Explained with ayahs 45–46
حیات و موت کا نقشہ
دنیا اپنے زوال، فنا، خاتمے اور بردباری کے لحاظ سے مثل آسمانی بارش کے ہے جو زمین کے دانوں وغیرہ سے ملتا ہے اور ہزارہا پودے لہلہانے لگتے ہیں، تروتازگی اور زندگی کے آثار ہر چیز سے ظاہر ہونے لگتے ہیں لیکن کچھ دنوں کے گزرتے ہی وہ سوکھ ساکھ کر چورا چورا ہوجاتے ہیں، اور ہوائیں انہیں دائیں بائیں اڑائے پھرتی ہیں۔ اس حالت پر اللہ قادر تھا وہ اس حالت پر بھی قادر ہے۔ عموما دنیا کی مثال بارش سے بیان فرمائی جاتی ہے جیسے سورة حدید کی آیت (اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَاۗءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
سورة الْكَهْف 41
یعنی وہ زندگی بھی بخشتا ہے اور موت بھی۔ وہ عروج بھی عطا کرتا ہے اور زوال بھی۔ اس کے حکم سے بہار آتی ہے تو خزاں بھی آجاتی ہے۔ اگر آج تمہیں عیش اور خوشحالی میسر ہے تو اس غرے میں نہ رہو کہ یہ حالت لازوال ہے۔ جس خدا کے حکم سے یہ کچھ تمہیں ملا ہے اسی کے حکم سے سب کچھ تم سے چھن بھی سکتا ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اس سے پہلے دنیوی زندگی اور اس کے سامان کی ناپائیداری ایک شخص اور جزوی مثال سے بیان فرمائی تھی، اب یہی مضمون عام اور کلی مثال سے واضح کیا جاتا ہے) اور آپ ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی حالت بیان فرمائیے کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا ہو پھر اس (پانی سے) زمین کی نباتات خوب گنجان ہوگئی ہوں پھر وہ (بعد اس کے کہ سرسبز و تروتازہ تھی خشک ہو کر) ریزہ ریزہ ہوجائے کہ اس کو ہوا اڑائے لئے پھرتی ہو (یہی حال دنیا کا ہے کہ آج ہری بھری نظر آتی ہے کل اس کا نام و نشان بھی نہ رہے گا) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں (جب چاہیں ایجاد کریں ترقی دیں اور جب چاہیں فنا کردیں اور جب…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 45 تا 49: آگے اس دنیا کی زندگی کی تمثیل پیش کی ہے جس محبت میں اندھے ہو کر یہ سرگشتگان غفلت قرآن اور پیغمبر ﷺ کی باتیں سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ فرمایا کہ اس دنیا کی جتنی زینتیں ہیں ان میں سے کوئی چیز بھی ساتھ جانے والی نہیں ہے، صرف آدمی کے اعمال صالحہ اس کے ساتھ جائیں گے تو جس کو کمائی کرنی ہو وہ اعمال صالحہ کی کمائی کرے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الأرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِرًا۔
" اختلط بہ نبات الارض " سے…
Read the full tafseer →45۔ 1 اس آیت میں دنیا کی بےثباتی اور ناپائداری کو کھیتی کی مثال کے ذریعے واضح کیا گیا ہے کہ کھیتی میں لگے پودوں اور درختوں پر جب آسمان سے بارش برستی ہے تو پانی سے ملکر کھیتی لہلہا اٹھتی ہے، پودے اور درخت حیات نو سے شاداب ہوجاتے ہیں۔ لیکن پھر ایک وقت آتا ہے کہ کھیتی سوکھ جاتی ہے۔ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے یا فصل پک جانے کے سبب تو پھر ہوائیں اس کو اڑائے پھرتی ہیں۔ ہوا کا ایک جھونکا کبھی اسے دائیں اور کبھی بائیں جانب جھکا دیتا ہے۔ دنیا کی زندگی بھی ہوا کے ایک جھونکے یا اس پانی کے بلبلے یا کھیتی ہی کی طرح ہے، جو اپنی چند روزہ بہار دکھا کر فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ اور یہ سارے تصرفات اس ہستی کے…
Read the full tafseer →25: جس طرح یہ سبزہ ناپائیدار ہے کہ شروع میں اس کی خوب بہار نظر آتی ہے لیکن آخر کار وہ چورا چورا ہو کر ہوا میں بکھر جاتا ہے، اسی طرح دنیوی زندگی بھی شروع میں بڑی خوبصورت اور بارونق معلوم ہوتی ہے، لیکن انجام کار وہ فنا ہوجانے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
یہ منظر درحقیقت ایک مختصر جھلکی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو بتایا جائے کہ یہ دنیا فانی ہے۔ آسمانی سے پانی برستا ہے ، یہ پانی نہ بہتا ہے اور نہ سیلاب کی شکل اختیار کرتا ہے بلکہ یہ براہ راست نباتات کے ساتھ مختلط ہوجاتی ہے اور یہ نباتات ابھی پوری طرح نشو و نما نہیں پاتے اور پکتے ہی نہیں کہ یہ ایک بھوسے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور وہ دیکھو ہوا اس بھوسے کو اڑائے پھرتی ہے۔ غرض تین مختصر ترین جملوں میں زندگی کی کہانی کہہ دی جاتی ہے۔
یہاں تین فقروں کے اندر مختصر ترین جملوں میں زندگی کی کہانی کہہ دی جاتی ہے۔
یہاں تین فقروں کے اندر مختصر ترین انداز میں پوری زندگی کی کہانی کہہ دی اور پھر یہ کہا…
Read the full tafseer →10 یعنی دنیا کی عارضی بہار اور فانی و سریع الزوال تروتازگی کی مثال ایسی سمجھو کہ خشک اور مردہ زمین پر بارش کا پانی پڑا، وہ یک بیک جی اٹھی، گنجان درخت اور مختلف اجزاء سے رلا ملا سبزہ نکل آیا۔ لہلہاتی کھیتی آنکھوں کو بھلی معلوم ہونے لگی۔ مگر چند روز ہی گزرے کہ زرد ہو کر سوکھنا شروع ہوگئی۔ آخر ایک وقت آیا کہ کاٹ چھانٹ کر برابر کردی گئی۔ پھر ریزہ ریزہ ہو کر ہوا میں اڑائی گئی۔ یہ ہی حال دنیا کے دیدہ زیب وابلہ فریب بناؤ سنگار کا سمجھو۔ چند روز کے لیے خوب ہری بھری نظر آتی ہے، آخر میں چورہ ہو کر ہوا میں اڑ جائے گی۔ اور کٹ چھٹ کر سب میدان صاف ہوجائے گا جیسا کہ آگے (وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ…
Read the full tafseer →وَكَان اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا
سبزے کے اگنے اس کے نشو ونما پانے اور پھر خشک ہو کر خس و خاشاک کی شکل اختیار کرلینے کے عمل کو انسانی زندگی کی مشابہت کی بنا پر یہاں بیان کیا گیا ہے۔ بارش کے برستے ہی زمین سے طرح طرح کے نباتات نکل آتے ہیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے زمین سر سبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ جب یہ سبزہ اپنے جوبن پر ہوتا ہے تو بڑا خوش کن منظر پیش کرتا ہے۔ مگر پھر جلد ہی اس پر زردی چھانے لگتی ہے اور چند ہی دنوں میں لہلہاتا ہوا سبزہ خس و خاشاک کا ڈھیر بن جاتا ہے اور زمین پھر سے چٹیل میدان کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ سبزے یا کسی فصل کے اگنے بڑھنے اور خشک ہونے کا یہ دورانیہ چند ہفتوں پر…
Read the full tafseer →41 زندگی کے مراحل دنیا کی زندگی کی مثال نباتات سے :۔ دنیا کی زندگی کی مثال نباتات سے اس لیے دی گئی ہے کہ اس کی سب کو فوراً سمجھ آجاتی ہے ورنہ اس دنیا کی ہر جاندار اور بےجان چیز جس میں نباتات بھی شامل ہے انھیں مراحل سے گزرتی ہے۔ زمین پر بارش برسنے سے نباتات اگ آتی ہے پھر وہ بڑی ہوتی اور لہلہاتی ہے جو بن پر آتی ہے تو ہر ایک کو بہت بھلی معلوم ہوتی ہے پھر عروج کے بعد اس میں زوال آنا شروع ہوجاتا ہے اور وہ زرد ہونا شروع ہوجاتی ہے اب اگر اس زرد فصل کو پہلے کی طرح پانی سے سیراب کیا بھی جائے تو دوبارہ اس میں کبھی بہار یا ہریاول نہیں آئے گی اس لیے کہ اس کے انحطاط یا زوال کا دور شروع ہوچکا ہے پھر وہ فصل…
Read the full tafseer →65۔ (اور خوب سرسبز و شاداب) دنیا کے مال وجاہ کے حقیر، فانی اور بےحقیقت ہونے پر ایک تمثیل ابھی اوپر گذر چکی، مذاق وفہم عرب کے خاص طور پر موافق، اور دوسری تمثیل اب بیان ہو رہی ہے۔ (آیت) ” کمآء “۔ ک حرف تشبیہ ہے۔ اس کا تعلق محض لفظ ماء سے نہیں، بلکہ آگے کی پوری عبادت سے ہے۔
66۔ ایجاد واعدام، ابقاء وافناء سب پر یکساں قادر، جب اور جیسے چاہے، ہست سے نیست کردے اور نیستی سے ہستی میں لے آئے۔ (آیت) ” کمآء۔۔ الریح “۔ سو یہی حال دنیا کا بھی ہے ابھی ہری بھری نظر آرہی ہے، اور عنقریب ہلاک وبرباد ہو کر رہے گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آیت نمبر 45 تا 46
ترجمہ : آپ اپنی قوم کے لئے دنیوی زندگی کی مثال بیان کیجئے، مَثَلَ (اِضرب بمعنی صیَّر) کا مفعول اول ہے کماءٍ مفعول ثانی ہے
(دنیاوی زندگی کی مثال ایسی ہے) جیسے ہم نے بادلوں سے پانی برسایا اس (پانی) کی وجہ سے زمین کا سبزہ (آپس) میں اس پانی برسنے کی وجہ سے گتھ گیا اور سبزہ پانی کی وجہ سے رل مل گیا اور سرسبز وبارونق ہوگیا پھر وہ سبزہ سوکھ کر ایسا چورا چورا ہوگیا کہ اس کے ذرّے متفرق ہوگئے جن کو ہوا اڑائے پھرتی ہے یعنی ریزہ ریزہ کر کے ہوا اس کو اڑائے پھرتی ہے حتی کہ اس کا نام ونشان مٹا دیا، مطلب یہ ہے کہ آپ دنیا کو ایسے خوشنما سبزے سے تشبیہ دیجئے جو آخر کار خشک ہو کر چورا ہوگیا ہو…
Read the full tafseer →واضرب لہم مثل الحیوب الدنیا کمآء انزلنہ من السمآء فاختلط بہ نبات الارض فاصبح ہشیماً تذروہ الریح اور آپ ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی حالت بیان کیجئے کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے
آسمان سے پانی برسایا ہو ‘ پھر اس کے ذریعہ سے زمین کی نباتات خوب گنجان ہوگئی ہوں پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے کہ اس کو ہوائیں اڑائے پھرتی ہوں۔ یعنی دنیوی زندگی کی رونق اور اس کی زوال پذیری کی کیفیت بیان کرو ‘ یا حیات دنیا کی عجیب حالت بیان کرو (مثل کا معنی عجیب کیفیت بھی ہے اور اس حالت کو بھی مثل کہتے ہیں۔ جو کسی دوسری حالت کے مشابہ ہو خواہ اس میں کوئی ندرت نہ ہو مگر غرض تشبیہ پوری ہو رہی ہو اور مشبہ کی حالت مشبہ بہ کی حالت کے…
Read the full tafseer →(45) آپ اہل مکہ سے دنیوی زندگی کی بقاء اور فنا کی حالت بیان کیجیے جیسا کہ ہم نے آسمان سے پانی برسایا ہو، پھر اس پانی کے ذریعے سے زمین کے نباتات خوب گنجان ہوگئے ہوں پھر وہ خشک ہو کر ریزہ ریزہ ہوجائے کہ اسے ہوا میں اڑائے پھرے اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے، یہی حالت اس دنیوی زندگی کی ہے کہ نیست ونابود ہوجائے گی اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا، اور اللہ تعالیٰ کو دنیا کے فنا اور آخرت کی بقاء پر پوری قدرت حاصل ہے۔
Read the full tafseer →وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔۔ : ”هَشِيْمًا“ یہ ”فَعِیْلٌ“ بمعنی ”مَفْعُوْلٌ“ ہے، یعنی چورا چورا کیا ہوا۔ ”تَذْرُوْهُ“ ”ذَرَا یَذْرُوْ“ (ن) ہواؤں کا اڑانا۔ ”مُّقْتَدِرًا“ ”قَدَرَ یَقْدِرُ“ سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، حروف زیادہ ہونے سے معنی زیادہ ہوگیا، یعنی پوری قدرت رکھنے والا۔ یہ دنیا کی بےثباتی کی ایک اور مثال ہے، یعنی دنیا کی مثال اس پانی کی سی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اتارا، اس کے ساتھ زمین سے پودے اگے، پھر اتنے گھنے ہوگئے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نہایت خوب صورت منظر پیش کرنے لگے، جسے دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے، پھر وہ کھیتی پک کر زرد ہوگئی، پھر ایسی خشک ہوئی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 45
قولہ تعالیٰ : واضرب لھم مثل الحیوۃ الدنیا یعنی آپ ان تکبر کرنے والوں کیلئے جو آپ سے فقراء مومنین کو اپنے آپ سے دور ہٹانے کی درخواست کرتے ہیں دنیوی زندگی کی ایک مثال بیان فرمائیے، یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے تشبیہ دی ہے۔ کماء انزلنا من السمآء فاختلط بہ کہ یہ پانی کی طرح ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا ہے یعنی پانی کے ساتھ۔ نبات الارض یعنی اس پانی سے زمین کی انگوریاں گنجان ہو کر اگتی ہیں، یہاں تک کہ زمین ہموار ہوجاتی ہے، برابر ہوجاتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک وہ انگوریاں بعض بعض کے ساتھ مل جاتی ہیں جس وقت اس پر پانی برستا ہے، کیونکہ نباتات گنجان ہوجاتی ہیں اور بارش کے سبب بڑھ جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الحسبان “ سے مراد ہے عذاب۔
2:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” حسبانا من السمآء “ کے بارے میں بتائیے فرمایا اس سے مراد ہے آگ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حسان بن ثابت ؓ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا :
بقیۃ معشر صبت علیہم شابیب من الحسبان شھب :
ترجمہ : باقی جماعت پر انڈیلا گیا آگ میں سخت گرمی کو جس نے ان کو جھلسادیا۔
3:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حسبانا من السمآء “ سے مراد ہے آگ۔
4:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے…
Read the full tafseer →[وَاضْرِبْ : اور آپ ﷺ بیان کریں ] [لَهُمْ : ان لوگوں کے لئے ] [مَّثَلَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی کی مثال ] [كَمَاۗءٍ : کچھ پانی کی مانند ] [انزَلْنٰهُ : ہم نے اتارا جن کو ] [مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [فَاخْتَلَطَ : پھر ملا ] [بِهٖ : اس (پانی) سے ] [نَبَاتُ الْاَرْضِ : زمین کا سبزہ ] [فَاَصْبَحَ : پھر وہ (سبزہ) ہوگیا ] [هَشِيْمًا : چورا ] [تَذْرُوْهُ : بکھیرتی ہیں اس کو ] [الرِّيٰحُ : ہوائیں ] [وَكَان : اور ہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [مُّقْتَدِرًا : پوری طرح قابو یافتہ ]
ھـ ش م
[ھشما : (ض) ] کسی چیز کو توڑنا۔
ھشیم فعیل کے وزن پر صفت ہے اسم المفعول کے…
Read the full tafseer →دنیا کی بےثباتی کی ایک مثال اور قیامت میں مجرمین کی حیرت کا منظر
یہ رکوع پانچ آیات پر مشتمل ہے اس میں اول تو دنیا کی ظاہری چند دن کی زیب وزینت کو بیان فرمایا اور ساتھ ہی یوں فرمایا کہ اعمال صالحہ ہی باقی رہنے والے ہیں اور ثواب اور امید کے اعتبار سے بہتر ہیں، پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش ہونے اور اعما لنامے سامنے آنے کا تذکرہ فرمایا یہ سب باتیں عبرت اور نصیحت کے لیے ہیں۔ دنیا کی حالت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (کَمَآءٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ ) (الآیۃ) یعنی دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس پانی کی وجہ سے زمین سے پیدا ہونے والی چیزیں ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
دنیا کے فناء وزوال کی ایک مثال
قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثل الحیوۃ الدنیا کماء انزلنہ .... الیٰ .... ولا یظلم ربک احدا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں دو شخصوں کی مثال بیان کی تھی جس سے دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری کو بتلانا مقصود تھا اب پھر دنیا کی بےثباتی کے لئے ایک دوسری مثال بیان فرماتے ہیں تاکہ دنیا کی اندرونی حقیقت ظاہر ہوجائے اور لوگ اس کی ظاہری زیب وزینت کو دیکھ کر فریفتہ نہ ہوں اور اس کی ظاہری آرائش سے دھوکہ نہ کھائیں اور سمجھ جائیں کہ یہ دنیا ہیچ ہے۔ قابل فخر نہیں قابل فخر اور قابل شکر باقیات صالحات یعنی اعمال صالحہ ہیں جن کے مقابلہ میں ساری دنیا کی آرائش اور زیبائش ہیچ ہے۔ دنیا تو خسیس ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
51:۔ یہاں سے اصلاحِ منکرین کا دوسرا طریقہ شروع ہوتا ہے۔ یہاں بیان فرمایا کہ یہ مال و اولاد اور یہ دنیوی شان و شوکت نہایت حقیر اور ناپائیدار ہے، اس کی خاطر تم حق سے منہ موڑ کر اپنی ابدی زندگی اور اخروی حیات کو کیوں برباد کرتے ہو۔ اعلم ان المقصود اضرب مثلاً آخر یدل علی حقارۃ الدنیا وقلۃ بقائھا (کبیر ج 5 ص 722) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک دنیادار مشرک اور ایک ایماندار غریب آدمی کی مثال بیان فرمائی ، ان کی آپس میں گفتگو کا تذکرہ ہوا مشرک بڑا مغرور تھا اور ایماندار آدمی کو قلت مال اور قلت اولاد کا طعنہ دیتا تھا ، ایماندار آدمی نے اس مشرک سے کہا کہ تو اس پروردگار کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے پہلے مٹی سے بنایا اور پھر قطرہ آب سے تخلیق کی ، تجھے انسان بنایا اچھی شکل و صورت عطا فرمائی تو جو چاہئے عقیدہ اختیار کر مگر میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تمہارا فرض یہ تھا کہ باغ میں داخل ہوتے وقت تمہاری زبان پر یہ کلمات ہوتے ” ماشآء…
Read the full tafseer →وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا كَمَاۗءٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَاۗءِ فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ ہَشِيْمًا تَذْرُوْہُ الرِّيٰحُ 0ۭ وَكَانَ اللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا 45
ضَرْبُ المَثلِ
هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ
[ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ،
ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
ترکیب : مثل الحیات مفعول ہے اضرب کا کماء موصوف انزلناہ الخ جملہ صفت مجموعہ خبر ہے مبتدا محذوف کی اے ھی بل للخروج من کلام الیٰ آخر۔
تفسیر : یہ دوسری تمثیل ہے دنیا کی بےثبانی کے لیے صرف بارش سے دنیا کی زندگی کو تشبیہ نہیں دی بلکہ اس کی تمام کیفیت سے کہ جس طرح بارش سے زمین کے نباتات ہرے بھرے لہلہاتے ہوئے نکلتے ہیں جن کو دیکھ کر انسان خوش ہوتے ہیں ان کی تھوڑی سی عمر طبعی ہے چند روز کے بعد خشک ہوجاتے ہیں پھر ان کا چورا چورا ہو کر ہوا میں اڑتا پھرتا ہے اسی طرح انسان و دیگر حیوانات کا حال ہے کہ لڑکے ہیں پھر جوان رعنا ہیں ٹھوکریں مارتے چلتے ہیں ‘ پھر بڈھے ہوئے مرگئے ‘ چند روز کے بعد وہ سرِ پر غرور…
Read the full tafseer →وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآئٍ اَنْزَلْنٰـہُ مِنَ السَّمَآئِ فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ ہَشِیْمًا تَذْرُوْہُ الرِّیٰـحُ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ مُّقْتَدِرًا۔ (الکہف : 45)
(اور بیان کیجیے ان کے سامنے حیات دنیا کی تمثیل جس طرح پانی کہ ہم نے اسے آسمان سے نازل کیا کہ گنجان ہوجاتی ہے اس سے زمین کی پود پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ خشک بوسیدہ گھاس ہوجاتی ہے جسے ہَوائیں اڑائے پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ )
حیاتِ دنیا کی تمثیل
ہم اس سے پہلے پڑھ چکے ہیں کہ اشرافِ قریش اور دیگر قبیلوں کے سردار آنحضرت ﷺ سے تقاضا کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
فہم القرآن
ربط کلام : باغ کی تباہی کے بیان کے بعد دنیا کی زندگی کے انجام کا ذکر۔ جس طرح لہلہاتا ہو اباغ اجڑ گیا اسی طرح ہی ایک دن آئے گا کہ جب پوری دنیا اجڑ جائے گی۔
جس طرح کسی فصل اور باغ کے لیے پہلے زمین ہموار اور ساز گار بنائی جاتی ہے۔ پھر اس زمین میں بیج یا پودے لگائے جاتے ہیں یہی اس دنیا کی زندگی کی مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش نازل کرتا ہے جس سے زمین میں ہر قسم کی نباتات اگتی ہیں ان میں گھاس اور ایسی جڑی بوٹیاں ہوتی ہیں جن سے صحر ا، بیابان ہرے بھرے اور شاندار منظر پیش کرتے ہیں ہر طرف ہریالی اور شادابی نظر آتی ہے۔ جونہی ان کا موسم اور مدت پوری ہوجاتیتو گھاس اور جڑی بوٹیاں تنکوں کے…
Read the full tafseer →بےثباتی ٔ دنیا کی مثال :
45: وَاضْرِبْ لَھُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآٓ ئٍ اَنْزَلْنٰـہٗ مِنَ السَّمَآ ئِ (آپ ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی حالت بیان کیجئے کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا) وہ دنیا کی زندگی میں پانی جیسی ہے جس کو آسمان سے اتارا۔
فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ (پھر اس کے ذریعہ زمین کی نباتات خوب گنجان ہوگئی) ۔ نمبر 1۔ اس کے سبب سے گھنی ہوگئی اور آپس میں لپٹ گئی ایک دوسرے میں گھس گئی۔ نمبر 2۔ پانی نبات میں اثر انداز ہو کر اس سے مل جل گیا یہاں تک کہ وہ نبات سیراب ہوگئی۔
فَاَصْبَحَ ھَشِیْمًا (پھر وہ ریزہ ریزہ ہوگئی) خشک اور ٹکڑے ٹکڑے ھشیما کا واحد ھشیمۃ…
Read the full tafseer →تفسیر (45)” واضرب لھم “ اے محمد ! (ﷺ) اپنی قوم کو بیان کیجئے۔ ” مثل الحیوۃ الدنیا کماء انزلنہ من السمائ “ اس سے مراد بارش ہے۔” فاخلتط بہ نبات الارض “ اس سے ہر قسم کے رنگ دار پھول و سبزہ اگایا۔ ” فاصبح “ پھر تھوڑی ہی دیر میں ( ھشیما) وہ سبزہ خشک ہوکر ریزہ ریزہ ہوگیا۔
ابن عباس ؓ اور ضحاک کا بیان ہے کہ اس کا معنی ہے ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ ہشیم کہا جاتا ہے کہ جو خشک ہوجائے اور نباتات سے گرجائے اور یزہ ریزہ ہوجائیں۔ ” تذروہ الرباح “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس کو ہوائیں ادھر ادھر لے جائیں۔ ابو عبیدہ نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے۔ ” وکان اللہ علی شیء مقتدارا “ اس کا ترجمہ قادر ہے سے کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
45۔ 46:۔ ان آیتوں میں پروردگار نے اپنے رسول مقبول سے فرمایا کہ تم لوگوں کے روبرو دنیائے فانی کی گندگی کی کہاوت بیان کرو کہ جیسے آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے اور اس کے سبب سے کھیتیاں سر سبز ہوجاتی ہیں اور ایک بہار ہوتی ہے پھر بعد میں یہ سب بہار خشک ہو کر جاتی رہتی ہے ہوا اس کو اڑا لے جاتی رہتی ہے بہار کا موسم خزاں سے بدل جاتا ہے اور وہ کھیتی کے درخت کٹ کر میدان نکل آتا ہے غرض جس طرح کھیتی کے درخت کا حال ہے کہ وہ بیچ سے پیدا ہوتا ہے اور جوانی کے زمانہ میں سرسبز ہو کر پھر بوڑھا ہوجاتا اور مرجاتا ہے اس واسطے انسان کی زندگی کی مثال کھیتی کی فرمائی اور آخری آیت میں فرمایا اللہ کو ہر چیز پر قدرت ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–45
آیت 39
یعنی صاحب ایمانشخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پر مجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نواشز اور احسان پر رکھی جاسکتی ہے وہ اس دنیا ومافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (آیت) ” پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر “ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کردیا ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–60
ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم
قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان
حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…
Read the full tafseer →79۔ دنیا کی مثال اس کی فنا اور بےثباتی میں :۔
پس جس طرح زمین اور اس کی لہلہاتی اور خوش منظر کھیتی کی بہار عارضی اور چند روزہ ہوتی ہے اس کے بعد وہ چورا چورا ہو کر ختم ہوجاتی ہے اور مٹ مٹا جاتی ہے اسی طرح اس دنیائے فانی کی یہ زیب وزینت اور چکاچوند بھی چند روزہ اور عارضی وفانی ہے۔ اصل زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے اور اسی کیلئے اصل تیاری کرے۔ وباللہ التوفیق۔ سو جو لوگ اس دنیا ہی کو مقصد حیات بنالیتے ہیں اور وہ اسی کے عیش وتنعم، کھیل تماشوں، عیش و عشرت، لذت کام ودہن کے سامانوں، کاروں، کوٹھیوں، مادہ ومعدہ کے تقاضوں کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ یہیں کے مال وجائیداد، روپیہ پیسہ، بینک بیلنس اور عہدوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–46
سبق آموز کہانی اور نیکیوں کا بدلہ
تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی حاکمیت، قدرت کاملہ اور وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر انسان کو روزی رزق دیتا ہے تو انسان کا فرض ہے اس کی نعمتوں کو حاصل کر کے فخر و غرور نہ کرے اور اس قدر بدمست نہ ہوجائے کہ اللہ کے وجود اور قیامت کا انکار کردے اور نعمتوں کا شکر ہی ادا نہ کرے اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگے۔ یہ سب انسانیت کے خلاف اور برے رویے ہیں ہمارا مذہب اسلام ان تمام اخلاقی برائیوں سے منع کرتا ہے، یعنی کسی کو حقیر سمجھنا اور شکر الٰہی ادا نہ کرنا۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی نعمت یا خوبصورت چیز کو دیکھو یا کامیابی حاصل کرو تو اس کو دیکھ کر ماشَائَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ ﷺ انہیں بتا دیجئے کہ حیات دنیا کی مثال تو لوگوں کے سامنے ہے جیسے بادل برستے ہیں تو زمین کا سینہ سبزے سے بھر جاتا ہے اور ہر طرف ہریالی کا راج نظر آتا ہے مگر تابہ کے آخر ایک روز وہ سوکھ کر اور ٹوٹ پھوٹ کر چورہ بن جاتا ہے اور ہوا اسے اڑائے اڑائے پھرتی ہے کہیں اس کے قدم لگتے ہیں نہ اس کی کوئی حیثیت رہ جاتی ہے ، اسی طرح افراد اور اقوام کی مثال سامنے ہے کہ مختلف اقوام برسراقتدار آتی ہیں تو یوں نظر آتا ہے کہ انہیں زوال کا کوئی اندیشہ نہیں مگر پھر فنا ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں ، افراد کو دیکھو کیسے کیسے تنومند اور کڑیل جوان پیوند خاک ہوجاتے ہیں ۔
صرف اور صرف اللہ جل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ف 1 وہی ہے کہ جب چاہتا ہے کسی کو خوشحالی فارغ البالی اور مال و دولت عطا کرتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے اسے تنگ حالی فقر و فاقہ اور بدحالی میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ پس انسان کو چاہیے کہ مال و دولت پر غرور نہ کرے بلکہ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی طر سے نعمت سمجھ کر اس کی شکر گزاری ہے۔
Read the full tafseer →(18:45) اضرب۔ تو بیان کر۔ ضرب یضرب سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ الضرب کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز پر مارنا واقع کرنا کے ہیں۔ مختلف محل پر اس کے مختلف معانی آتے ہیں۔ لیکن ہر جگہ اصلی معانی مارنا ضرب لگانا کا مفہوم ضرور پایا جاتا ہے۔ مثلاً مارنا۔ فاضربوا فوق الاعناق۔ (8:12) ان کے سرمار کر اڑا دو ۔ یا اضرب بعصاک الحجر (2:61) اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ سفر کرنا۔ واذا ضربتم فی الارض 40:101) اور جب سفر کو جائو۔ (یہاں بھی تو پائوں زمین پر مار کر ہی سفر کیا جاتا ہے۔ بنانا فاضرب لہم طریقا فی البحر۔ پھر سمندر میں ان کے لئے (عصا مار کر) خشک راستہ بنا لینا۔ لپیٹ دینا۔ چمٹا دینا۔ جیسے ضربت علیہم الذلۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 49
اختلط مل گیا۔ نبات الارض زمین کا سبزہ۔ اصبح ہوگیا۔ ہشیم چورہ چورہ۔ تذروا وہ اڑاتی ہے۔ الریاح (ریح) ہوائیں۔ مقتدر قدرت رکھنے والا۔ البنون (ابن) بیٹے۔ البقیت باقی رہنے والی۔ امل توقع، امید۔ نسیر ہم چلائیں گے۔ بار زۃ کھلی ہوئی۔ لم نغادر ہم نے نہیں چھوڑا۔ عرضوا پیش کیا گیا۔ صف قطار، صف۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ زعمتم تم نے گھمنڈ کیا، گمان کیا۔ وضع رکھ دیا گیا۔ مشفقین ڈرنے والے۔ احصی شمار کرلیا گیا۔ لایظلم وہ ظلم نہیں کرتا۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 49
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں چھوٹی چھوٹی مثالوں سے بڑی بڑی حقیقتوں کی طرف متوجہ کیا ہے۔ دنیا کی بےثباتی اور کمزوریوں کو ایک…
Read the full tafseer →قیامت کا ذکر
ان آیتوں میں پروردگار نے اپنے رسول مقبول ﷺ سے فرمایا کہ تم لوگوں کے روبرو دنیائے فانی کی زندگی کی کہاوت بیان کر دو کہ جیسے آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے اور اس کے سبب سے کھیتیاں سر سبز ہوجاتی ہیں اور ایک بہار ہوتی ہے۔ پھر بعد میں یہ سب بہار خشک ہو کر جاتی رہتی ہے۔ ہوا اس کو اڑا لے جاتی ہے، بہار کا موسم خزاں سے بدل جاتا ہے اور یوں کھیتی اور درخت کٹ کر میدان نکل آتا ہے۔ اسی طرح نطفہ سے آدمی کا بچہ ہوتا ہے اور جوانی کے زمانہ میں سرسبز ہو کر پھر بوڑھا ہوجاتا ہے اور مر جاتا ہے۔ اس واسطے انسان کی زندگی کی مثال کھیتی کی فرمائی۔ پھر فرمایا کہ اللہ کو ہر چیز پر قدرت ہے یعنی اسی طرح حشر کے سن…
Read the full tafseer →[14] سو یہی حال دنیا کا ہے کہ آج ہری بھری نظر آتی ہے۔ کل اس کا نام و نشان بھی نہ رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
باقیات الصالحات :
(ف 1) یہ آیت سابقہ تمثیل کا تتمہ ہے ، غرض یہ ہے کہ ان لوگوں کو جو دنیا کی آب وتاب سے مرعوب ہیں اور آخرت سے غافل ان کو بتایا جائے ، کہ بہ عروس حشمت و دولت چند ہی دنوں میں اپنا سہاگ کھو بیٹھے گی ، دنیا کی مثال کس قدر عمدہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے ، کہ جیسے برسات میں ہری ہری گھاس بھلی معلوم ہوتی ہے ، اور اس کی تازگی وشادابی آنکھوں میں ایک سرور پیدا کردیتی ہے ، اسی طرح دنیا بظاہر بہت خوبصورت معلوم ہوتی ہے ، اور تمہارے لئے سرمایہ نشاط بہم پہنچاتی ہے ، مگر خزاں میں جس طرح گھاس سوکھ جاتی ہے ، پاؤں تلے دوری جاتی ہے ، اسی طرح دنیا پر دور خزاں آتا ہے اور اس وقت اس کی خوبصورتی اس…
Read the full tafseer →-45 اور اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی حالت بیان کردیجیے کہ یہ زندگی ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس پانی کے ذریعہ سے زمین کا سبزہ خوب گنجان ہو کر بڑھا اور سا پانی کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی پھر وہ سبزہ خشک ہو کر اس طرح چورا اور ریزہ ریزہ ہوگیا کہ ہوائیں اس کو اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری پوری قدرت حاصل ہے۔ یعنی اس عارضی دنیا کی زندگی میں جو رونق اور بہار نظر آتی ہے اس کی اور زوال کی یہ حالت ہے۔ جیسے ہم نے آسمان سے پانی اتارا اس پانی سے زمین کی روئیدگی کو توقیت پہنچی اور کھیتی خوب ہری بھیر اور خوب گنجان ہو کر بڑھی اور وہ کھیتی یکایک خشک ہو…
Read the full tafseer →ف 8۔ یہی حال دنیا کا ہے، کہ آج ہری بھری نظر آتی ہے، پھر اس کا نام و نشان بھی نہ رہے گا۔
Read the full tafseer →دنیوی زندگی کی مثال پانی کے ساتھ جس پر ساری چیزوں کی زندگی کا انحصار ہے :
48۔ زیر نظر آیت اور اس جیسی کتنی ہی آیات قرآن کریم میں ہیں ان سب سے جو بات انسان کو ذہن نشین کرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی دراصل زندگی ہے ، یہاں کی بہار بھی عارضی ہے اور خزاں بھی عارضی ، دل بہلانے کا سامان یہاں بہت کچھ ہے مگر درحقیقت وہ نہایت حقیر اور چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جنہیں اپنی کم ظرفی کی وجہ سے آدمی بڑی چیز سمجھتا ہے اور اس دھوکے میں پڑجاتا ہے کہ انہی کو پالینا گویا کامیابی کی منتہی تک پہنچ جانا ہے حالانکہ جو بڑے بڑے فائدے اور لطف ولات کے سامان بھی یہاں حاصل ہونے ممکن ہیں وہ بہت حقیر اور صرف چند سال کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
The word: حُسبانا - (husbana) in verse 40 has been explained by Qatadah as 'punishment' in an absolute sense, by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ as 'fire' and by some as 'stoning.' As for what appears after that in the Qur'an: أُحِيطَ بِثَمَرِهِ (And its produce was struck by destruction from all sides - 42), it obviously means that some major calamity hit his gardens, wealth and things of luxury reducing everything to ruins. The Qur'an does not mention any particular calamity explicitly. It appears that, some fire came down from the skies and burnt the whole thing - as it appears in the Tafsir of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
41. Allah has power over everything. He gives life and also death, He causes the rise and the downfall. It is by His command that the seasons change. Therefore, O disbelievers, if you are enjoying prosperity today, you should be under no delusion that this condition will remain forever. That God, by Whose command these things have been bestowed on you, has the power to snatch away all this by another command.
Read the full tafseer →