Al-Kahf 18:37

Al-Kahf · from ayah 37

18:37

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَهُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًا ۟ؕقَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرۡتَ بِالَّذِىۡ خَلَقَكَ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّـطۡفَةٍ ثُمَّ سَوّٰٮكَ رَجُلًاؕ

تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس (خدا) سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا مرد بنایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

His companion said to him while he was conversing with him, "Have you disbelieved in He who created you from dust and then from a sperm-drop and then proportioned you [as] a man?

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 5 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:37

اُس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اس سے کہا "کیا تو کفر کرتا ہے اُس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بنا کھڑا کیا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس (خدا) سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا مرد بنایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو اس (معبود) سے کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفے سے پھر تجھے پورا آدمی بنا دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا : کیا تم اس ذات کے ساتھ کفر کا معاملہ کر رہے رہو جس نے تمہیں مٹی سے، اور پھر نطفے سے پیدا کیا، پھر تمہیں ایک بھلا چنگا انسان بنادیا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس کے ساتھی نے اس سے اُلٹ پھیر کرتے ہوئے جواب دیا کیا تو اس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا پھر نطفہ سے پھر تجھے ٹھیک مرد کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس کے ساتھی نے اس سے کہا اور وہ اس سے تبادلہء خیال کر رہا تھا: کیا تو نے اس (رب) کا انکار کیا ہے جس نے تجھے (اوّلاً) مٹی سے پیدا کیا پھر ایک تولیدی قطرہ سے پھر تجھے (جسمانی طور پر) پورا مرد بنا دیا؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کے ساتھی نے، جب کہ وہ اس سے باتیں کر رہا تھا، اس سے کہا کیا تو نے اس کے ساتھ کفر کیا جس نے تجھے حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک ایک آدمی بنادیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس کے ساتھی نے گفتگو کے دوران اسے کہا : کیا تو اس ذات کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے، پھر نطفہ سے پیدا کیا، پھر تجھے پورا آدمی بنادیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کے ساتھی نے بحث کرتے ہوئے کہا، کیا تم نے اس ذات کا انکار کیا جس نے تم کو مٹی سے بنایا، پھر پانی کی ایک بوند سے، پھر تم ایک مرد بنا کر کھڑا کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے (فہمائش اور تنبیہ کے طور پر) اس سے کہا کہ کیا تو اسی ذات کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے پیدا فرمایا مٹی سے، پھر نطفہ سے، پھر تجھے بنا کھڑا کیا ایک صحیح وسالم انسان کے طور پر ؟

— مولانا اسحاق مدنی

(اس پر) اس کا وہ ساتھی بولا اس سے گفتگو کرتے ہوئے کہ ارے ! کیا تو کفر اس (ذات) کے ساتھ کرتا ہے۔ جس نے تجھے (پہلے) مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے (تجھ کو بنایا) پھر تجھے صحیح وسالم آدمی بنایا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس کے ساتھی نے اس سے کہا اور وہ اس سے گفتگو کر رہا تھا کیا تو نے کفر کیا اس ہستی کا جس نے پیدا کیا تجھے مٹی سے پھر گندے پانی کی بوند سے پھر تجھے صحیح سلامت انسان بنا دیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اس کا دوست جو اس سے بات چیت کر رہا تھا۔ کہنے لگا کہ کیا تم اس اللہ سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر تمہیں پورا مرد بنایا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

While conversing with him his neighbour exclaimed: "Do you deny Him Who created you out of dust, then out of a drop of sperm, and then fashioned you into a complete man?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Said his companion, as he was conversing with him, :Do you deny Him who created you from dust, then from a drop (of semen), then He made you a perfect man?

— Muhammad Taqi Usmani

Said his companion, as he was conversing with him, :Do you deny Him who created you from dust, then from a drop (of semen), then He made you a perfect man?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

His companion said to him during his discussion: "Do you disbelieve in Him Who created you out of dust, then out of Nutfah, then fashioned you into a man"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

His comrade, when he (thus) spake with him, exclaimed: Disbelievest thou in Him Who created thee of dust, then of a drop (of seed), and then fashioned thee a man?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

His companion said to him while he was conversing with him, "Have you disbelieved in He who created you from dust and then from a sperm-drop and then proportioned you [as] a man?

— Saheeh International

His friend said to him, "How can you disbelieve in the One who turned clay into sperm out of which He created you?

— Muhammad Sarwar

His companion said to him while disputing with him: Do you disbelieve in Him Who created you from dust, then from a small seed, then He made you a perfect man?

— Muhammad Habib Shakir

His fellow said unto him, while he spake with him: hast thou disbelieved in Him Who created thee of dust, then of a sperm, and formed thee a man?

— Abdul Majid Daryabadi

His companion said to him, in the course of the argument with him: "Dost thou deny Him Who created thee out of dust, then out of a sperm-drop, then fashioned thee into a man?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 37–41

احسان فراموشی مترادف کفر ہے اس کا کافر مالدار کو جو جواب اس مومن مفلس نے دیا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح اس نے وعظ و پند کی ایمان و یقین کی ہدایت کی اور گمراہی اور غرور سے ہٹانا چاہا فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے انسانی پیدائشی مٹی سے شروع کی پھر اس کی نسل ملے جلے پانی سے جاری رکھی جیسے آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28؀) 2۔ البقرة :28) میں ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو ؟ تم تو مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ تم اس کی ذات کا، اس کی نعمتوں کا انکار کیسے کرسکتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–38

سورة الْكَهْف 39 اگر چہ اس شخص نے خدا کی ہستی سے انکار نہیں کیا تھا، بلکہ وَلَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰی رِبِّیْ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خدا کے وجود کا قائل تھا، لیکن اس کے باوجود اس کے ہمسائے نے اسے کفر باللہ کا مجرم قرار دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفر باللہ محض ہستی باری کے انکار ہی کا نام نہیں ہے بلکہ تکبُّر اور فخر و غرور اور انکار آخرت بھی اللہ سے کفر ہی ہے۔ جس نے یہ سمجھا کہ بس میں ہی میں ہوں، میری دولت اور شان و شوکت کسی کا عطیہ نہیں بلکہ میری قوت و قابلیت کا نتیجہ ہے، اور میری دولت لازوال ہے، کوئی اس کو مجھ سے چھیننے والا نہیں، اور کسی کے سامنے مجھے حساب دینا نہیں، وہ اگر خدا کو مانتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–39

معارف و مسائل وَّكَانَ لَهٗ ثَمَــــرٌ لفظ ثمر درختوں کے پھل کو بھی کہا جاتا ہے، اور مطلق مال و زر کو بھی، اس جگہ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ سے یہی دوسرے معنی میں منقول ہیں (ابن کثیر) قاموس میں ہے کی لفظ ثمرہ درخت کے پھل اور انواع مال وزر سب کو کہا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس کے پاس صرف باغات اور کھیت ہی نہیں بلکہ سونا چاندی اور تمام اسباب عیش دوسرے بھی موجود تھے، خود اس کے الفاظ میں جو قرآن نے نقل کئے اس میں اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا بھی اسی مفہوم کو ادا کرتے ہیں (ابن کثیر) مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰه شعب الایمان میں حضرت انس ؓ کی روایت سے مذکور ہے کہ رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلا۔ بندہ مومن کی موعظت : بندہ مومن نے یہ اس مستکبر کے استکبار اور انکار قیامت پر معارضہ کیا کہ اگر تم قیامت کے منکر ہو تو یہ کفر ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ مرنے کے بعد خدا دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ؟ کیا تم نے خود اپنی ہستی پر غور نہیں کیا کہ تم جس آدم کی اولاد ہو خدا نے ان کو مٹی سے بنایا، پھر پانی کی ایک بوند سے اولاد آدم کی تخلیق کا سلسلہ شروع کیا اور اسی پانی کی بوند سے تہیں ایک بھلا چنگا مرد بنا کھڑا کیا۔ اگر خدا کی یہ قدرت دیکھتے ہو تو اس بات کو کیوں بعید سمجھتے ہو کہ خدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

37۔ 1 اس کی یہ باتیں سن کر اس کے مومن ساتھی نے اس کو وعظ و تبلیغ کے انداز میں سمجھایا کہ تو اپنے خالق کے ساتھ کفر کا ارتکاب کر رہا ہے جس نے تجھے مٹی اور قطرہ پانی سے پیدا کیا ابو البشر حضرت آدم ؑ چونکہ مٹی سے بنائے گئے تھے اس لیے انسانوں کی اصل مٹی ہی ہوئی، پھر قریبی سبب وہ نطفہ بنا جو باپ کی صلب سے نکل کر رحم مادر میں گیا وہاں نو مہینے اس کی پرورش کی پھر اسے پورا انسان بنا کر ماں کے پیٹ سے نکالا بعض کے نزدیک مٹی سے پیدا ہونے کا مطلب ہے کہ انسان جو خوراک کھاتا ہے وہ سب زمین سے یعنی مٹی سے ہی حاصل ہوتی ہے اسی خوراک سے وہ نطفہ بنتا ہے جو عورت کے رحم میں جا کر انسان کی پیدائش کا ذریعہ بنتا ہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–44

24: آیت نمبر 28 میں کافر سرداروں کے اس تکبر کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ غریب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک ایسا واقعہ بیان فرما رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال و دولت کی زیادتی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر کوئی شخص اترائے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ مضبوط نہ ہو تو بڑے بڑے مال دار لوگ انجام کار ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صحیح ہو تو غریب لوگ ان سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ جن دو آدمیوں کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے ان کی کوئی تفصیل کسی مستند مرفوع روایت میں موجود نہیں ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے کچھ روایتوں کی بنیاد پر یہ کہا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 37–42

یہ ایک مکمل نظر آنے والا ، مجسم منظر ہے۔ اس باغ کا تمام کا تمام پھل تباہ ہوگیا ہے۔ گویا اس پر ہر جانب سے حملہ ہوا اور اس میں سے ایک دانہ بھی نہ بچا اور اس کے تمام درخت اور بوٹے اپنے تنوں اور تینوں پر پڑے تھے اور اس کے درخت اور بیلیں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھس بن گئیں۔ مالک نے جو یہ منظر دیکھا کہ اس کا باغ تو مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے ، تو وہ اپنے اس عظیم مالی بربادی پر ہاتھ ملنے لگا۔ اس کی پوری کی پوری محنت آج چلی گئی۔ اب تو وہ اس پر بھی تادم ہے کہ اس نے اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کیا۔ اب وہ اللہ کی ربوبیت اور وحدانیت کو پوری طرح تسلیم کر رہا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل اس نے کسی شرکیہ عقیدے کا اظہار نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 37–38

1 یعنی جس خدا نے تیری اصل (آدم علیہ السلام) کو بےجان مٹی سے پھر تجھ کو زمینی پیداوار کے خلاصہ اور ایک قطرہ ناچیز سے پیدا کر کے زندگی بخشی اور جسمانی و روحانی قوتیں دے کر ہٹا کٹا مرد بنایا، کیا تجھے انکار ہے کہ وہ تیرے مرے پیچھے دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ؟ یا دی ہوئی نعمت چھین نہیں سکتا ؟ میرا تو یہ عقیدہ نہیں۔ بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ تنہا ہمارا رب ہے۔ اس کی خدائی میں کوئی حصہ دار نہیں۔ پھر بھلا اس کے حکم و اختیار کے سامنے کون دم مار سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 37–38

اَكَفَرْتَ بالَّذِيْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًا یہاں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ وہ شخص بظاہر اللہ کا منکر نہیں تھا مگر پھر بھی اسے اللہ سے کفر کا مرتکب بتایا گیا ہے۔ وہ اس لیے کہ اس سے پہلے وہ آخرت کا انکار کرچکا تھا اور آخرت کا انکار دراصل اللہ کا انکار ہے۔ گویا جو شخص آخرت کا منکر ہو اس کا ایمان باللہ کا دعویٰ بھی قابل قبول نہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 یہ مشرک مالدار اللہ کی ہستی کا منکر نہ تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ اللہ نے جو کچھ مجھے دے رکھا ہے۔ یہ اسی کی مہربانی ہے البتہ وہ روز آخرت اور اللہ کے سامنے جواب دہی کا منکر تھا جسے اللہ کے انکار کے مترادف یا کفر قرار دیا گیا ہے کیونکہ آخرت میں سزا اور جزاء کا انکار دراصل اللہ کی صفت عدل کا انکار ہے علاوہ ازیں یہ سمجھ لینا کہ میرا مال و دولت اور شان و شوکت میری اپنی ہی قابلیت کا نتیجہ ہے کسی کا عطیہ نہیں اور کوئی مجھ سے چھیننے والا نہیں یہ بھی حقیقتاً اللہ کی کئی صفات کا انکار ہے اور ایسا شخص اللہ کو اپنا مالک آقا اور فرمانروا ہونے کی حیثیت سے نہیں مانتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

56۔ (جیسا کہ تیری تقریر عقیدۂ توحید و قیامت کا انکار ظاہر کررہی ہے) (آیت) ” صاحبہ “۔ یعنی اس کا وہی دیندار موحد رفیق۔ 57۔ یعنی تیرے سب اعضاء اور قوی درست کئے اور تجھے ترکیب صحیح کے ساتھ انسان بنا کر نمودار کیا۔ (آیت) ” خلقک من تراب “۔ ہر انسان کا مادۂ بعید مٹی ہی ہے۔ بہ واسطہ آدم (علیہ السلام) ۔ (آیت) ” ثم من نطفۃ “۔ ہر انسان کا مادہ قریب نطفہ پدری ہے، بواسطہ رحم مادر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–38

آیت نمبر 32 تا 38 ترجمہ : اور حال بیان کیجئے ان کافروں اور مومنوں کے لئے ان دو شخصوں کا رجلین مثلاً سے بدل ہے رجُلَین اور اس کا مابعد مثلاً کی تفسیر ہے ان دو میں سے ایک کو جو کافر تھا انگور کے دو باغ دئیے تھے اور ہم نے دونوں باغوں کا کھجوروں کے درختوں کے ذریعہ احاطہ کردیا تھا اور ان کے بیچ بیچ میں کھیتی بھی اگائی تھی جس کے ذریعہ غذا حاصل کی جاتی تھی دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے اس میں بالکل کمی نہیں کرتے تھے کِلتَا لفظ کے اعتبار سے مفرد ہے (مگر معنی کے اعتبار سے) تثنیہ پر دلالت کرتا ہے اور کلتا مبتدا ہے اور آتت اس کی خبر ہے اور ہم نے ان دونوں باغوں کے درمیان نہریں جاری کر رکھی تھیں اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال لہ صاحبہ وہو یحاورہ اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من نطفۃ ثم سوک رجلا اس کے (مؤمن) ساتھی نے اس کو جواب دیتے ہوئے کہا کیا تو اس خدا کو نہیں مانتا جس نے خاک سے تجھے پیدا کیا پھر (باپ) کے نطفہ سے (پیدا کیا) پھر تجھے پورا ٹھیک مرد بنا دیا۔ مٹی ہر شخص (کے بدن) کا مادہ ہے اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ ہر شخص خاک سے بنایا گیا ہے یا یہ کہ حضرت آدم کا پتلا خاک سے بنایا گیا تھا نطفہ ہر انسان کا مادۂ قریبہ ہے (مٹی سے غذاء نباتی و حیوانی پیدا ہوتی ہے اس لئے مٹی بعید مادہ ہے پھر غذا سے خون بنتا ہے خون بھی مادۂ بعیدہ ہے پھر خون سے نطفہ اور نطفہ سے انسان پس نطفہ۔ مادۂ قریبہ ہے۔ مترجم) سواک تجھے ٹھیک کر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–43

(32۔ 43) آپ اہل مکہ کے سامنے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے کہ بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے ایک مومن جس کا نام یہودا اور دوسرا کافر جس کا نام ابو فطروس تھا۔ کافر کو دو باغ ہم نے انگوروں کے دے رکھے تھے اور ان دونوں باغوں کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنارکھا تھا اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی۔ دونوں باغ ہر سال اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں نہر چلا رکھی تھی اور اس کے پاس باغ کا پھل تھا اور بھی تمول کا سامان تھا چناچہ ایک دن وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اپنے مال پر فخر کرتا ہوا کہنے لگا کہ میرا مال بھی تجھ سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗٓ۔۔ : ”تُرَابٍ“ اور ”نُّطْفَةٍ“ کی تنوین تحقیر کے لیے ہے۔ اس کے مومن ساتھی نے، جسے وہ اپنے مال و جاہ پر فخر کرتے ہوئے فقر کا طعنہ دے رہا تھا، اس سے گفتگو کرتے ہوئے اسے جواب میں کفر کا طعنہ دیا اور کہا کیا تو نے اس ہستی سے کفر کیا جس نے تجھے حقیر مٹی سے، پھر ایک قطرے سے پیدا کیا، پھر ٹھیک ٹھاک ایک آدمی بنادیا۔ دیکھیے حج (5) ، بقرہ (28) اور مومنون (12 تا 14) تفسیر وحیدی میں ہے : ”افسوس کہ اکثر مسلمان مال دار بھی اسی غرور میں مبتلا ہیں، مساکین بلکہ علماء و صلحاء تک کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 37–38

آیت نمب 37 تا 38 قولہ تعالیٰ : قال لہ صاحبہ یعنی اس کے ساتھی یہوذا یا تملیخا نے کہا : یہ اس کے نام میں اختلاف ہونے کی وجہ سے ہے۔ اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من لطفۃ ثم سوک رجلا یعنی اس نے اسے نصیحت کی اور اس کے لئے وضاحت کی کہ ان چیزوں میں سے جن کا اس نے اعتراف کیا ہوا ہے یہ وہ ہیں جن کا کوئی بھی انکار نہیں کرتا کہ یہ اعادہ کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ ہیں۔ اور سوک رجلا یعنی اس نے تجھے معتدل قدوقامت والا، معتدل مخلوق، اور صحیح الاعضاء مرد بنایا ہے۔ لکنا ھو اللہ ربی اسی طرح اسے ابو عبد الرحمن سلمی اور ابو العالیہ نے پڑھا ہے اور کسائی سے روایت کیا گیا ہے لکن ھو اللہ بمعنی لکن الامر ھو اللہ ربی (لیکن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–37

ایک مومن و کافر کا مکالمہ : 1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” جعلنا لاحدھما جنتین من اعناب “ کے بارے میں روایت کیا کہ جنت سے مراد باغ ہے اسی کا ایک باغ اور ایک دیوار تھی اور ان کے درمیان ایک نہر تھی اس لئے دو باغ فرمایا اور دیوار سے ایک ہونے کی وجہ سے ایک باغ فرمایا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن ابوعمر والشیبانی (رح) سے روایت کیا کہ نہرابی فرطس ان دو باغوں کی نہر تھی ابن ابی حاتم نے فرمایا وہ رملہ کی مشہور نہر ہے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” اتت اکلھا ولم تظلم منہ شیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا پھل کبھی ختم نہ ہوتا تھا باغ کے ہر درخت کا پھل کھایا جاتا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : کہا ] [لَهٗ : اس سے ] [صَاحِبُهٗ : اس کے ساتھی نے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هُوَ : وہ ] [يُحَاوِرُهٗٓ: گفتگو کر رہا تھا اس سے ] [اَ : کیا ] [كَفَرْتَ : تو نے انکار کیا ] [بِالَّذِي : اس کا جس نے ] [خَلَقَكَ : پیدا کیا تجھ کو ] [مِنْ تُرَابٍ : ایک مٹی سے ] [ثُمَّ : پھر ] [مِنْ نُّطْفَةٍ : ایک نطفہ سے ] [ثُمَّ : پھر ] [سَوّٰىكَ : ٹھیک ٹھاک کیا تجھ کو ] [رَجُلًا : بطور ایک مرد کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 32–44

عبرت کے لیے دو شخصوں کی مثال، ان میں ایک باغ والا اور دوسرا غریب تھا ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں ایک باغ والے کافر و مشرک اور دوسرے مومن موحد کی گفتگو نقل فرمائی ہے۔ علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 161 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیات اہل مکہ میں سے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئیں دونوں بنی مخزوم میں سے تھے۔ ایک تو حضرت ابو سلمہ ؓ تھے جو رسول اللہ ﷺ سے پہلے حضرت ام سلمہ ؓ کے شوہر تھے اور دوسرا شخص جو کافر تھا وہ اسود بن عبد الاسد تھا یہ ایک قول ہے۔ دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں سے دو شخصوں کا ہے جو آپس میں دونوں بھائی تھے ایک مومن تھا اور ایک کافر تھا اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–44

بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی مثال قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا رجلین .... الیٰ ۔۔۔۔ ھو خری ثوابا وخیر عقبا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی اس درخواست کو رد فرمایا جو اپنے مال و دولت کے نشہ میں چور تھے اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس کرتے تھے اور اپنے مال و دولت پر فخر محسوس کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں تو آپ ان دو ویشان اسلام اور فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کریں اب ان آیات میں ان متکبرین کے سنانے کیلئے اور دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری بتلانے کے لئے بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی ایک مثال ذکر فرماتے ہیں جن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

45:۔ قطروس مشرک کے جواب میں اس کا مومن بھائی یہوذا اسے وعظ و نصیحت کرنے لگا۔ ” اکفرت بالذی الخ “ یہاں کفر سے مراد ذات خداوندی کا انکار نہیں کیونکہ قطروس خدا کا منکر نہیں تھا وہ وجود باری تعالیٰ کا قائل و معترف تھا جیسا کہ ” ولئن رددت الی ربی “ میں اس کا اقرار گذر چکا ہے بلکہ کفر سے یہاں شرک اور اللہ کی توحید کا انکار مراد ہے۔ اس کے مشرک ہونے کا اعتراف آگے آرہا ہے، الظاھر انہ کان مشرکا کما یدل علیہ قول صاحبہ تعریضا بہ (ولا اشرک بہ احدا) وقولہ (یلیتنی لم اشرک بربی احدا) ۔ فالمراد بقولہ (اکفرت) ء اشرکت۔ (روح ج 15 ص 277) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 37–44

ربط آیات : اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کے سلسلے میں ایک دولت مند مشرک اور ایک ایماندار مومن کی مثال بیان فرمائی ہے امیر آدمی نے اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت کہا کہ یہ تو کبھی فنا نہیں ہوگا ۔ قیامت کا کوئی تصور نہیں ہے اور اگر یہ برپا بھی ہوگئی تو میں اس دنیا کی طرح وہاں بھی خوشحال ہی رہوں گا ، وہ شخص اپنے باغ اور مال و دولت کو اپنا ذاتی کمال سمجھتا تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کا احسان نہیں مانتا تھا ، پھر اس نے اپنے غریب مگر مومن بھائی کو طعن کیا کہ میں تم سے مال اور تعداد میں بہتر ہوں وہ غریب مومن اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرچکا تھا مگر امیر آدمی اپنے مال و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ لَہٗ صَاحِبُہٗ وَہُوَيُحَاوِرُہٗٓ اَكَفَرْتَ بِالَّذِيْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًا۝ 37ۭ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–44

تفسیر …دو شخصوں کا قصہ بطور مثال کے : پھر دنیا کی بےثباتی اور اس کے اسباب و تجمل پر غرور کر کے خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور الحاد کا بدنتیجہ جو کبھی دنیا ہی پر ظاہر ہوتا ہے دو شخصوں کی تمثیل سے بیان فرمایا۔ بعض کہتے ہیں یہ صرف ایک تمثیل ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ دراصل ایسے دو شخص تھے بھی کہ جن کا یہ واقعہ ہے پھر بعض کہتے ہیں کہ یہ دو شخص بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے کہ ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کیا تھا دوسرا دنیادار اور مشرک اور دارآخرت کا منکر تھا۔ اس نے دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے تھے کہ ان میں نہر بھی جاری تھی اور بیچ میں انگور اور آس پاس کھجور کے درخت بھی تھے اور وقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ لَہٗ صَاحِبُہٗ وَھُوَ یُحَاوِرُہٗٓ اَکَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَکَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْـفَۃٍ ثُمَّ سَوّٰکَ رَجُلاً ۔ (الکہف : 37) (اس کے ساتھی نے اس سے بحث کرتے ہوئے کہا، کیا تو انکار کرتا ہے اس ذات کا جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا، پھر پانی کی ایک بوند سے، پھر بنا سنوار کر تجھے ایک مرد بنادیا۔ ) کافر کا اصل مرض اس کے مومن دوست نے اس سے کہا جبکہ وہ دونوں آپس میں بحث کررہے تھے کہ تیرا اصل مرض یہ ہے کہ تو اپنی اصل حیثیت کھو بیٹھا ہے، تجھے یہ بھی خبر نہیں کہ تیرا وجود کسی کی عطا ہے، تیری زندگی کسی کی بخشش ہے۔ زندگی کے مختلف مدارج میں تیری تربیت اور تیری افزائش کسی کی رہین منت ہے۔ کیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 37–38

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے منکر کو اس کے مخلص ساتھی کی نصیحت۔ آخرت کے منکر کو اس کے مخلص ساتھی نے سمجھایا کہ کیا تو اس ذات حق کا انکار کرتا ہے۔ جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر ایک نطفے سے کامل انسان بنایا۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا اور اس کے بعد تمام انسان نطفہ سے پیدا کیے جاتے ہیں۔ جب آخرت کا منکر ہر دلیل سے انکار کرتارہا تو اس کے مواحد ساتھی نے اسے کہا کہ اگر تو حق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو تیری مرضی۔ لیکن میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ ” اللہ “ ہی میرا رب ہے۔ میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو کسی اعتبار سے شریک نہیں سمجھتا۔ یا در ہے کہ رب کا معنی ہے ” خالق، مالک، بادشاہ “ اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دوسرے کا جواب : 37: قَالَ لَہٗ صَاحِبُہٗ وَھُوَ یُحَاوِرُہٗ اَکَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَکَ مِنْ تُرَابٍ (اس کے ساتھی نے اس کو کہا جبکہ وہ اس سے گفتگو کر رہا تھے۔ کیا تو اس ذات کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا) تیرے اصل کو مٹی سے بنایا۔ کیونکہ اس کے اصل کا پیدا کرنا یہ اس کے پیدا ہونے کا سبب ہے اور اس سبب کا بنانا خود اسی کا بنانا ہوا۔ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ (پھر نطفہ سے) تمہیں نطفہ سے بنایا۔ ثُمَّ سَوّٰکَ رَجُلًا (پھر تمہیں ٹھیک مرد بنادیا) برابر کیا اور تمہیں مکمل انسان، مذکر، جوانی کو پہنچنے والا بنایا۔ اس کو اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والا اس لئے شمار کیا کیونکہ اس نے بعث کا انکار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

37 ۔ ” قال لہ صاحبہ “ مسلمان بھائی نے کہا۔ ” وھو یحاورہ أکفرت بالذی خلقک من تراب “ کہ تو نہیں جانتا کہ اس نے ہمیں اصل مٹی سے پیدا کیا۔ ” ثم “ پھر اس نے ہمیں پیدا کیا۔ ” من نطفۃ م سواک رجلاً “ پھر ہر شخص کو اس کے باپ کے نطفہ سے پیدا کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–44

32۔ 44:۔ اوپر ان مالدار مشرکین مکہ کا ذکر تھا جو غریب مسکین مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے سے گھبراتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کہاوت بیان کی کہ دو مرد تھے ایک کے دو باغ تھے انگور اور کھجور کے جن کے درمیان میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ ہر طرح کے درخت اور پھل پھول اور میوے پیدا ہوتے تھے ولم تظلم منہ شیئا سے اسی مطلب کو ادا فرمایا ہے۔ پھر فرمایا ان باغوں میں نہریں جاری تھیں پھر فرمایا اس باغ والے نے اپنے دوسرے بھائی سے بطور فخر کے کہا کہ میں تجھ سے مال واولاد اور خدمت گاروں میں زیادہ عزت والا ہوں اور وہ اپنی باغ میں اپنے بھائی کا بھی ہاتھ پکڑ کر میں قیامت کے قائم ہونے کا خیال نہیں رکھتا اور اگر بالفرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 37–38

(آیت نمبر (37 یعنی اس کے صاحب ایمان ساتھی نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے اور اس کو اس کی ابتدائی حالت یاد دلاتے ہوئے جس حالت میں اللہ تعالیٰ اسے وجود میں لایا تھا۔۔۔ کہا : (اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من نطفۃ ثم سوئک رجلاً ) ” کیا تو نے اس ذات کا انکار کیا جس نے تجھے پیدا کیا مٹی سے، پھر قطرے سے، پھر پورا کردیا تجھ کو مرد۔ “ پس وہی ہے جس نے تجھے وجود بخشا اور تجھ تک اپنی نعمتیں پہنچائیں، تجھے ایک ہئیت سے دوسری ہئیت میں منتقل کیا یہاں تک کہ تجھے کامل اعضائے محسوسہ و معقولہ کے ساتھ آدمی بنا کر پیدا کیا، تیرے لئے اسباب میں آسانی پیدا کی اور تجھے دنیا کی نعمتیں مہیا کیں۔ تو اپنی قوت و اختیار سے کبھی یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–38

غار میں اصحاب کہف کی مدت قیام قول باری ہے (ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ سنین وازدادواتسعاً ) اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں) قتادہ سے مروی ہے یہ یہود کے قول کی حکایت ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (قل اللہ اعلم بما لبثوا تم کہو اللہ ان کے قایم کی مدت زیادہ جانتا ہے ) مجاہد، ضحاک اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ غار میں ان کے قیام کی مدت اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اگر اہل کتاب اس معاملے میں تم سے بحث کرنے پر اتر آئیں تو ان سے کہہ دو ۔ اللہ ان کے قیام کی مدت کو زیادہ جانتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 36–37

68۔ منکرین کے لئے انکا مال ودولت باعث محرومی و خرابی ،۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔ سو دنیاوی مال ودولت کا یہ سب سے خطرناک اور نقصان دہ پہلو ہے کہ منکر شخص اس کو اپنی حقانیت کی دلیل سمجھنے لگتا چناچہ اس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا کہ دنیا میں جو مجھے یہ سب کچھ ملا ہوا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ میں اس کا اہل اور مستحق ہوں۔ اور میں ہی صحیح طریقے پر ہوں۔ لہذا آخرت اگر ہوئی بھی تو وہاں بھی کامیابی میری ہی ہوگی۔ سودنیاوی مال ودولت کا یہ پہلو سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ پہلو ہوتا ہے کہ بگڑا ہوا انسان اس کی بناء پر باطل پر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتا ہے۔ اور اس بناء پر وہ حق بات…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–46

سبق آموز کہانی اور نیکیوں کا بدلہ تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی حاکمیت، قدرت کاملہ اور وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر انسان کو روزی رزق دیتا ہے تو انسان کا فرض ہے اس کی نعمتوں کو حاصل کر کے فخر و غرور نہ کرے اور اس قدر بدمست نہ ہوجائے کہ اللہ کے وجود اور قیامت کا انکار کردے اور نعمتوں کا شکر ہی ادا نہ کرے اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگے۔ یہ سب انسانیت کے خلاف اور برے رویے ہیں ہمارا مذہب اسلام ان تمام اخلاقی برائیوں سے منع کرتا ہے، یعنی کسی کو حقیر سمجھنا اور شکر الٰہی ادا نہ کرنا۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی نعمت یا خوبصورت چیز کو دیکھو یا کامیابی حاصل کرو تو اس کو دیکھ کر ماشَائَ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–44

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف دنیا میں بھی یہی مثالیں موجود ہیں جو اقوام کے حالات میں بھی نظر آتی ہیں اور افراد کے حالات میں بھی آپ انہیں ان دو آدمیوں کی مثال دیجئے جو دونوں دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو ہم نے زیادہ مالدار کردیا ، اس کے انگوروں کے باغات تھے جن کے گردا گرد کے درخت اور درمیان میں زرعی زمین تھی یعنی کھجوریں پھل اور غلہ جیسی سب نعمتیں بیک وقت ان باغوں سے حاصل ہوتیں ، اور وہ پورا پورا پھل دیتے کبھی ان میں کمی نہ آتی تھی ، ان باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کردی تھی جس کے سبب وہ ہمیشہ سرسبز رہتے اور ہر موسم کا پھل بہتات سے حاصل ہوتی ، جبکہ دوسرا دوست ایسا مالدار نہ تھا ، ایک روز باتوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 وہ شخص اگرچہ خدا کے وجود کا منکر نہ تھا بلکہ ولئن رددت الی ربی “ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس کی ہستی کا قائل تھا، مگر اس کے باوجود اس کے بھائی نے اسے الفرت “ کہہ کر کافر قرار دیا ہے کیونکہ اسے ” بعث “ دوبارہ زندگی پر یقین نہیں تھا اور قیامت کے متعلق شک کرنے والا کافر ہے۔ پھر تکبر و غرور سے بڑا بول اور خدا کی قدرت سے انکار بھی کفر ہے۔ اس نے جاہ و مال کو اپنی عزت کا سبب قرار دیا اور یہ نہ سمجھا کہ عزت و ذلت کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے اور پھر مال کو اللہ تعالیٰ کی نعمت خیال نہ کیا بلکہ خود اپنی محنت ذہانت اور قابلیت کا نتیجہ قرار دیا۔ جیسے قارون نے کہا تھا : لقد اوتینہ علی علم “ اور یہ سب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:37) سوک۔ اس نے تجھ کو پورا پورا بنادیا۔ اس نے تجھ کو برابر کیا۔ ماضی واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ سوی یسوی تسویۃ (تفعیل) پورا پورا بنانا۔ برابر کرنا۔ کسی چیز کو ہموار کرنا۔ خدا کا کسی چیز کو اپنی حکمت کی اقتضاء کے مطابق بنانا۔ قرآن مجید میں ہے علی ان نسوی بنانہ ہم قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 37–44

لغات القرآن آیت نمبر 37 تا 44 یح اور وہ بات کرتا ہے۔ تراب مٹی۔ سوی برابر کیا، مکمل کیا۔ ان ترن اگر تو مجھے دیکھتا ہے۔ ان یوتین یہ کہ مجھے دیدے۔ یرسل وہ بھیجتا ہے۔ حسبان آفت، مصیبت۔ صعید چٹیل میدان، نرم مٹی۔ زلق چکنی مٹی۔ غور گہرائی میں اتر جانا۔ احیط گھیر لیا گیا۔ یقلب وہ الٹتا پلٹتا ہے۔ کفیہ (کفین) اپنی دو ہتھیلیاں۔ انفقف اس نے خرچ کیا۔ خاویۃ او ندھی پڑی رہنے والی۔ عروش (عرش) بلندی، چھتیں فئۃ جماعت۔ گروہ ھنالک اسی جگہ۔ الولایۃ اختیار۔ عقب انجام، اجرت دینا۔ تشریح : آیت نمبر 37 تا 44 دنیا اور اس کی دولت کی خاصیت یہ ہے کہ اگر ایک شخص ایمان اور عمل صالح سے دور ہو تو وہ بےجا فخر و غرور اور ناشکری…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–38

اور اس کافر کے ہاں ہر قسم کا میوہ بھی ہوتا تھا ۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ قطروس نے اپنے مسلمان بھائی کو بہت ملامت کی اور کہا کہ میرا تمہارا روپیہ تو برابر تھا میں نے تو یہ باغ اور جائداد پیدا کی میرے ہاں غلام اور نوکر چاکر ہیں، تم مفلس اور پریشان ہوگئے۔ یہودا نے جواب دیا کہ بھائی اس مال سے تم نے دنیا کے باغ مول لئے اور میں نے جنت کے باغ، تم نے دنیا میں گھر بنایا میں نے جنت میں تم نے اپنی شادی کی میں نے اپنی حور عین کا مہر ادا کیا، تم نے لونڈی اور غلام اور نوکر چاکر جمع کئے، میں نے غلمان کی طلب کی قطروس نے اسے بہت ملامت کی اور یہ بات کہی کہ تم بہت بیوقوف ہو تم نے زرنقد کو ایک وعدہ کے بھروسہ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–41

[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–44

سرمایہ داری کا غرور : (ف 1) مکہ والے مال و دولت کے نشہ میں سرشار تھے ، تمول کا خمار آنکھوں میں تھا اور امارت کا سودا دماغ میں سجا رہا تھا ، مسلمان ابتداء غریب تھے ، اس لئے وہ از راہ کبر مسلمانوں سے نفرت کرتے ، ان کے مذہب کو غربت ومسکنت کا مذہب سمجھتے اور کہتے کہ ہم ایسے دین کو قبول نہیں کرسکتے ، جس کے ماننے والے دنیوی حیثیت سے ہم سے بلند اور اعلی نہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر نعمت سے بہرہ ور کیا ہے ، اس کے پاس شاداب باغ اور کھیت ہیں ، بکثرت دوست و مددگار ہیں ، مگر مغرور ومتکبر ہے ، اپنے جاہ وحشم کو دیکھتا ہے ، اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-37 اور اس کے ساتھی ایمان دار نے باتیں کرتے کرتے اس کو جواب دیا کیا تو اس پاک ذات کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھ کو ابتداء مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے جو اس مٹی کا جوہر تھا اس سے پیدا کیا پھر تجھ کو پورا اور صحیح وسالم آدمی بنایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 37–40

ف 2۔ جو کہ یرا مادہ بعید ہے بواسطہ آدم (علیہ السلام) کے۔ 3۔ جو کہ تیرا مادہ قریبہ ہے رحم مادر میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تنگ دست نے خوشحال کو مخاطب کر کے پھر کہا ‘ کیا تو اللہ کا انکار کر رہا ہے ؟ : 40۔ مفلس دوست اگرچہ مفلس ہی تھا لیکن اللہ نے زبان اس کو بھی دی تھی علمائے کرام کی طرح وہ بےزبان نہیں تھا کہ صاحب کی بات سن کر ہنس دیں ، اس نے بڑے نرم لہجہ میں اپنے دوست سے کہا کہ یار تو اپنی دولت اور ان باغات کے نشہ میں اس قدر چور نہ ہوجا کہ ایک مغرور انسان ہو کر رہ جائے دیکھ ! تیرا پیدا کرنے والا کون ہے جس نے تیری جنس کو مٹی سے پیدا کیا ہے اور پھر تجھے تیری ہی جنس کے نطفہ سے جو پیشاب کی نالی سے اس طرح نکلتا ہے کہ سارے جسم کو بھی ناپاک کر کے رکھ دیتا ہے ، پھر اس کی کاری گری کا اندازہ لگا کہ اس نے تیرے جیسا اچھی شکل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–39

Commentary The word: ثَمَرٌ‌ (thamar) in: وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ‌ (And he had wealth - 34) means the fruit of trees as well as wealth, in an absolute sense. At this place, Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، Mujahid and Qatadah have taken it in the later sense (Ibn Kathir) According to the Lexicon, al-Qamus, this word is used to denote the fruit of the tree and wealth of all kinds. This tells us that not only did he own gardens and farms, he also had gold, silver and other luxuries. Even his words reported by the Qur'an: (I am greater than you in wealth -34) also express the same sense. (Ibn Kathir) About…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–38

39. This shows that unbelief in Allah is not confined to the denial of the existence of God in so many words, but arrogance, pride, vanity and the denial of the Hereafter are also kufr. Although that person did not deny the existence of Allah, he professed it as is apparent from his words (And if I am brought back to my Lord), yet in spite of his profession, his neighbor charged him with unbelief in Allah. This is because the person, who considers his wealth and his grandeur etc. to be the fruits of his own power and capability and not the favors of Allah, and who thinks that they are…

Read the full tafseer →