Explained with ayahs 47–49
سب کے سب میدان حشر میں
اللہ تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما رہا ہے اور جب تعجب خیز بڑے بڑے کام اس دن ہوں گے ان کا ذکر کر رہا ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا گو تمہیں جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس دن تو بادلوں کی طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ آخر روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے زمین صاف چٹیل میدان ہوجائے گی جس میں کوئی اونچ نیچ تک باقی نہ رہے گی نہ اس میں کوئی مکان ہوگا نہ چھپر۔ ساری مخلوق بغیر کسی آڑ کے اللہ کے بالکل سامنے ہوگی۔ کوئی بھی مالک سے کسی جگہ چھپ نہ سکے گا کوئی جائے پناہ یا سر چھپانے کی جگہ نہ ہوگی۔ کوئی درخت پتھر گھاس پھوس دکھائی نہ دے گا تمام اول و آخر کے لوگ جمع ہوں گے کوئی چھوٹا…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 45
یعنی اس وقت منکرین آخرت سے کہا جائے گا کہ دیکھو، انبیاء کی دی ہوئی خبر سچی ثابت ہوئی نا۔ وہ تمہیں بتاتے تھے کہ جس طرح اللہ نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے اسی طرح دو بارہ پیدا کرے گا، مگر تم اسے ماننے سے انکار کرتے تھے۔ بتاؤ، اب دوبارہ تم پیدا ہوگئے یا نہیں ؟
Read the full tafseer →(آیت) وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ قیامت کے دن سب کو خطاب ہوگا کہ آج تم اس طرح خالی ہاتھ بغیر کسی سازو سامان کے ہمارے سامنے آئے ہو، جیسا تمہیں اول پیدائش کے وقت پیدا کیا تھا، بخاری، مسلم، ترمذی میں بروایت ابن عباس ؓ منقول ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ اے لوگو تم قیامت میں اپنے رب کے سامنے ننگے پاوں ننگے بدن پیدل چلتے ہوئے آؤ گے، اور سب سے پہلے جس کو لباس پہنایا جائے گا وہ ابراہیم ؑ ہوں گے، یہ سن کر حضرت صدیقہ عائشہ نے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا سب مرد و عورت ننگے ہوں گے اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس روز ہر ایک کو…
Read the full tafseer →وَعُرِضُوا عَلَى رَبِّكَ صَفًّا لَقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّنْ نَجْعَلَ لَكُمْ مَوْعِدًا
خالی ہاتھ واپسی : اس دن سب کی پیشی تیرے رب کے حضور ہوگی صف بستہ۔ آج یہ اپنی امرت و ریاست کے گھمنڈ میں اکڑتے ہیں لیکن اس دن یہ غلاموں کی طرح اپنے رب کے آگے صف باندھے ہوئے حاضر ہوں گے اور ہم ان سے کہیں گے کہ دیکھ لو، جس طرح تم دنیا میں خالی ہاتھ گئے تھے اسی طرح تم دنیا میں خالی ہاتھ گئے تھے اسی طرح آج خالی ہاتھ تم ہمارے پاس حاضر ہوگئے۔ یعنی نہ آج تمہارے ساتھ تمہارے خدم و حشم ہیں اور نہ وہ اموال و اسباب جن پر تم دنیا میں نازاں تھے۔ " وترکتم ما خولناکم واء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48۔ 1 اس کے معنی ہیں کہ ایک ہی صف میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے، یا صفوں کی شکل میں بارگاہ الٰہی میں حاضر ہونگے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
27: قرآن کریم کی آیات کو سامنے رکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ قیامت کے کے موقع پر پہاڑوں کو پہلے اپنی جگہ سے ہٹا کر چلایا جائے گا پھر ان کو کوٹ پیس کر غبار کی طرح ہوا میں اڑا دیا جائے گا۔ چلانے کا ذکر اس جگہ کے علاوہ سورة نمل آیت 88 اور سورة تکویر آیت 3 میں بھی آیا ہے۔ اور انہیں کوٹ پیس کر غبار میں تبدیل کردینے کا ذکر سورة طٰہٰ آیت 105 سورة واقعہ آیت 5 6 اور سورة مرسلات آیت 10 میں موجود ہے
28: اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جو چیزیں زمین کے اندر پوشیدہ ہیں۔ وہ سامنے آجائیں گی جیسا کہ سورة انشقاق آیت 4 میں بیان فرمایا گیا ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ پہاڑوں، درختوں اور عمارتوں کے فنا ہوجانے کے بعد زمین حد نظر…
Read the full tafseer →یہ ایک منظر ہے جس میں اس کائنات کا طبیعی ماحول ، اور اس کائنات اور انسانی دلوں پر خو و ہراس کے نقوش داع نظر آتے ہیں۔ اس منظر کے کردار بڑے بڑے پہاڑ ہیں جو دیکھتے دیکھتے دھواں بن جاتے ہیں اور یہ نہایت تیزی سے چلتے ہیں ، دلوں پر خوف طاری ہے ، زمین اچانک چٹیل میدان بن جاتی ہے۔ نہ اس میں سرسبزی اور شادابی ، نہ پہاڑ ہیں اور نہ خوبصورت وادیاں بلکہ دلوں کے حال میں اس منظر میں سامنے آجاتے ہیں اور کوئی بات خفیہ نہیں رہتی۔
یہ ہموار اور چٹیل میدان زمین ، جو کسی چیز کو نہیں چھپا سکتی اور نہ اس پر کسی کے چھپنے کی کوئی جگہ ہے ، اسی زمین سے یکدم تمام مخلوقات اک آئے گی۔
وحشرنھم فلم نغادر منھم احداً (81 : 83)…
Read the full tafseer →5 منکرین بعث کو تقریع و توبیخ کے طور پر یہ کہا جائے گا کہ تم تو قیامت وغیرہ کو محض ڈھکوسلہ سمجھتے تھے۔ آج سب جتھا اور اثاثہ چھوڑ کر ننگ دھڑنگ کہاں آپہنچے۔ اور " جیسا بنایا تھا پہلی بار " میں یہ بھی داخل ہے کہ بدن میں کچھ زخم و نقصان وغیرہ نہ رہے گا۔ حدیث میں ہے کہ محشر میں کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں اسی امت محمدیہ کی ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 48 وَعُرِضُوْا عَلٰي رَبِّكَ صَفًّا ۭ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۢ
یہاں ”پہلی مرتبہ“ پیدا کرنے سے مراد عالم ارواح میں انسانی ارواح کی تخلیق ہے جبکہ اس زمین پر جسم اور روح کے ملاپ سے کی جانے والی انسانی تخلیق دراصل تخلیق ثانی ہے۔ فرض کریں اس دنیا کی عمر پندرہ ہزار برس ہے تو ان پندرہ ہزار برسوں میں وہ تمام انسان اس دنیا میں آ چکے ہیں جن کی ارواح اللہ تعالیٰ نے پیدا کی تھیں۔ ان تمام انسانوں کو قیامت کے دن پھر سے اکٹھا کرلیا جائے گا۔ چناچہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تمام انسان جیسے عالم ارواح میں بیک وقت ایک جگہ اکٹھے تھے ‘ اسی طرح قیامت کے دن بھی میدان حشر میں سب کے سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
44 ننگے بدن حشر :۔ جس طرح پہلی بار اکیلے پیدا ہوئے تھے صحیح وسالم پیدا ہوئے تھے بالکل برہنہ پیدا ہوئے اسی طرح ان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا چناچہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن بن ختنہ اکٹھے کیے جائیں گے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس طرح تو مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے آپ نے فرمایا : وہ وقت اتنا سخت ہوگا کہ ان باتوں کی کسی کو ہوش ہی نہ ہوگی (بخاری، کتاب الرقاق، باب کیف الحشر)
45 اس وقت آخرت کے منکروں سے یہ کہا جائے گا کہ جس بات کا تم انکار کرتے رہے تھے۔ کیا اب وہ بات حقیقت بن کر تمہارے سامنے نہیں آگئی ؟
Read the full tafseer →70۔ (اور تم باوجود اپنے خلق اول کے علم ویقین کے اپنی خلق ثانی کے معتقدو قائل نہ ہوئے) یہ سب کچھ منکروں، ملحدوں سے خطاب کرکے ارشاد ہوگا، والخطاب لکفار المنکرین البعث علی سبیل تقریعھم وتوبیخھم (بحر) (آیت) ” لقد۔۔۔ مرۃ “۔ یعنی آئے بھی تو مال، جاہ، اولاد اور اپنی ہر اس چیز سے خالی ہاتھ ہو کر جس پر دنیا میں فخر وناز کیا کرتے تھے۔ (آیت) ”ؔ بل “۔ کا ترجمہ، بلکہ، اور ’ لیکن ‘ دونوں سے ہوسکتا ہے۔ بل للاضراب بمعنی الانتقال من خبر الی خبر (بحر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
آیات نمبر 47 تا 49
ترجمہ : اور یاد کرو اس دن کو کہ وہ (اللہ) چلا دے گا پہاڑوں کو یعنی اللہ تعالیٰ پہاڑوں کو روئے زمین سے اکھاڑ دیں گے اور پہاڑ پراگندہ غبار ہوجائیں گے اور ایک قرأت میں نُسَیِّرُ نون اوری کے کسرہ اور جبال کے نصب کے ساتھ ہے اور اے مخاطب تو زمین کو دیکھے گا کہ ایک کھلا میدان ہے کہ اس پر پہاڑ وغیرہ کچھ نہ رہیں گے اور ہم تمام انسانوں کو خواہ مومن ہوں یا کافر سب کو جمع کریں گے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے اور سب کے سب تیرے رب کے رو برو صف بستہ حاضر کئے جائیں گے صفًّا حال ہے (اور معنی میں) مصطفین کے ہے ہر امت کی ایک صف ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو آخر کار تم ہمارے…
Read the full tafseer →وَعُرِضُوْا جیسے بادشاہ کے سامنے اس کی فوج لائی جاتی ہے اسی طرح اللہ کے سامنے سب لوگوں کو صف بند شکل میں لایا جائے گا۔ لیکن بادشاہ کی پیشی معائنہ اور شناخت کے لئے ہوتی ہے اور اللہ کی پیشی حکم جاری کرنے کے لئے ہوگی۔ صفاً یعنی سب ایک قطار میں سامنے آئیں گے ‘ کسی سے کسی کی رکاوٹ نہیں ہوگی ‘ کوئی دوسرے کے سامنے آنے سے مانع نہ ہو سکے گا۔
لقد جئتمونا کما خلقنکم اوّل مرۃ (دیکھو) آخر تم ہمارے پاس آئے ‘ جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا
کیا تھا۔ یعنی جس طرح ہم نے تم کو برہنہ بدن برہنہ یا غیر مختون پیدا کیا تھا۔ پیدائش کے وقت تمہارے پاس دنیا کا مال و دولت کچھ بھی نہ تھا اسی طرح آج نادار برہنہ غیر مختون۔…
Read the full tafseer →(48) اور سب کے سب آپ کے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا آخر تم ہمارے پاس آئے جیسا کہ پہلی مرتبہ بغیر مال واولاد کے ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا بلکہ تم دنیا میں کہتے تھے کہ ہم تمہارے دوبارہ پیدا کرنے کے لیے کوئی وقت موعود نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۢ ۡ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ ان سے یہ بات فرمائے گا۔ دیکھیے سورة انعام (94) یہ خطاب آخرت کے منکروں سے ہوگا، جیسا کہ اس آیت کے آخر میں ہے : (بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا) ”بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہم تمہارے لیے کبھی وعدے کا کوئی وقت مقرر نہیں کریں گے۔“ ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (تُحْشَرُوْنَ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلاً قَالَتْ عَاءِشَۃُ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ إِلٰی بَعْضٍ ؟ فَقَالَ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ یُھِمَّھُمْ ذَاکِ) [ بخاری،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 48
قولہ تعالیٰ : وعرضوا علی ربک صفا، صفا حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ مقاتل نے کہا ہے : وہ پیش کئے جائیں گے درآنحالیکہ وہ یکے بعد دیگرے صفیں باندھے ہوں گے جیسا کہ نماز میں صفیں باندھی جاتی ہیں، ہر امت اور ہر گروہ صف بنائے ہوئے ہوگا نہ کہ وہ سارے ایک صف میں ہوں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ تمام کے تمام (صف باندھے ہوئے) ہوں گے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ثم ائتوا صفا (طہٰ : 64) ای جمیعا (پھر آؤ پرے باندھے ہوئے) اور یہ بھی کہا گیا ہے : اور وہ پیش کئے جائیں گے آپ کے رب کی بارگاہ میں اس حال میں کہ وہ کھڑے ہوں گے۔ اور حافظ ابو القاسم عبد الرحمن بن مندہ نے کتاب التوحید میں حضرت معاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
1:۔ ابن ابی حاتم نے اور خطیب نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا ہے کہ مال کو اس لئے مال کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں اور دنیا اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ قریب ہے (آخرت کے مقابلہ میں)
مال واولاددنیا کی زینت ہے :
2:۔ ابن ابی حاتم نے عیاض بن عتبہ (رح) سے روایت کیا کہ اس کا بیٹا مرگیا جس کو یحییٰ کہا جاتا تھا جب وہ اسے قبر میں اتارا گیا تو اس کو ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم اگر وہ لشکر کا سردار ہوتا تو میں اسے روک لیتا تو (اس کے والد نے) کہا مجھے اس کے روکنے سے کیا چیز مانع ہے ؟ کل یہ دنیا کی زینت میں سے تھا اور آج باقی رہنے والی نیکیوں میں سے ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے علی بن ابی…
Read the full tafseer →[وَعُرِضُوْا : اور وہ لوگ پیش کئے جائیں گے ] [عَلٰي رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب پر (یعنی اس کے حضور)] [صَفًّا : صف بناتے ہوئے ] [لَقَدْ جِئْتموْنَا : بیشک تم لوگ آ چکے ہو ہمارے پاس ] [كَمَا : جیسے کہ ] [خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے پیدا کیا تم کو ] [اَوَّلَ مَرَّةٍۢ: پہلی مرتبہ ] [بَلْ : بلکہ ] [زَعَمْتم : تم لوگوں نے سمجھ لیا ] [اَلَنْ نَّجْعَلَ : کہ ہم ہرگز نہیں بنائیں گے ] [لَكُمْ : تم لوگوں کے لئے ] [مَّوْعِدًا : کوئی وعدہ کا وقت ]
صف
[صفا : (ن) ] قطار بنانا۔ صف بنانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 48
صف اسم ذات بھی ہے۔ قطار۔ صف۔ وجاء ربک والملک صفا صفا (اور آئے گا آپ ﷺ کا رب اور تمام فرشتے (آئیں گے) قطار در قطار)…
Read the full tafseer →(وَعُرِضُوْا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّا) جمع ہونے کے بعد پیشی ہوگی صفیں بنائے ہوئے رب ذوالجلال کے حضور کھڑے ہوں گے، ارشاد ہوگا (لَقَدْ جِءْتُمُوْنَا کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (تم ہمارے پاس اسی حالت میں آگئے جیسا ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا) سارا مال دھن و دولت وہیں دنیا میں چھوڑ آئے یہاں اس حال میں آئے ہو کہ نہ پاؤں میں جوتا ہے نہ تن پر کپڑا ہے۔ (کما فی سورة الانعام) (وَّ تَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَآءَ ظُھُوْرِکُمْ ) (اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا اسے تم اپنے پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے۔ )
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ تم اس حال میں جمع کیے جاؤ گے کہ ننگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
دنیا کے فناء وزوال کی ایک مثال
قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثل الحیوۃ الدنیا کماء انزلنہ .... الیٰ .... ولا یظلم ربک احدا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دو شخصوں کی مثال بیان کی تھی جس سے دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری کو بتلانا مقصود تھا اب پھر دنیا کی بےثباتی کے لئے ایک دوسری مثال بیان فرماتے ہیں تاکہ دنیا کی اندرونی حقیقت ظاہر ہوجائے اور لوگ اس کی ظاہری زیب وزینت کو دیکھ کر فریفتہ نہ ہوں اور اس کی ظاہری آرائش سے دھوکہ نہ کھائیں اور سمجھ جائیں کہ یہ دنیا ہیچ ہے۔ قابل فخر نہیں قابل فخر اور قابل شکر باقیات صالحات یعنی اعمال صالحہ ہیں جن کے مقابلہ میں ساری دنیا کی آرائش اور زیبائش ہیچ ہے۔ دنیا تو خسیس ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
52:۔ یہ اصلاح منکرین کا تیسرا طریقہ ہے۔ یعنی دنیا کی خاطر دین کو چھوڑتے ہیں وہی دنیا ان کے لیے وبال جان ثابت ہوگی اور آخرت میں اس کی وجہ سے دردناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ” نسیر الجبال الخ “ پہاڑوں کو چلانے سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن پہاڑوں کو ان کی جگہوں سے اٹھا لیا جائے گا اور وہ بادلوں کی طرح فضائے آسمانی میں اڑا دئیے جائیں گے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وھی تمر مر السحاب “۔” بارزۃ “ ظاہر اور نظر آنے والی زمین کا جو حصہ پہاڑوں سے چھپا ہوا تھا وہ اب عریاں ہو کر صاف نظر آنے لگے گا۔ ” لا یغادر الخ “ مجرمین جب اپنا نامہ اعمال دیکیں گے تو سخت متحیر ہوں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک دنیادار مشرک اور ایک ایماندار غریب آدمی کی مثال بیان فرمائی ، ان کی آپس میں گفتگو کا تذکرہ ہوا مشرک بڑا مغرور تھا اور ایماندار آدمی کو قلت مال اور قلت اولاد کا طعنہ دیتا تھا ، ایماندار آدمی نے اس مشرک سے کہا کہ تو اس پروردگار کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے پہلے مٹی سے بنایا اور پھر قطرہ آب سے تخلیق کی ، تجھے انسان بنایا اچھی شکل و صورت عطا فرمائی تو جو چاہئے عقیدہ اختیار کر مگر میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تمہارا فرض یہ تھا کہ باغ میں داخل ہوتے وقت تمہاری زبان پر یہ کلمات ہوتے ” ماشآء…
Read the full tafseer →وَعُرِضُوْا عَلٰي رَبِّكَ صَفًّا 0ۭ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَـمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍؚ 0ۡبَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا 48
عرض
أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ،
( ع ر ض ) العرض
اعرض الشئی اس کی ایک جانب ظاہر ہوگئی عرضت العود علی الاناء برتن پر لکڑی کو چوڑی جانب سے رکھا ۔ عرضت الشئی علی فلان اولفلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
1 ؎ یعنی جس طرح پیدائش کے وقت خالی ہاتھ ننگ ملنگ پیدا ہوتے ہیں اسی طرح اس عالم حشر میں بھی جو حمل دنیا کا تولد ہے خالی ہاتھ ہوں گے یہ مال و دولت جاہ و حشم جس پر آج غرور ہے کچھ بھی ساتھ نہ ہوگا۔ 12 منہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
وَیَوْمَ نُسَیِّرُالْجِبَالَ وَتَرَی الْاَرْضَ بَارِزَۃً لا وَّ حَشَرْنٰـہُمْ فَلَمْ نُغَادِرْمِنْھُمْ اَحَدًا۔ وَعُرِضُوْا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّا ط لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا کَمَا خَلَقْنٰـکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ز م بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَکُمْ مَّوْعِدًا۔ (الکہف : 47، 48)
(اس دن کا خیال کرو جس دن ہم پہاڑوں کو چلا دیں گے اور تو زمین کو دیکھے گا بالکل عریاں اور ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے تو ان میں سے کسی کو چھوڑیں گے نہیں۔ اور وہ سب تیرے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے صف بستہ، ہم ان سے کہیں گے کہ تم ہمارے پاس آئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہرگز…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : لوگوں کی حالت کا بیان جب دنیا ختم کرکے جزا سزا کا دن مقرر کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن اس لیے مقرر فرمایا ہے کہ اس دن برے لوگوں کو ان کے برے اعمال کی ٹھیک ٹھیک سزا دی جائے اور نیک لوگوں کو بہترین جزا سے سرفراز کیا جائے۔ اس دن کی ابتداء شدید ترین زلزلوں اور خوفناک دھماکوں سے ہوگی۔ زلزلوں اور دھماکوں سے بالآخر پہاڑ ریت کے ذرات بن کر مٹی کے ساتھ مل جائیں گے۔ زمین کے نشیب و فراز کو ہموار اور چٹیل مید ان میں تبدیل کردیا جائے گا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کفار نے رسول محترم ﷺ سے سوال کیا کہ لامتناہی اور فلک بوس پہاڑوں کا کیا ہوگا ؟ جس کا یہ جواب دیا گیا کہ اے پیغمبر !…
Read the full tafseer →پیشی ٔ بارگاہ الٰہی :
48: وَعُرِضُوْا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّا (اور تمام کو تیرے رب کے روبرو برابرکھڑا کر کے پیش کیا جایگا) اس حال میں کہ صف باندھنے والے روبروآنے والے ہونگے۔ ان کی جماعت بھی اسی طرح سامنے نظر آئے گی جیسے ایک سامنے آتا ہے۔ ایک دوسرے کے سامنے رکاوٹ نہ ہوگا۔ لوگوں کی پیشی کو ایسے لشکر سے تشبیہ دی جو بادشاہ کے سامنے پیش ہونے والا ہو۔
لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا (تحقیق تم ہمارے پاس آئے ہو) یعنی ہم ان کو کہیں گے واقعی تم ہمارے سامنے آگئے ہو یہ جئتمونا مضمر یوم نُسیِّرُ کے نصب میں عامل ہے۔ کَمَاخَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ (جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا) ہم نے تمہیں اسی طرح اٹھا دیا…
Read the full tafseer →(48)” وعرضوا علی ربک صفا “ وہ سامنے لائے جائیں گے فوج درفوج اور صف در صف نہ کہ ایک صف میں اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد قیام ہے۔ پھر کفار کو کہاجائے گا اللہ تعالیٰ کا فرمان ” لقد جئتمونا کما خلقنا کم اوّل مرۃ “ یعنی پہلی مرتبہ زندہ کرنے میں اس کو کوئی مشکل نہیں۔ بعض نے اس کا ترجمہ ( فرادی) سے کیا ہے اور بعض نے اس کا ترجمہ غرلاً سے کیا ہے۔” بل زعمتم ان لن نجعل لکم موعداً “ قیامت کے دن یہ وہ لوگ کہیں گے جو قیامت کے دن اٹھنے پر یقین نہیں رکھیں گے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کو تین طریقوں سے جمع کیا جائے گا۔ کچھ اللہ سے امید کی رغبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
47۔ 49:۔ ان آیتوں میں قیامت کا ذکر ہے کہ اس دن پہاڑ جاتے رہیں گے زمین صاف نکل آئے گی اور اکٹھا کریں گے ہم ان کو اس طرح کہ نہ چھوڑیں ان میں سے ایک کو بھی جس زمین کے ساتھ حشر کا ذکر ہے یہ وہ نئی زمین ہے جس پر حشر قائم ہوگا۔ یہ زمین دنیا کی زمین سے بالکل الگ اور نئی ہوگی کیونکہ شعب الایمان بیہقی تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں صحیح سند سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے 1 ؎ کہ اس زمین پر کسی گنہگار نے کوئی گناہ نہیں کیا اب یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا کی زمین پر روز گناہ کیے جاتے ہیں اس لیے یہ زمین بالکل نئی ہوگی مطلب یہ ہے کہ پہلے صور کے وقت دنیا کی زمین پر کے پہاڑ جو اڑا دیئے جائیں گے وہ پہاڑ یا کوئی ٹیلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
آیت 46
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی سے اصلاً اور ان لوگوں سے تبعاً فرماتا ہے جو آپ کے بعد آپ کے قائم مقام ہیں کہ لوگوں کے سامنے دنیاوی زندگی کی مثال بیان کردیجیے تاکہ وہ اس زندگی کا اچھی طرح تصور کرلیں اور اس کے ظاہر و باطن کی معرفت حاصل کرلیں۔ پس وہ دنیاوی زندگی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے درمیان تقابل کریں اور ان میں جو ترجیح دیئے جانے کی مستحق ہے اسے ترجیح دیں۔ اس دنیاوی زندگی کی مثال بارش کی سی ہے جو آسمان سے زمین پر برستی ہے جس سے زمین کی روئیدگی بہت گھنی ہوجاتی ہے اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگ آتی ہیں۔ پس اس وقت کہ جب اس کی خوبصورتی اور سجاوٹ دیکھنے والوں کو خوش کن لگتی ہے، لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–60
ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم
قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان
حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…
Read the full tafseer →84۔ سب کی اپنے رب کے حضور صف بستہ پیشی :۔
یہ پیشی بھی تنہا ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ ” اور آگے تم ہمارے پاس اس طرح جس طرح کہ ہم نے تم کو پیدا کیا تھا پہلی مرتبہ “۔ کہ تم بالکل تنہا، سراپا برہنہ اور عاجز و لاچار اس دنیا میں آئے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ کما بدا کم تعودون، اور کھوگئے تم سے تمہارے وہ تمام مصنوعی اور خود ساختہ سہارے جو تم نے طرح طرح کے ناموں سے گھڑ رکھے تھے اور گم ہوگئے تم سے وہ تمام جتھے اور گروہ اور پارٹیاں اور جماعتیں جن کا تم لوگوں کو بڑا زعم اور گھمنڈ تھا اور تمہاری امارت و حکومت اور ریاست و قیادت وغیرہ کے وہ تمام مزاعم پادر ہوا ہوگئے جن کا تم کو دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
میدان حشر کا منظر
تشریح : یہ آیات ایک بہت بڑے واقعہ کو لوگوں کے لیے بڑے ہی سادہ مگر خوفناک انداز میں بیان کر رہی ہیں، جیسا کہ آخرت پر ایمان مسلمان کے عقائد کی تکمیل کا نام ہے، تو اسی صورت حال کو اللہ تعالیٰ مذکورہ بالا آیات میں بیان کر رہے ہیں اور بار بار یاد دہانی کروا رہے ہیں کہ ایک دن زمین بنجر اور وسیع و عریض ہوگی اور وہاں لوگ ہر طرف سے بھاگتے ہوئے اللہ کے حضور جمع کردیے جائیں گے کہ ان کے دنیا میں کیے گئے اعمال کا بدلہ بڑے انصاف اور انتہائی سچائی کے ساتھ دیا جائے اور اس منظر کو قرآن پاک میں بیشمار دفعہ دلیلوں کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے۔ اور وہ تمام لوگ اس دن دیکھ لیں گے اللہ کے وعدے کو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ ﷺ انہیں بتا دیجئے کہ حیات دنیا کی مثال تو لوگوں کے سامنے ہے جیسے بادل برستے ہیں تو زمین کا سینہ سبزے سے بھر جاتا ہے اور ہر طرف ہریالی کا راج نظر آتا ہے مگر تابہ کے آخر ایک روز وہ سوکھ کر اور ٹوٹ پھوٹ کر چورہ بن جاتا ہے اور ہوا اسے اڑائے اڑائے پھرتی ہے کہیں اس کے قدم لگتے ہیں نہ اس کی کوئی حیثیت رہ جاتی ہے ، اسی طرح افراد اور اقوام کی مثال سامنے ہے کہ مختلف اقوام برسراقتدار آتی ہیں تو یوں نظر آتا ہے کہ انہیں زوال کا کوئی اندیشہ نہیں مگر پھر فنا ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں ، افراد کو دیکھو کیسے کیسے تنومند اور کڑیل جوان پیوند خاک ہوجاتے ہیں ۔
صرف اور صرف اللہ جل…
Read the full tafseer →ف 6 یہ خطاب ان لوگوں سے ہوگا جو دنیا میں آخرت سے انکار کرتے رہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم ننگے بدن ننگے پائوں بےختنہ اور طرح سے بےبسی کے عالم میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کئے جائو گے۔ (رازی)
Read the full tafseer →(18:48) عرضوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ عرض مصدر۔ (باب ضرب) وہ پیش کئے گئے۔ وہ روبرو کئے گئے۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل ہے۔ وہ پیش کئے جائیں گے۔ عرض علی وہ سامنے پیش کئے جائیں گے۔ صفا۔ صفوں میں۔ صفیں باندھے ہوئے۔
لقد جئتمونا۔ سے قبل نقول لہم یا یقال لہم۔ محذوف ہے۔ ای عرضوا علی ربک صفا ویقال لہم۔ وہ تمہارے پروردگار کے سامنے صف در صف پیش کئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا لقد جئتمونا۔ تم ہمارے پاس (اسی حالت میں) آئے ہو
کما۔ جیسے۔ جیسا۔ بل۔ بلکہ۔ نیز ملاحظہ ہو (2:135) بل زعمتم بلکہ تم تو خیال کر رہے تھے۔ الن۔ ان لن۔
موعدا۔ اسم ظرف زمان۔ وقت ۔ وعدہ۔ وعدہ کا وقت۔ بل زعمتم الن نجعل لکم موعدا۔ بلکہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 49
اختلط مل گیا۔ نبات الارض زمین کا سبزہ۔ اصبح ہوگیا۔ ہشیم چورہ چورہ۔ تذروا وہ اڑاتی ہے۔ الریاح (ریح) ہوائیں۔ مقتدر قدرت رکھنے والا۔ البنون (ابن) بیٹے۔ البقیت باقی رہنے والی۔ امل توقع، امید۔ نسیر ہم چلائیں گے۔ بار زۃ کھلی ہوئی۔ لم نغادر ہم نے نہیں چھوڑا۔ عرضوا پیش کیا گیا۔ صف قطار، صف۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ زعمتم تم نے گھمنڈ کیا، گمان کیا۔ وضع رکھ دیا گیا۔ مشفقین ڈرنے والے۔ احصی شمار کرلیا گیا۔ لایظلم وہ ظلم نہیں کرتا۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 49
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں چھوٹی چھوٹی مثالوں سے بڑی بڑی حقیقتوں کی طرف متوجہ کیا ہے۔ دنیا کی بےثباتی اور کمزوریوں کو ایک…
Read the full tafseer →اس آیت میں فرمایا کہ قیامت کے دن سب لوگ صف باندھے ہوئے اللہ کے رو برو کھڑے ہوں گے پھر مخلوق سے خطاب ہوگا کہ تم جیسے پہلی بار پیدا کئے گئے تھے اور جو پہلی بار تمہاری حالت تھی یعنی ننگے، اکیلے کچھا مال تمہارے پاس نہ تھا اسی حالت سے اب تم ہمارے پاس آئے ہو، اور کافروں سے ارشاد ہوگا کہ ” تم کو یہ خیال تھا کہ یہ قیامت ہونے والی نہیں اور تمہیں اس حساب وکتاب کی توقع نہ تھی “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
[17] مطلب یہ ہے کہ جیسے بےسروسامان دنیا میں بھیجے گئے تھے ویسے ہی بےسروسامان ہمارے حضور میں آموجود ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
(ف 1) قرآن حکیم کا یہ مخصوص طرز بیان ہے کہ واقعہ کی تصویر کھینچ دیتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہم واقعہ کی تمام جزئیات کو اپنی آنکھوں دیکھ رہے ہیں قیامت اور حشر ونشر کے متعلق جتنی باتیں ذکر فرمائی ہیں ، وہ سب اس اسلوب بیان کی آئینہ دار ہیں ۔ اور یہ طرز بیان اس درجہ موثر کہ قیامت کے احوال کو پڑھ کر دل کانپ جاتا ہے اور یہ محسوس ہوتا ہے جیسے آپ پر واقعی قیامت گزری ہے اور اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور ان تمام کیفیات کو دیکھ رہے ہیں ۔
ارشاد ہوتا ہے کہ تم ہمارے پاس پہلی حالت میں لائے جاؤ گے ، بالکل فطرت میں تمام تکلفات دنیا میں دھرے رہ جائیں گے ، تمہارا خیال یہ تھا کہ ہم کبھی تم کو اپنے ہاں نہ…
Read the full tafseer →-48 اور سب لوگ اپنے پروردگار کے سامنے صف بستہ اور قطار در قطار پیش کئے جائیں گے ارشاد ہوگا۔ جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اسی طرح تم ہمارے پاس آگئے بلکہ تم تو یوں سمجھتے تھے کہ ہم تمہارے لئے وعدے کا کوئی وقت ہی مقرر نہیں کریں گے۔ یعنی منکرین حشر کو کہا جائے گا کہ تم تو منکر تھے لیکن تم نے دیکھ لیا کہ جس طرح اول بار ہم نے تم کو پیدا کیا تھا اسی طرح آج بھی زندہ ہو کر ہمارے روبرو آہی گئے تم تو یہ کہا کرتے تھے کہ ہم دوبارہ پیدا کرنے کے لئے کوئی وقت موعود لائیں گے ہی نہیں یعنی قیامت آئے گی ہی نہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ ان کی تنبیہ کو فرمائے گا اور جیسا بنایا تھا پہلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
ف 1۔ یعنی اعمال صالحہ پر جو جو امیدیں وابستہ ہوتی ہیں وہ آخرت میں پوری ہوں گی اور اس سے بھی زیادہ ثواب ملے گا۔ بخلاف متاع دنیا کے کہ اس سے کود دنیا ہی میں امیدیں پوری ہوتیں اور آخرت میں تو احتمال ہی نہیں ہے۔ اس لئے دنیا سے دلچسپی یا اس پر فخر نہ کرنا چاہئے، بلکہ آخرت کا اہتمام کرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →تمہاری صفیں بنا کر رب کریم کے حضور کھڑا کردیا جائے گا :
51۔ یہ وہی دن ہے جس دن سب کی پیشی رب العزت والاکرام کے سامنے اس طرح ہوگی کہ وہ صف بستہ کھڑے ہوں گے اور کوئی نہیں جو ایک صف کے اندر کھڑا ہونے سے سر پھیرے اور کوئی نہیں جو گھمنڈ میں آ کر اکڑے اور اترائے اور محمود وایاز ایک صف میں ایک ہی حالت اور صورت میں نظر آئیں گے اور ہم سب کو اس طرح اکیلے اکیلے لاکھڑا کریں گے جس طرح ہم نے دنیا میں ہر ایک کو اکیلے اکیلے پیدا کیا تھا اور کوئی چیز ان کے ہاتھ یا منہ میں نہ تھی بالکل اسی طرح اس روز بھی وہ خالی ہاتھ ہوں گے ، مطلب تو بالکل صاف تھا کہ جس طرح دنیا میں آتے وقت کوئی اعوان وانصار میں سے ساتھ نہیں…
Read the full tafseer →Visualize the Day of Resurrection
The address to everyone on that fateful Day of Qiyamah shall be: جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ (Lo! You have come to Us [ empty-handed, without any of those things you proudly possessed ] just as We had created you at first - 48). A1-Bukhari, Muslim and Tirmidhi report on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that the Holy Prophet ﷺ once gave a Khutbah in which he said, "0 people! On the Day of Qiyamah, you will come walking bare-footed, bare-bodied, before your Lord and the one to be donned with a dress first shall be Ibrahim, peace be…
Read the full tafseer →45. This thing will be addressed to those who denied the Hereafter, as if to say: Well, now you see that the information given by the Prophets has come out to be true. They told you that Allah would bring you to life again as He first brought you out from the wombs of your mothers but you disbelieved in it. Now say whether you have been brought to life for the second time or not.
Read the full tafseer →