Al-Kahf 18:43

Al-Kahf · from ayah 43

18:43

وَلَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مُنْتَصِرًا ۟ؕوَلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ فِئَةٌ يَّـنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مُنۡتَصِرًا ؕ‏

(اس وقت) خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And there was for him no company to aid him other than Allah, nor could he defend himself.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 5 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:43

نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھا کہ اس کی مدد کرتا، اور نہ کر سکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اس وقت) خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کی حمایت میں کوئی جماعت نہ اٹھی کہ اللہ سے اس کا کوئی بچاؤ کرتی اور نہ وه خود ہی بدلہ لینے واﻻ بن سکا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اسے کوئی ایسا جتھ میسر نہ آیا جو اللہ کو چھوڑ کر اس کی مدد کرتا، اور نہ وہ خود اس قابل تھا کہ اپنا دفاع کرسکے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ کے سامنے اس کی مدد کرتی نہ وہ بدلہ لینے کے قابل تھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس کے لئے کوئی گروہ (بھی) ایسا نہ تھا جو اﷲ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتے اور نہ وہ خود (ہی اس تباہی کا) بدلہ لینے کے قابل تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ کے سوا اس کا کوئی گروہ نہ تھا جو اس کی مدد کرتے اور نہ وہ (خود) بچنے والا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ کے سوا کوئی جماعت ایسی نہ تھی جو اس کی مدد کرتی اور وہ خود بھی اس آفت کا مقابلہ نہ کرسکا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس کے پاس نہ تو کوئی جتھا تھا جو خدا کے مقابلے میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود ہی انتقام لینے والا بن سکا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور نہ کوئی جماعت ایسی تھی جو اس کی مدد کرتی اللہ کے سوا، اور نہ وہ خود بدلہ لینے کے قابل تھا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور کوئی جتھا اس کے ساتھ نہ ہوا کہ اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ (ہم سے) بدلہ لے سکا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہ ہوئی اس کے لیے کوئی جماعت جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کو آتی اور نہ وہ خود ہی انتقام لینے والا بن سکا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس وقت اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد نہ کرسکی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And there was no host, beside Allah, to help him, nor could he be of any help to himself.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

There were no supporters for him beside Allah, who could come to his help, nor was he able to defend himself.

— Muhammad Taqi Usmani

There were no supporters for him beside Allah, who could come to his help, nor was he able to defend himself.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he had no group of men to help him against Allah, nor could he defend (or save) himself.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he had no troop of men to help him as against Allah, nor could he save himself.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And there was for him no company to aid him other than Allah, nor could he defend himself.

— Saheeh International

He had no one besides God to help him, nor could he himself achieve any success.

— Muhammad Sarwar

And he had no host to help him besides Allah nor could he defend himself.

— Muhammad Habib Shakir

And there could be no party suceouring him as against Allah, nor could he himself be an avenger.

— Abdul Majid Daryabadi

Nor had he numbers to help him against Allah, nor was he able to deliver himself.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 42–44

کف افسوس اس کا کل مال کل پھل غارت ہوگیا وہ مومن اسے جس بات سے ڈرا رہا تھا وہی ہو کر رہی اب تو وہ اپنے مال کی بربادی پر کف افسوس ملنے لگا اور آرزو کرنے لگا کہ اے کاش کہ میں اللہ کے ساتھ مشرک نہ بنتا۔ جن پر فخر کرتا تھا ان میں سے کوئی اس وقت کام نہ آیا، فرزند قبیلہ سب رہ گیا۔ فکر و غرور سب مٹ گیا نہ اور کوئی کھڑا ہوا نہ خود میں ہی کوئی ہمت ہوئی۔ بعض لوگ ھنالک پر وقف کرتے ہیں اور اسے پہلے جملے کے ساتھ ملا لیتے ہیں یعنی وہاں وہ انتقام نہ لے سکا۔ اور بعض منتصرا پر آیت کر کے آگے سے نئے جملے کی ابتدا کرتے ہیں ولایتہ کی دوسری قرأت ولایتہ بھی ہے۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہوا کہ ہر مومن و کافر اللہ ہی کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 39–44

سورة الْكَهْف 40 " یعنی جو کچھ اللہ چاہے وہی ہوگا۔ میرا اور کسی کا زور نہیں ہے۔ ہمارا اگر کچھ بس چل سکتا ہے تو اللہ ہی کی توفیق و تائید سے چل سکتا ہے۔ "

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–44

حُسْـبَانًا اس لفظ کی تفسیر حضرت قتادہ ؓ نے مطلق عذاب سے کی ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ نے آگ سے اور بعض نے پتھراؤ سے، اس کے بعد جو قرآن میں آیا ہے اس میں ظاہر یہ ہے کی اس کے باغ اور تمام مال وزر اور سامان عیش پر کوئی بڑی آفت آ پڑی، جس نے سب کو برباد کردیا، قرآن نے صراحۃ، جیسا کہ لفظ حسبان کی تفسیر حضرت ابن عباس ؓ سے بھی آگے منقول ہے، واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَمْ تَكُنْ لَهُ فِئَةٌ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مُنْتَصِرًا۔ یعنی جب عزاب آیا تو نہ وہ پارٹی کام آئی جس پر ناز تھا اور جس کے اعتماد پر کہا تھا " انا اکثر منک مالا واعز نفرا " اور نہ اپنے ہی اندر اتنا بل بوتا تھا کہ انتقام کے لیے اٹھ سکے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

43۔ 1 جس جتھے پر اس کو ناز تھا، وہ بھی اس کے کام نہیں آیا نہ وہ خود ہی اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی انتظام کرسکا

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–44

24: آیت نمبر 28 میں کافر سرداروں کے اس تکبر کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ غریب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک ایسا واقعہ بیان فرما رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال و دولت کی زیادتی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر کوئی شخص اترائے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ مضبوط نہ ہو تو بڑے بڑے مال دار لوگ انجام کار ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صحیح ہو تو غریب لوگ ان سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ جن دو آدمیوں کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے ان کی کوئی تفصیل کسی مستند مرفوع روایت میں موجود نہیں ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے کچھ روایتوں کی بنیاد پر یہ کہا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب پردہ کرتا ہے اور یہ منظر بھی اوجھل ہوجاتا ہے جس میں باغ مکمل تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا وہ اپنی تنیوں پر پڑا تھا مالک ہاتھ مل رہا تھا اور شرمندگی سے سرنگوں تھا۔ اللہ کا جلال اس منظر پر سایہ لگن تھا۔ جس کے سامنے انسانی قوت اور انسانی طاقت نیست و نابود ہوی ہے۔ اس منظر کے بعد اب حیات دنیا کو ایک تمثیل سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دیکھو حیات دنیا اس باغ کی طرح ہی ہے ، یہ بہت ہی ناپختہ ، مختصر اور بےقرار ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی نہ جتھا کام آیا، نہ اولاد، نہ فرضی معبود جنہیں خدائی کا شریک ٹھہرا رکھا تھا۔ اور نہ خود اپنی ذات میں اتنی طاقت تھی کہ خدا کے عذاب کو روک دیتا یا بدلہ لے سکتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 43 وَلَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ يَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مُنْتَصِرًا اللہ کے مقابلے میں بھلا کون اس کی مدد کرسکتا تھا اور اس صورت حال میں وہ کس سے انتقام لے سکتا تھا ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 42–44

40 تکبر کی سزا :۔ چناچہ موحد کے منہ سے نکلے ہوئے کلمات اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آئے کہ اس کے منہ سے نکلی ہوئی بات فوراً مستجاب ہوگئی اور مشرک کو اس کے تکبر اور غرور کی سزا مل کے رہی۔ جن درختوں کے پھلوں اور اپنی پیداوار کو دیکھ کر وہ اتنا خوش ہو رہا تھا اور کفر کے کلمے بک رہا تھا۔ اس سارے کے سارے باغ پر قہر الٰہی نازل ہوا جس نے اسے زمین بوس کردیا اور صرف موجودہ تیار فصل کا ہی نقصان نہ ہوا بلکہ جو کچھ اس باغ پر خرچ کرچکا تھا سب کچھ ضائع اور برباد ہوگیا اس وقت وہ کف افسوس ملتے ہوئے کہنے لگا۔ کاش میں نے اپنے پروردگار کو حقیقی معنوں میں پروردگار اور نفع و نقصان کا مالک سمجھا ہوتا۔ اس کے کھڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

63۔ اپنے جس مجمع اور جتھے پر اسے ناز تھا اور وہ فخر کے ساتھ کہتا تھا۔ انا اعزمنک مالا و اکثر نفرا اس کی حقیقت و بساط اس نے یہیں دنیا میں دیکھ لیا ! (آیت) ” ینصرونہ۔۔۔ منتصرا “۔ منتصر کے معنی بچا لینے والے کے بھی ہیں۔ اور (آیت) ” ینصرونہ “ سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ اسے بچا لے۔ ینصرونہ اے ینجونہ من عذاب اللہ وما کان منتصرا اے ممتنعا من عذاب اللہ (ابن جریر۔ عن قتادۃ) مطلب یہ ہوا کہ بجز اللہ کے کوئی بھی نصرت پر قادر نہیں۔ نصرت صرف اسی کی ہے۔ اے ھو اللہ تعالیٰ وحدہ القادر علی نصرتہ ولا یقدر احد غیرہ ان ینصرہ (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 39–44

آیت نمبر 39 تا 44 ترجمہ : اور جب تو باغ میں داخل ہوا تھا تو تو نے اس باغ پر تعجب (پسندیدگی) کے وقت کیوں نہ کہا کہ یہ وہی ہے جو اللہ نے چاہا خدا کی مدد کے بغیر کوئی قوت نہیں اور حدیث شریف میں ہے کہ جس کو بہترین مال یا اولاد عطا کیا گیا ہو اور اس نے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کہہ لیا تو اس مال میں اس کو ناپسندیدہ حالت پیش نہیں آئے گی اور اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم ہوں کچھ بعید نہیں کہ میرا رب مجھ کو تیرے باغ سے اچھا باغ دے دے ( اَنا) دو مفعولوں کے درمیان ضمیر فصل ہے اور فعسیٰ جواب شرط ہے اور اس (تیرے باغ) پر کوئی آسمانی آفت بھیج دے حُسْبَان حُسْبَانَۃ کی جمع ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولم تکن لہ فءۃ ینصرونہ من دون اللہ وما کان منتصرا۔ اور اس کے پاس کوئی ایسا مجمع نہ ہوا کہ خدا کے سوا اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود ہم سے بدلہ لے سکا (مولانا تھانوی (رح) اور قیامت کے دن عذاب کو دفع کرنے پر قدرت رکھنے والی اس کے لئے اللہ کے سوا کوئی جماعت نہ ہوگی اور نہ وہ تنہا اپنی قوت پر اللہ کے انتقام سے بچ سکے گا۔ (حضرت مفسر)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–43

(32۔ 43) آپ اہل مکہ کے سامنے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے کہ بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے ایک مومن جس کا نام یہودا اور دوسرا کافر جس کا نام ابو فطروس تھا۔ کافر کو دو باغ ہم نے انگوروں کے دے رکھے تھے اور ان دونوں باغوں کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنارکھا تھا اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی۔ دونوں باغ ہر سال اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں نہر چلا رکھی تھی اور اس کے پاس باغ کا پھل تھا اور بھی تمول کا سامان تھا چناچہ ایک دن وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اپنے مال پر فخر کرتا ہوا کہنے لگا کہ میرا مال بھی تجھ سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ۔۔ : ”مُنْتَصِرًا“ کا معنی انتقام لینے والا بھی ہے اور خود بچنے والا بھی، یعنی عذاب آیا تو اس کا کوئی گروہ نہ تھا جو اس کی مدد کرتے، سوائے اللہ کے اور نہ وہ خود بچنے والا تھا۔ ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ کا ایک مطلب یہ ہے جو ترجمے میں گزرا۔ زمحشری اور کئی مفسرین نے یہی معنی کیا ہے، یعنی اس ”وقت اللہ کے سوا“ اسے کوئی بچانے والا نہ تھا، مگر اس کو وہ ناراض کرچکا تھا۔ ”مِن دُوْنِ اللّٰهِ“ کا دوسرا معنی یہ ہے کہ پھر ”اللہ کے مقابلے میں“ اس کا کوئی گروہ نہ تھا جو اس کی مدد کو پہنچتا۔۔ یہ معنی بھی کئی مفسرین نے کیا ہے۔ کسی بھی کافر کو جب یہ معاملہ پیش آتا ہے تو وہ اس وقت ہر طرف…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 43 قولہ تعالیٰ : ولم تکن۔۔۔۔ من دون اللہ، فئۃ یہ تکن کا اسم ہے اور لہ اس کی خبر ہے۔ ینصرونہ یہ صفت کے محل میں ہے، ای فئۃ ناصرۃ (مدد کرنے والی جماعت) ۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ینصرونہ خبر ہو۔ اور پہلی وجہ سیبویہ کے نزدیک اولیٰ اور بہتر ہے کیونکہ لہ مقدم ہے۔ اور ابو العباس ان کی مخالفت کرتے ہیں، اور اللہ عزوجل کے اس ارشاد سے استدلال کرتے ہیں : ولم یکن لہ کفوا احد۔ (الاخلاص) اور سیبویہ نے دوسری وجہ کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ اور ینصرونہ، فئۃ کے معنی کی وجہ سے (جمع کا صیغہ) ہے، کیونکہ اس کا معنی اقوام ہے، اور اگر لفظ کی بنا پر ہوتا تو فرماتا ولم تکن لہ فئۃ تنصرہ، یعنی ایسا گروہ اور ایسی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–45

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الحسبان “ سے مراد ہے عذاب۔ 2:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” حسبانا من السمآء “ کے بارے میں بتائیے فرمایا اس سے مراد ہے آگ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حسان بن ثابت ؓ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : بقیۃ معشر صبت علیہم شابیب من الحسبان شھب : ترجمہ : باقی جماعت پر انڈیلا گیا آگ میں سخت گرمی کو جس نے ان کو جھلسادیا۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حسبانا من السمآء “ سے مراد ہے آگ۔ 4:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَمْ تَكُنْ : اور تھی ہی نہیں ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [فِئَةٌ: کوئی ایسی جماعت جو ] [يَّنْصُرُوْنَهٗ : مدد کرتی اس کی ] [مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [وَمَا كَان : اور وہ نہیں تھا ] [مُنْتَصِرًا : بدلہ لینے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 32–44

عبرت کے لیے دو شخصوں کی مثال، ان میں ایک باغ والا اور دوسرا غریب تھا ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں ایک باغ والے کافر و مشرک اور دوسرے مومن موحد کی گفتگو نقل فرمائی ہے۔ علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 161 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیات اہل مکہ میں سے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئیں دونوں بنی مخزوم میں سے تھے۔ ایک تو حضرت ابو سلمہ ؓ تھے جو رسول اللہ ﷺ سے پہلے حضرت ام سلمہ ؓ کے شوہر تھے اور دوسرا شخص جو کافر تھا وہ اسود بن عبد الاسد تھا یہ ایک قول ہے۔ دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں سے دو شخصوں کا ہے جو آپس میں دونوں بھائی تھے ایک مومن تھا اور ایک کافر تھا اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–44

بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی مثال قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا رجلین .... الیٰ ۔۔۔۔ ھو خری ثوابا وخیر عقبا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی اس درخواست کو رد فرمایا جو اپنے مال و دولت کے نشہ میں چور تھے اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس کرتے تھے اور اپنے مال و دولت پر فخر محسوس کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں تو آپ ان دو ویشان اسلام اور فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کریں اب ان آیات میں ان متکبرین کے سنانے کیلئے اور دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری بتلانے کے لئے بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی ایک مثال ذکر فرماتے ہیں جن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–44

50:۔ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو جس خاندانی جمعیت پر اسے ناز تھا اور جن معبودوں کو وہ اللہ کے سوا کارساز اور متصرف سمجھتا تھا ان میں سے اس آڑے وقت میں کوئی بھی اس کے کام نہ آیا اور نہ اپنے ہی قوت بازو سے اللہ کے عذاب سے اپنے باغوں کو بچا سکا۔ ” ھنالک الولایۃ للہ الحق “ اس واقعہ سے معلوم ہوگیا کہ تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہیں۔ اور اس نے کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کر رکھا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–44

ربط آیات : اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کے سلسلے میں ایک دولت مند مشرک اور ایک ایماندار مومن کی مثال بیان فرمائی ہے امیر آدمی نے اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت کہا کہ یہ تو کبھی فنا نہیں ہوگا ۔ قیامت کا کوئی تصور نہیں ہے اور اگر یہ برپا بھی ہوگئی تو میں اس دنیا کی طرح وہاں بھی خوشحال ہی رہوں گا ، وہ شخص اپنے باغ اور مال و دولت کو اپنا ذاتی کمال سمجھتا تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کا احسان نہیں مانتا تھا ، پھر اس نے اپنے غریب مگر مومن بھائی کو طعن کیا کہ میں تم سے مال اور تعداد میں بہتر ہوں وہ غریب مومن اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرچکا تھا مگر امیر آدمی اپنے مال و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَمْ تَكُنْ لَّہٗ فِئَۃٌ يَّنْصُرُوْنَہٗ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَمَا كَانَ مُنْتَصِرًا۝ 43ۭ فئة الفَيْءُ والْفَيْئَةُ : الرّجوع إلى حالة محمودة . قال تعالی: حَتَّى تَفِيءَ إِلى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فاءَتْ [ الحجرات/ 9] ، وقال : فَإِنْ فاؤُ [ البقرة/ 226] ، ومنه : فَاءَ الظّلُّ ، والفَيْءُ لا يقال إلّا للرّاجع منه . قال تعالی: يَتَفَيَّؤُا ظِلالُهُ [ النحل/ 48] . وقیل للغنیمة التي لا يلحق فيها مشقّة : فَيْءٌ ، قال : ما أَفاءَ اللَّهُ عَلى رَسُولِهِ [ الحشر/ 7] ، وَما مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ [ الأحزاب/ 50] ، قال بعضهم : سمّي ذلک بِالْفَيْءِ الذي هو الظّلّ تنبيها أنّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–44

تفسیر …دو شخصوں کا قصہ بطور مثال کے : پھر دنیا کی بےثباتی اور اس کے اسباب و تجمل پر غرور کر کے خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور الحاد کا بدنتیجہ جو کبھی دنیا ہی پر ظاہر ہوتا ہے دو شخصوں کی تمثیل سے بیان فرمایا۔ بعض کہتے ہیں یہ صرف ایک تمثیل ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ دراصل ایسے دو شخص تھے بھی کہ جن کا یہ واقعہ ہے پھر بعض کہتے ہیں کہ یہ دو شخص بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے کہ ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کیا تھا دوسرا دنیادار اور مشرک اور دارآخرت کا منکر تھا۔ اس نے دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے تھے کہ ان میں نہر بھی جاری تھی اور بیچ میں انگور اور آس پاس کھجور کے درخت بھی تھے اور وقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَمْ تَکُنْ لَّـہٗ فِئَۃٌ یَّنْصُرُوْنَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَمَا کَانَ مُنْتَصِرًا۔ (الکہف : 43) (اور اس کے پاس نہ کوئی جتھا تھا جو خدا کے مقابلے میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود ہی انتقام لینے والا بن سکا۔ ) یعنی جب اس پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو جس طرح اس کی اپنی صلاحیتیں کسی کام نہ آئیں اور اس کے غرور اور گھمنڈ نے اس کا ساتھ نہ دیا، اسی طرح وہ اپنی جس افراد ی قوت اور گروہی طاقت پر ناز کرتا تھا اور مردمومن سے یہ کہتا تھا کہ میں تم سے مال میں بھی بڑھ کر ہوں اور افراد کی تعداد کے اعتبار سے بھی زیادہ طاقتور ہوں، وہ اس کی افرادی قوت اور اس کی پارٹی اس کے کسی کام نہ آئی اور وہ سب مل کر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–44

فہم القرآن ربط کلام : باغ کا تباہ ہونا اور آخرت کے منکر کا حسرت وافسوس سے ہاتھ ملنا۔ آخرت کے منکر کا غرور توڑنے اور اسے اپنی قدرت دکھلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت باغ کو خاکستر بنا دیاجب باغ پھل سے لدا ہوا تھا۔ اس کا مالک تصور نہیں کرسکتا تھا کہ اب یہ باغ اپنے پھل سمیت تباہ ہوجائے گا۔ باغ کے درخت کثرت پھل کی وجہ سے زمین پر جھکے ہوئے تھے جونہی اس کے پھل پکنے کے قریب آئے تو اللہ تعالیٰ کا ایسا غضب نازل ہوا کہ دیکھنے والا یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس قدر شاندار لہلہاتا ہوا باغ کس طرح تباہ ہوگیا ہے۔ باغ کا مالک جب وہاں پہنچا تو جلے ہوئے پودے دیکھ کر لرزتے ہوئے ہونٹوں اور کانپتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

43: وَلَمْ تَکُنْ لَّہٗ فِئَۃٌ یَّنْصُرُوْنَہٗ (اور اس کے پاس کوئی ایسا مجمع نہ تھا جو اس کی مدد کرتا) جو اس کی مدد کرنے پر قدرت رکھتا۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے سوا) یعنی وہ اکیلا ہی اس کی نصرت پر قادر تھا۔ اس کے سوا کوئی ایک بھی اس کی مدد نہ کرسکتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کی وجہ سے اس کی مدد نہ کی۔ وَمَا کَانَ مُنْتَصِرًا (نہ وہ خود ہم سے بدلہ لے سکا) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے انتقام کو قوت سے روک نہ سکا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(43)” ولم تکن لہ فئۃ “ اس سے مراد جماعت ہے۔ ” ینصرونہ من دون اللہ “ وہ اللہ کے عذاب سے روکنے والے ہیں۔ ” وما کان منتصرا “ کوئی شخص نہیں تھا جو اس سے عذاب کو روک سکتا تھا یا اس کا بدلہ لے سکتا اور نہ ہی وہ یہ خود اپنے لیے مدد کرسکتا۔ بعض نے کہا کہ اس کے باغ ضائع ہونے پر کوئی اس کو لوٹانے والا نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–44

32۔ 44:۔ اوپر ان مالدار مشرکین مکہ کا ذکر تھا جو غریب مسکین مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے سے گھبراتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کہاوت بیان کی کہ دو مرد تھے ایک کے دو باغ تھے انگور اور کھجور کے جن کے درمیان میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ ہر طرح کے درخت اور پھل پھول اور میوے پیدا ہوتے تھے ولم تظلم منہ شیئا سے اسی مطلب کو ادا فرمایا ہے۔ پھر فرمایا ان باغوں میں نہریں جاری تھیں پھر فرمایا اس باغ والے نے اپنے دوسرے بھائی سے بطور فخر کے کہا کہ میں تجھ سے مال واولاد اور خدمت گاروں میں زیادہ عزت والا ہوں اور وہ اپنی باغ میں اپنے بھائی کا بھی ہاتھ پکڑ کر میں قیامت کے قائم ہونے کا خیال نہیں رکھتا اور اگر بالفرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 39–45

آیت 39 یعنی صاحب ایمانشخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پر مجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نواشز اور احسان پر رکھی جاسکتی ہے وہ اس دنیا ومافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (آیت) ” پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر “ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کردیا ،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–60

ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–43

74۔ منکر انسان آخر کار پنجہ عذاب کی گرفت میں، والعیاذ باللہ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار گھیر لیا گیا اس کے باغ کو ایک ناگہانی آفت سے جس سے وہ تباہ و برباد اور کان لم یکن ہو کر رہ گیا، سو آخر کار وہی ہوا جس سے اس بندہ مومن نے اس شخـص کو خبردار کیا تھا اور جس سے وہ سب کچھ مٹ مٹا گیا۔ جس کا اس شخص کو بڑا گھمنڈ اور غرور تھا۔ اور جس کی بناء پر وہ حق بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا تھا۔ اب اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہا تھا۔ والعیاذ باللہ، سو جس باغ کے بارے میں اس شخص کا کہنا تھا کہ میں کبھی گمان بھی نہیں کرسکتا کہ یہ باغ بھی کبھی تباہ ہوسکتا ہے۔ ما اظن ان تبیدھذہ ابدا وہ اس طرح اجڑ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–46

سبق آموز کہانی اور نیکیوں کا بدلہ تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی حاکمیت، قدرت کاملہ اور وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر انسان کو روزی رزق دیتا ہے تو انسان کا فرض ہے اس کی نعمتوں کو حاصل کر کے فخر و غرور نہ کرے اور اس قدر بدمست نہ ہوجائے کہ اللہ کے وجود اور قیامت کا انکار کردے اور نعمتوں کا شکر ہی ادا نہ کرے اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگے۔ یہ سب انسانیت کے خلاف اور برے رویے ہیں ہمارا مذہب اسلام ان تمام اخلاقی برائیوں سے منع کرتا ہے، یعنی کسی کو حقیر سمجھنا اور شکر الٰہی ادا نہ کرنا۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی نعمت یا خوبصورت چیز کو دیکھو یا کامیابی حاصل کرو تو اس کو دیکھ کر ماشَائَ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–44

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف دنیا میں بھی یہی مثالیں موجود ہیں جو اقوام کے حالات میں بھی نظر آتی ہیں اور افراد کے حالات میں بھی آپ انہیں ان دو آدمیوں کی مثال دیجئے جو دونوں دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو ہم نے زیادہ مالدار کردیا ، اس کے انگوروں کے باغات تھے جن کے گردا گرد کے درخت اور درمیان میں زرعی زمین تھی یعنی کھجوریں پھل اور غلہ جیسی سب نعمتیں بیک وقت ان باغوں سے حاصل ہوتیں ، اور وہ پورا پورا پھل دیتے کبھی ان میں کمی نہ آتی تھی ، ان باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کردی تھی جس کے سبب وہ ہمیشہ سرسبز رہتے اور ہر موسم کا پھل بہتات سے حاصل ہوتی ، جبکہ دوسرا دوست ایسا مالدار نہ تھا ، ایک روز باتوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–45

ف 1 وہی ہے کہ جب چاہتا ہے کسی کو خوشحالی فارغ البالی اور مال و دولت عطا کرتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے اسے تنگ حالی فقر و فاقہ اور بدحالی میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ پس انسان کو چاہیے کہ مال و دولت پر غرور نہ کرے بلکہ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی طر سے نعمت سمجھ کر اس کی شکر گزاری ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:43) فئۃ۔ گروہ۔ بقول راغب وہ گروہ جو باہم مددگار ہو۔ اور ایک دوسرے کی طرف مدد کرنے کے لئے لوٹے۔ الفییٔ الفیئۃ کے معنی اچھی حالت کی طرف لوٹ آنے کے ہیں جیسے قرآن مجید میں آیا ہے فان فاء وا (2:226) اگر وہ لوٹ آئیں۔ رجوع کرلیں۔ ینصرونہ کہ وہ اس کی مدد کریں (نصر ینصر) سے جمع مذکر غائب ہٗ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ فعل جمع مذکر غائب اس لئے لایا گیا ہے کہ فئۃ میں جمعیت کے معنی پائے جاتے ہیں۔ من دون اللہ۔ اللہ کو چھوڑ کر۔ اللہ کے ورے۔ بعض نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ اللہ کے مقابلہ میں۔ منتصرا۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب انتصار (افتعال) مصدر۔ بدلہ لینے والا۔ یعنی نہ ہی وہ بدلہ لینے کے قابل تھا۔ انتصر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 37–44

لغات القرآن آیت نمبر 37 تا 44 یح اور وہ بات کرتا ہے۔ تراب مٹی۔ سوی برابر کیا، مکمل کیا۔ ان ترن اگر تو مجھے دیکھتا ہے۔ ان یوتین یہ کہ مجھے دیدے۔ یرسل وہ بھیجتا ہے۔ حسبان آفت، مصیبت۔ صعید چٹیل میدان، نرم مٹی۔ زلق چکنی مٹی۔ غور گہرائی میں اتر جانا۔ احیط گھیر لیا گیا۔ یقلب وہ الٹتا پلٹتا ہے۔ کفیہ (کفین) اپنی دو ہتھیلیاں۔ انفقف اس نے خرچ کیا۔ خاویۃ او ندھی پڑی رہنے والی۔ عروش (عرش) بلندی، چھتیں فئۃ جماعت۔ گروہ ھنالک اسی جگہ۔ الولایۃ اختیار۔ عقب انجام، اجرت دینا۔ تشریح : آیت نمبر 37 تا 44 دنیا اور اس کی دولت کی خاصیت یہ ہے کہ اگر ایک شخص ایمان اور عمل صالح سے دور ہو تو وہ بےجا فخر و غرور اور ناشکری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 39–44

بقیہ قصہ دو بھائیوں کا، حشر کی تصدیق اور یہ بھی کہا کہ بجائے اس فخر اور ناشکری کے لفظوں کے تو یہ کہتا کہ انسان کی کیا طاقت تھی کہ وہ ایسا باغ لگاتا اور اتنا مال کماتا تو خوب ہوتا۔ کیونکہ انسان کو جو کچھ فارغ البالی ہوتی ہے وہ اللہ ہی کے چاہنے سے ہوتی ہے۔ اگرچہ مال واولاد نہ ہونے کے سبب سے تو مجھے حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے، مگر مجھ کو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ آخرت میں تیرے اس باغ سے بہتر مجھے باغ دیوے گا۔ او تیری اس ناشکری اور نافرمانی کے سبب سے اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ وہ تیرے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج دیوے۔ آخر کو اس ایماندار شخص کی زبان سے جو نکلا تھا وہی ہوا کہ جس باغ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 42–44

[13] جب انسان اللہ سے غافل ہوتا ہے تو اس گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ جو سازوسامان اور مال و اسباب مجھے حاصل ہیں وہ میری محنت، تدبر اور صلاحیت کا نتیجہ ہیں۔ یہی خناس اس شخص کے دماغ میں بھی سمایا ہوا تھا جس کا یہاں ذکر ہے۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ وہ کونسا شرک تھا جس پر وہ اظہار پشیمانی کررہا ہے کیونکہ اس پورے قصہ میں کسی دیوی دیوتا کا ذکر نہیں ہے۔ اس کا شرک یہ تھا کہ اس نے فاعل حقیقی اور مسبب الاسباب اللہ کو چھوڑ کر اپنے باغ اور کھیتی کو اپنی محنت و صلاحیت کا ثمر سمجھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–44

سرمایہ داری کا غرور : (ف 1) مکہ والے مال و دولت کے نشہ میں سرشار تھے ، تمول کا خمار آنکھوں میں تھا اور امارت کا سودا دماغ میں سجا رہا تھا ، مسلمان ابتداء غریب تھے ، اس لئے وہ از راہ کبر مسلمانوں سے نفرت کرتے ، ان کے مذہب کو غربت ومسکنت کا مذہب سمجھتے اور کہتے کہ ہم ایسے دین کو قبول نہیں کرسکتے ، جس کے ماننے والے دنیوی حیثیت سے ہم سے بلند اور اعلی نہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر نعمت سے بہرہ ور کیا ہے ، اس کے پاس شاداب باغ اور کھیت ہیں ، بکثرت دوست و مددگار ہیں ، مگر مغرور ومتکبر ہے ، اپنے جاہ وحشم کو دیکھتا ہے ، اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-43 حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں مال تو اللہ کی نعمت تھی پر اترانے سے اور کفر بکنے سے آفت آئی اور اس کے لئے کوئی جماعت ایسی نہ ہوئی جو اللہ تعالیٰ کے سوا اس کی مدد کرسکتی اور نہ وہ خود ہی اپنا بدلا لے سکا یعنی نہ اپنے میں بدلہ لینے کی سکت اور نہ کوئی اور جتھا اور مال و اولاد کی کثرت اس کے کام آسکی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں آخر اس باغ پر وہی ہوا جو اس نیک کی زبان سے نکلا رات کو آگ لگ گئی آسمان سے سب جل کر ڈھیر ہوگیا مال خرچ کیا پونجی بڑھانے کو وہ اصل بھی کھو بیٹھا۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 42–43

ف 5۔ معلوم نہیں کیا آفت تھی، لیکن ظاہرا اس کے ابہام سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی عظیم آفت تھی۔ 6۔ مراد یہ کہ کفر نہ کرتا، مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمجھ گیا کہ یہ آفت کفر کے انتقام میں آئی ہے، اس لئے اس پر نادم ہوتا ہے کہ اگر کفر نہ کرتا تو یا تو آفت نہ آتی یا آتی تو اس کا بدل آخرت میں ملتا، اب خسر الدینا والاخرة کا مضمون ہوگیا، یہ باتیں مومن سے اس کے کان میں پڑی ہوں گی، اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مومن ہوگیا کیونکہ یہ ندامت ضرر کی وجہ سے ہے۔ کفر کے مذموم ہونے کیو جہ سے ندامت ثابت نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کوئی جماعت نہ تھی جو اس کو آڑے وقت کام آتی ہاں چلتی کا نام تو پہلے ہی گاڑی ہے : 46۔ فرمایا اس طرح اس کا سارا نشہ کافور ہوگیا اور جن جن چیزوں پر اس نے زندگی میں انحصار کیا تھا ان میں سے ایک ایسی نہ تھی جو اس کے کچھ کام آتی ، معلوم ہوا کہ ہر آدمی اپنی غرض کے لئے دوسروں کا ساتھ دیتا ہے ، جب اس کی غرض کو ٹھیس پہنچے تو گزرا ہوا وقت اس کو کبھی یاد نہیں رہا عوام تو عوام تاج وتخت کے ایوانوں تک کا یہی حال ہے کہ جب مشکل وقت آجائے تو انسان تو انسان درودیوار بھی انسان کو کھاتے نظر آتے ہیں اور ہر وہ چیز جو اس کے سکون کا باعث تھی اس کی بےآرامی اور وبال جان بن کر رہ جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ اس حالت سے ہر فرد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–45

The word: حُسبانا - (husbana) in verse 40 has been explained by Qatadah as 'punishment' in an absolute sense, by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ as 'fire' and by some as 'stoning.' As for what appears after that in the Qur'an: أُحِيطَ بِثَمَرِ‌هِ (And its produce was struck by destruction from all sides - 42), it obviously means that some major calamity hit his gardens, wealth and things of luxury reducing everything to ruins. The Qur'an does not mention any particular calamity explicitly. It appears that, some fire came down from the skies and burnt the whole thing - as it appears in the Tafsir of…

Read the full tafseer →