Explained with ayahs 47–49
سب کے سب میدان حشر میں
اللہ تعالیٰ قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر فرما رہا ہے اور جب تعجب خیز بڑے بڑے کام اس دن ہوں گے ان کا ذکر کر رہا ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا گو تمہیں جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس دن تو بادلوں کی طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے۔ آخر روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے زمین صاف چٹیل میدان ہوجائے گی جس میں کوئی اونچ نیچ تک باقی نہ رہے گی نہ اس میں کوئی مکان ہوگا نہ چھپر۔ ساری مخلوق بغیر کسی آڑ کے اللہ کے بالکل سامنے ہوگی۔ کوئی بھی مالک سے کسی جگہ چھپ نہ سکے گا کوئی جائے پناہ یا سر چھپانے کی جگہ نہ ہوگی۔ کوئی درخت پتھر گھاس پھوس دکھائی نہ دے گا تمام اول و آخر کے لوگ جمع ہوں گے کوئی چھوٹا…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 42
یعنی جبکہ زمین کی گرفت ڈھیلی پڑجائے گی اور پہاڑ اس طرح چلنے شروع ہونگے جیسے بادل چلتے ہیں۔ اس کیفیت کو ایک دوسرے مقام پر قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُھَا جَامِدَۃً وَّھِیَ تَمُرُّ مَرَّالسَّحَابِ (النحل۔ آیت 88)۔ " تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو اور سمجھتے ہو کہ یہ سخت جمے ہوئے ہیں۔ مگر وہ چلیں گے اس طرح جیسے بادل چلتے ہیں "۔
سورة الْكَهْف 43
یعنی اس پر کوئی روئیدگی اور کوئی عمارت باقی نہ رہے گی، بالکل ایک چٹیل میدان بن جائے گی۔ یہ وہی بات ہے جو اس سورے کے آغاز میں ارشاد ہوئی تھی کہ " جو کچھ اس زمین پر ہے اسے ہم نے لوگوں کی آزمائش کے لیے ایک عارضی آرائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
معارف و مسائل
وَالْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ مسند احمد، ابن حبان اور حاکم نے بروایت حضرت ابوسعید خدری ؓ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ باقیات صالحات کو زیادہ سے زیادہ جمع کیا کرو، عرض کیا گیا کہ وہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا سبحان اللہ لا الہ الا اللہ الحمد للہ اللہ اکبر ولاحول ولا قوۃ الا باللہ کہنا حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے، اور عقیلی نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سبحان اللہ والحمد للہ ولآالہ الا اللہ واللہ اکبر یہی باقیات صالحات ہیں، یہی مضمون طبرانی نے بروایت حضرت سعد بن عبادہ بھی روایت کیا ہے، اور صحیح مسلم و ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الأرْضَ بَارِزَةً وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا
وَتَرَى الأرْضَ بَارِزَةً۔ یعنی آج تو یہ زمین لدی پھندی نظر آتی ہے۔ اس میں پہاڑ گڑے ہوئے ہیں۔ عالیشان ایون و محل کھڑے ہیں۔ یہ باغوں اور چمنوں سے آراستہ ہے لیکن ایک دن آئے گا کہ دوسری چیزوں کا تو کیا ذکر اس کے پہاڑ بھی اکھاڑ دیے جائیں گے اور یہ ایک صفا چٹ میدان بن جاے گی۔ اس کی ہر رونق اس سے چھین لی جائے گی۔ فرمایا کہ اس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے، کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے، نہ امیر کو، نہ غریب کو، نہ آقا کو، نہ غلام کو، نہ عابد کو نہ معبود کو۔
Read the full tafseer →47۔ 1 یہ قیامت کی ہولناکیاں اور بڑے بڑے واقعات کا بیان ہے۔ پہاڑوں کو چلائیں گے کا مطلب، پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے اور دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑ جائیں گے اور پہاڑ ایسے ہونگے جیسے دھنکی ہوئی رنگین اون، زمین سے جب پہاڑ جیسی مضبوط چیزیں ختم ہوجائیں گی، تو مکانات، درخت اور اسی طرح کی دیگر چیزیں کس طرح وجود برقرار رکھ سکیں گی ؟ اسی لئے آگے فرمایا ' ' و زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھے گا '
47۔ 2 یعنی اولین و آخرین، چھوٹے بڑے، کافر و مومن سب کو جمع کریں گے، کوئی زمین کی تہ میں پڑا نہ رہ جائے گا اور نہ قبر سے نکل کر کسی جگہ چھپ سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
27: قرآن کریم کی آیات کو سامنے رکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ قیامت کے کے موقع پر پہاڑوں کو پہلے اپنی جگہ سے ہٹا کر چلایا جائے گا پھر ان کو کوٹ پیس کر غبار کی طرح ہوا میں اڑا دیا جائے گا۔ چلانے کا ذکر اس جگہ کے علاوہ سورة نمل آیت 88 اور سورة تکویر آیت 3 میں بھی آیا ہے۔ اور انہیں کوٹ پیس کر غبار میں تبدیل کردینے کا ذکر سورة طٰہٰ آیت 105 سورة واقعہ آیت 5 6 اور سورة مرسلات آیت 10 میں موجود ہے
28: اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جو چیزیں زمین کے اندر پوشیدہ ہیں۔ وہ سامنے آجائیں گی جیسا کہ سورة انشقاق آیت 4 میں بیان فرمایا گیا ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ پہاڑوں، درختوں اور عمارتوں کے فنا ہوجانے کے بعد زمین حد نظر…
Read the full tafseer →درس نمبر 231 ایک نظر میں
درس سابقہ کا خاتمہ باقیات صالحات پر ہوا تھا۔ اس سبق کا آغاز ہی یوم قیامت کے بیان سے ہوتا ہے جس میں باقیات صالحات کا وزن ہوگا ار ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ قیامت کا بیان بھی حسب معمول مناظر قیامت میں سے ایک منظر کی صورت میں ہے۔ اس کے بعد پھر ابلیس کے اس طرز عمل کو پیش کیا جاتا ہے۔ جو اس نے اس وقت اختیار کیا جب اللہ نے اسے حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کرے ، اس نے امر ربی کی تعمیل سے انکار کیا۔ انسانوں پر تعجب ہے کہ وہ پھر شیطان کو اپنا دوست بناتے ہیں ، حالانکہ ان کو معلوم ہے کہ تمام شیاطین انسانوں کے دشمن ہیں اور اس دوستی کے نتیجے میں وہ قیامت کے روز عذاب جہنم تک پہنچنے والے…
Read the full tafseer →3 یعنی جب قیامت آئے گی پہاڑ جیسی سخت مخلوق بھی اپنی جگہ سے چلائی جائے گی۔ بلکہ اس کی بھاری بھاری چٹانیں دھنی ہوئی اون کی طرح فضا میں اڑتی پھریں گی۔ غرض زمین کے سارے ابھار مٹا کر سطح ہموار اور کھلی ہوئی رہ جائے گی۔
4 یعنی کوئی شخص خدائی عدالت سے غیر حاضر نہ ہو سکے گا۔
Read the full tafseer →آیت 47 وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً
اب قیامت کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے کہ اس دن پہاڑ اپنی جگہ چھوڑدیں گے زمین کے تمام نشیب و فراز ختم ہوجائیں گے اور پورا کرۂ ارض ایک صاف چٹیل میدان کی شکل اختیار کرلے گا۔
وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا
حضرت آدم سے لے کر آخری انسان تک پیدا ہونے والے نوع انسانی کے تمام افراد کو اس دن اکٹھا کرلیا جائے گا۔
Read the full tafseer →43 یعنی پہاڑوں جیسی سخت چیزوں پر اللہ کا قانون زوال جاری وساری ہوگا وہ بھی اپنی جگہ سے اکھڑ کر فضا میں یوں اڑتے پھریں گے جیسے بادل اڑتے پھرتے ہیں (27: 88) زمین کے سب نشیب و فراز ہموار ہوجائیں گے زمین بالکل چٹیل میدان کی طرح بن جائے گی یہی یوم حشر ہوگا جس میں تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا اور کوئی متنفس اس حشر سے بچ نہ سکے گا۔
Read the full tafseer →68۔ یعنی پہاڑ، دریا، ٹیلے، عمارتیں، درخت سب ناپید ہوچکے ہوں گے۔
69۔ یعنی سارے کے سارے انسان بلااستثناء قبروں سے اٹھا اٹھا کر میدان حشر میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
آیات نمبر 47 تا 49
ترجمہ : اور یاد کرو اس دن کو کہ وہ (اللہ) چلا دے گا پہاڑوں کو یعنی اللہ تعالیٰ پہاڑوں کو روئے زمین سے اکھاڑ دیں گے اور پہاڑ پراگندہ غبار ہوجائیں گے اور ایک قرأت میں نُسَیِّرُ نون اوری کے کسرہ اور جبال کے نصب کے ساتھ ہے اور اے مخاطب تو زمین کو دیکھے گا کہ ایک کھلا میدان ہے کہ اس پر پہاڑ وغیرہ کچھ نہ رہیں گے اور ہم تمام انسانوں کو خواہ مومن ہوں یا کافر سب کو جمع کریں گے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے اور سب کے سب تیرے رب کے رو برو صف بستہ حاضر کئے جائیں گے صفًّا حال ہے (اور معنی میں) مصطفین کے ہے ہر امت کی ایک صف ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو آخر کار تم ہمارے…
Read the full tafseer →ویو نسیر الجبال وتری الارض بارزۃ وحشرنہم فلم نغادرمنہم احدا۔ وعرضوا علی ربک صفا اور یاد کرو اس دن کو جب ہم پہاڑوں کو ہٹا دیں گے اور آپ زمین کو دیکھیں گے کہ کھلا میدان پڑا ہے اور ہم ان
سب کے سب کو (قبروں سے اٹھا کر) جمع کریں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے اور وہ آپ کے رب کے روبرو برابر برابر کھڑے کر کے پیش کئے جائیں گے۔ یعنی ہم پہاڑوں کو اکھاڑ کر خاک بنا دیں گے جو فضا میں اڑی اڑی پھرے گی۔
وَتَرَی الْاَرْضَ بَارِزَۃً اور زمین چٹیل میدان کھلی ہوئی صاف نظر آئے گی نہ اس پر کوئی عمارت ہوگی نہ پہاڑی نہ درخت ابن ابی حاتم نے قتادہ کی طرف اس تفسیرہ کی نسبت کی ہے لیکن عطا نے بارزۃ کی تشریح میں…
Read the full tafseer →(47) اور جس دن ہم پہاڑوں کو زمین پر سے ہٹا دیں گے اور آپ زمین کو دیکھیں گے کہ پہاڑوں کے نیچے سے کھلا میدان ہے اور ہم سب کو قبروں سے اٹھا کر میدان حشر میں جمع کردیں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے ،
Read the full tafseer →وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ۔۔ : ”يَوْمَ“ ”أُذْکُرْ“ محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ دنیا کی بےثباتی اور آخرت کے اجر کی پائیداری کی مناسبت سے اب قیامت کے دن کا ذکر فرمایا، یعنی اس دن کو یاد کیجیے جب پہاڑوں کو چلایا جائے گا اور وہ مختلف حالتوں سے گزرتے ہوئے آخر سراب کی طرح رہ جائیں گے، زمین کے سمندر، پہاڑ اور اونچی نیچی تمام جگہیں ہموار ہوجائیں گی اور پوری زمین پر نگاہ کے لیے کوئی رکاوٹ یا اوٹ باقی نہیں رہے گی۔ پہاڑوں پر گزرنے والی کیفیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نبا (20) ، حاقہ (13 تا 15) ، طور (9، 10) ، تکویر (3) ، نمل (88) ، معارج (8، 9) ، قارعہ (4، 5) ، مزمل (14) اور واقعہ (5، 6) زمین کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 47
قولہ تعالیٰ : ویوم نسیر الجبال وتری الارض بارزۃ بعض نحویوں نے کہا ہے : تقدیر کلام ہے والباقیات الصالحات خیر عند ربک یوم نسیر الجبال۔ نحاس نے کہا ہے : یہ واؤ کی وجہ سے غلط ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے : اور اس دن کو یاد کرو جب ہم پہاڑوں کو ہٹا دیں گے، یعنی ہم انہیں سطح زمین سے اپنی جگہوں سے زائل کردیں گے، اور ہم انہیں چلائیں گے جیسا کہ ہم بادلوں کو چلاتے ہیں، جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : وھی تمر مر السحاب (النمل :88) (حالانکہ وہ چل رہے ہوں گے بادل کی سی چال) پھر وہ ٹوٹ جائیں گے اور زمین کی طرف لوٹ آئیں گے، جیسا کہ فرمایا : وبست الجبال بسا۔ فکانت ھبآء منبثا۔ (الواقعہ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
1:۔ ابن ابی حاتم نے اور خطیب نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا ہے کہ مال کو اس لئے مال کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں اور دنیا اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ قریب ہے (آخرت کے مقابلہ میں)
مال واولاددنیا کی زینت ہے :
2:۔ ابن ابی حاتم نے عیاض بن عتبہ (رح) سے روایت کیا کہ اس کا بیٹا مرگیا جس کو یحییٰ کہا جاتا تھا جب وہ اسے قبر میں اتارا گیا تو اس کو ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم اگر وہ لشکر کا سردار ہوتا تو میں اسے روک لیتا تو (اس کے والد نے) کہا مجھے اس کے روکنے سے کیا چیز مانع ہے ؟ کل یہ دنیا کی زینت میں سے تھا اور آج باقی رہنے والی نیکیوں میں سے ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے علی بن ابی…
Read the full tafseer →[وَيَوْمَ : اور جس دن ] [نُسَيِّرُ : ہم چلائیں گے ] [الْجبالَ : پہاڑوں کو ] [وَتَرَى: اور آپ ﷺ دیکھیں گے ] [الْاَرْضَ : زمین کو ] [بَارِزَةً : صاف کھلی ہونے والی حالت میں ] [وَّحَشَرْنٰهُمْ : اور ہم اکٹھا کریں گے ان کو ] [فَلَمْ نُغَادِرْ : پھر ہم نہیں چھوڑیں گے ] [مِنْهُمْ : ان میں سے ] [اَحَدًا : کسی ایک کو ]
غ د ر
[غدرا : (ن) ] بدعہدی کرنا۔ بےوفائی کرنا۔
(مفاعلہ) غدار کسی چیز کو چھوڑ دینا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 47
Read the full tafseer →اس کے بعد قیام قیامت کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا (وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ ) (اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلا دیں گے اور ان کی جگہوں سے ہٹا دیں گے اس دن کو یاد کرو) (وَ تَرَی الْاَرْضَ بَارِزَۃً ) (اور اے مخاطب تو زمین کو اس حال میں دیکھے گا کہ کھلا ہوا میدان بنی ہوئی ہے) اس میں نہ کوئی پہاڑ اپنی جگہ پر ہے نہ کوئی گھر ہے نہ دیوار ہے، نہ در ہے نہ بلندی، (فَیَذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرٰی فِیْھَاعِوَجًا وَّ لَآ اَمْتًا) (سو میرا رب ان پہاڑوں کو بالکل اڑا دے گا پھر زمین کو ایک ہموار میدان بنا دے گا جس میں نہ تو ناہمواری رہے گی اور نہ کوئی بلندی) یہ تو پہاڑوں کا اور زمین کا حال ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
دنیا کے فناء وزوال کی ایک مثال
قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثل الحیوۃ الدنیا کماء انزلنہ .... الیٰ .... ولا یظلم ربک احدا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دو شخصوں کی مثال بیان کی تھی جس سے دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری کو بتلانا مقصود تھا اب پھر دنیا کی بےثباتی کے لئے ایک دوسری مثال بیان فرماتے ہیں تاکہ دنیا کی اندرونی حقیقت ظاہر ہوجائے اور لوگ اس کی ظاہری زیب وزینت کو دیکھ کر فریفتہ نہ ہوں اور اس کی ظاہری آرائش سے دھوکہ نہ کھائیں اور سمجھ جائیں کہ یہ دنیا ہیچ ہے۔ قابل فخر نہیں قابل فخر اور قابل شکر باقیات صالحات یعنی اعمال صالحہ ہیں جن کے مقابلہ میں ساری دنیا کی آرائش اور زیبائش ہیچ ہے۔ دنیا تو خسیس ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
52:۔ یہ اصلاح منکرین کا تیسرا طریقہ ہے۔ یعنی دنیا کی خاطر دین کو چھوڑتے ہیں وہی دنیا ان کے لیے وبال جان ثابت ہوگی اور آخرت میں اس کی وجہ سے دردناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ” نسیر الجبال الخ “ پہاڑوں کو چلانے سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن پہاڑوں کو ان کی جگہوں سے اٹھا لیا جائے گا اور وہ بادلوں کی طرح فضائے آسمانی میں اڑا دئیے جائیں گے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وھی تمر مر السحاب “۔” بارزۃ “ ظاہر اور نظر آنے والی زمین کا جو حصہ پہاڑوں سے چھپا ہوا تھا وہ اب عریاں ہو کر صاف نظر آنے لگے گا۔ ” لا یغادر الخ “ مجرمین جب اپنا نامہ اعمال دیکیں گے تو سخت متحیر ہوں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک دنیادار مشرک اور ایک ایماندار غریب آدمی کی مثال بیان فرمائی ، ان کی آپس میں گفتگو کا تذکرہ ہوا مشرک بڑا مغرور تھا اور ایماندار آدمی کو قلت مال اور قلت اولاد کا طعنہ دیتا تھا ، ایماندار آدمی نے اس مشرک سے کہا کہ تو اس پروردگار کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے پہلے مٹی سے بنایا اور پھر قطرہ آب سے تخلیق کی ، تجھے انسان بنایا اچھی شکل و صورت عطا فرمائی تو جو چاہئے عقیدہ اختیار کر مگر میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تمہارا فرض یہ تھا کہ باغ میں داخل ہوتے وقت تمہاری زبان پر یہ کلمات ہوتے ” ماشآء…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَۃً 0ۙ وَّحَشَرْنٰہُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْہُمْ اَحَدًا 47ۚ
سير
السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير
( س ی ر ) السیر
( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو سیارۃ کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ( اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب ) ایک قافلہ دار ہوا ۔
جبل
الجَبَل جمعه :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
ترکیب : مثل الحیات مفعول ہے اضرب کا کماء موصوف انزلناہ الخ جملہ صفت مجموعہ خبر ہے مبتدا محذوف کی اے ھی بل للخروج من کلام الیٰ آخر۔
تفسیر : یہ دوسری تمثیل ہے دنیا کی بےثبانی کے لیے صرف بارش سے دنیا کی زندگی کو تشبیہ نہیں دی بلکہ اس کی تمام کیفیت سے کہ جس طرح بارش سے زمین کے نباتات ہرے بھرے لہلہاتے ہوئے نکلتے ہیں جن کو دیکھ کر انسان خوش ہوتے ہیں ان کی تھوڑی سی عمر طبعی ہے چند روز کے بعد خشک ہوجاتے ہیں پھر ان کا چورا چورا ہو کر ہوا میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انسان و دیگر حیوانات کا حال ہے کہ لڑکے ہیں پھر جوان رعنا ہیں ٹھوکریں مارتے چلتے ہیں ‘ پھر بڈھے ہوئے مرگئے ‘ چند روز کے بعد وہ سرِ پر غرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
وَیَوْمَ نُسَیِّرُالْجِبَالَ وَتَرَی الْاَرْضَ بَارِزَۃً لا وَّ حَشَرْنٰـہُمْ فَلَمْ نُغَادِرْمِنْھُمْ اَحَدًا۔ وَعُرِضُوْا عَلٰی رَبِّکَ صَفًّا ط لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا کَمَا خَلَقْنٰـکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ز م بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَکُمْ مَّوْعِدًا۔ (الکہف : 47، 48)
(اس دن کا خیال کرو جس دن ہم پہاڑوں کو چلا دیں گے اور تو زمین کو دیکھے گا بالکل عریاں اور ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے تو ان میں سے کسی کو چھوڑیں گے نہیں۔ اور وہ سب تیرے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے صف بستہ، ہم ان سے کہیں گے کہ تم ہمارے پاس آئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہرگز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
فہم القرآن
ربط کلام : باغ کی تباہی کے بیان کے بعد دنیا کی زندگی کے انجام کا ذکر۔ جس طرح لہلہاتا ہو اباغ اجڑ گیا اسی طرح ہی ایک دن آئے گا کہ جب پوری دنیا اجڑ جائے گی۔
جس طرح کسی فصل اور باغ کے لیے پہلے زمین ہموار اور ساز گار بنائی جاتی ہے۔ پھر اس زمین میں بیج یا پودے لگائے جاتے ہیں یہی اس دنیا کی زندگی کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل کرتا ہے جس سے زمین میں ہر قسم کی نباتات اگتی ہیں ان میں گھاس اور ایسی جڑی بوٹیاں ہوتی ہیں جن سے صحر ا، بیابان ہرے بھرے اور شاندار منظر پیش کرتے ہیں ہر طرف ہریالی اور شادابی نظر آتی ہے۔ جونہی ان کا موسم اور مدت پوری ہوجاتیتو گھاس اور جڑی بوٹیاں تنکوں کے…
Read the full tafseer →قیامت کا منظر :
47: وَیَوْمَ (اور اس دن کو یاد کرو) نُسَیِّرُ الْجِبَالَ (جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے)
قراءت : مکی، شامی اور ابو عمرونے تُسَیَّرالجبال پڑھا ہے۔ اس کا معنی وہ فضاء میں تیریں گے اور چلائے جائیں گے۔ نمبر 2۔ ان کو ختم کر کے بکھرے ہوئے باریک ذرات بنادیا جائے گا۔ وَتَرَی الْاَرْضَ بَارِزَۃً (اور تم زمین کو کھلا ہوا دیکھو گے) اس پر کوئی ایسی چیز نہ ہوگی جو اس کو ڈھانپے جیسے کہ پہاڑ، درخت وغیرہ۔
وَّ حَشَرْ نٰھُمْ (اور ہم ان سب کو اٹھا کھڑا کریں گے) یعنی مردوں کو فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْھُمْ اَحَدًا (پس ہم ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے) ہم نہ چھوڑیں گے۔ غادر کا معنی ترک ہے اور اسی سے…
Read the full tafseer →(47)” ویوم تسیر الجبال “ ابن کثیر اور ابو عمرو اور ابن عامر کا قول ہے کہ یہ ( تسیر) ہے تاء کے ساتھ اور یاء فتحہ کیس اتھ اور الجبال مرفوع ہے اس پر دلیل پر آیت مبارکہ ہے ” واذا الجبال سیرت “ اور دوسرے قراء نے نون اور یاء کے کسرہ ( الجبال) یہاں پر منصوب ہے۔ سیرالجبال کا مطلب یہ ہے کہ پہاڑوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا۔ ” وتری الارض بارزۃ “ اس زمین کو صاف چٹیل دیکھو گے۔ اس میں نہ تو کوئی درخت ہوگا اور نہ ہی کوئی پہاڑ اور نہ ہی کوئی گھاس وغیرہ اگے گی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” فیذرھا قاعاً صفصفا لا تری فیھا عوجاً “ عطاء کا قول ہے کہ ” بارزۃ “ کا مطلب ہے زمین کا اندرونی حصہ اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
47۔ 49:۔ ان آیتوں میں قیامت کا ذکر ہے کہ اس دن پہاڑ جاتے رہیں گے زمین صاف نکل آئے گی اور اکٹھا کریں گے ہم ان کو اس طرح کہ نہ چھوڑیں ان میں سے ایک کو بھی جس زمین کے ساتھ حشر کا ذکر ہے یہ وہ نئی زمین ہے جس پر حشر قائم ہوگا۔ یہ زمین دنیا کی زمین سے بالکل الگ اور نئی ہوگی کیونکہ شعب الایمان بیہقی تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں صحیح سند سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے 1 ؎ کہ اس زمین پر کسی گنہگار نے کوئی گناہ نہیں کیا اب یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا کی زمین پر روز گناہ کیے جاتے ہیں اس لیے یہ زمین بالکل نئی ہوگی مطلب یہ ہے کہ پہلے صور کے وقت دنیا کی زمین پر کے پہاڑ جو اڑا دیئے جائیں گے وہ پہاڑ یا کوئی ٹیلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
آیت 46
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی سے اصلاً اور ان لوگوں سے تبعاً فرماتا ہے جو آپ کے بعد آپ کے قائم مقام ہیں کہ لوگوں کے سامنے دنیاوی زندگی کی مثال بیان کردیجیے تاکہ وہ اس زندگی کا اچھی طرح تصور کرلیں اور اس کے ظاہر و باطن کی معرفت حاصل کرلیں۔ پس وہ دنیاوی زندگی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے درمیان تقابل کریں اور ان میں جو ترجیح دیئے جانے کی مستحق ہے اسے ترجیح دیں۔ اس دنیاوی زندگی کی مثال بارش کی سی ہے جو آسمان سے زمین پر برستی ہے جس سے زمین کی روئیدگی بہت گھنی ہوجاتی ہے اور ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگ آتی ہیں۔ پس اس وقت کہ جب اس کی خوبصورتی اور سجاوٹ دیکھنے والوں کو خوش کن لگتی ہے، لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–60
ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم
قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان
حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…
Read the full tafseer →83۔ قیامت کے روز اس زمین کا حال :۔
سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ قیامت کے روز یہ زمین ایک صفا چٹ میدان ہوگی چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ” اس روز زمین کو بالکل کھلا اور برہنہ ایک چٹیل میدان کی شکل میں دیکھو گے “۔ پس قیامت کے روز زمین کی یہ حالت قدرت خداوندی کا ایک اور عظیم الشان نمونہ ومظہر ہے کیونکہ اس روز اس پر پائے جانے والے وہ تمام پردے جو آج حائل ہیں ہٹا دیئے جائیں گے۔ اور وہ تمام اوٹ وغیرہ یکسر ختم کردیئے جائیں گے جو آج اس پر عظیم الشان پہاڑوں، وسیع و عریض گھنے جنگلوں، درختوں اور بڑی بڑی عمارتوں وغیرہ کی صورت میں موجودہ قائم ہیں جو کہ قادر مطلق کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
میدان حشر کا منظر
تشریح : یہ آیات ایک بہت بڑے واقعہ کو لوگوں کے لیے بڑے ہی سادہ مگر خوفناک انداز میں بیان کر رہی ہیں، جیسا کہ آخرت پر ایمان مسلمان کے عقائد کی تکمیل کا نام ہے، تو اسی صورت حال کو اللہ تعالیٰ مذکورہ بالا آیات میں بیان کر رہے ہیں اور بار بار یاد دہانی کروا رہے ہیں کہ ایک دن زمین بنجر اور وسیع و عریض ہوگی اور وہاں لوگ ہر طرف سے بھاگتے ہوئے اللہ کے حضور جمع کردیے جائیں گے کہ ان کے دنیا میں کیے گئے اعمال کا بدلہ بڑے انصاف اور انتہائی سچائی کے ساتھ دیا جائے اور اس منظر کو قرآن پاک میں بیشمار دفعہ دلیلوں کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے۔ اور وہ تمام لوگ اس دن دیکھ لیں گے اللہ کے وعدے کو جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ ﷺ انہیں بتا دیجئے کہ حیات دنیا کی مثال تو لوگوں کے سامنے ہے جیسے بادل برستے ہیں تو زمین کا سینہ سبزے سے بھر جاتا ہے اور ہر طرف ہریالی کا راج نظر آتا ہے مگر تابہ کے آخر ایک روز وہ سوکھ کر اور ٹوٹ پھوٹ کر چورہ بن جاتا ہے اور ہوا اسے اڑائے اڑائے پھرتی ہے کہیں اس کے قدم لگتے ہیں نہ اس کی کوئی حیثیت رہ جاتی ہے ، اسی طرح افراد اور اقوام کی مثال سامنے ہے کہ مختلف اقوام برسراقتدار آتی ہیں تو یوں نظر آتا ہے کہ انہیں زوال کا کوئی اندیشہ نہیں مگر پھر فنا ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں ، افراد کو دیکھو کیسے کیسے تنومند اور کڑیل جوان پیوند خاک ہوجاتے ہیں ۔
صرف اور صرف اللہ جل…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی وہ اپنی جگہ سے ہل کر بادلوں کی طرح چلنے لگیں گے۔ (دیکھیے سورة النحمل :88)4 نہ اس میں کوئی اونچ نیچ ہوگی نہ کوئی پہاڑ نہ کوئی عمارت اور نہ کسی قسم کی روئیدگی۔ جیسے فرمایا : وانا لجا علون ما علیھا صعیداً جرزا (آیت 8)5 جیسے دسوری آیت میں فرمایا : قل ان الاولین والاخرین لجمعون الی میقات یوم معلوم کہہ دیجیے کہ تمام اگلوں اور پچھلوں کو ایک مقررہ دن میں اکٹھا کیا جائے گا۔ (واقعہ 5-1)
Read the full tafseer →(18:47) یوم۔ منصوب ہے بوجہ اپنے فعل کے جو اس سے قبل محذوف ہے۔ ای اذکر یوم اور یاد کرو وہ دن۔۔
نسیر۔ مضارع جمع متکلم۔ تسییر (تفعیل) مصدر۔ ہم چلائیں گے۔ تسییر۔ کسی کو مجبور کر کے چلانا کہ چلنے والے کو چلنے کی قدرت ہی نہ ہو وہ صاحب ارادہ ہو جیسے پہاڑوں کو چلانا۔ یا کسی ایسے کو چلنے کا حکم دینا کہ چلنے والا حکم کو مان کر خود چلے اور چلنے کی اس کو قدرت بھی ہو جیسے آدمی کو چلانا۔ اول تسییر تسخیری ہے دوسری اختیاری ۔ آیت میں تسخیری تسییر مراد ہے۔
بارزۃ۔ برز یبرز۔ (نصر) بروز سے اسم فاعل واحد مؤنث۔ کھلی ہوئی۔ یعنی کھلا میدان۔ حشرنہم۔ حشرنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ ماضی بمعنی مستقبل ہم اکٹھا کریں گے۔ ہم ضمیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 49
اختلط مل گیا۔ نبات الارض زمین کا سبزہ۔ اصبح ہوگیا۔ ہشیم چورہ چورہ۔ تذروا وہ اڑاتی ہے۔ الریاح (ریح) ہوائیں۔ مقتدر قدرت رکھنے والا۔ البنون (ابن) بیٹے۔ البقیت باقی رہنے والی۔ امل توقع، امید۔ نسیر ہم چلائیں گے۔ بار زۃ کھلی ہوئی۔ لم نغادر ہم نے نہیں چھوڑا۔ عرضوا پیش کیا گیا۔ صف قطار، صف۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ زعمتم تم نے گھمنڈ کیا، گمان کیا۔ وضع رکھ دیا گیا۔ مشفقین ڈرنے والے۔ احصی شمار کرلیا گیا۔ لایظلم وہ ظلم نہیں کرتا۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 49
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں چھوٹی چھوٹی مثالوں سے بڑی بڑی حقیقتوں کی طرف متوجہ کیا ہے۔ دنیا کی بےثباتی اور کمزوریوں کو ایک…
Read the full tafseer →ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ اعمال کا نتیجہ یہاں تو معلوم نہیں ہوتا مگر قیامت کے دن معلوم ہوگا اور قیامت کا دن وہ ہوگا جس دن ہم پہاڑوں کا ہم اڑائیں گے یعنی جڑ سے کھاڑ کر ہوا میں اڑا دیں گے۔ جیسے دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کے مشابہ ہوجاویں گے اور زمین اس دن کھلی ہوئی ہوگی اور پہاڑ بھی اس میں سے اڑ جائیں گے مردے بھی اس میں سے نکل آئیں گے اور ہم سب کو قیامت میں اکٹھا کریں گے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے۔
Read the full tafseer →[16] یعنی پہاڑ، دریا، ٹیلے، عمارتیں، درخت وغیرہ سب ناپید ہوچکے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
باقیات الصالحات :
(ف 1) یہ آیت سابقہ تمثیل کا تتمہ ہے ، غرض یہ ہے کہ ان لوگوں کو جو دنیا کی آب وتاب سے مرعوب ہیں اور آخرت سے غافل ان کو بتایا جائے ، کہ بہ عروس حشمت و دولت چند ہی دنوں میں اپنا سہاگ کھو بیٹھے گی ، دنیا کی مثال کس قدر عمدہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے ، کہ جیسے برسات میں ہری ہری گھاس بھلی معلوم ہوتی ہے ، اور اس کی تازگی وشادابی آنکھوں میں ایک سرور پیدا کردیتی ہے ، اسی طرح دنیا بظاہر بہت خوبصورت معلوم ہوتی ہے ، اور تمہارے لئے سرمایہ نشاط بہم پہنچاتی ہے ، مگر خزاں میں جس طرح گھاس سوکھ جاتی ہے ، پاؤں تلے دوری جاتی ہے ، اسی طرح دنیا پر دور خزاں آتا ہے اور اس وقت اس کی خوبصورتی اس…
Read the full tafseer →-47 اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم پہاڑوں کو چلا دیں گے اور وہ اپنی جگہ قائم نہ رہیں گے اور آپ زمین کو دیکھیں گے کہ وہ ایک صاف کھلا ہوا میدان ہے اور ہم سب لوگوں کو میدان حشر میں جمع کرلیں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔ یعنی ابتداء میں پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے اور آخر کو ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ فقل ینسفھا ربی نسفاء اور زمین بالکل صاف ہوجائے گی۔ لاتری فیھا عوجاً ولا امتا ۔ صاف میدان ہوجائے کے بعد سب کو قربوں سے اٹھا کر جمع کیا جائے گا اور کسی ایک شخص کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
ف 1۔ یعنی اعمال صالحہ پر جو جو امیدیں وابستہ ہوتی ہیں وہ آخرت میں پوری ہوں گی اور اس سے بھی زیادہ ثواب ملے گا۔ بخلاف متاع دنیا کے کہ اس سے کود دنیا ہی میں امیدیں پوری ہوتیں اور آخرت میں تو احتمال ہی نہیں ہے۔ اس لئے دنیا سے دلچسپی یا اس پر فخر نہ کرنا چاہئے، بلکہ آخرت کا اہتمام کرنا چاہئے۔
Read the full tafseer →تفسیر :
جس دن پہاڑ چلائیں جائیں گے اور زمین کی اونچان نچان ختم کردی جائیگی :
50۔ قرآن کریم نے قیامت میں حشر اجساد کا بیان کئی رنگ میں کیا ہے تاکہ انسانوں کو یقین آنے کی کوئی صورت پیدا ہوجائے چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ” وہ دن جب کہ یہ زمین بدل کر ایک دوسری ہی زمین بچھا دی جائے گی اور آسمان بھی بدل جائیں گے اور سب لوگ خدائے یگانہ و غالب کے حضور حاضر ہوں گے ۔ “ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس حادثہ کو قرآن کریم قیامت سے تعبیر کرتا ہے وہ اجرام سماویہ کا کوئی ایسا حادثہ ہوگا جو کرہ ارض کو بالکل بدل دے گا نہ تو زمین یہ زمین رہے گی جیسی کہ اب ہے اور نہ ہی آسمان ایسا آسمان ہوگا جاسد کہ اب نظر آ رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
Commentary
The meaning of 'everlasting virtues' ('al-baqyat al-salilhat'- 34)
The Musnad of Ahmad, Ibn Hibban and Hakim have reported on the authority of Sayyidna Abu Said al-Khudri ؓ that the Holy Prophet ﷺ said, "Accumulate 'everlasting virtues' as much as you can." It was said, "What are they?" He said, "Saying: سُبحَانَ اللہِ لَآ اللہُ ، الحَمدُ للہِ اللہُ اَکبَر وَلَاحولَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ (Pure is Allah. There is no god but Allah. All praise belongs to Allah. Allah is great and there is no power and no strength except with Allah). Hakim has called this Hadith - Sahih. And…
Read the full tafseer →42. The mountains will begin to move about like clouds when the gravitation of the earth shall be brought to an end. The Quran has described the same thing in(Surah An- Namal, Ayat 88)in this way: When you see the mountains, you consider them to be firmly fixed, but they shall be floating about like clouds at that time.
43.“You will see the earth as a leveled plain”: You will find no vegetation and no building on it and it will become a barren plain. It is the same thing that has been stated in (Ayat 8) of this chapter.
44. That is, We will muster together every human being from the first…
Read the full tafseer →