Al-Kahf 18:34

Al-Kahf · from ayah 34

18:34

وَّكَانَ لَهٗ ثَمَرٌ ۚ— فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَهُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا ۟وَكَانَ لَهٗ ثَمَرٌ‌ ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكۡثَرُ مِنۡكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا

اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he had fruit, so he said to his companion while he was conversing with him, "I am greater than you in wealth and mightier in [numbers of] men."

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 5 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:34

اوراُسے خوب نفع حاصل ہوا یہ کچھ پا کر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا "میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

الغرض اس کے پاس میوے تھے، ایک دن اس نے باتوں ہی باتوں میں اپنے ساتھی سے کہا کہ میں تجھ سے زیاده مالدار اور جتھے کے اعتبار سے بھی زیاده مضبوط ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس شخص کو خوب دولت حاصل ہوئی تو وہ اپنے ساتھی سے باتیں کرتے ہوئے کہنے لگا کہ : میرا مال بھی تم سے زیادہ ہے، اور میرا جتھ بھی تم سے زیادہ مضبوط ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ پھل رکھتا تھا تو اپنے ساتھی سے بولا اور وہ اس سے رد و بدل کرتا تھا میں تجھ سے مال میں زیادہ ہوں اور آدمیوں کا زیادہ زور رکھتا ہوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس شخص کے پاس (اس کے سوا بھی) بہت سے پھل (یعنی وسائل) تھے، تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا اور وہ اس سے تبادلہ خیال کر رہا تھا کہ میں تجھ سے مال و دولت میں کہیں زیادہ ہوں اور قبیلہ و خاندان کے لحاظ سے (بھی) زیادہ باعزت ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس کے لیے بہت سا پھل تھا تو اس نے اپنے ساتھی سے، جب اس سے باتیں کررہا تھا، کہا میں تجھ سے مال میں زیادہ اور نفری کے لحاظ سے زیادہ باعزت ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اسے ان درختوں کا پھل ملتا رہا تو (ایک دن) وہ گفتگو کے دوران اپنے ساتھی سے کہنے لگا : میں تجھ سے مالدار بھی زیادہ ہوں اور افرادی قوت بھی زیادہ رکھتا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس کے پھلوں کا موسم ہوا تو اس نے اپنے ساتھ سے بحث کرتے ہوئے کہا، میں تم سے مال میں بھی زیادہ اور تعداد کے اعتبار سے بھی زیادہ طاقت ور ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کا کچھ اور بھی مال تھا تو (ایک مرتبہ ترنگ میں آکر) وہ اپنے ساتھی سے بات کرتے ہوئے کہنے لگا کہ میں تجھ سے مال میں بھی بہت زیادہ ہوں، اور جتھے کے اعتبار سے بھی تجھ سے کہیں زیادہ طاقتور ہوں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس (شخص) کے پاس (اور بھی) تمول تھا۔ سو اس نے اپنے (اس) ساتھی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور مجمع میں بھی غالب۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس کے لیے پھل بھی تھا تو کہا اس نے اپنے ساتھی سے اور وہ آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ میں تم سے بہت زیادہ ہوں مال میں اور بہت بڑھا ہوا ہوں نفری میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس طرح اس آدمی کو ان کی پیداوار ملتی رہتی تھی۔ تو ایک دن جب وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا ”میں تم سے مال و دولت میں بھی زیادہ ہوں اور جمعیت کے لحاظ سے بھی تم سے زیادہ عزت والا ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

so the owner had fruit in abundance and he said to his neighbour, while conversing with him: "I have greater wealth than you and I am stronger than you in numbers."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And he had wealth. So, he said to his companion while conversing with him, :I am greater than you in wealth and stronger in manpower.

— Muhammad Taqi Usmani

And he had wealth. So, he said to his companion while conversing with him, :I am greater than you in wealth and stronger in manpower.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he had Thamar, and he said to his companion in the course of discussion: "I am greater than you in wealth and have a mightier entourage."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he had fruit. And he said unto his comrade, when he spake with him: I am more than thee in wealth, and stronger in respect of men.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he had fruit, so he said to his companion while he was conversing with him, "I am greater than you in wealth and mightier in [numbers of] men."

— Saheeh International

Both gardens would yield fruits to their fullest capacity. Whatever was produced belonged to him. To his friend he exclaimed, "I have more wealth and greater man-power than you."

— Muhammad Sarwar

And he possessed much wealth; so he said to his companion, while he disputed with him: I have greater wealth than you, and am mightier in followers.

— Muhammad Habib Shakir

And he had property. Then he Said unto his fellow while he spake with him: I am more than thou in substance and am mightier in respect of retinue.

— Abdul Majid Daryabadi

(Abundant) was the produce this man had: he said to his companion, in the course of a mutual argument: "more wealth have I than you, and more honour and power in (my following of) men."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–36

فخر و غرور چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھر پور، کسی قسم کا نقصان نہیں ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت ثمر بھی ہے یہ جمع ہے ثمرۃ کی جیسے خشبہ کی جمع خشب۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں، تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں ایک فاجر شخص کی تمنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 32–34

سورة الْكَهْف 36 اس مثال کی مناسبت سمجھنے کے لیے پچھلے رکوع کی وہ آیت نگاہ میں رہنی چاہیے جس میں مکہ کے متکبر سرداروں کی اس بات کا جواب دیا گیا تھا کہ ہم غریب مسلمانوں کے ساتھ آکر نہیں بیٹھ سکتے، انہیں ہٹا دیا جائے تو ہم آکر سنیں گے کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو۔ اس مقام پر وہ مثال بھی نگاہ میں رہے جو سورة القلم، آیات 17 تا 33 میں بیان فرمائی گئی ہے۔ نیز سورة مریم، آیات 73، 74۔ سورة المومنون، آیات 55 تا 61۔ سورة سبا، آیات 34 تا 36، اور حٰمٰ سجدہ، آیات 49۔ 50 پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–39

معارف و مسائل وَّكَانَ لَهٗ ثَمَــــرٌ لفظ ثمر درختوں کے پھل کو بھی کہا جاتا ہے، اور مطلق مال و زر کو بھی، اس جگہ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ سے یہی دوسرے معنی میں منقول ہیں (ابن کثیر) قاموس میں ہے کی لفظ ثمرہ درخت کے پھل اور انواع مال وزر سب کو کہا جاتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس کے پاس صرف باغات اور کھیت ہی نہیں بلکہ سونا چاندی اور تمام اسباب عیش دوسرے بھی موجود تھے، خود اس کے الفاظ میں جو قرآن نے نقل کئے اس میں اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا بھی اسی مفہوم کو ادا کرتے ہیں (ابن کثیر) مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰه شعب الایمان میں حضرت انس ؓ کی روایت سے مذکور ہے کہ رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنْكَ مَالا وَأَعَزُّ نَفَرًا نعت پا کرنا شکری : اب یہ بتایا کہ اس نعمت کو پا کر اس نعمت والے نے رویہ کیا اختیار کیا۔ ہونا تو یہ تھا کہ اس کا بال بال اس رب کا شکر گزار ہوتا جس نے اس کو یہ نعمت بخشی لیکن ہوا یہ کہ جب اس کے ساتھی نے اس کو خدا کا شکر گزارو فرمانبردار بندہ بننے کی نصیحت کی اور ناشکری کے انجام اور خدا کے قہر و غضب سے ڈرایا تو اس نے بحث شروع کردی کہ بتاؤ تمہارا حال اچھا ہے یا میرا ؟ میں مال بھی تم سے زیادہ اور میری جمعیت بھی تہاری جمعیت سے قوی، تو تم مجھے کیا ڈراتے ہو ؟ مجھے جو کچھ حاصل ہے یہ خود اس امر کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 34–35

34۔ 1 یعنی باغوں کے مالک نے، جو کافر تھا، اپنے ساتھیوں سے کہا جو مومن تھا۔ 34۔ 2 نَفَر (جتھے) سے مراد اولاد اور نوکر چاکر ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–44

24: آیت نمبر 28 میں کافر سرداروں کے اس تکبر کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ غریب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک ایسا واقعہ بیان فرما رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال و دولت کی زیادتی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر کوئی شخص اترائے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ مضبوط نہ ہو تو بڑے بڑے مال دار لوگ انجام کار ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صحیح ہو تو غریب لوگ ان سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ جن دو آدمیوں کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے ان کی کوئی تفصیل کسی مستند مرفوع روایت میں موجود نہیں ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے کچھ روایتوں کی بنیاد پر یہ کہا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

پھر وہ اپنے اس رفیق کو لے کر ایک باغ میں پھرتا ہے۔ اس کا دل خوشی سے جوش میں آتا ہے۔ اب یہ سخت غرور کی حالت میں داخل ہوتا ہے ، اللہ کو اس نے پوری طرح بھلا دیا۔ اس کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہے کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر بجا لانا بھی ضروری ہے اور اس کے دل میں یہ خیال آگیا کہ یہ باغات کبھی بھی نیست و نابود نہ ہوں۔ اس نے قیام قیامت کو بالکل بھلا دیا اور اس کا صاف صاف انکار کردیا۔ پھر اس نے قیام قیامت کا سرے سے انکار کردیا۔ چلو اگر قیامت قائم بھی ہوجائے تو وہاں بھی اس کے ساتھی ترجیحی سلو اور عزت کا معاملہ ہوگا۔ اس دنیا میں دو باغات کا مالک نہیں ہے ، لہٰذا لازمی ہے کہ وہاں بھی اسے یہ سہولتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جو خرچ کیا یا کمائی کی اس کا پھل خوب ملا۔ اور ہر قسم کے سامان عیش و رفاہیت جمع ہوگئے نکاح کیا تو اس کا پھل بھی اچھا پایا اولاد کثرت سے ہوئی۔ 8 یعنی مال و دولت اور جتھا میرے پاس تجھ سے کہیں زائد ہے۔ اگر میں مشرکانہ اطوار اختیار کرنے میں باطل پر ہوتا تو اس قدر آسائش اور فراخی کیوں ملتی۔ اس کے مشرک ہونے کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ آفت آنے کے بعد پچتا کر کہتا تھا (يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّيْٓ اَحَدًا) 18 ۔ الکہف :42) معلوم ہوتا ہے کہ اس کا غریب ساتھی جو پکا موحد تھا شرک کے باطل ہونے کا اظہار اور شرک سے تائب ہونے کی نصیحت کر رہا ہوگا۔ جس کے جواب میں یہ کہا کہ میں تجھ سے مال میں، جتھے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 34 وَّكَانَ لَهٗ ثَمَــــرٌ اس کا ایک مفہوم تو یہی ہے کہ جب ان دونوں کا آپس میں مکالمہ ہو رہا تھا اس وقت وہ دونوں باغات پھلوں سے خوب لدے ہوئے تھے جبکہ دوسرا مفہوم جو میرے نزدیک راجح ہے یہ ہے کہ اس شخص کو اللہ نے اولاد بھی خوب دے رکھی تھی۔ اس لیے کہ انسان کے لیے اس کی اولاد کی وہی حیثیت ہے جو کسی درخت کے لیے اس کے پھل کی ہوتی ہے۔ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗٓ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا یہاں جس فخر سے اس شخص نے اپنی نفری کا ذکر کیا ہے اس کے اس انداز سے تو وَّکَانَ لَہٗ ثَمَرٌ کا یہی ترجمہ بہتر محسوس ہوتا ہے کہ اس شخص کو اولاد خصوصاً بیٹوں سے بھی نوازا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 32–34

34 ایک مال دار کافر اور غریب مومن کے طرز عمل کا موازنہ :۔ یہ مثال دراصل ان قریشی سرداروں پر منطبق ہوتی ہے جنہوں نے رسول اللہ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ کسی وقت ان مسکینوں کو اپنی مجالس سے اٹھا دیں تو ہم اطمینان سے آپ کی باتیں سنیں۔ اس مثال میں جن دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کافر و مشرک تھا۔ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور مالدار اور صاحب جائداد تھا جیسا کہ قریشی سردار تھے، دوسرا توحید پرست تھا، مومن تھا اللہ پر بھروسہ رکھنے والا تھا لیکن غریب اور مفلس تھا جیسا کہ صحابہ کرام ؓ تھے جن کے متعلق قریشی سرداروں نے آپ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آپ انھیں اپنی مجلس سے ہٹا دیں۔ رہی یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–34

51۔ باغ بھی ایسے کہ پوری پوری فصل دینے والے، کسی میں کوئی نقصان اور کمی نہیں اور پڑوس میں دریا۔ کھیتی کی سرسبزی اور باغ کی شادابی کے سامان ہر طرح کے بہ افراط اور عام دولتمندی اس پر مستزاد۔ مادی فراغت وخوش نصیبی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی۔ (آیت) ” ثمر “۔ ثمر کے معنی علاوہ اپنے مشہور معنی کے، دولت کے بھی ہیں۔ ویکنی بہ عن المال المستفاد (راغب) ومن المخار الثمر انواع المال (تاج) اور یونہی معنی یہاں مراد ہیں۔ اے انواع من المال من ثمر اذا کثر (کشاف) عن مجاھد الذھب والفضۃ اے کان لہ مع الجنتین اشیاء من لمنقود (کبیر۔ عن مجاہد) یراد بھما الذھب والفضۃ خاصۃ (بحر۔ عن مجاہد) 52۔ (درآنحالیکہ تو توحید کا قائل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–38

آیت نمبر 32 تا 38 ترجمہ : اور حال بیان کیجئے ان کافروں اور مومنوں کے لئے ان دو شخصوں کا رجلین مثلاً سے بدل ہے رجُلَین اور اس کا مابعد مثلاً کی تفسیر ہے ان دو میں سے ایک کو جو کافر تھا انگور کے دو باغ دئیے تھے اور ہم نے دونوں باغوں کا کھجوروں کے درختوں کے ذریعہ احاطہ کردیا تھا اور ان کے بیچ بیچ میں کھیتی بھی اگائی تھی جس کے ذریعہ غذا حاصل کی جاتی تھی دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے اس میں بالکل کمی نہیں کرتے تھے کِلتَا لفظ کے اعتبار سے مفرد ہے (مگر معنی کے اعتبار سے) تثنیہ پر دلالت کرتا ہے اور کلتا مبتدا ہے اور آتت اس کی خبر ہے اور ہم نے ان دونوں باغوں کے درمیان نہریں جاری کر رکھی تھیں اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکان لہ ثمر اور اس شخص کے پاس اور بھی تمول کا سامان تھا۔ فَجَّرْنَا یعنی زمین سے چشمے نکال کر بہا دیئے تاکہ باغوں میں تروتازگی اور شادابی باقی رہے لَہٗ ثَمَرٌازہری نے کہا ثَمَرۃٌکی جمع ثَمَرٌاور ثَمِرَ کی ثِمَارٌ اور ثمارٌ کی ثمرٌ۔ قاموس میں ہے کہ ثمرۃ ‘ درخت کے پھل اور مختلف انواع کا مال ‘ ثَمَرَۃٌ اور ثَمَرَۃٌ واحد ہے اس کی جمع ثِمَارٌ ہے اور ثِمَارٌ کی جمع ثمر اور ثمر کی اثمار۔ سونے چاندی ‘ مویشی اور اولاد کو بھی ثمرۃ کہا جاتا ہے۔ مذکورہ آیت کا مطلب بعض اہل علم نے یہ بیان کیا ہے کہ دو باغوں کے مالک کے پاس باغوں کے علاوہ اور بھی طرح طرح کا بکثرت مال تھا ثمر مالہ ‘ اس کا مال بہت ہوگیا۔ مجاہد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–43

(32۔ 43) آپ اہل مکہ کے سامنے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے کہ بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے ایک مومن جس کا نام یہودا اور دوسرا کافر جس کا نام ابو فطروس تھا۔ کافر کو دو باغ ہم نے انگوروں کے دے رکھے تھے اور ان دونوں باغوں کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنارکھا تھا اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی۔ دونوں باغ ہر سال اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں نہر چلا رکھی تھی اور اس کے پاس باغ کا پھل تھا اور بھی تمول کا سامان تھا چناچہ ایک دن وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اپنے مال پر فخر کرتا ہوا کہنے لگا کہ میرا مال بھی تجھ سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّكَانَ لَهٗ ثَمَــــرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ۔۔ : ”ثِمَرٌ“ کی تنوین تکثیر کے لیے ہے، یعنی اس کے علاوہ بھی اس کے پاس بہت سا پھل تھا یا بہت نفع تھا، کیونکہ نفع کو بھی ثمر کہہ لیتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد اولاد لی ہے کہ کھیتوں اور باغوں کے علاوہ اس کی اولاد بھی بہت تھی۔ اس کی دلیل آگے مومن کا قول ہے : (اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّوَلَدًا) [ الکہف : 39 ] ”اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم تر ہوں۔“ دوسرا آدمی مومن تھا مگر نادار تھا، اب اس کافر نے فخر سے گفتگو کرتے ہوئے اسے کہا، میرے پاس تم سے مال بھی زیادہ ہے اور آدمی بھی، یعنی اولاد، نوکر چاکر اور دوست۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–34

آیت نمبر 32 تا 34 قولہ تعالیٰ : واضرب لھم مثلا رجلین یہ مثال ہے اس آدمی کیلئے جو دنیا کے ساتھ عزت حاصل کرتا ہے اور مومنین کے ساتھ بیٹھنا ناپسند کرتا ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : واصبر نفسک کے ساتھ متصل ہے۔ اور ان دونوں آدمیوں کے نام اور ان کی تعیین میں اختلاف ہے، پس کلبی (رح) نے کہا ہے : یہ اہل مکہ میں سے دو مخزومی بھائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، ان میں سے ایک مومن تھا اور وہ حضرت ابو سلمہ عبد اللہ بن عبد الاسد بن ہلال بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم تھے۔ ام سلمہ کے خاوند نے حضور نبی مکرم ﷺ کی رسالت کو قبول کرلیا تھا۔ اور دوسرا کافر تھا اور وہ اسود بن عبد الاسد تھا، ان دونوں بھائیوں کا ذکر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–37

ایک مومن و کافر کا مکالمہ : 1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” جعلنا لاحدھما جنتین من اعناب “ کے بارے میں روایت کیا کہ جنت سے مراد باغ ہے اسی کا ایک باغ اور ایک دیوار تھی اور ان کے درمیان ایک نہر تھی اس لئے دو باغ فرمایا اور دیوار سے ایک ہونے کی وجہ سے ایک باغ فرمایا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن ابوعمر والشیبانی (رح) سے روایت کیا کہ نہرابی فرطس ان دو باغوں کی نہر تھی ابن ابی حاتم نے فرمایا وہ رملہ کی مشہور نہر ہے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” اتت اکلھا ولم تظلم منہ شیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا پھل کبھی ختم نہ ہوتا تھا باغ کے ہر درخت کا پھل کھایا جاتا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّكَان : اور تھا ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [ثَمَــــرٌ: ایک پھل ] [فَقَالَ : تو اس نے کہا ] [لِصَاحِبِهٖ : اپنے ساتھی سے ] [وَ : اس حال میں کہ ] [هُوَ : وہ ] [يُحَاوِرُهٗٓ: گفتگو کر رہا تھا اس سے ] [انا : میں ] [اَكْثَرُ : زیادہ کثرت والا ہوں ] [مِنْكَ : تجھ سے ] [مَالًا : بلحاظ مال کے ] [وَّاَعَزُّ : اور زیادہ عزت والا ہوں ] [نَفَرًا : بلحاظ نفری (یعنی افرادی قوت) کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 32–44

عبرت کے لیے دو شخصوں کی مثال، ان میں ایک باغ والا اور دوسرا غریب تھا ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں ایک باغ والے کافر و مشرک اور دوسرے مومن موحد کی گفتگو نقل فرمائی ہے۔ علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 161 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیات اہل مکہ میں سے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئیں دونوں بنی مخزوم میں سے تھے۔ ایک تو حضرت ابو سلمہ ؓ تھے جو رسول اللہ ﷺ سے پہلے حضرت ام سلمہ ؓ کے شوہر تھے اور دوسرا شخص جو کافر تھا وہ اسود بن عبد الاسد تھا یہ ایک قول ہے۔ دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں سے دو شخصوں کا ہے جو آپس میں دونوں بھائی تھے ایک مومن تھا اور ایک کافر تھا اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–44

بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی مثال قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا رجلین .... الیٰ ۔۔۔۔ ھو خری ثوابا وخیر عقبا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی اس درخواست کو رد فرمایا جو اپنے مال و دولت کے نشہ میں چور تھے اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس کرتے تھے اور اپنے مال و دولت پر فخر محسوس کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں تو آپ ان دو ویشان اسلام اور فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کریں اب ان آیات میں ان متکبرین کے سنانے کیلئے اور دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری بتلانے کے لئے بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی ایک مثال ذکر فرماتے ہیں جن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

43:۔ باغوں اور کھیتوں کا محل وقوع، حسن ترتیب اور زمینوں کی زرخیزی بیان کرنے کے بعد ان کے مالک کا غرور و استکبار بیان فرمایا کہ کس طرح وہ اپنے باغوں اور کھیتوں کی شادابی اور اپنی نفی پر غرور کرتا اور اپنے غریب اور مومن بھائی کو کس قدر ذلیل و حقیر سمجھتا تھا۔ ” انا اکثر منک الخ “۔ قطروس مشرک نے فخر و غرور سے کہا کہ میرے پاس تم سے دولت بھی زیادہ ہے اور میرے اعوان وانصار بھی طاقت ور ہیں۔ ” ظالم لنفسہ “ وہ شرک اور غرور کر کے اپنی جان پر ظلم کر رہا تھا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–36

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ بیان فرمایا ، پھر وحی الہی کی قطعیت کو بیان فرما کر اس کے اتباع کا حکم دیا ، کافر ، مشرک ، مشرک مغرور اور متکبر لوگوں کا رد فرمایا کمزور ایمانداروں کو حقیر سمجھنے والوں کی مذمت کی اور پیغمبر اسلام کو حکم دیا کہ آپ ان لوگوں کا رد فرمایا کمزور ایمانداروں کو حقیر سمجھنے والوں مذمت کو مذمت کی اور پیغمبر اسلام کو حکم دیا کہ آپ ان لوگوں کی مجلس اختیار کریں جو صبح اور پچھلے پہر اپنے پروردگار کو یاد کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے طالب ہیں ، فرمایا ان پر اپنی نگاہ شفقت رکھیں ، آپ ان لوگوں کی بات نہ مانیں جنہیں اللہ نے اپنی یاد سے غافل پایا ہے ، جو اپنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّكَانَ لَہٗ ثَمَــــرٌ۝ 0ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِہٖ وَہُوَيُحَاوِرُہٗٓ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا۝ 34 ثمر الثَّمَرُ اسم لكلّ ما يتطعم من أحمال الشجر، الواحدة ثَمَرَة، والجمع : ثِمَار وثَمَرَات، کقوله تعالی: أَنْزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَراتِ رِزْقاً لَكُمْ [ البقرة/ 22] ( ث م ر ) الثمر اصل میں درخت کے ان اجزاء کو کہتے ہیں جن کو کھایا جاسکے اس کا واحد ثمرۃ اور جمع ثمار وثمرات آتی ہے قرآن میں ہے :۔ أَنْزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَراتِ رِزْقاً لَكُمْ [ البقرة/ 22] اور آسمان سے مبینہ پرسا کر تمہارے کھانے کے لئے انواع و اقسام کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–44

تفسیر …دو شخصوں کا قصہ بطور مثال کے : پھر دنیا کی بےثباتی اور اس کے اسباب و تجمل پر غرور کر کے خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور الحاد کا بدنتیجہ جو کبھی دنیا ہی پر ظاہر ہوتا ہے دو شخصوں کی تمثیل سے بیان فرمایا۔ بعض کہتے ہیں یہ صرف ایک تمثیل ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ دراصل ایسے دو شخص تھے بھی کہ جن کا یہ واقعہ ہے پھر بعض کہتے ہیں کہ یہ دو شخص بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے کہ ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کیا تھا دوسرا دنیادار اور مشرک اور دارآخرت کا منکر تھا۔ اس نے دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے تھے کہ ان میں نہر بھی جاری تھی اور بیچ میں انگور اور آس پاس کھجور کے درخت بھی تھے اور وقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَّکَانَ لَـہٗ ثَمَرٌ ج فَـقَالَ لِصَاحِبِہٖ وَھُوَیُحَاوِرُہٗٓ اَنَا اَکْثَرُ مِنْکَ مَالاً وَّ اَعَزُّ نَفَرًا۔ (الکہف : 34) (اور اس شخص کے اور بھی اموال تھے تو (ایک روز) اس نے اپنے ساتھی سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ میں مال میں بھی تم سے زیادہ ہوں اور تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ طاقتور ہوں۔ ) ثمر کا مفہوم وَّکَانَ لَـہٗ ثَمَرٌ … اس کا ایک ترجمہ یہ کیا گیا ہے اور اس کے پھلوں کا موسم ہوا تو۔ اور دوسرا ترجمہ وہ ہے جو ہم نے کیا ہے۔ یہ دونوں ترجمے یقینا صحیح ہیں۔ البتہ آیت کا دوسرا جملہ اَنَا اَکْثَرُ مِنْکَ مَالاً دوسرے ترجمے کو تقویت دے رہا ہے کہ اسے اپنے باغ کی سرسبزی اور شادابی پر تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–36

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں اور جنتیوں کے ذکر سے پہلے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے حوالے سے مومنوں کو سمجھایا گیا کہ وہ دنیا پرست لوگوں کے پیچھے لگنے سے بچیں۔ اب نیک اور دنیا دار کی مثال پیش فرما کر دونوں کے کردار اور انجام کا فرق بیان کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! لوگوں کے سامنے دو آدمیوں کا واقعہ بیان کریں۔ جن میں ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ عنایت فرمائے اور ان کی حفاظت کھجور کے درختوں کے ساتھ کی اور ان کے درمیان فصل پیدا کی باغوں کو سیراب کرنے کے لیے ان کے درمیان نہریں جاری کیں۔ یہ باغ بھر پور طریقے سے پھل دیتے تھے ان کی پیداوار میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہوتی۔ اس مثال میں بیک وقت دو باتیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

34: وَّکَانَ لَہٗ (اور اس کیلئے) یعنی باغ والے کیلئے ثَمَرٌَ (مالداری کا ذریعہ) انواع و اقسام کا مال یہ ثمر مالہ کہا جاتا ہے جبکہ اس کو بڑھائے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دونوں باغوں کے مالک کے پاس بہت سا مال سونا، چاندی وغیرہ کی قسم میں سے تھا۔ قراءت : لہ ثمر وَاُحِیْطُ بِثَمَرِہٖ عاصم نے فتحہ ثاومیم سے پڑھا۔ اور ابو عمرو نے ثاؔ کے ضمہ اور سکون میم کے ساتھ۔ اور دیگر قراء نے ثاومیم ہر دو کے ضمہ کے ساتھ پڑھا۔ امیر کا قول : فَقَالَ لِصَاحِبِہٖ وَھُوَ یُحَاوِرُہٗ (اس نے اپنے ساتھی کو کہا اس حال میں کہ وہ اس سے گفتگو کررہا تھا) یُحَاوِرُ کا معنی بات کو لوٹانا۔ یہ حَارَ یَحُوْرُ سے ہے۔ جبکہ وہ لوٹے۔ قطر وس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 34 ۔ ” وکان لہ “ اور اس کے ساتھی کے پاس باغ تھے۔ (ثمر) عاصم اور ابوجعفر اور یعقوب کے نزدیک ثاء کے فتحہ اور میم کے فتحہ کے ساتھ۔ ابوعمرو نے ثاء کے ضمہ اور میم کے ساکن کے ساتھ اور دوسرے قراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ثمرہ کے مصداق میں ائمہ مفسرین کے اقوال جمع ثمرۃ ہے اور اس سے مراد وہ پھل ہیں جو کھائے جاتے ہیں اور جن لوگوں نے ثمر پڑھا ہے ان کے نزدیک طرح طرح کا کثیر مال مراد ہوگا اور جنہوں نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ان کے نزدیک مال کثیرہ سے مراد ہر قسم کے اموال ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ ثمر سے مراد سونا چاندی ہے اور بعض نے کہا کہ تمام پھل مراد ہیں۔ ازہری کا قول ہے کہ پھل جو تمام پھلوں کا مجموعہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–44

32۔ 44:۔ اوپر ان مالدار مشرکین مکہ کا ذکر تھا جو غریب مسکین مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے سے گھبراتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کہاوت بیان کی کہ دو مرد تھے ایک کے دو باغ تھے انگور اور کھجور کے جن کے درمیان میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ ہر طرح کے درخت اور پھل پھول اور میوے پیدا ہوتے تھے ولم تظلم منہ شیئا سے اسی مطلب کو ادا فرمایا ہے۔ پھر فرمایا ان باغوں میں نہریں جاری تھیں پھر فرمایا اس باغ والے نے اپنے دوسرے بھائی سے بطور فخر کے کہا کہ میں تجھ سے مال واولاد اور خدمت گاروں میں زیادہ عزت والا ہوں اور وہ اپنی باغ میں اپنے بھائی کا بھی ہاتھ پکڑ کر میں قیامت کے قائم ہونے کا خیال نہیں رکھتا اور اگر بالفرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 34–36

(آیت نمبر (34: ان باغوں کے مالک نے اپنے صاحب ایمان ساتھی سے نہایت فخر سے کہا جبکہ وہ دونوں روز مرہ کے بعض معاملات میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے تھے : ( انا اکثر منک ما لا و اعز نفرا) ” میرے پاس تجھ سے زیادہ مال ہے اور زیادہ آبرو والے لوگ “ اس نے اپنے مال کی کثرت اور اپنے اعوان و انصار ‘ یعنی اپنے غلام و خدام اور عزیز و اقارب کی طاقت پر فخر کا اظہار کیا۔ یہ اس کی جہالت تھی ورنہ ایک ایسے خارجی امر میں کون سی فخر کی بات ہے جس میں کوئی نفسی فضیلت ہے نہ معنوی صفت۔ یہ تو ایک بچے کا سا فخر ہے جو محض اپنی آرزوں پر فخر کرتا ہے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ پھر اس نے صرف اپنے ساتھی پر فخر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–38

غار میں اصحاب کہف کی مدت قیام قول باری ہے (ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ سنین وازدادواتسعاً ) اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں) قتادہ سے مروی ہے یہ یہود کے قول کی حکایت ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (قل اللہ اعلم بما لبثوا تم کہو اللہ ان کے قایم کی مدت زیادہ جانتا ہے ) مجاہد، ضحاک اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ غار میں ان کے قیام کی مدت اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اگر اہل کتاب اس معاملے میں تم سے بحث کرنے پر اتر آئیں تو ان سے کہہ دو ۔ اللہ ان کے قیام کی مدت کو زیادہ جانتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 34–35

66۔ اور اس کیلئے اور مال بھی تھا :۔ یعنی اس شخص کے پاس ان دو باغوں کے علاوہ اور کبھی کئی طرح کا مال تھا اور ثمر کا اطلاق مال پر بھی ہوتا ہے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے پاس انگوروں اور کھجوروں کے علاوہ اور بھی طرح طرح کے پھل تھے۔ حضرات مفسرین کرام نے دونوں مطلب بیان کئے ہیں۔ (روح، ابن کثیر، مراغی، محاسن، وغیرہ ) ۔ بہرکیف اپنے اس مال ودولت کی کثرت کی بناء پر اس شخص نے اپنے ساتھی سے کہا کہ میں تم سے کہیں بہتر ہوں۔ سو رب تعالیٰ کی ایسی نعمتوں کا تقاضا تو یہ تھا کہ ایسا شخص اپنے رب کے حضور سراپا شکروسپاس بن جاتا اور اپنے ہر بن مو سے اس واہب مطلق کا شکرادا کرتا۔ اور اس طرح وہ نعمت اس کے لئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–46

سبق آموز کہانی اور نیکیوں کا بدلہ تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی حاکمیت، قدرت کاملہ اور وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر انسان کو روزی رزق دیتا ہے تو انسان کا فرض ہے اس کی نعمتوں کو حاصل کر کے فخر و غرور نہ کرے اور اس قدر بدمست نہ ہوجائے کہ اللہ کے وجود اور قیامت کا انکار کردے اور نعمتوں کا شکر ہی ادا نہ کرے اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگے۔ یہ سب انسانیت کے خلاف اور برے رویے ہیں ہمارا مذہب اسلام ان تمام اخلاقی برائیوں سے منع کرتا ہے، یعنی کسی کو حقیر سمجھنا اور شکر الٰہی ادا نہ کرنا۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی نعمت یا خوبصورت چیز کو دیکھو یا کامیابی حاصل کرو تو اس کو دیکھ کر ماشَائَ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–44

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف دنیا میں بھی یہی مثالیں موجود ہیں جو اقوام کے حالات میں بھی نظر آتی ہیں اور افراد کے حالات میں بھی آپ انہیں ان دو آدمیوں کی مثال دیجئے جو دونوں دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو ہم نے زیادہ مالدار کردیا ، اس کے انگوروں کے باغات تھے جن کے گردا گرد کے درخت اور درمیان میں زرعی زمین تھی یعنی کھجوریں پھل اور غلہ جیسی سب نعمتیں بیک وقت ان باغوں سے حاصل ہوتیں ، اور وہ پورا پورا پھل دیتے کبھی ان میں کمی نہ آتی تھی ، ان باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کردی تھی جس کے سبب وہ ہمیشہ سرسبز رہتے اور ہر موسم کا پھل بہتات سے حاصل ہوتی ، جبکہ دوسرا دوست ایسا مالدار نہ تھا ، ایک روز باتوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 33–34

ف 4 یعنی میں تم سے زیادہ مالدار بھی ہوں اور میرے نوکر چاکر بھی تم سے بڑھ کر ہیں۔ القصہ اس کافر نے اپنے جاہ و مال کے بھروسہ پر مومن بھائی کے مقابلے میں فخر کیا اور اسے اپنے باغات کا مشاہدہ کرانے کے لئے ساتھ لے چلا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:34) ثمر۔ بمعنی مال و دولت۔ (انواع و اقسام کا دیگر مال) ۔ یح اور۔ ح اور یح اور محاورۃ (مفاعلۃ) وہ گفتگو کر رہا تھا۔ وہ جواب دے رہا تھا۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اعز۔ زیادہ زور والا۔ زیادہ عزت والا۔ عز سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ نفرا۔ اسم جمع منصوب۔ جماعت۔ کنبہ۔ خاندان۔ کثرت انصار واولاد نفری کے لحاظ سے مالا ونفرا تمیز ہیں۔ اکثر اور اعز کی

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–36

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 34 اضرب بیان کر، مار۔ رجلین (رجل) مردوں، دو آدمی۔ اعناب (عنب) انگور۔ حففنا ہم نے گھیر لیا۔ محفوظ کرلیا۔ نخل کھجور۔ زرع کھیتی۔ کلتا دونوں۔ اکل پھل۔ لم تظلم کم نہیں کیا۔ فجرنا ہم نے بہا دیا۔ یح اور بات چیت کرتا ہے۔ اعز میں زیادہ عزت والا ہوں۔ نفر لوگ، جماعت۔ تبید اجڑ جائے گا۔ الساعۃ قیامت، گھڑی۔ رددت میں لوٹایا گیا۔ منقلب (بہترین) جگہ لوٹنے کی۔ تشریح : آیت نمبر 32 تا 34 کفار مکہ کے اس مطالبہ کا ذکر گزشتہ آیات میں کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ اے نبی ﷺ ہم آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں مگر جب ہم یہ دیھکتے ہیں کہی آپ کے پاس ہمارے معاشرہ کے وہ غریب اور بدحال لوگ بیٹھے ہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–38

اور اس کافر کے ہاں ہر قسم کا میوہ بھی ہوتا تھا ۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ قطروس نے اپنے مسلمان بھائی کو بہت ملامت کی اور کہا کہ میرا تمہارا روپیہ تو برابر تھا میں نے تو یہ باغ اور جائداد پیدا کی میرے ہاں غلام اور نوکر چاکر ہیں، تم مفلس اور پریشان ہوگئے۔ یہودا نے جواب دیا کہ بھائی اس مال سے تم نے دنیا کے باغ مول لئے اور میں نے جنت کے باغ، تم نے دنیا میں گھر بنایا میں نے جنت میں تم نے اپنی شادی کی میں نے اپنی حور عین کا مہر ادا کیا، تم نے لونڈی اور غلام اور نوکر چاکر جمع کئے، میں نے غلمان کی طلب کی قطروس نے اسے بہت ملامت کی اور یہ بات کہی کہ تم بہت بیوقوف ہو تم نے زرنقد کو ایک وعدہ کے بھروسہ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–41

[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–35

(ف 1) جو لوگ دنیا میں اسلام کی وجہ سے فاخرانہ زندگی کو ترک کردیتے ہیں اور اسلام کے اصول کو بلند کرتے رہتے ہیں ، اخروی زندگی میں انہیں تمام ان چیزوں سے بہرہ ور کیا جائے گا ، جن کا تعلق انتہائی اعزاز وفخر سے ہے ۔ جن کے لبادے یہاں بوسیدہ ، اور دریدہ ہیں ، انہیں ابریشم وقاتم دیا جائے گا پہننے کے لئے زیور ہوں گے اور ٹھاٹ کی زندگی ہوگی ، تاکہ انکو معلوم ہو کہ اللہ نے تحفہ اعمال کو قبول فرما لیا ہے ۔ حل لغات : حففنہما : ان کے گردا گرد حف سے ہے ، جن کے معنی گھیرنے اور کسی شئے کے احاطہ کرلینے کے ہیں ۔ یحاورہ : محاورہ کے معنے باہم گفتگو کرنا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-34 اور اس کے پاس اور بھی بہت سے پھل تھے پھر اس مالدار مگر بد دین نے اپنے دوسرے ساتھی سیب اتیں کرتے کہا میں تجھ سے مال میں بھی بڑھا ہوا ہوں۔ میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے کے اعتبار سے بھی میں تجھ سے زیادہ عزت دار اور غلبہ والا ہوں۔ یعنی ان باغوں میں علاوہ کھجور اور انگور کے اور پھل بھی تھے یا یہ مطلب کہ پھلوں کے علاوہ آمدنی کے اور بھی ذرائع تھے اور اقسام مال میں سے اور بھی انواع مال اس کے پاس تھے۔ بہرحال دوران گفتگو میں اس اپنے دین دار ساتھی سے کہنے لگا کہ تو میرے طریقے کو ناپسند کرتا ہے اور اپنے طریقہ کو اچھا کہتا ہے لیکن دیکھ اگر تیرا طریقہ اچھا ہوتا تو تیری حالت اچھی ہوتی اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 31–34

ف 5۔ یہ جو فرمایا کہ سبز لباس ہوگا اس سے حصر مقصود نہیں کیونکہ آیات میں مصرح ہے کہ جس چیز کو جی چاہے گا وہ ملے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

خوش حال نے تنگ دست مومن سے کہا کہ بھلا میرا اور تمہارا معاملہ کیا ہے ؟ : 37۔ خوشحال دوست نے تنگ دست سے کہا کہ دیکھو میرا مال اور دولت اور یہ میرے باغات اور نوکر چاکر اور خدمت گزار ہیں اور میں ان کو جس کام پر لگانا چاہتا ہوں اشارہ کرتا ہوں تو وہ منٹوں میں اس کو کردیتے ہیں اور میرے پاس ہر وقت چوکس و تیار کھڑے رہتے ہیں میرے منہ سے بات نکلتی ہے کہ وہ فورا حکم بجا لاتے ہیں اور میرے باغات کے پھلوں کو توڑتے اور منڈیوں میں پہنچاتے ہیں اور ہر طرح سے ان کی نگہبانی کرتے ہیں اور تو ہے کہ ہر وقت مسجد میں گھسا رہتا ہے اور کوئی کام وام کرنے کی تیار نہیں اور تیری بات سننے کو کوئی تیار نہیں ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–39

Commentary The word: ثَمَرٌ‌ (thamar) in: وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ‌ (And he had wealth - 34) means the fruit of trees as well as wealth, in an absolute sense. At this place, Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ ، Mujahid and Qatadah have taken it in the later sense (Ibn Kathir) According to the Lexicon, al-Qamus, this word is used to denote the fruit of the tree and wealth of all kinds. This tells us that not only did he own gardens and farms, he also had gold, silver and other luxuries. Even his words reported by the Qur'an: (I am greater than you in wealth -34) also express the same sense. (Ibn Kathir) About…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–34

36. In order to understand the significance of this parable we should keep in view(Ayat 28)in which arrogant chiefs of Makkah were told that the poor companions of the Prophet (peace be upon him) would not be discarded to please them.

Read the full tafseer →