Al-Kahf 18:33

Al-Kahf · from ayah 33

18:33

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْـًٔا ۙ— وَّفَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًا ۟ۙكِلۡتَا الۡجَـنَّتَيۡنِ اٰتَتۡ اُكُلَهَا وَلَمۡ تَظۡلِمۡ مِّنۡهُ شَيۡـئًـا‌ ۙ وَّفَجَّرۡنَا خِلٰـلَهُمَا نَهَرًا ۙ‏

دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے۔ اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Each of the two gardens produced its fruit and did not fall short thereof in anything. And We caused to gush forth within them a river.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 5 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:33

دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی اُن باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کر دی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے۔ اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

دونوں باغ اپنا پھل خوب ﻻئے اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ کی اور ہم نے ان باغوں کے درمیان نہر جاری کر رکھی تھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

دونوں باغ پورا پورا پھل دیتے تھے، اور کوئی باغ پھل دینے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتا تھا، اور ان دونوں کے درمیان ہم نے ایک نہر جاری کردی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

دونوں باغ اپنے پھل لائے اور اس میں کچھ کمی نہ دی اور دونوں کے بیچ میں ہم نے نہر بہائی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ دونوں باغ (کثرت سے) اپنے پھل لائے اور ان کی (پیداوار) میں کوئی کمی نہ رہی اور ہم نے ان دونوں (میں سے ہر ایک) کے درمیان ایک نہر (بھی) جاری کر دی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

دونوں باغوں نے اپنا پھل دیا اور اس سے کچھ کمی نہ کی اور ہم نے دونوں کے درمیان ایک نہر جاری کردی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ دونوں باغ اپنا پھل پورا لائے اور بارآور ہونے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور ان کے بیچوں بیچ ہم نے نہر جاری کردی تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

دونوں باغ خوب پھل لائے، ان میں زرا کمی نہیں کی اور ان کے بیچ بیچ میں ہم نے نہر بھی دوڑا دی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور پھل لانے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور ہم نے ان دونوں کے درمیان ایک نہر بھی جاری کردی تھی،

— مولانا اسحاق مدنی

دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کی پیداوار میں ذرا کمی نہ رہتی اور ہم نے ان دونوں کے درمیان ایک ندی جاری کر رکھی تھی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

دونوں باغات اپنا پھل خوب دیتے اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرتے تھے اور ہم نے جاری کردی تھی ان کے درمیان ایک نہر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

دونوں باغ خوب زیادہ پھل لاتے اور اس کی پیدوار میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Both the vineyards yielded abundant produce without failure and We caused a stream to flow in their midst

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Both the gardens brought forth their fruit, and suppressed nothing from it, and We caused a stream to flow through them.

— Muhammad Taqi Usmani

Both the gardens brought forth their fruit, and suppressed nothing from it, and We caused a stream to flow through them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Each of those two gardens brought forth its produce, and failed not in the least therein, and We caused a river to gush forth in the midst of both.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Each of the gardens gave its fruit and withheld naught thereof. And We caused a river to gush forth therein.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Each of the two gardens produced its fruit and did not fall short thereof in anything. And We caused to gush forth within them a river.

— Saheeh International

and a stream flowing through the middle of the gardens.

— Muhammad Sarwar

Both these gardens yielded their fruits, and failed not aught thereof, and We caused a river to gush forth in their midst,

— Muhammad Habib Shakir

Each of the two gardens brought forth its produce and stinted not aught thereof; and We caused to gush forth in the midst of the twain a river.

— Abdul Majid Daryabadi

Each of those gardens brought forth its produce, and failed not in the least therein: in the midst of them We caused a river to flow.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–36

فخر و غرور چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھر پور، کسی قسم کا نقصان نہیں ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت ثمر بھی ہے یہ جمع ہے ثمرۃ کی جیسے خشبہ کی جمع خشب۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں، تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں ایک فاجر شخص کی تمنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 32–34

سورة الْكَهْف 36 اس مثال کی مناسبت سمجھنے کے لیے پچھلے رکوع کی وہ آیت نگاہ میں رہنی چاہیے جس میں مکہ کے متکبر سرداروں کی اس بات کا جواب دیا گیا تھا کہ ہم غریب مسلمانوں کے ساتھ آکر نہیں بیٹھ سکتے، انہیں ہٹا دیا جائے تو ہم آکر سنیں گے کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو۔ اس مقام پر وہ مثال بھی نگاہ میں رہے جو سورة القلم، آیات 17 تا 33 میں بیان فرمائی گئی ہے۔ نیز سورة مریم، آیات 73، 74۔ سورة المومنون، آیات 55 تا 61۔ سورة سبا، آیات 34 تا 36، اور حٰمٰ سجدہ، آیات 49۔ 50 پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–33

خلاصہ تفسیر۔ اور آپ (دنیا کی بےثباتی اور آخرت کی پائیداری ظاہر کرنے کے لئے) دو شخصوں کا حال (جن میں باہم دوستی یا قرابت کا تعلق تھا) بیان کیجئے (تا کہ کفار کا خیال باطل ہوجائے اور مسلمانوں کو تسلی ہو) ان دو شخصوں میں سے ایک کو (جو کہ بد دین تھا) ہم نے دو باغ انگور کے دے رکھے تھے اور دونوں (باغوں) کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنا رکھا تھا اور ان دونوں (باغوں) کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی (اور) دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے، اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی (بخلاف عام باغوں کے کہ کبھی کسی درخت میں اور کسی سال پورے باغ میں پھل کم آتا ہے) اور ان دونوں (باغوں) کے درمیان نہر چلا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ آتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْهُ شَيْئًا وَفَجَّرْنَا خِلالَهُمَا نَهَرًا جن کو اس طرح کا باغ حاصل ہو، وہ بھی ایک چھوڑ دو دو، اسے دنیا میں اور کیا چاہیے۔ فرمایا کہ دونوں باغوں نے خوب پھل دیے، ذرا کمی نہیں کی۔ باغ کے بیچ میں نہر جاری تھی جو اس کی شادابی، طراوت اور زرخیزی کی ضامن تھی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33۔ 1 یعنی اپنی پیداوار میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے بلکہ بھرپور پیداوار دیتے تھے۔ 33۔ 2 تاکہ باغوں کو سیراب کرنے میں کوئی رکاوٹ واقع نہ ہو۔ یا بارانی علاقوں کی طرح بارش کے محتاج نہ رہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–44

24: آیت نمبر 28 میں کافر سرداروں کے اس تکبر کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ غریب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک ایسا واقعہ بیان فرما رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال و دولت کی زیادتی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر کوئی شخص اترائے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ مضبوط نہ ہو تو بڑے بڑے مال دار لوگ انجام کار ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صحیح ہو تو غریب لوگ ان سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ جن دو آدمیوں کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے ان کی کوئی تفصیل کسی مستند مرفوع روایت میں موجود نہیں ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے کچھ روایتوں کی بنیاد پر یہ کہا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

” دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی “۔ یہاں قرآن کریم نقص اور کمی کے لئے لفظ ” ظلم “ استعمال کرتا ہے تاکہ ان دونوں باغوں اور ان کے مالک کے کردار کے درمیان تقابل پیدا کیا جاس کے ، کیونکہ باغات نے تو اپنا حق ادا کردیا ، جبکہ باغات کے مالک نے تکبر کیا ، سرکشی اختیار کی اور کبرو غرور کی وجہ سے اللہ کا شکر ادا نہ کیا اور ظلم کیا۔ اب ذرا ان دو باغوں کے اس مالک کو ملاحظہ کریں کہ اس کا پیمانہ بھر جاتا ہے اور وہ ان کو دیکھ کر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے۔ فخر و مباہات سے اس کا سر غرور میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس کا پیمانہ مرغی کے پیمان کی طرح ہے ، جلدی بھر جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی یہ نہیں کہ ایک باغ پھلا دوسرا نہ پھلا۔ یا ایک درخت زیادہ آیا دوسرا کم۔ 6 یعنی باغوں کے درمیان نہر کا پانی قرینہ سے پھر رہا تھا کہ منظر فرحت بخش رہے اور بارش نہ ہو تب بھی باغ وغیرہ خشکی سے خراب نہ ہونے پائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33 كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَـيْــــًٔـا وہ دونوں باغات ہر سال موسم کے مطابق خوب پھلتے تھے اور ان کی پیدوار میں کبھی کوئی کمی نہیں آتی تھی۔ ان باغوں کا مالک شخص سالہا سال سے ان کی پیداوار سے مسلسل فائدہ اٹھاتے اٹھاتے انہیں دائمی سمجھ بیٹھا اور وہ بالکل ہی بھول گیا کہ یہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور اجازت ہی سے ممکن ہے۔ وَّفَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًا ان دونوں باغوں کے بیچوں بیچ ایک نہر بہتی تھی۔ گویا ان کی آب پاشی کا نظام بھی مثالی تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 32–34

34 ایک مال دار کافر اور غریب مومن کے طرز عمل کا موازنہ :۔ یہ مثال دراصل ان قریشی سرداروں پر منطبق ہوتی ہے جنہوں نے رسول اللہ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ کسی وقت ان مسکینوں کو اپنی مجالس سے اٹھا دیں تو ہم اطمینان سے آپ کی باتیں سنیں۔ اس مثال میں جن دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کافر و مشرک تھا۔ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور مالدار اور صاحب جائداد تھا جیسا کہ قریشی سردار تھے، دوسرا توحید پرست تھا، مومن تھا اللہ پر بھروسہ رکھنے والا تھا لیکن غریب اور مفلس تھا جیسا کہ صحابہ کرام ؓ تھے جن کے متعلق قریشی سرداروں نے آپ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آپ انھیں اپنی مجلس سے ہٹا دیں۔ رہی یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–34

51۔ باغ بھی ایسے کہ پوری پوری فصل دینے والے، کسی میں کوئی نقصان اور کمی نہیں اور پڑوس میں دریا۔ کھیتی کی سرسبزی اور باغ کی شادابی کے سامان ہر طرح کے بہ افراط اور عام دولتمندی اس پر مستزاد۔ مادی فراغت وخوش نصیبی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی۔ (آیت) ” ثمر “۔ ثمر کے معنی علاوہ اپنے مشہور معنی کے، دولت کے بھی ہیں۔ ویکنی بہ عن المال المستفاد (راغب) ومن المخار الثمر انواع المال (تاج) اور یونہی معنی یہاں مراد ہیں۔ اے انواع من المال من ثمر اذا کثر (کشاف) عن مجاھد الذھب والفضۃ اے کان لہ مع الجنتین اشیاء من لمنقود (کبیر۔ عن مجاہد) یراد بھما الذھب والفضۃ خاصۃ (بحر۔ عن مجاہد) 52۔ (درآنحالیکہ تو توحید کا قائل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–38

آیت نمبر 32 تا 38 ترجمہ : اور حال بیان کیجئے ان کافروں اور مومنوں کے لئے ان دو شخصوں کا رجلین مثلاً سے بدل ہے رجُلَین اور اس کا مابعد مثلاً کی تفسیر ہے ان دو میں سے ایک کو جو کافر تھا انگور کے دو باغ دئیے تھے اور ہم نے دونوں باغوں کا کھجوروں کے درختوں کے ذریعہ احاطہ کردیا تھا اور ان کے بیچ بیچ میں کھیتی بھی اگائی تھی جس کے ذریعہ غذا حاصل کی جاتی تھی دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے اس میں بالکل کمی نہیں کرتے تھے کِلتَا لفظ کے اعتبار سے مفرد ہے (مگر معنی کے اعتبار سے) تثنیہ پر دلالت کرتا ہے اور کلتا مبتدا ہے اور آتت اس کی خبر ہے اور ہم نے ان دونوں باغوں کے درمیان نہریں جاری کر رکھی تھیں اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلتا الجنتین اتت اکلہا ولم تظلم منہ شیئا اور دونوں باغ اپنے پورے پھل دیتے تھے اور کسی کی پیداوار میں ذرا بھی کمی نہ تھی ‘ یعنی باغوں کے پھلوں اور پیداوار میں وہ کمی نہ تھی جو معمولاً عام باغوں میں ہوا کرتی ہے کہ ایک سال پھل خوب آتے ہیں اور دوسرے سال کم۔ وفجرنا خللہما نہرا۔ اور دونوں باغوں کے اندر ہم نے نہر چلا رکھی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–43

(32۔ 43) آپ اہل مکہ کے سامنے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے کہ بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے ایک مومن جس کا نام یہودا اور دوسرا کافر جس کا نام ابو فطروس تھا۔ کافر کو دو باغ ہم نے انگوروں کے دے رکھے تھے اور ان دونوں باغوں کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنارکھا تھا اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی۔ دونوں باغ ہر سال اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں نہر چلا رکھی تھی اور اس کے پاس باغ کا پھل تھا اور بھی تمول کا سامان تھا چناچہ ایک دن وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اپنے مال پر فخر کرتا ہوا کہنے لگا کہ میرا مال بھی تجھ سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 32–33

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ۔۔ : کفار کو مسلمان فقراء کے مقابلے میں اپنے اموال و انصار پر فخر تھا، اس بنا پر وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتے اور مجلس میں ان کے ساتھ بیٹھنا پسند نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ بیان فرما کر سمجھایا کہ یہ چیزیں فخر کے لائق نہیں ہیں، کیونکہ ایک لمحہ میں فقیر غنی ہوسکتا ہے اور غنی فقیر۔ دنیا میں اگر فخر کی کوئی چیز ہے تو وہ ہے اللہ کی اطاعت اور اس کی عبادت اور یہ ان فقراء کو حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کافر و مومن کی ایک مثال بیان فرمائی کہ دو آدمی تھے (ان کے نام یا زمانہ معلوم نہیں، نہ ہی اس میں کوئی فائدہ ہے) ان میں سے ایک کو، جو کافر تھا، اللہ تعالیٰ نے انگوروں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–34

آیت نمبر 32 تا 34 قولہ تعالیٰ : واضرب لھم مثلا رجلین یہ مثال ہے اس آدمی کیلئے جو دنیا کے ساتھ عزت حاصل کرتا ہے اور مومنین کے ساتھ بیٹھنا ناپسند کرتا ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : واصبر نفسک کے ساتھ متصل ہے۔ اور ان دونوں آدمیوں کے نام اور ان کی تعیین میں اختلاف ہے، پس کلبی (رح) نے کہا ہے : یہ اہل مکہ میں سے دو مخزومی بھائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، ان میں سے ایک مومن تھا اور وہ حضرت ابو سلمہ عبد اللہ بن عبد الاسد بن ہلال بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم تھے۔ ام سلمہ کے خاوند نے حضور نبی مکرم ﷺ کی رسالت کو قبول کرلیا تھا۔ اور دوسرا کافر تھا اور وہ اسود بن عبد الاسد تھا، ان دونوں بھائیوں کا ذکر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–37

ایک مومن و کافر کا مکالمہ : 1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” جعلنا لاحدھما جنتین من اعناب “ کے بارے میں روایت کیا کہ جنت سے مراد باغ ہے اسی کا ایک باغ اور ایک دیوار تھی اور ان کے درمیان ایک نہر تھی اس لئے دو باغ فرمایا اور دیوار سے ایک ہونے کی وجہ سے ایک باغ فرمایا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن ابوعمر والشیبانی (رح) سے روایت کیا کہ نہرابی فرطس ان دو باغوں کی نہر تھی ابن ابی حاتم نے فرمایا وہ رملہ کی مشہور نہر ہے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” اتت اکلھا ولم تظلم منہ شیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا پھل کبھی ختم نہ ہوتا تھا باغ کے ہر درخت کا پھل کھایا جاتا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ : دونوں باغ ] [اٰتَتْ : دیتے تھے ] [اُكُلَهَا : اپنے پھل ] [وَلَمْ تَظْلِمْ : اور وہ (باغ) کمی نہ کرتے ] [مِّنْهُ : اس ) (پھل) میں سے ] [شَـيْــــًٔـا : کوئی چیز ] [وَّفَجَّرْنَا : اور ہم نے جاری کیا ] [خِلٰلَهُمَا : دونوں کے بیچ سے ] [نَهَرًا : ایک نہر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 32–44

عبرت کے لیے دو شخصوں کی مثال، ان میں ایک باغ والا اور دوسرا غریب تھا ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں ایک باغ والے کافر و مشرک اور دوسرے مومن موحد کی گفتگو نقل فرمائی ہے۔ علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 161 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیات اہل مکہ میں سے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئیں دونوں بنی مخزوم میں سے تھے۔ ایک تو حضرت ابو سلمہ ؓ تھے جو رسول اللہ ﷺ سے پہلے حضرت ام سلمہ ؓ کے شوہر تھے اور دوسرا شخص جو کافر تھا وہ اسود بن عبد الاسد تھا یہ ایک قول ہے۔ دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں سے دو شخصوں کا ہے جو آپس میں دونوں بھائی تھے ایک مومن تھا اور ایک کافر تھا اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–44

بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی مثال قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا رجلین .... الیٰ ۔۔۔۔ ھو خری ثوابا وخیر عقبا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی اس درخواست کو رد فرمایا جو اپنے مال و دولت کے نشہ میں چور تھے اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس کرتے تھے اور اپنے مال و دولت پر فخر محسوس کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں تو آپ ان دو ویشان اسلام اور فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کریں اب ان آیات میں ان متکبرین کے سنانے کیلئے اور دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری بتلانے کے لئے بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی ایک مثال ذکر فرماتے ہیں جن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

42:۔ یہاں طلم کے معنی کم کرنے کے ہیں، ولم تظلم منہ شیئا ای لم تنقص (مفردات ص 318) ان باغوں کا معاملہ دوسرے باغوں سے بالکل جدا گانہ تھا عام طور پر پھلدار درخت ایک سال زیادہ پھل دیتے ہیں اور ایک سال کم، مگر قطروس کے باغوں کے درخت اور پودے ہر سال بکثرت پھل اور میوے پیدا کرتے تھے (روح ج 15 ص 274) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–36

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ بیان فرمایا ، پھر وحی الہی کی قطعیت کو بیان فرما کر اس کے اتباع کا حکم دیا ، کافر ، مشرک ، مشرک مغرور اور متکبر لوگوں کا رد فرمایا کمزور ایمانداروں کو حقیر سمجھنے والوں کی مذمت کی اور پیغمبر اسلام کو حکم دیا کہ آپ ان لوگوں کا رد فرمایا کمزور ایمانداروں کو حقیر سمجھنے والوں مذمت کو مذمت کی اور پیغمبر اسلام کو حکم دیا کہ آپ ان لوگوں کی مجلس اختیار کریں جو صبح اور پچھلے پہر اپنے پروردگار کو یاد کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے طالب ہیں ، فرمایا ان پر اپنی نگاہ شفقت رکھیں ، آپ ان لوگوں کی بات نہ مانیں جنہیں اللہ نے اپنی یاد سے غافل پایا ہے ، جو اپنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ اٰتَتْ اُكُلَہَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِّنْہُ شَـيْــــًٔـا ۝ 0ۙ وَّفَجَّرْنَا خِلٰلَہُمَا نَہَرًا۝ 33ۙ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–44

تفسیر …دو شخصوں کا قصہ بطور مثال کے : پھر دنیا کی بےثباتی اور اس کے اسباب و تجمل پر غرور کر کے خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور الحاد کا بدنتیجہ جو کبھی دنیا ہی پر ظاہر ہوتا ہے دو شخصوں کی تمثیل سے بیان فرمایا۔ بعض کہتے ہیں یہ صرف ایک تمثیل ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ دراصل ایسے دو شخص تھے بھی کہ جن کا یہ واقعہ ہے پھر بعض کہتے ہیں کہ یہ دو شخص بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے کہ ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کیا تھا دوسرا دنیادار اور مشرک اور دارآخرت کا منکر تھا۔ اس نے دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے تھے کہ ان میں نہر بھی جاری تھی اور بیچ میں انگور اور آس پاس کھجور کے درخت بھی تھے اور وقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

کِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُکُلَھَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِّنْہُ شَیْئًا لا وَّ فَجَّرْنَا خِلٰـلَہُمَا نَھَرًا (الکہف : 33) (یہ دونوں باغ خوب اپنے اپنے پھل لائے، اس میں ذرا کمی نہیں کی، اور ان کے درمیان ہم نے نہر بھی جاری کردی۔ ) باغ کی چوتھی خصوصیت اس آیت میں بیان فرمائی گئی ہے کہ اس کی سیرابی اور شادابی کے لیے ہم نے اس میں ایک نہر بھی رواں کر رکھی تھی جس سے پورا باغ سینچا جاتا تھا۔ اور ہر طرف پانی کی نالیاں پھیلا دی گئی تھیں۔ ان خصوصیات کا نتیجہ یہ تھا کہ یہ دونوں باغ خوب پھل لائے۔ کھجوروں نے اپنا پھل دینے میں اور انگوروں نے اپنی بہار دکھانے میں اور باقی باغ کے مختلف قطعات میں پھیلے ہوئے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–36

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں اور جنتیوں کے ذکر سے پہلے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے حوالے سے مومنوں کو سمجھایا گیا کہ وہ دنیا پرست لوگوں کے پیچھے لگنے سے بچیں۔ اب نیک اور دنیا دار کی مثال پیش فرما کر دونوں کے کردار اور انجام کا فرق بیان کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! لوگوں کے سامنے دو آدمیوں کا واقعہ بیان کریں۔ جن میں ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ عنایت فرمائے اور ان کی حفاظت کھجور کے درختوں کے ساتھ کی اور ان کے درمیان فصل پیدا کی باغوں کو سیراب کرنے کے لیے ان کے درمیان نہریں جاری کیں۔ یہ باغ بھر پور طریقے سے پھل دیتے تھے ان کی پیداوار میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہوتی۔ اس مثال میں بیک وقت دو باتیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

33: کِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ ٰاتَتْ (یہ دونوں باغ دیتے تھے) دیتے۔ اٰتَتْ لفظ پر محمول کیا کیونکہ کِلتَا لفظ مفرد ہے۔ اگر آتتامعنی کا لحاظ کر کے کہا جاتاتو جائز ہوتا۔ اُکُلَھَا (اس کا پھل) وَلَمْ تَظْلِمْ مِّنْہُ (کسی کی پیداوار میں ذرا بھی کمی نہ تھی) اور اس کے پھل میں کمی نہ ہوتی تھی۔ شَیئًا وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَھُمَا نَھَرًا (کچھ بھی اور ہم نے چلا دی ان دونوں باغوں کے اندر ایک نہر) ان دونوں باغوں کی تعریف پورا پھل دینے اور تمام پھل بغیر کسی کمی کے آتا۔ پھر غلہ کی اصل اور بنیاد جس سے وہ سیراب ہوتا اس کا ذکر کیا۔ اور نہر جاری کو افضل ترین ذریعہ سیرابی کا قرار دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

33 ۔ ” کلتا الجنتین آتت “ دونوں باغ اپنے پورے پھل دیتے تھے۔ ” اکلھا “ اس کے پھل تام (مکمل) تھے۔ ” ولم تظلم “ اور وہ پھل کم نہیں ہوئے۔ ” منہ شیئاً وفجرنا “ عام قراء نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور یعقوب نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” خلالھما نھرًا “ ہم نے اس کو پھاڑا اور اس کے درمیان سے نہر کو جاری کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–44

32۔ 44:۔ اوپر ان مالدار مشرکین مکہ کا ذکر تھا جو غریب مسکین مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے سے گھبراتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کہاوت بیان کی کہ دو مرد تھے ایک کے دو باغ تھے انگور اور کھجور کے جن کے درمیان میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ ہر طرح کے درخت اور پھل پھول اور میوے پیدا ہوتے تھے ولم تظلم منہ شیئا سے اسی مطلب کو ادا فرمایا ہے۔ پھر فرمایا ان باغوں میں نہریں جاری تھیں پھر فرمایا اس باغ والے نے اپنے دوسرے بھائی سے بطور فخر کے کہا کہ میں تجھ سے مال واولاد اور خدمت گاروں میں زیادہ عزت والا ہوں اور وہ اپنی باغ میں اپنے بھائی کا بھی ہاتھ پکڑ کر میں قیامت کے قائم ہونے کا خیال نہیں رکھتا اور اگر بالفرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–33

(آیت نمبر (32: اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان کے سامنے دو آدمیوں کی مثال بیان کردیجیے ایک وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے دوسرا وہ جو ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا ناشکر گزار ہے اور ان دونوں سے جس قسم کے اقوال و افعال صادر ہوتے ہیں اور ان کی بنا پر انہیں جو دنیاوی اور اخروی عذاب اور ثواب حاصل ہوگا ‘ تاکہ یہ لوگ ان دونوں کے احوال سے عبرت حاصل کریں اور انہیں جو عذاب یا ثواب حاصل ہوا اس سے نصیحت پکڑیں۔ ان دونوں آدمیوں کی متعین طور پر معرفت حاصل کرنے اور یہ معلوم کرنے میں کہ وہ کس زمانے اور کون سی جگہ کے لوگ ہیں ؟ کوئی فائدہ نہیں۔ فائدہ اور نتیجہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–38

غار میں اصحاب کہف کی مدت قیام قول باری ہے (ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ سنین وازدادواتسعاً ) اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں) قتادہ سے مروی ہے یہ یہود کے قول کی حکایت ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (قل اللہ اعلم بما لبثوا تم کہو اللہ ان کے قایم کی مدت زیادہ جانتا ہے ) مجاہد، ضحاک اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ غار میں ان کے قیام کی مدت اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اگر اہل کتاب اس معاملے میں تم سے بحث کرنے پر اتر آئیں تو ان سے کہہ دو ۔ اللہ ان کے قیام کی مدت کو زیادہ جانتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 32–33

62۔ عمدہ باغ کی تصویر :۔ سو ان دونوں باغوں کو کھجور کے درختوں کی ایک عمدہ باڑھ سے محفوظ کردیا گیا تھا۔ تاکہ اس سے ان کے حسن وجمال میں بھی اضافہ ہو اور سورج ودھوپ کی تپش سے ان کی حفاظت بھی ہو۔ اور عربوں کے یہاں عمدہ باغ کی تعریف یہی تھی کہ انگوروں وغیرہ پھلدار درختوں کا باغ ہو اور اس کے اردا گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگی ہو۔ سو یہ عمدہ باغ کی تصویر کشی ہے۔ سو اس تمثیل سے ابنائے دنیا اور خاص کر کفار قریش و مشرکین مکہ کے سامنے آئینہ رکھ دیا گیا کہ وہ اس میں اپنے حال اور مآل کو دیکھ لیں اور اس سے درس عبرت و بصیرت لیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–46

سبق آموز کہانی اور نیکیوں کا بدلہ تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی حاکمیت، قدرت کاملہ اور وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر انسان کو روزی رزق دیتا ہے تو انسان کا فرض ہے اس کی نعمتوں کو حاصل کر کے فخر و غرور نہ کرے اور اس قدر بدمست نہ ہوجائے کہ اللہ کے وجود اور قیامت کا انکار کردے اور نعمتوں کا شکر ہی ادا نہ کرے اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگے۔ یہ سب انسانیت کے خلاف اور برے رویے ہیں ہمارا مذہب اسلام ان تمام اخلاقی برائیوں سے منع کرتا ہے، یعنی کسی کو حقیر سمجھنا اور شکر الٰہی ادا نہ کرنا۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی نعمت یا خوبصورت چیز کو دیکھو یا کامیابی حاصل کرو تو اس کو دیکھ کر ماشَائَ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–44

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف دنیا میں بھی یہی مثالیں موجود ہیں جو اقوام کے حالات میں بھی نظر آتی ہیں اور افراد کے حالات میں بھی آپ انہیں ان دو آدمیوں کی مثال دیجئے جو دونوں دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو ہم نے زیادہ مالدار کردیا ، اس کے انگوروں کے باغات تھے جن کے گردا گرد کے درخت اور درمیان میں زرعی زمین تھی یعنی کھجوریں پھل اور غلہ جیسی سب نعمتیں بیک وقت ان باغوں سے حاصل ہوتیں ، اور وہ پورا پورا پھل دیتے کبھی ان میں کمی نہ آتی تھی ، ان باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کردی تھی جس کے سبب وہ ہمیشہ سرسبز رہتے اور ہر موسم کا پھل بہتات سے حاصل ہوتی ، جبکہ دوسرا دوست ایسا مالدار نہ تھا ، ایک روز باتوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 33–34

ف 4 یعنی میں تم سے زیادہ مالدار بھی ہوں اور میرے نوکر چاکر بھی تم سے بڑھ کر ہیں۔ القصہ اس کافر نے اپنے جاہ و مال کے بھروسہ پر مومن بھائی کے مقابلے میں فخر کیا اور اسے اپنے باغات کا مشاہدہ کرانے کے لئے ساتھ لے چلا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:33) کلتا۔ تاکید تثنیہ مؤنث کے لئے آتا ہے اس کا استعمال تثنیہ مذکر کلا کی طرح ہے ہر دو ۔ دونوں ۔ دونوں میں سے ہر ایک۔ اکلھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا میوہ۔ اس کا پھل۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب دونوں جنتوں میں سے ہر ایک جنت کے لئے ہے۔ کلتا الجنتین اتت اکلھا۔ یہ دونوں باغ اپنے اپنے پھل لائے۔ لم تظلم۔ مضارع واحد مؤنث غائب نفی حجد بلم اس نے نہ گھٹایا۔ اس نے نہ کم کیا۔ اس نے ظلم نہ کیا۔ یہاں ظلم کے معنی گھٹانے کے ہیں۔ اور کم کرنے کے ہیں۔ لم کے استعمال سے مضارع ماضی منفی کے معنی میں ہوگیا ہے۔ ضمیرفاعل ہر دو جنتوں میں سے ہر جنت کے لئے ہے یعنی دونوں باغوں میں سے کسی باغ نے بھی پھل لانے میں کوئی کمی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–36

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 34 اضرب بیان کر، مار۔ رجلین (رجل) مردوں، دو آدمی۔ اعناب (عنب) انگور۔ حففنا ہم نے گھیر لیا۔ محفوظ کرلیا۔ نخل کھجور۔ زرع کھیتی۔ کلتا دونوں۔ اکل پھل۔ لم تظلم کم نہیں کیا۔ فجرنا ہم نے بہا دیا۔ یح اور بات چیت کرتا ہے۔ اعز میں زیادہ عزت والا ہوں۔ نفر لوگ، جماعت۔ تبید اجڑ جائے گا۔ الساعۃ قیامت، گھڑی۔ رددت میں لوٹایا گیا۔ منقلب (بہترین) جگہ لوٹنے کی۔ تشریح : آیت نمبر 32 تا 34 کفار مکہ کے اس مطالبہ کا ذکر گزشتہ آیات میں کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ اے نبی ﷺ ہم آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں مگر جب ہم یہ دیھکتے ہیں کہی آپ کے پاس ہمارے معاشرہ کے وہ غریب اور بدحال لوگ بیٹھے ہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں فرمایا کہ قطروس کافر کے دونوں باغ نہایت سرسبز ہوئے اور خوب میوے ان میں لگے اور اس کی پیداوار میں کچھ کمی نہیں ہوئی تھی اور ان دونوں باغوں کے بیچ میں نہریں جاری تھیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–41

[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–35

(ف 1) جو لوگ دنیا میں اسلام کی وجہ سے فاخرانہ زندگی کو ترک کردیتے ہیں اور اسلام کے اصول کو بلند کرتے رہتے ہیں ، اخروی زندگی میں انہیں تمام ان چیزوں سے بہرہ ور کیا جائے گا ، جن کا تعلق انتہائی اعزاز وفخر سے ہے ۔ جن کے لبادے یہاں بوسیدہ ، اور دریدہ ہیں ، انہیں ابریشم وقاتم دیا جائے گا پہننے کے لئے زیور ہوں گے اور ٹھاٹ کی زندگی ہوگی ، تاکہ انکو معلوم ہو کہ اللہ نے تحفہ اعمال کو قبول فرما لیا ہے ۔ حل لغات : حففنہما : ان کے گردا گرد حف سے ہے ، جن کے معنی گھیرنے اور کسی شئے کے احاطہ کرلینے کے ہیں ۔ یحاورہ : محاورہ کے معنے باہم گفتگو کرنا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-33 وہ دونوں باغ اپنے پورے پھل لایا کرتے تھے اور پھل لانے میں ذرا سی بھی کمی نہیں کرتے تھے اور پھلوں کو گھٹاتے نہیں تھے اور ان دونوں باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کر رکھی تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 31–34

ف 5۔ یہ جو فرمایا کہ سبز لباس ہوگا اس سے حصر مقصود نہیں کیونکہ آیات میں مصرح ہے کہ جس چیز کو جی چاہے گا وہ ملے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس کے دونوں باغ خوب پھل دیتے تھے جس کے باعث وہ خوشحال ہوگیا : 36۔ ان آیات سے پہلے چونکہ اس بات کا ذکر ہو رہا تھا کہ جو لوگ منکر ہیں ان کے لئے جہنم کی آگ ہے اور جو مومن ہیں ان کے لئے ہر قسم کی خوش عیشیاں اور ابدی باغات ہیں اس کے بعد آیات زیر نظر میں یہ کہا جا رہا ہے کہ جو منکرین ہیں ان کے لئے صرف آخرت ہی کی محرومیاں نہیں بلکہ وہ اس دنیا میں بھی عنقریب ناکامیوں اور بدبختیوں سے دوچار ہونے والے ہیں ، اس وقت تو ان کو یہ گھمنڈ ہے کہ ان کو ہر قسم کی رفاہت وخوش عیشی حاصل ہے اور وہ کثیر مال و دولت کے مالک ہیں اور ان کی برادری اور خاندان بھی بہت ہے لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ جو کچھ ہے سب فانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–33

At this point, someone may doubt that this advice was reasonably practicable. A separate gathering for them would have not hurt. In fact, it would have made it easier to convey the message of Islam to them and equally easier for them to accept it. But, the creation of such a division would have amounted to seating the rebellious rich on a pedestal of honor, an action that could have broken the hearts of poor Muslims or dampened their courage. Allah Ta` ala, in His ultimate wisdom, would not put up with anything like this. Instead of that, the ground rule of Da'wah and Tabligh given by Him was…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–34

36. In order to understand the significance of this parable we should keep in view(Ayat 28)in which arrogant chiefs of Makkah were told that the poor companions of the Prophet (peace be upon him) would not be discarded to please them.

Read the full tafseer →