Explained with ayahs 47–49
سب کے سب میدان حشر میں
اللہ تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما رہا ہے اور جب تعجب خیز بڑے بڑے کام اس دن ہوں گے ان کا ذکر کر رہا ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا گو تمہیں جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس دن تو بادلوں کی طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ آخر روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے زمین صاف چٹیل میدان ہوجائے گی جس میں کوئی اونچ نیچ تک باقی نہ رہے گی نہ اس میں کوئی مکان ہوگا نہ چھپر۔ ساری مخلوق بغیر کسی آڑ کے اللہ کے بالکل سامنے ہوگی۔ کوئی بھی مالک سے کسی جگہ چھپ نہ سکے گا کوئی جائے پناہ یا سر چھپانے کی جگہ نہ ہوگی۔ کوئی درخت پتھر گھاس پھوس دکھائی نہ دے گا تمام اول و آخر کے لوگ جمع ہوں گے کوئی چھوٹا…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 46
یعنی ایسا ہرگز نہ ہوگا کہ کسی نے کوئی جرم نہ کیا ہو اور وہ خواہ مخواہ اس کے نامۂ اعمال میں لکھ دیا جائے، اور نہ یہی ہوگا کہ آدمی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دی جائے یا بیگناہ پکڑ کر سزا دے ڈالی جائے۔
Read the full tafseer →جزا عین عمل ہے
(آیت) وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا یعنی سب اہل محشر اپنے کئے ہوئے اعمال کو حاضر پائیں گے اس کا مفہوم عام طور پر حضرات مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ اپنے کئے ہوئے اعمال کی جزا کو حاضر و موجود پائیں گے، ہمارے استاذ مولانا سید محمد کشمیری فرماتے تھے کہ اس تاویل کی ضرورت نہیں، روایات حدیث بیشمار اس پر شاہد ہیں کہ یہی اعمال دنیا و آخرت کی جزا و سزا بن جائیں گے اور برے اعمال جہنم کی آگ اور سانپ و بچھو بن جائیں گے۔
احادیث میں ہے کہ زکوٰۃ نہ دینے والوں کا مال قبر میں ایک بڑے سانپ کی شکل میں آکر اس کو ڈسے گا اور کہے گا انا مالک (میں تیرا مال ہوں) نیک عمل ایک حسین انسان کی شکل میں…
Read the full tafseer →وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا۔
دفتر اعمال : الکتاب سے مراد لوگوں کے اعمال کا دفتر ہے۔ فرمایا کہ یہ دفتر لوگوں کے سامنے لایا جائے گا۔ اس وقت مجرم چونکہ اپنی کرتوتوں سے واقف ہوں گے۔ اس دفتر کے کھلنے سے لرزاں و ترساں ہوں گے اور جب وہ کھلے گا اور سب کا سارا کچا چٹھا سامنے آجائے گا تو وہ پکار اٹھیں گے کہ ہائے ہماری شامت ! عجب ہے یہ کتاب کہ کوئی چھوٹی بڑی بات بھی اس کی گرفت سے باہر نہیں رہ گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48۔ 1 اس کے معنی ہیں کہ ایک ہی صف میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے، یا صفوں کی شکل میں بارگاہ الٰہی میں حاضر ہونگے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
27: قرآن کریم کی آیات کو سامنے رکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ قیامت کے کے موقع پر پہاڑوں کو پہلے اپنی جگہ سے ہٹا کر چلایا جائے گا پھر ان کو کوٹ پیس کر غبار کی طرح ہوا میں اڑا دیا جائے گا۔ چلانے کا ذکر اس جگہ کے علاوہ سورة نمل آیت 88 اور سورة تکویر آیت 3 میں بھی آیا ہے۔ اور انہیں کوٹ پیس کر غبار میں تبدیل کردینے کا ذکر سورة طٰہٰ آیت 105 سورة واقعہ آیت 5 6 اور سورة مرسلات آیت 10 میں موجود ہے
28: اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جو چیزیں زمین کے اندر پوشیدہ ہیں۔ وہ سامنے آجائیں گی جیسا کہ سورة انشقاق آیت 4 میں بیان فرمایا گیا ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ پہاڑوں، درختوں اور عمارتوں کے فنا ہوجانے کے بعد زمین حد نظر…
Read the full tafseer →وو ضع الکتب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ (18 : 93) ” اور نامہ عمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتاب زندگی کے اندرا جات سے ڈر رہے ہوں گے۔ “
یہ ہے ان کے اعمال کا پورا رجسٹر ، ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا ، وہ اسے پڑھ رہے ہوں گے ، بار بار ورق گردانی کر رہے ہوں گے ، وہ حیران ہوں گے کہ وہ نہایت ہی جامع ریکارڈ ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی یہاں درج ہیں۔ یہ اپنے انجام سے ڈر رہے ہوں گے۔ دل ان کے غم کے مارے پھٹ رہے ہوں کہ اس کتاب کی وجہ سے جو ذرہ ذرہ ریکارڈ کر رہی ہوگی۔ نہ کوئی چھوٹی چیز اس سے چھوٹی ہوئی ہے اور نہ بڑی۔
ویقولون یویلتنا مال ھذا الکتب لایغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا…
Read the full tafseer →6 یعنی اعمالنامہ ہر ایک کے ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اس میں اپنے گناہوں کی فہرست پڑھ کر مجرم خوف کھائیں گے کہ دیکھئے آج کیسی سزا ملتی ہے۔
7 یعنی ذرہ ذرہ عمل آنکھوں کے سامنے ہوگا اور ہر ایک چھوٹی بڑی بدی یا نیکی اعمالنامہ میں مندرج پائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 49 وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ
یہ پوری نوع انسانی کے ایک ایک فرد کی زندگی کے ایک ایک لمحے اور ایک ایک عمل کی تفصیل پر مشتمل ریکارڈ ہوگا۔ گویا یہ ایک بہت بڑا کمپیوٹر سسٹم ہے جو کسی جگہ پر نصب کیا گیا ہے اور وہاں سے لا کر میدان حشر میں رکھ دیا جائے گا۔ آج سے سو برس پہلے تو ایسی تفصیلات کو تسلیم کرنے کے لیے صرف ایمان بالغیب کا ہی سہارا لینا پڑتا تھا مگر آج کے دور میں اس سب کچھ پر یقین کرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ آج ہم انسان کے بنائے ہوئے کمپیوٹر کے کمالات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے معمولات زندگی میں ان سے استفادہ کر رہے ہیں۔ آج جب ہم ایک بٹن جتنی جسامت کی chip میں مفصل معلومات پر مشتمل ریکارڈ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
44 ننگے بدن حشر :۔ جس طرح پہلی بار اکیلے پیدا ہوئے تھے صحیح وسالم پیدا ہوئے تھے بالکل برہنہ پیدا ہوئے اسی طرح ان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا چناچہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن بن ختنہ اکٹھے کیے جائیں گے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس طرح تو مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے آپ نے فرمایا : وہ وقت اتنا سخت ہوگا کہ ان باتوں کی کسی کو ہوش ہی نہ ہوگی (بخاری، کتاب الرقاق، باب کیف الحشر)
45 اس وقت آخرت کے منکروں سے یہ کہا جائے گا کہ جس بات کا تم انکار کرتے رہے تھے۔ کیا اب وہ بات حقیقت بن کر تمہارے سامنے نہیں آگئی ؟
Read the full tafseer →71۔ منکروں کے حق میں منظر حشر کی یہ کس درجہ مؤثر وپر حسرت تصویر ہے ! (آیت) ” صغیرۃ ولا کبیرۃ “۔ یعنی کوئی بھی معصیت چھوٹی سی چھوٹی یا بڑی سی بڑی ایسی نہیں جو اس میں درج نہ ہو۔ اے لا یترک شیئا من المعاصی سواء کانت صغیرۃ اوکبیرۃ الاوھی مذکورۃ فی ھذا الکتاب (کبیر)
72۔ (کہ کسی کی ادنی سی نیکی بھی لکھنے سے رہ جائے یا حقیر سی بدی بھی کسی کے نامہ اعمال میں بڑھا دی جائے۔ ) (آیت) ” ووجدوا ما عملوا حاضرا “۔ بعض اہل کشف نے لکھا ہے کہ یہ اعمال لکھی ہوئی صورت میں نہیں، بلکہ اپنی اصلی صورت میں پیش ہوں گے، یعنی ہر عامل اپنے کو بعینہ وہی عمل کرتا ہوا پائے گا جو اس نے دنیا میں کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
آیات نمبر 47 تا 49
ترجمہ : اور یاد کرو اس دن کو کہ وہ (اللہ) چلا دے گا پہاڑوں کو یعنی اللہ تعالیٰ پہاڑوں کو روئے زمین سے اکھاڑ دیں گے اور پہاڑ پراگندہ غبار ہوجائیں گے اور ایک قرأت میں نُسَیِّرُ نون اوری کے کسرہ اور جبال کے نصب کے ساتھ ہے اور اے مخاطب تو زمین کو دیکھے گا کہ ایک کھلا میدان ہے کہ اس پر پہاڑ وغیرہ کچھ نہ رہیں گے اور ہم تمام انسانوں کو خواہ مومن ہوں یا کافر سب کو جمع کریں گے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے اور سب کے سب تیرے رب کے رو برو صف بستہ حاضر کئے جائیں گے صفًّا حال ہے (اور معنی میں) مصطفین کے ہے ہر امت کی ایک صف ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو آخر کار تم ہمارے…
Read the full tafseer →ووضع الکتب اور اعمالنامے رکھے جائیں گے۔ الکتاب میں الف لام جنسی ہے (جس کا اطلاق کثیر پر بھی ہوتا ہے
اور یہاں کثیر ہی مراد ہیں) لوگوں کے دائیں یا بائیں ہاتھوں میں یا میزان میں یا اللہ کے سامنے اعمالنامے رکھ دیئے جائیں گے۔
فتری المجرمین مشفقین مما فیہ ویقولون یویلتنا مال ہذا الکتب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصہا پھر آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ اس میں جو کچھ (لکھا) ہوگا اس ڈرتے ہوں گے اور کہیں گے کہ
ہائے ہماری کم بختی اس نامۂ اعمال کی عجیب حالت ہے کہ بغیر لکھے نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا۔
الْمُجْرِمِیْنَیعنی وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھوں میں اعمالنامے دیئے جائیں گے۔
مِمَّا فِیْہِان گناہوں سے جو…
Read the full tafseer →(49) اور نامہ اعمال مخلوقات کے دائیں اور بائیں ہاتھوں میں برف کی طرف پھسل کر کھلا رکھ دیا جائے گا پھر آپ مشرکین اور منافقین کو دیکھیں گے کہ اس نامہ اعمال میں جو کچھ لکھا ہوگا اس سے ڈرتے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی اس نامہ اعمال نے تو بغیر قلم بند کیے نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا ہے اور نہ کوئی بڑا گناہ اور کہا گیا کہ صغیرہ سے مراد تبسم اور کبیرہ سے مراد (دینی امور پر) قہقہہ ہے۔
اور جو کچھ انہوں نے نیکی اور برائی کی ہوگی سب لکھا ہوا موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا کسی کی نیکیوں میں کمی نہیں کرے گا اور کافر کا گناہ نہیں چھوڑے گا۔
Read the full tafseer →مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ : بقاعی ؓ نے رسم عثمانی میں لام جارہ کو الگ لکھنے کا ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ مجرم اتنے خوف زدہ ہوں گے کہ وہ بعض کلمات پر رک جایا کریں گے۔ علامہ قاسمی ؓ فرماتے ہیں کہ یہ بقاعی کے لطیف نکتوں میں سے ایک ہے۔
لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً۔۔ : اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے آل عمران (30) اور زلزال (7، 8)۔
وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا : یعنی کسی کو بےقصور سزا نہیں دے گا اور نہ ایسا ہوگا کہ اس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو اور اس کے نامۂ اعمال میں درج کردیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 49
قولہ تعالیٰ : ووضع الکتب، الکتب یہ اسم جنس ہے، اور اس میں دو وجہیں ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے مراد نامہ اعمال ہیں جو بندوں کے ہاتھوں میں دئیے جائیں گے ؛ یہ مقاتل نے کہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے مراد حساب کو رکھنا ہے ؛ یہ کلبی (رح) نے کہا ہے، پس حساب کو کتاب سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ ان کے لکھے ہوئے اعمال پر ان کا محاسبہ کیا جائے گا۔ اور پہلا قول اظہر ہے ؛ اسے ابن مبارک نے ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے : ہمیں حکم یا ابو الحکم نے خبر دی ہے۔۔۔ یہ نعیم کو شک ہے۔۔۔ اسماعیل بن عبد الرحمن سے انہوں نے بنی اسد کے ایک آدمی سے اس نے کہا حضرت عمر ؓ نے حضرت کعب کو کہا : تجھ پر افسوس…
Read the full tafseer →اعمال نامہ کے دفتر پیش ہونا :
1:۔ بزار نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ابن آدم کے لئے تین دفتر نکالے جائیں گے ایک دفتر میں نیک عمل (لکھے) ہوں گے ایک دفتر میں اس کے گناہ لکھے ہوں گے اور ایک دفتر میں نعمتیں لکھی ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو ملی تھیں (دنیا میں)
2:۔ طبرانی نے سعد بن جنادہ ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو ہم ایک چٹیل میدان میں اترے جس میں کوئی چیز نہ تھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کچھ جس کے پاس ہے اس کو لے آئے راوی نے کہا کچھ دیر نہ گذری تھی کہ ہم نے مال کے ڈھیر کو دیکھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم اس کو دیکھ رہے ہو ؟ اسی…
Read the full tafseer →[وَوُضِـعَ : اور رکھا جائے گا ] [الْكِتٰبُ : لکھا ہوا (اعمال نامہ)] [فَتَرَى: پھر آپ ﷺ دیکھیں گے ] [الْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کو ] [مُشْفِقِيْنَ : ڈرنے والے ہوتے ہوئے ] [مِمَا : اس سے جو ] [فِيْهِ : اس میں ہے ] [وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہیں گے ] [يٰوَيْلَتَنَا : ہائے ہماری تباہی ] [مَا : کیا ہے ] لِ هٰذَا الْكِتٰبِ : اس ریکارڈ کو ] [لَا يُغَادِرُ : وہ نہیں چھوڑتا ] [صَغِيْرَةً : کسی چھوٹے (عمل) کو ] [وَّلَا كَبِيْرَةً : اور نہ ہی کسی بڑے (عمل) کو ] [اِلَّآ : سوائے اس کے کہ ] [اَحْصٰىهَا : اس نے گھیر لیا اس کو ] [وَوَجَدُوْا : اور وہلوگ پائیں گے ] [مَا : اس کو جو ] [عَمِلُوْا : انھوں نے عمل…
Read the full tafseer →(وَ وُضِعَ الْکِتٰبُ ) (الیٰ قولہ تعالیٰ ) (وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا) جب دربار خداوندی میں حاضری ہوجائے گی اور وہاں حساب ہوگا اور پیشی ہوگی تو اگرچہ اللہ تعالیٰ کو حجت قائم کیے بغیر بھی سزا دینے کا اختیار ہے لیکن وہ حجت قائم کرکے سزا دے گا یہ حجت اعمال ناموں کے ذریعہ بھی اور انسانوں کے اعضاء کی گواہی سے بھی قائم ہوگی اور بعض دوسری چیزیں بھی گواہی دیں گی، اعمال نامے پیش ہوں گے، ہر شخص کا اعمال نامہ کھلا ہوگا جو اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا۔ اچھے لوگوں کا اعمالنامہ داہنے ہاتھ میں اور برے لوگوں کے اعمال نامے پشت کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے۔
اپنے اپنے اعمال نامے دیکھیں گے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
دنیا کے فناء وزوال کی ایک مثال
قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثل الحیوۃ الدنیا کماء انزلنہ .... الیٰ .... ولا یظلم ربک احدا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دو شخصوں کی مثال بیان کی تھی جس سے دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری کو بتلانا مقصود تھا اب پھر دنیا کی بےثباتی کے لئے ایک دوسری مثال بیان فرماتے ہیں تاکہ دنیا کی اندرونی حقیقت ظاہر ہوجائے اور لوگ اس کی ظاہری زیب وزینت کو دیکھ کر فریفتہ نہ ہوں اور اس کی ظاہری آرائش سے دھوکہ نہ کھائیں اور سمجھ جائیں کہ یہ دنیا ہیچ ہے۔ قابل فخر نہیں قابل فخر اور قابل شکر باقیات صالحات یعنی اعمال صالحہ ہیں جن کے مقابلہ میں ساری دنیا کی آرائش اور زیبائش ہیچ ہے۔ دنیا تو خسیس ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
52:۔ یہ اصلاح منکرین کا تیسرا طریقہ ہے۔ یعنی دنیا کی خاطر دین کو چھوڑتے ہیں وہی دنیا ان کے لیے وبال جان ثابت ہوگی اور آخرت میں اس کی وجہ سے دردناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ” نسیر الجبال الخ “ پہاڑوں کو چلانے سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن پہاڑوں کو ان کی جگہوں سے اٹھا لیا جائے گا اور وہ بادلوں کی طرح فضائے آسمانی میں اڑا دئیے جائیں گے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وھی تمر مر السحاب “۔” بارزۃ “ ظاہر اور نظر آنے والی زمین کا جو حصہ پہاڑوں سے چھپا ہوا تھا وہ اب عریاں ہو کر صاف نظر آنے لگے گا۔ ” لا یغادر الخ “ مجرمین جب اپنا نامہ اعمال دیکیں گے تو سخت متحیر ہوں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک دنیادار مشرک اور ایک ایماندار غریب آدمی کی مثال بیان فرمائی ، ان کی آپس میں گفتگو کا تذکرہ ہوا مشرک بڑا مغرور تھا اور ایماندار آدمی کو قلت مال اور قلت اولاد کا طعنہ دیتا تھا ، ایماندار آدمی نے اس مشرک سے کہا کہ تو اس پروردگار کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے پہلے مٹی سے بنایا اور پھر قطرہ آب سے تخلیق کی ، تجھے انسان بنایا اچھی شکل و صورت عطا فرمائی تو جو چاہئے عقیدہ اختیار کر مگر میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تمہارا فرض یہ تھا کہ باغ میں داخل ہوتے وقت تمہاری زبان پر یہ کلمات ہوتے ” ماشآء…
Read the full tafseer →وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْہِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَۃً وَّلَا كَبِيْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰىہَا 0ۚ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا 0ۭ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا 49ۧ
وضع
الوَضْعُ أعمّ من الحطّ ، ومنه : المَوْضِعُ. قال تعالی: يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَواضِعِهِ
[ النساء/ 46] ويقال ذلک في الحمل والحمل، ويقال : وَضَعَتِ الحملَ فهو مَوْضُوعٌ. قال تعالی: وَأَكْوابٌ مَوْضُوعَةٌ [ الغاشية/ 14] ، وَالْأَرْضَ وَضَعَها لِلْأَنامِ [ الرحمن/ 10] فهذا الوَضْعُ عبارة عن الإيجاد والخلق، ووَضَعَتِ المرأةُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
1 ؎ یعنی جس طرح پیدائش کے وقت خالی ہاتھ ننگ ملنگ پیدا ہوتے ہیں اسی طرح اس عالم حشر میں بھی جو حمل دنیا کا تولد ہے خالی ہاتھ ہوں گے یہ مال و دولت جاہ و حشم جس پر آج غرور ہے کچھ بھی ساتھ نہ ہوگا۔ 12 منہ۔
Read the full tafseer →وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِھٰذَا الْکِتٰبِ لاَ یُغَادِرْ صَغِیْرَۃً وَّلاَ کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰھَا ج وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ط وَلاَ یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحْدًا۔ (الکہف : 49)
(اور رجسٹر رکھا جائے گا تو آپ ﷺ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ خوف زدہ ہیں اس سے جو کچھ اس کے اندر ہے اور وہ کہیں گے ہائے ہماری شامت، یہ رجسٹر عجیب ہے کہ نہ چھوٹا گناہ چھوڑتا ہے اور نہ بڑا، ہر ایک کو شمار کرتا ہے اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کیا تھا وہ سب اس رجسٹر میں موجود پائیں گے، اور تیرا رب کسی پر کوئی ظلم نہیں کرے گا۔ )
دفتر اعمال…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے بعد ہر شخص کو اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا۔
تمام جنات اور انسان سر جھکائے قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ حضرت جبریل امین (علیہ السلام) اور تمام ملائکہ بھی قطار اندر قطار حاضر ہوں گے۔ کوئی بھی بات کرنے کی ہمت نہیں کرسکے گا۔ (النباء : 38)
اس کے بعد رب ذوالجلال جلوہ نما ہوں گے اور آٹھ فرشتے رب ذوالجلال کا عرش اٹھائے ہوں گے۔ (الحاقۃ : 17)
اللہ تعالیٰ کے جمال سے ہر چیز روشن ہوجائے گی۔ لوگوں کو اعمال نامے دئیے جائیں گے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور دوسرے لوگوں کی شہادتیں پیش ہوں گی۔ لوگوں کے درمیان حق و انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا اور کسی کے ساتھ…
Read the full tafseer →نامہ عمل کا کھلنا :
49: وَوُضِعَ الْکِتٰبُ (اور اعمال نامے رکھے جائیں گے) الکتاب سے صحائف اعمال مراد ہیں۔ فَتَرَی الْمُجِرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ (پس آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ ڈرتے ہونگے) مشفقین کا معنی خائفین ہے۔ مِمَّا فِیْہِ (اس سے جو کچھ اس میں ہوگا) یعنی گناہ۔
وَیَقُوْلُوْنَ یٰـوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا الْکِتٰبِ لَایُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّ لَا کَبِیْرَۃً (اور وہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی اس نامہ اعمال کی عجیب حالت ہے کہ نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑتا ہے اور نہ بڑا) یعنی کسی معمولی گناہ کو بھی نہیں چھوڑتا۔ اِلَّا اَحْصٰھَا (بغیر لکھے اور شمار کیے) ان کو ضبط کرنے اور قلم بند کرنے والا ہے۔…
Read the full tafseer →تفسیر (49)” ووضع الکتاب “ بندوں کے اعمال نامے رکھے جائیں گے ، ان کے دائیں ہاتھ میں اور بائیں ہاتھ میں اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بندوں کے اعمال رکھے جائیں گے۔ ” فتری المجرمین مشفقین “ وہ اس سے ڈر رہے ” ممافیہ “ اعمال سیئہ کی۔ ” ویقولون “ جب وہ ان اعمال کو دیکھیں گے تو کہیں گے ” یا ویلتا “ ہائے ہماری ہلاکت۔ ویل اور ویلہ دونوں کا معنی ہلاکت ہے اور ہر وہ چیز جس پر ہلاکت واقع ہوجائے۔ اس کو ویل کے ذریعے پکارتے ہیں اور یاء ندا کے ذریعے سے مخاطبین کو تنبیہ کرنا مقصود ہے۔
” مال ھذا الکتاب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ “ ہمارے گناہوں میں سے نہ چھوٹے گناہ چھوڑے اور نہ ہی بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
47۔ 49:۔ ان آیتوں میں قیامت کا ذکر ہے کہ اس دن پہاڑ جاتے رہیں گے زمین صاف نکل آئے گی اور اکٹھا کریں گے ہم ان کو اس طرح کہ نہ چھوڑیں ان میں سے ایک کو بھی جس زمین کے ساتھ حشر کا ذکر ہے یہ وہ نئی زمین ہے جس پر حشر قائم ہوگا۔ یہ زمین دنیا کی زمین سے بالکل الگ اور نئی ہوگی کیونکہ شعب الایمان بیہقی تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں صحیح سند سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے 1 ؎ کہ اس زمین پر کسی گنہگار نے کوئی گناہ نہیں کیا اب یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا کی زمین پر روز گناہ کیے جاتے ہیں اس لیے یہ زمین بالکل نئی ہوگی مطلب یہ ہے کہ پہلے صور کے وقت دنیا کی زمین پر کے پہاڑ جو اڑا دیئے جائیں گے وہ پہاڑ یا کوئی ٹیلہ…
Read the full tafseer →آیت 49
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن کا حال بیان کرتا ہے کہ اس میں پریشان کن ہولناکیاں اور تڑپا دینے والی سختیاں ہوگی، چناچہ فرمایا : (ویوم نسیر الجبال) ” اور جس دن ہم چلائیں گے پہاڑ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ان کی جگہ سے ہٹا کر انکو ریت کے ٹیلے بنا دے گا، پھر ان کو دھنکی ہوئی اون کی مانند کر دے گا پھر وہ مضمحل ہو کر غبار کی مانند اڑ جائیں گی اور زمین ایک ہموار میدان نظر آئے گی جس میں کوئی نشیب و فراز نہ ہوگا اللہ تعالیٰ اس زمین پر تمام مخلوق کو اکٹھا کرے گا کسی کو باقی نہیں چھوڑے گا۔ وہ اگلوں پچھلوں سب کو صحراؤں کے پیٹوں سے اور سمندروں کی گہرائیوں سے نکال کر ایک جگہ اکٹھا کرے گا۔ جب ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–60
ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم
قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان
حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…
Read the full tafseer →85۔ انکار آخرت محرومیوں کی محرومی، اور ہلاکتوں کی ہلاکت ،۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور تم نے سمجھ رکھا تھا کہ ہم تمہارے لوٹنے کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں کریں گے “۔ اور تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ دنیائے فانی اور اس کی عارضی وناپائیدار لذتیں ہی سب کچھ ہیں۔ اسی لئے تم ان اہل ایمان کا مذاق اڑایا کرتے تھے جن کے پاس دنیاوی مال ودولت کچھ نہیں تھا۔ سو اب یہ وقت آگیا اور جس مال ودولت اور دنیاوی اسباب و وسائل پر تم لوگ پھولے نہیں سماتے تھے وہ سب کچھ دنیا ہی میں رہ گیا اور تم کو خالی ہاتھ ہمارے حضور حاضر ہونا پڑا۔ سو انکار حق اور عقیدہ آخرت سے محرومی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ محرومیوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
میدان حشر کا منظر
تشریح : یہ آیات ایک بہت بڑے واقعہ کو لوگوں کے لیے بڑے ہی سادہ مگر خوفناک انداز میں بیان کر رہی ہیں، جیسا کہ آخرت پر ایمان مسلمان کے عقائد کی تکمیل کا نام ہے، تو اسی صورت حال کو اللہ تعالیٰ مذکورہ بالا آیات میں بیان کر رہے ہیں اور بار بار یاد دہانی کروا رہے ہیں کہ ایک دن زمین بنجر اور وسیع و عریض ہوگی اور وہاں لوگ ہر طرف سے بھاگتے ہوئے اللہ کے حضور جمع کردیے جائیں گے کہ ان کے دنیا میں کیے گئے اعمال کا بدلہ بڑے انصاف اور انتہائی سچائی کے ساتھ دیا جائے اور اس منظر کو قرآن پاک میں بیشمار دفعہ دلیلوں کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے۔ اور وہ تمام لوگ اس دن دیکھ لیں گے اللہ کے وعدے کو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ ﷺ انہیں بتا دیجئے کہ حیات دنیا کی مثال تو لوگوں کے سامنے ہے جیسے بادل برستے ہیں تو زمین کا سینہ سبزے سے بھر جاتا ہے اور ہر طرف ہریالی کا راج نظر آتا ہے مگر تابہ کے آخر ایک روز وہ سوکھ کر اور ٹوٹ پھوٹ کر چورہ بن جاتا ہے اور ہوا اسے اڑائے اڑائے پھرتی ہے کہیں اس کے قدم لگتے ہیں نہ اس کی کوئی حیثیت رہ جاتی ہے ، اسی طرح افراد اور اقوام کی مثال سامنے ہے کہ مختلف اقوام برسراقتدار آتی ہیں تو یوں نظر آتا ہے کہ انہیں زوال کا کوئی اندیشہ نہیں مگر پھر فنا ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں ، افراد کو دیکھو کیسے کیسے تنومند اور کڑیل جوان پیوند خاک ہوجاتے ہیں ۔
صرف اور صرف اللہ جل…
Read the full tafseer →ف 7 حضرت سعد بن جنادہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین سے پلٹے تو ہم نے ایک کھلے چٹیل میدان میں پڑائو ڈالا۔ آنحضرت نے لوگوں سے فرمایا : لکڑاں ی جمع کرو جسے کوئی ٹہنی ملے ٹہنی لے آئے اور جسے جلانے کے لئے کوئی دوسری چیز ملے، وہ چیز لے آئے تھوڑی دیر گزرنے نہ پائی تھی کہ ایندھن کا ایک ڈھیر لگ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ اس ڈھیر کو دیکھ رہے ہو۔ (یاد رکھو) اسی طرح تم میں سے ہر شخص کے گناہ جمع کئے جاتے رہتے ہیں۔ لہٰذا اس سے ڈرتے رہنا چاہیے اور کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ نہ کرنا چاہیے اس لئے کہ (ایک روز) اس کے تمام گناہ اکٹھے کر کے اس کے سامنے لائے جائیں گے۔ (طبرانی)8 یعنی…
Read the full tafseer →(18:49) ووضع الکتب۔ اس کا عطف عرضوا پر ہے۔ اور الکتب سے مراد ہر ایک کا نامہ اعمال ہے۔
مشفقین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ منصوب نصب بوجہ المجرمون کا حال ہونے کے ہے ڈرنے والے۔ خائفین۔ اشفاق مصدر شفق سے مشتق ہے جس کے معنی غروب آفتاب کے وقت روشنی اور تاریکی کا اختلاط ہے۔ اسی لئے جو محبت خوف کے ساتھ مخلوط ہوا سے شفقت کہتے ہیں۔
یویلتنا۔ یا حرف ندا ویلتنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ویل۔ ہلاکت، کم بختی، بدبختی بربادی۔ نا ضمیر جمع متکلم۔ ہائے ہماری بربادی ویلۃ اس جگہ کلمہ ندامت و حسرت ہے۔
مال ھذا الکتب۔ ما استفہامیہ ہے، ل حرف جار۔ اس کتاب کو کیا ہے۔ اس نوشتہ کو کیا ہوگیا ہے۔ یہ نامہ اعمال کیسا ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 49
اختلط مل گیا۔ نبات الارض زمین کا سبزہ۔ اصبح ہوگیا۔ ہشیم چورہ چورہ۔ تذروا وہ اڑاتی ہے۔ الریاح (ریح) ہوائیں۔ مقتدر قدرت رکھنے والا۔ البنون (ابن) بیٹے۔ البقیت باقی رہنے والی۔ امل توقع، امید۔ نسیر ہم چلائیں گے۔ بار زۃ کھلی ہوئی۔ لم نغادر ہم نے نہیں چھوڑا۔ عرضوا پیش کیا گیا۔ صف قطار، صف۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ زعمتم تم نے گھمنڈ کیا، گمان کیا۔ وضع رکھ دیا گیا۔ مشفقین ڈرنے والے۔ احصی شمار کرلیا گیا۔ لایظلم وہ ظلم نہیں کرتا۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 49
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں چھوٹی چھوٹی مثالوں سے بڑی بڑی حقیقتوں کی طرف متوجہ کیا ہے۔ دنیا کی بےثباتی اور کمزوریوں کو ایک…
Read the full tafseer →قیامت کا ذکر
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اچھے لوگوں کے دائیں ہاتھ میں اور برے لوگوں کے بائیں ہاتھ میں جب اعمال نامے دیئے جائیں گے۔ تو برے لوگ اپنے اعمال نامہ میں عمر بھر کے بد اعمال دیکھ کر بہت گھبرائیں گے اور سزا کے خوف سے بہت ڈریں گے مگر بےوقت کا گھبرانا اور ڈرنا ان کے کچھ کام نہ آوے گا۔ پھر فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ کسی پر کچھ ظلم نہ کرے گا۔ بلکہ ہر شخص کے عملوں کے موافق جزا وسز کا فیصلہ کیا جاوے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
[17] مطلب یہ ہے کہ جیسے بےسروسامان دنیا میں بھیجے گئے تھے ویسے ہی بےسروسامان ہمارے حضور میں آموجود ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
(ف 1) قرآن حکیم کا یہ مخصوص طرز بیان ہے کہ واقعہ کی تصویر کھینچ دیتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہم واقعہ کی تمام جزئیات کو اپنی آنکھوں دیکھ رہے ہیں قیامت اور حشر ونشر کے متعلق جتنی باتیں ذکر فرمائی ہیں ، وہ سب اس اسلوب بیان کی آئینہ دار ہیں ۔ اور یہ طرز بیان اس درجہ موثر کہ قیامت کے احوال کو پڑھ کر دل کانپ جاتا ہے اور یہ محسوس ہوتا ہے جیسے آپ پر واقعی قیامت گزری ہے اور اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور ان تمام کیفیات کو دیکھ رہے ہیں ۔
ارشاد ہوتا ہے کہ تم ہمارے پاس پہلی حالت میں لائے جاؤ گے ، بالکل فطرت میں تمام تکلفات دنیا میں دھرے رہ جائیں گے ، تمہارا خیال یہ تھا کہ ہم کبھی تم کو اپنے ہاں نہ…
Read the full tafseer →-49 اور نامہ عمل رکھ دیا جائے گا تو اس وقت آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ جو اس نامہ عمل میں لکھا ہوگا اس کے انجام اور اس کی سزا سے ڈر رہے ہوں گے اور یوں کہتے ہوں گے ہائے ہماری مصیبت اور بدقستمی اس کتاب کو کیا ہوگا اور اس کی کیسی عجیب حالت ہے کہ اس نے نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا اور نہ کوئی بڑا گناہ چھوڑا مگر یہ کہ سب ان کو شمار کر رکھا ہ اور ان سب کو گھیر رکھا ہے اور جو کچھ دنیا میں انہوں نے کیا تھا ان سب اعمال کو موجود پائیں گے اور آپ کا پروردگار کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ یعنی نامہ اعمال ہر شخص کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں کھلا ہوا دیدیا جائے گا اور اس کو دیکھ کر گنہگار افسوس اور تعجب کا اظہار کریں گے کہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ کہ بے کیا ہوا گناہ لکھ دے یا کی ہوئی نیکی جبکہ شرائط کے ساتھ کی جاوے نہ لکھے۔ خلاصہ یہ کہ روساء مشرکین جس چیز پر فخر کرتے ہیں انہوں نے اس کا مال سن لیا، اور جن غربا کو حقیر سمجھتے ہیں ان کے باقیات صالحات کا لازوال ہونا معلوم کرلیا، اب بھی عقل نہ آوے تو گولی ماریئے۔
Read the full tafseer →یہی وہ دن ہے کہ ہر ایک کا اعمال نام کھول کر اس کے اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا :
52۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی ایک دفعہ پیدا ہوجاتی ہے پھر وہ بےحکم اللہ تعالیٰ فنا نہیں ہوتی اس طرح افعال و اعمال بھی جو انسان سے ظہور پذیر ہوتے ہیں وہ فنا نہیں ہوتے ۔ موجودہ سائنس جس نے یہ اصول تسلیم کرلیا ہے کہ دنیا میں کوئی حرکت بھی پیدا ہو کر فنا نہیں ہوتی یہاں تک کہ فضا میں ہر آواز اور ہر صدا بھی جو کچھ بلند ہوئی ہے آج موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی اور ہم اس کو پکڑ پائیں تو سن سکتے ہیں وہ اعمال وافعال کے دوام وجود سے اسلامی عقیدہ کو قبول کرنے میں پس وپیش نہیں کرسکتی ، دنیا کے ریکارڈ میں…
Read the full tafseer →Recompense (al-jaza' ) is the Deed (al-'amal) itself
Towards the end of verse 49, it was said: وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا (And they will find what they did all there). Commentators generally explain its sense by saying that they will find the recompense of their deeds present there. My respected teacher, Maulana Sayyid Muhammad Anwar Shah Kashmiri, used to say that there is no need for this interpretation here. Countless Hadith narratives prove that these very deeds of the mortal world will become the recompense - reward or punishment - of the Hereafter. Their forms will transform…
Read the full tafseer →46.“And your Lord does not do injustice to anyone”: Neither will an evil deed, not committed by someone, have been recorded in his conduct register, nor shall anyone be punished more than one deserved for his crime, nor shall an innocent person be punished at all.
Read the full tafseer →