Explained with ayahs 37–41
احسان فراموشی مترادف کفر ہے
اس کا کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائشی مٹی سے شروع کی پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28) 2۔ البقرة :28) میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو ؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کرسکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
سورة الْكَهْف 39
اگر چہ اس شخص نے خدا کی ہستی سے انکار نہیں کیا تھا، بلکہ وَلَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰی رِبِّیْ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خدا کے وجود کا قائل تھا، لیکن اس کے باوجود اس کے ہمسائے نے اسے کفر باللہ کا مجرم قرار دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفر باللہ محض ہستی باری کے انکار ہی کا نام نہیں ہے بلکہ تکبُّر اور فخر و غرور اور انکار آخرت بھی اللہ سے کفر ہی ہے۔ جس نے یہ سمجھا کہ بس میں ہی میں ہوں، میری دولت اور شان و شوکت کسی کا عطیہ نہیں بلکہ میری قوت و قابلیت کا نتیجہ ہے، اور میری دولت لازوال ہے، کوئی اس کو مجھ سے چھیننے والا نہیں، اور کسی کے سامنے مجھے حساب دینا نہیں، وہ اگر خدا کو مانتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
معارف و مسائل
وَّكَانَ لَهٗ ثَمَــــرٌ لفظ ثمر درختوں کے پھل کو بھی کہا جاتا ہے، اور مطلق مال و زر کو بھی، اس جگہ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ سے یہی دوسرے معنی میں منقول ہیں (ابن کثیر) قاموس میں ہے کی لفظ ثمرہ درخت کے پھل اور انواع مال وزر سب کو کہا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس کے پاس صرف باغات اور کھیت ہی نہیں بلکہ سونا چاندی اور تمام اسباب عیش دوسرے بھی موجود تھے، خود اس کے الفاظ میں جو قرآن نے نقل کئے اس میں اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا بھی اسی مفہوم کو ادا کرتے ہیں (ابن کثیر)
مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰه شعب الایمان میں حضرت انس ؓ کی روایت سے مذکور ہے کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →لَكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي وَلا أُشْرِكُ بِرَبِّي أَحَدًا۔
یہ بندہ مومن نے اپنا عقیدہ بیان کیا ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایمان کے لیے صرف خدا کو مان لینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ خدا ہی کو اپنا رب، پروردگار اور آقا ومالک بھی مانے اگر کوئی شخص اللہ کا اقرار کرتا ہے لیکن رب دوسروں کو بھی مانتا ہے تو وہ مشرک ہے۔ اور یہ شرک بھی کفر ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے مال و جاہ پر مغرور ہے، اس کو اپنی قابلیت کا ثمرہ و نتیجہ اور اپنے استحقاق ذاتی کا کرشمہ خیال کرتا ہے اور یہ خناس اس کے دماغ میں سمایا ہوا ہے کہ اس کو اس سے کوئی چھین نہیں سکتا تو یہ بھی شرک ہے اس لیے کہ ایسا شخص اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →38۔ 1 یعنی میں تیری طرح بات نہیں کروں گا بلکہ میں تو اللہ کی ربوبیت اور اس کی واحدنیت کا اقرار و اعتراف کرتا ہوں اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوسرا ساتھی مشرک ہی تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
24: آیت نمبر 28 میں کافر سرداروں کے اس تکبر کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ غریب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک ایسا واقعہ بیان فرما رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال و دولت کی زیادتی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر کوئی شخص اترائے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ مضبوط نہ ہو تو بڑے بڑے مال دار لوگ انجام کار ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صحیح ہو تو غریب لوگ ان سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ جن دو آدمیوں کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے ان کی کوئی تفصیل کسی مستند مرفوع روایت میں موجود نہیں ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے کچھ روایتوں کی بنیاد پر یہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
یہ ایک مکمل نظر آنے والا ، مجسم منظر ہے۔ اس باغ کا تمام کا تمام پھل تباہ ہوگیا ہے۔ گویا اس پر ہر جانب سے حملہ ہوا اور اس میں سے ایک دانہ بھی نہ بچا اور اس کے تمام درخت اور بوٹے اپنے تنوں اور تینوں پر پڑے تھے اور اس کے درخت اور بیلیں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھس بن گئیں۔ مالک نے جو یہ منظر دیکھا کہ اس کا باغ تو مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے ، تو وہ اپنے اس عظیم مالی بربادی پر ہاتھ ملنے لگا۔ اس کی پوری کی پوری محنت آج چلی گئی۔ اب تو وہ اس پر بھی تادم ہے کہ اس نے اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کیا۔ اب وہ اللہ کی ربوبیت اور وحدانیت کو پوری طرح تسلیم کر رہا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل اس نے کسی شرکیہ عقیدے کا اظہار نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
1 یعنی جس خدا نے تیری اصل (آدم علیہ السلام) کو بےجان مٹی سے پھر تجھ کو زمینی پیداوار کے خلاصہ اور ایک قطرہ ناچیز سے پیدا کر کے زندگی بخشی اور جسمانی و روحانی قوتیں دے کر ہٹا کٹا مرد بنایا، کیا تجھے انکار ہے کہ وہ تیرے مرے پیچھے دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ؟ یا دی ہوئی نعمت چھین نہیں سکتا ؟ میرا تو یہ عقیدہ نہیں۔ بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ تنہا ہمارا رب ہے۔ اس کی خدائی میں کوئی حصہ دار نہیں۔ پھر بھلا اس کے حکم و اختیار کے سامنے کون دم مار سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
اَكَفَرْتَ بالَّذِيْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًا
یہاں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ وہ شخص بظاہر اللہ کا منکر نہیں تھا مگر پھر بھی اسے اللہ سے کفر کا مرتکب بتایا گیا ہے۔ وہ اس لیے کہ اس سے پہلے وہ آخرت کا انکار کرچکا تھا اور آخرت کا انکار دراصل اللہ کا انکار ہے۔ گویا جو شخص آخرت کا منکر ہو اس کا ایمان باللہ کا دعویٰ بھی قابل قبول نہیں۔
Read the full tafseer →38 یعنی میں تو اسی پروردگار کو اپنا مالک، آقا اور فرمانروا سمجھتا ہوں وہی میرے اور تمہارے سب کے نفع و نقصان کا مالک ہے اس کی مشیئت کے بغیر نہ میری اپنی تدبیریں کچھ کام آسکتی ہیں نہ ہی کوئی دوسرا میری مدد یا حمایت کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
58۔ (کہ جس کسی مخلوق میں کچھ بھی قوت ہے، اسی کے سہارے ہے) (آیت) ” باللہ “۔ ب باء الاستعانۃ ہے۔ اے لاقوۃ لاحد علی امر من الامور الا باعانۃ اللہ (کبیر) موحد کی تقریر کا پہلا حصہ نفس توحید پر تھا اور اب اس کلیہ کی ایک فرع پر گفتگو ہے۔ (آیت) ” ولو۔۔۔ شآء اللہ “۔ یعنی تیرے یا میرے یا کسی کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ اللہ ہی جب تک چاہے گا یہ باغ بھی قائم رہے گا اور جب وہی چاہے گا تو یہ ویران ہوجائے گا۔ اسباب طبعی سب اس کی مشیت کے ماتحت ہیں، نہ کہ اس سے آزاد ومستغنی۔ (آیت) ” لاقوۃ الا باللہ “۔ چناچہ یہ باغ بھی اسی کی قوت سے تیار ہوا ہے نہ کہ کسی اور کی قوت سے۔ اے ھذا بقوۃ اللہ لا بقوتی (ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
آیت نمبر 32 تا 38
ترجمہ : اور حال بیان کیجئے ان کافروں اور مومنوں کے لئے ان دو شخصوں کا رجلین مثلاً سے بدل ہے رجُلَین اور اس کا مابعد مثلاً کی تفسیر ہے ان دو میں سے ایک کو جو کافر تھا انگور کے دو باغ دئیے تھے اور ہم نے دونوں باغوں کا کھجوروں کے درختوں کے ذریعہ احاطہ کردیا تھا اور ان کے بیچ بیچ میں کھیتی بھی اگائی تھی جس کے ذریعہ غذا حاصل کی جاتی تھی دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے اس میں بالکل کمی نہیں کرتے تھے کِلتَا لفظ کے اعتبار سے مفرد ہے (مگر معنی کے اعتبار سے) تثنیہ پر دلالت کرتا ہے اور کلتا مبتدا ہے اور آتت اس کی خبر ہے اور ہم نے ان دونوں باغوں کے درمیان نہریں جاری کر رکھی تھیں اور اس…
Read the full tafseer →لکنا ہو اللہ ربی ولا اشرک بربی احدا لیکن (میں تو کہتا ہوں کہ) اللہ میرا رب ہے میں
اس کے ساتھ (عبادت و ربوبیت میں) کسی کو ساجھی نہیں قرار دیتا۔ بقول بغوی ‘ کسائی نے بیان کیا کہ کلام میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے اصل کلام تھا لٰکِنَ اللّٰہُ ہُوَ رَبِّیْ (اس صورت میں۔ کہتا ہوں۔ جملہ محذوف ماننے کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ) لَکِنَّاکا الف زائد ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–43
(32۔ 43) آپ اہل مکہ کے سامنے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے کہ بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے ایک مومن جس کا نام یہودا اور دوسرا کافر جس کا نام ابو فطروس تھا۔
کافر کو دو باغ ہم نے انگوروں کے دے رکھے تھے اور ان دونوں باغوں کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنارکھا تھا اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی۔
دونوں باغ ہر سال اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں نہر چلا رکھی تھی اور اس کے پاس باغ کا پھل تھا اور بھی تمول کا سامان تھا چناچہ ایک دن وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اپنے مال پر فخر کرتا ہوا کہنے لگا کہ میرا مال بھی تجھ سے…
Read the full tafseer →ۭلٰكِنَّا۟ هُوَ اللّٰهُ رَبِّيْ۔۔ : ”ۭلٰكِنَّا“ اصل میں ”لٰکِنْ أَنَا“ (لیکن میں) ہے، یعنی تم کفر کرتے ہو تو کرتے رہو، لیکن میں یہ ظلم کبھی نہیں کروں گا، بلکہ وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کا ساتھی مشرک تھا۔ اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے چند کلمات سکھائے جنھیں میں پریشانی اور بےچینی کے وقت کہوں : (اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّيْ لَا أُشْرِکُ بِہِ شَیْءًا) [ أبوداوٗد، الوتر، باب في الاستغفار : 1525 ] ”اللہ، اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بناتی (بناتا)۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت نمب 37 تا 38
قولہ تعالیٰ : قال لہ صاحبہ یعنی اس کے ساتھی یہوذا یا تملیخا نے کہا : یہ اس کے نام میں اختلاف ہونے کی وجہ سے ہے۔ اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من لطفۃ ثم سوک رجلا یعنی اس نے اسے نصیحت کی اور اس کے لئے وضاحت کی کہ ان چیزوں میں سے جن کا اس نے اعتراف کیا ہوا ہے یہ وہ ہیں جن کا کوئی بھی انکار نہیں کرتا کہ یہ اعادہ کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ ہیں۔ اور سوک رجلا یعنی اس نے تجھے معتدل قدوقامت والا، معتدل مخلوق، اور صحیح الاعضاء مرد بنایا ہے۔ لکنا ھو اللہ ربی اسی طرح اسے ابو عبد الرحمن سلمی اور ابو العالیہ نے پڑھا ہے اور کسائی سے روایت کیا گیا ہے لکن ھو اللہ بمعنی لکن الامر ھو اللہ ربی (لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
1:۔ ابن ابی حاتم نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یہ کلمات سکھائے تھے کہ میں ان کو تکلیف اور مصیبت کے وقت کہتی ہوں۔” اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیئا “ (اللہ ہی میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی ) ۔
2:۔ سعید بن منصور ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں عروہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے مال میں سے کسی چیز کو دیکھتے جو ان کو خوش (اچھی) لگتی یا اپنے باغوں میں سے کسی باغ میں داخل ہوتے تو یہ پڑھتے ” ماشآء اللہ لا قوۃ الاباللہ “ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول سے استدلال کرتے تھے (آیت) ” ولولا اذ دخلت جنتک قلت ماشآء اللہ لا قوۃ الاباللہ “۔
3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →[لٰكِنَا : لیکن میں (کہتا ہوں کہ) [هُوَ : وہ ] [اللّٰهُ : اللہ ] [رَبِيْ : میرا رب ہے ] [وَلَآ اُشْرِكُ : اور میں شریک نہیں کرتا ] [بِرَبِيْٓ: اپنے رب کے ساتھ ] [اَحَدًا : کسی ایک کو ]
ترکیب : (آیت۔ 38) لٰکِنَّا کے الف پر قرآن مجید کے نسخوں میں یا تو کانٹا (x) لگا ہوتا ہے یا ایک گول نشان (o) ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ الف پڑھا نہیں جائے گا۔ اس لئے اس کو لٰکِنَّ پڑھنا ہے۔ لیکن یہ لٰکِنَّ بھی نہیں ہے۔ اگر یہ لٰکِنَّ ہوتا تو اس کے آگے ضمیر مرفوعہ ھُوَ کے بجائے ضمیر منصوبہ آتی اور یہ لَکِنَّہٗ آتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل لٰکِنْ اَنَا ہے جس کو لٰکِنَّا لکھا اور لٰکِنَّ پڑھا جاتا ہے،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
عبرت کے لیے دو شخصوں کی مثال، ان میں ایک باغ والا اور دوسرا غریب تھا
ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں ایک باغ والے کافر و مشرک اور دوسرے مومن موحد کی گفتگو نقل فرمائی ہے۔
علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 161 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیات اہل مکہ میں سے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئیں دونوں بنی مخزوم میں سے تھے۔ ایک تو حضرت ابو سلمہ ؓ تھے جو رسول اللہ ﷺ سے پہلے حضرت ام سلمہ ؓ کے شوہر تھے اور دوسرا شخص جو کافر تھا وہ اسود بن عبد الاسد تھا یہ ایک قول ہے۔ دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں سے دو شخصوں کا ہے جو آپس میں دونوں بھائی تھے ایک مومن تھا اور ایک کافر تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی مثال
قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا رجلین .... الیٰ ۔۔۔۔ ھو خری ثوابا وخیر عقبا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی اس درخواست کو رد فرمایا جو اپنے مال و دولت کے نشہ میں چور تھے اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس کرتے تھے اور اپنے مال و دولت پر فخر محسوس کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں تو آپ ان دو ویشان اسلام اور فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کریں اب ان آیات میں ان متکبرین کے سنانے کیلئے اور دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری بتلانے کے لئے بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی ایک مثال ذکر فرماتے ہیں جن…
Read the full tafseer →46:۔ ” لکنا “ اصل لکن انا تھا، ہمزہ کو مع حرکت علی خلاف القیاس حذف کردیا گیا، دو نون جمع ہوگئے پہلا ساکن اور دوسرا متحرک، پہلے کو دوسرے میں ادغام کردیا گیا تو لٰکِنَّا ہوگیا، اس سے واضح ہوگیا کہ یہ واحد متکلم کا صیغہ ہے، جمع نہیں ہے (روح) اس جملے کی ترکیب اس طرح ہوگی۔ ” انا “ مبتدائے اول ” ھو “ ضمیر شان مبتدائے ثانی۔ ” اللہ “ مبتدائے ثالث، ” ربی “ اس کی خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ مبتدائے ثانی کی خبر ہوئی، مبتدائے ثانی اپنی خبر سے مل کر مبتدائے اول کی خبر ہوئی (بحر ج 6 ص 128) ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں ” انا “ کے بعد ” اقول “ محذوف ہے اصل میں تھا لکن انا اقول ھو اللہ ربی (بحر) ۔ ” و لا اشرک الخ “ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
ربط آیات :
اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کے سلسلے میں ایک دولت مند مشرک اور ایک ایماندار مومن کی مثال بیان فرمائی ہے امیر آدمی نے اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت کہا کہ یہ تو کبھی فنا نہیں ہوگا ۔ قیامت کا کوئی تصور نہیں ہے اور اگر یہ برپا بھی ہوگئی تو میں اس دنیا کی طرح وہاں بھی خوشحال ہی رہوں گا ، وہ شخص اپنے باغ اور مال و دولت کو اپنا ذاتی کمال سمجھتا تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کا احسان نہیں مانتا تھا ، پھر اس نے اپنے غریب مگر مومن بھائی کو طعن کیا کہ میں تم سے مال اور تعداد میں بہتر ہوں وہ غریب مومن اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرچکا تھا مگر امیر آدمی اپنے مال و…
Read the full tafseer →لٰكِنَّا۟ ہُوَاللہُ رَبِّيْ وَلَآ اُشْرِكُ بِرَبِّيْٓ اَحَدًا 38
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم،
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
شرك
وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان :
أحدهما : الشِّرْكُ العظیم،
وهو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
تفسیر …دو شخصوں کا قصہ بطور مثال کے : پھر دنیا کی بےثباتی اور اس کے اسباب و تجمل پر غرور کر کے خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور الحاد کا بدنتیجہ جو کبھی دنیا ہی پر ظاہر ہوتا ہے دو شخصوں کی تمثیل سے بیان فرمایا۔ بعض کہتے ہیں یہ صرف ایک تمثیل ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ دراصل ایسے دو شخص تھے بھی کہ جن کا یہ واقعہ ہے پھر بعض کہتے ہیں کہ یہ دو شخص بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے کہ ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کیا تھا دوسرا دنیادار اور مشرک اور دارآخرت کا منکر تھا۔ اس نے دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے تھے کہ ان میں نہر بھی جاری تھی اور بیچ میں انگور اور آس پاس کھجور کے درخت بھی تھے اور وقت…
Read the full tafseer →لٰـکِنَّـاْ ھُوَاللّٰہُ رَبِّیْ وَلَآ اُشْرِکُ بِرَبِّیْٓ اَحَدً ۔ (الکہف : 38)
(لیکن (میرے نزدیک) وہ اللہ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔ )
لٰـکِنَّـاْ … اصل میں لٰـکِنْ اَنَاہے۔
مومن کا اظہارِ حق
مردِمومن نے اسے فہمائش کرنے کے بعد واضح طور پر اپنا مؤقف بیان کیا کہ تم صرف اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کرتے ہو لیکن اس کی حیثیت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ تمہارے نزدیک وہ ایسا وجود ہے جو مخلوقات کو خلق کرنے کے بعد کسی کونے میں چھپ کر بیٹھ گیا ہے اور اس کا نظام کائنات کے چلنے میں کوئی عمل دخل نہیں، لیکن میں جس اللہ کو مانتا ہوں، وہ میرا رب ہے۔ جس طرح وہ ظاہری طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
فہم القرآن
ربط کلام : آخرت کے منکر کو اس کے مخلص ساتھی کی نصیحت۔
آخرت کے منکر کو اس کے مخلص ساتھی نے سمجھایا کہ کیا تو اس ذات حق کا انکار کرتا ہے۔ جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر ایک نطفے سے کامل انسان بنایا۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا اور اس کے بعد تمام انسان نطفہ سے پیدا کیے جاتے ہیں۔ جب آخرت کا منکر ہر دلیل سے انکار کرتارہا تو اس کے مواحد ساتھی نے اسے کہا کہ اگر تو حق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو تیری مرضی۔ لیکن میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ ” اللہ “ ہی میرا رب ہے۔ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو کسی اعتبار سے شریک نہیں سمجھتا۔ یا در ہے کہ رب کا معنی ہے ” خالق، مالک، بادشاہ “ اور…
Read the full tafseer →38: لٰکِنَّا۔ (لیکن میری بات تو یہ ہے) قراءت : وصل میں الف کے ساتھ شامی نے پڑھا۔ باقی قراء نے بلا الف پڑھا۔ اور الف کے ساتھ وقف کی حالت میں تمام قراء کا اتفاق ہے۔ اس کی اصل لٰکِنْ اَنَا ہے۔ ہمزہ کو حذف کیا اس کی حرکت لٰکِنْ کے نون پر ڈال دی گئی۔ دو نون ملے پہلی کو دوسری میں ساکن کرنے کے بعد ادغام کردیا۔
ھُوَ اللّٰہُ رَبِّیْ (وہی اللہ میرا رب ہے) ہو ضمیر شان ہے تقدیر عبارت یہ ہے الشان اَللّٰہ رَبِّیْ اور پورا جملہ اَناؔ کی خبر ہے۔ اور یاءؔ ضمیر اس کی طرف لوٹنے والی ہے۔ اکفرتکا استدراک ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے قال لا خیہ انت کافر باللّٰہ لکنی مومن موحّد اس نے اپنے بھائی کو کہا تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →38 ۔ ” لکنا ھواللہ ربی “ ابن عامر اور یعقوب نے ” لکنا “ الف کے ساتھ لکھا ہے اور باقی قراء نے بغیر الف کے لکھا ہے اور اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وقف کی حالت میں یہ الف کے بغیر ہے۔ یہ اصل میں ” لکن ‘ أنا “ تھا۔ ہمزہ کو تخفیف کے لیے حذف کیا، کرت استعمال کی وجہ سے پھر ان دونوں نون کو آپس میں مدغم کردیا۔ کسائی کا بیان ہے کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔
” لکنا اللہ ھو ربی “ … ” ولا اشرک بربی احدًا “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
32۔ 44:۔ اوپر ان مالدار مشرکین مکہ کا ذکر تھا جو غریب مسکین مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے سے گھبراتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کہاوت بیان کی کہ دو مرد تھے ایک کے دو باغ تھے انگور اور کھجور کے جن کے درمیان میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ ہر طرح کے درخت اور پھل پھول اور میوے پیدا ہوتے تھے ولم تظلم منہ شیئا سے اسی مطلب کو ادا فرمایا ہے۔ پھر فرمایا ان باغوں میں نہریں جاری تھیں پھر فرمایا اس باغ والے نے اپنے دوسرے بھائی سے بطور فخر کے کہا کہ میں تجھ سے مال واولاد اور خدمت گاروں میں زیادہ عزت والا ہوں اور وہ اپنی باغ میں اپنے بھائی کا بھی ہاتھ پکڑ کر میں قیامت کے قائم ہونے کا خیال نہیں رکھتا اور اگر بالفرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
(آیت نمبر (37
یعنی اس کے صاحب ایمان ساتھی نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے اور اس کو اس کی ابتدائی حالت یاد دلاتے ہوئے جس حالت میں اللہ تعالیٰ اسے وجود میں لایا تھا۔۔۔ کہا : (اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من نطفۃ ثم سوئک رجلاً ) ” کیا تو نے اس ذات کا انکار کیا جس نے تجھے پیدا کیا مٹی سے، پھر قطرے سے، پھر پورا کردیا تجھ کو مرد۔ “ پس وہی ہے جس نے تجھے وجود بخشا اور تجھ تک اپنی نعمتیں پہنچائیں، تجھے ایک ہئیت سے دوسری ہئیت میں منتقل کیا یہاں تک کہ تجھے کامل اعضائے محسوسہ و معقولہ کے ساتھ آدمی بنا کر پیدا کیا، تیرے لئے اسباب میں آسانی پیدا کی اور تجھے دنیا کی نعمتیں مہیا کیں۔ تو اپنی قوت و اختیار سے کبھی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
غار میں اصحاب کہف کی مدت قیام
قول باری ہے (ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ سنین وازدادواتسعاً ) اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں) قتادہ سے مروی ہے یہ یہود کے قول کی حکایت ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (قل اللہ اعلم بما لبثوا تم کہو اللہ ان کے قایم کی مدت زیادہ جانتا ہے ) مجاہد، ضحاک اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ غار میں ان کے قیام کی مدت اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اگر اہل کتاب اس معاملے میں تم سے بحث کرنے پر اتر آئیں تو ان سے کہہ دو ۔ اللہ ان کے قیام کی مدت کو زیادہ جانتا ہے۔…
Read the full tafseer →70۔ مومن صادق کا شرک سے برات و بیزاری کا اعلان :۔
سو اس مومن صادق نے اس منکرومتکبر شخص سے کہا کہ میں تو بہرحال کسی کو بھی اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتا کہ اس کا کوئی شریک وسہیم ہے ہی نہیں۔ اس کے سوا نہ کوئی کچھ دے سکتا ہے نہ چھین سکتا ہے۔ اور وہ جس کو چاہے دے اور جیسے چاہے رکھے صحیح اور درست ہے کہ وہ حاکم بھی ہے اور حکیم بھی۔ اور اس کی حکمتوں کا علم و احاطہ بھی خود اسی وحدہ لاشریک کو ہوسکتا ہے۔ تو تجھے اے منکرومتکبر شخص اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنی چاہئے تھی اور ” ماشاء اللہ لاقوۃ الاباللہ “ کہنا چاہئے تھا۔ تاکہ اس کا حق شکر بھی ادا ہوتا اور تیرے باغ کی آفات وبلیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–46
سبق آموز کہانی اور نیکیوں کا بدلہ
تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی حاکمیت، قدرت کاملہ اور وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر انسان کو روزی رزق دیتا ہے تو انسان کا فرض ہے اس کی نعمتوں کو حاصل کر کے فخر و غرور نہ کرے اور اس قدر بدمست نہ ہوجائے کہ اللہ کے وجود اور قیامت کا انکار کردے اور نعمتوں کا شکر ہی ادا نہ کرے اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگے۔ یہ سب انسانیت کے خلاف اور برے رویے ہیں ہمارا مذہب اسلام ان تمام اخلاقی برائیوں سے منع کرتا ہے، یعنی کسی کو حقیر سمجھنا اور شکر الٰہی ادا نہ کرنا۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی نعمت یا خوبصورت چیز کو دیکھو یا کامیابی حاصل کرو تو اس کو دیکھ کر ماشَائَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
دنیا میں بھی یہی مثالیں موجود ہیں جو اقوام کے حالات میں بھی نظر آتی ہیں اور افراد کے حالات میں بھی آپ انہیں ان دو آدمیوں کی مثال دیجئے جو دونوں دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو ہم نے زیادہ مالدار کردیا ، اس کے انگوروں کے باغات تھے جن کے گردا گرد کے درخت اور درمیان میں زرعی زمین تھی یعنی کھجوریں پھل اور غلہ جیسی سب نعمتیں بیک وقت ان باغوں سے حاصل ہوتیں ، اور وہ پورا پورا پھل دیتے کبھی ان میں کمی نہ آتی تھی ، ان باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کردی تھی جس کے سبب وہ ہمیشہ سرسبز رہتے اور ہر موسم کا پھل بہتات سے حاصل ہوتی ، جبکہ دوسرا دوست ایسا مالدار نہ تھا ، ایک روز باتوں…
Read the full tafseer →ف 3 اس سے معلوم ہوا کہ وہ صاحب باغ مشرک تھا۔ بہت سے مشرک ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو تو مانتے ہیں مگر اس کے ساتھ شرک بھی کرت یہیں وما یومن اکثر ھم باللہ الا وھم مشرکون “ تنبیہ آنحضرت نخے پریشانی کا علاج اس کلمہ کا پڑھنا تجویز فرمایا : اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیاً (ت ۔ ن)
Read the full tafseer →(18:38) لکنا۔ اصل میں لکن انا ہے۔ عبارت یوں ہے لکن انا ھو اللہ ربی۔ اس کی ترکیب یہ ہے انا مبتدا اول ھو مبتدا ثانی۔ اللہ مبتدا ثالث۔ ربی مبتدا ثالث کی خبر۔ دونوں مل کر مبتدا ثانی کی خبر یہ اپنی خبر سے مل کر انا مبتدا اول کی خبر۔ لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے میرا تو عقیدہ ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو میرا رب ہے ھو ضمیر شان ہے اللہ کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
لغات القرآن آیت نمبر 37 تا 44
یح اور وہ بات کرتا ہے۔ تراب مٹی۔ سوی برابر کیا، مکمل کیا۔ ان ترن اگر تو مجھے دیکھتا ہے۔ ان یوتین یہ کہ مجھے دیدے۔ یرسل وہ بھیجتا ہے۔ حسبان آفت، مصیبت۔ صعید چٹیل میدان، نرم مٹی۔ زلق چکنی مٹی۔ غور گہرائی میں اتر جانا۔ احیط گھیر لیا گیا۔ یقلب وہ الٹتا پلٹتا ہے۔ کفیہ (کفین) اپنی دو ہتھیلیاں۔ انفقف اس نے خرچ کیا۔ خاویۃ او ندھی پڑی رہنے والی۔ عروش (عرش) بلندی، چھتیں فئۃ جماعت۔ گروہ ھنالک اسی جگہ۔ الولایۃ اختیار۔ عقب انجام، اجرت دینا۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 44
دنیا اور اس کی دولت کی خاصیت یہ ہے کہ اگر ایک شخص ایمان اور عمل صالح سے دور ہو تو وہ بےجا فخر و غرور اور ناشکری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
اور اس کافر کے ہاں ہر قسم کا میوہ بھی ہوتا تھا ۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ قطروس نے اپنے مسلمان بھائی کو بہت ملامت کی اور کہا کہ میرا تمہارا روپیہ تو برابر تھا میں نے تو یہ باغ اور جائداد پیدا کی میرے ہاں غلام اور نوکر چاکر ہیں، تم مفلس اور پریشان ہوگئے۔ یہودا نے جواب دیا کہ بھائی اس مال سے تم نے دنیا کے باغ مول لئے اور میں نے جنت کے باغ، تم نے دنیا میں گھر بنایا میں نے جنت میں تم نے اپنی شادی کی میں نے اپنی حور عین کا مہر ادا کیا، تم نے لونڈی اور غلام اور نوکر چاکر جمع کئے، میں نے غلمان کی طلب کی قطروس نے اسے بہت ملامت کی اور یہ بات کہی کہ تم بہت بیوقوف ہو تم نے زرنقد کو ایک وعدہ کے بھروسہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–41
[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
سرمایہ داری کا غرور :
(ف 1) مکہ والے مال و دولت کے نشہ میں سرشار تھے ، تمول کا خمار آنکھوں میں تھا اور امارت کا سودا دماغ میں سجا رہا تھا ، مسلمان ابتداء غریب تھے ، اس لئے وہ از راہ کبر مسلمانوں سے نفرت کرتے ، ان کے مذہب کو غربت ومسکنت کا مذہب سمجھتے اور کہتے کہ ہم ایسے دین کو قبول نہیں کرسکتے ، جس کے ماننے والے دنیوی حیثیت سے ہم سے بلند اور اعلی نہ ہوں ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر نعمت سے بہرہ ور کیا ہے ، اس کے پاس شاداب باغ اور کھیت ہیں ، بکثرت دوست و مددگار ہیں ، مگر مغرور ومتکبر ہے ، اپنے جاہ وحشم کو دیکھتا ہے ، اور…
Read the full tafseer →-38 لیکن میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ وہی اللہ تعالیٰ میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔
یعنی اس نے تیرے باپ آدم کو مٹی سے بنایا پھر آدم (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع کیا اور اسی مٹی کے نچوڑ اور سلاسلہ سے تجھ کو پیدا کیا اور تیرے تمام اعضاء کو ایک لیبل میں کر کے ایک بہترین شکل و صورت کا آدمی بنایا میں تو اسی کو اپنا حقیقی رب مانتا ہوں اور اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک قرار نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
ف 2۔ جو کہ یرا مادہ بعید ہے بواسطہ آدم (علیہ السلام) کے۔
3۔ جو کہ تیرا مادہ قریبہ ہے رحم مادر میں۔
Read the full tafseer →میرا وہی پروردگار ہے اور میں کبھی کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرا سکتا :
41۔ اس مفلس دوست نے بھی اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے اس سے مزید تفیلی سے گفتگو کرنا شروع کردی اور بڑے جذبہ کے ساتھ کہا کہ تو بھی اچھی طرح سن لے کہ ” میں یقین رکھتا ہوں کہ وہی اللہ میرا پروردگار ہے اور میں اس کے سوا کسی کا پرستار نہیں ہو سکتا اور نہ کسی کی ربوبیت کو تسلیم کرتا ہوں اور پھر یہی نہیں کہ وہ میرا ہی رب ہے اور تیرا بھی رب ہے اور اس کائنات میں جو کچھ ہے اس کا بھی رب ہے ، ہاں ! تو صاحب مال ‘ صاحب اولاد ‘ صاحب جاہ و جلال اور صاحب اقتدار ہے تو آخر ان چیزوں میں سے کونسی وہ چیز ہے جس کو ہمیشگی ہے ۔ جس مقام پر آج تو ہے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
Commentary
The word: ثَمَرٌ (thamar) in: وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ (And he had wealth - 34) means the fruit of trees as well as wealth, in an absolute sense. At this place, Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، Mujahid and Qatadah have taken it in the later sense (Ibn Kathir) According to the Lexicon, al-Qamus, this word is used to denote the fruit of the tree and wealth of all kinds. This tells us that not only did he own gardens and farms, he also had gold, silver and other luxuries. Even his words reported by the Qur'an: (I am greater than you in wealth -34) also express the same sense. (Ibn Kathir)
About…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
39. This shows that unbelief in Allah is not confined to the denial of the existence of God in so many words, but arrogance, pride, vanity and the denial of the Hereafter are also kufr. Although that person did not deny the existence of Allah, he professed it as is apparent from his words (And if I am brought back to my Lord), yet in spite of his profession, his neighbor charged him with unbelief in Allah. This is because the person, who considers his wealth and his grandeur etc. to be the fruits of his own power and capability and not the favors of Allah, and who thinks that they are…
Read the full tafseer →