Al-Kahf 18:30

Al-Kahf · from ayah 30

18:30

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا ۟ۚاِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ مَنۡ اَحۡسَنَ عَمَلًا‌

(اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who have believed and done righteous deeds - indeed, We will not allow to be lost the reward of any who did well in deeds.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 4 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:30

رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں، تو یقیناً ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً جو لوگ ایمان ﻻئیں اور نیک اعمال کریں تو ہم کسی نیک عمل کرنے والے کا ﺛواب ضائع نہیں کرتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

البتہ جو لوگ ایمان لائے، اور انہوں نے نیک عمل کیے، تو یقینا ہم ایسے لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے جو اچھی طرح عمل کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ان کے نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے یقیناً ہم اس شخص کا اجر ضائع نہیں کرتے جو نیک عمل کرتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، بیشک ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھا عمل کرے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو یقینا ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھے کام کرتا ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے تو ہم خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کریں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس کے برعکس) بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے ہوں گے (ان کے لئے بڑا ہی عمدہ اجر ہے کہ) بیشک ہم کسی بھی ایسے شخص کا اجر ضائع نہیں کرتے جس نے اچھی طرح کام کیا ہوگا،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے سو ہم اس کے اجر کو ضائع نہیں کرتے جو عمل اچھے طور پر کرے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے تو ہم نہیں ضائع کریں گے اجر اس شخص کا جس نے اچھا عمل کیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک عمل کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for those who believe and do good We shall not cause their reward to be lost.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for those who believe and do righteous deeds,__of course, We do not waste the reward of those who are good in deeds.

— Muhammad Taqi Usmani

As for those who believe and do righteous deeds,__of course, We do not waste the reward of those who are good in deeds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, as for those who believed and did righteous deeds, certainly We shall not make the reward of anyone to be lost who does his (righteous) deeds in the most perfect manner.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! as for those who believe and do good works - Lo! We suffer not the reward of one whose work is goodly to be lost.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who have believed and done righteous deeds - indeed, We will not allow to be lost the reward of any who did well in deeds.

— Saheeh International

The righteously striving believers should know that We do not neglect the reward of those who do good deeds.

— Muhammad Sarwar

Surely (as for) those who believe and do good, We do not waste the reward of him who does a good work.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who believe and work the righteous works-- verily We waste not the hire of one who doth well in regard to his work.

— Abdul Majid Daryabadi

As to those who believe and work righteousness, verily We shall not suffer to perish the reward of any who do a (single) righteous deed.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–31

سونے کے کنگن اور ریشمی لباس اوپر برے لوگوں کا حال اور انجام بیان فرمایا، اب نیکوں کا آغاز و انجام بیان ہو رہا ہے۔ یہ اللہ، رسول اور کتاب کے ماننے والے نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں ان کے لئے ہمیشہ والی دائمی جنتیں ہیں، ان کے بالاخانوں کے اور باغات کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں۔ انہیں زیورات خصوصا سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ان کا لباس وہاں خالص ریشم کا ہوگا، نرم باریک اور نرم موٹے ریشم کا لباس ہوگا، یہ باآرام، شاہانہ شان سے مسندوں پر جو تختوں پر ہوں گے، تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے۔ کہا گیا ہے کہ لیٹنے اور چار زانوں بیٹھنے کا نام بھی یہی قول ہیں ار ایک جمع ہے اریکہ کی تخت چھپر کھٹ وغیرہ کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 29–30

سورة الْكَهْف 31 یہاں پہنچ کر صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ اصحاب کہف کا قصہ سنانے کے بعد یہ فقرے کس مناسبت سے ارشاد ہوئے ہیں۔ اصحاب کہف کے جو واقعات اوپر بیان ہوئے ہیں ان میں یہ بتایا گیا تھا کہ توحید پر ایمان لانے کے بعد انہوں نے کس طرح اٹھ کردو ٹوک بات کہہ دی کہ " ہمارا رب تو بس وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے "۔ اور پھر کس طرح وہ اپنی گمراہ قوم سے کسی قسم کی مصالحت پر آمادہ نہ ہوئے بلکہ انہوں نے پورے عزم کے ساتھ کہا کہ " ہم اس کے سوا کسی دوسرے الہ کو نہ پکاریں گے، اگر ہم ایسا کریں تو بڑی بےجا بات کریں گے "۔ اور کس طرح انہوں نے اپنی قوم اور اس کے معبودوں کو چھوڑ کر بغیر کسی سہارے اور بغیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–30

معارف و مسائل دعوت و تبلیغ کے خاص آدابوَاصْبِرْ نَفْسَكَ اس آیت کے شان نزول میں چند واقعات مذکور رہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ سب ہی اس ارشاد کا سبب بنے ہوں بغوی نے نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن فزاری مکہ کا رئیس آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے پاس حضرت سلمان فارسی ؓ بیٹھے ہوئے تھے جو فقرا صحابہ میں سے تھے، ان کا لباس خستہ اور ہئیت فقیرانہ تھی، اور بھی اسی طرح کے کچھ فقراہ غربا مجمع میں تھے، عیینہ نے کہا کہ ہمیں آپ کے پاس آنے اور آپ کی بات سننے سے یہی لوگ مانع ہیں، ایسے خستہ حال لوگوں کے پاس ہم نہیں بیٹھ سکتے، آپ ان کو اپنی مجلس سے ہٹا دیں، یا کم از کم ہمارے لئے علیحدہ مجلس بنادیں اور ان کے لئے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 30–31

تفسیر آیات 30 تا 31: ایمان لانے والوں کو صلہ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلا۔ أُولَئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الأنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِنْ سُنْدُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الأرَائِكِ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۔ کفر کرنے والوں کے انجام کے بیان کے بعد اب یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جو قرآن کی دعوت پر ایمان لائے۔ امراء و اغنیاء چونکہ ان لوگوں کو، ان کی غربت کے سبب سے، بہت حقیر سمجھتے تھے اس وجہ سے ان کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30۔ 1 قرآن کے انداز بیان کے مطابق جہنمیوں کے ذکر کے بعد اہل جنت کا تذکرہ ہے تاکہ لوگوں کے اندر جنت حاصل کرنے کا شوق ورغبت پیدا ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–31

23: یعنی حق کے واضح ہوجانے کے بعد دنیا میں کسی کو ایمان لانے پر زبردستی مجبور نہیں کیا جاسکتا، البتہ جو شخص ایمان نہیں لائے گا، اس کو آخرت میں بیشک ایک خوفناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 30–31

بئس الشراب (29:18) ” بدترین پینے کی چیز “ ۔ یعنی یہ بدترین تواضع ہوگی جو گرمی سے جلے ہوئے ان پیاسے لوگوں کی کی جائے گی۔ کیا بری آگ ہوگی اور پھر اس آگ کے وہ خیمے کس قدر برے ہوں گے ، جو ان کے ٹھہرنے اور آرام کے لئے ان کو مہیا کئے جائیں گے۔ ان کو رہنے کے لئے جو سہولیات دی جا رہی ہیں ان میں بھی ان کے ساتھ ایک نہایت ہی سخت مذاق ہوگا ، کیونکہ وہاں ان کو سہولیات تو نہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہاں تو ان کو بھول ڈالنے کا انتظام ہوگا۔ البتہ یہاں آگ کے خیموں کا ذکر اس لئے ہے کہ ان لوگوں کی سہولیات کے ساتھ ان لوگوں کی سہولیات کا مقابلہ ہوجائے ، جو ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کیا ، لیکن دونوں کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 29–30

آیت 29 وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۣ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ کفار مکہ کی طرف سے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوششوں کے جواب میں یہاں حضور کی زبان مبارک سے واضح اور دو ٹوک انداز میں اعلان کرایا جا رہا ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے جو حق میرے پاس آیا ہے وہ میں نے تم لوگوں کے سامنے پیش کردیا ہے۔ اب تمہارے سامنے دو ہی راستے ہیں اسے من و عن قبول کرلو یا اسے رد کر دو۔ لیکن یاد رکھو اس میں کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر تم سے کوئی سودے بازی ممکن نہیں۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورة الدھر میں اس طرح بیان ہوا ہے : اِنَّا ہَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 29–30

30 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حق (قرآن) آیا ہے جو اسے ماننا چاہتا ہے اسے پورے کا پورا ماننا ہوگا، ورنہ نہ مانے۔ البتہ جو نہیں مانتا اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ابھی سے اس کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے۔ 31 سرادق کے معنی کسی خیمہ کی دیواریں ہیں یہاں مراد دوزخ کی چاردیواری ہے اور جہنم کے گرد یہ چار دیواری یا احاطہ اس لیے کیا جائے گا کہ دوزخیوں کے لیے آگ کی حرارت میں مزید اضافہ ہو اور اس آگ کی حرارت باہر نہ جانے پائے نیز باہر والے اس حرارت سے محفوظ رہیں۔ 32 مہل کا معنی تانبا یا کوئی بھی دھات جو پگھلی ہوئی حالت میں ہو یا تیل کی تلچھٹ یا لاوا جو زمین کے اندر شدت حرارت سے پگھلی ہوئی دھاتوں کے ملغوبہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

47۔ ہر انذاری اور تخویفی ذکر کے بعد ہی تبشیر اور تسلی کا بیان معمولات قرآنی میں سے ہے۔ (آیت) ” امنوا۔ اور عملوا الصلحت “۔ کے درمیان واو عطف آنے سے استدلال یہ کیا گیا ہے کہ ایمان اور عمل صالح دو چیزیں الگ الگ ہیں۔ یدل علی ان العمل الصالح مغایر للایمان لان العطف یوجب المغایرۃ (کبیر) (آیت) ” انا۔۔ عملا “۔ مسلک اہل سنت میں یہ اللہ کی طرف سے وعدہ جزائے حسن عمل کا ہے۔ عند اصحابنا ذلک الاستیجاب حصل بحکم الوعد (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–31

آیت نمبر 27 تا 31 ترجمہ : اور آپ کے پاس جو آپ کے رب کی کتاب وحی کے ذریعہ آئی ہے آپ اس کو تلاوت کیا کیجئے، اس کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا، اور آپ خدا کے سوا کہیں جائے پناہ نہ پائیں گے، اور آپ خود کو ان لوگوں کے ساتھ پابند مقید رکھا کیجئے جو صبح وشام (ہمہ وقت) اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی عبادت کا مقصد محض اپنے رب کی خوشنودی ہے ان کی دنیوی کوئی غرض نہیں ہے، اور وہ فقراء ہیں، اور دنیوی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں (توجہ) ان سے ہٹنے نہ پائیں عین بول کر صاحب عین مراد ہے اور ایسے شخص کا کہنا نہ مانئے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے یعنی قرآن سے، اور وہ عینیہ بن حصن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا۔ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے تو ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کریں گے جنہوں نے اچھی طرح کام کئے .

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 30–31

(30۔ 31) البتہ جو حضرات رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے خداوندی کی بجاآوری کی تو جو خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرے ہم ایسے لوگوں کے اجر وثواب کو ضائع نہ کریں گے ایسے حضرات کے لیے رحمن کی طرف سے محلات ہیں کہ ان محلات اور درختوں کے نیچے سے دودھ، شہد، پانی، اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی، ان لوگوں کو جنت میں سونے کے ہار پہنائے جائیں گے اور سبز رنگ کے کپڑے باریک اور موٹے ریشم کے پہنیں گے اور جنت میں مسہریوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جنت کیا ہی اچھا صلہ ہے اور کیا ہی اچھا ٹھکانا ہے یعنی بہترین جگہ ان کے رفقاء یعنی انبیاء اور صالحین کی جگہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 30–31

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : ظالمین یعنی کفار کے بعد اہل ایمان اور ان کے اجر کا ذکر فرمایا۔ اس مفہوم کی آیات کہ جو اچھا عمل کرے ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے، کے لیے دیکھیے آل عمران (171، 195)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–31

آیت نمبر 30 تا 31 جب اللہ تعالیٰ نے اس ذلت و رسوائی کا ذکر کیا جو اس نے کافروں کے لئے تیارع کر رکھی ہے تو پھر اس اجر وثواب کا بھی ذکر کیا جو اس نے مومنوں کیلئے تیار کیا ہے۔ اور اس کلام میں اضمار ہے ل یعنی لانضیع أجر من أحسن منھم عملا، فأما من أحسن عملا من غیر المؤمنین فعملہ محبط۔ (ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے جو ان میں سے اچھا کام کرتا ہے اور رہا وہ جو مومنوں کے سوا کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اس کا عمل ضائع اور رائیگاں چلا جاتا ہے) ۔ اور عملا تمییز ہونے کی بنا پر منصوب ہے، اور اگر تو چاہے تو اس پر أحسن کو واقع کرکے اسے نصب دے دے۔ اور کہا گیا ہے کہ انا لا نضیع اجر من احسن عملا کلام معترض ہے، اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 30–31

1:۔ ابن مبارک اور ابن ابی حاتم نے مقبری (رح) سے روایت کیا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے اے ابن آدم (علیہ السلام) جب تو نیک کام کرے تو اس غافل ہوجا کیونکہ وہ اس ذات کے پاس پہنچ چکی ہے جو اس کو ضائع نہیں کرے گا پھر یہ (آیت) ” انا لا نضیع اجر من احسن عملا “ پڑھی اور جب تو کوئی برا عمل کربیٹھے تو اسے ہمیشہ اپنی نظروں کے سامنے رکھ۔ 2:۔ ابن مردویہ نے سعدؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی آدمی اہل جنت میں سے جھانک اور اس کے کنگن ظاہر ہوجائیں تو مٹا دے گی اس کی روشنی سورج کی روشنی کو جیسے سورج ستاروں کی روشنی کو مٹا دیتا ہے۔ 3:۔ طبرانی نے اوسط میں اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان : بیشک ] [الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَعَمِلُوا : اور انھوں نے عمل کئے ] [الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [انا : تو بیشک ] [لَا نُضِيْعُ : ہم ضائع نہیں کرتے ] [اَجْرَ مَنْ : اس کے اجر کو جس نے ] [اَحْسَنَ : حسین بنایا ] [عَمَلًا : عمل کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–30

حق واضح ہے، جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کفر اختیار کرے اہل کفر دوزخ میں اور اہل ایمان جنت میں ہوں گے اس آیت میں اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو ایمان یا کفر اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا بندوں کے سامنے اپنی کتابوں اور نبیوں کے ذریعہ حق واضح فرما دیا ہے، اب جس کا جی چاہے ایمان کو اختیار کرے اور جس کا جی چاہے کفر پر رہے، جو ایمان لائے گا اپنا بھلا کرے گا آخرت کی نعمتوں سے سرفراز ہوگا اور جو شخص کفر اختیار کرے گا وہ اس کی سزا بھگت لے گا جو دوزخ میں آگ کے دائمی عذاب کی صورت میں ہوگی کوئی جاہل اپنی جان کا دشمن آیت کا مطلب یہ نہ سمجھ لے کہ کفر اختیار کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے یہ اجازت نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–31

حکم تلاوت قرآن و مدارات درویشان وخرقہ پوشان قال اللہ تعالیٰ واتل ما اوحی الیک .۔... الیٰ .... وحسنت موتفقا۔ (ربط) شروع سورت میں نزول کتاب کی نعمت کو بیان فرمایا اور اس کے بعد دنیا کے فناء وزوال کو بیان کیا پھر اس کے بعد اصحاب کہف کا قصہ بیان کیا جنہوں نے دنیا پر لات ماری اور مضبوطی کے ساتھ حق پر قائم رہے بالآخر کامیاب ہوئے اور ظالم اور متکبر دنیا سے رخصت ہوئے اب اصحاب کہف کے قصہ کے بعد پھر اس قرآن کی تلاوت کا حکم دیتے ہیں جس میں دشمنان اسلام کے سوالات کے جوابات نازل ہوئے۔ جس سے آنحضرت ﷺ کی نبوت ثابت ہوئی اور پھر اصحاب کہف جیسے درویشان اسلام اور اہل خرقہ یعنی گدڑی اور کمبل پوشوں کی مجالست اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 30–31

39:۔ یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ مشرکین کے شبہات کا مدلل رد کرنے کے بعد منکرین کے لیے تخویف اخروی اور مومنین کے لیے بشارتِ اخروی نازل ہوئی۔ واعلم انہ تعالیٰ لما وصف الکفر والایمان والباطل و الحق اتبعہ بذکر الوعید علی الکفر والاعمال الباطلۃ وبذکر الوعد علی الایمان والعمل الصالح (کبیر ج 5 ص 714) ۔ ” سندس “ باریک ریشم اور ” استبرق “ موٹے ریشم کو کہتے ہیں۔ السندس الرقیق من الدیباج والاستبرق الغلیظ منہ (مفردات ص 227) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–31

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد وحی الہی یعنی قرآن پاک کی تلاوت کا حکم دیا یہ ایک ایسی قطعی اور یقینی کتاب ہے جس کے کلمات کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ، اگر کوئی شخص اس پر اعتقاد رکھنے اور اس پر عمل کرنے کی بجائے اس کے خلاف چلے گا تو مجرم بن جائے گا اور کسی مجرم کے لیے خدا تعالیٰ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے اللہ نے ان مجرمین کا بھی رد فرمایا جو اپنے مالی تفوق کی بناء پر غریب ایمانداروں کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ مجلس میں بیٹھنا بھی گورار نہیں کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ ایسے مخلص ایمانداروں سے علیحدگی اختیار نہ کریں بلکہ انہیں اپنے پاس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا۝ 30ۚ أمن والإِيمان يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–31

ترکیب : یریدون حال ہے ضمیر یدعون سے ترید کا فاعل ضمیر ہے جو عینین کی طرف راجع ہے جملہ حال ہے کہ سے یا فاعل لاتعد سے۔ انالا جملہ خبر ہے ان کی۔ تفسیر : پہلی آیتوں میں فرمایا تھا کہ جو کچھ اسباب تجمل دنیا پر ہیں وہ صرف دنیا کی زینت ہے نہ آخرت کی اور وہ فانی اور سریع الزوال ہیں غرور اور دلبستگی ان سے نہ چاہیے کیونکہ وہ اسباب دارآخرت کے لیے حجاب ہیں پھر اس کے متعلق اصحاب کہف کا دلچسپ واقعہ فرمایا تھا جو دنیا کی بےثباتی پر دلالت کرتا تھا۔ کفار قریش ایسے کہاں کے تھے جو اس سے عبرتناک نتیجہ حاصل کرتے بلکہ اس کو بھی ایک دلچسپ داستان سمجھ کر آنحضرت (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے مگر اپنے اسباب دنیا کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 30–31

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لاَ نُضِیْعُ اَجْرَمَنْ اَحْسَنَ عَمَلاً ۔ اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمُ الْاَنْھٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَمِنْ ذَھْبٍ وَّیَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ مُّتَّـکِئِیْنَ فِیْھَا عَلَی الْاَرَآئِکِ ط نِعْمَ الثَّوَابُ ط وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۔ (الکہف : 31) (بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اچھے کام کیے تو ہم خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کریں گے۔ یہی وہ خوش نصیب ہیں جن کے لیے ہمیشگی کے جنت ہیں، جن کے نیچے نہریں رواں ہیں، وہ ان جنتوں میں سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 30–31

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کی سزا کے بعد جنتیوں کے انعام کا ذکر۔ فہم القرآن میں یہ بات کئی مرتبہ عرض ہوئی ہے کہ قرآن مجید کا اصول ہے کہ وہ نیک لوگوں کے بعد برے لوگوں کا، جنت کے ساتھ جہنم کا اور سزا کے ساتھ نیک لوگوں کے انعام کا ذکر کرتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر جہنم کے عذاب کیساتھ نیک لوگوں کے بہترین اجر، جنت میں ان کے مقام اور اس کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جنتیوں کے لیے ہمیشگی کے باغات ہیں۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جنتیوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہن کر اونچی جگہوں پر تکیہ لگاکر بیٹھا کریں گے۔ کتنا ہی اچھا ان کا صلہ اور آرام گاہیں ہوں گی۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 30–31

30، 31: اب ان لوگوں کے بدلہ کا تذکرہ فرمایا جنہوں نے ایمان کو چنا پس فرمایا اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَانُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا اُولٰٓپکَ لَھُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ (بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے تو ہم انکا اجر ضائع نہ کریں گے۔ جنہوں نے اچھی طرح کام کیے ایسے لوگوں کیلئے ہمیشہ رہنے کے باغات ہونگے) یہ جملہ مستانفہ ہے اس میں اجر مبہم کو بیان فرمایا۔ نحو : انا لانُضِیْعُاور اُولٰئِکَدونوں کو اکٹھی خبریں بنایا جائے۔ مطلب یہ ہے جو ان میں سے اچھے عمل والے ہیں جیسا کہ کہتے ہیں السمن منوان بدرھم۔ نمبر 2۔ کیونکہ من احسن عملاً اور الذین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 30 ۔ ” ان الذین امنوا… تا…احسن عملاً “ اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس فرمان کا جواب کہاں ہے۔ ” ان الذین امنوا وعملوا الصالحات “ اس کا جواب دیا گیا کہ اس کا جواب اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے۔ ” اولئک لھم جنات عدن تجری “ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ” انا لا نضیع اجر من احسن عملاً “ یہ کلام جملہ معترضہ کے طور پر ہے۔ بعض نے کہا کہ اس میں اضمار ہے۔ ” ان الذین آمنوا وعملوا الصالحات “ ان لوگوں کے اعمال کو ہم ضائع نہیں کرتے بلکہ ہم ان کو اس کا بدلہ دیں گے۔ پھر اس کے بعد جزاء کا ذکر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–30

29۔ 30:۔ جامع ترمذی میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے جو روایت ہے اس میں دوزخ کے ان پردوں کی تفسیر ہے جن کا ذکر اس آیت میں یوں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مکان کے پردہ کی دیواروں کی طرح دوزخ کے چاروں طرف چار دیواری ہے جس کا اثر چالس برس کے راستہ کا ہے ترمذی کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے جس کو بعضے علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن امام احمد نے اس رشدین بن سعد کو ناقابل اعتراض قرار دیا ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 1 ؎۔ کیونکہ حاکم کی سند میں بجائے رشدین ابن سعد کے ایک عبد اللہ ابن وہب راوی ہے جس کا شمار ضعیف راویوں میں نہیں ہے اور دوزخ کے اس گرم پانی کی تفسیر جس کا ذکر اس آیت میں ہے ترمذی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 29–31

(آیت نمبر (29: اے محمد ﷺ ! لوگوں سے کہہ دیجیے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے ‘ یعنی ضلالت میں سے ہدایت ‘ گمراہی میں سے راہ راست اور اہل شقاوت و اہل سعادت کی صفات واضح ہوگئی ہیں اور یہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو اپنے رسول ﷺ کی زبان پر واضح کردیا اور جب حق واضح ہوگیا تو اس میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا۔ ( فمن شاء فلیومن و من شاء فلیکفر) ” پھر جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے “ یعنی دو راستوں میں سے ایک راستے کو اختیار کیے بغیر چارہ نہیں۔ جس پر بندہ تو فیق اور عدم توفیق کے مطابق گاّون ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندے کو ارادے کی آزادی عطا کی ہے ‘ اس آزادی کی بنا پر بندہ ایمان لانے ‘ کر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–38

غار میں اصحاب کہف کی مدت قیام قول باری ہے (ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ سنین وازدادواتسعاً ) اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں) قتادہ سے مروی ہے یہ یہود کے قول کی حکایت ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (قل اللہ اعلم بما لبثوا تم کہو اللہ ان کے قایم کی مدت زیادہ جانتا ہے ) مجاہد، ضحاک اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ غار میں ان کے قیام کی مدت اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اگر اہل کتاب اس معاملے میں تم سے بحث کرنے پر اتر آئیں تو ان سے کہہ دو ۔ اللہ ان کے قیام کی مدت کو زیادہ جانتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

58۔ اللہ پاک کسی نیکوکار کے اجر کو ضائع نہیں کرتا :۔ یعنی کسی ایسے مومن شخص کے عمل کو جس کی نیت و ارادہ بھی نیک اور درست ہو کہ وہ جو کچھ کرے اللہ کی رضا و خوشنودی کیلئے کرے۔ اور طریقہ بھی صحیح ہو کہ اس کا عمل اللہ اور اس کے رسول کے ارشادات و فرمودات کے مطابق ہو۔ اللہ توفیق بخشے۔ آمین ! سو ایسے خوش نصیبوں کو وہ رب غفور وشکور ان کے پورے پورے اجروثواب سے نوازے کا۔ ان کی کسی طرح کی کوئی حق تلفی نہیں ہوگی۔ بلکہ وہ انکو اپنے فضل وکرم سے نوازے گا۔ سو منکرین و مکذبین کے انجام کو بیان کرنے کے انجام کو بیان کرنے بعد اب اس ارشاد سے ان خوش نصیبوں کے انجام کو بیان فرمایا گیا ہے جنہوں نے حکیم کی دعوت پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 30–31

مؤمنوں کے انعام تشریح : ذرا آنکھیں بند کر کے تصور کریں کیا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے رب العلمین نے جنت کا۔ کون ہے جو اس خوبصورت ہمیشہ والی زندگی کے لیے اس عارضی زندگی کا سب کچھ قربان نہ کر دے گا۔ ” کسی حکیم اور دانا شخص سے پوچھا گیا کہ آپ کا مال کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے ظاہر کو اوصاف جمیلہ (بہترین کردار) سے آراستہ کرنا اور جو چیز لوگوں کے پاس ہے اس کی توقع نہ رکھنا، میرا سرمایہ اور مال ہے۔ “ (ازگلستان قناعت صفحہ 82) مزید لکھتے ہیں : آج کل مسلمان توکل علی اللہ کے وصف (صفت) سے یا تو بالکل محروم ہیں یا یہ وصف ان میں نہایت کم ہے۔ ہمارے سلف صالحین میں یہ وصف بطریق اکمل (بہت زیادہ) موجود…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–31

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف آپ کے مرتبہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ کہہ دیں کل یہ کام کر دوں گا کہ آپ تو سراپا ہدایت تھے اور آپ کے معجزات دیکھ کر لوگ آپ ہی کی پرستش نہ کرنے لگ جائیں ، اور یہ نہ سمجھ لیں کہ سب کچھ کرنا آپ ﷺ کے ذاتی اختیار میں ہے ، لہذا کبھی مت کہیے کہ میں یہ کام کر دوں گا ، سوائے اس کے کہ انشاء اللہ ملا لیجئے یعنی اللہ جل جلالہ نے چاہا تو یہ کام کر دوں گا ۔ جب آپ ﷺ پر یہ تین سوال پیش کئے گئے تو آپ ﷺ نے فرما دیا کہ کل جواب دوں گا اور انشاء اللہ ساتھ نہ فرمایا تو کم وبیش پندرہ روز تک کوئی وحی نازل نہ ہوئی جس پر آپ ﷺ بھی بہت افسردہ ہوئے اور کفار نے بڑا مذاق اڑایا مگر پھر اس آیۃ کریمہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 30–31

ف 2 حدیث میں ہے کہ سونا اور ریشمی کپڑے مردوں کو بہشت میں ملیں گے جو شخص یہاں دنیا میں پہنے گا آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔ (موضح) فو کفار کو مسلمان فقراء کے مقابلے میں اپنے اموال و انصار پر فخر تھا اس بنا پر وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتے اور ایک مجلس میں ان کے ساتھ بیٹھنا پسند نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ قصہ بیان فرما کر سمجھایا کہ یہ فخر کے لائق نہیں ہیں کیونکہ ایک لمحہ میں فقیر غنی ہوسکتا ہے غنی فقیر دنیا میں اگر کوئی فخر کی چیز ہے تو وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طاعت اور اس کی عبادت اور یہ ان درویشوں کو حاصل ہے۔ (کبیر) کہتے ہیں کہ یہ دونوں بھائی بھائی یعنی ایک ہی باپ کے دو بیٹے تھے۔ ایک نے تو باپ کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 29–30

(18:29) قل۔ تو کہہ۔ یعنی ان لوگوں سے کہہ دے جن کے دلوں کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے ہیں۔ الحق خبر۔ جس کا مبتداء ھذا الذی اوحی الی (یہ کلام جو میری طرف وحی کیا گیا ہے) محذوف ہے۔ من ربکم حال مؤکدہ ہے۔ احاط بہم۔ اس نے ان کو (یعنی ظالمین کو) گھیر رکھا ہواگ۔ (ماضی بمعنی مضارع مستقبل) ۔ سرادقہا۔ مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب نارا کے لئے ہے۔ سرادق فارسی سے معرب ہے اس کا اصل سرادر یعنی دہلیز تھی یا بقول ایک اور عالم کے سرادق فارسی لفظ سرا پردہ سے ہے جس کے معنی ہیں گھر کے آگے پڑا ہوا پردہ۔ سرادق کی جمع سرادقات ہے سرادق ہر وہ چیز جو کسی کو اپنے گھیرے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–31

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 31 لانضیع ہم ضائع نہیں کریں گے۔ احسن زیادہ بہترین۔ یحلون پہنائے جائیں گے۔ اساور (سوار) کنگن، کلائی کا زیور۔ ذھب سونا۔ یلبسون وہ پہنیں گے ۔ ثیاب (ثوب) کپڑے۔ خضر سبز رنگ۔ سندس باریک تار والا ریشم۔ اسبترق موٹے تار سے بنا ریشم۔ متکئین تکیہ لگانے والے۔ الارائک (اریکۃ) مسہریاں، تخت ۔ نعم الثواب بہترین بدلہ۔ حسنت نہایت عمدہ۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 31 اس سیپ ہلی آیات میں کفار و مشرکین کے برے اعمال اور برے انجام کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل ایمان اور ان کے بہترین انجام کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح اختیار کرتے ہیں ان کی ہر نیکی چھوٹی ہو یا بڑی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

قرآن شریف کے عمل کرنے والوں کا ذکر اوپر کی آیت میں اہل دوزخ کا ذکر تھا۔ اس آیت میں اہل جنت کا ذکر فرمایا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے، انہوں نے اعمال صالحہ بھی کئے، ہم نیک کام کرنے والوں کے عمل کو ضائع نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–41

[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–30

(ف 2) اس آیت میں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ ایمان ایک دولت ہے ایک حقیقت ہے ، چاہو تو اس سے اپنی جھولیاں بھو لو ، اور چاہو تو محروم رہو ، رسول تمہاری وجہ سے غربا اور مساکین سے قطع تعلق نہیں کرسکتا ۔ حل لغات : فرطا : حد سے تجاوز کرنے والی بات ۔ سرادق : پردے قناتیں ، شامیانے سرا پردہ ، اساور : اسوار کی جمع ہے کلائی میں پہننے کی زنجیر یا کنگن ، ملوک عجم عموما زیور پہنتے تھے اور بالخصوص ہاتھوں میں طلائی کنگن شاہان فارس کا طرہ امتیاز تھا ان کے تتبع میں امراء عرب بھی اس کو نشان افتخار سمجھنے لگے تھے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-30 اب آگے ایمان لانے والوں کے نفع اور بھلائی کا ذکر ہ ارشاد ہوتا ہے یقینا جو لوگ ایمان لائے اور وہ ایمان کے ساتھ نیک اعمال کے بھی پابند رہے تو ہم ایسے شخص کے اجر وثواب کو ضائع نہیں کیا کرتے جو بھلا کا م کیا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 29–30

ف 3۔ ہمارا کوئی نفع و نقصان نہیں بلکہ ایمان نہ لانے سے اپنا ہی ضرر اور ایمان لانے سے اپنا ہی نفع ہے۔ 4۔ یعنی وہ قناتیں بھی آگ ہی ہیں جیسا حدیث میں ہے، اور اس میں سے نکل نہ سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ ایمان لانے والوں کا اجر بھی ان کو پورا پورا دیا جائے گا : 33۔ دنیا میں ہرچیز کی پہچان اس کی ضد سے ہوتی ہے اگر ضد نہ رہے تو کسی چیز کا کوئی وجود باقی نہ رہے ، دوزخ اور اس کی سختیوں کا ذکر کیا گیا تو جب تک اس کے ساتھ اس کی ضد جنت اور اس کی نعمتوں کا بیان نہ ہو اس پہلی بات کی تکمیل ممکن نہیں ۔ یہی معاملہ ہر جگہ پر ہے ، قرآن کریم جب ایک کا ذکر کرتا ہے تو ساتھ ہی دوسرے کا ذکر بھی کردیتا ہے ، گزشتہ آیت میں ان لوگوں کا بیان تھا جو حق اور سچ کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور پھر ان کی سزا کا بھی ذکر کردیا کہ اس دنیا میں تو وہ و ڈیرے اور عزت و تکریم کے مالک بنے بیٹھے ہیں لکنی آخر کب تک ؟ جو کچھ وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–30

Commentary Da'wah and Tabligh admit of no discrimination Some events have been mentioned in the background of the revelation of the verse: وَاصْبِرْ‌ نَفْسَكَ (And keep yourself content - 28). It is possible that all of them became the cause of this instruction. Al-Baghawi reports that ` Uyainah ibn Hisn al-Fazari, the chief of Makkah paid a visit to the Holy Prophet ﷺ . Sitting there with him was Sayyidna Salman al-Farisi ؓ who was one of the poor Sahabah. His dress was tattered and his looks, that of a derwish. Then, there were some other poor and humble people like him sitting within the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

31. This verse makes it quite plain that the story of the sleepers of the cave has been related to tell the opponents of Islam: This is the truth from your Lord. Now whosoever wills, he may accept it and whosoever wills, he may reject it. But people must understand that no compromise will be made in regard to the truth just as the sleepers of the cave did not make any compromise with regard to their creed. They did not make any compromise in regard to the doctrine of Tauhid after they had believed in it and categorically declared: Our Lord is the One Who alone is the Lord of the heavens and…

Read the full tafseer →