Explained with ayahs 30–31
سونے کے کنگن اور ریشمی لباس
اوپر برے لوگوں کا حال اور انجام بیان فرمایا، اب نیکوں کا آغاز و انجام بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ، رسول اور کتاب کے ماننے والے نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں ان کے لئے ہمیشہ والی دائمی جنتیں ہیں، ان کے بالاخانوں کے اور باغات کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں۔ انہیں زیورات خصوصا سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ان کا لباس وہاں خالص ریشم کا ہوگا، نرم باریک اور نرم موٹے ریشم کا لباس ہوگا، یہ باآرام، شاہانہ شان سے مسندوں پر جو تختوں پر ہوں گے، تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ کہا گیا ہے کہ لیٹنے اور چار زانوں بیٹھنے کا نام بھی یہی قول ہیں ار ایک جمع ہے اریکہ کی تخت چھپر کھٹ وغیرہ کو…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 34
قدیم زمانے میں بادشاہ سونے کے کنگن پہنتے تھے۔ اہل جنت کے لباس میں اس چیز کا ذکر کرنے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ وہاں بادشاہوں کی سی شان و شوکت سے رہے گا۔
سورة الْكَهْف 35
ارائک جمع ہے اریکہ کی۔ اریکہ عربی زبان میں ایسے تخت کو کہتے ہیں جس پر چتر لگا ہوا ہو۔ اس سے بھی یہی تصور دلانا مقصود ہے کہ وہاں ہر جنتی تخت شاہی پر متمکن ہوگا۔
Read the full tafseer →یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ مشورہ تو قابل عمل تھا کہ ان کے لئے ایک مجلس علیحدہ کردی جاتی، تاکہ ان کو اسلام کی دعوت پہونچانے میں اور ان لوگوں کو قبول کرنے میں سہولت ہوتی، مگر اس طرح کی تقسیم میں سرکش مالداروں کا ایک خاص اعزاز تھا، جس سے غریب مسلمانوں کی دل شکنی یا حوصلہ شکنی ہو سکتی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کو گوارا نہ فرمایا، اور اصول دعوت و تبلیغ یہی قرار دے دیا کہ اس میں کسی کا کوئی امتیاز نہ ہونا چاہیے، واللہ اعلم
اہل جنت کے لئے زیور
يُحَلَّوْنَ فِيْهَا اس آیت میں اہل جنت مردوں کو بھی سونے کے کنگن پہنانے کا ذکر ہے، اس پر یہ سوال ہوسکتا ہے کہ زیور پہننا تو مردوں کے لئے نازیبا ہے، نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
تفسیر آیات 30 تا 31: ایمان لانے والوں کو صلہ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلا۔ أُولَئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الأنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِنْ سُنْدُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الأرَائِكِ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۔
کفر کرنے والوں کے انجام کے بیان کے بعد اب یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جو قرآن کی دعوت پر ایمان لائے۔ امراء و اغنیاء چونکہ ان لوگوں کو، ان کی غربت کے سبب سے، بہت حقیر سمجھتے تھے اس وجہ سے ان کے…
Read the full tafseer →31۔ 1 زمانہ نزول قرآن اور اس سے ما قبل رواج تھا کہ بادشاہ، رؤسا سردران قبائل اپنے ہاتھوں میں سونے کے کڑے پہنتے تھے، جس سے ان کی امتیازی حیثیت نمایاں ہوتی تھی۔ اہل جنت کو بھی سونے کے کڑے پہنائے جائیں گے۔
31۔ 2 سندس، باریک ریشم اور استبرق موٹا ریشم۔ دنیا میں مردوں کے لئے سونا اور ریشمی لباس ممنوع ہیں، جو لوگ اس حکم پر عمل کرتے ہوئے دنیا میں ان محرمات سے اجتناب کریں گے، انھیں جنت میں یہ ساری چیزیں میسر ہونگی۔ وہاں کوئی چیز ممنوع نہیں ہوگی بلکہ اہل جنت جس چیز کی خواہش کریں گے، وہ موجود ہوگی۔ ولکم فیہا ما تشتھی انفسکم ولکم فیھا ماتدعون۔ جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب جنت میں موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
23: یعنی حق کے واضح ہوجانے کے بعد دنیا میں کسی کو ایمان لانے پر زبردستی مجبور نہیں کیا جاسکتا، البتہ جو شخص ایمان نہیں لائے گا، اس کو آخرت میں بیشک ایک خوفناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
بئس الشراب (29:18) ” بدترین پینے کی چیز “ ۔ یعنی یہ بدترین تواضع ہوگی جو گرمی سے جلے ہوئے ان پیاسے لوگوں کی کی جائے گی۔ کیا بری آگ ہوگی اور پھر اس آگ کے وہ خیمے کس قدر برے ہوں گے ، جو ان کے ٹھہرنے اور آرام کے لئے ان کو مہیا کئے جائیں گے۔ ان کو رہنے کے لئے جو سہولیات دی جا رہی ہیں ان میں بھی ان کے ساتھ ایک نہایت ہی سخت مذاق ہوگا ، کیونکہ وہاں ان کو سہولیات تو نہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہاں تو ان کو بھول ڈالنے کا انتظام ہوگا۔ البتہ یہاں آگ کے خیموں کا ذکر اس لئے ہے کہ ان لوگوں کی سہولیات کے ساتھ ان لوگوں کی سہولیات کا مقابلہ ہوجائے ، جو ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کیا ، لیکن دونوں کی…
Read the full tafseer →9 تاکہ دکھلا دیا جائے کہ اصلی اور دائمی دولت مند کون لوگ ہیں۔ کنگن یا ریشمی کپڑوں اور اسی طرح جنت کی تمام نعمتوں کی خاص کیفیت کو ہم دنیا میں نہیں سمجھ سکتے۔ کیونکہ ہماری محسوسات میں اس موطن کی کوئی پوری مثال موجود نہیں۔
1 شاید ابرا باریک ریشم کا اور استر دبیز ریشم کا ہو۔ کما یفہم من قولہ تعالیٰ (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ ) 55 ۔ الرحمن :54) یا دونوں قسمیں الگ الگ استعمال کی جائیں۔ واللہ اعلم۔ موضح القرآن میں ہے۔ " حضرت نے فرمایا سونا اور ریشمی کپڑا مردوں کو ملنا ہے بہشت میں۔ جو کوئی یہاں یہ چیزیں پہنے وہاں نہ پہنے گا۔ "
2 یعنی مسہریوں پر تکیہ لگائے نہایت…
Read the full tafseer →يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّيَلْبَسُوْنَ ثِيَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ
یعنی ان کا اوپر کا لباس باریک ریشم کا ہوگا جبکہ نیچے کا لباس موٹے ریشم کا ہوگا۔
Read the full tafseer →33 سونے کے کنگنوں کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ قدیم زمانہ میں یہ دستور رہا ہے کہ بادشاہ سونے کے کنگن پہنا کرتے تھے گویا اہل جنت وہاں شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے رہیں گے۔ پہننے کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ ریشمی کپڑے ہوں گے اور بیٹھنے کے لیے اونچی اونچی مسندیں۔ واضح رہے کہ اس دنیا میں سونے اور ریشمی کپڑوں کا استعمال مردوں کے لیے جائز نہیں لیکن جنت میں جائز ہوگا بلکہ ایسے ہی جیسے اس دنیا میں شراب سب مردوں عورتوں پر حرام ہے مگر جنت کی شراب خالص اہل جنت کے لیے بیش بہا نعمت ہوگی۔
Read the full tafseer →48۔ اہل دوزخ کی سختیوں اور ہولناکیوں کے مقابلہ میں یہ اہل جنت کی عیش سامانیوں کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” اس اور من ذھب “۔ جنت میں جو دارالعمل نہیں تمامتر دار الجزاء ہے نہی شرعی اٹھ جانے کے بعد بہت سے دوسرے ممنوعات کی طرح زیور پوشی بھی رجال جنت کے لئے جائز ہوجائے گی، بالکل اس کا شمار اسباب زینت میں سے ہونے لگے گا اور یہ زیور دیکھنے میں بہت بھلے معلوم ہوں گے۔ جیسا کہ آج بھی ان کا شمار اسباب زینت میں ہے جہاں جہاں یہ عرفا رائج ہیں۔ (آیت) ” ثیابا خضرا “۔ یہ رنگ لباس کی سبزی یہاں بہ طور مثال بیان فرمائی گئی ہے، حصر مقصود نہیں، چناچہ قرآن ہی میں مطلق صورت میں بھی تو وعدہ موجود ہے کہ اہل جنت جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت نمبر 27 تا 31
ترجمہ : اور آپ کے پاس جو آپ کے رب کی کتاب وحی کے ذریعہ آئی ہے آپ اس کو تلاوت کیا کیجئے، اس کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا، اور آپ خدا کے سوا کہیں جائے پناہ نہ پائیں گے، اور آپ خود کو ان لوگوں کے ساتھ پابند مقید رکھا کیجئے جو صبح وشام (ہمہ وقت) اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی عبادت کا مقصد محض اپنے رب کی خوشنودی ہے ان کی دنیوی کوئی غرض نہیں ہے، اور وہ فقراء ہیں، اور دنیوی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں (توجہ) ان سے ہٹنے نہ پائیں عین بول کر صاحب عین مراد ہے اور ایسے شخص کا کہنا نہ مانئے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے یعنی قرآن سے، اور وہ عینیہ بن حصن…
Read the full tafseer →اولئک لہم جنت عدن تجری من تحتہم الانہر ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہوں گے جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔
عَدْنٍقیام کرنا ٹھہرنا۔ عَدَنَ الْمَآء بالْمَکَانٍپانی فلاں جگہ ٹھہر گیا۔ جَنّٰتُ عَدْنٍوہ باغ اور جنتیں جہاں مؤمن (ہمیشہ) قیام کریں گے۔
یحلون فیہا من اساور من ذہب وہاں اہل جنت کو سونے کے کنگنوں کا زیور پہنایا جائے گا۔ سوار
کنگن اس کی جمع اسوار یا اسورۃ ہے اور اسوار یا اسورۃ کی جمع اساور ہے۔
اساور اور ذہب کو نکرہ لانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ وہ کنگن اور سونا نرالی شان کا ہوگا کہ اس کے حسن کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ طبرانی نے الاوسط میں اور بیہقی نے اچھی سند سے حضرت ابوہریرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(30۔ 31) البتہ جو حضرات رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے خداوندی کی بجاآوری کی تو جو خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرے ہم ایسے لوگوں کے اجر وثواب کو ضائع نہ کریں گے ایسے حضرات کے لیے رحمن کی طرف سے محلات ہیں کہ ان محلات اور درختوں کے نیچے سے دودھ، شہد، پانی، اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی، ان لوگوں کو جنت میں سونے کے ہار پہنائے جائیں گے اور سبز رنگ کے کپڑے باریک اور موٹے ریشم کے پہنیں گے اور جنت میں مسہریوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جنت کیا ہی اچھا صلہ ہے اور کیا ہی اچھا ٹھکانا ہے یعنی بہترین جگہ ان کے رفقاء یعنی انبیاء اور صالحین کی جگہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : ظالمین یعنی کفار کے بعد اہل ایمان اور ان کے اجر کا ذکر فرمایا۔ اس مفہوم کی آیات کہ جو اچھا عمل کرے ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے، کے لیے دیکھیے آل عمران (171، 195)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت نمبر 30 تا 31
جب اللہ تعالیٰ نے اس ذلت و رسوائی کا ذکر کیا جو اس نے کافروں کے لئے تیارع کر رکھی ہے تو پھر اس اجر وثواب کا بھی ذکر کیا جو اس نے مومنوں کیلئے تیار کیا ہے۔ اور اس کلام میں اضمار ہے ل یعنی لانضیع أجر من أحسن منھم عملا، فأما من أحسن عملا من غیر المؤمنین فعملہ محبط۔ (ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے جو ان میں سے اچھا کام کرتا ہے اور رہا وہ جو مومنوں کے سوا کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اس کا عمل ضائع اور رائیگاں چلا جاتا ہے) ۔ اور عملا تمییز ہونے کی بنا پر منصوب ہے، اور اگر تو چاہے تو اس پر أحسن کو واقع کرکے اسے نصب دے دے۔ اور کہا گیا ہے کہ انا لا نضیع اجر من احسن عملا کلام معترض ہے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
1:۔ ابن مبارک اور ابن ابی حاتم نے مقبری (رح) سے روایت کیا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے اے ابن آدم (علیہ السلام) جب تو نیک کام کرے تو اس غافل ہوجا کیونکہ وہ اس ذات کے پاس پہنچ چکی ہے جو اس کو ضائع نہیں کرے گا پھر یہ (آیت) ” انا لا نضیع اجر من احسن عملا “ پڑھی اور جب تو کوئی برا عمل کربیٹھے تو اسے ہمیشہ اپنی نظروں کے سامنے رکھ۔
2:۔ ابن مردویہ نے سعدؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی آدمی اہل جنت میں سے جھانک اور اس کے کنگن ظاہر ہوجائیں تو مٹا دے گی اس کی روشنی سورج کی روشنی کو جیسے سورج ستاروں کی روشنی کو مٹا دیتا ہے۔
3:۔ طبرانی نے اوسط میں اور…
Read the full tafseer →[اُولٰۗىِٕكَ : یہ لوگ ہیں ] [لَهُمْ : جن کے لئے ہیں ] [جَنّٰتُ عَدْنٍ : عدن کے باغات ] [تَجْرِيْ : بہتی ہیں ] [مِنْ تَحْتِهِمُ : ان لوگوں کے نیچے سے ] [الْانهٰرُ : نہریں ] [يُحَلَوْنَ : وہ لوگ آراستہ کئے جائیں گے ] [فِيْهَا : ان (باغات) میں ] [مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ : سونے کے کنگنوں سے ] [وَّيَلْبَسُوْنَ : اور پہنیں گے ] [ثِيَابًا خُضْرًا : سبز کپڑے ] [مِّنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ : چمکیلے اور باریک ریشم میں ہے ] [مُّتَّكِــِٕـيْنَ : بیٹھنے والے ہوتے ہوئے ] [فِيْهَا : ان (باغات) میں ] [عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ : مزین تختوں پر ] [نِعْمَ : کتنا اچھا ہے ] [الثَّوَابُ : یہ بدلہ ] [وَحَسُنَتْ :…
Read the full tafseer →اہل ایمان کا اجر وثواب، جنت کے لباس، زیور اور مسہریوں کا تذکرہ
اہل کفر کی سزا بیان کرنے کے بعد اہل ایمان کے ایمان اور اعمال صالحہ کی جزاء کا تذکرہ فرماتے ہوئے یوں فرمایا کہ ہم نیک عمل کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے نیک عمل وہی ہے جو ایمان اور اخلاص کے ساتھ ہو اور شریعت کے مطابق ہو، فرمایا کہ یہ لوگ ہمیشہ رہنے کے باغوں میں رہیں گے ان باغوں کے نیچے نہریں جاری ہونگی، اور ساتھ ہی ان کے زیور اور لباس کا تذکرہ بھی فرمایا اور فرمایا کہ انہیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہاں سبز کپڑے پہنیں گے جو سندس اور استبرق کے ہونگے پھر ان مسہریوں کا تذکرہ فرمایا جن پر یہ لوگ تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہونگے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
حکم تلاوت قرآن و مدارات درویشان وخرقہ پوشان
قال اللہ تعالیٰ واتل ما اوحی الیک .۔... الیٰ .... وحسنت موتفقا۔
(ربط) شروع سورت میں نزول کتاب کی نعمت کو بیان فرمایا اور اس کے بعد دنیا کے فناء وزوال کو بیان کیا پھر اس کے بعد اصحاب کہف کا قصہ بیان کیا جنہوں نے دنیا پر لات ماری اور مضبوطی کے ساتھ حق پر قائم رہے بالآخر کامیاب ہوئے اور ظالم اور متکبر دنیا سے رخصت ہوئے اب اصحاب کہف کے قصہ کے بعد پھر اس قرآن کی تلاوت کا حکم دیتے ہیں جس میں دشمنان اسلام کے سوالات کے جوابات نازل ہوئے۔ جس سے آنحضرت ﷺ کی نبوت ثابت ہوئی اور پھر اصحاب کہف جیسے درویشان اسلام اور اہل خرقہ یعنی گدڑی اور کمبل پوشوں کی مجالست اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
39:۔ یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ مشرکین کے شبہات کا مدلل رد کرنے کے بعد منکرین کے لیے تخویف اخروی اور مومنین کے لیے بشارتِ اخروی نازل ہوئی۔ واعلم انہ تعالیٰ لما وصف الکفر والایمان والباطل و الحق اتبعہ بذکر الوعید علی الکفر والاعمال الباطلۃ وبذکر الوعد علی الایمان والعمل الصالح (کبیر ج 5 ص 714) ۔ ” سندس “ باریک ریشم اور ” استبرق “ موٹے ریشم کو کہتے ہیں۔ السندس الرقیق من الدیباج والاستبرق الغلیظ منہ (مفردات ص 227) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد وحی الہی یعنی قرآن پاک کی تلاوت کا حکم دیا یہ ایک ایسی قطعی اور یقینی کتاب ہے جس کے کلمات کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ، اگر کوئی شخص اس پر اعتقاد رکھنے اور اس پر عمل کرنے کی بجائے اس کے خلاف چلے گا تو مجرم بن جائے گا اور کسی مجرم کے لیے خدا تعالیٰ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے اللہ نے ان مجرمین کا بھی رد فرمایا جو اپنے مالی تفوق کی بناء پر غریب ایمانداروں کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ مجلس میں بیٹھنا بھی گورار نہیں کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ ایسے مخلص ایمانداروں سے علیحدگی اختیار نہ کریں بلکہ انہیں اپنے پاس…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہِمُ الْاَنْہٰرُ يُحَلَّوْنَ فِيْہَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَہَبٍ وَّيَلْبَسُوْنَ ثِيَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِــِٕـيْنَ فِيْہَا عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ 0ۭ نِعْمَ الثَّوَابُ 0ۭ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا 31ۧ
جَنَّةُ :
كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]
الجنۃ
ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
ترکیب : یریدون حال ہے ضمیر یدعون سے ترید کا فاعل ضمیر ہے جو عینین کی طرف راجع ہے جملہ حال ہے کہ سے یا فاعل لاتعد سے۔ انالا جملہ خبر ہے ان کی۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں فرمایا تھا کہ جو کچھ اسباب تجمل دنیا پر ہیں وہ صرف دنیا کی زینت ہے نہ آخرت کی اور وہ فانی اور سریع الزوال ہیں غرور اور دلبستگی ان سے نہ چاہیے کیونکہ وہ اسباب دارآخرت کے لیے حجاب ہیں پھر اس کے متعلق اصحاب کہف کا دلچسپ واقعہ فرمایا تھا جو دنیا کی بےثباتی پر دلالت کرتا تھا۔ کفار قریش ایسے کہاں کے تھے جو اس سے عبرتناک نتیجہ حاصل کرتے بلکہ اس کو بھی ایک دلچسپ داستان سمجھ کر آنحضرت (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے مگر اپنے اسباب دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لاَ نُضِیْعُ اَجْرَمَنْ اَحْسَنَ عَمَلاً ۔ اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمُ الْاَنْھٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَمِنْ ذَھْبٍ وَّیَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ مُّتَّـکِئِیْنَ فِیْھَا عَلَی الْاَرَآئِکِ ط نِعْمَ الثَّوَابُ ط وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۔ (الکہف : 31)
(بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اچھے کام کیے تو ہم خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کریں گے۔ یہی وہ خوش نصیب ہیں جن کے لیے ہمیشگی کے جنت ہیں، جن کے نیچے نہریں رواں ہیں، وہ ان جنتوں میں سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کی سزا کے بعد جنتیوں کے انعام کا ذکر۔
فہم القرآن میں یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوئی ہے کہ قرآن مجید کا اصول ہے کہ وہ نیک لوگوں کے بعد برے لوگوں کا، جنت کے ساتھ جہنم کا اور سزا کے ساتھ نیک لوگوں کے انعام کا ذکر کرتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر جہنم کے عذاب کیساتھ نیک لوگوں کے بہترین اجر، جنت میں ان کے مقام اور اس کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جنتیوں کے لیے ہمیشگی کے باغات ہیں۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جنتیوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہن کر اونچی جگہوں پر تکیہ لگاکر بیٹھا کریں گے۔ کتنا ہی اچھا ان کا صلہ اور آرام گاہیں ہوں گی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
30، 31: اب ان لوگوں کے بدلہ کا تذکرہ فرمایا جنہوں نے ایمان کو چنا پس فرمایا اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَانُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا اُولٰٓپکَ لَھُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ (بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے تو ہم انکا اجر ضائع نہ کریں گے۔ جنہوں نے اچھی طرح کام کیے ایسے لوگوں کیلئے ہمیشہ رہنے کے باغات ہونگے) یہ جملہ مستانفہ ہے اس میں اجر مبہم کو بیان فرمایا۔
نحو : انا لانُضِیْعُاور اُولٰئِکَدونوں کو اکٹھی خبریں بنایا جائے۔ مطلب یہ ہے جو ان میں سے اچھے عمل والے ہیں جیسا کہ کہتے ہیں السمن منوان بدرھم۔ نمبر 2۔ کیونکہ من احسن عملاً اور الذین…
Read the full tafseer →31 ۔ ” اولئک لھم جنات عدن “ ان کے رہنے کی جگہ۔ اس کو عدن کے ساتھ تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں مؤمنین ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
” تجری… تا … من ذھب “ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو تین تین کنگن پہنائے جائیں گے۔ ایک سونے کا ایک چاندی کا اور ایک جواہر اور موتیوں کا۔ ” ویلبسون ثیابًا خضر من سندس “ باریک ریشمی کپڑا ” واستبرق “ موٹا ریشمی کپڑا۔ یعنی اس کی بناوٹ میں مضبوطی ہوگی۔ ” متکئین فیھا “ مسہریوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے۔ ” علی الارائک “ وہ پردے مسہری کے ہوں گے اس کا واحد أریکہ ہے۔
” نعم الثواب “ ان کے لیے اچھا بدلہ ہے۔ ” وحسنت “ ان کی منہری ” مرتفقًا “ بیٹھنے کی جگہ اور…
Read the full tafseer →31:۔ اوپر کی آیت میں اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اس دوسری آیت میں اہل جنت کا ذکر فرمایا ہے تمام قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے یہی طریقہ برتا ہے کہ جہاں دوزخ اور اہل دوزخ کا ذکر فرمایا ہے اس کے مقابلہ میں جنت اور اہل جنت کے عیش و آرام کا ذکر ضرور فرمایا ہے تاکہ کچھ لوگ دوزخ کے خوف سے اور کچھ لوگ جنت کے شوق سے ہدایت پائیں غرض ہدایت کا کوئی خفیہ یا شوقیہ طریقہ اس معبود مطلق نے اٹھا نہیں رکھا ہے اس پر بھی جو کوئی دنیا سے گمراہ اٹھے سوا اس کے کم نصیبی کے اس کا سبب اور کیا کہا جاسکتا ہے غریب آدمیوں کو بعضے بیش قیمت کھانے کپڑے میسر تو نہیں مگر اوروں کے کھاتے پہنتے انہوں نے آنکھوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
(آیت نمبر (29:
اے محمد ﷺ ! لوگوں سے کہہ دیجیے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے ‘ یعنی ضلالت میں سے ہدایت ‘ گمراہی میں سے راہ راست اور اہل شقاوت و اہل سعادت کی صفات واضح ہوگئی ہیں اور یہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو اپنے رسول ﷺ کی زبان پر واضح کردیا اور جب حق واضح ہوگیا تو اس میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا۔ ( فمن شاء فلیومن و من شاء فلیکفر) ” پھر جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے “ یعنی دو راستوں میں سے ایک راستے کو اختیار کیے بغیر چارہ نہیں۔ جس پر بندہ تو فیق اور عدم توفیق کے مطابق گاّون ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندے کو ارادے کی آزادی عطا کی ہے ‘ اس آزادی کی بنا پر بندہ ایمان لانے ‘ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
غار میں اصحاب کہف کی مدت قیام
قول باری ہے (ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ سنین وازدادواتسعاً ) اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں) قتادہ سے مروی ہے یہ یہود کے قول کی حکایت ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (قل اللہ اعلم بما لبثوا تم کہو اللہ ان کے قایم کی مدت زیادہ جانتا ہے ) مجاہد، ضحاک اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ غار میں ان کے قیام کی مدت اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اگر اہل کتاب اس معاملے میں تم سے بحث کرنے پر اتر آئیں تو ان سے کہہ دو ۔ اللہ ان کے قیام کی مدت کو زیادہ جانتا ہے۔…
Read the full tafseer →59۔ اہل جنت کو ملنے والے شاہانہ انعامات میں سے کچھ کا تذکرہ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کیلئے ایسی سدا بہار جنتیں ہونگی جن کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں۔ ان کو وہاں پر کنگن پہنائے جائینگے، سونے کے اور وہ سبز رنگ کے لباس پہنے ہوں گے باریک اور دبیز ریشم کے، جو علامت ہوگی بڑے اعزازو اکرام کی کہ دنیا میں یہ چیز بڑے بڑے بادشاہوں کیلئے خاص ہوا کرتی تھی۔ سو جنت کے باسیوں کو ایسی شاہانہ زندگی نصیب ہوگی کہ اس کے سامنے دنیاوی بادشاہوں کی بادشاہتیں بھی ہیچ ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین ! سو ابنائے دنیا تو اپنے مال ودولت اور دنیائے دوں کے ظاہری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
مؤمنوں کے انعام
تشریح : ذرا آنکھیں بند کر کے تصور کریں کیا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے رب العلمین نے جنت کا۔ کون ہے جو اس خوبصورت ہمیشہ والی زندگی کے لیے اس عارضی زندگی کا سب کچھ قربان نہ کر دے گا۔
” کسی حکیم اور دانا شخص سے پوچھا گیا کہ آپ کا مال کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے ظاہر کو اوصاف جمیلہ (بہترین کردار) سے آراستہ کرنا اور جو چیز لوگوں کے پاس ہے اس کی توقع نہ رکھنا، میرا سرمایہ اور مال ہے۔ “ (ازگلستان قناعت صفحہ 82)
مزید لکھتے ہیں :
آج کل مسلمان توکل علی اللہ کے وصف (صفت) سے یا تو بالکل محروم ہیں یا یہ وصف ان میں نہایت کم ہے۔ ہمارے سلف صالحین میں یہ وصف بطریق اکمل (بہت زیادہ) موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کے مرتبہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ کہہ دیں کل یہ کام کر دوں گا کہ آپ تو سراپا ہدایت تھے اور آپ کے معجزات دیکھ کر لوگ آپ ہی کی پرستش نہ کرنے لگ جائیں ، اور یہ نہ سمجھ لیں کہ سب کچھ کرنا آپ ﷺ کے ذاتی اختیار میں ہے ، لہذا کبھی مت کہیے کہ میں یہ کام کر دوں گا ، سوائے اس کے کہ انشاء اللہ ملا لیجئے یعنی اللہ جل جلالہ نے چاہا تو یہ کام کر دوں گا ۔
جب آپ ﷺ پر یہ تین سوال پیش کئے گئے تو آپ ﷺ نے فرما دیا کہ کل جواب دوں گا اور انشاء اللہ ساتھ نہ فرمایا تو کم وبیش پندرہ روز تک کوئی وحی نازل نہ ہوئی جس پر آپ ﷺ بھی بہت افسردہ ہوئے اور کفار نے بڑا مذاق اڑایا مگر پھر اس آیۃ کریمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 2 حدیث میں ہے کہ سونا اور ریشمی کپڑے مردوں کو بہشت میں ملیں گے جو شخص یہاں دنیا میں پہنے گا آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔ (موضح) فو کفار کو مسلمان فقراء کے مقابلے میں اپنے اموال و انصار پر فخر تھا اس بنا پر وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتے اور ایک مجلس میں ان کے ساتھ بیٹھنا پسند نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ بیان فرما کر سمجھایا کہ یہ فخر کے لائق نہیں ہیں کیونکہ ایک لمحہ میں فقیر غنی ہوسکتا ہے غنی فقیر دنیا میں اگر کوئی فخر کی چیز ہے تو وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طاعت اور اس کی عبادت اور یہ ان درویشوں کو حاصل ہے۔ (کبیر) کہتے ہیں کہ یہ دونوں بھائی بھائی یعنی ایک ہی باپ کے دو بیٹے تھے۔ ایک نے تو باپ کے…
Read the full tafseer →(18:31) یحلون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ تحلیۃ (تفعیل) سے مصدر۔ وہ زیور پہنائے جائیں گے۔ حلی زیور ۔ گہنا۔ حلی جمع۔ اساور۔ سوار کی جمع۔ کنگن۔ پہنچیاں۔
سندس۔ باریک ریشم ۔ باریک دیبا۔ معرب ہے فارسی سے فارسی میں سندس باریک ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں۔ استبرق۔ معرب ہے۔ ریشم کا زریں موٹا کپڑا۔ متکئین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ متکیء واحد اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگائے ہوئے پیچھے کو گائو تکیہ سے سہارا لگائے ہوئے۔
الارائک اریکۃ کی جمع۔ وہ تخت جو مزین ہو اور اس پر پردہ پڑا ہوا ہو۔ نعم الثواب۔ کتنا اچھا ہے صلہ۔ کتنا اچھا ہے یہ اجر۔
مرتفقا۔ اوپر آیت 18:30 ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 31
لانضیع ہم ضائع نہیں کریں گے۔ احسن زیادہ بہترین۔ یحلون پہنائے جائیں گے۔ اساور (سوار) کنگن، کلائی کا زیور۔ ذھب سونا۔ یلبسون وہ پہنیں گے ۔ ثیاب (ثوب) کپڑے۔ خضر سبز رنگ۔ سندس باریک تار والا ریشم۔ اسبترق موٹے تار سے بنا ریشم۔ متکئین تکیہ لگانے والے۔ الارائک (اریکۃ) مسہریاں، تخت ۔ نعم الثواب بہترین بدلہ۔ حسنت نہایت عمدہ۔
تشریح : آیت نمبر 30 تا 31
اس سیپ ہلی آیات میں کفار و مشرکین کے برے اعمال اور برے انجام کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل ایمان اور ان کے بہترین انجام کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔
فرمایا کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کرتے ہیں ان کی ہر نیکی چھوٹی ہو یا بڑی…
Read the full tafseer →اس آیت میں اعمال صالحہ کی وجہ سے ملنے والے انعامات کا ذکر فرمایا کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے واسطے باغ تیار ہے، اور ان کے مکان کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور ان باغوں میں ان کے واسطے ہر طرح کے سامان ہوں۔ یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں گنگن بھی سونے کے ہوں گے اور جنتی ریشمی لباس نہایت نفیس سبز رنگ کا پہنیں گے، اور ان کے لئے وہاں تخت بچھائے جائیں گے اور وہ تکیہ لگائے ان پر بیٹھے ہوں گے۔ جنت اور اس کی ہر نعمت جو جنتیوں کو میسر ہوگی خوب عمدہ شے ہے اور یہ بہت اچھا انعام ہے اور بہشت بہت بڑے آرام کی جگہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–41
[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
(ف 1) جو لوگ دنیا میں اسلام کی وجہ سے فاخرانہ زندگی کو ترک کردیتے ہیں اور اسلام کے اصول کو بلند کرتے رہتے ہیں ، اخروی زندگی میں انہیں تمام ان چیزوں سے بہرہ ور کیا جائے گا ، جن کا تعلق انتہائی اعزاز وفخر سے ہے ۔
جن کے لبادے یہاں بوسیدہ ، اور دریدہ ہیں ، انہیں ابریشم وقاتم دیا جائے گا پہننے کے لئے زیور ہوں گے اور ٹھاٹ کی زندگی ہوگی ، تاکہ انکو معلوم ہو کہ اللہ نے تحفہ اعمال کو قبول فرما لیا ہے ۔
حل لغات :
حففنہما : ان کے گردا گرد حف سے ہے ، جن کے معنی گھیرنے اور کسی شئے کے احاطہ کرلینے کے ہیں ۔
یحاورہ : محاورہ کے معنے باہم گفتگو کرنا ہے ۔
Read the full tafseer →-3 1 ایسے ہی نیک عمل کرنے والوں کے لئے رہنے کو دائمی باغ ہوں گے ان کے محلات و مکانات کے پاس نہریں بہ رہی ہوں گی ان لوگوں کو ان باغوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ سبز رگن کے باریک اور دبیز ریشم کے کپڑے پہنیں گے یہ لوگ ان باغوں میں مسہری نما تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے کیا ہی اچھا صلہ اور بدلا ہے اور وہ جنت آسائش کے لحاظ سے کیا ہی خوب آرام گاہ ہے۔ ایمان نہ لانے کا نقصان بھی اور ایمان لانے کا فائدہ بھی مذکور ہوا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ہیں حضرت نے فرمایا سونا اور ریشمین کپڑے مردوں کو ملنا ہے بہشت میں جو کوئی یہاں پہنے یہ چیزیں وہاں نہ پہنے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
ف 5۔ یہ جو فرمایا کہ سبز لباس ہوگا اس سے حصر مقصود نہیں کیونکہ آیات میں مصرح ہے کہ جس چیز کو جی چاہے گا وہ ملے گی۔
Read the full tafseer →جنت میں نیکوکاروں کو وہ سب کچھ ملے گا جس کی ان کو خواہش ہوگی :
34۔ فرمایا ان لوگوں کے لئے جو اچھے عمل کرتے رہے ‘ باغات ہوں گے ‘ باغات کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ سونے کی کنگن پہنے ہوئے سبز ریشم کے باریک اور دبیز کپڑوں میں آراستہ ہوں گے اور مسندوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر اس سے بھی آگے بڑھ کر بہت کچھ بیان کیا گیا اور بالآخر فرمایا ہے کہ یہ سب کچھ ان کو ملے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جو کچھ وہ طلب کریں گے پائیں گے ، اب غور کرو کہ انسانوں کی ساری طلبوں کے مجموعہ کو کسی لفظ سے ادا کیا جاسکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ ہو ایک لفظ ہے ” مسرت “ اور مسرت ایک نفسی کیفیت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
At this point, someone may doubt that this advice was reasonably practicable. A separate gathering for them would have not hurt. In fact, it would have made it easier to convey the message of Islam to them and equally easier for them to accept it. But, the creation of such a division would have amounted to seating the rebellious rich on a pedestal of honor, an action that could have broken the hearts of poor Muslims or dampened their courage. Allah Ta` ala, in His ultimate wisdom, would not put up with anything like this. Instead of that, the ground rule of Da'wah and Tabligh given by Him was…
Read the full tafseer →34. The dwellers of Paradise will be adorned with bracelets of gold like the kings of ancient times. This will be to show that they will be adorned like the kings of this world, whereas an unbeliever and wicked king will be disgraced there.
35. The Arabic word araaik is plural of arikah which is that kind of throne that is covered with an umbrella. This is also to show that in Paradise the believers will sit on thrones like the kings of this world.
Read the full tafseer →