Al-Kahf 18:42

Al-Kahf · from ayah 42

18:42

وَاُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰی مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰی عُرُوْشِهَا وَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا ۟وَاُحِيۡطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلَىٰ مَاۤ اَنۡفَقَ فِيۡهَا وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوۡشِهَا وَيَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِىۡ لَمۡ اُشۡرِكۡ بِرَبِّىۡۤ اَحَدًا

اور اس کے میووں کو عذاب نے آگھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر (حسرت سے) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And his fruits were encompassed [by ruin], so he began to turn his hands about [in dismay] over what he had spent on it, while it had collapsed upon its trellises, and said, "Oh, I wish I had not associated with my Lord anyone."

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 5 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:42

آخرکار ہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیا اور وہ اپنے انگوروں کے باغ کو ٹٹیوں پر الٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا کہ "کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا ہوتا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس کے میووں کو عذاب نے آگھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر (حسرت سے) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس کے (سارے) پھل گھیر لئے گئے، پس وه اپنے اس خرچ پر جو اس نے اس میں کیا تھا اپنے ہاتھ ملنے لگا اور وه باغ تو اوندھا الٹا پڑا تھا اور (وه شخص) یہ کہہ رہا تھا کہ کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (پھر ہوا یہ کہ) اس کی ساری دولت عذاب کے گھیرے میں آگئی، اور صبح ہوئی تو اس حالت میں کہ اس نے باغ پر جو کچھ خرچ کیا تھا، وہ اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا، جبکہ اس کا باغ اپنی ٹٹیوں پر گرا پڑا تھا، اور وہ کہہ رہا تھا : کاش ! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانا ہوتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کے پھل گھیر لیے گئے تو اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا اس لاگت پر جو اس باغ میں خرچ کی تھی اور وہ اپنی ٹیٹوں پر (اوندھے منہ) گرا ہوا تھا اور کہہ رہا ہے، اے کاش! میں نے اپنے رب کا کسی کو شریک نہ کیا ہوتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اس تکبّر کے باعث) اس کے (سارے) پھل (تباہی میں) گھیر لئے گئے تو صبح کو وہ اس پونجی پر جو اس نے اس (باغ کے لگانے) میں خرچ کی تھی کفِ افسوس ملتا رہ گیا اور وہ باغ اپنے چھپروں پر گرا پڑا تھا اور وہ (سراپا حسرت و یاس بن کر) کہہ رہا تھا: ہائے کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا (اور اپنے اوپر گھمنڈ نہ کیا ہوتا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس کا سارا پھل مارا گیا تو اس نے اس حال میں صبح کی کہ اپنی ہتھیلیاں ملتا تھا اس پر جو اس میں خرچ کیا تھا اور وہ اپنی چھتوں سمیت گرا ہوا تھا اور کہتا تھا اے کاش ! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(آخر یوں ہوا کہ) باغ کے پکے ہوئے پھل کو عذاب نے آگھیرا اور جو کچھ وہ باغ پر خرچ کرچکا تھا اس پر اپنے دونوں ہاتھ ملتا رہ گیا۔ وہ باغ انہی ٹٹیوں پر گرا پڑا تھا۔ اب وہ کہنے لگا : کاش ! میں نے اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس کے پھلوں پر آفت آئی تو جو کچھ اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور وہ باغ اپنی ٹٹیوں پر گر پڑا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ اے کاش ! میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بناتا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آخرکار گھیر لیا گیا اس کے سارے پھل کو (ایک ناگہانی آفت سے) جس سے وہ اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا، اپنے اس خرچ پر جو اس نے اس باغ پر کیا تھا، جب کہ وہ گرا پڑتا تھا اپنی چھتریوں پر، اور وہ (مارے حسرت کے) کہہ رہا تھا کہ اے کاش میں نے شریک نہ ٹھہرایا ہوتا اپنے رب کے ساتھ کسی کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس (بددین) کی دولت کو (آفت نے) گھیر لیا پس وہ اپنے ہاتھ ملتارہ گیا اس پر کہ جو کچھ اس نے اس (باغ) پر خرچ کیا تھا اور وہ (باغ) اپنی ٹیٹوں پر گرا ہوا پڑا تھا اور وہ (بددین) کہنے لگا کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیراتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس کا سارا ثمر سمیٹ لیا گیا تو وہ ہاتھ ملتا رہ گیا اس پر جو کچھ اس نے اس میں خرچ کیا تھا اور وہ (باغ) گرا پڑا تھا اپنی چھتریوں پر اور وہ کہہ رہا تھا ہائے میری شامت کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اس کے پھل تباہ ہوگئے۔ (عذاب نے آگھیرا) اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا، اس پر ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا

— محترمہ رفعت اعجاز

Eventually all his produce was destroyed and he began to wring his hands in sorrow at the loss of what he had spent on it, and on seeing it fallen down upon its trellises, saying: "Would I had not associated anyone with my Lord in His Divinity."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And its produce was overwhelmed by calamities and he stood wringing his hands (in anguish) over what he had invested in it, while it was fallen down on its trellises and he was saying, :I wish I had not ascribed any partner to my Lord!

— Muhammad Taqi Usmani

And its produce was overwhelmed by calamities and he stood wringing his hands (in anguish) over what he had invested in it, while it was fallen down on its trellises and he was saying, :I wish I had not ascribed any partner to my Lord!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So his fruits were encircled (with ruin). And began Yuqallibu his hands over what he had spent upon it, while it was all destroyed on its trellises, and he could only say: "Would that I had ascribed no partners to my Lord!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And his fruit was beset (with destruction). Then began he to wring his hands for all that he had spent upon it, when (now) it was all ruined on its trellises, and to say: Would that I had ascribed no partner to my Lord!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And his fruits were encompassed [by ruin], so he began to turn his hands about [in dismay] over what he had spent on it, while it had collapsed upon its trellises, and said, "Oh, I wish I had not associated with my Lord anyone."

— Saheeh International

(Sure enough the rich person's) fruits were all destroyed and he began to wring his hands in grief for all that he had invested in his garden. He found his garden tumbled to its trellises and said, "Would that I had not considered anything equal to my Lord".

— Muhammad Sarwar

And his wealth was destroyed; so he began to wring his hands for what he had spent on it, while it lay, having fallen down upon its roofs, and he said: Ah me! would that I had not associated anyone with my Lord.

— Muhammad Habib Shakir

And his property was encompassed; and lo! he was wringing the palms of his hands over that which he had expended thereon, while itlay fallen down on its trellises, and saying: Oh, would that had not associated with my Lord anyone:

— Abdul Majid Daryabadi

So his fruits (and enjoyment) were encompassed (with ruin), and he remained twisting and turning his hands over what he had spent on his property, which had (now) tumbled to pieces to its very foundations, and he could only say, "Woe is me! Would I had never ascribed partners to my Lord and Cherisher!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 42–44

کف افسوس اس کا کل مال کل پھل غارت ہوگیا وہ مومن اسے جس بات سے ڈرا رہا تھا وہی ہو کر رہی اب تو وہ اپنے مال کی بربادی پر کف افسوس ملنے لگا اور آرزو کرنے لگا کہ اے کاش کہ میں اللہ کے ساتھ مشرک نہ بنتا۔ جن پر فخر کرتا تھا ان میں سے کوئی اس وقت کام نہ آیا، فرزند قبیلہ سب رہ گیا۔ فکر و غرور سب مٹ گیا نہ اور کوئی کھڑا ہوا نہ خود میں ہی کوئی ہمت ہوئی۔ بعض لوگ ھنالک پر وقف کرتے ہیں اور اسے پہلے جملے کے ساتھ ملا لیتے ہیں یعنی وہاں وہ انتقام نہ لے سکا۔ اور بعض منتصرا پر آیت کر کے آگے سے نئے جملے کی ابتدا کرتے ہیں ولایتہ کی دوسری قرأت ولایتہ بھی ہے۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہوا کہ ہر مومن و کافر اللہ ہی کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 39–44

سورة الْكَهْف 40 " یعنی جو کچھ اللہ چاہے وہی ہوگا۔ میرا اور کسی کا زور نہیں ہے۔ ہمارا اگر کچھ بس چل سکتا ہے تو اللہ ہی کی توفیق و تائید سے چل سکتا ہے۔ "

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–44

حُسْـبَانًا اس لفظ کی تفسیر حضرت قتادہ ؓ نے مطلق عذاب سے کی ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ نے آگ سے اور بعض نے پتھراؤ سے، اس کے بعد جو قرآن میں آیا ہے اس میں ظاہر یہ ہے کی اس کے باغ اور تمام مال وزر اور سامان عیش پر کوئی بڑی آفت آ پڑی، جس نے سب کو برباد کردیا، قرآن نے صراحۃ، جیسا کہ لفظ حسبان کی تفسیر حضرت ابن عباس ؓ سے بھی آگے منقول ہے، واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَى مَا أَنْفَقَ۔ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا۔ احیط بالشیء کے معنی ہیں وہ چیز تباہ کردی گئی ندامت بعد از وقت : بالآخر وہی ہوا جس سے بندہ مومن نے ڈرایا تھا۔ کوئی آفت ارضی یا سماوی آئی اور اس نے سارے باغ کو آناً فاناً تباہ کرکے رکھ دیا۔ جن ٹٹیوں پر انگور کی بیلیں چڑھائی گئی تھیں وہ فرش زمین ہوگئیں اور سارا باغ ڈھے گیا۔ اب مغرور کی آنکھیں کھلیں، اس کو نظر آیا کہ جس باغ کی تباہی کو وہ بعید از امکان سمجھتا تھا وہ پلک جھپکتے یوں غارت ہو کے رہ گیا۔ تباہ شدہ باغ ایک میت کی طرح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42۔ 1 یہ کنایہ ہے ہلاکت و فنا سے۔ یعنی سارا باغ ہلاک کر ڈالا۔ 42۔ 2 یعنی باغ کی تعمیر و اصلاح اور کاشتکاری کے اخراجات پر کف افسوس ملنے لگا۔ ہاتھ ملنا کنایہ، یہ ہے ندامت سے۔ 42۔ 3 یعنی جن چھتوں، چھپروں پر انگوروں کی بیلیں تھیں، وہ سب زمین پر آرہیں اور انگوروں کی ساری فصل تباہ ہوگئی۔ 42۔ 4 اب اسے احساس ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اس کی نعمتوں سے فیض یاب ہو کر اس کے احکام کا انکار کرنا اور اس کے مقابلے میں سرکشی، کسی طرح بھی ایک انسان کے لئے زیبا نہیں، لیکن اب حسرت و افسوس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا، اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–44

24: آیت نمبر 28 میں کافر سرداروں کے اس تکبر کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ غریب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک ایسا واقعہ بیان فرما رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال و دولت کی زیادتی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر کوئی شخص اترائے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ مضبوط نہ ہو تو بڑے بڑے مال دار لوگ انجام کار ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صحیح ہو تو غریب لوگ ان سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ جن دو آدمیوں کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے ان کی کوئی تفصیل کسی مستند مرفوع روایت میں موجود نہیں ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے کچھ روایتوں کی بنیاد پر یہ کہا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 37–42

یہ ایک مکمل نظر آنے والا ، مجسم منظر ہے۔ اس باغ کا تمام کا تمام پھل تباہ ہوگیا ہے۔ گویا اس پر ہر جانب سے حملہ ہوا اور اس میں سے ایک دانہ بھی نہ بچا اور اس کے تمام درخت اور بوٹے اپنے تنوں اور تینوں پر پڑے تھے اور اس کے درخت اور بیلیں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھس بن گئیں۔ مالک نے جو یہ منظر دیکھا کہ اس کا باغ تو مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے ، تو وہ اپنے اس عظیم مالی بربادی پر ہاتھ ملنے لگا۔ اس کی پوری کی پوری محنت آج چلی گئی۔ اب تو وہ اس پر بھی تادم ہے کہ اس نے اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کیا۔ اب وہ اللہ کی ربوبیت اور وحدانیت کو پوری طرح تسلیم کر رہا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل اس نے کسی شرکیہ عقیدے کا اظہار نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی کف افسوس ملتا رہ گیا۔ 6 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں آخر اس کے باغ پر وہ ہی ہوا جو اس مرد نیک کی زبان سے نکلا تھا۔ رات کو آفت سماوی آگ کی صورت میں آئی۔ سب جل کر ڈھیر ہوگیا۔ مال خرچ کیا تھا پونجی بڑھانے کو وہ اصل بھی کھو بیٹھا۔ 7 مگر۔ اب پچتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اور یہ افسوس و ندامت بھی خدا سے ڈر کر نہیں، محض دنیاوی ضرر پہنچنے کی بنا پر تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 42 وَاُحِيْطَ بِثَمَرِهٖ اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نعمتیں دی گئی تھیں وہ سب اس سے سلب کرلی گئیں۔ باغ بھی اجڑ گیا اور اولاد بھی چھن گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دوسرا شخص اللہ کا خاص مقرب بندہ تھا۔ مال دار شخص نے اسے اس کی ناداری کا طعنہ دیا تھا : اَنَا اَکْثَرُ مِنْکَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا کہ مال و دولت میں بھی مجھے تم پر فوقیت حاصل ہے اور نفری میں بھی میں تم سے بڑھ کر ہوں۔ اس طعنے سے اللہ کے اس نیک بندے کا دل دکھا ہوگا جس کی سزا اسے فوری طور پر ملی اور اللہ نے اس سے سب کچھ چھین لیا۔ اس سلسلے میں ایک حدیث قدسی ہے : مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیاًّ فَقَدْ آذَنْتُہٗ بالْحَرْبِ ”جو شخص…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 42–44

40 تکبر کی سزا :۔ چناچہ موحد کے منہ سے نکلے ہوئے کلمات اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آئے کہ اس کے منہ سے نکلی ہوئی بات فوراً مستجاب ہوگئی اور مشرک کو اس کے تکبر اور غرور کی سزا مل کے رہی۔ جن درختوں کے پھلوں اور اپنی پیداوار کو دیکھ کر وہ اتنا خوش ہو رہا تھا اور کفر کے کلمے بک رہا تھا۔ اس سارے کے سارے باغ پر قہر الٰہی نازل ہوا جس نے اسے زمین بوس کردیا اور صرف موجودہ تیار فصل کا ہی نقصان نہ ہوا بلکہ جو کچھ اس باغ پر خرچ کرچکا تھا سب کچھ ضائع اور برباد ہوگیا اس وقت وہ کف افسوس ملتے ہوئے کہنے لگا۔ کاش میں نے اپنے پروردگار کو حقیقی معنوں میں پروردگار اور نفع و نقصان کا مالک سمجھا ہوتا۔ اس کے کھڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

62۔ یہ قول ندامت ضرر کی بناء پر تھا، اس سے عقیدہ کفر پر ندامت لازم نہیں آتی۔ اس حسرت وندامت سے بھی مقصود تمامتر دنیا ہی تھی، اس لیے یہ قول نجات کے لئے کافی نہ ہوا۔ انما رغب فی التوحید والرد عن الشرک لاجل طلب الدنیا فلھذا السبب ماصار توحیدہ مقبولا عند اللہ (کبیر) (آیت) ” یقلب کفیہ “۔ محاورہ میں تقلیب کفین سے مراد حسرت وندامت ہوتی ہے۔ تقلیب الکفین کنایۃ عن الندم والتحسر (کشاف) وھو کنایۃ عن الندم والحسرۃ (کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 39–44

آیت نمبر 39 تا 44 ترجمہ : اور جب تو باغ میں داخل ہوا تھا تو تو نے اس باغ پر تعجب (پسندیدگی) کے وقت کیوں نہ کہا کہ یہ وہی ہے جو اللہ نے چاہا خدا کی مدد کے بغیر کوئی قوت نہیں اور حدیث شریف میں ہے کہ جس کو بہترین مال یا اولاد عطا کیا گیا ہو اور اس نے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کہہ لیا تو اس مال میں اس کو ناپسندیدہ حالت پیش نہیں آئے گی اور اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم ہوں کچھ بعید نہیں کہ میرا رب مجھ کو تیرے باغ سے اچھا باغ دے دے ( اَنا) دو مفعولوں کے درمیان ضمیر فصل ہے اور فعسیٰ جواب شرط ہے اور اس (تیرے باغ) پر کوئی آسمانی آفت بھیج دے حُسْبَان حُسْبَانَۃ کی جمع ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واحیط بثمرہ فاصبح یقلب کفیہ علی ماانفق فیہا اور اس شخص کے (باغ کے) پھلوں (یا سامان تمول) کو آفت نے آگھیرا پھر اس نے اس باغ پر جو کچھ خرچ کیا تھا اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا۔ یعنی عذاب نے اس کے باغ کے پھلوں یا ہر طرح کے مال کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور خلاف امید تباہ کردیا ‘ احاطہ سے مراد ہے غالب آجانا برباد و تباہ کردینا دشمن جب گھیر لیتا ہے تو جو بھی اس کے احاطہ میں آجائے اس پر غالب آجاتا اور تباہ کردیتا ہے۔ یُقَلِّبُ کَفَّیْہِکف افسوس ملنے لگا ہاتھ پر ہاتھ ملنے لگا یا افسوس و حسرت کے ساتھ ہتھیلیاں اس نے الٹی کرلیں (اور پشت کف کو کاٹنے لگا) تقلیب کفین سے بطور کنایہ مراد ہے پشیمان ہونا یعنی جو کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–43

(32۔ 43) آپ اہل مکہ کے سامنے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے کہ بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے ایک مومن جس کا نام یہودا اور دوسرا کافر جس کا نام ابو فطروس تھا۔ کافر کو دو باغ ہم نے انگوروں کے دے رکھے تھے اور ان دونوں باغوں کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنارکھا تھا اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی۔ دونوں باغ ہر سال اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں نہر چلا رکھی تھی اور اس کے پاس باغ کا پھل تھا اور بھی تمول کا سامان تھا چناچہ ایک دن وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اپنے مال پر فخر کرتا ہوا کہنے لگا کہ میرا مال بھی تجھ سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاُحِيْطَ بِثَمَرِهٖ۔۔ : لفظی معنی ہے اس کے پھل کو گھیر لیا گیا، یعنی سب مارا گیا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا اس مومن نے کہا تھا کہ رات اللہ کی طرف سے کسی عذاب مثلاً طوفانی بارش، یا سردی کی شدید لہر، یا آگ لگنے سے اس کا سارا باغ برباد ہوگیا، انگور چھتوں سمیت گرگئے اور صبح ہوئی تو وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کافر کی عجیب تصویر کھینچی ہے، کیونکہ جب یک لخت صدمہ پہنچتا ہے تو آدمی پہلے گنگ رہ جاتا ہے، پھر کچھ سنبھلتا ہے تو بات کرتا ہے، یہ مشرک بھی اپنے باغ کی حالت دیکھتے ہی اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیرنے لگا۔ اس سے دو صورتیں مراد ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ ایک دوسری پر ملنے لگا اور دوسری یہ کہ حسرت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 42 قولہ تعالیٰ : واحیط بثمرہ اس میں اسم مالم یسم فاعلہ مضمر ہے، اور وہ مصدر ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ اس میں اسم مجرور محل رفع میں ہو۔ اور احیط بثمرہ کا معنی ہے اسکا سارے کا سارا مال ہلاک کردیا گیا۔ اور یہ وہ پہلی چیز ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس کے بھائی کے ڈراوے کو ثابت کردیا اور حقیقت بنا دیا۔ فاصبح یقلب کفیہ یعنی کافر ندامت کے سبب اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مارنے لگا کیونکہ یہ فعل نادم سے صادر ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ اپنی ملکیت الٹ پلٹ کرتا ہے اور جو کچھ اس نے خرچ کیا ہے اس کا عوض اور بدلہ اس میں نہیں دیکھتا، اور یہ اس اعتبار سے ہے کیونکہ یہ فعل نادم سے صادر ہوتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–45

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الحسبان “ سے مراد ہے عذاب۔ 2:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” حسبانا من السمآء “ کے بارے میں بتائیے فرمایا اس سے مراد ہے آگ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حسان بن ثابت ؓ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : بقیۃ معشر صبت علیہم شابیب من الحسبان شھب : ترجمہ : باقی جماعت پر انڈیلا گیا آگ میں سخت گرمی کو جس نے ان کو جھلسادیا۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حسبانا من السمآء “ سے مراد ہے آگ۔ 4:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاُحِيْطَ : اور گھیر (یعنی سمیٹ) لیا گیا ] [بِثَمَرِهٖ : اس کے پھل کو ] [فَاَصْبَحَ : نتیجۃً وہ ہوگیا ] [يُقَلِبُ : الٹتا پلٹتا ہوا ] [كَفَّيْهِ : اپنی دونوں ہتھیلیوں کو (یعنی ہاتھ ملتا رہ گیا)] [عَلٰي مَآ : اس پر جو ] [انفَقَ : اس نے خرچ کیا ] [فِيْهَا : اس (باغ) میں ] [وَ : اس حال میں کہ ] [ھِيَ : وہ (باغ)] [خَاوِيَةٌ: اوندھا تھا ] [عَلٰي عُرُوْشِهَا : اپنی چھتوں پر ] [وَيَـقُوْلُ : اور وہ کہتا تھا ] [يٰلَيْتَنِيْ : اے کاش میں ] [لَمْ اُشْرِكْ : میں شریک نہ کرتا ] [بِرَبِيْٓ: اپنے رب کے ساتھ ] [اَحَدًا : کسی ایک کو ] نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیات 32 سے 44 تک میں جو مثال دی گئی ہے اور اس میں جو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 32–44

عبرت کے لیے دو شخصوں کی مثال، ان میں ایک باغ والا اور دوسرا غریب تھا ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں ایک باغ والے کافر و مشرک اور دوسرے مومن موحد کی گفتگو نقل فرمائی ہے۔ علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 161 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیات اہل مکہ میں سے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئیں دونوں بنی مخزوم میں سے تھے۔ ایک تو حضرت ابو سلمہ ؓ تھے جو رسول اللہ ﷺ سے پہلے حضرت ام سلمہ ؓ کے شوہر تھے اور دوسرا شخص جو کافر تھا وہ اسود بن عبد الاسد تھا یہ ایک قول ہے۔ دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں سے دو شخصوں کا ہے جو آپس میں دونوں بھائی تھے ایک مومن تھا اور ایک کافر تھا اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–44

بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی مثال قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا رجلین .... الیٰ ۔۔۔۔ ھو خری ثوابا وخیر عقبا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی اس درخواست کو رد فرمایا جو اپنے مال و دولت کے نشہ میں چور تھے اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس کرتے تھے اور اپنے مال و دولت پر فخر محسوس کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں تو آپ ان دو ویشان اسلام اور فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کریں اب ان آیات میں ان متکبرین کے سنانے کیلئے اور دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری بتلانے کے لئے بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی ایک مثال ذکر فرماتے ہیں جن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

49:۔ مومن نے جس خیال کا اظہار کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے کر دکھایا اور رات کے وقت ایسا عذاب بھیجا جس سے اس کے باغات اور دیگر اموال تباہ و برباد ہوگئے۔ اھلک اموالہ المعھودۃ من جنتیہ وما فیھما (ابو السعود ج 5 ص 710) ۔ ” فاصبح یقلب کفیہ الخ “ جب صبح کو باغوں کی تباہی کا منظر دیکھا تو جو کچھ باغوں کی دیکھ بھال پر خرچ کیا تھا اس پر کف افسوس ملنے لگا۔ ” و یقول یلیتنی الخ “ اب اسے بھائی کی نصیحت یاد آئی اور سخت نادم ہو کر بول اٹھا، کاش ! میں نے اپنے مالک اور پروردگار کے ساتھ شرک نہ کیا ہوتا۔ یہ اس پر قرینہ ہے کہ وہ مشرک تھا اور غیر اللہ کو کارساز اور حافظ و ناصر سمجھتا تھا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–44

ربط آیات : اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کے سلسلے میں ایک دولت مند مشرک اور ایک ایماندار مومن کی مثال بیان فرمائی ہے امیر آدمی نے اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت کہا کہ یہ تو کبھی فنا نہیں ہوگا ۔ قیامت کا کوئی تصور نہیں ہے اور اگر یہ برپا بھی ہوگئی تو میں اس دنیا کی طرح وہاں بھی خوشحال ہی رہوں گا ، وہ شخص اپنے باغ اور مال و دولت کو اپنا ذاتی کمال سمجھتا تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کا احسان نہیں مانتا تھا ، پھر اس نے اپنے غریب مگر مومن بھائی کو طعن کیا کہ میں تم سے مال اور تعداد میں بہتر ہوں وہ غریب مومن اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرچکا تھا مگر امیر آدمی اپنے مال و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاُحِيْطَ بِثَمَرِہٖ فَاَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْہِ عَلٰي مَآ اَنْفَقَ فِيْہَا وَھِيَ خَاوِيَۃٌ عَلٰي عُرُوْشِہَا وَيَـقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّيْٓ اَحَدًا۝ 42 حيط الحائط : الجدار الذي يَحُوط بالمکان، والإحاطة تقال علی وجهين : أحدهما : في الأجسام نحو : أَحَطْتُ بمکان کذا، أو تستعمل في الحفظ نحو : إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] ، والثاني : في العلم نحو قوله : أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] ( ح و ط ) الحائط ۔ دیوار جو کسی چیز کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہو اور احاطۃ ( افعال ) کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) اجسام کے متعلق جیسے ۔ احطت بمکان کذا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–44

تفسیر …دو شخصوں کا قصہ بطور مثال کے : پھر دنیا کی بےثباتی اور اس کے اسباب و تجمل پر غرور کر کے خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور الحاد کا بدنتیجہ جو کبھی دنیا ہی پر ظاہر ہوتا ہے دو شخصوں کی تمثیل سے بیان فرمایا۔ بعض کہتے ہیں یہ صرف ایک تمثیل ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ دراصل ایسے دو شخص تھے بھی کہ جن کا یہ واقعہ ہے پھر بعض کہتے ہیں کہ یہ دو شخص بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے کہ ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کیا تھا دوسرا دنیادار اور مشرک اور دارآخرت کا منکر تھا۔ اس نے دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے تھے کہ ان میں نہر بھی جاری تھی اور بیچ میں انگور اور آس پاس کھجور کے درخت بھی تھے اور وقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاُحِیْطَ بِثَمَرِہٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ کَـفَّیْہِ عَلٰی مَـآاَنْفَـقَ فِیْھَا وَھِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَا وَیَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِکْ بِرَبِّیْٓ اَحَدًا۔ (الکہف : 42) (اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل، پھر صبح کو وہ رہ گیا ہاتھ ملتا ہوا اس مال پر جو اس نے اس باغ پر خرچ کیا تھا اور وہ باغ اپنی چھتریوں پر گرا پڑا تھا اور وہ کہہ رہا تھا، اے کاش ! میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بناتا۔ ) آخر وہی ہوا جس سے مردمومن نے ڈرایا تھا معلوم ہوتا ہے کہ مردمومن کی نصیحت کا اس مغرور شخص پر کوئی اثر نہ ہوا، وہ اپنے معمول کے مطابق شرک اور نافرمانی کی روش پر چلتا رہا، جس کے نتیجے میں روزبروز…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–44

فہم القرآن ربط کلام : باغ کا تباہ ہونا اور آخرت کے منکر کا حسرت وافسوس سے ہاتھ ملنا۔ آخرت کے منکر کا غرور توڑنے اور اسے اپنی قدرت دکھلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت باغ کو خاکستر بنا دیاجب باغ پھل سے لدا ہوا تھا۔ اس کا مالک تصور نہیں کرسکتا تھا کہ اب یہ باغ اپنے پھل سمیت تباہ ہوجائے گا۔ باغ کے درخت کثرت پھل کی وجہ سے زمین پر جھکے ہوئے تھے جونہی اس کے پھل پکنے کے قریب آئے تو اللہ تعالیٰ کا ایسا غضب نازل ہوا کہ دیکھنے والا یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس قدر شاندار لہلہاتا ہوا باغ کس طرح تباہ ہوگیا ہے۔ باغ کا مالک جب وہاں پہنچا تو جلے ہوئے پودے دیکھ کر لرزتے ہوئے ہونٹوں اور کانپتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نتیجہ کفر و شرک میں تباہی : 42: وَاُحِیْطَ بِثَمَرِہٖ (اور احاطہ کرلیا گیا اس کے پھلوں کا) ہلاکت کی تعبیر ہے۔ اصل میں یہ احاطہ بہ العدو سے لیا گیا ہے۔ کیونکہ دشمن جب گھیرلے تو وہ اس کا مالک اور اس پر مسلط ہوجاتا ہے پھر یہ ہر ہلاکت کیلئے استعمال ہونے لگا۔ فَاَصْبَحَ (پس اس کافر نے صبح کی) یُقَلِّبُ کَفَّیْہِ (وہ کفِ افسوس مل رہا تھا) ایک ہاتھ کو دوسرے پر افسوس و شرمندگی سے مار رہا تھا۔ دو ہاتھوں کا پلٹنا یہ ندامت و حسرت سے کنایہ ہے کیونکہ شرمندہ اپنی ہتھیلیوں کو الٹتا ہے جیسا کہ اس سے بعض ہتھیلی اور سقوط فی الیدکنایۃً مراد لی جاتی ہے۔ اور اس لئے بھی کہ یہ ندامت کے معنی میں ہے۔ اس کو علی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(42)” واحبط بشمرہ “ عذاب نے اس کے باغ کے پھلوں کو یا ہر طرح کے مال کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے اور خلاف امید تباہ کردیا ہے۔ احاطہ سے مراد ہے غالب آجانا، برباد و تباہ کردینا۔ ” فاصبح “ اس کا ساتھی جو کافر تھا۔ ” یقلب کفیہ “ وہ ایک ہاتھ کے ذریعے سے دوسرے ہاتھ کو پونچھنے گا افسوس و حسرس کے ساتھ۔ ” علی ما انفق فیھا وھی خاویۃ “ اور وہ گرپڑا ہے۔ ” علی عروشھا “ اپنی چھتوں کے ساتھ ۔” ویقول یالیتنی لم اشرک بربی احداً “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–44

32۔ 44:۔ اوپر ان مالدار مشرکین مکہ کا ذکر تھا جو غریب مسکین مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے سے گھبراتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کہاوت بیان کی کہ دو مرد تھے ایک کے دو باغ تھے انگور اور کھجور کے جن کے درمیان میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ ہر طرح کے درخت اور پھل پھول اور میوے پیدا ہوتے تھے ولم تظلم منہ شیئا سے اسی مطلب کو ادا فرمایا ہے۔ پھر فرمایا ان باغوں میں نہریں جاری تھیں پھر فرمایا اس باغ والے نے اپنے دوسرے بھائی سے بطور فخر کے کہا کہ میں تجھ سے مال واولاد اور خدمت گاروں میں زیادہ عزت والا ہوں اور وہ اپنی باغ میں اپنے بھائی کا بھی ہاتھ پکڑ کر میں قیامت کے قائم ہونے کا خیال نہیں رکھتا اور اگر بالفرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 39–45

آیت 39 یعنی صاحب ایمانشخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پر مجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نواشز اور احسان پر رکھی جاسکتی ہے وہ اس دنیا ومافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (آیت) ” پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر “ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کردیا ،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–60

ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–43

74۔ منکر انسان آخر کار پنجہ عذاب کی گرفت میں، والعیاذ باللہ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار گھیر لیا گیا اس کے باغ کو ایک ناگہانی آفت سے جس سے وہ تباہ و برباد اور کان لم یکن ہو کر رہ گیا، سو آخر کار وہی ہوا جس سے اس بندہ مومن نے اس شخـص کو خبردار کیا تھا اور جس سے وہ سب کچھ مٹ مٹا گیا۔ جس کا اس شخص کو بڑا گھمنڈ اور غرور تھا۔ اور جس کی بناء پر وہ حق بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا تھا۔ اب اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہا تھا۔ والعیاذ باللہ، سو جس باغ کے بارے میں اس شخص کا کہنا تھا کہ میں کبھی گمان بھی نہیں کرسکتا کہ یہ باغ بھی کبھی تباہ ہوسکتا ہے۔ ما اظن ان تبیدھذہ ابدا وہ اس طرح اجڑ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–46

سبق آموز کہانی اور نیکیوں کا بدلہ تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی حاکمیت، قدرت کاملہ اور وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر انسان کو روزی رزق دیتا ہے تو انسان کا فرض ہے اس کی نعمتوں کو حاصل کر کے فخر و غرور نہ کرے اور اس قدر بدمست نہ ہوجائے کہ اللہ کے وجود اور قیامت کا انکار کردے اور نعمتوں کا شکر ہی ادا نہ کرے اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگے۔ یہ سب انسانیت کے خلاف اور برے رویے ہیں ہمارا مذہب اسلام ان تمام اخلاقی برائیوں سے منع کرتا ہے، یعنی کسی کو حقیر سمجھنا اور شکر الٰہی ادا نہ کرنا۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی نعمت یا خوبصورت چیز کو دیکھو یا کامیابی حاصل کرو تو اس کو دیکھ کر ماشَائَ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–44

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف دنیا میں بھی یہی مثالیں موجود ہیں جو اقوام کے حالات میں بھی نظر آتی ہیں اور افراد کے حالات میں بھی آپ انہیں ان دو آدمیوں کی مثال دیجئے جو دونوں دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو ہم نے زیادہ مالدار کردیا ، اس کے انگوروں کے باغات تھے جن کے گردا گرد کے درخت اور درمیان میں زرعی زمین تھی یعنی کھجوریں پھل اور غلہ جیسی سب نعمتیں بیک وقت ان باغوں سے حاصل ہوتیں ، اور وہ پورا پورا پھل دیتے کبھی ان میں کمی نہ آتی تھی ، ان باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کردی تھی جس کے سبب وہ ہمیشہ سرسبز رہتے اور ہر موسم کا پھل بہتات سے حاصل ہوتی ، جبکہ دوسرا دوست ایسا مالدار نہ تھا ، ایک روز باتوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–45

ف 1 وہی ہے کہ جب چاہتا ہے کسی کو خوشحالی فارغ البالی اور مال و دولت عطا کرتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے اسے تنگ حالی فقر و فاقہ اور بدحالی میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ پس انسان کو چاہیے کہ مال و دولت پر غرور نہ کرے بلکہ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی طر سے نعمت سمجھ کر اس کی شکر گزاری ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:42) احیط۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب احاطۃ مصدر ( باب افعال) اسے گھیر لیا گیا۔ احاطۃ کے معنی ہیں کسی شے پر اس طرح چھا جانا۔ گھیر لینا یا قابو میں لانا کہ اس سے فرار ممکن نہ ہو۔ یہ احاط بہ العدو (دشمن نے اس کو گھیرے میں لے لیا) سے ہے۔ جب دشمن گھیرے میں لے لیتا ہے تو اپنے مخالف پر پوری طرح قابو پالیتا ہے ۔ پھر اس کا استعمال ہر اہلاک پر ہونے لگا۔ یہاں پر احیط بثمرہ بمعنی احاط العذاب بثمر جنتہ آفت نے اس کے اس باغ کے پھل کو تباہ کردیا یا اگر ثمر سے مراد باغ کا پھل اور دیگر مال ومتاع لیا جائے تو اھلک ما لہ کلہ عذاب یا آفت نے اس کا تمام مال ومتاع برباد کردیا۔ اصبح یقلب کفیہ۔ وہ کف افسوس ملنے لگا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 37–44

لغات القرآن آیت نمبر 37 تا 44 یح اور وہ بات کرتا ہے۔ تراب مٹی۔ سوی برابر کیا، مکمل کیا۔ ان ترن اگر تو مجھے دیکھتا ہے۔ ان یوتین یہ کہ مجھے دیدے۔ یرسل وہ بھیجتا ہے۔ حسبان آفت، مصیبت۔ صعید چٹیل میدان، نرم مٹی۔ زلق چکنی مٹی۔ غور گہرائی میں اتر جانا۔ احیط گھیر لیا گیا۔ یقلب وہ الٹتا پلٹتا ہے۔ کفیہ (کفین) اپنی دو ہتھیلیاں۔ انفقف اس نے خرچ کیا۔ خاویۃ او ندھی پڑی رہنے والی۔ عروش (عرش) بلندی، چھتیں فئۃ جماعت۔ گروہ ھنالک اسی جگہ۔ الولایۃ اختیار۔ عقب انجام، اجرت دینا۔ تشریح : آیت نمبر 37 تا 44 دنیا اور اس کی دولت کی خاصیت یہ ہے کہ اگر ایک شخص ایمان اور عمل صالح سے دور ہو تو وہ بےجا فخر و غرور اور ناشکری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 39–44

بقیہ قصہ دو بھائیوں کا، حشر کی تصدیق اور یہ بھی کہا کہ بجائے اس فخر اور ناشکری کے لفظوں کے تو یہ کہتا کہ انسان کی کیا طاقت تھی کہ وہ ایسا باغ لگاتا اور اتنا مال کماتا تو خوب ہوتا۔ کیونکہ انسان کو جو کچھ فارغ البالی ہوتی ہے وہ اللہ ہی کے چاہنے سے ہوتی ہے۔ اگرچہ مال واولاد نہ ہونے کے سبب سے تو مجھے حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے، مگر مجھ کو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ آخرت میں تیرے اس باغ سے بہتر مجھے باغ دیوے گا۔ او تیری اس ناشکری اور نافرمانی کے سبب سے اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ وہ تیرے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج دیوے۔ آخر کو اس ایماندار شخص کی زبان سے جو نکلا تھا وہی ہوا کہ جس باغ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 42–44

[13] جب انسان اللہ سے غافل ہوتا ہے تو اس گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ جو سازوسامان اور مال و اسباب مجھے حاصل ہیں وہ میری محنت، تدبر اور صلاحیت کا نتیجہ ہیں۔ یہی خناس اس شخص کے دماغ میں بھی سمایا ہوا تھا جس کا یہاں ذکر ہے۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ وہ کونسا شرک تھا جس پر وہ اظہار پشیمانی کررہا ہے کیونکہ اس پورے قصہ میں کسی دیوی دیوتا کا ذکر نہیں ہے۔ اس کا شرک یہ تھا کہ اس نے فاعل حقیقی اور مسبب الاسباب اللہ کو چھوڑ کر اپنے باغ اور کھیتی کو اپنی محنت و صلاحیت کا ثمر سمجھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–44

سرمایہ داری کا غرور : (ف 1) مکہ والے مال و دولت کے نشہ میں سرشار تھے ، تمول کا خمار آنکھوں میں تھا اور امارت کا سودا دماغ میں سجا رہا تھا ، مسلمان ابتداء غریب تھے ، اس لئے وہ از راہ کبر مسلمانوں سے نفرت کرتے ، ان کے مذہب کو غربت ومسکنت کا مذہب سمجھتے اور کہتے کہ ہم ایسے دین کو قبول نہیں کرسکتے ، جس کے ماننے والے دنیوی حیثیت سے ہم سے بلند اور اعلی نہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر نعمت سے بہرہ ور کیا ہے ، اس کے پاس شاداب باغ اور کھیت ہیں ، بکثرت دوست و مددگار ہیں ، مگر مغرور ومتکبر ہے ، اپنے جاہ وحشم کو دیکھتا ہے ، اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-42 اور اس کے تمام پھل اور جملہ سا مان تمول آفت آسمانی سے گھیر لیا گیا اور جو اس نے اس باغ پر روپیہ خرچ کیا تھا اور باغ کی درستی پر جس قدر روپیہ خرچ ہوا تھا یہ اس پر صبح کو ہاتھ ملتا رہ گیا اور اس باغ کی حالت یہ ہوگئی کہ وہ اپنی ٹٹیوں پر گرا اور ڈھیا ہوا پڑا تھا اس حالت سے متاثر ہو کر کہنے لگا اے کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 42–43

ف 5۔ معلوم نہیں کیا آفت تھی، لیکن ظاہرا اس کے ابہام سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی عظیم آفت تھی۔ 6۔ مراد یہ کہ کفر نہ کرتا، مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمجھ گیا کہ یہ آفت کفر کے انتقام میں آئی ہے، اس لئے اس پر نادم ہوتا ہے کہ اگر کفر نہ کرتا تو یا تو آفت نہ آتی یا آتی تو اس کا بدل آخرت میں ملتا، اب خسر الدینا والاخرة کا مضمون ہوگیا، یہ باتیں مومن سے اس کے کان میں پڑی ہوں گی، اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مومن ہوگیا کیونکہ یہ ندامت ضرر کی وجہ سے ہے۔ کفر کے مذموم ہونے کیو جہ سے ندامت ثابت نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زیادہ وقت نہ نکلا تھا کہ اس کے باغات کو گھیرلیا گیا اور وہ آفت زدہ ہو کر رہ گئے : 45۔ بالاخر یہی ہوا کہ اس کے وہ دونوں باغات جن کی شادابیوں اور عطر بیزیوں پر اس کو گھمنڈ تھا اچانک جل بھن کر خاک ہوگئے اور کل جہاں چمن زار تھا آج وہاں ویرانی کے سوا کچھ نہ تھا اس حالت کو دیکھ کر اس پر کیا گزری ہوگی قرآن کریم نے آگے بات نہیں چلائی اس لئے کہ اس ناگفتنی حالت کو فطرت انسانی خود سمجھتی ہے کہ آسانیوں اور فراونیوں کے بعد مشکلات اور تنگ دستیاں آجائیں تو کیا ہوتا ہے ؟ وہ منظر اللہ نہ دکھائے کہ انسان نہ مرتا ہے نہ جیتا ۔ اللہ کرے کہ انسان کی گزشتہ زندگی سے آنے والی زندگی آسان سے آسان تر ہوتی جائے ، اگر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–45

The word: حُسبانا - (husbana) in verse 40 has been explained by Qatadah as 'punishment' in an absolute sense, by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ as 'fire' and by some as 'stoning.' As for what appears after that in the Qur'an: أُحِيطَ بِثَمَرِ‌هِ (And its produce was struck by destruction from all sides - 42), it obviously means that some major calamity hit his gardens, wealth and things of luxury reducing everything to ruins. The Qur'an does not mention any particular calamity explicitly. It appears that, some fire came down from the skies and burnt the whole thing - as it appears in the Tafsir of…

Read the full tafseer →