کثرت کا خلاف سمجھتے کہ اگر میں ان کا خلاف کروں گا تو یہ سب ملکر مجھے پریشان کریں گے تو اس کا مطلب کیا ہوا ؟ یہی کہ اس نے لوگوں کے خوف و ڈر کو اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–59

The statement: وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ‌ شَيْءٍ جَدَلًا (And man is the most quarrel-some of all things - 54) has been testified through a Hadith narrated by Sayyidna 'Anas ؓ in which the Holy Prophet ﷺ has been reported to have said, "On the day of Qiyamah, a man from among the disbelievers will be brought forth. He will be asked, 'what was your response to the messenger We had sent to you?' He will say, '0 my Lord, as for me, I did believe in You and in Your messenger too and that I obeyed him in everything I did.' Allah Ta` ala will say, 'here is your book of deeds before you. All this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

54. Allah puts a covering over the heart of a person and makes his ears hard of hearing the truth when he adopts the attitude of contention, dispute, wrangling and argumentation towards the admonition of a well wisher and tries to defeat the truth with the weapons of falsehood and cunning. Naturally this attitude produces in him obduracy and obstinacy so that he turns a deaf ear towards guidance, and is unwilling to realize his error before seeing his evil end. For such people pay no heed to admonition and warning and insist on falling into the abyss of perdition: then and then alone they are…

Read the full tafseer →