Al-Kahf 18:32

Al-Kahf · from ayah 32

18:32

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّحَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّجَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًا ۟ؕوَاضۡرِبۡ لَهُمۡ مَّثَلًا رَّجُلَيۡنِ جَعَلۡنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَيۡنِ مِنۡ اَعۡنَابٍ وَّحَفَفۡنٰهُمَا بِنَخۡلٍ وَّجَعَلۡنَا بَيۡنَهُمَا زَرۡعًا

اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کئے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And present to them an example of two men: We granted to one of them two gardens of grapevines, and We bordered them with palm trees and placed between them [fields of] crops.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 5 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:32

اے محمدؐ! اِن کے سامنے ایک مثال پیش کرو دو شخص تھے ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے اور اُن کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کئے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور انہیں ان دو شخصوں کی مثال بھی سنا دے جن میں سے ایک کو ہم نے دو باغ انگوروں کے دے رکھے تھے اور جنہیں کھجوروں کے درختوں سے ہم نے گھیر رکھا تھا اور دونوں کے درمیان کھیتی لگا رکھی تھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) ان لوگوں کے سامنے ان دو آدمیوں کی مثال پیش کرو۔ جن میں سے ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دے رکھے تھے، اور ان کو کھجور کے درختوں سے گھیرا ہوا تھا، اور ان دونوں باغوں کے درمیان کھیتی لگائی ہوئی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان کے سامنے دو مردوں کا حال بیان کرو کہ ان میں ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دیے اور ان کو کھجوروں سے ڈھانپ لیا اور ان کے بیچ میں کھیتی رکھی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ ان سے ان دو شخصوں کی مثال بیان کریں جن میں سے ایک کے لئے ہم نے انگور کے دو باغات بنائے اور ہم نے ان دونوں کو تمام اَطراف سے کھجور کے درختوں کے ساتھ ڈھانپ دیا اور ہم نے ان کے درمیان (سرسبز و شاداب) کھیتیاں اگا دیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے لیے ایک مثال بیان کر، دو آدمی ہیں، جن میں سے ایک کے لیے ہم نے انگوروں کے دو باغ بنائے اور ہم نے ان دونوں کو کھجور کے درختوں سے گھیر دیا اور دونوں کے درمیان کچھ کھیتی رکھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے ان دو آدمیوں کی مثال بیان کیجئے۔ جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ عطا کئے تھے اور ان کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگائی تھی اور ان دونوں کے درمیان قابل کاشت زمین بنائی تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور دو شخصوں کی تمثیل سناؤ۔ ان میں سے ایک کے لیے ہم نے انگوروں کے دو باغ بنائے، ان کو کھجوروں کی قطار سے گھیرا اور ان کے درمیان کھیتی کے قطعات بھی رکھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بیان کرو ان (کی عبرت پذیری) کے لئے ایک مثال، کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک کو ہم نے دو باغ دئیے تھے انگوروں کے، اور گھیر دیا تھا ہم نے ان دونوں کو کھجور کی ایک عمدہ باڑ سے، اور ان دونوں کے درمیان ہم نے کھیتی (کے قابل زمین) بھی رکھ دی تھی، یہ دونوں باغ خوب پھلے پھولے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے۔ جن میں سے ایک کو ہم نے دو باغ انگور کے دے رکھے تھے اور انہیں کھجور (کے درختوں) سے گھیررکھا تھا اور ہم نے ان دونوں کے درمیان کھیتی بھی لگارکھی تھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی !) آپ بیان کیجیے ان کے لیے دو اشخاص کی مثال ان میں سے ایک کو ہم نے دیے تھے دو باغ انگوروں کے اور ان دونوں کا گھیر دیا تھا ہم نے کھجوروں کے درختوں کے ساتھ اور ہم نے ان دونوں (باغوں) کے درمیان کھیتی کا انتظام بھی کر رکھا تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان سے دو آدمیوں کا حال بیان کریں جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے تھے۔ اور ان کے گرد کھجوروں کے درخت لگا دیے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Muhammad), propound a parable to them. There were two men of whom We bestowed upon one of the two vineyards, surrounding both of them with date-palms and putting a tillage in between.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Give them an example. There were two men; We gave one of them two gardens of grapes, and surrounded both of them with date-palms, and placed vegetation between them.

— Muhammad Taqi Usmani

Give them an example. There were two men; We gave one of them two gardens of grapes, and surrounded both of them with date-palms, and placed vegetation between them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And put forward to them the example of two men: unto one of them We had given two gardens of grapes, and We had surrounded both with date palms; and had put between them green crops (cultivated fields).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Coin for them a similitude: Two men, unto one of whom We had assigned two gardens of grapes, and We had surrounded both with date-palms and had put between them tillage.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And present to them an example of two men: We granted to one of them two gardens of grapevines, and We bordered them with palm trees and placed between them [fields of] crops.

— Saheeh International

(Muhammad), tell them the parable of the two men. To one of them We had given two gardens of vines surrounded by the palm trees with a piece of farm land between them

— Muhammad Sarwar

And set forth to them a parable of two men; for one of them We made two gardens of grape vines, and We surrounded them both with palms, and in the midst of them We made cornfields.

— Muhammad Habib Shakir

Propound thou unto them the similitude of two men. We appointed to one of them two gardens of vine and hedged both with date- palms, and We placed in-between the twain tillage.

— Abdul Majid Daryabadi

Set forth to them the parable of two men: for one of them We provided two gardens of grape-vines and surrounded them with date palms; in between the two We placed corn-fields.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–36

فخر و غرور چونکہ اوپر مسکین مسلمانوں اور مالدار کافروں کا ذکر ہوا تھا یہاں ان کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے کہ دو شخص تھے جن میں سے ایک مالدار تھا، انگوروں کے باغ، اردگرد کھجوروں کے درخت، درمیان میں کھیتی، درخت پھلدار، بیلیں ہری، کھیتی سرسبز، پھل پھول بھر پور، کسی قسم کا نقصان نہیں ادھر ادھر نہریں جاری تھیں۔ اس کے پاس ہر وقت طرح طرح کی پیداوار موجود، مالدار شخص۔ اس کی دوسری قرأت ثمر بھی ہے یہ جمع ہے ثمرۃ کی جیسے خشبہ کی جمع خشب۔ الغرض اس نے ایک دن اپنے ایک دوست سے فخر و غرور کرتے ہوئے کہ میں مال میں، عزت و اولاد میں، جاہ و حشم میں، نوکر چاکر میں، تجھ سے زیادہ حیثیت والا ہوں ایک فاجر شخص کی تمنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 32–34

سورة الْكَهْف 36 اس مثال کی مناسبت سمجھنے کے لیے پچھلے رکوع کی وہ آیت نگاہ میں رہنی چاہیے جس میں مکہ کے متکبر سرداروں کی اس بات کا جواب دیا گیا تھا کہ ہم غریب مسلمانوں کے ساتھ آکر نہیں بیٹھ سکتے، انہیں ہٹا دیا جائے تو ہم آکر سنیں گے کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو۔ اس مقام پر وہ مثال بھی نگاہ میں رہے جو سورة القلم، آیات 17 تا 33 میں بیان فرمائی گئی ہے۔ نیز سورة مریم، آیات 73، 74۔ سورة المومنون، آیات 55 تا 61۔ سورة سبا، آیات 34 تا 36، اور حٰمٰ سجدہ، آیات 49۔ 50 پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–33

خلاصہ تفسیر۔ اور آپ (دنیا کی بےثباتی اور آخرت کی پائیداری ظاہر کرنے کے لئے) دو شخصوں کا حال (جن میں باہم دوستی یا قرابت کا تعلق تھا) بیان کیجئے (تا کہ کفار کا خیال باطل ہوجائے اور مسلمانوں کو تسلی ہو) ان دو شخصوں میں سے ایک کو (جو کہ بد دین تھا) ہم نے دو باغ انگور کے دے رکھے تھے اور دونوں (باغوں) کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنا رکھا تھا اور ان دونوں (باغوں) کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی (اور) دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے، اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی (بخلاف عام باغوں کے کہ کبھی کسی درخت میں اور کسی سال پورے باغ میں پھل کم آتا ہے) اور ان دونوں (باغوں) کے درمیان نہر چلا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 32 تا 44:۔ مومن اور کافر کی ذہنیت کی تمثیل : آگے دو شخصوں کی ایک تمثیل کے ذریعے سے مومن اور کافر دونون کی زہنیت واضھ فرمائی ہے کہ مومن اس دنیا کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایک کافر اس کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس تمثیل سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو کر سامنے آگئی ہے کہ جو لوگ قرآن اور نبی ﷺ کی مخالفت کررہے تھے ان کا اصل مغالطہ کیا تھا۔ وہ درحقیقت اپنی اس دنیا کی کامیابی کو اپنے فکر و عمل کی صحت و صداقت کی دلیل سمجھ بیٹھے اور جب مسلمان ان کو خدا اور آخرت سے ڈراتے تو وہ کہتے کہ جب دنیوی اعتبار سے ہمارا حال تم سے اچھا ہے تو لازماً ہمارا ہی عقیدہ اور ہمارا ہی طریقہ بھی اچھا ہے۔ پھر وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32۔ 1 مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ دو شخص کون تھے ؟ اللہ تعالیٰ نے تفہیم کے لئے بطور مثال ان کا تذکرہ کیا ہے یا واقعی دو شخص ایسے تھے ؟ اگر تھے تو یہ بنی اسرائیل میں گزرے ہیں یا اہل مکہ میں تھے، ان میں ایک مومن اور دوسرا کافر تھا۔ 33۔ 2 جس طرح چار دیواری کے ذریعے سے حفاظت کی جاتی ہے، اس طرح ان باغوں کے چاروں طرف کھجوروں کے درخت تھے، جو باڑ اور چار دیواری کا کام دیتے تھے۔ 32۔ 3 یعنی دونوں باغوں کے درمیان کھیتی تھی جن سے غلہ جات کی فصلیں حاصل کی جاتی تھیں۔ یوں دونوں باغ غلے اور میووں کے جامع تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 32–44

24: آیت نمبر 28 میں کافر سرداروں کے اس تکبر کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ غریب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک ایسا واقعہ بیان فرما رہے ہیں جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مال و دولت کی زیادتی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر کوئی شخص اترائے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ مضبوط نہ ہو تو بڑے بڑے مال دار لوگ انجام کار ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ صحیح ہو تو غریب لوگ ان سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ جن دو آدمیوں کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے ان کی کوئی تفصیل کسی مستند مرفوع روایت میں موجود نہیں ہے۔ البتہ بعض مفسرین نے کچھ روایتوں کی بنیاد پر یہ کہا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ دو باغ انگوروں سے بھرے ہوئے تھے اور ان کے اردگرد کھجوروں کی باڑھ لگی ہوئی تھی اور ان کے درمیان زرعی زمین بھی تھی اور ان کے درمیان پانی کی ایک نہر تھی۔ یہ ایک خوبصورت منظر تھا اور اس میں بھرپور زندگی تھی اور سامان زندگی تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یہ کافر غنی اور مومن فقیر کی مثال بیان فرمائی، جس کے ضمن میں دنیا کی بےثباتی، کفر وتکبر کی بدانجامی اور ایمان وتقویٰ کی مقبولیت پر متنبہ کرنا ہے۔ یہ دو شخص جن کی مثال بیان ہوئی واقعی موجود تھے ؟ یا محض تفہیم کے لیے مثال فرض کرلی گئی ؟ علماء کے اس میں دونوں قول ہیں اور تمثیل کا فائدہ بہرحال حاصل ہے۔ 4 یعنی باغوں کے گرد باڑھ کھجور کی لگائی اور دونوں باغوں کے درمیان میں زمین چھوڑی جس میں زراعت ہوتی تھی تاکہ غلے اور پھل (قوت اور فواکہ) سب تیار ملیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اس رکوع میں دو اشخاص کے باہمی مکالمے کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور بہت سی دوسری دنیوی نعمتوں سے نواز رکھا تھا۔ وہ شخص اپنی خوشحالی میں اس قدر مگن ہوا کہ اس کی نگاہ اللہ سے ہٹ کر مادی وسائل پر ہی جم کر رہ گئی اور انہی اسباب و وسائل کو وہ اپنے توکل اور بھروسے کا مرکز بنا بیٹھا۔ اس کے ساتھ ایک دوسرا شخص تھا جو دنیوی لحاظ سے خوشحال تو نہیں تھا مگر اسے اللہ کی معرفت حاصل تھی۔ اس نے اس دولت مند شخص کو نصیحت کی کہ اللہ نے تمہیں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے مگر تم اسے بالکل ہی بھولے ہوئے ہو۔ تمہیں چاہیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ دولت مند شخص نے گھمنڈ میں آکر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 32–34

34 ایک مال دار کافر اور غریب مومن کے طرز عمل کا موازنہ :۔ یہ مثال دراصل ان قریشی سرداروں پر منطبق ہوتی ہے جنہوں نے رسول اللہ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ کسی وقت ان مسکینوں کو اپنی مجالس سے اٹھا دیں تو ہم اطمینان سے آپ کی باتیں سنیں۔ اس مثال میں جن دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کافر و مشرک تھا۔ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور مالدار اور صاحب جائداد تھا جیسا کہ قریشی سردار تھے، دوسرا توحید پرست تھا، مومن تھا اللہ پر بھروسہ رکھنے والا تھا لیکن غریب اور مفلس تھا جیسا کہ صحابہ کرام ؓ تھے جن کے متعلق قریشی سرداروں نے آپ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آپ انھیں اپنی مجلس سے ہٹا دیں۔ رہی یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

49۔ (دنیا کی بےثباتی اور بےحقیقتی اور آخرت کی مقصودیت ظاہر کرنے کو) (آیت) ” رجلین “۔ ان دو شخصوں میں سے ایک ملحد وبے دین تھا، اور دوسرا موحد ودیندار، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ 50۔ (لیکن یہ شخص تھا بد عقیدہ وبد دین) انگور کا باغ ایک تو بجائے خود قیمتی، پھر ایک ہی نہیں، دو دو۔ اور پھر ان کے گردا گرد خرموں کی باڑ لگی ہوئی۔ اس سب پر مستزاد یہ کہ باغوں کے درمیان کی جگہ بےکار اور خالی پڑی ہوئی نہیں۔ بلکہ سرسبز و شاداب کھیتی سے لدی ہوئی۔ عرب کے نقطہ نظر سے آسودگی مرفہ حالی کا کامل ومکمل مرقع !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–38

آیت نمبر 32 تا 38 ترجمہ : اور حال بیان کیجئے ان کافروں اور مومنوں کے لئے ان دو شخصوں کا رجلین مثلاً سے بدل ہے رجُلَین اور اس کا مابعد مثلاً کی تفسیر ہے ان دو میں سے ایک کو جو کافر تھا انگور کے دو باغ دئیے تھے اور ہم نے دونوں باغوں کا کھجوروں کے درختوں کے ذریعہ احاطہ کردیا تھا اور ان کے بیچ بیچ میں کھیتی بھی اگائی تھی جس کے ذریعہ غذا حاصل کی جاتی تھی دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے اس میں بالکل کمی نہیں کرتے تھے کِلتَا لفظ کے اعتبار سے مفرد ہے (مگر معنی کے اعتبار سے) تثنیہ پر دلالت کرتا ہے اور کلتا مبتدا ہے اور آتت اس کی خبر ہے اور ہم نے ان دونوں باغوں کے درمیان نہریں جاری کر رکھی تھیں اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واضرب لہم مثلا رجلین اور ان سے دو آدمیوں کا حال بیان کرو۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مکہ میں قبیلۂ بنی مخزوم کے دو بھائی رہتے تھے ایک مؤمن تھا دوسرا کافر ‘ مؤمن کا نام ابوسلمہ عبداللہ (ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ کے سابق شوہر) بن عبدالاسود بن عبد یالیل تھا اور کافر کا نام اسود بن عبدالاسود بن عبدیالیل انہی دونوں کے حق میں اس آیت کا نزول ہوا۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ عیینہ بن حصین اور اس کے ساتھیوں کے احوال اور حضرت سلمان کے حال کو بطور تمثیل بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کے احوال سے تشبیہ دی ہے جن میں سے ایک کا نام برقول ابن عباس یہودا اور برقول مجاہد تملیخا تھا اور دوسرے کا نام قطروس اور برقول وہب قطفر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–43

(32۔ 43) آپ اہل مکہ کے سامنے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے کہ بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے ایک مومن جس کا نام یہودا اور دوسرا کافر جس کا نام ابو فطروس تھا۔ کافر کو دو باغ ہم نے انگوروں کے دے رکھے تھے اور ان دونوں باغوں کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنارکھا تھا اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی۔ دونوں باغ ہر سال اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں نہر چلا رکھی تھی اور اس کے پاس باغ کا پھل تھا اور بھی تمول کا سامان تھا چناچہ ایک دن وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اپنے مال پر فخر کرتا ہوا کہنے لگا کہ میرا مال بھی تجھ سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 32–33

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ۔۔ : کفار کو مسلمان فقراء کے مقابلے میں اپنے اموال و انصار پر فخر تھا، اس بنا پر وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتے اور مجلس میں ان کے ساتھ بیٹھنا پسند نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ بیان فرما کر سمجھایا کہ یہ چیزیں فخر کے لائق نہیں ہیں، کیونکہ ایک لمحہ میں فقیر غنی ہوسکتا ہے اور غنی فقیر۔ دنیا میں اگر فخر کی کوئی چیز ہے تو وہ ہے اللہ کی اطاعت اور اس کی عبادت اور یہ ان فقراء کو حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کافر و مومن کی ایک مثال بیان فرمائی کہ دو آدمی تھے (ان کے نام یا زمانہ معلوم نہیں، نہ ہی اس میں کوئی فائدہ ہے) ان میں سے ایک کو، جو کافر تھا، اللہ تعالیٰ نے انگوروں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–34

آیت نمبر 32 تا 34 قولہ تعالیٰ : واضرب لھم مثلا رجلین یہ مثال ہے اس آدمی کیلئے جو دنیا کے ساتھ عزت حاصل کرتا ہے اور مومنین کے ساتھ بیٹھنا ناپسند کرتا ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : واصبر نفسک کے ساتھ متصل ہے۔ اور ان دونوں آدمیوں کے نام اور ان کی تعیین میں اختلاف ہے، پس کلبی (رح) نے کہا ہے : یہ اہل مکہ میں سے دو مخزومی بھائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، ان میں سے ایک مومن تھا اور وہ حضرت ابو سلمہ عبد اللہ بن عبد الاسد بن ہلال بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم تھے۔ ام سلمہ کے خاوند نے حضور نبی مکرم ﷺ کی رسالت کو قبول کرلیا تھا۔ اور دوسرا کافر تھا اور وہ اسود بن عبد الاسد تھا، ان دونوں بھائیوں کا ذکر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–37

ایک مومن و کافر کا مکالمہ : 1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” جعلنا لاحدھما جنتین من اعناب “ کے بارے میں روایت کیا کہ جنت سے مراد باغ ہے اسی کا ایک باغ اور ایک دیوار تھی اور ان کے درمیان ایک نہر تھی اس لئے دو باغ فرمایا اور دیوار سے ایک ہونے کی وجہ سے ایک باغ فرمایا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے یحییٰ بن ابوعمر والشیبانی (رح) سے روایت کیا کہ نہرابی فرطس ان دو باغوں کی نہر تھی ابن ابی حاتم نے فرمایا وہ رملہ کی مشہور نہر ہے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” اتت اکلھا ولم تظلم منہ شیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا پھل کبھی ختم نہ ہوتا تھا باغ کے ہر درخت کا پھل کھایا جاتا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاضْرِبْ : اور آپ ﷺ بیان کریں ] [لَهُمْ : ان لوگوں کے لئے ] [مَّثَلًا : ایک مثال ] [رَّجُلَيْنِ : دو آدمیوں کی ] [جَعَلْنَا : ہم نے بنایا ] [لِاَحَدِهِمَا : ان دونوں کے ایک کے لئے ] [جَنَّتَيْنِ : دو باغ ] [مِنْ اَعْنَابٍ : انگوروں کے ] [وَّحَفَفْنٰهُمَا : اور ہم نے گھیرا ڈالا دونوں کے گرد ] [بِنَخْلٍ : کچھ کھجوروں سے ] [وَّجَعَلْنَا : اور ہم نے بنایا ] [بَيْنَهُمَا : دونوں کے مابین ] [زَرْعًا : ایک کھیتی ] حف حَفًّا کسی کو گھیرنا۔ کسی کے گرد گھیرا ڈالنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 32 حافٌّ اسم الفاعل ہے۔ گھیرنے والا۔ گھیرا ڈالنے والا۔ وَ تَرَی الْمَلٰگکَۃَ حَافِّیْنَ مِنْ حُوْلِ الْعَرْشِ (اور تو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 32–44

عبرت کے لیے دو شخصوں کی مثال، ان میں ایک باغ والا اور دوسرا غریب تھا ان آیات میں ایک واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں ایک باغ والے کافر و مشرک اور دوسرے مومن موحد کی گفتگو نقل فرمائی ہے۔ علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 161 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہ آیات اہل مکہ میں سے دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئیں دونوں بنی مخزوم میں سے تھے۔ ایک تو حضرت ابو سلمہ ؓ تھے جو رسول اللہ ﷺ سے پہلے حضرت ام سلمہ ؓ کے شوہر تھے اور دوسرا شخص جو کافر تھا وہ اسود بن عبد الاسد تھا یہ ایک قول ہے۔ دوسرا قول یہ نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں سے دو شخصوں کا ہے جو آپس میں دونوں بھائی تھے ایک مومن تھا اور ایک کافر تھا اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–44

بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی مثال قال اللہ تعالیٰ واضرب لہم مثلا رجلین .... الیٰ ۔۔۔۔ ھو خری ثوابا وخیر عقبا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی اس درخواست کو رد فرمایا جو اپنے مال و دولت کے نشہ میں چور تھے اور فقراء مسلمین کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنے میں عار محسوس کرتے تھے اور اپنے مال و دولت پر فخر محسوس کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آیا کریں تو آپ ان دو ویشان اسلام اور فقراء مسلمین کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کریں اب ان آیات میں ان متکبرین کے سنانے کیلئے اور دنیا کی بےثباتی اور ناپائیداری بتلانے کے لئے بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کی ایک مثال ذکر فرماتے ہیں جن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

40:۔ جو لوگ دنیوی شان و شوکت اور کثرت مال و دولت پر مغرور ہو کر حق اور توحید کو ٹھکرا دیتے اور زر و جواہر کے خزانوں پر فخر و مباہات کا اظہار کرتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ اور کمال رحمت کے تحت تین طریقوں سے نصیحت فرماتا ہے تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں۔ اول دولت کے دنیا ہی میں موجب عذاب ہونے کا اظہار فرما کر، دوم دنیوی مال و دولت کی قلت اور حقارت بیان فرما کر، سوم دولت دنیا کے آخرت میں بھی موجب عذاب ہونے کا ذکر فرما کر۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دو اسرائیلی بھائیوں قطروس مشرک اور یہودا مومن کا قصہ بیان کر کے پہلے طریقہ کے مطابق پند و نصیحت فرمائی ہے۔ یہ واقعہ دنیوی مال و متاع کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–36

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ بیان فرمایا ، پھر وحی الہی کی قطعیت کو بیان فرما کر اس کے اتباع کا حکم دیا ، کافر ، مشرک ، مشرک مغرور اور متکبر لوگوں کا رد فرمایا کمزور ایمانداروں کو حقیر سمجھنے والوں کی مذمت کی اور پیغمبر اسلام کو حکم دیا کہ آپ ان لوگوں کا رد فرمایا کمزور ایمانداروں کو حقیر سمجھنے والوں مذمت کو مذمت کی اور پیغمبر اسلام کو حکم دیا کہ آپ ان لوگوں کی مجلس اختیار کریں جو صبح اور پچھلے پہر اپنے پروردگار کو یاد کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے طالب ہیں ، فرمایا ان پر اپنی نگاہ شفقت رکھیں ، آپ ان لوگوں کی بات نہ مانیں جنہیں اللہ نے اپنی یاد سے غافل پایا ہے ، جو اپنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِہِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّحَفَفْنٰہُمَا بِنَخْلٍ وَّجَعَلْنَا بَيْنَہُمَا زَرْعًا۝ 32ۭ ضَرْبُ المَثلِ هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ، ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–44

تفسیر …دو شخصوں کا قصہ بطور مثال کے : پھر دنیا کی بےثباتی اور اس کے اسباب و تجمل پر غرور کر کے خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور الحاد کا بدنتیجہ جو کبھی دنیا ہی پر ظاہر ہوتا ہے دو شخصوں کی تمثیل سے بیان فرمایا۔ بعض کہتے ہیں یہ صرف ایک تمثیل ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ دراصل ایسے دو شخص تھے بھی کہ جن کا یہ واقعہ ہے پھر بعض کہتے ہیں کہ یہ دو شخص بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے کہ ایک نے اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کیا تھا دوسرا دنیادار اور مشرک اور دارآخرت کا منکر تھا۔ اس نے دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے تھے کہ ان میں نہر بھی جاری تھی اور بیچ میں انگور اور آس پاس کھجور کے درخت بھی تھے اور وقت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلاً رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِھِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰـھُمَا بِنَخْلٍ وَّجَعَلْنَا بَیْنَھُمَا زَرْعًا۔ (الکہف : 32) (اور اے پیغمبر ! ان کے سامنے دو آدمیوں کی مثال بیان کیجیے ان میں سے ایک کے لیے انگوروں کے دو باغ بنائے اور ان دونوں باغوں کو کھجور کے درختوں کی باڑ سے گھیرا اور ان کے درمیان کھیتی کے قطعات بھی رکھے۔ ) قریش کے لیے ایک تمثیل نبی کریم ﷺ باقی انبیاء و رسل کی طرح اہل دنیا کی اصلاح کے لیے تشریف لائے تھے۔ اصلاح کا عمل چونکہ خیالات کی تبدیلی اور قلب و دماغ کی درستی سے ہوتا ہے۔ اس لیے وہ حتی المقدور اپنے مخاطب لوگوں کو مختلف طریقوں سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 32–36

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں اور جنتیوں کے ذکر سے پہلے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے حوالے سے مومنوں کو سمجھایا گیا کہ وہ دنیا پرست لوگوں کے پیچھے لگنے سے بچیں۔ اب نیک اور دنیا دار کی مثال پیش فرما کر دونوں کے کردار اور انجام کا فرق بیان کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! لوگوں کے سامنے دو آدمیوں کا واقعہ بیان کریں۔ جن میں ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ عنایت فرمائے اور ان کی حفاظت کھجور کے درختوں کے ساتھ کی اور ان کے درمیان فصل پیدا کی باغوں کو سیراب کرنے کے لیے ان کے درمیان نہریں جاری کیں۔ یہ باغ بھر پور طریقے سے پھل دیتے تھے ان کی پیداوار میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہوتی۔ اس مثال میں بیک وقت دو باتیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اچھے برے انجام کی مثال کیلئے دو بھائیوں کا واقعہ : 32: وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَـلًا رَّجُلَیْنِ (اور آپ ان کے سامنے ان دو آدمیوں کا حال بیان کریں) کفار اور مؤمنین کے حال کی مثال بنی اسرائیل کے دو آدمیوں کی ہے جو بھائی تھے ایک ان میں کافر جس کا نام قطر وس تھا۔ اور دوسرا مسلمان جس کا نام یہودا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ وہ دو آدمی ہیں جن کا تذکرہ سورة الصافات کی اس آیت میں ہے۔ قال قائل منہم انی کان لی قرین ] الصّافات : 51[ ان دونوں کو باپ کی وراثت میں آٹھ ہزار دینار ملے۔ انہوں نے اس کے دو حصے کئے۔ کافر نے ایک ہزار کی زمین خریدی مومن نے کہا اے اللہ میرے بھائی نے ایک ہزار دینار کی زمین دنیا میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

رجلین سے کون سے دو فرد ہیں 32 ۔ ” واضرب لھم مثلاً رجلین “ کہا گیا ہے کہ مکہ میں قبیلہ بنی مخزوم کے دو بھائی رہتے تھے۔ ایک مؤمن تھا دوسرا کافر، مؤمن کا نام ابو سلمہ عبداللہ (ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ کے سابق شوہر) بن عبدالاسود بن عبدیالیل تھا اور کافر کا نام اسود بن عبدالاسود بن عبدیالیل انہی دونوں کے حق میں اس آیت کا نزول ہوا۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ عیینہ بن حصین اور اس کے ساتھیوں کے احوال اور حضرت سلمان کے حال کو بطور تحقیق بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کے احوال سے تشبیہ دی ہے جن میں سے ایک کا نام برقول ابن عباس یہود اور برقول مجاہد تملیخا تھا اور دوسرے کا نام قطروس اور برقول وہب قطفر تھا۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–44

32۔ 44:۔ اوپر ان مالدار مشرکین مکہ کا ذکر تھا جو غریب مسکین مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے سے گھبراتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کہاوت بیان کی کہ دو مرد تھے ایک کے دو باغ تھے انگور اور کھجور کے جن کے درمیان میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ ہر طرح کے درخت اور پھل پھول اور میوے پیدا ہوتے تھے ولم تظلم منہ شیئا سے اسی مطلب کو ادا فرمایا ہے۔ پھر فرمایا ان باغوں میں نہریں جاری تھیں پھر فرمایا اس باغ والے نے اپنے دوسرے بھائی سے بطور فخر کے کہا کہ میں تجھ سے مال واولاد اور خدمت گاروں میں زیادہ عزت والا ہوں اور وہ اپنی باغ میں اپنے بھائی کا بھی ہاتھ پکڑ کر میں قیامت کے قائم ہونے کا خیال نہیں رکھتا اور اگر بالفرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–33

(آیت نمبر (32: اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان کے سامنے دو آدمیوں کی مثال بیان کردیجیے ایک وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے دوسرا وہ جو ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا ناشکر گزار ہے اور ان دونوں سے جس قسم کے اقوال و افعال صادر ہوتے ہیں اور ان کی بنا پر انہیں جو دنیاوی اور اخروی عذاب اور ثواب حاصل ہوگا ‘ تاکہ یہ لوگ ان دونوں کے احوال سے عبرت حاصل کریں اور انہیں جو عذاب یا ثواب حاصل ہوا اس سے نصیحت پکڑیں۔ ان دونوں آدمیوں کی متعین طور پر معرفت حاصل کرنے اور یہ معلوم کرنے میں کہ وہ کس زمانے اور کون سی جگہ کے لوگ ہیں ؟ کوئی فائدہ نہیں۔ فائدہ اور نتیجہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–38

غار میں اصحاب کہف کی مدت قیام قول باری ہے (ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ سنین وازدادواتسعاً ) اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں) قتادہ سے مروی ہے یہ یہود کے قول کی حکایت ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (قل اللہ اعلم بما لبثوا تم کہو اللہ ان کے قایم کی مدت زیادہ جانتا ہے ) مجاہد، ضحاک اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ غار میں ان کے قیام کی مدت اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اگر اہل کتاب اس معاملے میں تم سے بحث کرنے پر اتر آئیں تو ان سے کہہ دو ۔ اللہ ان کے قیام کی مدت کو زیادہ جانتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 32–33

62۔ عمدہ باغ کی تصویر :۔ سو ان دونوں باغوں کو کھجور کے درختوں کی ایک عمدہ باڑھ سے محفوظ کردیا گیا تھا۔ تاکہ اس سے ان کے حسن وجمال میں بھی اضافہ ہو اور سورج ودھوپ کی تپش سے ان کی حفاظت بھی ہو۔ اور عربوں کے یہاں عمدہ باغ کی تعریف یہی تھی کہ انگوروں وغیرہ پھلدار درختوں کا باغ ہو اور اس کے اردا گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگی ہو۔ سو یہ عمدہ باغ کی تصویر کشی ہے۔ سو اس تمثیل سے ابنائے دنیا اور خاص کر کفار قریش و مشرکین مکہ کے سامنے آئینہ رکھ دیا گیا کہ وہ اس میں اپنے حال اور مآل کو دیکھ لیں اور اس سے درس عبرت و بصیرت لیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–46

سبق آموز کہانی اور نیکیوں کا بدلہ تشریح : ان آیات میں بھی اللہ کی حاکمیت، قدرت کاملہ اور وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر انسان کو روزی رزق دیتا ہے تو انسان کا فرض ہے اس کی نعمتوں کو حاصل کر کے فخر و غرور نہ کرے اور اس قدر بدمست نہ ہوجائے کہ اللہ کے وجود اور قیامت کا انکار کردے اور نعمتوں کا شکر ہی ادا نہ کرے اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگے۔ یہ سب انسانیت کے خلاف اور برے رویے ہیں ہمارا مذہب اسلام ان تمام اخلاقی برائیوں سے منع کرتا ہے، یعنی کسی کو حقیر سمجھنا اور شکر الٰہی ادا نہ کرنا۔ پھر حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی نعمت یا خوبصورت چیز کو دیکھو یا کامیابی حاصل کرو تو اس کو دیکھ کر ماشَائَ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–44

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف دنیا میں بھی یہی مثالیں موجود ہیں جو اقوام کے حالات میں بھی نظر آتی ہیں اور افراد کے حالات میں بھی آپ انہیں ان دو آدمیوں کی مثال دیجئے جو دونوں دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو ہم نے زیادہ مالدار کردیا ، اس کے انگوروں کے باغات تھے جن کے گردا گرد کے درخت اور درمیان میں زرعی زمین تھی یعنی کھجوریں پھل اور غلہ جیسی سب نعمتیں بیک وقت ان باغوں سے حاصل ہوتیں ، اور وہ پورا پورا پھل دیتے کبھی ان میں کمی نہ آتی تھی ، ان باغوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کردی تھی جس کے سبب وہ ہمیشہ سرسبز رہتے اور ہر موسم کا پھل بہتات سے حاصل ہوتی ، جبکہ دوسرا دوست ایسا مالدار نہ تھا ، ایک روز باتوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یا اسے خوب نفع اور آمدنی بھی حاصل تھی ثمر کے معنی پھل اور نفع دونوں ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:32) حففنھما۔ حففنا۔ ماضی جمع متکلم ہما ضمیر مفعول تثنیہ مذکر غائب۔ الحف (باب نصر) کے معنی کسی چیز کو دونوں جانب سے گھیرنے یا احاطہ کرلینے کے ہیں۔ حف مادہ ہم نے ان دونوں کو گھیر لیا۔ ہم نے ان دونوں کے گردا گرد پیدا کردیا۔ حففنہما بنخل ہم نے ان دونوں کے گرد کھجور کے درخت اگا رکھے تھے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وتری الملئکۃ حافین من حول العرش (39:75) اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہیں یعنی اس کے دونوں جانب کو گھیرے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–36

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 34 اضرب بیان کر، مار۔ رجلین (رجل) مردوں، دو آدمی۔ اعناب (عنب) انگور۔ حففنا ہم نے گھیر لیا۔ محفوظ کرلیا۔ نخل کھجور۔ زرع کھیتی۔ کلتا دونوں۔ اکل پھل۔ لم تظلم کم نہیں کیا۔ فجرنا ہم نے بہا دیا۔ یح اور بات چیت کرتا ہے۔ اعز میں زیادہ عزت والا ہوں۔ نفر لوگ، جماعت۔ تبید اجڑ جائے گا۔ الساعۃ قیامت، گھڑی۔ رددت میں لوٹایا گیا۔ منقلب (بہترین) جگہ لوٹنے کی۔ تشریح : آیت نمبر 32 تا 34 کفار مکہ کے اس مطالبہ کا ذکر گزشتہ آیات میں کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ اے نبی ﷺ ہم آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں مگر جب ہم یہ دیھکتے ہیں کہی آپ کے پاس ہمارے معاشرہ کے وہ غریب اور بدحال لوگ بیٹھے ہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

دو بھائیوں کا قصہ اور تکبر کا نتیجہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے حبیب ﷺ ان کے سامنے ایک مثال بیان کردو۔ وہ مثال یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سے دو بھائی تھے ایک کا نام یہودا تھا وہ مسلمان تھا دوسرے کا نام قطروس تھا وہ کافر تھا۔ باپ کے ترکہ میں سے آٹھ ہزار دینار انہیں پہنچے۔ ہر ایک نے چار چار ہزار دینار پر قبضہ کیا ۔ کافر نے تو اس روپیہ سے زمین وتالاب اور گھر کی آرائش بڑھائی اور جائداد پیدا کی اور مسلمان نے اپنے حصے کا سب روپیہ نیک کاموں میں صرر کر ڈالا پھر فرمایا کہ ان دونوں میں سے ایک شخص نے جو کہ مشرک اور دار آخرت کا منکر تھا اور دنیا دار تھا دو باغ اپنے تمام مال سے ایسے تیار کرائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–41

[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 31–35

(ف 1) جو لوگ دنیا میں اسلام کی وجہ سے فاخرانہ زندگی کو ترک کردیتے ہیں اور اسلام کے اصول کو بلند کرتے رہتے ہیں ، اخروی زندگی میں انہیں تمام ان چیزوں سے بہرہ ور کیا جائے گا ، جن کا تعلق انتہائی اعزاز وفخر سے ہے ۔ جن کے لبادے یہاں بوسیدہ ، اور دریدہ ہیں ، انہیں ابریشم وقاتم دیا جائے گا پہننے کے لئے زیور ہوں گے اور ٹھاٹ کی زندگی ہوگی ، تاکہ انکو معلوم ہو کہ اللہ نے تحفہ اعمال کو قبول فرما لیا ہے ۔ حل لغات : حففنہما : ان کے گردا گرد حف سے ہے ، جن کے معنی گھیرنے اور کسی شئے کے احاطہ کرلینے کے ہیں ۔ یحاورہ : محاورہ کے معنے باہم گفتگو کرنا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-32 اور اے پیغمبر آپ ان لوگوں کے لئے جو دنیا سے محبت کرتے ہیں اور آخرت اور عقبیٰ سے بےزار ہیں ان دو شخصوں کا حال بیان کردیجیے جن دو میں سے ہم نے ایک کو تو انگور کے دو باغ دیئی تھے اور ہم نے ان دونوں باغوں کو چاروں طرف سے کھجور کے درختوں سے گھیر رکھا تھا اور دونوں باغوں کے چاروں طرف کھجور کے درختوں کی باڑھ لگا رکھی تھی اور دونوں باغوں کے درمیان ہم نے کھیتی بھی پیدا کی تھی۔ یعنی انگوروں کے دو باغ چاروں طرف کھجوروں کی باڑ بیچ میں کھیتی اور اگٓے بہتا ہے نہر کا پانی یہ دونوں شخص یا تو قرابت دار تھے یا دونوں آپ میں ملاقات اور میل رکھتے تھے یہ دو باغ والا بد دین تھا اور دوسرا دین دار تھا۔ حضرت شاہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 31–34

ف 5۔ یہ جو فرمایا کہ سبز لباس ہوگا اس سے حصر مقصود نہیں کیونکہ آیات میں مصرح ہے کہ جس چیز کو جی چاہے گا وہ ملے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پیغمبر اسلام ﷺ کے ذریعہ سے ایک مثال بیان کر کے تفہیم کرادی : 35۔ زیر نظر آیت 32 سے آیت 44 تک تیرہ آیتوں میں دو آدمیوں کی مثال بیان فرما کر تفہیم کرانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ اچھی زندگی اور بری زندگی کے مآل سے انسان اچھی طرف واقف ہوجائے اور جو کچھ ہو رہا ہے اور ہونے والا ہے اس سے آگاہ ہوجائے ، لیکن ایسا کب ہوگا ؟ جب انسان خود غور وفکر کرے گا اور سمجھ سوچ سے کام لینے کی کوشش کرے گا ، اگر وہ خود کوشش نہ کرے تو بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہوگا ۔ اس طرح گویا وہ انسانوں کے درمیان مناظرانہ گفتگو کی شکل میں ذکر ہوا ہے اور ساتھ ہی اس کا نتیجہ اور ثمرہ بھی بیان فرما دیا گیا ہے ، اس کے متعلق بعض…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 31–33

At this point, someone may doubt that this advice was reasonably practicable. A separate gathering for them would have not hurt. In fact, it would have made it easier to convey the message of Islam to them and equally easier for them to accept it. But, the creation of such a division would have amounted to seating the rebellious rich on a pedestal of honor, an action that could have broken the hearts of poor Muslims or dampened their courage. Allah Ta` ala, in His ultimate wisdom, would not put up with anything like this. Instead of that, the ground rule of Da'wah and Tabligh given by Him was…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–34

36. In order to understand the significance of this parable we should keep in view(Ayat 28)in which arrogant chiefs of Makkah were told that the poor companions of the Prophet (peace be upon him) would not be discarded to please them.

Read the full tafseer →