Al-Kahf 18:40

Al-Kahf · from ayah 40

18:40

فَعَسٰی رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَیُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًا ۟ۙفَعَسٰى رَبِّىۡۤ اَنۡ يُّؤۡتِيَنِ خَيۡرًا مِّنۡ جَنَّتِكَ وَيُرۡسِلَ عَلَيۡهَا حُسۡبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِيۡدًا زَلَـقًا ۙ

تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (تمہارے باغ) پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہوجائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It may be that my Lord will give me [something] better than your garden and will send upon it a calamity from the sky, and it will become a smooth, dusty ground,

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 5 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:40

تو بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیری جنت سے بہتر عطا فرما دے اور تیری جنت پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس سے وہ صاف میدان بن کر رہ جائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (تمہارے باغ) پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہوجائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بہت ممکن ہے کہ میرا رب مجھے تیرے اس باغ سے بھی بہتر دے اور اس پر آسمانی عذاب بھیج دے تو یہ چٹیل اور چکنا میدان بن جائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو میرے رب سے کچھ بعید نہیں ہے کہ وہ مجھے تمہارے باغ سے بہتر چیز عطا فرمادے، اور تمہارے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج دے، جس سے وہ چکنے میدان میں تبدیل ہو کر رہ جائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے اچھا دے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں اتارے تو وہ پٹ پر میدان (سفید زمین) ہوکر رہ جائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کچھ بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (باغ) پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج دے پھر وہ چٹیل چکنی زمین بن جائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کر دے اور اس پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج دے تو وہ چٹیل میدان ہوجائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو عین ممکن ہے کہ میرا پروردگار مجھے تیرے باغ سے بہتر باغ عطا کردے اور تیرے باغ پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے۔ جس سے وہ چٹیل میدان بن کر رہ جائے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو امید ہے کہ میرا رب تمہارے باغ سے بہتر باغ مجھے دے اور تمہارے باغ پر آسمان سے کوئی ایسی گردش بھیجے کہ وہ چٹیل میدان ہو کر رہ جائے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو (یاد رکھ کہ) بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بھی کہیں بڑھ کر اچھا باغ دے دے، اور تیرے اس باغ پر آسمان سے کوئی ایسی آفت بھیج دے کہ یہ چٹیل میدان بن کر رہ جائے،

— مولانا اسحاق مدنی

تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تیرے باغ سے بہتر دے دے۔ اور اس پر آسمان سے کوئی تقدیری مصیبت اتارے جس سے (باغ) ایک چٹیل میدان ہو کر رہ جائے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو امید ہے کہ میرا رب تیرے باغ سے بہتر باغ مجھے دے دے اور وہ بھیج دے اس (تیرے باغ) پر کوئی آفت آسمان سے تو وہ صاف چٹیل میدان ہو کر رہ جائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو عجب نہیں کہ میرا رب مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور تمہارے اس باغ پر آسمان سے آفت بھیج دے، تو وہ صاف میدان ہوجائے (برباد ہوجائے)

— محترمہ رفعت اعجاز

it may well be that my Lord will give me something better than your vineyard, and send a calamity upon your vineyard from the heavens and it will be reduced to a barren waste,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

then, it is likely that my Lord will give me (what is) better than your garden, and will send to it a punishment from the heavens, and it will become a barren land.

— Muhammad Taqi Usmani

then, it is likely that my Lord will give me (what is) better than your garden, and will send to it a punishment from the heavens, and it will become a barren land.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"It may be that my Lord will give me something better than your garden, and will send on it Husban from the sky, then it will be as a barren slippery earth."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Yet it may be that my Lord will give me better than thy garden, and will send on it a bolt from heaven, and some morning it will be a smooth hillside,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It may be that my Lord will give me [something] better than your garden and will send upon it a calamity from the sky, and it will become a smooth, dusty ground,

— Saheeh International

perhaps my Lord will give me a garden better than yours and strike your garden with a thunderbolt from the sky to turn it into a barren ground,

— Muhammad Sarwar

Then maybe my Lord will give me what is better than your garden, and send on it a thunderbolt from heaven so that it shall become even ground without plant,

— Muhammad Habib Shakir

Then belike my Lord will vouchsafe unto me something better than thy garden and send thereon a belt from the heaven that it become a plane slippery.

— Abdul Majid Daryabadi

"It may be that my Lord will give me something better than thy garden, and that He will send on thy garden thunderbolts (by way of reckoning) from heaven, making it (but) slippery sand!-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 37–41

احسان فراموشی مترادف کفر ہے اس کا کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائشی مٹی سے شروع کی پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28؀) 2۔ البقرة :28) میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو ؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کرسکتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 39–44

سورة الْكَهْف 40 " یعنی جو کچھ اللہ چاہے وہی ہوگا۔ میرا اور کسی کا زور نہیں ہے۔ ہمارا اگر کچھ بس چل سکتا ہے تو اللہ ہی کی توفیق و تائید سے چل سکتا ہے۔ "

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–44

حُسْـبَانًا اس لفظ کی تفسیر حضرت قتادہ ؓ نے مطلق عذاب سے کی ہے، اور حضرت ابن عباس ؓ نے آگ سے اور بعض نے پتھراؤ سے، اس کے بعد جو قرآن میں آیا ہے اس میں ظاہر یہ ہے کی اس کے باغ اور تمام مال وزر اور سامان عیش پر کوئی بڑی آفت آ پڑی، جس نے سب کو برباد کردیا، قرآن نے صراحۃ، جیسا کہ لفظ حسبان کی تفسیر حضرت ابن عباس ؓ سے بھی آگے منقول ہے، واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَعَسَى رَبِّي أَنْ يُؤْتِيَنِ خَيْرًا مِنْ جَنَّتِكَ وَيُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْبَانًا مِنَ السَّمَاءِ فَتُصْبِحَ صَعِيدًا زَلَقًا۔ حسبان، حسبانۃ کی جمع ہے۔ حسبانہ کڑک اور اولے کو کہتے ہیں۔ زلق، اس زمین کو کہتے ہیں جو بالکل چٹیل سبزہ اور روئیدگی سے یک قلم محروم ہو۔ یعنی اگر تم نے میری غربت پر مغرورانہ طعن کیا ہے تو کچھ بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تمہارے باغ سے بہتر باغ دے اور تمہارے باغ پر کڑک اور اولے کا کوئی آسمانی عذاب بھیج دے اور وہ ایک چٹیل میدان ہو کے رہ جائے

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

40۔ 1 دنیا یا آخرت میں۔ یا دنیا اور آخرت دونوں جگہوں میں۔ 40۔ 2 حَسْبَان، غُفْرَان کے وزن پر۔ حساب سے ہے یعنی ایسا عذاب، جو کسی کے کرتوتوں کے نتیجے میں آئے۔ یعنی آسمانی عذاب کے ذریعے سے وہ محاسبہ کرلے۔ اور یہ جگہ جہاں اس وقت سرسبز و شاداب باغ ہے، چٹیل اور صاف میدان بن جائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–44

24: آیت نمبر 28 میں کافر سرداروں کے اس تکبر کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ غریب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک ایسا واقعہ بیان فرما رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال و دولت کی زیادتی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر کوئی شخص اترائے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ مضبوط نہ ہو تو بڑے بڑے مال دار لوگ انجام کار ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صحیح ہو تو غریب لوگ ان سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ جن دو آدمیوں کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے ان کی کوئی تفصیل کسی مستند مرفوع روایت میں موجود نہیں ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے کچھ روایتوں کی بنیاد پر یہ کہا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 37–42

یہ ایک مکمل نظر آنے والا ، مجسم منظر ہے۔ اس باغ کا تمام کا تمام پھل تباہ ہوگیا ہے۔ گویا اس پر ہر جانب سے حملہ ہوا اور اس میں سے ایک دانہ بھی نہ بچا اور اس کے تمام درخت اور بوٹے اپنے تنوں اور تینوں پر پڑے تھے اور اس کے درخت اور بیلیں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھس بن گئیں۔ مالک نے جو یہ منظر دیکھا کہ اس کا باغ تو مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے ، تو وہ اپنے اس عظیم مالی بربادی پر ہاتھ ملنے لگا۔ اس کی پوری کی پوری محنت آج چلی گئی۔ اب تو وہ اس پر بھی تادم ہے کہ اس نے اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کیا۔ اب وہ اللہ کی ربوبیت اور وحدانیت کو پوری طرح تسلیم کر رہا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل اس نے کسی شرکیہ عقیدے کا اظہار نہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 40 فَعَسٰي رَبِّيْٓ اَنْ يُّؤْتِيَنِ خَيْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ مجھے یقین ہے کہ میرا رب اگر چاہے تو تمہارے ان باغوں سے بہتر نعمتوں سے مجھے نواز دے۔ وَيُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْـبَانًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَتُصْبِحَ صَعِيْدًا زَلَقًا یہ بھی ممکن ہے کہ تمہارے اس کفر وتکبر کے باعث اللہ تعالیٰ تمہارے باغوں پر کوئی ایسی آفت نازل کر دے کہ اس قطعہ زمین پر کسی درخت یا کسی بیل وغیرہ کا نام و نشان تک نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 39–41

39 نعمت کے حصول پر بطور شکرانہ ماشاء اللہ کہنا :۔ موحد ساتھی اپنے مشرک ساتھی کو سمجھانے لگا کہ تمہیں چاہیے تو یہ تھا کہ جب تم اپنے باغ میں داخل ہو رہے تھے تو شیخیاں بگھارنے اور اپنے آپ کو مجھ سے بہتر ثابت کرنے کی بجائے اللہ کا شکر ادا کرتے اور کہتے کہ یہ سب کچھ اللہ کی دین ہے مگر تم نے مجھ پر اپنی برتری ثابت کرنا شروع کردی کیا یہ ممکن نہیں کہ اگر میں تمہارے خیال کے مطابق تم سے مال و اولاد میں کم تر ہوں تو اللہ مجھے تیرے باغوں سے بہتر باغ عطا فرما دے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ تمہارے اس تکبر کی سزا کے طور پر اللہ تیرے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج کر اسے خاکستر کر دے یا اس نہر کا پانی ہی خشک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

59۔ (خواہ اسی دنیا میں خواہ آخرت میں) (آیت) ” خیرا “۔ خیر کے اندر ہر قسم کا سامان عیش و راحت آگیا۔ (آیت) ” ان۔۔۔ ولدا “۔ یہ ملحد کی جس تقریر کے جواب میں ہے، وہ دو آیتیں قبل ابھی اوپر گزر چکی۔ (آیت) ” انا اکثر منک مالا واعز نفرا “۔ 60۔ یعنی بالکل اجڑ جائے۔ (آیت) ” علیھا “۔ یعنی تیرے اسی باغ پر۔ (آیت) ” حسبانا “۔ حسبان یعنی ایسی مصیبت جو حکم غیبی سے بلاتوسط اسباب طبعی ہو۔ مصیبت تقدیری، بمعنی الحساب اے مقدرا قدرہ اللہ (کشاف) (کبیر) اور مقصود اس سے جزائے افعال وپاداش اعمال ہو۔ وانما ھو فی الحقیقۃ مایحاسب علیہ فیجازی بحسبہ (راغب) وذلک الحسبان حساب ماکسبت یداک (جمل۔ عن الزجاج)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 39–44

آیت نمبر 39 تا 44 ترجمہ : اور جب تو باغ میں داخل ہوا تھا تو تو نے اس باغ پر تعجب (پسندیدگی) کے وقت کیوں نہ کہا کہ یہ وہی ہے جو اللہ نے چاہا خدا کی مدد کے بغیر کوئی قوت نہیں اور حدیث شریف میں ہے کہ جس کو بہترین مال یا اولاد عطا کیا گیا ہو اور اس نے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کہہ لیا تو اس مال میں اس کو ناپسندیدہ حالت پیش نہیں آئے گی اور اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم ہوں کچھ بعید نہیں کہ میرا رب مجھ کو تیرے باغ سے اچھا باغ دے دے ( اَنا) دو مفعولوں کے درمیان ضمیر فصل ہے اور فعسیٰ جواب شرط ہے اور اس (تیرے باغ) پر کوئی آسمانی آفت بھیج دے حُسْبَان حُسْبَانَۃ کی جمع ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فعسی ربی ان یوتین خیرا من جنتک ویرسل علیہا حسبانا تو امید ہے عنقریب اللہ مجھے تیرے باغ سے بہتر اور بڑھیا چیز عنایت فرما دے اور تیرے باغ پر (تیرے کفر کی وجہ سے) کوئی تقدیری آفت آسمان سے بھیج دے۔ حسبان کا ترجمہ قتادہ نے عذاب اور حضرت ابن عباس ؓ نے آگ اور قتیبی نے پتھریلا طوفان اور بیضاوی نے کڑک کیا ہے بیضاوی نے کہا حسبان حُسْبَانَۃٌکی جمع ہے ‘ بعض علماء نے اس کو مصدر بمعنی حساب قرار دیا ہے اور حساب سے مراد ہے گناہوں کے برابر عذاب یا تقدیر الٰہی کی بھیجی ہوئی آفت۔ من السمآء آسمان سے۔ فتصبح صعیدا زلقا۔ پھر وہ باغ چٹیل چکنا میدان بن جائے یعنی کوئی درخت اور سبزہ اس میں باقی نہ رہے ‘ صاف میدان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–43

(32۔ 43) آپ اہل مکہ کے سامنے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے کہ بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے ایک مومن جس کا نام یہودا اور دوسرا کافر جس کا نام ابو فطروس تھا۔ کافر کو دو باغ ہم نے انگوروں کے دے رکھے تھے اور ان دونوں باغوں کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنارکھا تھا اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی۔ دونوں باغ ہر سال اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں نہر چلا رکھی تھی اور اس کے پاس باغ کا پھل تھا اور بھی تمول کا سامان تھا چناچہ ایک دن وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اپنے مال پر فخر کرتا ہوا کہنے لگا کہ میرا مال بھی تجھ سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 40–41

”صَعِيْدًا“ میدان، ”زَلَقًا“ جس میں قدم پھسلتا ہو۔ اس مومن نے اپنے مغرور ساتھی سے کہا کہ اگر تم مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کم دیکھتے ہو تو یہ کوئی ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں، عین قریب ہے کہ میرا رب دنیا میں یا آخرت میں مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا کر دے اور تمہارے باغ پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج کر زمین کو چٹیل میدان بنا دے۔ جہاں قدم پھسلتا ہو، یا وہ چشمہ جس سے اس کی نہر نکلتی ہے، اس کا پانی گہرا چلا جائے اور تم کسی صورت اسے حاصل نہ کرسکو۔ دیکھیے سورة ملک کی آخری آیت۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 39–41

آیت نمبر 39 تا 41 قولہ تعالیٰ : ولولا اذ دخلت جنتک قلت ما شآء اللہ لا قوۃ الا باللہ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : ولو لا اذ دخلت جنتک قلت ما شآء اللہ لا قوۃ الا باللہ یعنی تو دل کے ساتھ (باغ میں داخل ہوتے وقت یہ الفاظ کہتا : ما شآء اللہ لا قوۃ الا باللہ) ، اور یہ مومن کی جانب سے کافر کو جھڑک بھی ہے اور نصیحت بھی اور اس کے اس قول کا رد بھی ہے کہ جب اس نے کہا : ما اظن ان تبید ھذہ ابدا (میں یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی برباد بھی ہوگا) اور ” ما “ محل رفع میں ہے۔ تقدیر کلام ہے : ھذہ الجنۃ فی ما شاء اللہ (یہ باغ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہے) اور زجاج اور فراء نے کہا ہے : الأمر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–45

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الحسبان “ سے مراد ہے عذاب۔ 2:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” حسبانا من السمآء “ کے بارے میں بتائیے فرمایا اس سے مراد ہے آگ پوچھا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے حسان بن ثابت ؓ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا : بقیۃ معشر صبت علیہم شابیب من الحسبان شھب : ترجمہ : باقی جماعت پر انڈیلا گیا آگ میں سخت گرمی کو جس نے ان کو جھلسادیا۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حسبانا من السمآء “ سے مراد ہے آگ۔ 4:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَعَسٰي : تو امید ہے ] [رَبِيْٓ: میرے رب سے ] [ان : کہ ] ] يُّؤْتِيَنِ : وہ دے گا مجھ کو ] [خَيْرًا : بہتر ] [مِّنْ جَنَّتِكَ : تیرے باغ سے ] [وَيُرْسِلَ : اور وہ بھیج دے گا ] [عَلَيْهَا : اس پر ] [حُسْـبَانا : کوئی آفت ] [مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [فَتُصْبِحَ : نتیجۃ وہ (باغ) ہوجائے گا ] [صَعِيْدًا زَلَقًا : ایک چکنا میدان ] ز ل ق [زَلَقًا : (س) ] قدم پھسلنا۔ زَلَقٌ صفت بھی ہے۔ پھسلتی جگہ۔ چکنی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 40 (افعال) اِزْلَاقًا پھسلانا۔ وَاِنْ یَّکَادُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُزْ لِقُوْنَکَ بِاَبْصَارِھِمْ (اور یقینا قریب ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا۔ پھسلا دیں آپ ﷺ کو اپنی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 32–44

عبرت کے لیے دو شخصوں کی مثال، ان میں ایک باغ والا اور دوسرا غریب تھا ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں ایک باغ والے کافر و مشرک اور دوسرے مومن موحد کی گفتگو نقل فرمائی ہے۔ علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 161 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیات اہل مکہ میں سے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئیں دونوں بنی مخزوم میں سے تھے۔ ایک تو حضرت ابو سلمہ ؓ تھے جو رسول اللہ ﷺ سے پہلے حضرت ام سلمہ ؓ کے شوہر تھے اور دوسرا شخص جو کافر تھا وہ اسود بن عبد الاسد تھا یہ ایک قول ہے۔ دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں سے دو شخصوں کا ہے جو آپس میں دونوں بھائی تھے ایک مومن تھا اور ایک کافر تھا اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–44

بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی مثال قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا رجلین .... الیٰ ۔۔۔۔ ھو خری ثوابا وخیر عقبا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی اس درخواست کو رد فرمایا جو اپنے مال و دولت کے نشہ میں چور تھے اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس کرتے تھے اور اپنے مال و دولت پر فخر محسوس کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں تو آپ ان دو ویشان اسلام اور فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کریں اب ان آیات میں ان متکبرین کے سنانے کیلئے اور دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری بتلانے کے لئے بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی ایک مثال ذکر فرماتے ہیں جن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–41

47:۔ قطروس جب باغ میں داخل ہوا وہ دولت کے نشے میں ایسا مدہوش تھا کہ خدا کو بھی بھول گیا اور قیامت کا بھی انکار کر بیٹھا اور اپنی دولت پر لگا اترانے، اس پر اس کے بھائی نے اسے نصیحت کی کہ جب تو باغ میں داخل ہوا تھا تجھے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا جس نے یہ سب نعمتیں تجھے عطا فرمائی ہیں۔ ” ما شاء اللہ “ اور جو کچھ اس باغ میں ہے سب اللہ کی مہربانی اور اس کی مشیت سے ہے اور یہ سب کچھ اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے چاہے آباد رکھے چاہے برباد کردے۔ کل ما فیہا انما حصل بمشیۃ اللہ وان امرھا بیدہ ان شا 4 ترکہا عامرۃ وان شاء خر بھا (مدارک ج 3 ص 11) ۔ شاید قطروس نے مشیت میں اللہ کے ساتھ کسی اپنے معبود…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–44

ربط آیات : اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کے سلسلے میں ایک دولت مند مشرک اور ایک ایماندار مومن کی مثال بیان فرمائی ہے امیر آدمی نے اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت کہا کہ یہ تو کبھی فنا نہیں ہوگا ۔ قیامت کا کوئی تصور نہیں ہے اور اگر یہ برپا بھی ہوگئی تو میں اس دنیا کی طرح وہاں بھی خوشحال ہی رہوں گا ، وہ شخص اپنے باغ اور مال و دولت کو اپنا ذاتی کمال سمجھتا تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کا احسان نہیں مانتا تھا ، پھر اس نے اپنے غریب مگر مومن بھائی کو طعن کیا کہ میں تم سے مال اور تعداد میں بہتر ہوں وہ غریب مومن اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرچکا تھا مگر امیر آدمی اپنے مال و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَعَسٰي رَبِّيْٓ اَنْ يُّؤْتِيَنِ خَيْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَيُرْسِلَ عَلَيْہَا حُسْـبَانًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَتُصْبِحَ صَعِيْدًا زَلَقًا۝ 40ۙ عسی عَسَى طَمِعَ وترجّى، وكثير من المفسّرين فسّروا «لعلّ» و «عَسَى» في القرآن باللّازم، وقالوا : إنّ الطّمع والرّجاء لا يصحّ من الله، وفي هذا منهم قصورُ نظرٍ ، وذاک أن اللہ تعالیٰ إذا ذکر ذلک يذكره ليكون الإنسان منه راجیا لا لأن يكون هو تعالیٰ يرجو، فقوله : عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] ، أي : کونوا راجین في ذلك . فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ [ المائدة/ 52] ، عَسى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ [ التحریم/ 5] ، وَعَسى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–44

تفسیر …دو شخصوں کا قصہ بطور مثال کے : پھر دنیا کی بےثباتی اور اس کے اسباب و تجمل پر غرور کر کے خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور الحاد کا بدنتیجہ جو کبھی دنیا ہی پر ظاہر ہوتا ہے دو شخصوں کی تمثیل سے بیان فرمایا۔ بعض کہتے ہیں یہ صرف ایک تمثیل ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ دراصل ایسے دو شخص تھے بھی کہ جن کا یہ واقعہ ہے پھر بعض کہتے ہیں کہ یہ دو شخص بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے کہ ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کیا تھا دوسرا دنیادار اور مشرک اور دارآخرت کا منکر تھا۔ اس نے دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے تھے کہ ان میں نہر بھی جاری تھی اور بیچ میں انگور اور آس پاس کھجور کے درخت بھی تھے اور وقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 39–41

وَلَوْلَآ اِذْدَخَلْتَ جَنَّـتَکَ قُلْتَ مَاشَآئَ اللّٰہُ لا لاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ ج اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْکَ مَالاً وَّ وَلَدًا۔ فَعَسٰی رَبِّیْٓ اَنْ یُّـؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِکَ وَیُرْسِلَ عَلَیْھَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآئِ فَـتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَـقًا۔ اَوْیُصْبِحَ مَـآؤْ ھَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَـہٗ طَلَبًا۔ (الکہف : 39، 40، 41) (اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے اس طرح کیوں نہ کہا، یہ جو کچھ ہے سب اللہ کا فضل ہے، اللہ کے سوا کسی کو کوئی قوت حاصل نہیں، اگر تم مال اور اولاد کے اعتبار سے مجھے اپنے سے کم دیکھتے ہو۔ تو امید ہے کہ میرا رب مجھے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–41

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکر کو اس کے ایمان دار ساتھی کی مزید نصیحتیں۔ صاحب ایمان ساتھی نے آخرت کے منکر کو پانچ نصیحتیں کیں : 1۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور اس کے بعد ہر انسان کو اس کے باپ کے نطفے سے پیدا کیا۔ اے میرے ساتھی تجھے بھی ” اللہ “ نے ایک نطفے سے پیدا فرماکر کامل انسان بنایا ہے۔ 2۔ تو مانے یا نہ مانے میر اعقیدہ تو یہ ہے کہ آدمی کو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں سمجھنا چاہیے۔ 3۔ لہلہاتا ہواباغ دیکھ کر غرورو تکبر کرنے کی بجائے تجھے ” ماشاء اللہ، لاقوۃ الا باللہ “ کہنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی چیز پیدا کرنے اور دینے کی طاقت نہیں ہے۔ وہی کچھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مجھے باغ جنت ملے گا : 40: فَعَسٰی رَبِّیْ اَنْ یّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِکَ (پس امید ہے کہ عنقریب میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر اور بڑھیا چیز عنایت فرمائیگا) دنیا میں یا آخرت میں وَیُرْسِلَ عَلَیْھَا حُسْبَانًا (اور تیرے باغ پر تقدیری آفت بھیج دے گا) حسباناؔ سے عذاب مراد ہے۔ مِّنَ السَّمَآ ئِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًا (آسمان سے پھر وہ چٹیل چکنا میدان بن جائے گا) صعیداً زلقاً سفید زمین جس کی ملائمت کی وجہ سے اس پر لوگ پھسلیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(40)” فعسی ربی “ شاید کہ میرا رب ” ان یوتین “ مجھے آخرت میں عطا کرے۔” خیرامن جنتک ویرسل علیھا “ تیرے باغ پر کوئی عذاب بھیج دے۔ ” حسباناً “ قتادہ کا قول ہے کہ اس کا مطلب ہے عذاب بھیج دے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے آگ مراد ہے۔ قتیی کا قول ہے کہ اس پر پتھریلا طوفان آجائے گا۔” من السمائ “ آسمان سے کڑک اور کوئی اور چیز ہلاکت کا ذریعہ بن رہی ہو۔” حسباناً “ کا واحد ” حسبانہ “ ہے۔ ” فتصبح صعیداً زلقا “ یعنی وہ چٹیل چکنا میدان بن جائے۔ یعنی کوئی درخت اس پر باقی نہ رہے، صاف میدان ہوجائے۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس کا ترجمہ ہے ہولناک ریگستان۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–44

32۔ 44:۔ اوپر ان مالدار مشرکین مکہ کا ذکر تھا جو غریب مسکین مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے سے گھبراتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کہاوت بیان کی کہ دو مرد تھے ایک کے دو باغ تھے انگور اور کھجور کے جن کے درمیان میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ ہر طرح کے درخت اور پھل پھول اور میوے پیدا ہوتے تھے ولم تظلم منہ شیئا سے اسی مطلب کو ادا فرمایا ہے۔ پھر فرمایا ان باغوں میں نہریں جاری تھیں پھر فرمایا اس باغ والے نے اپنے دوسرے بھائی سے بطور فخر کے کہا کہ میں تجھ سے مال واولاد اور خدمت گاروں میں زیادہ عزت والا ہوں اور وہ اپنی باغ میں اپنے بھائی کا بھی ہاتھ پکڑ کر میں قیامت کے قائم ہونے کا خیال نہیں رکھتا اور اگر بالفرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 39–45

آیت 39 یعنی صاحب ایمانشخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پر مجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نواشز اور احسان پر رکھی جاسکتی ہے وہ اس دنیا ومافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (آیت) ” پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر “ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کردیا ،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–60

ماشاء اللہ کہنے کی تعلیم قول باری ہے (ولا از دخلت جنتک قلت ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ۔ اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ ، لاقوۃ الا باللہ ) اس کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ ” ماشاء اللہ کان (جو اللہ نے چاہا وہ ہوگیا) یہاں لفظ کان حذف کردیا گیا جس طرح اس قول باری میں یہ محذوف ہے (فان استطعت ان تبتخی نفقاً فی الارض او سلماً فی السمآء ۔ اگر تمہارے بس میں ہو کر زمین میں جانے کے لئے کوئی سرگن یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈ لو) تو ایسا کرلو) یہاں ” فافعل “ (تو ایسا کرلو) محذوف ہے۔ دوسرا قول ہے کہ ” ھو ما شاء اللہ ( یہ وہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 40–41

72۔ رب کی رحمت کی امید کا درس :۔ سو اس مومن صادق نے اس منکر و متکبر شخص سے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بھی بڑھ کر کوئی باغ دے دے خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں اور خواہ دنیا وآخرت دونوں میں کہ دینے اور بخشنے والا بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے اور وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کس کو کس نعمت سے نوازا جائے اور کب اور کس طرح نوازا جائے۔ یہ سب کچھ وہی بہتر طور پر جانتا ہے اور میرا اسی پر بھروسہ و اعتماد ہے۔ سو دینے والا بہرحال اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کے ہاتھ بند نہیں ہوئے۔ بلکہ اس کی عطاء وبخشش برابر جاری وساری ہے اور ایسی اور اس قدر کے ہر ہر لمحہ اور لحظہ کے اندر اس کے جو خزانے تقسیم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–46

سبق آموز کہانی اور نیکیوں کا بدلہ تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی حاکمیت، قدرت کاملہ اور وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر انسان کو روزی رزق دیتا ہے تو انسان کا فرض ہے اس کی نعمتوں کو حاصل کر کے فخر و غرور نہ کرے اور اس قدر بدمست نہ ہوجائے کہ اللہ کے وجود اور قیامت کا انکار کردے اور نعمتوں کا شکر ہی ادا نہ کرے اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگے۔ یہ سب انسانیت کے خلاف اور برے رویے ہیں ہمارا مذہب اسلام ان تمام اخلاقی برائیوں سے منع کرتا ہے، یعنی کسی کو حقیر سمجھنا اور شکر الٰہی ادا نہ کرنا۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی نعمت یا خوبصورت چیز کو دیکھو یا کامیابی حاصل کرو تو اس کو دیکھ کر ماشَائَ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–44

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف دنیا میں بھی یہی مثالیں موجود ہیں جو اقوام کے حالات میں بھی نظر آتی ہیں اور افراد کے حالات میں بھی آپ انہیں ان دو آدمیوں کی مثال دیجئے جو دونوں دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو ہم نے زیادہ مالدار کردیا ، اس کے انگوروں کے باغات تھے جن کے گردا گرد کے درخت اور درمیان میں زرعی زمین تھی یعنی کھجوریں پھل اور غلہ جیسی سب نعمتیں بیک وقت ان باغوں سے حاصل ہوتیں ، اور وہ پورا پورا پھل دیتے کبھی ان میں کمی نہ آتی تھی ، ان باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کردی تھی جس کے سبب وہ ہمیشہ سرسبز رہتے اور ہر موسم کا پھل بہتات سے حاصل ہوتی ، جبکہ دوسرا دوست ایسا مالدار نہ تھا ، ایک روز باتوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 دنیا میں آخرت میں یاد دونوں میں 6 یعنی غرور تکبر کی راہ سے اپنے نفس کی پیروی نہ کرتا بلکہ بھائی کی بات مان لیتا اپنی ساری دولت اور شان و شوکت اللہ ہی کا عطیہ سمجھتا اور مال میں جو دوسروں کے حقوق رکھے گئے ہیں انہیں ادا کرتا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : آخر اس کے باغ کا وہی حال ہوا جو اس کے نیک بھائی کی زبان سے نکلا تھا کہ ات کو آگ لگ گئی آسمان سے سب جل کر راکھ کا ڈھیر ہوگیا۔ مال خرچ کیا تھا دولت بڑھانے کو وہ اصل بھی کھو بیٹھا۔ (موضح)7 یہاں یہ مثال ختم ہوئی۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو سمجھانا ہے کہ غریبوں کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصلی چیز اللہ پر ایمان اور اس کی راہ میں اخلاص ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:40) یؤتین۔ مضارع واحد مذکر غائب ایتاء سے ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے کہ وہ مجھے دے دے۔ مجھے عطا کردے۔ یرسل۔ مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ جواب شرط۔ علیھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنۃ کے لئے ہے۔ حسبانا۔ علامہ بیضاوی نے لکھا ہے کہ یہ حسبان، حسبانۃ کی جمع ہے اس کا معنی بجلی کی کڑک ہے بروزن بطلان وغفران حسب یحسبکا مصدر ہے بمعنی حساب، شمار۔ قرآن حکیم میں اور جگہ آیا ہے وجعل اللیل سکنا والشمس والقمر حسبانا (6: 96) اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھہرایا) اور سورج اور چاند کو (ذریعہ) شمار بنایا ہے۔ موجودہ آیت میں حسبانا کی دو تفسیریں کی گئی ہیں۔ ایک آگ یا بھبوکا۔ دوسرے عذاب، حقیقت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 37–44

لغات القرآن آیت نمبر 37 تا 44 یح اور وہ بات کرتا ہے۔ تراب مٹی۔ سوی برابر کیا، مکمل کیا۔ ان ترن اگر تو مجھے دیکھتا ہے۔ ان یوتین یہ کہ مجھے دیدے۔ یرسل وہ بھیجتا ہے۔ حسبان آفت، مصیبت۔ صعید چٹیل میدان، نرم مٹی۔ زلق چکنی مٹی۔ غور گہرائی میں اتر جانا۔ احیط گھیر لیا گیا۔ یقلب وہ الٹتا پلٹتا ہے۔ کفیہ (کفین) اپنی دو ہتھیلیاں۔ انفقف اس نے خرچ کیا۔ خاویۃ او ندھی پڑی رہنے والی۔ عروش (عرش) بلندی، چھتیں فئۃ جماعت۔ گروہ ھنالک اسی جگہ۔ الولایۃ اختیار۔ عقب انجام، اجرت دینا۔ تشریح : آیت نمبر 37 تا 44 دنیا اور اس کی دولت کی خاصیت یہ ہے کہ اگر ایک شخص ایمان اور عمل صالح سے دور ہو تو وہ بےجا فخر و غرور اور ناشکری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 39–44

بقیہ قصہ دو بھائیوں کا، حشر کی تصدیق اور یہ بھی کہا کہ بجائے اس فخر اور ناشکری کے لفظوں کے تو یہ کہتا کہ انسان کی کیا طاقت تھی کہ وہ ایسا باغ لگاتا اور اتنا مال کماتا تو خوب ہوتا۔ کیونکہ انسان کو جو کچھ فارغ البالی ہوتی ہے وہ اللہ ہی کے چاہنے سے ہوتی ہے۔ اگرچہ مال واولاد نہ ہونے کے سبب سے تو مجھے حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے، مگر مجھ کو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ آخرت میں تیرے اس باغ سے بہتر مجھے باغ دیوے گا۔ او تیری اس ناشکری اور نافرمانی کے سبب سے اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ وہ تیرے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج دیوے۔ آخر کو اس ایماندار شخص کی زبان سے جو نکلا تھا وہی ہوا کہ جس باغ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–41

[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–44

سرمایہ داری کا غرور : (ف 1) مکہ والے مال و دولت کے نشہ میں سرشار تھے ، تمول کا خمار آنکھوں میں تھا اور امارت کا سودا دماغ میں سجا رہا تھا ، مسلمان ابتداء غریب تھے ، اس لئے وہ از راہ کبر مسلمانوں سے نفرت کرتے ، ان کے مذہب کو غربت ومسکنت کا مذہب سمجھتے اور کہتے کہ ہم ایسے دین کو قبول نہیں کرسکتے ، جس کے ماننے والے دنیوی حیثیت سے ہم سے بلند اور اعلی نہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر نعمت سے بہرہ ور کیا ہے ، اس کے پاس شاداب باغ اور کھیت ہیں ، بکثرت دوست و مددگار ہیں ، مگر مغرور ومتکبر ہے ، اپنے جاہ وحشم کو دیکھتا ہے ، اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-40 تو میرے رب کی شان سے یہ بعید نہیں ہے کہ وہ مجھ کو تیرے باغ سے بہتر باغ عطا کر دے اور تیرے اس باغ پر آسمان سے کوئی سخت آفت بھیج دے کہ وہ باغ چٹیل میدان ہو کر رہ جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 37–40

ف 2۔ جو کہ یرا مادہ بعید ہے بواسطہ آدم (علیہ السلام) کے۔ 3۔ جو کہ تیرا مادہ قریبہ ہے رحم مادر میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان باغات کا دینے والا تجھ سے واپس بھی لے سکتا ہے ذرا غور کرے : 43۔ اس مفلس نے دوست نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اس کو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ میرا پروردگار جس نے تجھ پر باغات اور دنیوی زندگی کا سارا کروفر عطا کیا ہے اس کو واپس لیتے کوئی دیر نہیں لگتی اور اس کام کے لئے اس کو کوئی فوجیں نہیں چڑھانا پڑتیں عین ممکن ہے کہ آنے والے وقت تیرے سے بہتر باغات اور مال و دولت کے ڈھیر مجھے عطا فرما دے اور تیرے باغ پر ایسی آفت بھیج دے کہ تو ہاتھ ملتا رہ جائے اور جس باغ میں تو اتنے رعب وداب سے داخل ہو رہا ہے کہ اس کی جگہ چٹیل میدان دیکھ کر تو دم بخود ہوجائے اور تجھے یقین ہی نہ آئے کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–45

The word: حُسبانا - (husbana) in verse 40 has been explained by Qatadah as 'punishment' in an absolute sense, by Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ as 'fire' and by some as 'stoning.' As for what appears after that in the Qur'an: أُحِيطَ بِثَمَرِ‌هِ (And its produce was struck by destruction from all sides - 42), it obviously means that some major calamity hit his gardens, wealth and things of luxury reducing everything to ruins. The Qur'an does not mention any particular calamity explicitly. It appears that, some fire came down from the skies and burnt the whole thing - as it appears in the Tafsir of…

Read the full tafseer →