Explained with ayahs 55–56
عذاب الہٰی کے منتظر کفار
اگلے زمانے کے اور اس وقت کے کافروں کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ حق واضح ہو چکنے کے بعد بھی اسکی تابعداری سے رکے رہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ اللہ کے عذابوں کو اپنے آنکھوں دیکھ لیں کسی نے تمنا کی کہ آسمان ہم پر گرپڑے کسی نے کہا کہ لا جو عذاب لاسکتا ہے لے آ۔ قریش نے بھی کہا اے اللہ اگر یہ حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا کوئی اور درد ناک عذاب ہمیں کر۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اے نبی ہم تو تجھے مجنوں جانتے ہیں اور اگر فی الواقع تو سچا نبی ہے تو ہمارے سامنے فرشتے کیوں نہیں لاتا ؟ وغیرہ وغیرہ پس عذاب الہٰی کے انتظار میں رہتے ہیں اور اس کے معائنہ کے درپے رہتے ہیں۔ رسولوں کا…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 53
اس آیت کے بھی دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی یہاں چسپاں ہوتے ہیں
ایک یہ کہ رسولوں کو ہم اسی لیے بھیجتے ہیں کہ فیصلے کا وقت آنے سے پہلے لوگوں کو فرماں برداری کے اچھے اور نافرمانی کے برے انجام سے خبردار کریں۔ مگر یہ بیوقوف لوگ ان پیشگی تنبیہات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے اور اسی انجام بد کو دیکھنے پر مصر ہیں جس سے رسول انہیں بچانا چاہتے ہیں۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو عذاب ہی دیکھنا منظور ہے تو پیغمبر سے اس کا مطالبہ نہ کریں کیونکہ پیغمبر عذاب دینے کے لیے نہیں بلکہ عذاب سے پہلے صرف خبردار کرنے کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
(آیت) وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ساری مخلوقات میں سب سے زیادہ جھگڑالو انسان واقع ہوا ہے اس کی شہادت میں ایک حدیث حضرت انس سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ایک شخص کفار میں سے پیش کیا جائے گا اس سے سوال ہوگا کہ ہم نے جو رسول بھیجا تھا ان کے متعلق تمہارا کیا عمل رہا ؟ وہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار میں تو آپ پر بھی ایمان لایا آپ کے رسول پر بھی اور عمل میں ان کی اطاعت کی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ تیرا اعمال نامہ سامنے رکھا ہے اس میں تو کچھ بھی نہیں یہ شخص کہے گا کہ میں تو اس اعمال نامہ کو نہیں مانتا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ یہ ہمارے فرشتے تو تمہاری نگرانی…
Read the full tafseer →وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَمَا أُنْذِرُوا هُزُوًا
رسولوں کی بعثت کا مقصد : یہ اوپر والے مطالبۂ عذاب کا جواب ہے فرمایا کہ ہم رسولوں کو عذاب لانے کے لیے نہیں بھیجا کرتے بلکہ صرف انذار وتبشیر کے لیے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ کافروں کو عذاب سے خبردار کریں اور ایمان لانے والوں کو جنت کی بشارت دے دیں۔ ان سے عذاب اور قیامت کو دکھا دینے کا مطالبہ کرنا ایک بالکل بےتکی بات اور حق کو باطل کے ذریعے سے پسپا کرنے کے ہم معنی ہے۔ جو لوگ یہ شرارت کر رہے ہیں انہوں نے عذاب اور قیامت کی…
Read the full tafseer →56۔ 1 اور اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑانا، یہ جھٹلانے کی بدترین قسم ہے۔ اس طرح جدال بالباطل کے ذریعہ سے (یعنی باطل طریقے اختیار کر کے) حق کو باطل ثابت کرنے کی سعی کرنا بھی نہایت مذموم حرکت ہے۔ اس جدال بالباطل کی ایک صورت یہ ہے جو کافر رسولوں کو یہ کہہ کر ان کی رسالت انکار کردیتے رہے ہیں کہ تم ہمارے جیسے ہی انسان ہو۔ ما انتم الا بشر مثلنا۔ یسین۔ ہم تمہیں رسول کس طرح تسلیم کرلیں ؟ دحض۔ کے اصل معنی پھسلنے کے ہیں کہا جاتا ہے دحضت رجلہ اس کا پیر پھسل گیا یہاں سے یہ کسی چیز کے زوال اور بطلان کے معنی میں استعمال ہونے لگا کہتے ہیں دحضت حجتۃ دحوضا ای بطلت اس کی حجت باطل ہوگئی اس لحاظ سے ادحض یدحض کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
32: یعنی ان لوگوں پر ساری حجتیں تو تمام ہوچکیں۔ اب ان کے پاس اپنے کفر پر اس کے سوا کوئی دلیل باقی نہیں رہی کہ یہ پیغمبر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جیسا عذاب پچھلی امتوں پر آیا تھا، اگر ہم باطل پر ہیں تو ویسا ہی عذاب ہم پر لا کر دکھاؤ۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پیغمبروں کا کام اپنے اختیار سے عذاب نازل کرنا نہیں ہوتا۔ وہ تو لوگوں کو عذاب سے متنبہ کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ نافرمانوں پر فوراً عذاب نہیں بھیجتا، بلکہ اپنی رحمت کی وجہ سے انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ اس مہلت کے دوران جن کو ایمان لانا ہو، وہ ایمان لے آئیں، البتہ اس کی طرف سے نافرمانوں کو عذاب دینے کے لیے ایک وقت مقرر…
Read the full tafseer →حق واضح ہے ، لیکن اہل کفر باطل ہتھیاروں سے حق کو مغلوب کرنا چاہتے ہیں اور حق کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اہل باطل جو خارق عادت معجزات طلب کرتے ہیں یا یہ لوگ عذاب کے مطالبے میں جلدی کرتے ہیں۔ یہ اس لئے نہیں کرتے کہ ان کو اطمینان ہوجائے بلکہ یہ لوگ اللہ کی آیات کے ساتھ مذاقک رتے ہیں اور رسولوں کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →7 ان کو یہ اختیار نہیں کہ جب تم مانگو یا جب وہ چاہیں عذاب لا کھڑا کریں۔
8 یعنی جھوٹے جھگڑے اٹھا کر اور کٹ حجتی کر کے چاہتے ہیں کہ حق کی آواز پست کردیں اور جھوٹ کے زور سے سچائی کا قدم ڈگمگا دیں۔ ایسا کبھی نہ ہوگا۔
9 یعنی کلام اللہ سے ٹھٹھا کرتے ہیں اور جس عذاب سے ڈرایا جاتا ہے اس کی ہنسی اڑاتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 56 وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ
یہ مضمون جو یہاں سب رسولوں کے متعلق جمع کے صیغے میں آیا ہے سورة بنی اسرائیل میں حضور کے لیے صیغۂ واحد میں یوں آیا ہے : وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ الاَّ مُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا ”اور اے محمد ! ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر مبشر اور نذیر بنا کر۔“
وَيُجَادِلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ
یہ لوگ باطل کے ساتھ کھڑے ہو کر حق کو شکست دینے کے لیے مناظرے اور کٹ حجتیاں کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →54 کافروں کا بےہودہ سوالوں سے رسولوں سے جھگڑا کرنا :۔ رسولوں کا اصل کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر جو پیغام نازل ہوا اس کے مطابق فرماں برداروں کو جنت کی خوش خبری سنائیں اور نافرمانوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ یا اللہ کے احکام پر عمل کرکے لوگوں کو دکھادیں ان کا یہ کام نہیں ہوتا کہ کافروں کے مطلوبہ معجزے پورے کرکے دکھائیں اور کافر اور منکرین حق جو پیغمبروں سے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں یا ان کا امتحان لینے کے لیے ان سے طرح طرح کے سوال کرتے ہیں تو اس سے ان کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہوتا کہ اگر وہ معجزہ دکھلا دیا جائے یا ان کے سوالوں کا جواب دے دیا جائے تو وہ ایمان لے آئیں گے بلکہ وہ…
Read the full tafseer →83۔ (اور جتنے دلائل و شواہد اس منصب کے لئے ضروری ہوتے ہیں وہ انہیں دے دیتے ہیں۔ ) آیت سے دو مسئلوں پر روشنی پڑتی ہے۔ ایک یہ کہ ہر پیغمبر کی حیثیت محض مبشر ومنذر کی ہوتی ہے اس کا کام محض تبشیر وانذار ہے۔ نتائج کی ذمہ داری اس پر ذرا سی بھی نہیں۔ دوسرے یہ کہ پیغمبر سے خواہ مخواہ معجزات وخوارق کی فرمائشیں کرتے رہنا ایک امر لغو ہے۔
84۔ یعنی تذکیر عذاب کا مقتضا تو یہ تھا کہ ان کے قلوب لرز جاتے لیکن اس کے برعکس سنگدل منکروں نے الٹا اسی کو ہدف تمسخر بنالیا ! کیا حد ہے کہ ان کی ذہنیت کی مسخ شدہ کیفیت کی ! (آیت) ” وما انذروا “۔ یعنی میرے عذاب کو۔ (آیت) ” ویجادل۔۔ الحق “۔ یعنی طرح طرح کی کٹ حجتی کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
آیت نمبر 54 تا 59
ترجمہ : اور واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں ہر قسم کے عمدہ مضامین مختلف انداز سے بیان کئے ہیں من کل مثلٍ موصوف محذوف مثلاً کی صفت ہے یعنی ہر قسم کی مثالیں تاکہ نصیحت حاصل کریں، اور کافر انسان بڑا جھگڑالو ہے یعنی خصومت میں باطل طریقہ اختیار کرتا ہے جَدَلاً کان کے اسم سے منقول ہو کر تمیز ہے، تقدیر عبارت یہ ہے وکان جَدَلُ الانسان اکثر شئ فیہ اور لوگوں کو یعنی کفار مکہ کو ایمان لانے اور اپنے پروردگار سے معافی طلب کرنے سے ان کے پاس ہدایت قرآن پہنچنے کے بعد صرف اس انتظار نے روکا کہ ان کو بھی پہلی امتوں جیسا معاملہ پیش آجائے یا یہ کہ عذاب ان کے روبرو آکھڑا ہو، سنۃُ الاولین…
Read the full tafseer →وما نرسل المرسلین الا مبشرین ومنذرین اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر (ثواب و جنت کی
مؤمنوں کے لئے) بشارت دینے والے اور (کافروں کو عذاب و دوزخ سے) ڈرانے والے (بنا کر) یعنی پیغمبروں کو ہم نے اس بات پر قادر بنا کر نہیں بھیجا کہ کافر جو معجزات طلب کریں وہ پیش کردیں یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے پیغمبروں کو اس امر پر قادر بنا کر نہیں بھیجا کہ وہ ساری مخلوق کو ہدایت یافتہ بنا دیں۔
ویجادل الذین کفروا بالباطل لیدحضوا بہ الحق اور کافر لوگ ناحق کی باتیں پکڑ پکڑ کر
جھگڑے نکالتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے حق بات کو بچلا دیں۔
مثلاً کافر کہتے ہیں اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوْلاً کیا اللہ نے آدمی کو پیغمبر بنا کر…
Read the full tafseer →(56) اور رسولوں کو تو ہم صرف مسلمانوں کو جنت کی بشارت دینے اور کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا کرتے ہیں۔
اور رسولوں اور کتابوں کے منکر شرکیہ باتیں تراش کر جھگڑے نکالتے ہیں تاکہ اس باطل کے ذریعے حق اور ہدایت کو بچلا دیں اور انہوں نے میری کتاب اور میرے رسول کو اور جس عذاب سے ان کو ڈرایا گیا ہے محض دل لگی اور مذاق بنا رکھا ہے۔
Read the full tafseer →وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ۔۔ : یعنی رسولوں کا کام بشارت و نذارت ہے، عذاب لانا یا نہ لانا ان کے اختیار میں نہیں اور کافر لوگ باطل کے ذریعے سے جھگڑا کرکے حق کو شکست دینا چاہتے ہیں، مثلاً یہ کہ تم رسول ہو تو صفا پہاڑ سونے کا بنادو وغیرہ، حالانکہ یہ نہ رسول کا کام ہے نہ اس کے اختیار میں ہے۔ دوسرے کئی مقامات پر فرمایا کہ کافروں کی یہ خواہش نہ کبھی پوری ہوگی اور نہ اللہ کا نور پھونکوں سے بجھایا جاسکے گا۔ دیکھیے توبہ (32) اور شوریٰ (16)۔
وَاتَّخَذُوْٓا اٰيٰتِيْ۔۔ : اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کو مذاق بنا لینا جھٹلانے کی بد ترین صورت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما منع الناس ان یومنوا اذا جآء ھم الھدی۔ الھدی سے مراد قرآن، اسلام اور حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ ویستغفروا ربھم الا ان تاتیھم سنۃ الاولین۔ یعنی ہماری انہیں ہلاک کرنے کی سنت ہے، یعنی انہیں ایمان لانے سے نہیں روکا مگر اس چیز کی طلب نے کہ ان پر بھی پہلے لوگوں کی سنت آئے پھر اس طلب کو حذف کیا گیا۔ سنۃ الاولین سے مراد عذاب کو دیکھنا ہے مشرکوں نے اسی چیز کو طلب کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا : اللھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک۔ “
اویاتیھم العذاب قبلا۔ قبلا۔ پر نصب حال کی بنا پر ہے، اس کا معنی ہے عیانا یعنی سامنے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ کلبی نے کہا : اس سے مراد بدر کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا ان تاتیہم سنۃ الاولین “ یعنی پہلے لوگوں کی سزا (کی خبر ان کے پاس آچکی تھی)
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ پڑھا یعنی قبائل (پر عذاب کی خبریں ان کے پاس آچکی تھیں )
3:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ سے مراد ہے اچانک (ان کے پاس عذاب آیا)
4:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویاتیہم العذاب قبلا “ سے مراد ہے روبرو آمنے سامنے۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قبلا “ سے…
Read the full tafseer →[وَمَا نُرْسِلُ : اور ہم نہیں بھیجتے ] [الْمُرْسَلِيْنَ : بھیجے ہوئوں (یعنی رسولوں) کو ] [اِلَّا : مگر ] [مُبَشِّرِيْنَ : بشارت دینے والا ہوتے ہوئے ] [وَمُنْذِرِيْنَ : اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے ] [وَيُجَادِلُ : اور بحث کرتے ہیں ] [الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [كَفَرُوْا : کفر کیا ] [بِالْبَاطِلِ : باطل (دلیلوں) کے ساتھ ] [لِيُدْحِضُوْا : تاکہ وہ لوگ رد کردیں ] [بِهِ : اس (باطل) سے ] [الْحَقَّ : حق کو ] [وَاتَّخَذُوْٓا : اور وہ لوگ بناتے ہیں ] [اٰيٰتِيْ : میری نشانیوں کو ] [وَمَآ : اور اس کو جس سے ] [انذِرُوْا : انھیں ڈرایا گیا ] [هُزُوًا : مذاق کا ذریعہ ]
د ح ض
[دَحْضًا : (ف) ] کسی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
انسان بڑا جھگڑالو ہے، باطل کو لے کر حجت بازی کرتا ہے اللہ کی آیات سے اعراض کرنے والے بڑے ظالم ہیں
ان آیات میں تو انسان کے ایک خاص مزاج کا تذکرہ فرمایا یعنی انسان کا جھگڑالو ہونا بتایا، پھر اس جھگڑے کی کچھ تفصیل بتائی ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسانوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کے مضامین بیان فرما دئیے اور طرح طرح سے بیان کردئیے اب انسان انہیں قبول نہیں کرتا اور جھگڑے بازی سے کام لیتا ہے اور جھگڑنے میں سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر ہے۔ سورة یٰسین میں انسان کے اسی جھگڑنے والے مزاج کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَوَلَمْ یَرَ الْاِِنسَانُ اَنَّا خَلَقْنَاہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِِذَا ھُوَ خَصِیْمٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
گندم از گندم بروید جو زجو از مکافات عمل غافل مشو
غرور اور تکبر کا حال اور مال
قال اللہ تعالیٰ واذا قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وجعلنا لمہلکم موعدا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل دولت کے غرور اور تکبر کا حال بیان کیا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ تمام خرابیوں کی جڑ یہی تکبر ہے جس کا آغاز ابلیس لعین سے ہوا اور تواضع اور نیاز مندی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کردینا بھی تمام بھلائیوں اور خوبیوں کی جڑ ہے۔ جس کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا یہ تمہارے باپ کا طریقہ ہے لہٰذا تم کو چاہئے کہ اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کے طریقہ پر چلو پس خوب سمجھ لو کہ جو دولت مند کفر کرتے ہیں اور اپنے مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
60:۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے، مشرکین نے کہا جب ہم نہیں مانتے تو ہمیں فوری عذاب سے ہلاک کیوں نہیں کردیا جاتا تو فرمایا ہم رسول اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ وہ ہمارے احکام کی تبلیغ کریں ماننے والوں کو خوشخبری سنائیں اور منکرین کو عذاب سے ڈرائیں تاکہ ان پر ہماری حجت قائم ہوجائے اس کے بعد بھی نہ مانیں تو پھر عذاب آئے گا۔
61:۔ یہ کفار مجادلین پر زجر ہے، ” بالباطل “ میں با سببیہ ہے اور باطل سے شبہات واہیہ، شکوک باطلہ اور من گھڑت قصے مراد ہیں۔ یعنی یہ لوگ باطل شے پیش کر کے حق کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے میری آیتوں کو اور میری طرف سے عذاب و عقاب کی دھمکیوں کو محض استہزاء و تمسخر کا نشانہ بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
ربط آیات :
گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مال اولاد کو دنیا کی زندگی کی رونق سے تعبیر کیا تھا اور تلقین کی تھی کہ ان چیزوں میں منہمک ہو کر اپنے مقصود حقیقی سے غافل نہ ہوجانا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں باقیات الصالحات ہی بہتر ہیں ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کا ذکر اور تسبیح کے کلمات ، تمام عبادات اور نیکی کے کام باقیات الصالحات میں داخل ہیں ، مفسر قرآن اور مشہور تابعی حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ نیکی نیتی بھی باقیات الصالحات میں شامل ہے ۔
اس کے بعد گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کی گمراہی کا ذکر کیا اور انسانوں کو آگاہ کیا کہ ابلیس اور اس کی اولاد تمہاری دشمن ہے ، انہیں اپنا…
Read the full tafseer →وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ 0ۚ وَيُجَادِلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوْا بِہِ الْحَقَّ وَاتَّخَذُوْٓا اٰيٰتِيْ وَمَآ اُنْذِرُوْا ہُزُوًا 56
رسل ( ارسال)
والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
تفسیر : یہاں تک انسان کی بدی کا یقینی نتیجہ نہایت پراثر اور عمدہ پیرایہ سے بیان فرمایا گیا اور مسئلہ میعاد کی پوری تشریح کردی گئی اور دنیا کے اسباب اور اس کی بقاء کا بھی پورا نقشہ کھینچ دیا گیا، مثالیں بھی پیش کی گئیں مگر کج رو، کج طبع اس پر بھی نہیں مانتے۔ اس مضمون کو ولقد صرفنا سے شروع کیا اور یہ بھی فرمایا کہ وکان الانسان اکثر شیئٍ جدلا کہ انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے اس کی طبیعت میں حجت و تکرار ہے جس کی وجہ سے اتنی تفصیل سے سمجھانے پر بھی ایمان نہیں لاتے۔ ومامنع الناس ان یؤمنوا۔ اب ان کو ایمان لانے سے اسی بات نے روک رکھا ہے کہ یا تو جو اگلی قوموں کے ساتھ برتاؤ ہوا تھا ان کے ساتھ بھی وہی ہو…
Read the full tafseer →وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ ج وَیُجَادِلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِہِ الْحَقَّ وَا تَّخَذُوْٓا اٰیٰـتِیْ وَمَـآ اُنْذِرُوْا ھُزُوًا۔ (الکہف : 56)
(اور ہم رسولوں کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کے بھیجتے ہیں اور کافر باطل کی مدد سے کٹ حجتیاں کرتے ہیں تاکہ وہ اس سے حق کو مٹا دیں اور انھوں نے میری آیات کو اور اس چیز کو جس سے وہ ڈرائے گئے تھے مذاق بنا لیا ہے۔ )
رسولوں کی بعثت کا مقصد
اس آیت کریمہ میں سابقہ آیت کے مضمون کی مزید وضاحت فرمائی گئی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تبلیغ و دعوت سے کافروں پر ہدایت پوری طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اقوام کو دنیا کی ہلاکت اور آخرت کے عذاب سے بچانے کے لیے انبیاء ( علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ لیکن لوگوں نے ان کے ساتھ جھگڑا کیا۔
قرآن مجید نے انبیاء کی تشریف آوری کا مقصد بیان کرتے ہوئے کئی بار وضاحت فرمائی ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے مبعوث فرمایا ہے کہ وہ حق قبول کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی نعمتوں کی خوشخبری دیں اور حق ٹھکرانے والوں کو دنیا میں ہلاکت اور آخرت کے عذاب سے ڈرائیں۔ لیکن حق کا انکار کرنے والے ناجائز طریقوں اور باطل دلیلوں کے ساتھ انبیاء کرام کے ساتھ جھگڑتے رہے تاکہ حق کو ناحق ثابت کرسکیں۔ انبیاء…
Read the full tafseer →رسول تو صرف مبشر ومنذر ہیں :
56: وَمَانُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ (اور ہم رسولوں کو بشارت دینے اور ڈرانے کیلئے بھیجتے ہیں)
قراءت : اس پر وقف کیا جائے گا۔ اور جملہ وَیُجَادِلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْابِالْبَاطِلِ مستانفہ ہے (اور کافر ناحق باتیں پکڑ کر جھگڑے نکالتے ہیں) باطل سے مراد انکا وہ مشہور مقولہ ہے جو انہوں نے انبیاء ( علیہ السلام) کو کہا : ما انتم الا بشر مثلنا ولو شاء اللّٰہ لانزل ملائکۃ وغیر ذٰلک۔
کافر حق کو مٹانے کے لئے ان سے ناحق جھگڑتے ہیں :
لِیُدْحِضُوْا بِہِ الْحَقَّ (تاکہ اس کے ذریعہ وہ حق بات کو پھسلا دیں) حق سے نبوت مراد ہے تاکہ وہ جھگڑا ڈال کر…
Read the full tafseer →تفسیر (56)” وما نرسل المرسلین… تا… بالباطل “ وہ اس بات کے متعلق جھگڑا کرتے تھے کہ کیا اللہ نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ” ولولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم “ کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا، یہ بھی کافروں نے کہا تھا کہ جو تم ذبح کرتے ہو وہ حلال ہے اور جو اللہ مار دے وہ حلال نہیں ۔ ” لید حضوا “ کہ وہ اس کو باطل کردے۔ ” بہ الحق “ دحض اصل میں کہا جاتا ہے پھسلنے کو، وہ باطل کے ذریعے سے جھگڑا کرکے حق کو اس کی جگہ سے ہٹا دیں۔ ” واتخذو ا ایاتی و ما انذرواھزواً “ آیات سے مراد وہ ہیں جو قرآن میں نازل کی گئی ہیں۔ ” ھزوا “ اس کا ٹھٹھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
55۔ 59۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں میں طرح طرح کی مثالیں دے کر ان مشرکین مکہ کو سمجھایا جاتا ہے مگر یہ لوگ اپنے جھوٹے جھگڑوں سے باز نہیں آتے کبھی کہتے ہیں اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا کوئی فرشتہ ہونا چاہیے کبھی کہتے ہیں اگر تم اللہ کے رسول ہو تو مکہ کے گردو نواح کے پہاڑ ہٹا کر ان کی جگہ کھیتی کی زمین نکال دو ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے قرآن کی نصیحت نہ ماننے اور شرک سے باز نہ آنے کا یہی سبب ہے کہ اللہ کے علم غیب کے موافق ان میں سے کچھ لوگوں پر پچھلی امتوں کی طرح دنیا کا کچھ عذاب وقت مقررہ سے پہلے ان میں کے جو لوگ شرک کی حالت پر مرجائیں گے ان کے سر پر آخرت کا عذاب ناگہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
آیت 56
یعنی ہم رسولوں کو عبث اور بےفائدہ نہیں بھیجتے نہ ان کو اس لئے مبعوث کرتے ہیں کہ لوگ ان کو معبود بنالیں اور نہ اس لئے کہ وہ خود معبود ہونے کا دعویٰ کریں بلکہ ہم نے انہیں صرف اس لئے مبعوث کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو ہر بھلائی کی طرف بلائیں اور ہر برائی سے روکیں اطاعت کرنے پر ان کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنائیں اور نافرمانی کرنے پر دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرائیں۔ پس رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر حجت قائم ہوگئی۔ بایں ہمہ ظالم کفار باطل ہتھکنڈوں کے ساتھ حق کو نیچا دکھانے کے لئے جھگڑتے ہیں۔ پس جہاں تک ممکن ہوا کفار حق کے ابطال اور اس کے نیچا دکھانے کے لئے باطل کی مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–60
ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم
قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان
حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
98۔ کافروں کی طرف سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” کافر لوگ باطل کے ہتھیاروں سے لڑتے ہیں تاکہ اس طرح وہ حق کو نیچا دکھا سکیں “۔ نت نئے قضیے کھڑے کرکے اور طرح طرح کے شکوک ڈال کر اور شبہات پیدا کرکے۔ سو اس طرح یہ لوگ حق کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے البتہ اس پر خود اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان ضرور کرتے ہیں کہ سورج پر تھوکنے سے اس کا تو کچھ نہیں بگڑتا مگر تھوکنے والے کی تحقیر و تذلیل کا سامان ضرور ہوتا ہے۔ سو اس طرح یہ لوگ اپنے لئے ضلال اور اضلال کے دوہرے جرم کا ارتکاب اور ڈبل بوجھ کا سامان کرتے ہیں اور یہی ایسے لوگوں کی ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کا ایک کھلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
ہدایت واضح ہوجانے کے بعد ایمان نہ لانے والوں کا انجام
تشریح : قرآن سو فیصد انسان کے لیے رحمت، نعمت اور برکت ہے۔ اور پیغمبر جو یہ نعمت لے کر بندوں کے پاس آئے وہ بھی انسان کے لیے بہت بڑی رحمت اور فضل ہے، مگر انسان فطرتاً جھگڑالو ہے۔ اتنا کچھ لینے اور سمجھنے کے باوجود بھی بےوقوفی اور نااہلی کا ثبوت دیتا ہے۔ کبھی شیطان کا دوست بن کر شیطانی کام کرنے لگتا ہے اور یوں اپنے لیے دنیا کی زندگی کو عذاب بنا لیتا ہے کیونکہ برے کاموں کا برا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ جو دوسروں کے لیے گڑھا بناتا ہے وہ خود بھی اس میں گرتا ہے۔ ایک چور کی زندگی جس پریشانی اور مصیبت میں گزرتی ہے وہ ایک نیک صالح اور متقی کی زندگی کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
لوگوں کو اللہ جل جلالہ کے نبی ﷺ کی نافرمانی کرکے اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالنا چاہئے مگر ان کا حال تو ایسا ہے گویا جب اللہ نے احسان فرما کر اپنے رسولوں کے ذریعے سے ہدایت پہنچا دی تو یہ بجائے اللہ سے بخشش مانگنے کے جس کا طریقہ ایمان لانا تھا الٹا پہلی تباہ ہونے والی قوموں جیسے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں یا یہ چاہتے ہیں کہ اللہ جل جلالہ کا عذاب انہیں سیدھے سامنے آلے ، جبکہ انبیاء کو ثبوت نبوت کے لیے معجزات اور لوگوں کی ہدایت کیلئے واضح قوانین عطا ہوتے ہیں تو یہ لوگ ناحق جھگڑا کھڑا کرنے کے لیے باتیں بناتے ہیں کہ شاید اس طرح حق کو ٹال سکیں گے اور جواب نہ پا کر مذاق اڑاتے…
Read the full tafseer →ف 11 مثلاً یہ کہ رسولوں سے کہتے ہیں کہ تم ہماری طرح کے انسان ہو۔ بھلا انسان کو بھی اللہ اپنا رسول بنا کر بھیج سکتا ہے ؟
Read the full tafseer →(18:56) لیدحضوا۔ لام تعلیل کا۔ یدحضوا مضارع جمع مذکر منصوب۔ بوجہ عمل لام۔ بمعنی لیزیلوا ویبطلوا کہ وہ زائل کردیں یا باطل کردیں ادحاض (افعال) سے مصدر باطل کرنا۔ یا زائل کرنا۔
بہ میں ہٖ ضمیر واحد مذکر غائب کافرین کے مجادلہ کے لئے ہے۔ ای بالجدال۔ الحق۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے کہ اپنی کٹ حجتی سے حق کو باطل کردیں۔ وما انذروا۔ میں بہ مضمر ہے عبارت یوں ہے وما انذروا بہ ای القرآن۔ جس سے ان کو ان کے اعمال بد کے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے۔ انذروا ماضی مجہول جمع مذکر غائب ان کو ڈرایا گیا۔ یا وہ ڈرائے گئے۔ انذار۔ مصدر۔
ھزوا۔ مصدر۔ بمعنی اسم مفعول۔ وہ جس کا مذاق اڑایا جائے۔ ھزء مذاق۔ دل لگی۔ ھزء مادہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
لغات القرآن آیت نمبر 54 تا 56
صرفنا ہم نے طرح طرح سے بیان کیا۔ جدل خوامخواہ کا جھگڑا۔ منع روکا۔ یستغفروا وہ معافی چاہتے ہیں۔ سنۃ طریقفہ، رسم۔ قبلاً سامنے۔ نرسل ہم بھیجتے ہیں۔ یدحضوا وہ ٹالتے ہیں۔ ھزوا مذاق۔
تشریح :- آیت نمبر 54 تا 56
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حق و صداقت، نیکی اور سچائی کی مثالوں کو بار بار بیان کیا ہے تاکہ ہر شخص سچائی کے راستے سے پوری طرح واقف ہو سکے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بھی اپنے حسن عمل اور طرز زندگی یعنی سنت کے ذریعہ ہر اس بات کی پوری طرح وضاحت فرما دی ہے جس سے ایک انسان کو صراط مستقیم پر چلنا آسان ہوجاتا ہے۔ جن لوگوں کو اللہ نے ایمان اور عمل صالح کی توفیق اور سعادت…
Read the full tafseer →توحید کا بیان
اس آیت میں فرمایا کہ کچھ نبی آخر الزماں ﷺ پر ہی منحصر نہیں، اگلے انبیاء بھی ہم نے بھیجے ہیں ۔ وہ سب اہل ایمان کو بشارت دیتے رہے اور کافروں کو عذاب الہی سے ڈراتے رہے۔ اور جو لوگ کافر ہیں ان کا ہمیشہ یہی قاعدہ رہا ہے کہ بےہودہ جھگڑے لگایا کرتے ہیں۔ معجزات دیکھتے جاتے ہیں اور پھر معجزوں کی فرمائش چلی جاتی ہے۔ ان کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ ہم حق کو باطل سے مٹا دیں اور قدرت کی دلیلوں اور عذاب کے مضامین کی ہنسی اڑاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
[20] یعنی جو کچھ اگلی قوموں کو مسلسل نافرمانی کی پاداش میں آچکا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(ف 2) یعنی قرآن کی تعلیمات صداقت اور سچائی پر مبنی ہیں اور یہ منکرین محض تعصب کی وجہ سے ان کو قبول نہیں کرتے ہیں ، ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر ان کی گمراہی بڑھتی گئی ، اور عناد ودشمنی نے غیرت حق کو برانگیختہ کردیا ، تو اللہ کا قانون مکافات حرکت میں آجائے گا ، اور یہ عذاب الہی سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکیں گے ۔
حل لغات :
مثل : صفت ، حال ، داستان ، قصہ ،
سنۃ الاولین : پہلوں کا سا معاملہ یعنی قانون مکافات ۔
قبلا : سامنے متقابل :
Read the full tafseer →-56 اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجا کرتے مگر بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا کرتے ہیں اور کافر لوگ لغو اور ناحق کی باتیں اور رکیک شبہات پیدا کر کے جھگڑے کرتے ہیں تاکہ اس جھگڑے کی وجہ سے حق کو اس کی جگہ سے ہٹا دیں اور بچلا دیں اور ان کافروں نے میری آیتوں اور اس عذاب کو جس سے ان کو ڈرایا گیا ہے ایک مذاق اور دل لگی بنا رکھا ہے۔
یعنی رسولوں کا عذاب کے آنے یا نہ آنے سے کوئی تعلق نہیں ان کا کام تو صرف بشارت اور انداز ہے یعنی جھوٹی باتیں نکال کر جھگڑا کرتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ جھوٹے جھگڑوں سے حق کو ڈگمگا دیں اور حق کی آواز کو پست کردیں تو ایسا ہونے والا نہیں اور کلام الٰہی اور عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ف 1۔ مطلب یہ کہ کیا اس لئے ایمان نہیں لاتے کہ ایسے امور کا وقوع ہو تب ایمانلاویں گے، جیسا کہ ان کے حال سے مترشح ہے اور کہہ بھی ڈالتے تھے کہ ایسے امور کیوں نہیں واقع ہوتے۔
Read the full tafseer →انبیائے کرام (علیہم السلام) کی آمد کا مقصد کیا تھا اور ان لوگوں نے اس کو کیا سمجھ لیا ؟ :
59۔ (الناس) کے مطالبہ عذاب کا جواب ان کو سنایا جارہا ہے کہ ہم رسولوں کو عذاب لانے کے لئے تو نہیں بھیجا کرتے بلکہ ان کی آمد کا مقصد تو قوم کو ڈرانا اور خوشخبری پہنچانا ہوتا ہے وہ کافروں کو عذاب سے خبردار کرتے اور ایمان والوں کو باغات آخرت اور انعامات آخرت کی خبر دیتے ۔ ان سے عذاب اور قیامت کا مطالبہ کرنا ایک بےجوڑ بات ہے اور حق کو باطل سے مٹانے کی بیکار ضد اسی طرح جن لوگوں (الناس) نے بوجہ شرارت عذاب الہی اور قیامت کی حقیقت کو نہیں سمجھا ان کو سمجھانے کے لئے ایک وقت مقرر کیا گیا ہے ان کو سب کچھ انکی آنکھوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–59
The statement: وَكَانَ الْإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا (And man is the most quarrel-some of all things - 54) has been testified through a Hadith narrated by Sayyidna 'Anas ؓ in which the Holy Prophet ﷺ has been reported to have said, "On the day of Qiyamah, a man from among the disbelievers will be brought forth. He will be asked, 'what was your response to the messenger We had sent to you?' He will say, '0 my Lord, as for me, I did believe in You and in Your messenger too and that I obeyed him in everything I did.' Allah Ta` ala will say, 'here is your book of deeds before you. All this…
Read the full tafseer →53. This verse has two meanings.
(1) We send Our Messengers to forewarn the people before the coming of the judgment of the good results of obedience and the evil consequences of disobedience. But these foolish people are not taking advantage of these forewarnings and insist on seeing the same evil end from which the Messengers desire to save them.
(2) If they insist on meeting with the scourge, they should not demand this from the Messenger because the Messenger is sent not to bring a scourge but to warn the people beforehand to escape from it.
Read the full tafseer →