Explained with ayahs 32–36
فخر و غرور
چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھر پور، کسی قسم کا نقصان نہیں ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت ثمر بھی ہے یہ جمع ہے ثمرۃ کی جیسے خشبہ کی جمع خشب۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں، تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں ایک فاجر شخص کی تمنا…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 38
یعنی اگر بالفرض کوئی دوسری زندگی ہے بھی تو میں وہاں اس سے بھی زیادہ خوش حال رہوں گا کیونکہ یہاں میرا خوشحال ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ میں خدا کا محبوب اور اس کا چہیتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
معارف و مسائل
وَّكَانَ لَهٗ ثَمَــــرٌ لفظ ثمر درختوں کے پھل کو بھی کہا جاتا ہے، اور مطلق مال و زر کو بھی، اس جگہ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ سے یہی دوسرے معنی میں منقول ہیں (ابن کثیر) قاموس میں ہے کی لفظ ثمرہ درخت کے پھل اور انواع مال وزر سب کو کہا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس کے پاس صرف باغات اور کھیت ہی نہیں بلکہ سونا چاندی اور تمام اسباب عیش دوسرے بھی موجود تھے، خود اس کے الفاظ میں جو قرآن نے نقل کئے اس میں اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا بھی اسی مفہوم کو ادا کرتے ہیں (ابن کثیر)
مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰه شعب الایمان میں حضرت انس ؓ کی روایت سے مذکور ہے کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
تفسیر آیات 35 تا 36: وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَنْ تَبِيدَ هَذِهِ أَبَدًا (35) وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَى رَبِّي لأجِدَنَّ خَيْرًا مِنْهَا مُنْقَلَبًا (36)۔
ظالم لنفسہ، کا مفہوم : ظالم لنفسہ یعنی وہ اپنی دولت و ثروت پر غرور کرتا اور اکڑتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا اور بولا کہ میں کبھی یہ گمان نہیں کرسکتا کہ میرا یہ باغ تباہ ہوجائے گا۔ قیامت و آخرت اول تو ہے نہیں لیکن اگر ہوئی، جیسا کہ یہ ملا ڈراتا ہے تو میں بہرحال وہاں اس سے بھی زیادہ بہتر زندگی پاؤں گا۔
Read the full tafseer →36۔ 1 یعنی وہ کافر عجب اور غرور میں ہی مبتلا نہیں ہوا بلکہ اس کی مد ہوشی اور مستقبل کی حسین اور لمبی امیدوں نے اسے اللہ کی گرفت اور سزا کے عمل سے بالکل غافل کردیا۔ علاوہ ازیں اس نے قیامت کا ہی انکار کردیا، پھر مذاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر قیامت برپا ہوئی بھی تو وہاں بھی حسن انجام میرا مقدر ہوگا۔ جن کا کفر طغیان حد سے تجاوز کرجاتا ہے، وہ مست مئے پندار ہو کر ایسے ہی متکبرانہ دعوے کرتے ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی۔ حم السجدہ۔ اگر مجھے رب کی طرف لوٹایا گیا تو وہاں بھی میرے لیے اچھائیاں ہی ہیں۔ افرءیت الذی کفر بایتنا وقال لاوتین مالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
24: آیت نمبر 28 میں کافر سرداروں کے اس تکبر کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ غریب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک ایسا واقعہ بیان فرما رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال و دولت کی زیادتی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر کوئی شخص اترائے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ مضبوط نہ ہو تو بڑے بڑے مال دار لوگ انجام کار ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صحیح ہو تو غریب لوگ ان سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ جن دو آدمیوں کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے ان کی کوئی تفصیل کسی مستند مرفوع روایت میں موجود نہیں ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے کچھ روایتوں کی بنیاد پر یہ کہا…
Read the full tafseer →ایک نفس مومن کے اندر ایمانی عزت نفس اس طرح جاگ اٹھتی ہے اس لئے اسے کسی کے مال اور دولت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی وہ کسی کی دولت اور اس کی گردن فرازی سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ سچائی کی بات صاف صاف کرتا ہے اور حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا۔ ایک سچے مومن کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ جاہ و مال کے مقابلے میں غالب اور بھاری ہے اور یہ کہ اس دنیا کے سازو سامان کے مقابلے میں اس کے لئے قیامت میں جو اجر ہے وہ زیادہ قیمتی ہے یہ کہ وہ اللہ کا فضل چاہتا ہے اور اس کا فضل عظیم ہے اور یہ کہ اللہ کا انتقام بڑا سخت ہے اور وہ کسی بھی وقت ایسے غافلوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
اچاک…
Read the full tafseer →10 یعنی اب تو آرام سے گزرتی ہے۔ اور میں نے اب انتظامات ایسے مکمل کرلیے ہیں کہ میری زندگی تک ان باغوں کے تباہ ہونے کا بظاہر کوئی کھٹکا نہیں۔ رہا بعد الموت کا قصہ، سو اول تو مجھے یقین نہیں کہ مرنے کے بعد ہڈیوں کے ریزوں کو دوبارہ زندگی ملے گی ؟ اور ہم خدا کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو یقینا مجھے یہاں سے بہتر سامان وہاں ملنا چاہیے۔ اگر ہماری حرکات خدا کو ناپسند ہوتیں تو دنیا میں اتنی کشائش کیوں دیتا۔ گویا یہاں کی فراخی علامت ہے کہ وہاں بھی ہم عیش اڑائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 36 وَّمَآ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَاۗىِٕمَةً
یہ قیامت وغیرہ کی باتیں سب ڈھکوسلے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کوئی واقعہ حقیقت میں رونما ہونے والا ہے۔
وَّلَىِٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّيْ لَاَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا
قیامت و آخرت کا اول تو میں قائل ہی نہیں لیکن قیامت اگر ہوئی بھی تو میں بہرحال وہاں اس سے بھی بہتر زندگی پاؤں گا۔ ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شخص اللہ کا منکر نہیں تھا مگر دنیوی مال و دولت اور مادی اسباب و ذرائع پر بھروسا کر کے شرک کا ارتکاب کر رہا تھا۔ یہ شخص یہاں پر جو فلسفہ بیان کر رہا ہے وہ اکثر مادہ پرست لوگوں کے ہاں بہت مقبول ہے۔ یعنی اگر مجھے دنیا میں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
36 ایک موحد اور ایک کافر و مشرک کی مثال :۔ ایک دن وہ اپنے باغ کے پاس کھڑا تھا کہ اس کے مفلس ہمسایہ کا ادھر سے گذر ہوا تو اس سے اپنی شیخی بگھارنے بیٹھ گیا اور اس سے کہنے لگا جیسی زندگی تم گزار رہے ہو میں بہرحال تم سے بہتر ہوں۔ مالدار بھی اور اولاد بھی کافی ہے یہی باتیں کہتے کہتے وہ اپنے ہمسایہ کو لیے ہوئے اپنے باغ میں داخل ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے اس باغ پر اتنی محنت کی ہے اور ایسے انتظامات مکمل کردیئے ہیں کہ کم از کم میری زندگی میں یہ باغ اجڑ نہیں سکتا اور جس قیامت کی تم باتیں کرتے رہتے ہو، اول تو مجھے اس کا یقین ہی نہیں اور اگر قائم ہوئی بھی جیسا کہ تم کہتے ہو تو جس خدا نے مجھ پر اس دنیا…
Read the full tafseer →55۔ یعنی اول تو میں قائل ہی قیامت کا نہیں، یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ لیکن بالفرض اگر تیرے عقیدہ کے مطابق حشر ونشر برحق نکلا تو میں جس عیش و عشرت کی زندگی یہاں بسر کررہا ہوں، اس سے زیادہ چین و آرام میں وہاں رہوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–38
آیت نمبر 32 تا 38
ترجمہ : اور حال بیان کیجئے ان کافروں اور مومنوں کے لئے ان دو شخصوں کا رجلین مثلاً سے بدل ہے رجُلَین اور اس کا مابعد مثلاً کی تفسیر ہے ان دو میں سے ایک کو جو کافر تھا انگور کے دو باغ دئیے تھے اور ہم نے دونوں باغوں کا کھجوروں کے درختوں کے ذریعہ احاطہ کردیا تھا اور ان کے بیچ بیچ میں کھیتی بھی اگائی تھی جس کے ذریعہ غذا حاصل کی جاتی تھی دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے اس میں بالکل کمی نہیں کرتے تھے کِلتَا لفظ کے اعتبار سے مفرد ہے (مگر معنی کے اعتبار سے) تثنیہ پر دلالت کرتا ہے اور کلتا مبتدا ہے اور آتت اس کی خبر ہے اور ہم نے ان دونوں باغوں کے درمیان نہریں جاری کر رکھی تھیں اور اس…
Read the full tafseer →وما اظن الساعۃ قآئمۃ ولئن رددت الی ربی لاجدن خیرا منہا منقلبا۔ اور میں نہیں خیال
کرتا کہ قیامت بپا ہونے والی ہے اور (بالفرض) اگر (مرنے اور جی اٹھنے کے بعد) مجھے لوٹ کر اپنے رب کی طرف جانا ہی پڑا (جیسا کہ تمہارا خیال ہے) تو یقیناً اس سے بہتر نتیجہ مجھے (وہاں) ضرور ضرور ملے گا۔
منقلب ‘ مقام واپسی ‘ نتیجہ اس کا خیال تھا کہ اللہ کی نظر میں میری عزت زائد ہے اس نے جو کچھ مجھے دیا ہے میری عزت کی وجہ سے دیا ہے اس لئے قیامت کے بعد بھی مجھے ان باغوں سے بہتر مقام و مرتبہ عنایت کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–43
(32۔ 43) آپ اہل مکہ کے سامنے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے کہ بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے ایک مومن جس کا نام یہودا اور دوسرا کافر جس کا نام ابو فطروس تھا۔
کافر کو دو باغ ہم نے انگوروں کے دے رکھے تھے اور ان دونوں باغوں کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنارکھا تھا اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی۔
دونوں باغ ہر سال اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں نہر چلا رکھی تھی اور اس کے پاس باغ کا پھل تھا اور بھی تمول کا سامان تھا چناچہ ایک دن وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اپنے مال پر فخر کرتا ہوا کہنے لگا کہ میرا مال بھی تجھ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
وَدَخَلَ جَنَّتَهٗ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ۔۔ : اپنی جان پر ظلم کرنے والا اس لیے کہ اس نے تین باتیں کہیں جو تینوں کفر ہیں، اگرچہ وہ رب تعالیٰ کے وجود کو مانتا تھا، جیسا کہ ”وَّلَىِٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّيْ“ سے ظاہر ہے۔ پہلی یہ کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی برباد ہوگا، حالانکہ اللہ کے سوا کسی بھی چیز کو ہمیشہ سے یا ہمیشہ کے لیے باقی سمجھنا نری جہالت اور دہریت ہے اور اللہ تعالیٰ کے اختیار اور ارادے کا انکار ہے، وہ جب چاہے کسی بھی چیز کو ”کُنْ“ کہہ کر فنا کرسکتا ہے اور کرتا رہتا ہے۔ دوسری یہ کہ میں قیامت کو قائم ہونے والی نہیں سمجھتا، حالانکہ یہ اللہ کی قدرت کا انکار ہے، کیونکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت نمبر 35 تا 36
قولہ تعالیٰ : ودخل جنتہ کہا گیا ہے : اس نے اپنے مومن بھائی کا ہاتھ پکڑا اور اسے باغ میں گھمانے لگا اور اسے وہ دکھانے لگا۔ وھو ظالم لنفسہ درآنحالیکہ وہ اپنے کفر کے سبب اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا، اور یہ جملہ حال کے محل میں ہے۔ اور جس نے اپنے آپ کو کفر کے سبب جہنم میں ڈال دیا تو وہ اپنے ساتھ ظلم کرنے وال ہی ہے۔ قال ما اظن ان تبید ھذہ ابدا یعنی اس نے دار (باغ) کے فناہ ہونے کا انکار کیا : وما اظن الساعۃ قآئمۃ یعنی میں خیال نہیں کرتا کہ کبھی بعث یعنی دوبارہ زندہ کیا جانا بھی ہوگا۔ ولئن رددت الی ربی یعنی اگر دوبارہ زندہ کیا گیا تو جس طرح اس نے مجھے دنیا میں یہ نعمتیں عطا فرمائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
ایک مومن و کافر کا مکالمہ :
1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” جعلنا لاحدھما جنتین من اعناب “ کے بارے میں روایت کیا کہ جنت سے مراد باغ ہے اسی کا ایک باغ اور ایک دیوار تھی اور ان کے درمیان ایک نہر تھی اس لئے دو باغ فرمایا اور دیوار سے ایک ہونے کی وجہ سے ایک باغ فرمایا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن ابوعمر والشیبانی (رح) سے روایت کیا کہ نہرابی فرطس ان دو باغوں کی نہر تھی ابن ابی حاتم نے فرمایا وہ رملہ کی مشہور نہر ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” اتت اکلھا ولم تظلم منہ شیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا پھل کبھی ختم نہ ہوتا تھا باغ کے ہر درخت کا پھل کھایا جاتا…
Read the full tafseer →[وَّمَآ اَظُنُّ : اور میں نہیں سمجھتا ] [السَّاعَةَ : قیامت کو ] [قَاۗىِٕمَةً : قائم ہونے والی ] [وَّلَىِٕنْ : اور بیشک اگر ] [رُّدِدْتُّ : لوٹایا گیا مجھ کو ] [اِلٰى رَبِيْ : میرے رب کی طرف ] [لَاَجِدَنَّ : تو میں لازماً پائوں گا ] [خَيْرًا مِّنْهَا : اس سے بہتر ] [مُنْقَلَبًا : پلٹنے کی جگہ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
عبرت کے لیے دو شخصوں کی مثال، ان میں ایک باغ والا اور دوسرا غریب تھا
ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں ایک باغ والے کافر و مشرک اور دوسرے مومن موحد کی گفتگو نقل فرمائی ہے۔
علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 161 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیات اہل مکہ میں سے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئیں دونوں بنی مخزوم میں سے تھے۔ ایک تو حضرت ابو سلمہ ؓ تھے جو رسول اللہ ﷺ سے پہلے حضرت ام سلمہ ؓ کے شوہر تھے اور دوسرا شخص جو کافر تھا وہ اسود بن عبد الاسد تھا یہ ایک قول ہے۔ دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں سے دو شخصوں کا ہے جو آپس میں دونوں بھائی تھے ایک مومن تھا اور ایک کافر تھا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی مثال
قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا رجلین .... الیٰ ۔۔۔۔ ھو خری ثوابا وخیر عقبا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی اس درخواست کو رد فرمایا جو اپنے مال و دولت کے نشہ میں چور تھے اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس کرتے تھے اور اپنے مال و دولت پر فخر محسوس کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں تو آپ ان دو ویشان اسلام اور فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کریں اب ان آیات میں ان متکبرین کے سنانے کیلئے اور دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری بتلانے کے لئے بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی ایک مثال ذکر فرماتے ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
44:۔ جب وہ اپنے باغ میں داخل ہوا اور اس کی سرسبزی و شادابی اس کی خوبصورتی اور پھلوں کی کثرت کو دیکھا تو وہ حب دنیا اور حرص و آز کے خیالات میں کھو گیا اور بول اٹھا کہ جب تک میں زندہ ہوں اس وقت تک تو یہ باغ تباہ نہیں ہوگا۔ اور ہمیشہ اسی تازگی، شادابی اور رونق کے ساتھ برقرار رہے گا، اور میرا بھائی جس قیامت سے مجھے ڈراتا ہے اور جس آخرت کی آسائش و راحت کے لیے مجھے توحید اور اعمال حسنہ کی تلقین کرتا ہے، اول تو وہ قیامت آنے کی نہیں۔ ” و لئن رددت “ اور اگر بالفرض قیامت آ بھی گئی تو آخرت میں بھی میرا انجام اچھا ہوگا اور وہاں بھی مجھے مال و دولت اور عیش و عشرت کی زندگی نصیب ہوگی وہ اس شبہہ میں مبتلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ بیان فرمایا ، پھر وحی الہی کی قطعیت کو بیان فرما کر اس کے اتباع کا حکم دیا ، کافر ، مشرک ، مشرک مغرور اور متکبر لوگوں کا رد فرمایا کمزور ایمانداروں کو حقیر سمجھنے والوں کی مذمت کی اور پیغمبر اسلام کو حکم دیا کہ آپ ان لوگوں کا رد فرمایا کمزور ایمانداروں کو حقیر سمجھنے والوں مذمت کو مذمت کی اور پیغمبر اسلام کو حکم دیا کہ آپ ان لوگوں کی مجلس اختیار کریں جو صبح اور پچھلے پہر اپنے پروردگار کو یاد کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے طالب ہیں ، فرمایا ان پر اپنی نگاہ شفقت رکھیں ، آپ ان لوگوں کی بات نہ مانیں جنہیں اللہ نے اپنی یاد سے غافل پایا ہے ، جو اپنی…
Read the full tafseer →وَّمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَاۗىِٕمَۃً 0ۙ وَّلَىِٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّيْ لَاَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْہَا مُنْقَلَبًا 36
ظن
والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ،
( ظ ن ن ) الظن
اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔
ساعة
السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
تفسیر …دو شخصوں کا قصہ بطور مثال کے : پھر دنیا کی بےثباتی اور اس کے اسباب و تجمل پر غرور کر کے خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور الحاد کا بدنتیجہ جو کبھی دنیا ہی پر ظاہر ہوتا ہے دو شخصوں کی تمثیل سے بیان فرمایا۔ بعض کہتے ہیں یہ صرف ایک تمثیل ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ دراصل ایسے دو شخص تھے بھی کہ جن کا یہ واقعہ ہے پھر بعض کہتے ہیں کہ یہ دو شخص بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے کہ ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کیا تھا دوسرا دنیادار اور مشرک اور دارآخرت کا منکر تھا۔ اس نے دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے تھے کہ ان میں نہر بھی جاری تھی اور بیچ میں انگور اور آس پاس کھجور کے درخت بھی تھے اور وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
وَدَخَلَ جَنَّـتَـہٗ وَھُوَ ظَالِمٌ لِّـنَفْسِہٖ ج قَالَ مَآ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ ھٰذِہٖٓ اَبَدًا۔ وَّمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَـآئِمَۃً لا وَّلَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰی رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْھَا مُنْقَلَـبًا۔ (الکہف : 35، 36)
(اور (ایک دن) وہ اپنے باغ میں اس حال میں داخل ہوا کہ وہ اپنی جان پر ظلم ڈھا رہا تھا، اس نے کہا کہ میں خیال نہیں کرتا کہ یہ (سرسبزوشاداب باغ) کبھی برباد ہوگا۔ اور میں یہ گمان بھی نہیں کرتا کہ کبھی قیامت بھی برپا ہوگی اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو اس سے بھی بہتر مرجع پائوں گا۔ )
کافر اور مومن کی ذہنیت کا فرق
ان آیات میں مومن اور کافر کی ذہنیت کے فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں اور جنتیوں کے ذکر سے پہلے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے حوالے سے مومنوں کو سمجھایا گیا کہ وہ دنیا پرست لوگوں کے پیچھے لگنے سے بچیں۔ اب نیک اور دنیا دار کی مثال پیش فرما کر دونوں کے کردار اور انجام کا فرق بیان کیا جاتا ہے۔
اے پیغمبر ﷺ ! لوگوں کے سامنے دو آدمیوں کا واقعہ بیان کریں۔ جن میں ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ عنایت فرمائے اور ان کی حفاظت کھجور کے درختوں کے ساتھ کی اور ان کے درمیان فصل پیدا کی باغوں کو سیراب کرنے کے لیے ان کے درمیان نہریں جاری کیں۔ یہ باغ بھر پور طریقے سے پھل دیتے تھے ان کی پیداوار میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہوتی۔ اس مثال میں بیک وقت دو باتیں…
Read the full tafseer →انکارِ قیامت :
36: وَّمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً (اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہونے والی ہے) یعنی واقع ہونے والی ہے۔ وَّ لَپنْ رُّدِدْتُّ اِلٰی رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْہَا مُنْقَلَبًا (اور اگر بالفرض مجھے لوٹ کر اپنے رب کی طرف جانا ہی پڑا تو اس سے بہتر نتیجہ وہاں ضرور ضرور ملے گا) اس میں اس نے قسم اٹھائی ہے کہ اگر بالفرض والتقدیر اپنے رب کی طرف میں لوٹایا گیا جیسا کہ میرا بھائی گمان کرتا ہے تو وہ آخرت میں دنیا کے باغ سے بھی بہتر باغ وہاں پائے گا۔ اس آیت میں اپنے دوسرے بھائی پر عزت افزائی کا دعوٰی اور اونچے مرتبے کا ذکر ہے۔ مُنْقَلَبًا یہ تمیز ہے اس کا معنی انجام اور…
Read the full tafseer →36 ۔ ” وما اظن الساعۃ قائمۃ “ قیامت ہونے والی ہے۔ ” ولئن رددت الی ربی لا جدن خیرًا منھا منقلباً “ اہل حجاز اور اہل شام نے اس کو تنیہ ہی پڑھا ہے۔ اس کے دو باغوں میں سے ملے گا۔ (اور اسی طرح میرے لیے ہی مقدر ہوگا) اور دوسرے قراء نے ” منھا “ سے مراد وہ باغ ہے جس میں وہ ابھی داخل ہوا۔ ” منقلبًا “ اس سے مراد رجوع کرنے والا لوٹنے والا مراد ہے۔
سوال کیا جائے کہ وہ یہ بات کیسے کہتا ہے۔ ” ولئن رددت الٰی ربی “ حالانکہ وہ تو بعثت کا منکر ہے ؟
جواب اس کا معنی یہ ہے کہ اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا جیسا کہ تمہارا گمان ہے تو مجھے اس سے بہتر ملے گا کیونکہ اللہ نے جو کچھ مجھے دنیا میں یہ باغات دیئے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
32۔ 44:۔ اوپر ان مالدار مشرکین مکہ کا ذکر تھا جو غریب مسکین مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے سے گھبراتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کہاوت بیان کی کہ دو مرد تھے ایک کے دو باغ تھے انگور اور کھجور کے جن کے درمیان میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ ہر طرح کے درخت اور پھل پھول اور میوے پیدا ہوتے تھے ولم تظلم منہ شیئا سے اسی مطلب کو ادا فرمایا ہے۔ پھر فرمایا ان باغوں میں نہریں جاری تھیں پھر فرمایا اس باغ والے نے اپنے دوسرے بھائی سے بطور فخر کے کہا کہ میں تجھ سے مال واولاد اور خدمت گاروں میں زیادہ عزت والا ہوں اور وہ اپنی باغ میں اپنے بھائی کا بھی ہاتھ پکڑ کر میں قیامت کے قائم ہونے کا خیال نہیں رکھتا اور اگر بالفرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
(آیت نمبر (34:
ان باغوں کے مالک نے اپنے صاحب ایمان ساتھی سے نہایت فخر سے کہا جبکہ وہ دونوں روز مرہ کے بعض معاملات میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے تھے : ( انا اکثر منک ما لا و اعز نفرا) ” میرے پاس تجھ سے زیادہ مال ہے اور زیادہ آبرو والے لوگ “ اس نے اپنے مال کی کثرت اور اپنے اعوان و انصار ‘ یعنی اپنے غلام و خدام اور عزیز و اقارب کی طاقت پر فخر کا اظہار کیا۔ یہ اس کی جہالت تھی ورنہ ایک ایسے خارجی امر میں کون سی فخر کی بات ہے جس میں کوئی نفسی فضیلت ہے نہ معنوی صفت۔ یہ تو ایک بچے کا سا فخر ہے جو محض اپنی آرزوں پر فخر کرتا ہے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
پھر اس نے صرف اپنے ساتھی پر فخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
غار میں اصحاب کہف کی مدت قیام
قول باری ہے (ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ سنین وازدادواتسعاً ) اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں) قتادہ سے مروی ہے یہ یہود کے قول کی حکایت ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (قل اللہ اعلم بما لبثوا تم کہو اللہ ان کے قایم کی مدت زیادہ جانتا ہے ) مجاہد، ضحاک اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ غار میں ان کے قیام کی مدت اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اگر اہل کتاب اس معاملے میں تم سے بحث کرنے پر اتر آئیں تو ان سے کہہ دو ۔ اللہ ان کے قیام کی مدت کو زیادہ جانتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
68۔ منکرین کے لئے انکا مال ودولت باعث محرومی و خرابی ،۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔
سو دنیاوی مال ودولت کا یہ سب سے خطرناک اور نقصان دہ پہلو ہے کہ منکر شخص اس کو اپنی حقانیت کی دلیل سمجھنے لگتا چناچہ اس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا کہ دنیا میں جو مجھے یہ سب کچھ ملا ہوا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ میں اس کا اہل اور مستحق ہوں۔ اور میں ہی صحیح طریقے پر ہوں۔ لہذا آخرت اگر ہوئی بھی تو وہاں بھی کامیابی میری ہی ہوگی۔ سودنیاوی مال ودولت کا یہ پہلو سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ پہلو ہوتا ہے کہ بگڑا ہوا انسان اس کی بناء پر باطل پر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتا ہے۔ اور اس بناء پر وہ حق بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–46
سبق آموز کہانی اور نیکیوں کا بدلہ
تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی حاکمیت، قدرت کاملہ اور وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر انسان کو روزی رزق دیتا ہے تو انسان کا فرض ہے اس کی نعمتوں کو حاصل کر کے فخر و غرور نہ کرے اور اس قدر بدمست نہ ہوجائے کہ اللہ کے وجود اور قیامت کا انکار کردے اور نعمتوں کا شکر ہی ادا نہ کرے اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگے۔ یہ سب انسانیت کے خلاف اور برے رویے ہیں ہمارا مذہب اسلام ان تمام اخلاقی برائیوں سے منع کرتا ہے، یعنی کسی کو حقیر سمجھنا اور شکر الٰہی ادا نہ کرنا۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی نعمت یا خوبصورت چیز کو دیکھو یا کامیابی حاصل کرو تو اس کو دیکھ کر ماشَائَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–44
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
دنیا میں بھی یہی مثالیں موجود ہیں جو اقوام کے حالات میں بھی نظر آتی ہیں اور افراد کے حالات میں بھی آپ انہیں ان دو آدمیوں کی مثال دیجئے جو دونوں دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو ہم نے زیادہ مالدار کردیا ، اس کے انگوروں کے باغات تھے جن کے گردا گرد کے درخت اور درمیان میں زرعی زمین تھی یعنی کھجوریں پھل اور غلہ جیسی سب نعمتیں بیک وقت ان باغوں سے حاصل ہوتیں ، اور وہ پورا پورا پھل دیتے کبھی ان میں کمی نہ آتی تھی ، ان باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کردی تھی جس کے سبب وہ ہمیشہ سرسبز رہتے اور ہر موسم کا پھل بہتات سے حاصل ہوتی ، جبکہ دوسرا دوست ایسا مالدار نہ تھا ، ایک روز باتوں…
Read the full tafseer →ف 1 کیونکہ جب اس نے دنیا میں یہ مال اور نعمتیں دی ہیں تو آخرت میں اس سے بہتر ملیں گی۔
Read the full tafseer →(18:36) ولئن رددت۔ ماضی مجہول واحد متکلم اور اگر میں لوٹایا گیا۔ یعنی اگر قیامت آبھی گئی اور میں اپنے رب کے حضور لایا گیا۔ رد یرد (نصر) لوٹانا۔ پھیرنا۔ واپس کرنا۔
لاجدن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ واحد متکلم۔ وجود مصدر۔ میں ضرور پائوں گا۔ وجد یجد (ضرب) سے۔
منھا۔ ای من ھذہ الجنۃ اس باغ سے (بہتر باغ مجھے ملے گا) ۔ منقلبا۔ اسم ظرف مکان ۔ لوٹنے کی جگہ۔ تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ لاجدن خیرا منہا منقلبا۔ تو میں یقینا اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پائوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–36
لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 34
اضرب بیان کر، مار۔ رجلین (رجل) مردوں، دو آدمی۔ اعناب (عنب) انگور۔ حففنا ہم نے گھیر لیا۔ محفوظ کرلیا۔ نخل کھجور۔ زرع کھیتی۔ کلتا دونوں۔ اکل پھل۔ لم تظلم کم نہیں کیا۔ فجرنا ہم نے بہا دیا۔ یح اور بات چیت کرتا ہے۔ اعز میں زیادہ عزت والا ہوں۔ نفر لوگ، جماعت۔ تبید اجڑ جائے گا۔ الساعۃ قیامت، گھڑی۔ رددت میں لوٹایا گیا۔ منقلب (بہترین) جگہ لوٹنے کی۔
تشریح : آیت نمبر 32 تا 34
کفار مکہ کے اس مطالبہ کا ذکر گزشتہ آیات میں کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ اے نبی ﷺ ہم آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں مگر جب ہم یہ دیھکتے ہیں کہی آپ کے پاس ہمارے معاشرہ کے وہ غریب اور بدحال لوگ بیٹھے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
اور اس کافر کے ہاں ہر قسم کا میوہ بھی ہوتا تھا ۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ قطروس نے اپنے مسلمان بھائی کو بہت ملامت کی اور کہا کہ میرا تمہارا روپیہ تو برابر تھا میں نے تو یہ باغ اور جائداد پیدا کی میرے ہاں غلام اور نوکر چاکر ہیں، تم مفلس اور پریشان ہوگئے۔ یہودا نے جواب دیا کہ بھائی اس مال سے تم نے دنیا کے باغ مول لئے اور میں نے جنت کے باغ، تم نے دنیا میں گھر بنایا میں نے جنت میں تم نے اپنی شادی کی میں نے اپنی حور عین کا مہر ادا کیا، تم نے لونڈی اور غلام اور نوکر چاکر جمع کئے، میں نے غلمان کی طلب کی قطروس نے اسے بہت ملامت کی اور یہ بات کہی کہ تم بہت بیوقوف ہو تم نے زرنقد کو ایک وعدہ کے بھروسہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–41
[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
سرمایہ داری کا غرور :
(ف 1) مکہ والے مال و دولت کے نشہ میں سرشار تھے ، تمول کا خمار آنکھوں میں تھا اور امارت کا سودا دماغ میں سجا رہا تھا ، مسلمان ابتداء غریب تھے ، اس لئے وہ از راہ کبر مسلمانوں سے نفرت کرتے ، ان کے مذہب کو غربت ومسکنت کا مذہب سمجھتے اور کہتے کہ ہم ایسے دین کو قبول نہیں کرسکتے ، جس کے ماننے والے دنیوی حیثیت سے ہم سے بلند اور اعلی نہ ہوں ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر نعمت سے بہرہ ور کیا ہے ، اس کے پاس شاداب باغ اور کھیت ہیں ، بکثرت دوست و مددگار ہیں ، مگر مغرور ومتکبر ہے ، اپنے جاہ وحشم کو دیکھتا ہے ، اور…
Read the full tafseer →-36 اور میں یہ بھی خیال نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہونے والی ہے یعنی اول تو قیامت کا مجھ کو یقین ہی نہیں اور اگر میں اتفاقاً اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو بھی اپنے موقعہ بازگشت اور لوٹنے کی جگہ کو اس باغ سے بہتر ہی پائوں گا۔ یعنی نہ تو مجھ کو اس کا یقین ہے کہ میرے جیتے جی یہ باغ کبھی تباہ و ہلاک ہوگا اور نہ مجھ کو قیامت کے آنے کا گمان و یقین ہے اور اگر ایسا ہوا بھی کہ مجھے لوٹایا گیا تو وہاں بھی اس باغ سے بہتر باغ کا مالک بنوں گا اور لوٹنے کی جگہ یہاں سے اچھی ہوگی۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں منکر لوگ جانتے ہیں کہ جیسے دنیا میں عیش کرتے ہیں گناہوں کے ساتھ وہی بات ہوگی آخرت میں سو ہرگز ہوتا نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 1۔ یہ اس نے توحید کے مسئلہ میں کلام کیا کہ تو جو صانع عالم کا اور اس کی قدرت وغیرہ کا قائل ہے سو میں نہیں سمجھتا کہ اسباب طبعیہ کو کعئی معطل کرسکے، اور اس باغ وغیرہ کا کارخانہ جس کی آبادی کے سارے اسباب جمع ہیں کس طرح محتمل ویرانی کا ہو۔
Read the full tafseer →اس نے کہا یہ قیامت ویامت کیا ہے ؟ اور اگر کچھ ہے تو ہمارے ہی لئے تو ہے :
39۔ اس نے اپنے دوست سے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ جو تو قیامت ‘ قیامت ہر وقت کرتا رہتا ہے یہ کیا ہے ؟ کسی مجنون کا جنون ہی تو ہے مجھے اس پر کوئی یقین نہیں کہ قیامت نام کی بھی کوئی چیز ہے ، تیرے جیسے ناسمجھ اس طرح کہتے آئے ہیں اور ہم بھی مدت سے یہی باتیں سنتے آئے ہیں کہ قیامت آئے گی ‘ کب آئے گی ؟ اگر آنا ہوتی تو آخر آبھی تو جاتی ۔ اب تک نہیں آئی اور کبھی نہیں آئے گی تاہم اگر میں اور میرے جیسے سارے لوگ لوٹائے بھی گئے تو ہم کو وہاں بھی یہاں سے اچھا ہی ملے گا ، بھلا ہمیں یہاں کون دے رہا ہے وہی اللہ ہی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
Commentary
The word: ثَمَرٌ (thamar) in: وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ (And he had wealth - 34) means the fruit of trees as well as wealth, in an absolute sense. At this place, Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، Mujahid and Qatadah have taken it in the later sense (Ibn Kathir) According to the Lexicon, al-Qamus, this word is used to denote the fruit of the tree and wealth of all kinds. This tells us that not only did he own gardens and farms, he also had gold, silver and other luxuries. Even his words reported by the Qur'an: (I am greater than you in wealth -34) also express the same sense. (Ibn Kathir)
About…
Read the full tafseer →38. That is, I don’t think there is any life after death, but supposing there be one, I shall fare even better there than in my present life, for my prosperity is a clear proof that I am a favorite of God.
Read the full tafseer →