Explained with ayahs 66–70
شوق تعلیم و تعلم
یہاں اس گفتگو کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کے درمیان ہوئی تھی۔ حضرت خضر اس علم کے ساتھ مخصوص کئے گئے تھے جو حضرت موسیٰ ؑ کو نہ تھا۔ اور حضرت موسیٰ کے پاس وہ علم تھا جس سے حضرت خضر بیخبر تھے پس حضرت موسیٰ ؑ ادب سے اور اس لئے کہ حضرت خضر کو مہربان کرلیں ان سے سوال کرتے ہیں۔ شاگرد کو اسی طرح ادب کے ساتھ اپنے استاد سے دریافت کرنا چاہئے پوچھتے ہیں کہ اگر اجازت ہو تو میں آپ کے ساتھ رہوں، آپ کی خدمت کرتا رہوں اور آپ سے علم حاصل کروں جس سے مجھے نفع پہنچے اور میرے عمل نیک ہوجائیں۔ حضرت خضر اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ تم میرا ساتھ نہیں نبھا سکتے میرے کام آپ کو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
سورة الْكَهْف 59
اس بندے کا نام تمام معتبر احادیث میں خضر بتایا گیا ہے۔ اس لیے ان لوگوں کے اقوال کسی التفات کے مستحق نہیں ہیں جو اسرائیلی روایات سے متاثر ہو کر حضرت الیاس کی طرف اس قصے کو منسوب کرتے ہیں۔ ان کا یہ قول نہ صرف اس بنا پر غلط ہے کہ نبی ﷺ کے ارشاد سے متصادم ہوتا ہے، بلکہ اس بنا پر بھی سراسر لغو ہے کہ حضرت الیاس حضرت موسیٰ کے کئی سو برس بعد پیدا ہوئے ہیں۔
حضرت موسیٰ کے خادم کا نام بھی قرآن میں نہیں بتایا گیا ہے۔ البتہ بعض روایات میں ذکر ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے جو بعد میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ ہوئے۔
Read the full tafseer →شاگرد پر استاد کا اتباع لازم ہے
(آیت) هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰٓي اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا اس میں حضرت موسیٰ ؑ نے باوجود نبی و رسول اور اولو العزم پیغمبر ہونے کے حضرت خضر ؑ سے تعظیم و تکریم کے ساتھ درخواست کی کہ میں آپ سے آپ کا علم سیکھنے کے لئے ساتھ چلنا چاہتا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ تحصیل علم کا ادب یہی ہے کہ شاگرد اپنے استاذ کی تعظیم و تکریم اور اتباع کرے اگرچہ شاگرد اپنے استاذ سے افضل واعلیٰ بھی ہو (قرطبی مظہری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
تفسیر آیات 66 تا 68: قَالَ لَهُ مُوسَى هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا (66) قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا (67) وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا (68)۔
حضرت خضر اور حضرت موسیٰ کے مابین معاہدہ رفاقت : رُشْدًا کے معنی علم و حکمت کے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد وہ خاص علم ہے جو اسرار کائنات سے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت خضرت کو بخشا۔ حضرت موسیٰ نے ان سے درخواست کی کہ اگر آپ اس علم خاص میں سے، جو اللہ نے آپ کو بخشا ہے، مجھے بھی کچھ سکھائیں تو کچھ عرصہ اپنی خدمت میں مجھے رہنے کی اجازت دیجیے۔ حضرت خضر نے فرمایا کہ مجھے اجازت سے تو انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
65۔ 1 اس بندے سے مراد حضرت خضر ہیں، جیسا کہ صحیح احادیث میں وضاحت ہے۔ خضر کے معنی سرسبز اور شاداب کے ہیں، یہ ایک مرتبہ سفید زمین پر بیٹھے تو وہ حصہ زمین ان کے نیچے سے سرسبز ہو کر لہلہانے لگا، اسی وجہ سے ان کا نام خضر پڑگیا (صحیح بخاری، تفسیر سورة کہف)
65۔ 2 رَحْمَۃ سے مراد مفسرین نے وہ خصوصی انعامات مراد لئے ہیں جو اللہ نے اپنے اس خاص بندے پر فرمائے اور اکثر مفسرین نے اس سے مراد نبوت لی ہے۔
65۔ 3 اس سے علم نبوت کے علاوہ جس سے حضرت موسیٰ ؑ بھی بہرہ ور تھے، بعض خاص امور کا علم ہے جس اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت خضر کو نوازا تھا، حضرت موسیٰ ؑ کے پاس بھی وہ علم نہیں تھا۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
36: صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق یہ حضرت خضر ؑ تھے، جب حضرت موسیٰ ؑ اس چٹان کے پاس واپس پہنچے تو وہاں وہ چادر اوڑھے ہوئے لیٹے نظر آئے۔ اور ان کو جس خصوصی علم کے سکھانے کا ذکر فرمایا گیا ہے، اس سے مراد تکوینیات کا علم ہے جس کی تشریح اس واقعے کے آخر میں آرہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت ہی احترام سے ان سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا آپ ہمیں کچھ سکھائیں گے ؟ یعنی آپ کو اللہ نے جو علم دیا ہے اس میں سے کوئی راہنمائی اور دانشمندی ہمیں بھی سکھائیں گے۔ لیکن اس شخص کا علم وہ علم نہ تھا جو انسانوں کو سکھایا گیا ہے اور جس کے اسباب و نتائج معلمو اور قریب الفہم ہوتے ہیں بلکہ اس کے علم کا تعلق علم لدنی اور اس کائنات کے تکوینی انتظام کے ساتھ تھا۔ یہ اللہ کے غیبی امور کا ایک حصہ تھا۔ جو اس عبدصالح کو اللہ نے اپنی مخصوص مصلحتوں اور حکمت کے تحت سکھایا ہوا تھا۔ اس لئے عبدصالح کو معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ اس کے تصرفات کو برداشت نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ تو رسول اور نبی…
Read the full tafseer →3 یعنی اجازت ہو تو چند روز آپ کے ہمراہ رہ کر اس مخصوص علم کا کچھ حصہ حاصل کروں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
آیت 66 قَالَ لَهٗ مُوْسٰي هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰٓي اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا
مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس نے آپ کو خاص حکمت اور دانائی عطا کر رکھی ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں کچھ عرصہ آپ کے ساتھ رہوں اور آپ مجھے بھی اس علم خاص میں سے کچھ سکھا دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–70
61 رسول اللہ نے فرمایا کہ یہ تھکاوٹ آپ کو اس وقت ہوئی جب آپ اپنی منزل مقصود سے آگے نکلے جارہے تھے اس سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔
Read the full tafseer →99۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہ ای جلالت مرتبہ ودرجہ نبوت ان بزرگ سے درخواست کررہے ہیں کہ اجازت ہو تو آپ کے ساتھ رہوں اور آپ کے علم خصوصی سے کچھ میں بھی کسب واکتساب کروں ؟ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت خضر کے ساتھ اپنی گفتگو میں کس قدر تواضع اور ادب ولطف کی رعایتیں جمع کررہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–71
آیت نمبر 66 تا 71
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر سے کہا کیا میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ آپ اس علم مفید سے سکھائیں جس علم کی آپ کو تعلیم دی گئی ہے ؟ رَشَدًا ای صواباً جس کے ذریعہ میں درستگی حاصل کروں، اور ایک قرأۃ میں راء کے ضمہ کے ساتھ ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر سے (علم کا) اس لئے سوال کیا کہ علم میں زیادتی مطلوب ہے اس بندے نے جواب دیا آپ میرے ساتھ قطعاً صبر نہیں کرسکتے، اور ایسی باتوں پر آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جن کی حقیقت سے آپ پوری طرح واقف نہیں ؟ سابق میں مذکورہ حدیث میں اس آیت کے بعد یہ بھی ہے کہ اے موسیٰ اللہ نے مجھے ایک ایسا علم دیا ہے جس کو آپ نہیں جانتے…
Read the full tafseer →قال لہ موسیٰ ہل اتبعک علی ان تعلمن مما علمت رشدا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس سے کہا کیا میں
آپ کے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ اللہ کی طرف سے جو علم مفید آپ کو سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ آپ مجھ کو بھی سکھا دیں۔ اصل کلام اس طرح ہونا چاہئے کہ موسیٰ : ( علیہ السلام) نے کہا میں آپ کے پاس آپ کے ساتھ رہنے کے لئے آیا ہوں تاکہ ساتھ رہ کر آپ سے کچھ علم حاصل کروں ‘ لیکن (ادب و تہذیب کو پیش نظر رکھ کر) طلب اجازت کے طور پر کلام کا رنگ بدلا اور سوالیہ طرز اختیار کیا۔
رشد خیرکو پانا ‘ رشداً اور رشداً دونوں ہم معنی ہیں۔ رشداً تعلمنی کا مفعول دوئم ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اتبعک کا مفعول لہ (علت) ہو۔ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–82
(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
ان آیات اور گزشتہ آیات میں اپنے علم پر عجب سے پرہیز، طلب علم کے لیے سفر، آخری دم تک حصول علم کا عزم مصمم، استاذ کے سامنے طلب علم کے لیے درخواست کا طریقہ، استاد کا ادب، اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرنا، اپنے کسی بھی کام یا عہد میں اپنے آپ پر بھروسے کے بجائے ان شاء اللہ کہہ کر اسے اللہ کے سپرد کرنا سکھایا گیا ہے اور یہ کہ استاذ تعلیم کے لیے شاگرد پر بعض شرطیں عائد کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال لہ موسیٰ ھل اتبعک علی ان تعلمن مما علمت رشدا اس میں دو مسئلے ہیں
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشا اد ہے : قال لہ موسیٰ ھل اتبعک یہ سوال ایک ملا اطف کا سوال ہے اور مخاطب حسن ادب میں مبالغہ کرتے ہوئئے اپنے مقام سے اتر کر سوال کر رہا ہے، مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے ایسا اتفاق ہوگا اور آپ پر آسانی ہوگی ؟ یہ اس طرح ہے جیسا کہ حدیث میں ہے :” کیا تو مجھے دکھا سکتا ہے کہ نبی پاک ﷺ کیسے وضو کرتے تھے “ (1) ۔ بعض تاویلات پر یہ آئے گا اسی طرح یہ ارشاد ہے : ھل یستطیع رببک ان ینزل علینا مآئدۃ من السماء (المائدہ :112) اس کا بیان سورة مائدہ میں گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–73
خضر (علیہ السلام) بھی اولاد آدم میں سے ہیں :
10:۔ دارقطنی نے افراد میں ابن عساکر نے مقاتل بن سلیمان کے طریق سے ضحاک سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ خضر (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور ان کی عمر میں تاخیر کی گئی ہے یہاں تک کہ وہ دجال کی تکذیب کریں گے۔
11:۔ بخاری، احمد، ترمذی اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ ایک سفید سوکھی زمین پر بیٹھتے تو آپ کے پیچھے سرسبز کھیتی (آپ کی برکت کی وجہ سے) ہوجاتی۔
12:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا…
Read the full tafseer →[قَالَ : کہا ] [لَهٗ : ان سے ] [مُوْسٰي : موسٰی (علیہ السلام) نے ] [هَلْ : کیا ] [اَتَّبِعُكَ : میں ساتھ ساتھ چلوں آپ کے ] [عَلٰٓي ان : اس پر کہ ] [تُعَلِمَنِ : آپ تعلیم دیں مجھ کو ] [مِمَا : اس سے جو ] [عُلِمْتَ : تعلیم دی گئی آپ کو ] [رُشْدًا : معاملہ فہمی کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–78
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہ السلام) کا مفصل واقعہ
مذکورہ بالا آیات میں اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر ( علیہ السلام) کی ملاقات کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ یہ واقعہ حدیث کی کتابوں میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے امام بخاری (رح) نے کتاب العلم میں دو جگہ لکھا ہے پہلی جگہ صفحہ 17 ج 1 پر مختصر اور پھر صفحہ 23 ج 1 پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے پھر کتاب التفسیر (ج 2 تا ص 676۔ 690) میں سورة کہف کی تفسیر میں مفصل روایت کی ہے نیز اور بھی کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں صفحہ 269 ج 2 میں مذکور ہے امام نسائی نے سنن کبریٰ میں ج 6 ص 386 تا صفحہ 390 میں ذکر کیا ہے، امام ترمذی بھی اس واقعہ کو ابواب التفسیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
قصہ حضرت موسیٰ باخضر (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح .... الیٰ .... لقد جئت شیئا نکرا۔
(ربط) چونکہ قریش نے آنحضرت ﷺ کی آزمائش کے لیے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق جو سوالات کیے تھے وہ یہود کے بتلانے اور سمجھانے سے کئے تھے کہ اگر آنحضرت ﷺ ان باتوں کا جواب دے دیں تو جانو کہ وہ نبی ہیں ورنہ نہیں اس لئے یہود کے سنانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتے ہیں تاکہ معلوم کریں کہ نبی کے لیے یہ شرط نہیں کہ اس کو سب چیزیں معلوم ہوں اور وہ تمام اخبار اور قصص کا عالم ہو بلکہ نبوت کے لیے وحی اور علوم ہدایت کی معرفت ضروری ہے۔ چناچہ موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
67:۔ اس بندے سے قول مختار کے مطابق حضرت خضر (علیہ السلام) مراد ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے تکوینیات کا وہ علم عطا فرمایا تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس نہیں تھا جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو علم شرائع حاصل تھا جو حضرت خضر (علیہ السلام) کے پاس نہیں تھا، چناچہ جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو حضرت خضر نے کہا یموسا انا علی علم علمنی اللہ لا تعلمہ انت وانت علی علم علمک اللہ لا اعلمہ انا (کبیر ج 5 ص 734) ۔ حضرت خضر کے بارے میں بعض نے لکھا ہے کہ وہ فرشتہ تھا، بعض نے کہا ہے وہ ولی تھے، لیکن جمہور کا مسلک یہ ہے کہ وہ نبی تھے۔ حضرت خفر (علیہ السلام) کی نبوت پر خود قرآنی قرائن شاہد ہیں۔ اول یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
ربط آیات :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک معمولی سی لغزش ہوگئی تھی جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ابتلا میں ڈال دیا اور فرمایا کہ ہمارے بندوں میں سے ایک ایسا بندہ ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا ، مولا کریم ! میں تیرے اس بندے تک کیسے رسائی حاصل کرسکتا ہوں تاکہ اس سے کچھ حاصل کرسکوں اللہ نے حکم دیا کہ آپ فلاں سفر پر روانہ ہوجائیں اور ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ہمراہ لے لیں جب مقام پر وہ مچھلی گم ہوجائے گی ، میرا خاص بندہ تمہیں وہیں مل جائے گا ، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ایک شاگرد اور خادم حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) کو ہمراہ لیا اور سفر پر روانہ…
Read the full tafseer →قَالَ لَہٗ مُوْسٰي ہَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰٓي اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا 66
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك
قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ،
( ت ب ع) تبعہ واتبعہ
کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے
رشد
الرَّشَدُ والرُّشْدُ : خلاف الغيّ ، يستعمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–68
1 ؎ جوان سے مراد خادم ہے جو غالباً یوشع بن نون تھے۔ 12 منہ
ترکیب : اذ قال ظرف ہے اذکر محذوف کا۔ لا ابرح اس کی خبر اسیر محذوف ہے لدلالۃ حالہ وھو السفر اور ممکن ہے کہ اصل کلام یوں ہو لایبرح مسیری حتیٰ ابلغ تب حتی ابلغ خبر ہوگا پس مسیر مضاف کو حذف کر کے مصاف الیہ ی متکلم کو اس کی جگہ قائم کردیا لا ابرح تامہ بھی ہوسکتا ہے پھر خبر کی ضرورت نہیں مجمع بینہما ظرف کی طرف مجمع کو علی الاتساع مضاف کردیا گیا۔ ان اذکرہ بدل ہے ضمیر منصوب سے جو انسانیہ میں ہے۔ اے ماانسانی ذکرہ۔ الا الشیطان خبرا بالضم العلم بالشیء یہ تمیز ہے یا مصدر ہے لم تحط کا کس لیے کہ لم تحط بمعنی لم تخیرہ ہے۔
تفسیر : یہاں سے پھر مسئلہ…
Read the full tafseer →قَالَ لَـہٗ مُوْسٰی ھَلْ اَتَّبِعُکَ عَلٰٓی اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا۔ (الکہف : 66)
(حضرت ِ موسیٰ نے حضرت خضر سے کہا کہ کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں، اس شرط کے ساتھ کہ جو علم آپ کو عطا ہوا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھائیں۔ )
حصولِ علم کے لیے ادب بہت ضروری ہے
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات جس پر توجہ دینا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی جلالتِ شان کے باوجود کس قدر ادب و احترام کے ساتھ حضرت خضر (علیہ السلام) سے علم کے حصول کی درخواست کررہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حصول علم اور استفادہ کے لیے ادب اور احترام بہت ضروری ہے۔ بالخصوص ایسا علم جس کا تعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھول کر دریا کے سنگھم سے آگے گزر جانا اور معلوم ہونے پر واپس پلٹنا۔
یوشع بن نون نے جب عرض کی کہ حضرت جہاں آپ نے آرام کیا تھا وہاں مچھلی دریا میں کود گئی۔ لیکن میں آپ سے عرض کرنا بھول گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فوراً فرمایا یہی تو ہماری منزل تھی۔ پھر انہی قدموں پر منزل تلاش کرتے ہوئے واپس پلٹے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ دونوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا۔ جس کو ہم نے اپنی رحمت سے نواز رکھا تھا اور اپنی طرف سے خصوصی علم عطا کیا تھا۔ قرآن مجید نے اس بندے کا نام نہیں بتلایا البتہ حدیث شریف میں اس کا نام خضر آیا ہے۔ حضرت…
Read the full tafseer →66: قَالَ لَہٗ مُوْ سٰی ھَلْ اَتَّبِعُکَ عَلٰٓی اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا (موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مفید علم آپ کو سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ آپ مجھے بھی سکھائیں) رُشْدًا سے ایسا علم جو رُشْد والا ہو جس سے میں اپنے دین میں راہنمائی حاصل کروں۔
قراءت : ابو عمرو نے رَشدًا پڑھا ہے۔ اور یہ دونوں لغات ہیں البخل البَخل۔
نکتہ : اس میں دلیل ہے کہ کسی کو طلب علم چھوڑنا نہ چاہیے اگرچہ وہ علم کی انتہاء کو پہنچ جائے اور اس آدمی کے سامنے تواضع کرے جو اس سے زیادہ علم والا ہو۔
Read the full tafseer →(66) ” قال لہ موسیٰ ھل اتبعک “ کہ آپ کی صحبت اختیار کرسکتا ہوں۔” علی ان تعلمن مما علمت رشدا “ ابو عمرویعقوب نے رشداً راء کے فتحہ اور شین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے راء کے ضمہ اور شین کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد صوابًا ہے اور بعض نے کہا کہ ایسا علم جو راہ ہدایت پر لانے والا ہو۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے یہ بات کہی تھی ( ساتھ رہنے کی درخواست کی) تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا کہ علم کے لیے تو رات کافی ہے اور عمل کے لیے نبی اسرائیل کا مشغلہ کافی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ نے مجھے اس کا حکم دیا ہے۔ ( حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
60۔ 66:۔ ان آیتوں میں مختصر طور پر قصہ شروع بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ اس زمانہ میں اے موسیٰ بڑا صاحب علم کون ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں ہوں اللہ تعالیٰ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ جواب پسند نہیں آیا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اس حکم کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خاص رفیق یوشع بن نون کو ساتھ لیکر خضر (علیہ السلام) کے ملنے کی غرض سے سفر کا ارادہ کیا 1 ؎۔ اب آگے وہی قصہ ہے جو ان آیتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–73
آیت 59
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس بندے سے بڑھ کر کوئی ظالم اور اس سے بڑا کوئی مجرم نہیں جسے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریععے سے نصیحت کی جائے، اس کے سامنے حق اور باطل، ہدایت اور ضلالت کو واضح کردیا گیا ہو، اسے برے انجام سے ڈرایا گیا اور آخرت کے ثواب کی ترغیب دی گئی ہو اور وہ روگردانی کرے، نصیحت نہ پکڑے، اپنے کر تتوں سے باز نہ آئے اور اپنے ہاتھوں کی کمائی سے انجان بنا رہے اور اللہ عالم الغیوب کو اپنے اوپر نگران نہ سمجھے۔ پس یہ اس روگرداں شخص کے ظلم سے بڑا ظلم ہے جس کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں پہنچیں اور اس کو ان آیات کے ذریعے سے نصیحت نہیں کی گئی۔۔۔ یہ بھی اگرچہ ظالم ہے مگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–81
قول باری ہے (لقد لقینا من سفرنا ھذا نصباً آج کے سفر تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں) اگر انسان کو کسی عبادت کے سلسلے میں تکان یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس کا اظہار اپنی زبان سے کرسکتا ہے ۔ درج بالا آیت اس کے جواز پر دلالت کر رہی ہے یہ کوئی ناپسندیدہ شکایت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کا یہ واقعہ ذکر کر کے یہ بیان کردیا ہے کہ اگر حکیم یعنی دان ا کے کسی اقدام میں ضرور کا کوئی پہلو نظر آئے تو اس پر اسے ٹوکنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس فعل میں جواز کا یہ پہلو بھی موجود ہو کہ اس کا یہ سارا فعل ایسی حکمت پر مبنی ہو جو کسی نہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
115۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حضرت خضر سے ملاقات :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” وہاں پہنچ کر انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا “ جن کا نام نامی صحیح حدیث کے مطابق خضر تھا۔ جن کی نبوت کے بارے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ اور راجح قول کے مطابق آپ نبی نہیں تھے۔ اور اگر ان کی نبوت تسلیم بھی کرلی جائے تو پھر بھی آپ کا درجہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے برابر نہیں پہنچتا۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رسول تھے۔ اور رسول بھی اولو العزم رسول۔ جن کے پاس نئی شریعت اور نئی کتاب تھی اور آپ ایک مستقل امت کے ہادی اور راہنما تھے۔ بخلاف حضرت خضر کے کہ ان کے پاس ان میں سے کوئی بھی چیز نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–74
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا خضر (علیہ السلام) کا قصہ اور کئی نصیحتیں
تشریح : اس قصہ کا ذکر ایک تو اس لیے کیا گیا کہ اہل عرب کے آنحضرت ﷺ سے تین سوالوں میں سے دوسرے کا جواب یہ تھا۔ پھر یہ کہ کوئی کام اللہ کی مرضی کے بغیر ہرگز نہیں ہوسکتا اس کام کے کرنے کے لیے اللہ چاہے کسی کو بھی وسیلہ بنا دے۔
تیسرے یہ کہ ایک دینی اور اخلاقی قانون واضح کردیا گیا کہ غلطی چاہے عام انسان سے ہو یا نبی سے ہو اللہ اس کی پکڑ ضرور کرتا ہے۔ یہاں یہی سبق دیا گیا ہے کہ کبھی بھی اپنی بڑائی کا کلمہ منہ سے نہ نکالا جائے۔ ہوا اس طرح کہ کسی اجتماع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کسی نے پوچھا کہ کیا آپ سے زیادہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
(رکوع نمبر 9)
اسرارومعارف
جہاں تک ان لوگوں کے متکبرانہ رویے کا تعلق ہے تو وہ ایسا ہے کہ اگر کسی مقبول بارگاہ یعنی نبی اور رسول سے بھی کوئی کلمہ غیر ارادی طور پر بھی نکل جائے تو اس پر بھی تنبیہ کی جاتی ہے اور انہیں تعلیم فرمانے کے لیے آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے پہلے گذر چکا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کل جواب دوں گا تو پندہ روز وحی نہ آئی اور کفار نے بہت تمسخر اڑایا پھر تعلیم فرمایا گیا کہ انشاء اللہ فرمایا کیجئے ایسے ہی موسیٰ (علیہ السلام) سے جو الوالعزم رسول اور کلیم اللہ تھے ایک چھوٹی سی بات صادر ہوئی تو انہیں تعلیم فرمانے کے لیے ایک پوری آزمائش سے گذارا گیا ، اگر مقبولان بارگاہ سے غیر ارادی طور…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی اگر اجازت ہو تو چند روز آپ کے ساتھ رہ کر اس علم کا کچھ حصہ حاصل کرلوں جو خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے حضرت موسیٰکو اولوالعزم پیغمبر تھے لیکن بعض جزئیات کا جو علم حضرت خضر کو دیا گیا تھا وہ حضرت موسیٰ کو حاصل نہیں تھا کیونکہ ان موسیٰ کی شان میں کوئی فرق نہیں آتا پیغمبر اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم ہوتا ہے مگر جن باتوں کا تعلق اس پیغمبر کی شریعت سے نہیں ہوتا ان کا نہ جاننا اس پیغمبر کی شان کے خلفا نہیں ہوتا۔ اسی بنا پر آنحضرت نے فرمایا …………پھر جو علوم حضرت موسیٰ کو ملے تھے ان کا حضرت خضر کو نہ تھا جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت میں تصریح ہے۔ علامہ درانی نے حواشی جدید میں اس…
Read the full tafseer →(18:66) تعلمن۔ تو مجھ کو سکھا دے۔ تعلیم سے جس کے معنی سکھانے کے ہیں۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ نوقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے۔ رشدا۔ تعلمن کے مفعول ثانی کی صفت ہے ای علما ذا رشد۔ رشد و ہدایت کا علم رشد۔ بمعنی ہدایت۔ بھلائی۔ راستی۔ صلاحیت۔ ان تعلمن مما علمت رشدا کہ آپ سکھائیں مجھے رشدو ہدایت کا خصوصی علم جو آپ کو (منجاب اللہ) سکھایا گیا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
لغات القرآن آیت نمبر 65 تا 70
وجدا دونوں نے پایا۔ علمنا ہم نے سکھایا۔ علمت تجھے سکھایا گیا۔ رشد ہدایت۔ لن تستطیع تو ہرگز طاقت نہیں رکھتا۔ لم تحط گھیرتا نہیں ہے۔ لا اعصی میں نافرمانی نہیں کروں گا۔ لاتسئلنی مجھ سے نہ پوچھنا ۔ حتی احدث جب تک میں بیان نہ کردوں۔ ذکر ذکر، بات۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 70
جب حضرت موسیٰ اللہ کے حکم سے حضرت خضر (علیہ السلام) کی تلاش میں نکلے تو ان کی ملاقات ایک سنگم پر حضرت خضر سے ہوگئی۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ نے حضرت خضر سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے آپ کو جو خصوصی علوم و معارف عطا کئے ہیں میں آپ کے پاس رہ کر انہیں سیکھنا چاہتا ہوں۔ حضرت خضر نے کہا اے موسیٰ آپ…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کے علم کا ذکر
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے ایک چڑیا دکھائی جو دریا میں سے پانی پی رہی تھی۔ فرمایا کہ اے موسیٰ تیرا اور میرا علم اللہ کے علم کے مقابلہ میں ایسا ہے جیسا اس چڑیا نے اس دریا سے پانی پیا اور تو نے دیکھا کہ دریا میں کسی طرح سے بھی کمی نہیں آئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–75
[23] حدیث میں یوں آیا ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کوئی آپ سے زیادہ بھی علم رکھتا ہے ؟ فرمایا میں نہیں جانتا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہی سب سے بڑے عالم ہیں۔ اس پر وحی آئی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارا ایک بندہ خضر ہے جو تم سے بھی زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے ملنے کے مشتاق ہوئے اور پوچھا کہ ان تک پہنچنے کی کیا صورت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ لے کر سفر کرو۔ جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہیں ملاقات ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) !
(ف 1) حضور ﷺ سے قبل یہودیوں اور عیسائیوں میں جن مباحث اور قصص کا چرچا تھا ، ان میں ایک بحث یہ بھی تھی ، کہ اصحاب کہف کون تھے ، موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا قصہ کیونکر ہے ، اور ذوالقرنین کے حالات کیا ہیں ؟ اس لئے ان کو حضور ﷺ سے بھی ان مسائل کے متفق پوچھنا ضروری ہے تھا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے علم کے لئے ان قصوں کی حقیقت بیان فرمائی ، اور نکات ومعارف کی جانب اشارہ فرمایا جو ان قصے کے ضمن میں پنہاں ہیں اصحاب کہف کے قصہ میں یہ بتلایا کہ خدا پرستوں کو خدا کیونکر کامیاب وکامران فرماتا ہے ، اور کیونکر باطل پرستوں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے…
Read the full tafseer →-66 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ جو مفید اور راہ یابی اور بھلی چیز اللہ تعالیٰ کی جانب سے سکھائی گئی ہے اس میں سے کچھ مجھ کو بھی آپ سکھا دیں یعنی میں آپ کی خدمت میں رہوں مگر اس شرط پر کہ آپ کو بدون کسب و اکتساب کے محض اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا ہوا ہے اس میں سے کچھ آپ مجھے بھی سکھا دیں۔
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی آپ ساتھ رہنے کی اجازت دیجئے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کردیا :
71۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے تعارف ہوجانے کے بعد اور شناسائی حاصل ہوجانے کے بعد اس سفر میں جس میں وہ اللہ کا بندہ نکلا تھا ساتھ رہنے کی جب درخواست کی تاکہ ان کاموں کی تعلیم وہ بھی حاصل کرلیں جن کاموں کے لئے وہ سفر کر رہا تھا اور خصوصا جب اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ اس کا سفر ایک سرکاری سفر ہے جس میں نہ معلوم کتنی باتیں بھلائی کی پوشید ہوگی جو انسان کے لئے مفید ثابت ہو سکتی ہیں لیکن آپ کی درخواست کا جو جواب اس نے دیا وہ آنے والی آیت میں ذکر کیا گیا ہے ۔
Read the full tafseer →Following the teacher is incumbent on the student
In verse 66: هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا ، Sayyidna Musa (علیہ السلام) despite being a prophet and messenger of great resolve, has most reverentially requested al-Khadir (علیہ السلام) if he could follow him to learn his knowledge from him. This tells us that the etiquette of acquiring knowledge is nothing but that the student should show respect for the teacher and follow him (as an individual who is eager to learn) - even if the student happens to be superior to his teacher. (Qurtubi, Mazhari)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–81
59. The name of this servant has been stated to be Khidr in all the authentic books of traditions. Thus there is no reason why it should be considered at all that his name was Elijah, as some people have asserted under the influence of the Israelite traditions. Their assertion is incorrect not only because it contradicts the assertion of the Prophet (peace be upon him) but it is also absurd because Prophet Elijah (peace be upon him) was born several hundred years after Prophet Moses (peace be upon him). Though the Quran does not mention the name of the attendant of Prophet Moses (peace be…
Read the full tafseer →