Explained with ayahs 42–44
کف افسوس
اس کا کل مال کل پھل غارت ہوگیا وہ مومن اسے جس بات سے ڈرا رہا تھا وہی ہو کر رہی اب تو وہ اپنے مال کی بربادی پر کف افسوس ملنے لگا اور آرزو کرنے لگا کہ اے کاش کہ میں اللہ کے ساتھ مشرک نہ بنتا۔ جن پر فخر کرتا تھا ان میں سے کوئی اس وقت کام نہ آیا، فرزند قبیلہ سب رہ گیا۔ فکر و غرور سب مٹ گیا نہ اور کوئی کھڑا ہوا نہ خود میں ہی کوئی ہمت ہوئی۔ بعض لوگ ھنالک پر وقف کرتے ہیں اور اسے پہلے جملے کے ساتھ ملا لیتے ہیں یعنی وہاں وہ انتقام نہ لے سکا۔ اور بعض منتصرا پر آیت کر کے آگے سے نئے جملے کی ابتدا کرتے ہیں ولایتہ کی دوسری قرأت ولایتہ بھی ہے۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہوا کہ ہر مومن و کافر اللہ ہی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
سورة الْكَهْف 40
" یعنی جو کچھ اللہ چاہے وہی ہوگا۔ میرا اور کسی کا زور نہیں ہے۔ ہمارا اگر کچھ بس چل سکتا ہے تو اللہ ہی کی توفیق و تائید سے چل سکتا ہے۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
حُسْـبَانًا اس لفظ کی تفسیر حضرت قتادہ ؓ نے مطلق عذاب سے کی ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ نے آگ سے اور بعض نے پتھراؤ سے، اس کے بعد جو قرآن میں آیا ہے اس میں ظاہر یہ ہے کی اس کے باغ اور تمام مال وزر اور سامان عیش پر کوئی بڑی آفت آ پڑی، جس نے سب کو برباد کردیا، قرآن نے صراحۃ، جیسا کہ لفظ حسبان کی تفسیر حضرت ابن عباس ؓ سے بھی آگے منقول ہے، واللہ اعلم
Read the full tafseer →هُنَالِكَ الْوَلايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَخَيْرٌ عُقْبًا
بدوں پر عذاب نیکوں کی داد رسی ہے : ھنالک، کا اشارہ ساعت عذاب کے ظہور کی طرف ہے۔ یعنی جب وہ وقت آجائے گا تو پھر تمام اختیار خدائے برحق ہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ کسی دوسرے کی کچھ پیش نہیں کی جائے گی، اور وہ اپنے صالح بندوں کو بہترین ثواب اور بہتر انجام سے نوازے گا۔ اوپر بدکاروں کے انجام کا ذکر ہوچکا تھا اس وجہ سے یہاں صرف خوب کاروں کے انجام کا ذکر ہوا۔ نیز یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہیے کہ عذاب دنیا ہو یا عذاب آخرت اس سے اصل مقصود نیکوں کی داد رسی ہے۔ بدوں کو سزا دینا اس کا اصل مقصد نہیں بلکہ لازمی نتیجہ ہے۔
Read the full tafseer →44۔ 1 ولایۃ۔ کے معنی موالات اور نصرت کے ہیں یعنی اس مقام پر ہر مومن و کافر کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کسی کی مدد کرنے پر اور اس کے عذاب سے بچانے پر قادر نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ پھر اس موقع پر بڑے بڑے سرکش اور جبار بھی اظہار ایمان پر مجبور ہوجاتے ہیں، گو اس وقت کا ایمان نافع اور مقبول نہیں۔ جس طرح قرآن نے فرعون کی بابت نقل کیا ہے کہ جب وہ غرق ہونے لگا تو کہنے لگا۔ امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسرائیل وانا من المسلمین۔ سورة یونس۔ میں اس اللہ پر ایمان لایا جس پر بنو اسرائیل ایمان رکھتے ہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ دوسرے کفار کی بابت فرمایا گیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
24: آیت نمبر 28 میں کافر سرداروں کے اس تکبر کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ غریب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک ایسا واقعہ بیان فرما رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال و دولت کی زیادتی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر کوئی شخص اترائے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ مضبوط نہ ہو تو بڑے بڑے مال دار لوگ انجام کار ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صحیح ہو تو غریب لوگ ان سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ جن دو آدمیوں کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے ان کی کوئی تفصیل کسی مستند مرفوع روایت میں موجود نہیں ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے کچھ روایتوں کی بنیاد پر یہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
یہ منظر درحقیقت ایک مختصر جھلکی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو بتایا جائے کہ یہ دنیا فانی ہے۔ آسمانی سے پانی برستا ہے ، یہ پانی نہ بہتا ہے اور نہ سیلاب کی شکل اختیار کرتا ہے بلکہ یہ براہ راست نباتات کے ساتھ مختلط ہوجاتی ہے اور یہ نباتات ابھی پوری طرح نشو و نما نہیں پاتے اور پکتے ہی نہیں کہ یہ ایک بھوسے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور وہ دیکھو ہوا اس بھوسے کو اڑائے پھرتی ہے۔ غرض تین مختصر ترین جملوں میں زندگی کی کہانی کہہ دی جاتی ہے۔
یہاں تین فقروں کے اندر مختصر ترین جملوں میں زندگی کی کہانی کہہ دی جاتی ہے۔
یہاں تین فقروں کے اندر مختصر ترین انداز میں پوری زندگی کی کہانی کہہ دی اور پھر یہ کہا…
Read the full tafseer →9 یعنی جس عمل کا جو بدلہ کسی کو دے وہ ہی ٹھیک ہے۔ یہاں اور وہاں ہر جگہ اختیار اسی کا چلتا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے فیصلہ میں دخل دے سکے۔
Read the full tafseer →آیت 44 هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ
ولایت کے معنی یہاں حکومت اور اقتدار کے ہیں۔ ”والی“ کسی ملک یا علاقے کے مالک یا حکمران کو کہتے ہیں اور اسی سے یہ لفظ ولایت واؤ کی زبر کے ساتھ بنا ہے۔ اس لحاظ سے آیت کے الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ کل کا کل اقتدار و اختیار اللہ کے لیے ہے جو ”الحق“ ہے۔ اسی مادہ سے لفظ ”ولی“ بھی ہے جس کے معنی دوست اور پشت پناہ کے ہیں۔ اسی مادے سے ولایت واؤ کی زیر کے ساتھ بنا ہے اور یہ دوستی اور محبت کے معنی دیتا ہے۔ درج ذیل آیات میں اسی ولایت کا ذکر ہے : اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ البقرۃ : 257 اور اَلَآ اِنَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
40 تکبر کی سزا :۔ چناچہ موحد کے منہ سے نکلے ہوئے کلمات اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آئے کہ اس کے منہ سے نکلی ہوئی بات فوراً مستجاب ہوگئی اور مشرک کو اس کے تکبر اور غرور کی سزا مل کے رہی۔ جن درختوں کے پھلوں اور اپنی پیداوار کو دیکھ کر وہ اتنا خوش ہو رہا تھا اور کفر کے کلمے بک رہا تھا۔ اس سارے کے سارے باغ پر قہر الٰہی نازل ہوا جس نے اسے زمین بوس کردیا اور صرف موجودہ تیار فصل کا ہی نقصان نہ ہوا بلکہ جو کچھ اس باغ پر خرچ کرچکا تھا سب کچھ ضائع اور برباد ہوگیا اس وقت وہ کف افسوس ملتے ہوئے کہنے لگا۔ کاش میں نے اپنے پروردگار کو حقیقی معنوں میں پروردگار اور نفع و نقصان کا مالک سمجھا ہوتا۔ اس کے کھڑے…
Read the full tafseer →64۔ یعنی اللہ ہی کی مدد دنیا وعقبی دونوں جگہ کام آتی ہے اور اس کے مقبولوں کا کوئی ظاہری نقصان ہوتا بھی ہے تو اس کا ثمرہ نیک مل کر رہتا ہے۔ (آیت) ” الولایۃ “۔ ولایۃ (بالفتح) کے معنی کارسازی وانصرام امور کے ہیں۔ اور ولایۃ (بالکسر) کے معنی مددونصرت کے۔ الولایۃ النصرۃ والولایہ تولہی الامر (راغب) اور ایک قول یہ بھی ہے کہ دونوں کارسازی کے معنی میں مرادف ہیں۔ قیل الولایۃ والولایۃ واحدۃ وحقیقۃ تولی الامر (راغب) ابن جریر نے لکھا ہے کہ بصرہ اور کوفہ و مدینہ کے بعض قاریوں کی زبان پر ولایۃ (باالفتح) ہے، جس کے معنی دوستی یا مدد کے ہیں۔ اور کوفہ کے عام قاریوں کی قرأۃ ولایۃ (بالکسر) ہے۔ جس کے معنی حکومت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
آیت نمبر 39 تا 44
ترجمہ : اور جب تو باغ میں داخل ہوا تھا تو تو نے اس باغ پر تعجب (پسندیدگی) کے وقت کیوں نہ کہا کہ یہ وہی ہے جو اللہ نے چاہا خدا کی مدد کے بغیر کوئی قوت نہیں اور حدیث شریف میں ہے کہ جس کو بہترین مال یا اولاد عطا کیا گیا ہو اور اس نے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کہہ لیا تو اس مال میں اس کو ناپسندیدہ حالت پیش نہیں آئے گی اور اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم ہوں کچھ بعید نہیں کہ میرا رب مجھ کو تیرے باغ سے اچھا باغ دے دے ( اَنا) دو مفعولوں کے درمیان ضمیر فصل ہے اور فعسیٰ جواب شرط ہے اور اس (تیرے باغ) پر کوئی آسمانی آفت بھیج دے حُسْبَان حُسْبَانَۃ کی جمع ہے…
Read the full tafseer →ہنالک وہاں اور اس وقت یعنی جب اس کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔
الولایۃ للہ الحق مدد کرنا اللہ برحق ہی کا کام ہوگا (مفسر (رح) مدد کرنا اللہ برحق کا ہی کام ہے (مولانا تھانوی (رح)
حمزہ اور کسائی کی قرأت اَلْولاَیَۃ بکسر واو اور بمعنی غلبہ آیا ہے اور جمہور کی قرأت الولایۃ بفتح واو ہے جس کا معنی ہے دوستی ‘ مدد۔ اللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا میں بھی یہی مضمون ولایت (یعنی مدد اور نصرت) ظاہر فرمایا ہے۔ بعض علماء نے کہا ولایت کا معنی ہے ربوبیت اور ولایت کا معنی ہے حکومت۔
یہ بھی جائز ہے کہ اللہ نے کافر کا یہ قول اسی وقت کا نقل کیا ہو جب اس نے اپنے باغوں کو تباہ دیکھ کر اظہار پشیمانی کیا تھا اور…
Read the full tafseer →(44) قیامت کے دن تمام بادشاہت اور سلطنت اللہ برحق ہی کے لیے ہوگی اور اس کا ثواب سب سے اچھا ہے۔
Read the full tafseer →هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ : ”ۭهُنَالِكَ“ کا معنی اس وقت بھی ہے اور اس جگہ بھی، اس لیے دونوں کو ملحوظ رکھ کر ترجمہ اس موقع پر کیا گیا ہے۔ ”الْوَلَايَةُ“ واؤ کے فتح کے ساتھ معنی ہے ”مدد“ اور واؤ کے کسرہ کے ساتھ معنی ہے ”حکومت، اختیار“ یعنی اس موقع پر صرف اللہ سچے ہی کی مدد کار آمد ہوسکتی ہے، جیسا کہ پچھلی آیت کی تفسیر میں گزرا۔
هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ عُقْبًا : اہل علم متفق ہیں کہ ”خَیْرٌ“ اور ”شَرٌّ“ دونوں اسم تفضیل ہیں، یعنی اصل میں ”اَخْیَرُ“ اور ”اَشَرُّ“ تھے، تخفیف کے لیے انھیں ”خَیْرٌ“ اور ”شَرٌّ“ کردیا گیا۔ یعنی بدلہ دینے میں اللہ سب سے بہت رہے، اس جیسا یا اس سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 44
قولہ تعالیٰ : ھنالک الولایۃ للہ الحق اس میں قول باری تعالیٰ ھنالک ظرف ہے اور اس کے عامل میں اختلاف ہے، پس کہا گیا ہے : اس میں عامل : ولم تکن لہ فئۃ ہے اور کان ھنا لک نہیں ہے ؛ ای ما نصر ولا أنتصر ھنالک یعنی جب اسے عذاب پہنچے گا تو نہ اس کی مدد کی جائے گی اور نہ وہ وہاں بدلہ لینے کے قابل ہوگا۔ اور یہ بھی کیا گیا ہے : قول باری تعالیٰ : منتصرا۔ پر کلام ہوگئی ہے اور ھنالک میں الولایۃ ہے، اور اس کی تقدیر تقدیم و تاخیر پر ہے : الولایۃ للہ الحق ھنالک، یعنی قیامت میں سارا اختیار اللہ سچے کیلئے ہے۔ ابو عمر و اور کسائی نے الحق رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس لئے کہ یہ الولایۃ کی صفت ہے۔ اہل مدینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الحسبان “ سے مراد ہے عذاب۔
2:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” حسبانا من السمآء “ کے بارے میں بتائیے فرمایا اس سے مراد ہے آگ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حسان بن ثابت ؓ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
بقیۃ معشر صبت علیہم شابیب من الحسبان شھب :
ترجمہ : باقی جماعت پر انڈیلا گیا آگ میں سخت گرمی کو جس نے ان کو جھلسادیا۔
3:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حسبانا من السمآء “ سے مراد ہے آگ۔
4:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے…
Read the full tafseer →[هُنَالِكَ : یہاں (پتہ لگ گیا کہ)] [الْوَلَايَةُ : کل کی کل کارسازی ] [للّٰهِ الْحَقِّ : برحق اللہ کے لئے ہے ] [هُوَ : وہ ] [خَيْرٌ: بہتر ہے ] [ثَوَابًا : بطور بدلے کے ] [وَّخَيْرٌ: اور بہتر ہے ] [عُقْبًا : بطور انجام کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
عبرت کے لیے دو شخصوں کی مثال، ان میں ایک باغ والا اور دوسرا غریب تھا
ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں ایک باغ والے کافر و مشرک اور دوسرے مومن موحد کی گفتگو نقل فرمائی ہے۔
علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 161 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیات اہل مکہ میں سے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئیں دونوں بنی مخزوم میں سے تھے۔ ایک تو حضرت ابو سلمہ ؓ تھے جو رسول اللہ ﷺ سے پہلے حضرت ام سلمہ ؓ کے شوہر تھے اور دوسرا شخص جو کافر تھا وہ اسود بن عبد الاسد تھا یہ ایک قول ہے۔ دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں سے دو شخصوں کا ہے جو آپس میں دونوں بھائی تھے ایک مومن تھا اور ایک کافر تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی مثال
قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا رجلین .... الیٰ ۔۔۔۔ ھو خری ثوابا وخیر عقبا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی اس درخواست کو رد فرمایا جو اپنے مال و دولت کے نشہ میں چور تھے اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس کرتے تھے اور اپنے مال و دولت پر فخر محسوس کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں تو آپ ان دو ویشان اسلام اور فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کریں اب ان آیات میں ان متکبرین کے سنانے کیلئے اور دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری بتلانے کے لئے بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی ایک مثال ذکر فرماتے ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
50:۔ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو جس خاندانی جمعیت پر اسے ناز تھا اور جن معبودوں کو وہ اللہ کے سوا کارساز اور متصرف سمجھتا تھا ان میں سے اس آڑے وقت میں کوئی بھی اس کے کام نہ آیا اور نہ اپنے ہی قوت بازو سے اللہ کے عذاب سے اپنے باغوں کو بچا سکا۔ ” ھنالک الولایۃ للہ الحق “ اس واقعہ سے معلوم ہوگیا کہ تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہیں۔ اور اس نے کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کر رکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
ربط آیات :
اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کے سلسلے میں ایک دولت مند مشرک اور ایک ایماندار مومن کی مثال بیان فرمائی ہے امیر آدمی نے اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت کہا کہ یہ تو کبھی فنا نہیں ہوگا ۔ قیامت کا کوئی تصور نہیں ہے اور اگر یہ برپا بھی ہوگئی تو میں اس دنیا کی طرح وہاں بھی خوشحال ہی رہوں گا ، وہ شخص اپنے باغ اور مال و دولت کو اپنا ذاتی کمال سمجھتا تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کا احسان نہیں مانتا تھا ، پھر اس نے اپنے غریب مگر مومن بھائی کو طعن کیا کہ میں تم سے مال اور تعداد میں بہتر ہوں وہ غریب مومن اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرچکا تھا مگر امیر آدمی اپنے مال و…
Read the full tafseer →ہُنَالِكَ الْوَلَايَۃُ لِلہِ الْحَقِّ 0ۭ ہُوَخَيْرٌ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ عُقْبًا 44ۧ
ولي
والوَلَايَةُ : تَوَلِّي الأمرِ ، وقیل : الوِلَايَةُ والوَلَايَةُ نحو : الدِّلَالة والدَّلَالة، وحقیقته : تَوَلِّي الأمرِ. والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257]
( و ل ی ) الولاء والتوالی
الوالایتہ ( بکسر الواؤ ) کے معنی نصرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
تفسیر …دو شخصوں کا قصہ بطور مثال کے : پھر دنیا کی بےثباتی اور اس کے اسباب و تجمل پر غرور کر کے خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور الحاد کا بدنتیجہ جو کبھی دنیا ہی پر ظاہر ہوتا ہے دو شخصوں کی تمثیل سے بیان فرمایا۔ بعض کہتے ہیں یہ صرف ایک تمثیل ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ دراصل ایسے دو شخص تھے بھی کہ جن کا یہ واقعہ ہے پھر بعض کہتے ہیں کہ یہ دو شخص بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے کہ ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کیا تھا دوسرا دنیادار اور مشرک اور دارآخرت کا منکر تھا۔ اس نے دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے تھے کہ ان میں نہر بھی جاری تھی اور بیچ میں انگور اور آس پاس کھجور کے درخت بھی تھے اور وقت…
Read the full tafseer →ھُنَالِکَ الْوَلاَ یَۃُ لِلّٰہِ الْحَقِّ ط ھُوَ خَیْرٌ ثَـوَابًا وَّخَیْرٌ عُقْبًا۔ (الکہف : 44)
(تب اسے معلوم ہوا کہ سارا اختیار خدائے برحق ہی کا ہے اور وہ بہترین اجر اور بہترین انجام والا ہے۔ )
وَلاَ یَۃُ … وائو پر زبر کے ساتھ دوستی اور مدد کرنے کا معنی دیتا ہے۔ اور وائو کے نیچے زیر کے ساتھ اس کا معنی ہے غلبہ۔ عَقَبْ اور عَاقِبَۃً عموماً دونوں ہم معنی استعمال ہوتے ہیں۔ اس کا معنی ہے انجام۔
بعداز خرابیِ بسیار حقیقت کا ادراک
جب اس مغرور شخص پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور دولت کے جس ذریعے پر وہ مغرور تھا جب اس کے سامنے تباہ و برباد ہوگیا اور وہ اس کے بچائو کے لیے کچھ نہ کرسکا تب اس کے ذہن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
فہم القرآن
ربط کلام : باغ کا تباہ ہونا اور آخرت کے منکر کا حسرت وافسوس سے ہاتھ ملنا۔
آخرت کے منکر کا غرور توڑنے اور اسے اپنی قدرت دکھلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت باغ کو خاکستر بنا دیاجب باغ پھل سے لدا ہوا تھا۔ اس کا مالک تصور نہیں کرسکتا تھا کہ اب یہ باغ اپنے پھل سمیت تباہ ہوجائے گا۔ باغ کے درخت کثرت پھل کی وجہ سے زمین پر جھکے ہوئے تھے جونہی اس کے پھل پکنے کے قریب آئے تو اللہ تعالیٰ کا ایسا غضب نازل ہوا کہ دیکھنے والا یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس قدر شاندار لہلہاتا ہوا باغ کس طرح تباہ ہوگیا ہے۔ باغ کا مالک جب وہاں پہنچا تو جلے ہوئے پودے دیکھ کر لرزتے ہوئے ہونٹوں اور کانپتے ہوئے…
Read the full tafseer →اصل مدد کا اختیار اللہ کو :
44: ھُنَالِکَ الْوَلَایَہُ لِلّٰہِ الْحَقِّ (وہاں مدد کرنا اللہ برحق ہی کا کام ہوگا)
قراءت : حمزہ اور علی نے پچھلی آیت میں تکن کو یکن اور الولایۃ کو کسرئہ وائو سے پڑھا ہے۔ الولایۃ ؔ نصرت، دوستی اور کسرہ کے ساتھ غلبہ اور بادشاہی کے معنی میں ہے۔ ھنالک کا مطلب اس مقام میں وہ حال خالص اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کا ہوگا۔ اس کے سوا کسی کو اختیار نہ ہوگا۔ اور نہ کسی کو طاقت ہوگی۔ یہ لم تکن لہٗٗ فئۃ ینصرونہ من دون اللّٰہ کی تقریر ہے۔
نمبر 2۔ وہاں سلطنت اور بادشاہت اللہ تعالیٰ ہی کی ہے جو مغلوب نہیں ہوسکتا۔ نمبر 3۔ اس سخت حالت میں اللہ تعالیٰ ہی ذمہ دار ہونگے اور ہر مجبور اس…
Read the full tafseer →(44)” ھنالک الولایۃ اللہ الحق “ یعنی قیامت کے دن حمزہ اور کسائی نے ” الولایۃ “ دائو کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد سلطان ہے اور دوسرے قراء نے وائو کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس سے مراد موالدۃ اور مددگار ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” اللہ ولی الدین آمنو “ قتیی کا قول ہے کہ اس دن یہی آیت پڑھیں گے اور معبودان باطلہ کی برأت اختیار کریں گے۔
بعض نے کہا کہ ولایۃ وائو کے فتحہ کے ساتھ معنی ربوبیت کا ہے اور کسرہ کے ساتھ اس کا معنی امارۃ آتا ہے۔ (الحق) قاف کے رفع کے ساتھ۔ ابوعمروکسائی نے اس کو ولایۃ کی صفت کہا ہے۔ اس کی تصدیق حضرت ابی بن کعب کی روایت ہے ’ ھنالک الولایۃ للہ الحق “ اور دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
32۔ 44:۔ اوپر ان مالدار مشرکین مکہ کا ذکر تھا جو غریب مسکین مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے سے گھبراتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کہاوت بیان کی کہ دو مرد تھے ایک کے دو باغ تھے انگور اور کھجور کے جن کے درمیان میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ ہر طرح کے درخت اور پھل پھول اور میوے پیدا ہوتے تھے ولم تظلم منہ شیئا سے اسی مطلب کو ادا فرمایا ہے۔ پھر فرمایا ان باغوں میں نہریں جاری تھیں پھر فرمایا اس باغ والے نے اپنے دوسرے بھائی سے بطور فخر کے کہا کہ میں تجھ سے مال واولاد اور خدمت گاروں میں زیادہ عزت والا ہوں اور وہ اپنی باغ میں اپنے بھائی کا بھی ہاتھ پکڑ کر میں قیامت کے قائم ہونے کا خیال نہیں رکھتا اور اگر بالفرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–45
آیت 39
یعنی صاحب ایمانشخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پر مجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نواشز اور احسان پر رکھی جاسکتی ہے وہ اس دنیا ومافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (آیت) ” پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر “ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کردیا ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–60
ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم
قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان
حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…
Read the full tafseer →78۔ غلبہ واختیار سب اللہ ہی کے لئے :۔
سو ارشاد فرمایا گیا اس موقعہ پر کہ ” اختیار سب اللہ ہی کے ہاتھ میں تھا “ اور اللہ کا بتایا ہوا انجام ہی سب سے بہتر ہے اس سے ڈرنے والوں کیلئے اور صدق دل سے اس کی اطاعت و بندگی کرنے والوں کیلئے اور اس قدر بہتر اور عمدہ انعام وانجام کہ اس کی عمدگی اور بہتری کا ادراک و احاطہ بھی کسی بشر کے بس میں نہیں ہوسکتا۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے۔ تسلیم کرے یا نہ کرے۔ حق اور صدق بہرحال وہی اور صرف وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول بتائے۔ اور اس اور اس کے رسول کے ارشادات کیخلاف جو بھی کچھ ہوگا وہ سب باطل اور اس کا انجام نہایت ہی برا اور انتہائی ہولناک ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–46
سبق آموز کہانی اور نیکیوں کا بدلہ
تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی حاکمیت، قدرت کاملہ اور وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر انسان کو روزی رزق دیتا ہے تو انسان کا فرض ہے اس کی نعمتوں کو حاصل کر کے فخر و غرور نہ کرے اور اس قدر بدمست نہ ہوجائے کہ اللہ کے وجود اور قیامت کا انکار کردے اور نعمتوں کا شکر ہی ادا نہ کرے اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگے۔ یہ سب انسانیت کے خلاف اور برے رویے ہیں ہمارا مذہب اسلام ان تمام اخلاقی برائیوں سے منع کرتا ہے، یعنی کسی کو حقیر سمجھنا اور شکر الٰہی ادا نہ کرنا۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی نعمت یا خوبصورت چیز کو دیکھو یا کامیابی حاصل کرو تو اس کو دیکھ کر ماشَائَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
دنیا میں بھی یہی مثالیں موجود ہیں جو اقوام کے حالات میں بھی نظر آتی ہیں اور افراد کے حالات میں بھی آپ انہیں ان دو آدمیوں کی مثال دیجئے جو دونوں دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو ہم نے زیادہ مالدار کردیا ، اس کے انگوروں کے باغات تھے جن کے گردا گرد کے درخت اور درمیان میں زرعی زمین تھی یعنی کھجوریں پھل اور غلہ جیسی سب نعمتیں بیک وقت ان باغوں سے حاصل ہوتیں ، اور وہ پورا پورا پھل دیتے کبھی ان میں کمی نہ آتی تھی ، ان باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کردی تھی جس کے سبب وہ ہمیشہ سرسبز رہتے اور ہر موسم کا پھل بہتات سے حاصل ہوتی ، جبکہ دوسرا دوست ایسا مالدار نہ تھا ، ایک روز باتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ف 1 وہی ہے کہ جب چاہتا ہے کسی کو خوشحالی فارغ البالی اور مال و دولت عطا کرتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے اسے تنگ حالی فقر و فاقہ اور بدحالی میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ پس انسان کو چاہیے کہ مال و دولت پر غرور نہ کرے بلکہ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی طر سے نعمت سمجھ کر اس کی شکر گزاری ہے۔
Read the full tafseer →(18:44) ھنالک۔ ایسے موقعہ پر۔ ایسے وقت میں ای فی ذلک المقام اوفی تلک الحال (یعنی جب کوئی مصیبت آپڑے)
الولایۃ۔ نصرت، مدد ۔ ولی یلی۔ حسب یحسب (لفیف مفروق) ولایۃ ولایۃ مدد کرنا المفردات میں ہے۔ الولایۃ (بفتح الواد) بمعنی نصرت اور الولایۃ (بکسر الواد) بمعنی کسی کام کا متولی ہونا ہے۔ آیۃ ہذا میں بمعنی نصرت ومدد ہی ہے۔
للہ الحق۔ لام حرف جار اللہ۔ الحق۔ موصوف وصفت ہوکر مجرور۔ ھنالک الولایۃ للہ الحق۔ ایسے وقت میں مدد و کارسازی اللہ برحق ہی کا کام ہے۔ خیر۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ اصل میں اخیر تھا۔ ہمزہ کو کثرت استعمال کی وجہ سے تخفیفاً حذف کردیا گیا۔
ثوابا وعقبا۔ بطور ثواب دینے جزا دینے کے۔ عقبا بطور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
لغات القرآن آیت نمبر 37 تا 44
یح اور وہ بات کرتا ہے۔ تراب مٹی۔ سوی برابر کیا، مکمل کیا۔ ان ترن اگر تو مجھے دیکھتا ہے۔ ان یوتین یہ کہ مجھے دیدے۔ یرسل وہ بھیجتا ہے۔ حسبان آفت، مصیبت۔ صعید چٹیل میدان، نرم مٹی۔ زلق چکنی مٹی۔ غور گہرائی میں اتر جانا۔ احیط گھیر لیا گیا۔ یقلب وہ الٹتا پلٹتا ہے۔ کفیہ (کفین) اپنی دو ہتھیلیاں۔ انفقف اس نے خرچ کیا۔ خاویۃ او ندھی پڑی رہنے والی۔ عروش (عرش) بلندی، چھتیں فئۃ جماعت۔ گروہ ھنالک اسی جگہ۔ الولایۃ اختیار۔ عقب انجام، اجرت دینا۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 44
دنیا اور اس کی دولت کی خاصیت یہ ہے کہ اگر ایک شخص ایمان اور عمل صالح سے دور ہو تو وہ بےجا فخر و غرور اور ناشکری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
بقیہ قصہ دو بھائیوں کا، حشر کی تصدیق
اور یہ بھی کہا کہ بجائے اس فخر اور ناشکری کے لفظوں کے تو یہ کہتا کہ انسان کی کیا طاقت تھی کہ وہ ایسا باغ لگاتا اور اتنا مال کماتا تو خوب ہوتا۔ کیونکہ انسان کو جو کچھ فارغ البالی ہوتی ہے وہ اللہ ہی کے چاہنے سے ہوتی ہے۔ اگرچہ مال واولاد نہ ہونے کے سبب سے تو مجھے حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے، مگر مجھ کو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ آخرت میں تیرے اس باغ سے بہتر مجھے باغ دیوے گا۔ او تیری اس ناشکری اور نافرمانی کے سبب سے اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ وہ تیرے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج دیوے۔ آخر کو اس ایماندار شخص کی زبان سے جو نکلا تھا وہی ہوا کہ جس باغ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
[13] جب انسان اللہ سے غافل ہوتا ہے تو اس گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ جو سازوسامان اور مال و اسباب مجھے حاصل ہیں وہ میری محنت، تدبر اور صلاحیت کا نتیجہ ہیں۔ یہی خناس اس شخص کے دماغ میں بھی سمایا ہوا تھا جس کا یہاں ذکر ہے۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ وہ کونسا شرک تھا جس پر وہ اظہار پشیمانی کررہا ہے کیونکہ اس پورے قصہ میں کسی دیوی دیوتا کا ذکر نہیں ہے۔ اس کا شرک یہ تھا کہ اس نے فاعل حقیقی اور مسبب الاسباب اللہ کو چھوڑ کر اپنے باغ اور کھیتی کو اپنی محنت و صلاحیت کا ثمر سمجھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
سرمایہ داری کا غرور :
(ف 1) مکہ والے مال و دولت کے نشہ میں سرشار تھے ، تمول کا خمار آنکھوں میں تھا اور امارت کا سودا دماغ میں سجا رہا تھا ، مسلمان ابتداء غریب تھے ، اس لئے وہ از راہ کبر مسلمانوں سے نفرت کرتے ، ان کے مذہب کو غربت ومسکنت کا مذہب سمجھتے اور کہتے کہ ہم ایسے دین کو قبول نہیں کرسکتے ، جس کے ماننے والے دنیوی حیثیت سے ہم سے بلند اور اعلی نہ ہوں ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر نعمت سے بہرہ ور کیا ہے ، اس کے پاس شاداب باغ اور کھیت ہیں ، بکثرت دوست و مددگار ہیں ، مگر مغرور ومتکبر ہے ، اپنے جاہ وحشم کو دیکھتا ہے ، اور…
Read the full tafseer →-44 ایسے موقع پر مدد کرنا اللہ برحق ہی کا کام ہے اسی کا انعام سب سے اچھا ہے اور اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کا انجام اور نتیجہ اچھا ہے۔ یعنی اس کا دیا ہوا ثواب اور بدلہ بھی سب سے بہتر اور اسی کی اطاعت کا نتیجہ اور انجام بھی سب سے بہتر۔
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی اگر اس کے مقبولین کا کوئی نقصان ہوجاتا ہے تو دونوں جہان میں ثمرہ نیک ملتا ہے، بخلاف کافر کے کہ بالکل خسارہ میں رہ گیا۔
Read the full tafseer →کوئی سمجھنا چاہے تو سمجھ سکتا ہے کہ اختیار کل صرف اور صرف اللہ ہی کے پاس ہے :
47۔ ایسے ہی حالات وواقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فی الحقیقت سارا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ، کیونکہ جب اس کی طرف سے گرفت آتی ہے تو سارے سامان ‘ سارا اقتدار ودھرے کا دھرا رہ جاتا ہے اور جو ہونا ہوتا ہے وہ ہوجاتا ہے ، فرعون کے پاس کس چیز کی کمی تھی ؟ لیکن جب اللہ کی پکڑ آئی تو اس کے کام کوئی چیز آئی ؟ اس طرح آج اگر مکہ والے سمجھتے ہیں کہ اقتدار ‘ عزت اور مال واولاد ان کے پاس ہے اس لئے ان کا جتھا بہت مضبوط ہے تو سنت اللہ بھی یہی چلی آرہی ہے کہ جب کوئی اپنے جتھے کو مضبوط سمجھ کر حدود سے متجاوز ہوجاتا ہے تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
The word: حُسبانا - (husbana) in verse 40 has been explained by Qatadah as 'punishment' in an absolute sense, by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ as 'fire' and by some as 'stoning.' As for what appears after that in the Qur'an: أُحِيطَ بِثَمَرِهِ (And its produce was struck by destruction from all sides - 42), it obviously means that some major calamity hit his gardens, wealth and things of luxury reducing everything to ruins. The Qur'an does not mention any particular calamity explicitly. It appears that, some fire came down from the skies and burnt the whole thing - as it appears in the Tafsir of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
40. That is, If we are able to do anything, it is by the help and support of Allah alone.
Read the full tafseer →