Al-Kahf 18:51

Al-Kahf · from ayah 51

18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ ۪— وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا ۟مَّاۤ اَشۡهَدْتُّهُمۡ خَلۡقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلَا خَلۡقَ اَنۡفُسِهِمۡۖ وَمَا كُنۡتُ مُتَّخِذَ الۡمُضِلِّيۡنَ عَضُدًا‏

میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت۔ اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

I did not make them witness to the creation of the heavens and the earth or to the creation of themselves, and I would not have taken the misguiders as assistants.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 7 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:51

میں نے آسمان و زمین پیدا کرتے وقت اُن کو نہیں بلایا تھا اور نہ خود اُن کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا میرا یہ کام نہیں ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مدد گار بنایا کروں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت۔ اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

میں نے انہیں آسمانوں وزمین کی پیدائش کے وقت موجود نہیں رکھا تھا اور نہ خود ان کی اپنی پیدائش میں، اور میں گمراه کرنے والوں کو اپنا مددگار بنانے واﻻ بھی نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

میں نے نہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے وقت ان کو حاضر کیا تھا، نہ خود ان کو پیدا کرتے وقت، اور میں ایسا نہیں ہوں کہ گمراہ کرنے والوں کو دست وبازو بناؤں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

نہ میں نے آسمانوں اور زمین کو بناتے وقت انہیں سامنے بٹھالیا تھا، نہ خود ان کے بناتے وقت اور نہ میری شان، کہ گمراہ کرنے والوں کو بازوں بناؤں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

میں نے نہ (تو) انہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر (معاونت یا گواہی کے لئے) بلایا تھا اور نہ خود ان کی اپنی تخلیق (کے وقت)، اور نہ (ہی) میں ایسا تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو (اپنا) دست و بازو بناتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

میں نے انھیں نہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں حاضر کیا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے میں اور نہ ہی میں گمراہ کرنے والوں کو بازو بنانے والا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

میں نے تو انھیں نہ اس وقت گواہ بنایا تھا جب آسمان اور زمین پیدا کئے تھے اور نہ اس وقت جب خود انھیں پیدا کیا تھا اور میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنانے والا بھی نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرتے وقت بلایا اور نہ خود انہی کو پیدا کرتے وقت بلایا اور میں گمراہ کرنے والوں کو دست وبازو بنانے ولا انہ تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

میں نے تو ان کو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا، اور نہ ہی خود ان کو پیدا کرتے وقت، اور نہ ہی یہ میری شان ہے کہ میں گمراہ کرنے والوں کو دست و باز و (اور مددگار) بناؤں،

— مولانا اسحاق مدنی

میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے وقت بلایا اور نہ انہیں کی پیدائش کے وقت اور میں گمراہ کرنے والوں کو (اپنا) دست وبازو باننے والا ہی نہ تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

میں نے انہیں گواہ نہیں بنایا تھا آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا اور نہ ہی ان کی اپنی تخلیق کا اور میں بہکانے والوں کو اپنا مدد گار بنانے والا نہ تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت، اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

I did not call them to witness the creation of the heavens and the earth, nor in their own creation. I do not seek the aid of those who lead people astray.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I did not make them witnesses of the creation of the heavens and the earth, nor of their own creation. I was not such that I should take the misleaders as helpers.

— Muhammad Taqi Usmani

I did not make them witnesses of the creation of the heavens and the earth, nor of their own creation. I was not such that I should take the misleaders as helpers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They did not witness the creation of the heavens and the earth nor their own creation, nor did I take those who mislead as `Adudan.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

I made them not to witness the creation of the heavens and the earth, nor their own creation; nor choose I misleaders for (My) helpers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

I did not make them witness to the creation of the heavens and the earth or to the creation of themselves, and I would not have taken the misguiders as assistants.

— Saheeh International

I did not call (the unjust) to witness the creation of the heavens and earth nor to witness their own creation nor did I want to be helped by those who lead people astray.

— Muhammad Sarwar

I did not make them witnesses of the creation of the heavens and the earth, nor of the creation of their own souls; nor could I take those who lead (others) astray for aiders.

— Muhammad Habib Shakir

I Made them not present at the creation of the heavens and the earth nor at the creation of themselves; nor was I one to take the seducers as supporters;

— Abdul Majid Daryabadi

I called them not to witness the creation of the heavens and the earth, nor (even) their own creation: nor is it for helpers such as Me to take as lead (men) astray!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–51

محسن کو چھوڑ کر دشمن سے دوستی بیان ہو رہا ہے کہ ابلیس تمہارا بلکہ تمہارے اصلی باپ حضرت آدم ؑ کا بھی قدیمی دشمن رہا ہے اپنے خالق مالک کو چھوڑ کر تمہیں اس کی بات نہ ماننی چاہئے اللہ کے احسان و اکرام اس کے لطف و کرم کو دیکھو کہ اسی نے تمہیں پیدا کیا پالا پوسا پھر اسے چھوڑ کر اس کے بلکہ اپنے بھی دشمن کو دوست بنانا کس قدر خطرناک غلطی ہے ؟ اس کی پوری تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کر کے تمام فرشتوں کو بطور ان کی تشریف، تعظیم اور تکریم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ سب نے حکم برداری کی لیکن چونکہ ابلیس بد اصل تھا، آگ سے پیدا شدہ تھا، اس نے انکار کردیا اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْكَهْف 49 مطلب یہ ہے کہ یہ شیاطین آخر تمہاری طاعت و بندگی کے مستحق کیسے بن گئے ؟ بندگی کا مستحق تو صرف خالق ہی ہوسکتا ہے۔ اور ان شیاطین کا حال یہ ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق میں شریک ہونا تو درکنار، یہ تو خود مخلوق ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–53

خلاصہ تفسیر اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جبکہ ہم نے ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم ؑ کے سامنے سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے کہ وہ جنات میں سے تھا اس نے اپنے رب کے حکم سے عدول کیا، (کیونکہ نجات کا عنصر غالب جس سے وہ پیدا کئے گئے ہیں آگ ہے، اور عنصر نار کا مقتضا پابند نہ رہنا ہے، مگر اس اقتضائے عنصری کی وجہ سے ابلیس معذور نہ سمجھا جائے گا کیونکہ اس تقاضائے عنصری کو خدا کے خوف سے مغلوب کیا جاسکتا تھا) تو کیا پھر بھی تم اس کو اور اس کی زریت (اولاد اور توابع) کو دوست بناتے ہو مجھ کو چھوڑ کر (یعنی میری اطاعت چھوڑ کر اس کے کہنے پر چلتے وہ) حالانکہ وہ (ابلیس اور اس کی جماعت) تمہارے دشمن ہیں (کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مَا أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَلا خَلْقَ أَنْفُسِهِمْ وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّينَ عَضُدًا۔ طنزیہ اسلوب کا بیان : اس آیت کا اسلوب بیان طنزیہ ہے یعنی ان شیاطین کو اس فیاضی کے ساتھ میری خدائی اور میرے حقوق میں شریک بنا دیا گیا ہے حالانکہ نہ میں نے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرتے وقت ان کو بلایا کہ ذرا اس مہم میں میری مدد کریں اور نہ خود انہی کو پیدا کرتے وقت ان کو دعوت دی کہ ذرا اس کام میں میرا ہاتھ بٹائیں اور نہ میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست وبازو بنانے کا روا دار تھا لیکن آج یہ میری خدائی میں اس طرح شریک بنا دیے گئے ہیں کہ گویا سارے کارنامے انہی کے انجام دیے ہوئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

51۔ 1 یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش اور اس کی تدبیر میں، بلکہ خود شیاطین کی پیدائش میں ہم نے ان سے یا ان میں سے کسی ایک سے کوئی مدد حاصل نہیں کی، یہ تو اسوقت موجود بھی نہ تھے۔ پھر تم اس شیطان اور اس کے نسل کی پوجا یا ان کی اطاعت کیوں کرتے ہو ؟ اور میری عبادت و اطاعت سے تمہیں گریز کیوں ہے ؟ جب کہ یہ مخلوق ہیں اور میں ان سب کا خالق ہوں۔ 51۔ 2 اور بفرض محال اگر میں کسی کو مددگار بناتا بھی تو ان کو کیسے بناتا، جبکہ یہ میرے بندوں کو گمراہ کرکے میری جنت اور میری رضا سے روکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 51–54

31: یعنی جن شیاطین کو ان کافروں نے اپنا سرپرست بنا رکھا ہے، ان کو میں نے تخلیق کائنات کا منظر دکھانے کے لیے یا ان سے مدد لینے کے لیے نہیں بلایا تھا کہ وہ تخلیق کے اسرار سے واقف ہوتے۔ لیکن کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یہ شیاطین تمام حقائق کو جانتے ہیں، چنانچہ ان کے بہکائے میں آکر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کو یا جن کو وہ کہیں، خدائی کا شریک قرار دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اللہ تو بےنیاز ہے۔ وہ ذوالقوۃ المتین ہے ، اس کو کسی مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔ خواہ وہ مضل ہو اغیر مضل یہاں یہ جو کہا یا کہ اللہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار نہیں بناتا تو یہ دراصل مشرکین کے اوہام کی بیخ کنی کے لئے یہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے کہ اللہ نے کیا ایسے لوگوں کو اپنا شریک بنا لیا ہے جو ہدایت کی بجائے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جو لوگ شیطان کو اللہ کا شریک سمجھتے تھے وہ یہ حرکت اس لئے کرتے تھے کہ شیطان کے پاس کوئی خفیہ علم ہے اور کوئی فوق الفطری قوت ہے۔ اس لئے لوگ شیطان کے ساتھ دوستی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان لوگوں کی اس حماقت کو اس طرح فرماتا ہے کہ اگر بطور فرض محال میں نے کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی زمین و آسمان پیدا کرتے وقت ہم نے ان شیاطین کو بلایا نہ تھا کہ ذرا آکر دیکھ جائیں، ٹھیک بنا ہے یا کچھ اونچ نیچ رہ گئی۔ غرض نہ ان سے تکوین و ایجاد عالم میں کچھ مشورہ لیا گیا نہ مدد طلب کی گئی بلکہ زمین و آسمان کی پیدائش کے وقت تو سرے سے یہ موجود ہی نہ تھے۔ خود ان کو پیدا کرتے وقت بھی نہیں پوچھا گیا کہ تمہیں کیسا بنایا جائے۔ یا تمہارے دوسرے ہم جنسوں کو کس طرح پیدا کروں ذرا آکر میری مدد کرو۔ اور بفرض محال مدد بھی لیتا اور قوت بازو بھی بناتا تو کیا ان بدبخت اشقیاء کو ؟ جنہیں جانتا ہوں کہ لوگوں کو میری راہ سے بہکانے والے ہیں۔ پھر خدا جانے آدمیوں نے ان کو خدائی کا درجہ کیسے دے دیا اور اپنے رب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّيْنَ عَضُدًا یہ جو تم شیطان اور اس کے گروہ کو میرے برابر لا رہے ہو اور مجھے چھوڑ کر انہیں اپنا دوست بنا رہے ہو تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ زمین و آسمان کی تخلیق اور خود اپنی تخلیق کے موقع کے گواہ نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

50 یعنی جب میں نے زمین و آسمان پیدا کیے تھے تو اس وقت میں نے نہ تمہارے معبودوں سے کوئی مشورہ لیا تھا نہ اس وقت موجود تھے بلکہ ان کو پیدا ہی بڑی مدت بعد کیا گیا تھا۔ پھر جب انھیں پیدا کیا تو اس وقت بھی ان سے یہ مشورہ نہیں لیا تھا کہ تمہیں کس طرح کا بنایا جائے۔ پھر یہ میرے شریک کیسے بن گئے ؟ اور اگر بالفرض محال میں نے کسی کو اپنا مددگار بنانا بھی ہوتا تو ان بدبختوں کو بناتا جو لوگوں کی گمراہی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

77۔ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ حق تعالیٰ ان گمراہ کن شیطانوں کو کسی معاملہ میں کسی حد تک بھی اپنا معین یا مشیر بناتا۔ (آیت) ” مااشھدتھم خلق السموت والارض “۔ یعنی آفریشن کائنات کے وقت ان کا وجود ہی سرے سے کہاں تھا ؟ یہ تو بہت بعد کی مخلوق ہیں۔ پھر اس کارخانہ ایجاد تکوین کے کسی شعبہ میں بھی ان کی شرکت، مشورہ کی حدتک بھی کیونکر ممکن تھی، (آیت) ” ولا خلق انفسھم “۔ یعنی جن ” معبودوں “ کو تم شریک خدائی ٹھہرا رہے ہو، یہ کسی اور معاملہ میں مشیر وشریک تو کیا ہوتے، خود اپنے وجود کے باب میں یہ کب کوئی سا بھی مشورہ دے سکتے تھے ؟ (آیت) ” وما کنت۔۔ عضدا “۔ بعض فقہاء مفسرین نے اس جزء سے یہ نکالا ہے کہ کافروں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 50–53

آیت نمبر 50 تا 53 ترجمہ : وَاِذْ قلنا یہ اذکر فعل محذوف کی وجہ سے محلاً منصوب ہے اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو یعنی آدم کی تعظیم کے لئے تم اس کے سامنے جھکو نہ یہ کہ زمین پر پیشانی رکھو چناچہ ابلیس کے علاوہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا کیونکہ (ابلیس) جنات میں سے تھا، کہا گیا ہے کہ جنات ملائکہ کی اقسام میں سے ایک قسم ہیں، تو اس صورت میں مستثنیٰ متصل ہوگا اور (یہ بھی) کہا گیا ہے کہ اِلاَّ ابلیس مستثنیٰ منقطع ہے اور ابلیس جنات کا جد اعلیٰ ہے اس کی ذریت بھی ہے جس کا ذکر بعد والی آیت میں آرہا ہے، اور ملائکہ کی ذریت نہیں ہوتی اسی سبب (یعنی جنی ہونے کے سبب سے) اس نے اپنے رب کے حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما اشہدتہم خلق السموات والارض ولا خلق انفسہم میں نے ان کو (یعنی ابلیس اور اس کی ذریات کو) نہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا اور نہ خود ان کو پیدا کرنے کے وقت۔ مقصد یہ ہے کہ کسی چیز کو پیدا کرنے میں میں نے ان سے مدد نہیں لی کہ وہ عبادت و اطاعت کے مستحق ہوجائیں۔ عبادت کا استحقاق اسی کو ہوسکتا ہے جو خالق ہو اور عبادت میں شرک کا معنی یہ ہے کہ خالقیت میں شرکت ہو اور خالقیت میں اللہ کے ساتھ کسی کی شرکت نہیں تو معبودیت میں کون اس کا شریک ہوسکتا ہے۔ وما کنت متخذ المضلین عضدا۔ اور میں ایسا (عاجز) نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا بازو (یعنی مددگار) بناتا۔ اَلْمُضِلَّیْنَ (گمراہ کرنے والے) سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(51) حالانکہ ان فرشتوں اور شیطان کو میں نے نہ تو آسمان و زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا، یا یہ کہ نہ تو میں نے زمین و آسمان کی پیدایش کے وقت ان سے مدد طلب کی اور نہ خود ان ہی کے پیدا کرنے کے موقع پر ان سے مدد چاہی اور میں ایسا عاجز نہیں کہ ان کافروں اور ان یہود و نصاری اور ان بتوں کے پجاریوں کو اپنا دست وبازو بناتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَآ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود برحق ہونے کی سب سے بڑی دلیل جو قرآن میں بیان فرمائی ہے اور بار بار بیان فرمائی ہے، وہ یہ ہے کہ ہر چیز کا خالق میں ہوں، میرے سوا کوئی مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتا تو پھر میری بندگی اور دوستی چھوڑ کر مخلوق کی بندگی اور دوستی کیوں ؟ مثلاً دیکھیے سورة نحل (17) ، رعد (16) ، لقمان (11) ، فاطر (40) اور احقاف (4) وغیرہ۔ اس آیت میں فرمایا کہ جب میں نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تو ان شیاطین کا کوئی وجود نہ تھا کہ وہ ان کے بنانے میں میرے شریک ہوتے اور نہ میں نے انھیں ان کی اپنی پیدائش میں شریک کیا۔ مطلب یہ کہ یہ خود میرے پیدا کردہ ہیں، پھر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

تفسیر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما اشھدتھم خلق السموت والارض ولا خلق انفسہم بعض علماء نے فرمایا : ھم ضمیر کا مرجع ابلیس اور اس کی ذریت ہے یعنی میں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور خود ان کی تخلیق میں ان سے مشورہ نہیں لیا تھا بلکہ میں نے اپنے ارادہ کے مطابق انہیں تخلیق کیا۔ بعض علماء نے فرمایا : میں نے ابلیس اور اس کی ذریت سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں مشورہ نہیں لیا اور نہ ان مشرکوں کی ذوات کی تخلیق میں ان سے مشورہ لیا تھا۔ تو پھر انہوں نے میرے سوا ان کو دوست کیسے بنا لیا ؟ بعض علماء نے فرمایا : ما اشھدتھم میں ضمیر کا مرجع مشرکین ہیں اور تمام لوگ ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : میں نے اپنے باپ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–52

اللہ تعالیٰ کو کسی مخلوق کی مدد کی ضرورت نہیں : 1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” مآاشھدتہم خلق السموت والارض ولا خلق انفسہم “ سے مراد ہے کہ میں نے شیاطین سے مدد نہیں لی تھی کہ جن کو تم نے میرا شریک بنا رکھا ہے (آیت) ” وما کنت متخذ المضلین عضدا “ یعنی میں نے ان کو کسی چیز پر مددگار نہیں بنایا کہ وہ اس پر میری مددکریں۔ 2:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت متخذالمضلین عضدا “ یعنی مددگار۔ 3:۔ ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کنت متخذالمضلین عضدا “ یعنی مددگار۔ 4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مَآ اَشْهَدْتُّهُمْ : میں نے گواہ نہیں بنایا تھا ان کو ] [خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمان کی تخلیق کا ] [وَلَا خَلْقَ انفُسِهِمْ : اور نہ ہی ان کی اپنی تخلیق کا ] [وَمَا كُنْتُ : اور میں نہیں تھا ] [مُتَّخِذَ الْمُضِلِيْنَ : گمراہ کرنے والوں کو بنانے والا ] [عَضُدًا : (اپنا) مددگار ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(مَآ اَشْھَدْتُّھُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) اس آیت میں ابلیس اور اس کی ذریت کا اتباع کرنے والوں اور شرک کرنے والوں کی جہالت اور ضلالت پر تنبیہ فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے جب آسمان و زمین کو پیدا کیا اور جب ان لوگوں کو پیدا کیا تو ان کو اپنی مدد یا مشورے کے لیے نہیں بلایا تھا جب آسمان و زمین کی تخلیق اور خود ان کی تخلیق میں میرا کوئی شریک نہیں تو پھر ابلیس اور اس کی ذریت سے دوستی کیوں کرتے ہیں، اور ان کے ورغلانے سے غیر اللہ کو اللہ تعالیٰ کا شریک کیوں ٹھہراتے ہیں یہ تو سراسر حماقت اور سفاہت اور ضلالت ہے۔ مزید فرمایا (وَ مَا کُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–59

گندم از گندم بروید جو زجو از مکافات عمل غافل مشو غرور اور تکبر کا حال اور مال قال اللہ تعالیٰ واذا قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وجعلنا لمہلکم موعدا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل دولت کے غرور اور تکبر کا حال بیان کیا اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ تمام خرابیوں کی جڑ یہی تکبر ہے جس کا آغاز ابلیس لعین سے ہوا اور تواضع اور نیاز مندی اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کردینا بھی تمام بھلائیوں اور خوبیوں کی جڑ ہے۔ جس کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا یہ تمہارے باپ کا طریقہ ہے لہٰذا تم کو چاہئے کہ اپنے باپ آدم (علیہ السلام) کے طریقہ پر چلو پس خوب سمجھ لو کہ جو دولت مند کفر کرتے ہیں اور اپنے مال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

55:۔ یہ ماقبل کی دلیل اور علت ہے یعنی ابلیس اور اس کی ذریت کو جو تم میری عبادت اور اطاعت میں شریک بناتے ہو تو کیا زمین و آسمان کے پیدا کرنے میں یا خود ان کی اپنی پیدائش میں میں نے ان کو شریک کیا تھا ؟ یا اس کے بارے میں ان سے کوئی مشورہ لیا تھا ؟ ہرگز نہیں، میں نے ایسا نہیں کیا۔ اول تو مجھے کسی معاون یا مشیر کی ضرورت ہی نہیں اور اگر بالفرض ہوتی بھی تو میں ان ناپاک فطرت شیطانوں کو جن کا کام ہی میری مخلوق کو سیدھی راہ سے بھٹکانا ہے کبھی اپنا معاون و مددگار نہ بناتا۔ جب یہ شیاطین میرے کاموں میں اور میرے اختیارات و تصرفات میں میرے شریک نہیں تو میری عبادت اور اطاعت میں میرے شریک کس طرح بن سکتے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 50–53

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومن اور مشرک آدمی کی بات ذکر فرمائی پھر دنیا کی بےثباتی کا ذکر کیا اور مال واولاد کو دنیا کی زینت کا سامان بتلایا ، پھر قیامت کے محاسبے کا ذکر کیا کہ ہر چھوٹی بڑی چیز نامہ اعمال میں درج ہوگی ، گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ دولت مند مشرک آدمی اپنے مال و دولت اور کثرت اولاد کی بناء پر اپنے مومن اور نادار بھائی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور اس طرح غرور وتکبر کا مرتکب ہوتا تھا ، مومن آدمی نے اسے سمجھایا کہ خدا تعالیٰ قادر ہے وہ اگر چاہے تو تیرے باغ ، مال اور اولاد کو ضائع کر دے اور تجھے قلاش بنا دے ، لہذا اس عارضی مال واولاد پر تکبر نہیں کرنا چاہئے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَآ اَشْہَدْتُّہُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَا خَلْقَ اَنْفُسِہِمْ۝ 0۠ وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّيْنَ عَضُدًا۝ 51 شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول : أشهد . والثاني يجري مجری القسم، فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما، ( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور اسی سے شہادت ادا ہوتی ہے مگر اشھد بکذا کی بجائے اگر اعلم کہا جائے تو شہادت قبول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

2 ؎ یعنی جب نہ وہ آسمانوں اور زمین کے بنانے کے وقت نہ خود ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے اور نہ اس میں شریک تھے تو اب ان کا خدائی میں کیا حصہ ہے پھر کیوں ان کو شریک بنایا جاتا ہے۔ 12 منہ۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَآ اَشْھَدْتُّھُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلاَ خَلْقَ اَنْفُسِھِمْ ص وَمَا کُنْتُ مُتَّخِذَالْمُضِلِّیْنَ غَضُدًا۔ (الکہف : 51) (میں نے نہیں بلایا تھا انھیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے وقت اور نہ خود انھیں کو پیدا کرتے وقت بلایا تھا، اور میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست وبازو بنایا نہیں کرتا۔ ) ایک دوسرے پہلو سے قر یش کو عار دلائی جارہی ہے اس آیت میں بھی روئے سخن قریش ہی کی طرف ہے، انھیں شرم دلاتے ہوئے یہ فرمایا جارہا ہے کہ جن قوتوں کو تم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا کر اپنا معبود اور کارساز بنا لیا ہے ذرا سوچو تو سہی ان کی اوقات کیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو تخلیق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 50–51

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کو ان کا حساب و کتاب اور آخرت کا منظر دکھاکر یہ بتلایا گیا ہے کہ انسان کی گمراہی کا بنیادی محرک ابلیس ہے۔ جس سے بچنا چاہیے۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب بیان ہے کہ وہ کسی واقعہ کو داستان گوئی کے انداز میں بیان نہیں کرتا۔ وہ ہر واقعہ کو موقع محل کے مطابق اتاب ہی بیان کرتا ہے۔ جتنا بیان کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی اسلوب کے مطابق حضرت آدم اور ابلیس کا واقعہ مختلف الفاظ اور انداز میں قرآن مجید کے مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ یاد رہے شیطان کے بارے میں اس سے پہلے یہ الفاظ استعمال نہیں ہوئے کہ شیطان جنس کے اعتبار سے جنات میں سے ہے۔ البتہ آگے چل کر سورة صٓ میں ” کَانَ مِنَ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

51: مَآ اَشْھَدْ تُّھُمْ (میں نے ان کو نہیں بلایا) ابلیس اور اس کی اولاد کو خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ( آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں) تم نے ان کو عبادت میں میرا شریک بناڈالا۔ یہ عبادت میں شریک تب بنتے۔ جبکہ الوھیت میں شریک ہوتے۔ پس الوھیت میں شراکت کی نفی ما اشھد تہم خلق السمٰوٰت والارض سے کردی کہ ان کی پیدائش میں ان سے مدد لیتا۔ نمبر 2۔ ان سے کم ازکم مشورہ کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ جب ان اشیاء کی تخلیق میں میں یکتا ہوں تو تم اے انسانو ! عبادت میں مجھے یکتا مانو ! وَلَا خَلْقَ اَنْفُسِہِمْ (اور نہ ان کو پیدا کرنے کے وقت) ان ہی میں سے بعض کی پیدائش کے وقت دوسروں کو میں نے نہیں بلایا۔ یہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(51)” ما اشد تھم “ جو انہوں نے حاضر کیا۔ ابو جعفر نے پڑھا ہے ” ما اشھد نا ھم “ نون و الف کے ساتھ اس صورت میں یہ تعظیم کے لیے ہوگا۔ ہم ابلیس اور ان کی ذریت کو حاضر کریں گے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد کفار ہیں۔ کلبی کا قول ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں۔ ” خلق السموات والارض والا حلق انفسھم “ ان سے کہاجائے گا کہ تم ان کو حاضر کرو جن کو تم نے پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے پر ان سے مدد مانگو اور ان سے مشورہ طلب کرو۔ ” وما کنت متخذ ا المضلین عضدا “ وہ شیطان جس نے تمہیں گمراہ کیا وہ ہی تمہارا مددگار و حامی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–53

50۔ 53:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تمام اولاد آدم (علیہ السلام) کو ابلیس کی دشمنی پر آگاہ فرمایا کہ یہ تمہارا اور تمہارے باپ کا دشمن ہے جو لوگ ابلیس کے تابع اور خدا کے مخالف ہیں ان کو ڈرایا ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور پالا اور پھر وہ شیطان کا دوست اور ہمارا دشمن بن گیا ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا کیونکہ اصل اس کی اچھی نہ تھی آگ کے شعلہ سے اس کی پیدائش ہے اور فرشتوں کی اصل نور سے ہے جس طرح صحیح مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے آیا ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں اور شیطان آگ کے شعلہ سے 1 ؎۔ سلف میں سے جس جماعت نے یہ کہا ہے کہ فرشتوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–51

آیت 50 اللہ تبارک و تعالیٰ آدم اور ان کی اولاد کے ساتھ ابلیس کی عداوت کا ذکر کرتا ہے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی تعظیم و تکریم اور اپنے حکمل کی تعمیل کے لئے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔ پس انہوں نے حکم کی تعمیل کی۔ (آیت) ” سوائے ابلیس کے، وہ جنوں میں سے تھا، پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی “ اور کہنے لگا (آیت) ” کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا۔ “ اور کہا (انا خیر منہ) (الاعراف 12/8) ” میں اس سے بہتر ہوں۔ “ اس سے واضح ہوگیا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور تمہارے جد امجد سے عداوت رکھتا ہے، پھر کیسے تم اس کو اور اس کی ذریت کو دوست بناتے ہو ؟ (بئس للظلمین بدلاً ) ”…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–60

ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 51–52

90۔ اس وحدہ لاشریک کا کوئی بھی شریک نہیں :۔ کسی بھی طرح اور کسی بھی درجے میں۔ اشھدتھم، کی ضمیر منصوب کا مرجع اکثر مفسرین کے نزدیک وہ شرکاء ہیں جن کو مشرک لوگوں نے طرح طرح کے ناموں سے گھڑ رکھا ہے۔ تو آیت کریمہ کا مطلب یہ ہوا کہ تمہارے ان خود ساختہ اور من گھڑت معبودوں کو نہ تو میں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق و پیدائش کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کو ایک دوسرے کی پیدائش کے وقت۔ تو پھر تم ان کو میرا شریک اور اپنا معبود کس طرح قرار دیتے ہو ؟ (فتح القدیر، محاسن التاویل اور ابن کثیر وغیرہ) بلکہ خلق وتکوین کا یہ سارا کام میں نے بغیر کسی کی شرکت واشتراک کے از خود کیا۔ پس نہ کوئی اس وحدہ لاشریک کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–51

شیطان اور اس کے دوستوں کے کردار سے بچو تشریح : اللہ تعالیٰ انسان کا خالق، رازق اور رحیم و کریم ہے جب کہ شیطان تو شروع دن سے انسان کا دشمن ہے اس کی وجہ بتا دی گئی ہے۔ اب اگر عقل سمجھ کو انسان کامل میں لائے تو اس کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ کی قربت یا دوستی اچھی ہے یا کہ شیطان کی دوستی اچھی ہے ؟۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 50–53

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف ذرا وہ وقت تو یاد کرو کہ ہم نے تمہارے جد آدم (علیہ السلام) کو کتنا شرف بخشا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کرو ، لہذا سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے کہ جو وہاں موجود تھا اور اس حکم میں شامل تھا سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور آدم (علیہ السلام) کی دشمنی میں اپنے پروردگار کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا تو لوگو کیا تو آج اللہ جل جلالہ کی ذات کو چھوڑ کو اسی ابلیس اور اس کی اولاد کو دوست بناؤ گے ، حالانکہ وہ تو ابھی تک بھی اور ہمیشہ تمہارے دشمن ہیں ۔ (شیطان کی ذریت یعنی اولاد بھی ہے) حضرت استاذنا المکرم (رح) نے ایک بار فرمایا تھا کہ زمین پر جس قدر انسانی آبادی ہے جنات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی جب میں نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ان شیاطین کا کوئی وجود نہ تھا کہ وہ ان کے بنانے میں میرے شریک ہوتے اور نہ میں نے ان کی اپنی پیدائش میں انہیں شریک کیا۔ پھر یہ میرے شریک اور تمہاری بندگی و اطاعت کے مستحق کیسے سمجھے جاسکتے ہیں ؟3 یعنی میں اس سے پاک ہوں کہ اس طرح کے شریروں اور نافرمانوں کو جن کا کام دوسروں کو گمراہ کرنا اور شرارت پھیلانا ہے اپنا مددگار بنائوں گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:51) ما اشھدتہم ما نفی کے لئے ہے۔ اشھدت ماضی واحد متکلم میں نے شاہد بنایا۔ میں نے دکھلایا۔ اشھاد (افعال) مصدر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ابلیس اور اس کی ذریت کے لئے ہے۔ میں نے ان کو شاہد نہیں بنایا۔ یعنی وہ موجود نہ تھے نہ دیکھنے کے لئے میں نے ان کو بلایا تھا۔ اس صورت میں خلق السموت والارض اور خلق انفسہم ہر دو فعل اشھدت کے مفعول ہوں گے۔ اور اسی وجہ سے خلق منصوب آیا ہے۔ متخذ۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر منصوب۔ مضاف المضلین مضاف الیہ اتخاذ مصدر۔ (باب افتعال) اخذ مادہ۔ بنانے والا۔ اختیار کرنے والا۔ اخذ کا مفہوم ہے کسی چیز کو اپنے تصرف اور تسلط میں داخل کرنا۔ باب افتعال میں اس کا مطلب بنانا اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–53

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 53 فسق نافرمانی کی۔ ما اشھدت میں نے نہیں بلایا۔ متخذ بنانے والا۔ المضلین گمراہ کرنے والے۔ عضد مددگار، قوت وبازو۔ نادوا پکارو، آواز دو ۔ لم یستجیبوا انہوں نے جواب نہیں دیا۔ موبق تباہی و بربادی کا سامان، آڑ۔ مواقعون داخل وہنے والے۔ مصرف پناہ کی جگہ ۔ تشریح : آیت نمبر 50 تا 53 ابلیس اور شیطان دونوں ایک ہی فرد کے نام ہیں جس کا تعلق جنات کی قوم سے تھا۔ اللہ نے آدم کی پیدائش سے پہلے ہی اس کو تمام فرشتوں کا سردار بنایا ہوا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے سب کو یہ حکم دیا کہ وہ حضرت آدم کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے سامنے سجدہ کریں یعنی جھک جایئں۔ تمام فرشتوں نے حکم کی تعمیل میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–52

یہاں فرمایا کہ پھر جو تم شیطان اور اس کی ذریت کو مانتے ہو اور ان کے بہکانے سے بتوں کو پوجتے ہو اور ہر قسم کی نافرمانی کرتے ہو۔ نہ اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کے پیدا کرنے میں ان بتوں سے کچھ مدد لی، نہ قیامت کے دن اپنے پوجا کرنے والوں کو کچھ مدد دیویں گے۔ بلکہ یہ پوجا کرنے والے مدد کے لئے جب ان بتوں کو پکاریں گے تو وہ جواب تک نہ دیویں گے۔ پھر ان لوگوں کی نادانی ہے جو ایسے عاجزوں کی پوجا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–54

[18] یعنی وہ فرشتوں کی طرح معذور نہ تھا کہ نافرمانی کر ہی نہ سکتا۔ انسان کی طرح جنوں کو کفر و ایمان اور اطاعت و معصیت دونوں کی قدرت بخشی ہے اس سلسلہ کلام میں قصہ آدم و ابلیس کا حوالہ دے کر کفار مکہ کو متنبہ کیا ہے کہ تم اپنے رحیم و شفیق پروردگار اور خیرخواہ پیغمبر کو چھوڑ کر اپنے ازلی دشمن ابلیس کی سنت کی پیروی کررہے ہو جس نے قیامت تک کے لئے اولاد آدم کو دشمنی کا کھلا چیلنج دے رکھا ہے۔ [19] یعنی بجائے طاعت الٰہی کے طاعت شیطان میں مبتلا ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–53

انسانی فطرت کی بلندیاں : (ف 1) مشرکین کو بتایا ہے کہ کم بختو ، اپنی فطرت کی بلندیوں کو محسوس کرو ، تمہیں اللہ تعالیٰ نے مسجود ملائک بنایا تھا تمہیں اس منصب پر فائز کیا تھا ، کہ دنیا کی اعلی ترین مخلوق تمہارے سامنے جھکے ، تمام کائنات پر تم حکومت کو ، ذرے سے آفتاب تک سب چیزیں تمہاری مسخر کردیں ، تاکہ تم اللہ کی نیابت کے فرائض ادا کرو ، اور اس کی عظمت کی گواہی دو ، مگر تم ہو کہ نفس کی پوجا میں مبتلا ہو ، شیطان کے نقش قدم پر چل رہے ہو غیر اللہ کی پرستش کو عبادت سمجھتے ہو کیا یہ لوگ جن کو تم عرش الوہیت پر بٹھا رہے ہو ، اللہ کے ساجھی ہیں ، انہوں نے آسمان کا کوئی حصہ بنایا ہے یا زمین کی پیدائش میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

51 میں نے ان شیاطین کو نہ تو آسمان و زمین کو پیدا کرتے وقت بلایا اور نہ خود ان کو پیدا کرتے وقت میں نے ان کو بلایا اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنیوالوں کو اپنا بازو اور مددگار بناتا۔ بلانا ہوتا ہے مدد کے لئے یا مشورے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کسی کی مدد کا محتاج ہے اور نہ کسی کے مشورے کا آسمان و زمین کی ایجاد کے وقت نہ کسی کے بلانے کی ضرورت محسوس ہوئی نہ خود ان کے پیدا کرتے وقت ان شرکاء سے مشاورت کی ضرورت پڑی اور میں کچھ ایسا گیا گذرا تو نہ تھا کہ بلا ضروتر و احتیاج کسی کو مددگار بناتا اور خاص کر ان شیاطین اور گمراہ کرنیوالوں کو اپنا دست وبازو بنانا میری شان سے بالکل بعید تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان کہ اپنے اپنے شریکوں کو لے آؤ جو تم نے بنا رکھے تھے : 54۔ غور کرو کہ کیا للہ کا کوئی شریک ہے ؟ نہیں اور یقینا نہیں تو پھر یہ کیسے کہا گیا کہ میرے شریکوں کو بلا لاؤ ، جس طرح یہ بات بیان کی گئی ہے کہ تم میرے شریکوں کو بلاؤ اور اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اوپر کی آیت میں ابلیس کو مخاطب کیا گیا ہے اگرچہ انسان کے باہر اس کا کوئی مرئی وجود نہیں ہے الا یہ کہ وہ ایک طاقت یاقوت ہے اور بلاشبہ ہر طاقت وقوت ایک تخلیق شدہ چیز ہے اس لئے اس کے مخلوق ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور کتنی ہی مخلوقات ہیں جو ایسا جسم نہیں رکھتیں جو انسانی آنکھ دیکھ سکے ، میرے شریکوں کو بلاؤ یعنی جن جن کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–53

Commentary The progeny of Iblis, and his descendants and followers The word: ذُرِّ‌يَّتَهُ (dhurriyyatah) in verse 50 indicates that Iblis (Shaitan) has offspring, and a host of descendants and followers. Some commentators have said that 'progeny' at this place means 'accomplices.' That the Shaitan has offspring from his loins is not necessary. But, there is a Sahih Hadith which Humaidi has reported in Kitab al-Jam' bain al-Sahihain on the authority of Sayyidna Salman al-Farisi ؓ . According to his narration, the Holy Prophet ﷺ told him, "do not become like those who are the first to enter…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

49. This thing has been asserted to impress on the disbelievers that the satans were not entitled to their submission and worship, for they had no share at all in the creation of the heavens and the earth, nay, they themselves were the creation of Allah: therefore Allah alone was worthy of worship.

Read the full tafseer →