Explained with ayahs 50–51
محسن کو چھوڑ کر دشمن سے دوستی
بیان ہو رہا ہے کہ ابلیس تمہارا بلکہ تمہارے اصلی باپ حضرت آدم ؑ کا بھی قدیمی دشمن رہا ہے اپنے خالق مالک کو چھوڑ کر تمہیں اس کی بات نہ ماننی چاہئے اللہ کے احسان و اکرام اس کے لطف و کرم کو دیکھو کہ اسی نے تمہیں پیدا کیا پالا پوسا پھر اسے چھوڑ کر اس کے بلکہ اپنے بھی دشمن کو دوست بنانا کس قدر خطرناک غلطی ہے ؟ اس کی پوری تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کر کے تمام فرشتوں کو بطور ان کی تشریف، تعظیم اور تکریم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ سب نے حکم برداری کی لیکن چونکہ ابلیس بد اصل تھا، آگ سے پیدا شدہ تھا، اس نے انکار کردیا اور…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 47
اس سلسلہ کلام میں قصہ آدم و ابلیس کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود گمراہ انسانوں کو ان کی اس حماقت پر متنبہ کرنا ہے کہ وہ اپنے رحیم و شفیق پروردگار اور خیر خواہ پیغمبروں کو چھوڑ کر اپنے اس ازلی دشمن کے پھندے میں پھنس رہے ہیں جو اول روز آفرینش سے ان کے خلاف حسد رکھتا ہے۔
سورة الْكَهْف 48
یعنی ابلیس فرشتوں میں سے نہ تھا بلکہ جنوں میں سے تھا، اس لیے اطاعت سے باہر ہوجانا اس کے لیے ممکن ہوا۔ فرشتوں کے متعلق قرآن تصریح کرتا ہے کہ وہ فطرۃً مطیع فرمان ہیں لَایَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرْوْنَ (التحریم 6) " اللہ جو حکم بھی ان کو دے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
خلاصہ تفسیر
اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جبکہ ہم نے ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم ؑ کے سامنے سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے کہ وہ جنات میں سے تھا اس نے اپنے رب کے حکم سے عدول کیا، (کیونکہ نجات کا عنصر غالب جس سے وہ پیدا کئے گئے ہیں آگ ہے، اور عنصر نار کا مقتضا پابند نہ رہنا ہے، مگر اس اقتضائے عنصری کی وجہ سے ابلیس معذور نہ سمجھا جائے گا کیونکہ اس تقاضائے عنصری کو خدا کے خوف سے مغلوب کیا جاسکتا تھا) تو کیا پھر بھی تم اس کو اور اس کی زریت (اولاد اور توابع) کو دوست بناتے ہو مجھ کو چھوڑ کر (یعنی میری اطاعت چھوڑ کر اس کے کہنے پر چلتے وہ) حالانکہ وہ (ابلیس اور اس کی جماعت) تمہارے دشمن ہیں (کہ…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 50 تا 59:۔ آگے آدم و ابلیس کے ماجرے کا حوالہ دے کر قریش کو متنبہ کیا ہے کہ تم اس انکار و تکذیب میں بالکل سنت ابلیس کی پیروی کر رہے ہو۔ تم نے اسی ابلیس اور اس کی ذریت کو اپنا کارساز اور معبود بنا رکھا ہے جس نے قیام تک کے لیے اولاد آدم کو دشمنی کا چیلنج دے رکھا ہے۔ یہ تم نے خدا کو چھوڑ کر نہات ہی برا بدل اپنے لیے تلاش کیا ہے۔ یہ قرآن جو تم کو سنایا جا رہا ہے، تمہارے لیے عظیم رحمت ہے۔ یہ حقیقت کو تمہارے سامنے گوناگون پہلوؤں سے پیش کر رہا ہے کہ بات تمہارے ذہن نشین ہوجاے لیکن تم رحمت کی جگہ عذاب کے اور روٹی کے بجائے پتھر کے طالب ہو اور مطالبہ کر رہے ہو کہ جب تک وہ عذاب تم کو نہ…
Read the full tafseer →50۔ 1 قرآن کی اس آیت نے واضح کردیا کہ شیطان فرشتہ نہیں تھا، فرشتہ اگر ہوتا تو حکم الٰہی سے سرتابی کی اسے مجال ہی نہ ہوتی، کیونکہ فرشتوں کی صفت اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے (لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ) 66۔ التحریم :6)۔ وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔ اس صورت میں یہ اشکال رہتا ہے اگر وہ فرشتہ نہیں تھا تو پھر اللہ کے حکم کا وہ مخاطب ہی نہیں تھا کیونکہ اس کے مخاطب تو فرشتے تھے انھیں کو سجدے کا حکم دیا گیا تھا صاحب روح المعانی نے کہا ہے کہ وہ فرشتہ یقینا نہیں تھا لیکن وہ فرشتوں کے ساتھ ہی رہتا تھا اور…
Read the full tafseer →29: تفصیل کے لیے دیکھئے سورة بقرہ آیت 31 تا 36 اور ان آیات کے حواشی
30: یعنی اللہ تعالیٰ کے بدلے ان ظالموں نے کتنا برا رکھوالا چنا ہے۔
Read the full tafseer →آدم ابلیس کے اس قدیمی قصے کی طرف یہاں ایک اشارہ سا کیا گیا ہے اور یہ بھی بطور تعجب کے کہ ابن آدم پھر بھی ابلیس اور اس کی ذریت کو دوست بناتے ہیں حالانکہ ابلیس ابن آدمی کا قدیمی دشم نہ اور یہ تکریم آدم کی وجہ سے دشمن ہوا ہے اور پھر بھ ہم اللہ کو چھوڑ کر اپنے دشمن سے دوست کرتے ہیں۔ اور ابلیس کی دوستی یہ ہے کہ ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور اللہ کی اطاعت نہیں کرتے جو اللہ کا دوست ہوتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔
یہ لوگ اپنے ان دشمنوں کے ساتھ کیوں دوستی رکھتے ہیں حالانکہ ان لوگوں کے پاس نہ علم ہے اور نہ قوت ہے۔ اور نہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے وقت ان لوگوں کو بلایا تھا اور نہ خود ان…
Read the full tafseer →8 حق تعالیٰ کی بارگاہ میں ظلم کا بایں معنی تو امکان ہی نہیں کہ وہ غیر کی ملک میں تصرف کرے، کیونکہ تمام مخلوق اسی کی ملک ہے۔ لیکن ظاہر میں جو ظلم نظر آئے اور بےموقع کام سمجھا جائے، وہ بھی نہیں کرتا، نہ کسی کو بےقصور پکڑتا ہے نہ کسی کی ادنیٰ نیکی کو ضائع ہونے دیتا ہے۔ بلکہ اپنی حکمت بالغہ سے نیکی و بدی کے ہر ایک درخت پر وہ ہی پھل لگاتا ہے جو اس کی طبیعت نوعیہ کا اقتضاء ہو
گندم از گندم بروید جَو از جو
از مکافات عمل غافل مشو
کفر و ایمان اور طاعت و معصیت میں خالق الکل نے اسی طرح کے علیحدہ علیحدہ خواص و تاثیرات رکھ دی ہیں جیسے زہر اور تریاق میں۔ آخرت میں خیر و شر کے یہ تمام خواص و آثار اعلانیہ ظاہر…
Read the full tafseer →آیت 50 وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ
یہاں سورة بنی اسرائیل اور سورة الکہف کی مشابہت کے سلسلے میں یہ اہم بات نوٹ کیجئے کہ سورة الکہف کے ساتویں رکوع کی پہلی آیت کے الفاظ بعینہٖ وہی ہیں جو سورة بنی اسرائیل کے ساتویں رکوع کی پہلی آیت کے ہیں۔ حضرت آدم اور ابلیس کا یہ قصہ قرآن میں سات مقامات پر بیان ہوا ہے۔ باقی چھ مقامات پر تو اس کا ذکر نہیں مگر یہاں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ ابلیس جنات میں سے تھا :
كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ
یہاں پر ”فَ“ علت کو ظاہر کر رہا ہے کہ چونکہ وہ جنات میں سے تھا اس لیے نافرمانی کا مرتکب ہوا۔ ورنہ…
Read the full tafseer →46 اعمال کا بلا کم وکاست اندراج :۔ نہ تو یہ ہوگا کہ ایک کے جرم کی سزا دوسرے کو دے دی جائے نہ یہ کہ کسی کا جرم کم ہو اور اسے سزا دے دی جائے نہ یہ کہ کسی کو بےگناہ ہی دھر لیا جائے یعنی ظلم کی کوئی قسم وہاں روا نہیں رکھی جائے گی اعمال نامہ میں جو کچھ فرشتوں نے درج کیا ہوگا بعینہ اسی کے مطابق اسے بدلہ دیا جائے گا۔
47 فرشتوں کو سجدہ کا حکم ابلیس کا انکار حالانکہ وہ فرشتہ نہیں تھا :۔ وہ فرشتوں کی اصل سے نہیں تھا کیونکہ فرشتے فطری طور پر اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار مخلوق ہے وہ اللہ کے حکم کی نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ کرسکتے ہیں اللہ کی اطاعت کرنے یا نہ کرنے کا اختیار صرف جنوں اور انسانوں کو دیا گیا ہے…
Read the full tafseer →73۔ (آیت) ” للملٓئکۃ۔ اسجدوا لادم۔ ابلیس “۔ اور سارے واقعہ آدم، ابلیس پر حاشیے سورة بقرہ اور سورة اعراف دونوں میں گزر چکے۔
74۔ (جیسا کہ ایک جنی سے مستبعد بھی نہیں) (آیت) ” کان من الجن “۔ اس میں صراحت کے ساتھ تردید ہے اس یہودی اور نصرانی عقیدہ کی کہ ابلیس کا شمار فرشتوں میں تھا۔ اور حیرت ہے کہ قرآن مجید کی اتنی واضح تصریح کے بعد بھی ہزاروں پڑھے لکھے مسلمان اب تک ابلیس کو فرشتہ ہی سمجھے جارہے ہیں ! فیہ بیان انہ لیس من الملئکۃ لانہ اخبر انہ من الجن فھو جنس غیرجنس الملائکۃ (جصاص) والظاھر میں ھذہ الایۃ انہ لیس من الملائکۃ وانما ھو من الجن (بحر) ابلیس کے جنی ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ ایک ناری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
آیت نمبر 50 تا 53
ترجمہ : وَاِذْ قلنا یہ اذکر فعل محذوف کی وجہ سے محلاً منصوب ہے اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو یعنی آدم کی تعظیم کے لئے تم اس کے سامنے جھکو نہ یہ کہ زمین پر پیشانی رکھو چناچہ ابلیس کے علاوہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا کیونکہ (ابلیس) جنات میں سے تھا، کہا گیا ہے کہ جنات ملائکہ کی اقسام میں سے ایک قسم ہیں، تو اس صورت میں مستثنیٰ متصل ہوگا اور (یہ بھی) کہا گیا ہے کہ اِلاَّ ابلیس مستثنیٰ منقطع ہے اور ابلیس جنات کا جد اعلیٰ ہے اس کی ذریت بھی ہے جس کا ذکر بعد والی آیت میں آرہا ہے، اور ملائکہ کی ذریت نہیں ہوتی اسی سبب (یعنی جنی ہونے کے سبب سے) اس نے اپنے رب کے حکم…
Read the full tafseer →واذا قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس اور یاد کرو اس واقعہ کو جب ہم نے فرشتوں
سے کہا تھا کہ آدم کے سامنے سجدہ کرو سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے۔ قرآن مجید میں مختلف متعدد مقامات پر مختلف مقاصد کی تمہید کے طور پر فرشتوں کو آدم کے لئے سجدہ کرنے کا حکم اور ملائکہ کا سجدہ کرنا اور ابلیس کا انکار کرنا بیان کیا گیا ہے۔ اس جگہ بھی خاص مقصد کے لئے اس واقعہ کا تذکرہ کیا (مال دنیا اور شرافت نسب اور عزت قومی پر) فخر کرنے والوں کی جب آیات مذکورہ بالا میں مذمت کی اور ان کی اس حرکت کو ناپسندیدہ قرار دیا تو اس کو پختہ کرنے کے لئے ابلیس کے انکار اور فرشتوں کی تعمیل امر کا تذکرہ کیا تاکہ معلوم…
Read the full tafseer →(50) اور جب ہم نے ان فرشتوں کو بھی حکم دیا جو کہ زمین پر تھے کہ حضرت آدم ؑ کو سجدہ تحیت کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو کہ سردار تھا اور جنات میں سے تھا اس نے اپنے آپ کو بڑا سمجھا اور اپنے پروردگار کی اطاعت سے سرکشی کی اور حضرت آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا۔
کیا تم پھر بھی شیطان کی اور اس کے چیلوں کی اللہ تعالیٰ کے علاوہ پرستش کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں، مشرکین نے اطاعت کے لیے میرے علاوہ برا بدل اختیار کیا ہے۔
یا یہ کہ عبادت خداوندی کے بدلہ میں شیطان کی عبادت کو اختیار کرلیا یا یہ کہ ولایت خداوندی کے عوض شیطان کو ولی اور دوست بنالیا۔
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا۔۔ : اس سلسلۂ کلام میں آدم و ابلیس کا قصہ ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ کفار کو متنبہ کیا جائے کہ تم جس غرور و تکبر کی راہ پر چل رہے ہو اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے ہو یہ وہی راہ ہے جس پر تم سے پہلے شیطان نے قدم رکھا تھا، پھر دیکھ لو کہ اس کا انجام کیا ہوا ؟rnۭ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ ۭ : ”فَفَسَقَ“ میں فاء تعلیل یعنی وجہ بیان کرنے کے لیے ہے، جیسے کہتے ہیں : ”سَرَقَ فَقُطِعَتْ یَدُہُ“ ”اس نے چوری کی، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔“ یعنی شیطان جنوں میں سے تھا، اس لیے اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی۔ اگر فرشتوں سے ہوتا تو کبھی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 50
قولہ تعالیٰ : واذ قلنا۔۔۔۔ عن امر ربہ، اس پر مکمل بحث سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ ابو جعفر نحاس نے کہا ہے : اس آیت میں ایک سوال ہے، کہا جاتا ہے : ففسق عن امر ربہ کا کیا معنی ہے ؟ تو اس میں دو قول ہیں : ایک یہ ہے۔۔۔ اور یہ خلیل اور سیبویہ کا مذہب ہے کہ اس کا معنی ہے جس کے بارے اسے حکم دیا گیا اس کے بارے اس نے فسق کا ارتکاب کیا پس اس نے نافرمانی اور معصیت کا ارتکاب کیا، تو اس میں فسق کا سبب اس کے رب کا حکم ہوا، جیسے تو کہتا ہے : أطعمتہ عن جوع (میں نے بھوک کی وجہ سے اسے کھانا کھلایا) ۔ اور دوسرا قول ہے اور یہ محمد بن قطرب کا مذہب ہے کہ اس کا معنی ہے : پس وہ اپنے رب کے حکم کو رد کرنے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر ابن منذر ابوالشیخ نے عظمہ میں اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فرشتوں میں سے ایک قبیلہ ہے جس کو جن کہا جاتا ہے ابلیس ان میں سے تھا اور آسمان و زمین میں جو (مخلوق) ہے ان (کے دلوں) میں وسوسے پیدا کرتا تھا پھر اس نے نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو شیطان مردود بنا دیا۔
2:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کان من الجن “ کے بارے میں روایت کیا کہ جنت کے خازن کو جن کہا جاتا ہے۔
3:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اور ابن مسعود ؓ نے شیطان کے بارے میں اختلاف کیا ان میں سے ایک نے فرمایا وہ فرشتوں کے ایک قبیلہ…
Read the full tafseer →[وَاِذْ : اور جب ] [قُلْنَا : ہم نے کہا ] [لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں سے ] [اسْجُدُوْا : تم لوگ سجدہ کرو ] [لِاٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) کو ] [فَسَجَدُوْٓا : تو ان سب نے سجدہ کیا ] [اِلَّآ : سوائے ] [اِبْلِيْسَ : ابلیس کے ] [كَان : وہ تھا ] [مِنَ الْجِنِّ : جنوں میں سے ] [فَفَسَقَ : تو وہ نکل گیا ] [عَنْ اَمْرِ رَبِهٖ : اپنے رب کے حکم (کی اطاعت) سے ] [اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ : تو کیا تم لوگ بناتے ہو اس کو ] [وَذُرِّيَّتَهٗٓ: اور اس کی اولاد کو ] [اَوْلِيَاۗءَ : کارساز ] [مِنْ دُوْنِيْ : میرے علاوہ ] [وَ : حالانکہ ] [هُمْ : وہ سب ] [لَكُمْ : تم لوگوں کے ] [عَدُوٌّ: دسمن ہیں ] [بِئْسَ : کتنا برا ہے…
Read the full tafseer →فرشتوں کا اللہ تعالیٰ کے حکم سے آدم کو سجدہ کرنا اور ابلیس کا منکر ہو کر نافرمان بن جانا، ابلیس اور اس کی ذریت کا بنی آدم کی دشمنی کو مشغلہ بنانا
اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو، فرشتوں نے تو سجدہ کرلیا (یہ سجدہ تعظیمی ہے) لیکن ابلیس نے سجدہ نہیں کیا وہ بھی وہیں عالم بالا میں رہتا تھا۔ اس نے کٹ حجتی کی اور سجدہ کرنے سے انکاری ہوگیا جس کا تذکرہ سورة بقرہ کے رکوع 4 میں اور سورة اعراف کے رکوع 2 اور بنی اسرائیل کے رکوع 7 میں گزر چکا ہے ابلیس جنات میں سے تھا اور بظاہر عبادت گزاروں اور فرمانبرداروں میں شمار ہوتا تھا جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
گندم از گندم بروید جو زجو از مکافات عمل غافل مشو
غرور اور تکبر کا حال اور مال
قال اللہ تعالیٰ واذا قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وجعلنا لمہلکم موعدا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل دولت کے غرور اور تکبر کا حال بیان کیا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ تمام خرابیوں کی جڑ یہی تکبر ہے جس کا آغاز ابلیس لعین سے ہوا اور تواضع اور نیاز مندی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کردینا بھی تمام بھلائیوں اور خوبیوں کی جڑ ہے۔ جس کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا یہ تمہارے باپ کا طریقہ ہے لہٰذا تم کو چاہئے کہ اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کے طریقہ پر چلو پس خوب سمجھ لو کہ جو دولت مند کفر کرتے ہیں اور اپنے مال…
Read the full tafseer →53:۔ جواب شبہہ ثانیہ :۔ یہ دوسرے شب ہے کا جواب ہے۔ شبہہ یہ تھا کہ اولیاء اللہ کی خانقاہوں اور قبروں پر واقع درخت وگیرہ کاٹنے سے نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غیب دان اور متصرف فی الامور ہیں۔ اس کا جواب دیا کہ اولیاء اللہ کو تو اس کا بھی علم تک نہیں ہوتا کہ مشرک لوگ ان کی قبروں پر کیا کیا مشرکانہ اعمال و رسوم بجا لا رہے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں وارد ہے کہ وہ قیامت کے دن خدا کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ان کو لوگوں کے شرک کا علم نہیں تھا۔ ” فکفی باللہ شہیدا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغفلین۔ “ ( سورة یونس رکوع 3) اور سورة فاطر رکوع 2 میں ہے۔ ” ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم “ اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومن اور مشرک آدمی کی بات ذکر فرمائی پھر دنیا کی بےثباتی کا ذکر کیا اور مال واولاد کو دنیا کی زینت کا سامان بتلایا ، پھر قیامت کے محاسبے کا ذکر کیا کہ ہر چھوٹی بڑی چیز نامہ اعمال میں درج ہوگی ،
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ دولت مند مشرک آدمی اپنے مال و دولت اور کثرت اولاد کی بناء پر اپنے مومن اور نادار بھائی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور اس طرح غرور وتکبر کا مرتکب ہوتا تھا ، مومن آدمی نے اسے سمجھایا کہ خدا تعالیٰ قادر ہے وہ اگر چاہے تو تیرے باغ ، مال اور اولاد کو ضائع کر دے اور تجھے قلاش بنا دے ، لہذا اس عارضی مال واولاد پر تکبر نہیں کرنا چاہئے…
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ 0ۭ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ 0ۭ اَفَتَتَّخِذُوْنَہٗ وَذُرِّيَّتَہٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَہُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ 0ۭ بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا 50
ملك ( فرشته)
وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ…
Read the full tafseer →1 ؎ یعنی اللہ کے بدلے میں شیطان کو کارساز بنا لیا۔ 12 منہ۔
تفسیر : یہ بھی کلام سابق کا تتمہ ہے انسان کو عالم آخرت سے غافل کرنے والی دو ہی چیزیں ہیں اول مال و اسباب و اولاد کہ جس کے نشہ میں یہ ایسا سرشار ہوتا ہے کہ اس کو اس عالم سے جانے کی فکر نہ وہاں کے لیے زاد راہ حاصل کرنے کی مہلت۔ اس کا بےثبات اور سریع الزوال ہونا تو بیان فرما چکا۔ دوم شیطان اور اس کی ذریت اولاد یا اس کے متبع لوگ جو مجازاً ذریت کہلاتے ہیں۔ انسان کے دل پر ان کے خطرات ایسا برا اثر پیدا کرتے ہیں کہ جو اس کے دل میں نہایت راسخ ہو کر اس کو بری باتوں پر ہمیشہ تحریک کرتے ہیں۔ پھر یہ وسواس رسوم ہوجانے کے سبب اور پشت در پشت متواتر…
Read the full tafseer →وَاِذْقُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ ط اَفَـتَـتَّخِذُوْنَہٗ وَذُرِّیَّتَہٗٓ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِیْ وَھُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ ط بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلاً (الکہف : 50)
(اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ جن قوم میں سے تھا پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی، (اے اولادِ آدم) کیا تم بناتے ہو اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا اپنا کارساز حالانکہ وہ سب تمہارے دشمن ہیں، ظالموں کے لیے بہت برا بدلہ ہے۔ )
قصہ آدم و ابلیس کو یہاں لانے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کو ان کا حساب و کتاب اور آخرت کا منظر دکھاکر یہ بتلایا گیا ہے کہ انسان کی گمراہی کا بنیادی محرک ابلیس ہے۔ جس سے بچنا چاہیے۔
قرآن مجید کا یہ اسلوب بیان ہے کہ وہ کسی واقعہ کو داستان گوئی کے انداز میں بیان نہیں کرتا۔ وہ ہر واقعہ کو موقع محل کے مطابق اتاب ہی بیان کرتا ہے۔ جتنا بیان کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی اسلوب کے مطابق حضرت آدم اور ابلیس کا واقعہ مختلف الفاظ اور انداز میں قرآن مجید کے مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ یاد رہے شیطان کے بارے میں اس سے پہلے یہ الفاظ استعمال نہیں ہوئے کہ شیطان جنس کے اعتبار سے جنات میں سے ہے۔ البتہ آگے چل کر سورة صٓ میں ” کَانَ مِنَ…
Read the full tafseer →سجدئہ ملائکہ اور سرکشی شیطان :
50: وَاِذْقُلْنَا لِلْمَلٰٓپکَۃِ اسْجُدُ وْا لِاٰدَمَ (اور جب ہم نے ملائکہ کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں) یہ سجدہ تحیہ تھا۔ نمبر 2۔ سجدہ اطاعت وانقیاد تھا۔ فَسَجَدُوْا اِلَّآ اِبْلِیْسَ کَانَ مِنَ الْجِنِّ (پس انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا وہ جنات میں سے تھا) یہ جملہ مستانفہ ہے گویا کوئی کہتا ہے اس نے سجدہ کیوں نہ کیا تو جواب دیا کہ وہ جنات میں سے تھا۔ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِرَبِّہٖ (پس اس نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل نہ کی) وہ اس سے نکل گیا جو اس کے رب نے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
نکتہ : یہ دلیل ہے کہ اس کو بھی ملائکہ کے ساتھ سجدہ کا حکم ملا تھا۔
سب کو…
Read the full tafseer →(50)” واذقلنا للملائکۃ اسجدو الادم “ یاد کریں اے محمد ! (ﷺ) اس وقت کو جب ہم نے فرشتوں کو کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔” فسجدوا الاً ابلیس کان من الجن “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ابلیس ملائکہ کے ہی ایک گرو ہ میں تھا۔ اس گروہ کو جن کہاجاتا تھا اور اس کی تخلیق لپٹ والی آگ سے ہوئی تھی۔ حسن کا قول ہے کہ وہ جنوں میں سے تھا نہ کہ فرشتوں میں سے اور اس کی اصل جن تھا جیسا کہ انسانوں کی اصل حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ ” ففسق “ وہ نکل گیا۔ ” عن امر ربہ “ اپنے رب کی اطاعت سے۔ ” افتسخذونہ “ اے نبی آدم !” وذریتہ اولیاء من دونی وھم لکم عدو “ اور وہ سب تمہارے دشمن تھے۔
کیا شیطان کی ذریت ہے
مجاہد سے شعبی کے حوالے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
50۔ 53:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تمام اولاد آدم (علیہ السلام) کو ابلیس کی دشمنی پر آگاہ فرمایا کہ یہ تمہارا اور تمہارے باپ کا دشمن ہے جو لوگ ابلیس کے تابع اور خدا کے مخالف ہیں ان کو ڈرایا ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور پالا اور پھر وہ شیطان کا دوست اور ہمارا دشمن بن گیا ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا کیونکہ اصل اس کی اچھی نہ تھی آگ کے شعلہ سے اس کی پیدائش ہے اور فرشتوں کی اصل نور سے ہے جس طرح صحیح مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے آیا ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں اور شیطان آگ کے شعلہ سے 1 ؎۔ سلف میں سے جس جماعت نے یہ کہا ہے کہ فرشتوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
آیت 50
اللہ تبارک و تعالیٰ آدم اور ان کی اولاد کے ساتھ ابلیس کی عداوت کا ذکر کرتا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی تعظیم و تکریم اور اپنے حکمل کی تعمیل کے لئے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔ پس انہوں نے حکم کی تعمیل کی۔ (آیت) ” سوائے ابلیس کے، وہ جنوں میں سے تھا، پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی “ اور کہنے لگا (آیت) ” کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا۔ “ اور کہا (انا خیر منہ) (الاعراف 12/8) ” میں اس سے بہتر ہوں۔ “ اس سے واضح ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور تمہارے جد امجد سے عداوت رکھتا ہے، پھر کیسے تم اس کو اور اس کی ذریت کو دوست بناتے ہو ؟ (بئس للظلمین بدلاً ) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–60
ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم
قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان
حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…
Read the full tafseer →87۔ غرور وتکبر کی راہ ابلیس لعین کی راہ :۔
جس نے اپنے اس زعم فاسد میں مبتلا ہو کر اپنے رب کے حکم کے باوجود آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اور اس بناء پر وہ ہمیشہ کیلئے مردود قرار پایا۔ والعیاذ باللہ من کل سوء وشر، سو کبر و غرور اور اپنی بڑائی کا زعم و گھمنڈ ہلاکت و تباہی اور محرومی و خرابی کی جڑ بنیاد ہے۔ اور یہ ابلیس کا طریقہ ہے۔ جبکہ عجز وانکسار اور مسکنت و تواضع آدم کا طریقہ ہے اور یہ سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہ ہے۔ پس جو لوگ دنیاوی مال و متاع اور منصب وجاہ کی بناء پر اکڑتے اور حق و ہدایت سے منہ موڑتے ہیں وہ ابلیس لعین کی راہ پر چل کر دائمی ہلاکت اور تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
شیطان اور اس کے دوستوں کے کردار سے بچو
تشریح : اللہ تعالیٰ انسان کا خالق، رازق اور رحیم و کریم ہے جب کہ شیطان تو شروع دن سے انسان کا دشمن ہے اس کی وجہ بتا دی گئی ہے۔ اب اگر عقل سمجھ کو انسان کامل میں لائے تو اس کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ کی قربت یا دوستی اچھی ہے یا کہ شیطان کی دوستی اچھی ہے ؟۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
ذرا وہ وقت تو یاد کرو کہ ہم نے تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو کتنا شرف بخشا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کرو ، لہذا سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے کہ جو وہاں موجود تھا اور اس حکم میں شامل تھا سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور آدم (علیہ السلام) کی دشمنی میں اپنے پروردگار کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا تو لوگو کیا تو آج اللہ جل جلالہ کی ذات کو چھوڑ کو اسی ابلیس اور اس کی اولاد کو دوست بناؤ گے ، حالانکہ وہ تو ابھی تک بھی اور ہمیشہ تمہارے دشمن ہیں ۔
(شیطان کی ذریت یعنی اولاد بھی ہے)
حضرت استاذنا المکرم (رح) نے ایک بار فرمایا تھا کہ زمین پر جس قدر انسانی آبادی ہے جنات…
Read the full tafseer →ف 9 اس سلسلہ کلام میں قصہ آدم و ابلیس کے ذکر کرنے سے مقصود کفار مکہ کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ تم جس غرور تکبر کی راہ پر چل رہے ہو اور فقراء و مسلمین کو حقیر سمجھتے ہو۔ یہی وہی راہ ہے جس پر تم سے پہلے شیطا ننے قدم رکھا تھا پھر دیکھ لو کہ اس کا انجام کیا ہوا۔ (کبیر)
1 یعنی وہ فرشتوں میں سے نہیں تھا، جنوں میں تھا، اسی لئے اس نے اپنے مالک کی نافرمانی کی ففسق میں فاء تعلیلیہ ہے۔ (کبیر) اگر وہ فرشتوں میں سے ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرتا۔ کیونکہ فرشتے تو اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ (تحریم :6)
Read the full tafseer →(18:50) فسق۔ فسق فلان کے معنی دائرہ شریعت سے کسی شخص کے نکل جانے کے ہیں۔ یہ فسق الرطب عن قشرہ۔ سے ماخوذ ہے جس کے معنی پکی ہوئی کھجور کا اپنے چھلکے سے باہر آنے کے ہیں۔ عام طور پر فاسق کا لفظ اس شخص کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو احکام شریعت کا التزام اور اقرار کرنے کے بعد تمام یا بعض احکام کی خلاف ورزی کرے۔ فسق عن امر ربہ۔ وہ اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔
افتتخذونہ۔ ہمزہ استفہام تتخذون مضارع جمع مذکر غائب (باب افتعال) تم اس کو پکڑتے ہو۔ تم اس کو پسند کرتے ہو۔ تم اس کو بناتے ہو۔ ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب برائے ابلیس۔
وہم۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب، ابلیس اور اس کی ذریت کے لئے ہے۔ بئس للظلمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53
فسق نافرمانی کی۔ ما اشھدت میں نے نہیں بلایا۔ متخذ بنانے والا۔ المضلین گمراہ کرنے والے۔ عضد مددگار، قوت وبازو۔ نادوا پکارو، آواز دو ۔ لم یستجیبوا انہوں نے جواب نہیں دیا۔ موبق تباہی و بربادی کا سامان، آڑ۔ مواقعون داخل وہنے والے۔ مصرف پناہ کی جگہ ۔
تشریح : آیت نمبر 50 تا 53
ابلیس اور شیطان دونوں ایک ہی فرد کے نام ہیں جس کا تعلق جنات کی قوم سے تھا۔ اللہ نے آدم کی پیدائش سے پہلے ہی اس کو تمام فرشتوں کا سردار بنایا ہوا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے سب کو یہ حکم دیا کہ وہ حضرت آدم کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے سامنے سجدہ کریں یعنی جھک جایئں۔ تمام فرشتوں نے حکم کی تعمیل میں…
Read the full tafseer →تمام اولاد آدم کو ابلیس کی دشمنی سے آگاہ کرنا : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تمام اولاد آدم (علیہ السلام) کو ابلیس کی دشمنی پر آگاہ فرمایا کہ یہ تمہارا اور تمہارے باپ کا دشمن ہے۔ جو لوگ ابلیس کے تابع اور خدا کے مخالف ہیں ان کو ڈرایا کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور پالا اور پھر وہ شیطان کا دوست اور ہمارا دشمن بن گیا ہے۔ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو، سب نے سجدہ کیا ، مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ کیونکہ اصل اس کی اچھی نہ تھی۔ آگ کے شعلہ سے اس کی پیدائش ہے اور فرشتوں کی اصل نور سے ہے۔ اس نے نافرمانی کی پھر فرمایا ؛ ” اے بنی آدم تمہیں شرم نہیں آتی کہ ہم جیسے محسن اور خالق کی نافرمانی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–54
[18] یعنی وہ فرشتوں کی طرح معذور نہ تھا کہ نافرمانی کر ہی نہ سکتا۔ انسان کی طرح جنوں کو کفر و ایمان اور اطاعت و معصیت دونوں کی قدرت بخشی ہے اس سلسلہ کلام میں قصہ آدم و ابلیس کا حوالہ دے کر کفار مکہ کو متنبہ کیا ہے کہ تم اپنے رحیم و شفیق پروردگار اور خیرخواہ پیغمبر کو چھوڑ کر اپنے ازلی دشمن ابلیس کی سنت کی پیروی کررہے ہو جس نے قیامت تک کے لئے اولاد آدم کو دشمنی کا کھلا چیلنج دے رکھا ہے۔
[19] یعنی بجائے طاعت الٰہی کے طاعت شیطان میں مبتلا ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
(ف 1) قرآن حکیم کا یہ مخصوص طرز بیان ہے کہ واقعہ کی تصویر کھینچ دیتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہم واقعہ کی تمام جزئیات کو اپنی آنکھوں دیکھ رہے ہیں قیامت اور حشر ونشر کے متعلق جتنی باتیں ذکر فرمائی ہیں ، وہ سب اس اسلوب بیان کی آئینہ دار ہیں ۔ اور یہ طرز بیان اس درجہ موثر کہ قیامت کے احوال کو پڑھ کر دل کانپ جاتا ہے اور یہ محسوس ہوتا ہے جیسے آپ پر واقعی قیامت گزری ہے اور اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور ان تمام کیفیات کو دیکھ رہے ہیں ۔
ارشاد ہوتا ہے کہ تم ہمارے پاس پہلی حالت میں لائے جاؤ گے ، بالکل فطرت میں تمام تکلفات دنیا میں دھرے رہ جائیں گے ، تمہارا خیال یہ تھا کہ ہم کبھی تم کو اپنے ہاں نہ…
Read the full tafseer →-50 اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے سامنے سجدہ کرو ۔
پس سب نے آدم کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا وہ ابلیس جنات کی قسم میں سے تھا سو اس نے اپنے پروردگار کی حکم عدولی کی اور نافرمانی کا مرتکب ہوا تو کیا تم مجھے چھوڑ کر میرے نافرمان کو اور اس کی اولاد و اتباع کو اپنا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ شیطان اور اس کی اولاد سب تمہارے دشمن ہیں اللہ کو چھوڑ کر شیطان کی دوستی ظالموں کے لئے بہت برا بدل ہے۔ یعنی شیطان میں آگ اور عناصر کے مقابلے میں زیادہ تھی اسی وجہ سے اس کو جنتا میں سے فرمایا اور تکبر و انانیت کے باعث اس نے آدم کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کیا جیسا کہ پہلے…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی میرے اتباع کو چھوڑ کر عقیدة اس کا اتباع کرتے ہو کہ شرک محض ہے۔
Read the full tafseer →ملکوتی طاقتوں اور ابلیسی قوتوں کے مجموعہ حضرت انسان کی کہانی اس کی زبانی :
53۔ نیکی کی قوتوں اور برائی کی طاقتوں کے مجموعہ یعنی انسان کی کہانی اس کی زبانی بار بار بیان کی گئی ہے تاکہ وہ اپنی ذات کو پہچانے اور اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا چھوڑ دے اور جس ٹہنی پر بیٹھے اس کا نہ کاٹے اور اپنا منہ اپنی چپیڑ کا مصداق نہ ہو ۔ لیکن اس مجموعہ اضداد کی کیفیت بڑی عجیب ہے کہ اس کو جس سے منع کیا گیا اس نے ہمیشہ وہی کیا ۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک من دودھ کو چھٹانک بھر پیشاب ناپاک کرکے رکھ دیتا ہے اور دونوں کی مقدار کو نہیں دیکھا جاتا دونوں کی حقیقت اور اصلیت کو دیکھا جاتا ہے یہی اس مجموعہ اضداد حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
Commentary
The progeny of Iblis, and his descendants and followers
The word: ذُرِّيَّتَهُ (dhurriyyatah) in verse 50 indicates that Iblis (Shaitan) has offspring, and a host of descendants and followers. Some commentators have said that 'progeny' at this place means 'accomplices.' That the Shaitan has offspring from his loins is not necessary. But, there is a Sahih Hadith which Humaidi has reported in Kitab al-Jam' bain al-Sahihain on the authority of Sayyidna Salman al-Farisi ؓ . According to his narration, the Holy Prophet ﷺ told him, "do not become like those who are the first to enter…
Read the full tafseer →47. The reference to the story of Adam and Iblis has been made here to warn the erring people of their folly. It is an obvious folly that people should discard their Prophets, who were their well wishers, and get entangled in the snare set by their eternal enemy, Iblis, who has been jealous of man ever since he refused to bow down before Adam and became accursed.
48. It was possible for Iblis to disobey Allah because he was not one of the angels but one of the jinns. It must be noted that the Quran is very explicit that the angels are inherently obedient.
(1) They do not show arrogance; they…
Read the full tafseer →