Explained with ayahs 37–41
احسان فراموشی مترادف کفر ہے
اس کا کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائشی مٹی سے شروع کی پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28) 2۔ البقرة :28) میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو ؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کرسکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
سورة الْكَهْف 40
" یعنی جو کچھ اللہ چاہے وہی ہوگا۔ میرا اور کسی کا زور نہیں ہے۔ ہمارا اگر کچھ بس چل سکتا ہے تو اللہ ہی کی توفیق و تائید سے چل سکتا ہے۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
معارف و مسائل
وَّكَانَ لَهٗ ثَمَــــرٌ لفظ ثمر درختوں کے پھل کو بھی کہا جاتا ہے، اور مطلق مال و زر کو بھی، اس جگہ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ سے یہی دوسرے معنی میں منقول ہیں (ابن کثیر) قاموس میں ہے کی لفظ ثمرہ درخت کے پھل اور انواع مال وزر سب کو کہا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس کے پاس صرف باغات اور کھیت ہی نہیں بلکہ سونا چاندی اور تمام اسباب عیش دوسرے بھی موجود تھے، خود اس کے الفاظ میں جو قرآن نے نقل کئے اس میں اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا بھی اسی مفہوم کو ادا کرتے ہیں (ابن کثیر)
مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰه شعب الایمان میں حضرت انس ؓ کی روایت سے مذکور ہے کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →وَلَوْلا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ إِنْ تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنْكَ مَالا وَوَلَدًا
ایمان کا تقاضا : یہ بندہ مومن نے اس مستکبر کو ایمان کا صحیح تقاضا بتایا ہے کہ اگر تم نے مجھے مال و اولاد میں سے اپنے سے کم تر پایا تھا تو یہ چیز اکڑنے اور مغرور ہونے کی نہیں تھی بلکہ اس پر تمہیں اپنے رب کا شکر گزار ہونا کہ تمہارے رب نے تم کو اپنے فضل سے نوازا۔ اس کا حق یہ تھا کہ جب تم اپنے ہرے بھرے، میووں سے لدے باغ میں داخل ہوتے تو ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کہتے، یعنی یہ اعتراف کرتے کہ یہ سب کچھ رب کریم کا عطیہ ہے، اس کے بغیر کسی کو کوئی قوت و طاقت حاصل نہیں…
Read the full tafseer →39۔ 1 اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا طریقہ بتلاتے ہوئے کہا کہ باغ میں داخل ہوتے وقت سرکشی اور غرور کا مظاہرہ کرنے کی بجائے یہ کہا ہوتا، مَا شَاَءَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلّا باللّٰہِ یعنی جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے، وہ چاہے تو اسے باقی رکھے اور چاہے تو فنا کر دے۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ جس کو کسی کا مال، اولاد یا حال اچھا لگے تو اسے مَا شَاَءَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِ لّا باللّٰہِ پڑھنا چاہیے (تفسیر ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
24: آیت نمبر 28 میں کافر سرداروں کے اس تکبر کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ غریب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک ایسا واقعہ بیان فرما رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال و دولت کی زیادتی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر کوئی شخص اترائے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ مضبوط نہ ہو تو بڑے بڑے مال دار لوگ انجام کار ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صحیح ہو تو غریب لوگ ان سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ جن دو آدمیوں کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے ان کی کوئی تفصیل کسی مستند مرفوع روایت میں موجود نہیں ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے کچھ روایتوں کی بنیاد پر یہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
یہ ایک مکمل نظر آنے والا ، مجسم منظر ہے۔ اس باغ کا تمام کا تمام پھل تباہ ہوگیا ہے۔ گویا اس پر ہر جانب سے حملہ ہوا اور اس میں سے ایک دانہ بھی نہ بچا اور اس کے تمام درخت اور بوٹے اپنے تنوں اور تینوں پر پڑے تھے اور اس کے درخت اور بیلیں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھس بن گئیں۔ مالک نے جو یہ منظر دیکھا کہ اس کا باغ تو مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے ، تو وہ اپنے اس عظیم مالی بربادی پر ہاتھ ملنے لگا۔ اس کی پوری کی پوری محنت آج چلی گئی۔ اب تو وہ اس پر بھی تادم ہے کہ اس نے اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کیا۔ اب وہ اللہ کی ربوبیت اور وحدانیت کو پوری طرح تسلیم کر رہا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل اس نے کسی شرکیہ عقیدے کا اظہار نہیں…
Read the full tafseer →2 یعنی مال تو اللہ کی نعمت ہے۔ پر اترانے اور کفر بکنے سے آفت آتی ہے۔ چاہیے تھا کہ باغ میں داخل ہوتے وقت (مَآ اَظُنُّ اَنْ تَبِيْدَ هٰذِهٖٓ اَبَدًا) 18 ۔ الکہف :35) کی جگہ (مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰهِ ) 18 ۔ الکہف :39) کہتا۔ یعنی خدا جو چاہے عطا فرمائے، ہم میں جو کچھ زور و قوت ہے اسی کی امداد و اعانت سے ہے۔ وہ چاہے تو ایک دم میں سلب کرلے۔ روایات میں ہے کہ جب آدمی کو اپنے گھر بار میں آسودگی نظر آئے تو یہ ہی لفظ کہے۔ " مَاشَآء اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ "
Read the full tafseer →آیت 39 وَلَوْلَآ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰهِ
تجھے جب باغ میں ہر طرف خوش کن مناظر دیکھنے کو ملے اور پورا باغ پھلوں سے لدا ہوا نظر آیا تو تیری زبان سے ”ما شاء اللہ“ کیوں نہ نکلا اور تو نے یہ کیوں نہ کہا کہ یہ میرا کمال نہیں بلکہ اللہ کی دین ہے جو اصل طاقت اور اختیار کا مالک ہے ‘ اس کی اجازت اور مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہ ”ماشاء اللہ“ وہ کلمہ ہے جس میں توحید کوٹ کوٹ کر بھری ہے ‘ کہ جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے کسی اور کے چاہنے سے یا اسباب و وسائل کے ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
39 نعمت کے حصول پر بطور شکرانہ ماشاء اللہ کہنا :۔ موحد ساتھی اپنے مشرک ساتھی کو سمجھانے لگا کہ تمہیں چاہیے تو یہ تھا کہ جب تم اپنے باغ میں داخل ہو رہے تھے تو شیخیاں بگھارنے اور اپنے آپ کو مجھ سے بہتر ثابت کرنے کی بجائے اللہ کا شکر ادا کرتے اور کہتے کہ یہ سب کچھ اللہ کی دین ہے مگر تم نے مجھ پر اپنی برتری ثابت کرنا شروع کردی کیا یہ ممکن نہیں کہ اگر میں تمہارے خیال کے مطابق تم سے مال و اولاد میں کم تر ہوں تو اللہ مجھے تیرے باغوں سے بہتر باغ عطا فرما دے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ تمہارے اس تکبر کی سزا کے طور پر اللہ تیرے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج کر اسے خاکستر کر دے یا اس نہر کا پانی ہی خشک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
58۔ (کہ جس کسی مخلوق میں کچھ بھی قوت ہے، اسی کے سہارے ہے) (آیت) ” باللہ “۔ ب باء الاستعانۃ ہے۔ اے لاقوۃ لاحد علی امر من الامور الا باعانۃ اللہ (کبیر) موحد کی تقریر کا پہلا حصہ نفس توحید پر تھا اور اب اس کلیہ کی ایک فرع پر گفتگو ہے۔ (آیت) ” ولو۔۔۔ شآء اللہ “۔ یعنی تیرے یا میرے یا کسی کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ اللہ ہی جب تک چاہے گا یہ باغ بھی قائم رہے گا اور جب وہی چاہے گا تو یہ ویران ہوجائے گا۔ اسباب طبعی سب اس کی مشیت کے ماتحت ہیں، نہ کہ اس سے آزاد ومستغنی۔ (آیت) ” لاقوۃ الا باللہ “۔ چناچہ یہ باغ بھی اسی کی قوت سے تیار ہوا ہے نہ کہ کسی اور کی قوت سے۔ اے ھذا بقوۃ اللہ لا بقوتی (ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
آیت نمبر 39 تا 44
ترجمہ : اور جب تو باغ میں داخل ہوا تھا تو تو نے اس باغ پر تعجب (پسندیدگی) کے وقت کیوں نہ کہا کہ یہ وہی ہے جو اللہ نے چاہا خدا کی مدد کے بغیر کوئی قوت نہیں اور حدیث شریف میں ہے کہ جس کو بہترین مال یا اولاد عطا کیا گیا ہو اور اس نے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کہہ لیا تو اس مال میں اس کو ناپسندیدہ حالت پیش نہیں آئے گی اور اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم ہوں کچھ بعید نہیں کہ میرا رب مجھ کو تیرے باغ سے اچھا باغ دے دے ( اَنا) دو مفعولوں کے درمیان ضمیر فصل ہے اور فعسیٰ جواب شرط ہے اور اس (تیرے باغ) پر کوئی آسمانی آفت بھیج دے حُسْبَان حُسْبَانَۃ کی جمع ہے…
Read the full tafseer →ولو لا اذ دخلت جنتک قلت ما شآء اللہ لا قول الا باللہ اور جب تم اپنے باغ میں
داخل ہوئے تھے (اور پھلوں سے لدے درخت تھے) تو ماشآء اللّٰہُ لاَ قُوَّۃَ الاَّ باللّٰہِکیوں نہیں کہا۔ لَوْلاَ اِذْ دَخَلْتِیعنی داخل ہوتے وقت تم نے کیوں نہیں کہا۔ ما شاء اللّٰہ یعنی اللہ جو کچھ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے 1 ‘ باغ میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی مشیت سے وابستہ ہے اگر وہ چاہے گا ‘ باقی رکھے گا ‘ باقی رکھنا نہ چاہے گا برباد کر دے گا۔
لاَ قُوَّۃَ الاِّ باللّٰہِیعنی تو نے اپنی عاجزی اور اللہ کی قدرت کا اقرار کیوں نہیں کیا اور کیوں نہیں کہا کہ اللہ کی مدد کے بغیر میں اس کو محفوظ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا جو کچھ مجھے اس باغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–43
(32۔ 43) آپ اہل مکہ کے سامنے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے کہ بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے ایک مومن جس کا نام یہودا اور دوسرا کافر جس کا نام ابو فطروس تھا۔
کافر کو دو باغ ہم نے انگوروں کے دے رکھے تھے اور ان دونوں باغوں کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنارکھا تھا اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی۔
دونوں باغ ہر سال اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں نہر چلا رکھی تھی اور اس کے پاس باغ کا پھل تھا اور بھی تمول کا سامان تھا چناچہ ایک دن وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اپنے مال پر فخر کرتا ہوا کہنے لگا کہ میرا مال بھی تجھ سے…
Read the full tafseer →وَلَوْلَآ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو اپنی کوئی چیز اچھی لگے تو اسے یہ کلمات کہنے چاہییں : (مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰهِ) ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : (یَا أَبَا ھُرَیْرَۃَ ! أَفَلاَ أَدُلُّکَ عَلٰی کَنْزٍ مِنْ کَنْزِ الْجَنَّۃِ تَحْتَ الْعَرْشِ ، قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فِدَاکَ أَبِيْ وَ أُمِّيْ ، قَالَ أَنْ تَقُوْلَ لَا قُوَّۃَ إِلاَّ باللّٰہِ ، قَالَ أَبُوْ بَلْجٍ وَأَصِبُ أَنَّہُ قَالَ : فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ أَسْلَمَ عَبْدِيْ وَاسْتَسْلَمَ ، قَالَ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو قَالَ أَبُوْبَلْجٍ قَالَ عَمْرٌو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
آیت نمبر 39 تا 41
قولہ تعالیٰ : ولولا اذ دخلت جنتک قلت ما شآء اللہ لا قوۃ الا باللہ اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ولو لا اذ دخلت جنتک قلت ما شآء اللہ لا قوۃ الا باللہ یعنی تو دل کے ساتھ (باغ میں داخل ہوتے وقت یہ الفاظ کہتا : ما شآء اللہ لا قوۃ الا باللہ) ، اور یہ مومن کی جانب سے کافر کو جھڑک بھی ہے اور نصیحت بھی اور اس کے اس قول کا رد بھی ہے کہ جب اس نے کہا : ما اظن ان تبید ھذہ ابدا (میں یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی برباد بھی ہوگا) اور ” ما “ محل رفع میں ہے۔ تقدیر کلام ہے : ھذہ الجنۃ فی ما شاء اللہ (یہ باغ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہے) اور زجاج اور فراء نے کہا ہے : الأمر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
1:۔ ابن ابی حاتم نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یہ کلمات سکھائے تھے کہ میں ان کو تکلیف اور مصیبت کے وقت کہتی ہوں۔” اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیئا “ (اللہ ہی میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی ) ۔
2:۔ سعید بن منصور ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں عروہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے مال میں سے کسی چیز کو دیکھتے جو ان کو خوش (اچھی) لگتی یا اپنے باغوں میں سے کسی باغ میں داخل ہوتے تو یہ پڑھتے ” ماشآء اللہ لا قوۃ الاباللہ “ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول سے استدلال کرتے تھے (آیت) ” ولولا اذ دخلت جنتک قلت ماشآء اللہ لا قوۃ الاباللہ “۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →[وَلَوْلَآ : اور کیوں نہیں ] [اِذْ : جب ] [دَخَلْتَ : تو داخل ہوا ] [جَنَّتَكَ : اپنے باغ میں ] [قُلْتَ : تو تو نے کہا ] [مَا : جو ] [شَاۗءَ : چاہا ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [لَا قُوَّةَ : کوئی بھی قوت نہیں ] [اِلَّا : مگر ] [بِاللّٰهِ : اللہ سے ] [ان : اگر ] [تَرَنِ انا : تو دیکھتا ہے مجھ کو ] [اَقَلَّ : کمتر ] [مِنْكَ : اپنے سے ] [مَالًا : بلحاظ مال کے ] [وَّوَلَدًا : اور اولاد کے ]
(آیت۔ 39) مضارع تَرٰی کو اِنْ نے مجزوم کیا تو یا گرگئی اور اِنْ تَرَ باقی بچا۔ اس کے آگے ضمیر مفعولی نِیْ ہے۔ نِ اس کا نون وقایہ ہے۔ اس کے آگے اَنَا اگر مبتدا ہوتا تو اس کی خبر اَقَلُّ آتی لیکن اَقَلَّ حالب نصب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
عبرت کے لیے دو شخصوں کی مثال، ان میں ایک باغ والا اور دوسرا غریب تھا
ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں ایک باغ والے کافر و مشرک اور دوسرے مومن موحد کی گفتگو نقل فرمائی ہے۔
علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 161 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیات اہل مکہ میں سے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئیں دونوں بنی مخزوم میں سے تھے۔ ایک تو حضرت ابو سلمہ ؓ تھے جو رسول اللہ ﷺ سے پہلے حضرت ام سلمہ ؓ کے شوہر تھے اور دوسرا شخص جو کافر تھا وہ اسود بن عبد الاسد تھا یہ ایک قول ہے۔ دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں سے دو شخصوں کا ہے جو آپس میں دونوں بھائی تھے ایک مومن تھا اور ایک کافر تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی مثال
قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا رجلین .... الیٰ ۔۔۔۔ ھو خری ثوابا وخیر عقبا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی اس درخواست کو رد فرمایا جو اپنے مال و دولت کے نشہ میں چور تھے اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس کرتے تھے اور اپنے مال و دولت پر فخر محسوس کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں تو آپ ان دو ویشان اسلام اور فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کریں اب ان آیات میں ان متکبرین کے سنانے کیلئے اور دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری بتلانے کے لئے بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی ایک مثال ذکر فرماتے ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
47:۔ قطروس جب باغ میں داخل ہوا وہ دولت کے نشے میں ایسا مدہوش تھا کہ خدا کو بھی بھول گیا اور قیامت کا بھی انکار کر بیٹھا اور اپنی دولت پر لگا اترانے، اس پر اس کے بھائی نے اسے نصیحت کی کہ جب تو باغ میں داخل ہوا تھا تجھے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا جس نے یہ سب نعمتیں تجھے عطا فرمائی ہیں۔ ” ما شاء اللہ “ اور جو کچھ اس باغ میں ہے سب اللہ کی مہربانی اور اس کی مشیت سے ہے اور یہ سب کچھ اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے چاہے آباد رکھے چاہے برباد کردے۔ کل ما فیہا انما حصل بمشیۃ اللہ وان امرھا بیدہ ان شا 4 ترکہا عامرۃ وان شاء خر بھا (مدارک ج 3 ص 11) ۔ شاید قطروس نے مشیت میں اللہ کے ساتھ کسی اپنے معبود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
ربط آیات :
اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کے سلسلے میں ایک دولت مند مشرک اور ایک ایماندار مومن کی مثال بیان فرمائی ہے امیر آدمی نے اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت کہا کہ یہ تو کبھی فنا نہیں ہوگا ۔ قیامت کا کوئی تصور نہیں ہے اور اگر یہ برپا بھی ہوگئی تو میں اس دنیا کی طرح وہاں بھی خوشحال ہی رہوں گا ، وہ شخص اپنے باغ اور مال و دولت کو اپنا ذاتی کمال سمجھتا تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کا احسان نہیں مانتا تھا ، پھر اس نے اپنے غریب مگر مومن بھائی کو طعن کیا کہ میں تم سے مال اور تعداد میں بہتر ہوں وہ غریب مومن اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرچکا تھا مگر امیر آدمی اپنے مال و…
Read the full tafseer →وَلَوْلَآ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاۗءَ اللہُ 0ۙ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ 0ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّوَلَدًا 39ۚ
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔
شاء
الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
تفسیر …دو شخصوں کا قصہ بطور مثال کے : پھر دنیا کی بےثباتی اور اس کے اسباب و تجمل پر غرور کر کے خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور الحاد کا بدنتیجہ جو کبھی دنیا ہی پر ظاہر ہوتا ہے دو شخصوں کی تمثیل سے بیان فرمایا۔ بعض کہتے ہیں یہ صرف ایک تمثیل ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ دراصل ایسے دو شخص تھے بھی کہ جن کا یہ واقعہ ہے پھر بعض کہتے ہیں کہ یہ دو شخص بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے کہ ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کیا تھا دوسرا دنیادار اور مشرک اور دارآخرت کا منکر تھا۔ اس نے دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے تھے کہ ان میں نہر بھی جاری تھی اور بیچ میں انگور اور آس پاس کھجور کے درخت بھی تھے اور وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
وَلَوْلَآ اِذْدَخَلْتَ جَنَّـتَکَ قُلْتَ مَاشَآئَ اللّٰہُ لا لاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ ج اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْکَ مَالاً وَّ وَلَدًا۔ فَعَسٰی رَبِّیْٓ اَنْ یُّـؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِکَ وَیُرْسِلَ عَلَیْھَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآئِ فَـتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَـقًا۔ اَوْیُصْبِحَ مَـآؤْ ھَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَـہٗ طَلَبًا۔ (الکہف : 39، 40، 41)
(اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے اس طرح کیوں نہ کہا، یہ جو کچھ ہے سب اللہ کا فضل ہے، اللہ کے سوا کسی کو کوئی قوت حاصل نہیں، اگر تم مال اور اولاد کے اعتبار سے مجھے اپنے سے کم دیکھتے ہو۔ تو امید ہے کہ میرا رب مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
فہم القرآن
ربط کلام : آخرت کے منکر کو اس کے ایمان دار ساتھی کی مزید نصیحتیں۔
صاحب ایمان ساتھی نے آخرت کے منکر کو پانچ نصیحتیں کیں :
1۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور اس کے بعد ہر انسان کو اس کے باپ کے نطفے سے پیدا کیا۔ اے میرے ساتھی تجھے بھی ” اللہ “ نے ایک نطفے سے پیدا فرماکر کامل انسان بنایا ہے۔
2۔ تو مانے یا نہ مانے میر اعقیدہ تو یہ ہے کہ آدمی کو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں سمجھنا چاہیے۔
3۔ لہلہاتا ہواباغ دیکھ کر غرورو تکبر کرنے کی بجائے تجھے ” ماشاء اللہ، لاقوۃ الا باللہ “ کہنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی چیز پیدا کرنے اور دینے کی طاقت نہیں ہے۔ وہی کچھ…
Read the full tafseer →39: وَلَوْلَآ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَاشَآ ئَ اللّٰہُ (جب تم باغ میں داخل ہوئے تھے تو تم نے کیوں ماشاء اللّٰہ لا قوۃ الا باللّٰہ نہیں کہا)
نحو : لو لا ھَلاَّ کے معنی میں ہے۔ ماشاءؔ کا ماؔ موصولہ ہے اور مبتدا محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے محلاً مرفوع ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اَلْاَمْرُ مَاشَائَ ۔ نمبر 2۔ ماؔ شرطیہ ہے اور موقع کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور جز اء محذوف ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے ای شیء شاء اللّٰہ کان۔ جو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں ہوجاتی ہے۔
اب مطلب یہ ہوا تم نے باغ میں داخلے کے وقت اور جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں رزق دیا اس کو دیکھ کر ماشاء اللہ والی بات کیوں نہ کہی جس سے یہ اعتراف ہوتا کہ…
Read the full tafseer →تفسیر 39 ۔ ” ولولا اذدخلت جنتک “ داخل ہوتے وقت تم نے کیوں نہیں کہا۔ ” قلت ما شاء اللہ “ جو کام اللہ چاہے اور بعض نے کہا کہ اس کا جواب پوشیدہ ہے کہ جو اللہ چاہے۔ ” لا قوۃ الا باللہ “ یعنی تو نے اپنی عاجزی اور اللہ کی قدرت کا اقرار کیوں نہیں کیا یا اس سے کوئی چیز دور نہیں کی مگر اللہ کے سوا۔
ہشام بن عروہ کی روایت ہے کہ عروہ کو جب اپنا کوئی مال پسند آتا اور عجیب معلوم ہوتا تھا یا اپنے کسی باغ میں داخل ہوتے تھے تو کہتے تھے ” ماشاء اللہ قوۃ الا باللہ “ پھر فرمایا ” ان ترن انا اقل منک مالا وولدا “ اقل کو نصب کے ساتھ پڑھا ہخے یعنی اگرچہ تو دیکھتا ہے کہ میں تجھ سے مال اور اولاد کے اعتبار سے اس وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
32۔ 44:۔ اوپر ان مالدار مشرکین مکہ کا ذکر تھا جو غریب مسکین مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے سے گھبراتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کہاوت بیان کی کہ دو مرد تھے ایک کے دو باغ تھے انگور اور کھجور کے جن کے درمیان میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ ہر طرح کے درخت اور پھل پھول اور میوے پیدا ہوتے تھے ولم تظلم منہ شیئا سے اسی مطلب کو ادا فرمایا ہے۔ پھر فرمایا ان باغوں میں نہریں جاری تھیں پھر فرمایا اس باغ والے نے اپنے دوسرے بھائی سے بطور فخر کے کہا کہ میں تجھ سے مال واولاد اور خدمت گاروں میں زیادہ عزت والا ہوں اور وہ اپنی باغ میں اپنے بھائی کا بھی ہاتھ پکڑ کر میں قیامت کے قائم ہونے کا خیال نہیں رکھتا اور اگر بالفرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–45
آیت 39
یعنی صاحب ایمانشخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پر مجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نواشز اور احسان پر رکھی جاسکتی ہے وہ اس دنیا ومافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (آیت) ” پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر “ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کردیا ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–60
ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم
قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان
حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…
Read the full tafseer →71۔ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ “ کہنے کی تعلیم و تلقین :۔
سو اس بندہ مومن نے اس منکرومتکبر شخص سے کہا کہ اگر تم اکڑتے اور تکبر میں مبتلا ہوتے بلکہ اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ تم اپنے رب کے شکر گزار بنتے۔ اور جب تم میووں سے لدے لدائے اس ہرے بھرے باغ میں داخل ہوتے تو ” ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ “ کہتے۔ اور اس طرح اس بات کا اقرار و اعتراف کرتے کہ یہ سب کچھ اس رب کریم کا عطیہ واحسان ہے۔ اس کے بغیر کسی کی یہ قوت وطاقت نہیں کہ وہ کچھ بنایا بگاڑ سکے۔ سبحانہ وتعالیٰ پس ہر نعمت پر انسان کو یہی کہنا چاہئے ” ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ “ کہ اس میں حق اور حقیقت کا اقرار و اعتراف اور ذکر بد سے بھی محفوظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–46
سبق آموز کہانی اور نیکیوں کا بدلہ
تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی حاکمیت، قدرت کاملہ اور وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر انسان کو روزی رزق دیتا ہے تو انسان کا فرض ہے اس کی نعمتوں کو حاصل کر کے فخر و غرور نہ کرے اور اس قدر بدمست نہ ہوجائے کہ اللہ کے وجود اور قیامت کا انکار کردے اور نعمتوں کا شکر ہی ادا نہ کرے اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگے۔ یہ سب انسانیت کے خلاف اور برے رویے ہیں ہمارا مذہب اسلام ان تمام اخلاقی برائیوں سے منع کرتا ہے، یعنی کسی کو حقیر سمجھنا اور شکر الٰہی ادا نہ کرنا۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی نعمت یا خوبصورت چیز کو دیکھو یا کامیابی حاصل کرو تو اس کو دیکھ کر ماشَائَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
دنیا میں بھی یہی مثالیں موجود ہیں جو اقوام کے حالات میں بھی نظر آتی ہیں اور افراد کے حالات میں بھی آپ انہیں ان دو آدمیوں کی مثال دیجئے جو دونوں دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو ہم نے زیادہ مالدار کردیا ، اس کے انگوروں کے باغات تھے جن کے گردا گرد کے درخت اور درمیان میں زرعی زمین تھی یعنی کھجوریں پھل اور غلہ جیسی سب نعمتیں بیک وقت ان باغوں سے حاصل ہوتیں ، اور وہ پورا پورا پھل دیتے کبھی ان میں کمی نہ آتی تھی ، ان باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کردی تھی جس کے سبب وہ ہمیشہ سرسبز رہتے اور ہر موسم کا پھل بہتات سے حاصل ہوتی ، جبکہ دوسرا دوست ایسا مالدار نہ تھا ، ایک روز باتوں…
Read the full tafseer →ف 4 کسی نعمت کے حاصل ہونے یا کسی چیز کے بھلا لگنے پر ماشاء اللہ لاح ول لاقوۃ الا باللہ کہنے کی فضیلت میں متعدد احادیث اور سلف کے متعدد آثار ثابت ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ گھر مال یا اولاد کسی بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو دیکھ کر یہ کلمہ پڑھ لیا جائے تو اللہ تعالیٰ ہر آفت سے اس کی حفاظت فرماتا ہے گو موت سے بچائو نہیں ہوسکتا۔ نیز احادیث میں لا حول ولا قوت الا باللہ کی بہت فضیلت آئی ہے اور اسے خزانہ الٰہی کی ایک چیز قرار دیا ہے اور ہموم و افکار کا علاج بھی بتایا ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(18:39) ان ترن۔ ان شرطیہ ترن مضارع واحد مذکر حاضر رای یری رای رویۃ سے دیکھنا اصل میں تراینی تھا۔ ان کے آنے سے ی جو کہ حرف علت ہے ساقط ہوگئی ن وقایہ ہے آخر میں ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے ۔ ان ترن اگر تو مجھے دیکھتا ہے۔
اقل منک۔ اقل قلۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے بمعنی زیادہ کم۔ مالا وولدا۔ تمیز ہے۔ ان ترن انا اقل منک مالا وولدا۔ تاکید ضمیر واحد متکلم یکے لئے آیا ہے اگر تو مال واولاد میں مجھے اپنے سے کمتر دیکھتا ہے۔
فعسی ربی۔۔ حنتک۔ جملہ ان ترن۔۔ ولدا شرطیہ ہے اور جملہ فعسی۔۔ جنتک قائم مقام جواب شرط ہے ہر دو جملوں کے درمیان فلا باس مقدر ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے ان ترن انا اقل منک مالا وولدا فلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
لغات القرآن آیت نمبر 37 تا 44
یح اور وہ بات کرتا ہے۔ تراب مٹی۔ سوی برابر کیا، مکمل کیا۔ ان ترن اگر تو مجھے دیکھتا ہے۔ ان یوتین یہ کہ مجھے دیدے۔ یرسل وہ بھیجتا ہے۔ حسبان آفت، مصیبت۔ صعید چٹیل میدان، نرم مٹی۔ زلق چکنی مٹی۔ غور گہرائی میں اتر جانا۔ احیط گھیر لیا گیا۔ یقلب وہ الٹتا پلٹتا ہے۔ کفیہ (کفین) اپنی دو ہتھیلیاں۔ انفقف اس نے خرچ کیا۔ خاویۃ او ندھی پڑی رہنے والی۔ عروش (عرش) بلندی، چھتیں فئۃ جماعت۔ گروہ ھنالک اسی جگہ۔ الولایۃ اختیار۔ عقب انجام، اجرت دینا۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 44
دنیا اور اس کی دولت کی خاصیت یہ ہے کہ اگر ایک شخص ایمان اور عمل صالح سے دور ہو تو وہ بےجا فخر و غرور اور ناشکری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
بقیہ قصہ دو بھائیوں کا، حشر کی تصدیق
اور یہ بھی کہا کہ بجائے اس فخر اور ناشکری کے لفظوں کے تو یہ کہتا کہ انسان کی کیا طاقت تھی کہ وہ ایسا باغ لگاتا اور اتنا مال کماتا تو خوب ہوتا۔ کیونکہ انسان کو جو کچھ فارغ البالی ہوتی ہے وہ اللہ ہی کے چاہنے سے ہوتی ہے۔ اگرچہ مال واولاد نہ ہونے کے سبب سے تو مجھے حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے، مگر مجھ کو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ آخرت میں تیرے اس باغ سے بہتر مجھے باغ دیوے گا۔ او تیری اس ناشکری اور نافرمانی کے سبب سے اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ وہ تیرے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج دیوے۔ آخر کو اس ایماندار شخص کی زبان سے جو نکلا تھا وہی ہوا کہ جس باغ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–41
[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
سرمایہ داری کا غرور :
(ف 1) مکہ والے مال و دولت کے نشہ میں سرشار تھے ، تمول کا خمار آنکھوں میں تھا اور امارت کا سودا دماغ میں سجا رہا تھا ، مسلمان ابتداء غریب تھے ، اس لئے وہ از راہ کبر مسلمانوں سے نفرت کرتے ، ان کے مذہب کو غربت ومسکنت کا مذہب سمجھتے اور کہتے کہ ہم ایسے دین کو قبول نہیں کرسکتے ، جس کے ماننے والے دنیوی حیثیت سے ہم سے بلند اور اعلی نہ ہوں ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر نعمت سے بہرہ ور کیا ہے ، اس کے پاس شاداب باغ اور کھیت ہیں ، بکثرت دوست و مددگار ہیں ، مگر مغرور ومتکبر ہے ، اپنے جاہ وحشم کو دیکھتا ہے ، اور…
Read the full tafseer →-39 اور تو جس وقت اپنے باغ میں داخل ہوا تھا تو تو نے یوں کیوں نہیں کہ جو اللہ چاہتا ہے اور جو اس کو منظور ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی مدد اور استعانت کے بغیر کسی میں کوئی زور اور قوت نہیں ہے اگر تو مجھ کو دیکھتا ہے کہ میں تجھ سے مال اور اولاد میں کم تر ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ف 2۔ جو کہ یرا مادہ بعید ہے بواسطہ آدم (علیہ السلام) کے۔
3۔ جو کہ تیرا مادہ قریبہ ہے رحم مادر میں۔
Read the full tafseer →تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تم نے باغ میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام تک نہیں لیا :
42۔ اس مفلس دوست نے اپنے مال دار عزت وجاہ والے دوست سے مزید کہا کہ دیکھ تو نے ان باغوں میں داخل ہوتے وقت اتنی بات بھی نہیں کی کہ وہی کچھ ہوگی جو اللہ کو منظور ہوگا ‘ میرا کیا کمال ہے کہ ان باغات کا مالک میں قرار پا گیا ہوں یہ تو اللہ ہی کا فضل ہے کہ اس نے اس ناکارہ پر یہ انعام واکرام کیا ہے اور کس کو خبر ہے کہ وہ کل کیا کرے گا ؟ تو نے بڑے کروفر سے اپنی ان چیزوں کا ذکر کردیا جو دراصل تیری نہیں ہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ ہیں ، دیکھ عین ممکن ہے تو نے بڑے کروفر سے اپنی ان چیزوں کا ذکر کردیا جو دراصل تیری نہیں ہیں بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
Commentary
The word: ثَمَرٌ (thamar) in: وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ (And he had wealth - 34) means the fruit of trees as well as wealth, in an absolute sense. At this place, Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، Mujahid and Qatadah have taken it in the later sense (Ibn Kathir) According to the Lexicon, al-Qamus, this word is used to denote the fruit of the tree and wealth of all kinds. This tells us that not only did he own gardens and farms, he also had gold, silver and other luxuries. Even his words reported by the Qur'an: (I am greater than you in wealth -34) also express the same sense. (Ibn Kathir)
About…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
40. That is, If we are able to do anything, it is by the help and support of Allah alone.
Read the full tafseer →