جہنم کی دیواریں
جو کچھ میں اپنے رب کے پاس سے لایا ہوں وہی حق صدق اور سچائی ہے شک شبہ سے بالکل خالی۔ اب جس کا جی چاہے مانے نہ چاہے نہ مانے۔ نہ ماننے والوں کے لئے آگ جہنم تیار ہے، جس کی چار دیواری کے جیل خانے میں یہ بےبس ہوں گے۔ حدیث میں ہے کہ جہنم کی چار دیواری کی وسعت چالیس چالیس سال کی راہ کی ہے (مسند احمد) اور خود وہ دیواریں بھی آگ کی ہیں۔ اور روایت میں ہے سمندر بھی جہنم ہے پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا واللہ نہ اس میں جاؤں جب تک بھی زندہ رہوں اور نہ اس کا کوئی قطرہ مجھے پہنچے۔ مہل کہتے ہیں غلیظ پانی کو جیسے زیتون کے تیل کی تلچھٹ اور جیسے خون اور پیپ جو بیحد گرم ہو۔ حضرت ابن مسعود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة الْكَهْف 31
یہاں پہنچ کر صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ اصحاب کہف کا قصہ سنانے کے بعد یہ فقرے کس مناسبت سے ارشاد ہوئے ہیں۔ اصحاب کہف کے جو واقعات اوپر بیان ہوئے ہیں ان میں یہ بتایا گیا تھا کہ توحید پر ایمان لانے کے بعد انہوں نے کس طرح اٹھ کردو ٹوک بات کہہ دی کہ " ہمارا رب تو بس وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے "۔ اور پھر کس طرح وہ اپنی گمراہ قوم سے کسی قسم کی مصالحت پر آمادہ نہ ہوئے بلکہ انہوں نے پورے عزم کے ساتھ کہا کہ " ہم اس کے سوا کسی دوسرے الہ کو نہ پکاریں گے، اگر ہم ایسا کریں تو بڑی بےجا بات کریں گے "۔ اور کس طرح انہوں نے اپنی قوم اور اس کے معبودوں کو چھوڑ کر بغیر کسی سہارے اور بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
معارف و مسائل
دعوت و تبلیغ کے خاص آدابوَاصْبِرْ نَفْسَكَ اس آیت کے شان نزول میں چند واقعات مذکور رہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ سب ہی اس ارشاد کا سبب بنے ہوں بغوی نے نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن فزاری مکہ کا رئیس آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے پاس حضرت سلمان فارسی ؓ بیٹھے ہوئے تھے جو فقرا صحابہ میں سے تھے، ان کا لباس خستہ اور ہئیت فقیرانہ تھی، اور بھی اسی طرح کے کچھ فقراہ غربا مجمع میں تھے، عیینہ نے کہا کہ ہمیں آپ کے پاس آنے اور آپ کی بات سننے سے یہی لوگ مانع ہیں، ایسے خستہ حال لوگوں کے پاس ہم نہیں بیٹھ سکتے، آپ ان کو اپنی مجلس سے ہٹا دیں، یا کم از کم ہمارے لئے علیحدہ مجلس بنادیں اور ان کے لئے…
Read the full tafseer →وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا۔
متکبرین کو آگاہی دے دو کہ یہی بات حق ہے جو خدا کی طرف سے اتری ہے اور جو میں نے تمہیں پہنچا دی ہے۔ اب کسی کے کفر و ایمان کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے جس کا جی چاہے ایمان لائے، جس کا جی چاہے کفر کرے۔ جو کفر کریں گے تو ایسے ظالموں کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے جس کی قناتیں ان کو اپنے گھیرے میں لے لیں گی اور جب یہ پانی پانی پکاریں گے تو ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28۔ 1 یہ وہی حکم ہے جو اس کے قبل سورة الا نعام۔ 52 میں گزر چکا ہے۔ مراد ان سے وہ صحابہ کرام ہیں جو غریب اور کمزور تھے۔ جن کے ساتھ بیٹھنا اشراف قریش کو گوارا نہ تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمی نبی ﷺ کے ساتھ تھے، میرے علاوہ بلال، ابن مسعود، ایک ہذلی اور دو صحابی اور تھے۔ قریش مکہ نے خواہش ظاہر کی کہ ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹا دو تاکہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کی بات سنیں، نبی کے دل میں آیا کہ چلو شاید میری بات سننے سے ان کے دلوں کی دنیا بدل جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سختی کے ساتھ ایسا کرنے سے منع فرما دیا (صحیح مسلم)
28۔ 2 یعنی ان کو دور کر کے آپ اصحاب شرف و اہل غنی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
23: یعنی حق کے واضح ہوجانے کے بعد دنیا میں کسی کو ایمان لانے پر زبردستی مجبور نہیں کیا جاسکتا، البتہ جو شخص ایمان نہیں لائے گا، اس کو آخرت میں بیشک ایک خوفناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →و قل الحق من ربکم فم شاء فلیومن و من شاء فلیکفر (29:18) ” صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، اب جس کا جی جا ہے مان لے اور جس کا جی چاہی انکار کر دے “۔ نہایت عزت کے ساتھ ، نہایت صاف گوئی کے ساتھ ، نہایت ہی فیصلہ کن انداز میں ہے یہ اعلان۔ حق کسی کے سامنے جھکتا نہیں۔ کسی کے سامنے ٹیڑہ اختیار نہیں کرتا۔ وہ بڑی قوت کے ساتھ آتا ہے۔ نہایت صراحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ اس میں کوئی رو رعایت نہیں ہوتی۔ جو چاہے اسے مان لے ، جو چاہے اس کا انکار کر دے۔ اگر کسی کو سچائی پسند نہ ہو تو اپنی راہ لے۔ اگر کسی شخص کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس کی خواہشات اللہ کی ہدایات کے تابع ہوں گی تو پھر نظریہ کے…
Read the full tafseer →5 یعنی خدا کی طرف سے سچی باتیں سنا دی گئیں، کسی کے ماننے نہ ماننے کی اسے کچھ پروا نہیں۔ جو کچھ نفع نقصان ہوگا تمہارا ہوگا۔ ماننے اور نہ ماننے والے دونوں اپنا اپنا انجام سوچ لیں جو آگے بیان کیا جاتا ہے۔ دنیا کی چہل پہل محض ہیچ اور فانی ہے۔ اس کا لطف جب ہی ہے کہ فلاح آخرت کا ذریعہ بنے۔ وہاں محض دنیا کا تمول کام نہ دے گا۔ بلکہ جو یہاں شکستہ حال تھے بہت سے وہاں عیش و آرام میں ہوں گے۔
6 وہ قناتیں بھی آگ کی ہوں گی۔
7 یعنی گرمی کی شدت سے پیاس لگے گی تو العطش پکاریں گے۔ تب تیل کی تلچھٹ یا پیپ کی طرح کا پانی دیا جائے گا۔ جو سخت حرارت اور تیزی کی وجہ سے منہ کو بھون ڈالے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
آیت 29 وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۣ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ
کفار مکہ کی طرف سے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوششوں کے جواب میں یہاں حضور کی زبان مبارک سے واضح اور دو ٹوک انداز میں اعلان کرایا جا رہا ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے جو حق میرے پاس آیا ہے وہ میں نے تم لوگوں کے سامنے پیش کردیا ہے۔ اب تمہارے سامنے دو ہی راستے ہیں اسے من و عن قبول کرلو یا اسے رد کر دو۔ لیکن یاد رکھو اس میں کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر تم سے کوئی سودے بازی ممکن نہیں۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورة الدھر میں اس طرح بیان ہوا ہے : اِنَّا ہَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
30 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حق (قرآن) آیا ہے جو اسے ماننا چاہتا ہے اسے پورے کا پورا ماننا ہوگا، ورنہ نہ مانے۔ البتہ جو نہیں مانتا اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ابھی سے اس کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے۔
31 سرادق کے معنی کسی خیمہ کی دیواریں ہیں یہاں مراد دوزخ کی چاردیواری ہے اور جہنم کے گرد یہ چار دیواری یا احاطہ اس لیے کیا جائے گا کہ دوزخیوں کے لیے آگ کی حرارت میں مزید اضافہ ہو اور اس آگ کی حرارت باہر نہ جانے پائے نیز باہر والے اس حرارت سے محفوظ رہیں۔
32 مہل کا معنی تانبا یا کوئی بھی دھات جو پگھلی ہوئی حالت میں ہو یا تیل کی تلچھٹ یا لاوا جو زمین کے اندر شدت حرارت سے پگھلی ہوئی دھاتوں کے ملغوبہ کی…
Read the full tafseer →45۔ بندہ ہی کے اختیار میں ہدایت بھی ہے اور کفر کی ذمہ داری بھی بندہ ہی پر ہے۔ حق تعالیٰ مجبور کسی کو بھی نہیں کررہا ہے۔ (آیت) ” الحق من ربکم “۔ یعنی حق تو اپنی ساری تابانی ووضاحت کے ساتھ حق تعالیٰ کی طرف سے آہی چکا ہے اور راہ ہدایت خوب اچھی طرح روشن ہوچکی ہے۔ (آیت) ” فمن شآء۔ ومن شآء “۔ ان صیغوں سے تخییر مراد نہیں۔ تہدیدو وعید مراد ہے۔ نقل عن علی بن ابی طالب انہ قال ھذہ الصیغۃ تھدید ووعید ولیس بتخییر (کبیر)
46۔ حق کی تمام و کمال وضاحتوں کے بعد بھی جو ایمان نہ لائے گا وہ خود ہی اپنا خرابہ بلائے گا۔ (آیت) ” احاط بھم سرادقھا “۔ یعنی خود وہ قناتیں بھی آگ ہی کی ہوں گی۔ (آیت) ” وان یستغیثوا “۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت نمبر 27 تا 31
ترجمہ : اور آپ کے پاس جو آپ کے رب کی کتاب وحی کے ذریعہ آئی ہے آپ اس کو تلاوت کیا کیجئے، اس کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا، اور آپ خدا کے سوا کہیں جائے پناہ نہ پائیں گے، اور آپ خود کو ان لوگوں کے ساتھ پابند مقید رکھا کیجئے جو صبح وشام (ہمہ وقت) اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی عبادت کا مقصد محض اپنے رب کی خوشنودی ہے ان کی دنیوی کوئی غرض نہیں ہے، اور وہ فقراء ہیں، اور دنیوی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں (توجہ) ان سے ہٹنے نہ پائیں عین بول کر صاحب عین مراد ہے اور ایسے شخص کا کہنا نہ مانئے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے یعنی قرآن سے، اور وہ عینیہ بن حصن…
Read the full tafseer →وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ : (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیں حق (وہ ہے جو) تمہارے رب کی طرف سے ہے۔
یعنی حق وہ ہے جس کو اللہ نے حق قرار دیا ہو۔ اقتضاء خواہشات حق نہیں ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ یہ یعنی قرآن یا اسلام حق ہے جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔
فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ : اب جو (ایمان لانا) چاہے ایمان لے آئے اور جو (کافر رہنا)
چاہے وہ کافر رہے۔ یہ کلام وعید آگیں ہے ایمان و کفر دونوں کو اختیار دیا گیا ہے جو اپنے اندر ایک خاص تہدید رکھتا ہے۔ گویا عیینہ کی درخواست کا جواب ہے۔ عیینہ نے کہا تھا ان لوگوں (کے لباس اور بدن) کی بدبو سے کیا آپ کو تکلیف نہیں ہوتی ہم قبیلۂ مضر کے…
Read the full tafseer →(29) اور آپ عیینہ سے فرما دیجیے کہ لا الہ الا اللہ کی دعوت تمہارے رب کی طرف سے ہے سو جس کا دل چاہے ایمان لے آئے اور جس کا دل چاہے کافر رہے یا یہ کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس کے متعلق مشیت خداوندی ایمان لانے کے بارے میں ہوتی ہے وہ ایمان لے آتا ہے اور جس کے کافر رہنے کے بارے میں ہوتی ہے وہ کفر پر رہتا ہے، بیشک ہم نے عیینہ اور اس کے ساتھیوں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے کہ اس کی قناتیں ان کو گھیرے ہوں گی اور اگر وہ پانی کی فریاد رسی کریں گے تو ایسے پانی سے فریاد پوری کی جائے گی جو زیتوں کے تیل کی تلچھٹ کی طرح یا پگھلی ہوئی گرم چاندی کی طرح ہوگا کہ وہ پاس آتے ہی منہ کو بھون ڈالے گا کیا ہی برا پانی ہوگا…
Read the full tafseer →وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ : ”الْحَقُّ“ پر الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”یہ حق“ کیا ہے۔
فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ۔۔ : یعنی مجھے تمہاری کوئی پروا نہیں، مانو گے تو اپنا بھلا کرو گے اور نہ مانو گے تو اپنی شامت لاؤ گے، میں مومنوں کو اپنی مجلس سے نہیں اٹھا سکتا۔
اِنَّآ اَعْتَدْنَا للظّٰلِمِيْنَ نَارًا : ”اَعْتَدْنَا“ میں تاء اصلی ہے۔ ”لِلظّٰلِمِيْنَ“ سے مراد کفار و مشرکین ہیں۔
اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا۔۔ : ”سُرَادِقٌ“ وہ پردہ جو خیمے کے اردگرد لگایا جاتا ہے، یعنی قنات، جمع ”سُرَادِقَاتٌ“ (قاموس) ”اَلْمُھْلُ“ پگھلی ہوئی دھات، وہ تانبہ ہو یا سیسہ وغیرہ اور نہایت گرم تیل کی تلچھٹ۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر 29
قولہ تعالیٰ : وقل الحق من ربکم، فمن شآء فلیومن ومن شآء فلیکفر اس میں الحق مبتداء محذوف کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، ای قل ھو الحق۔ (فرمائیے وہ حق ہے) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، اور اس کی خبر قول باری تعالیٰ من ربکم ہے۔ اور آیت کا معنی ہے : اے محمد ! ﷺ آپ فرمائیے ان لوگوں کو جن کے دلوں کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے : اے لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے ہی حق ہے اور اسی کے پاس توفیق عطا کرنا اور رسوا کرنا ہے، اسی کے دست قدرت میں ہدایت دینا اور گمراہ کرنا ہے، وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے پس وہ ایمان لے آتا ہے اور وہ گمراہ کردیتا ہے جسے چاہتا ہے پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ملتحدا “ سے مراد ہے پناہ کی جگہ۔
2:۔ ابن انباری نے وقف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولن تجد من دونہ ملتحدا “ کے بارے میں پوچھا کہ ” ملتحدا “ سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے زمین میں داخل ہونے کی جگہ خصیب ضمری نے اس معنی میں یہ لفظ استعمال کیا۔
یالھف نفسی ولھف غیر محدثہ علی وما عن قضاء اللہ ملتحد
ترجمہ : ہائے افسوس ! میری جان پر اور مجھ پر افسوس کچھ نہیں ہے قضاء الہی سے بچنے کے لئے زمین میں کوئی جگہ نہیں۔
3:۔ ابن مردویہ، ابو…
Read the full tafseer →[وَقُلِ : آپ ﷺ کہیے ] [الْحَقُّ : کل کا کل حق ] [مِنْ رَّبِكُمْ : تم لوگوں کے رب (کی طرف) سے ہے ] [فَمَنْ : پس جو ] [شَاۗءَ : چاہے ] [فَلْيُؤْمِنْ : تو وہ ایمان لائے ] [وَّمَنْ : اور جو ] [شَاۗءَ : چاہے ] [فَلْيَكْفُرْ : تو وہ انکار کرے ] [انآ : بیشک ] [اَعْتَدْنَا : ہم نے تیار کیا ] [لِلظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والوں کے لئے ] [نَارًا : ایک آگ ] [اَحَاطَ : گھیر لیں گے ] [بِهِمْ : ان کو ] [سُرَادِقُهَا : اس کی قناطیں ] [وَان : اور اگر ] [يَّسْتَغِيْثُوْا : وہ لوگ مدد کے لئے پکاریں گے ] [يُغَاثُوْا : تو ان کی مدد کی جائے گی ] [بِمَاۗءٍ : ایک ایسے پانی سے جو ] [كَالْمُهْلِ : پگھلی ہوئی دھات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
حق واضح ہے، جو چاہے ایمان لائے جو چاہے کفر اختیار کرے اہل کفر دوزخ میں اور اہل ایمان جنت میں ہوں گے
اس آیت میں اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو ایمان یا کفر اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا بندوں کے سامنے اپنی کتابوں اور نبیوں کے ذریعہ حق واضح فرما دیا ہے، اب جس کا جی چاہے ایمان کو اختیار کرے اور جس کا جی چاہے کفر پر رہے، جو ایمان لائے گا اپنا بھلا کرے گا آخرت کی نعمتوں سے سرفراز ہوگا اور جو شخص کفر اختیار کرے گا وہ اس کی سزا بھگت لے گا جو دوزخ میں آگ کے دائمی عذاب کی صورت میں ہوگی کوئی جاہل اپنی جان کا دشمن آیت کا مطلب یہ نہ سمجھ لے کہ کفر اختیار کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے یہ اجازت نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
حکم تلاوت قرآن و مدارات درویشان وخرقہ پوشان
قال اللہ تعالیٰ واتل ما اوحی الیک .۔... الیٰ .... وحسنت موتفقا۔
(ربط) شروع سورت میں نزول کتاب کی نعمت کو بیان فرمایا اور اس کے بعد دنیا کے فناء وزوال کو بیان کیا پھر اس کے بعد اصحاب کہف کا قصہ بیان کیا جنہوں نے دنیا پر لات ماری اور مضبوطی کے ساتھ حق پر قائم رہے بالآخر کامیاب ہوئے اور ظالم اور متکبر دنیا سے رخصت ہوئے اب اصحاب کہف کے قصہ کے بعد پھر اس قرآن کی تلاوت کا حکم دیتے ہیں جس میں دشمنان اسلام کے سوالات کے جوابات نازل ہوئے۔ جس سے آنحضرت ﷺ کی نبوت ثابت ہوئی اور پھر اصحاب کہف جیسے درویشان اسلام اور اہل خرقہ یعنی گدڑی اور کمبل پوشوں کی مجالست اور…
Read the full tafseer →37:۔ یہ چھٹا امر متفرع ہے۔ ” الحق “ خبر ہے اور اس کا مبتدا محذوف ہے اصل میں تھا ” ھو الحق “ اور اس سے مراد بقول امام ضحاک مسئلہ توحید ہے، امام مقاتل فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن۔ قال الضحاک ھو التوحید وقال مقاتل ھو القرآن (بحر ج 6 ص 120) ۔ یعنی آپ اعلان کردیں کہ یہ مسئلہ توحید اور اللہ کے کلمات و آیات جن میں مسئلہ توحید اور دیگر احکام بیان کیے گئے ہیں سب حق ہیں اور اللہ کی جانب سے نازل شدہ ہیں۔ ” فمن شاء فلیومن الخ “ یہ تہدید اور شان استغناء کا اظہار ہے مطلب یہ کہ ہم نے تو مسئلہ توحید کو اپنے پیغمبر کے ذریعے واضح کردیا ہے۔ اور اس کی سچائی پر عقلی اور نقلی دلائل بھی قائم کردئیے ہیں، جس کا جی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد وحی الہی یعنی قرآن پاک کی تلاوت کا حکم دیا یہ ایک ایسی قطعی اور یقینی کتاب ہے جس کے کلمات کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ، اگر کوئی شخص اس پر اعتقاد رکھنے اور اس پر عمل کرنے کی بجائے اس کے خلاف چلے گا تو مجرم بن جائے گا اور کسی مجرم کے لیے خدا تعالیٰ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے اللہ نے ان مجرمین کا بھی رد فرمایا جو اپنے مالی تفوق کی بناء پر غریب ایمانداروں کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ مجلس میں بیٹھنا بھی گورار نہیں کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ ایسے مخلص ایمانداروں سے علیحدگی اختیار نہ کریں بلکہ انہیں اپنے پاس…
Read the full tafseer →وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُم ْ 0 ۣ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ 0 ۙ اِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِيْنَ نَارًا 0ۙ اَحَاطَ بِہِمْ سُرَادِقُہَا 0ۭ وَاِنْ يَّسْتَغِيْثُوْا يُغَاثُوْا بِمَاۗءٍ كَالْمُہْلِ يَشْوِي الْوُجُوْہَ 0ۭ بِئْسَ الشَّرَابُ 0ۭ وَسَاۗءَتْ مُرْتَفَقًا 29
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
ترکیب : یریدون حال ہے ضمیر یدعون سے ترید کا فاعل ضمیر ہے جو عینین کی طرف راجع ہے جملہ حال ہے کہ سے یا فاعل لاتعد سے۔ انالا جملہ خبر ہے ان کی۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں فرمایا تھا کہ جو کچھ اسباب تجمل دنیا پر ہیں وہ صرف دنیا کی زینت ہے نہ آخرت کی اور وہ فانی اور سریع الزوال ہیں غرور اور دلبستگی ان سے نہ چاہیے کیونکہ وہ اسباب دارآخرت کے لیے حجاب ہیں پھر اس کے متعلق اصحاب کہف کا دلچسپ واقعہ فرمایا تھا جو دنیا کی بےثباتی پر دلالت کرتا تھا۔ کفار قریش ایسے کہاں کے تھے جو اس سے عبرتناک نتیجہ حاصل کرتے بلکہ اس کو بھی ایک دلچسپ داستان سمجھ کر آنحضرت (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے مگر اپنے اسباب دنیا کے…
Read the full tafseer →وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّـکُمْ قف فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآئَ فَلْیَکْـفُرْ لا اِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا لا اَحَاطَ بِہِمْ سُرَادِقُـھَا ط وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآئٍ کَالْمُھْلِ یَشْوِی الْوُجُوْہَ ط بِئْسَ الشَّرَابُ ط وَسَآئَ تْ مُرْتَفَقًا۔ (الکہف : 29)
(اور کہہ دیجیے یہی حق ہے تمہارے رب کی جانب سے، پس جس کا جی چاہے وہ ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کرتا رہے، ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتوں نے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے، اور اگر وہ (پانی کے لیے) فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی کی جائے گی ایسے پانی سے جو پگھلے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق پہنچ چکا ہے۔ تو پھر دنیا کی عیش و عشرت کی خاطر حق سے تغافل نہیں کرنا چاہیے۔ حق سے تغافل کرنے والوں کا انجام بدترین ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے حق نازل کرنے اور اس پر ایمان لانے کا حکم دینے کے باوجود حق کو انسان پر مسلط نہیں فرمایا۔ بلکہ اسے اختیار دیا کہ وہ چاہے تو حق پر ایمان لے آئے نہ چاہے تو کفر اختیار کیے رکھے کیونکہ اس کا اصول ہے۔
(لَا إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ قَدْ تَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ فَمَنْ یَکْفُرْ بالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْ باللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَہَا وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ )[…
Read the full tafseer →قبولِ حق میں اختیار البتہ کافر کا انجام برا اور مومن کا بہت خوب ہے :
29: وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ (اور کہہ دیں کہ حق وہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے ہے) حق سے مراد اسلام یا قرآن ہے۔
نحو : الحق کا لفظ ہو مبتدا محذوف کی خبر ہے۔
فَمَنْ شَآ ئَ فَلْیُؤْ مِنْ وَّمَنْ شَآ ئَ فَلْیَکْفُرْ (اب جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کافر رہے) یعنی حق آگیا اور رکاوٹیں دور ہوگئیں اب صرف تمہارے نفسوں کا اختیار باقی ہے نجات کا راستہ تم اختیار کرنا چاہتے ہو یا ہلاکت کے راستے پر چلتے ہو یہاں لفظ امر کا لایا گیا جو کہ یہاں تخییل کے لئے ہے کیونکہ جب اس نے انسان کو یہ قدرت دے دی کہ ان میں سے جس کو چاہے
اختیار…
Read the full tafseer →تفسیر 29 ۔ ” وقل الحق من ربکم “ یعنی جو ہم نے ایمان اور قرآن کے بارے میں ذکر کیا اس کا معنی یہ ہے کہ اے محمد ! (ﷺ) ان لوگوں کو کہہ دیجئے کہ جن لوگوں کے دل ہمارے ذکر سے غافل ہیں کہ اے لوگو ! یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے اور اسی کی طرف توفیق اور رسوائی ہے اسی کے ہاتھ میں ہدایت اور گمراہی ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے پاس ہدایت نہیں۔ ” فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر “ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بطور تہدید اور وعید کے ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ” اعملوا ماشئتم “ بعض نے اس آیت کا معنی یہ بیان کیا ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے میں مؤمنین کو اپنے پاس سے ہٹانے والا نہیں ہوں، تمہاری خواہشات کی بناء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
29۔ 30:۔ جامع ترمذی میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے جو روایت ہے اس میں دوزخ کے ان پردوں کی تفسیر ہے جن کا ذکر اس آیت میں یوں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مکان کے پردہ کی دیواروں کی طرح دوزخ کے چاروں طرف چار دیواری ہے جس کا اثر چالس برس کے راستہ کا ہے ترمذی کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے جس کو بعضے علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن امام احمد نے اس رشدین بن سعد کو ناقابل اعتراض قرار دیا ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 1 ؎۔ کیونکہ حاکم کی سند میں بجائے رشدین ابن سعد کے ایک عبد اللہ ابن وہب راوی ہے جس کا شمار ضعیف راویوں میں نہیں ہے اور دوزخ کے اس گرم پانی کی تفسیر جس کا ذکر اس آیت میں ہے ترمذی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
(آیت نمبر (29:
اے محمد ﷺ ! لوگوں سے کہہ دیجیے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے ‘ یعنی ضلالت میں سے ہدایت ‘ گمراہی میں سے راہ راست اور اہل شقاوت و اہل سعادت کی صفات واضح ہوگئی ہیں اور یہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو اپنے رسول ﷺ کی زبان پر واضح کردیا اور جب حق واضح ہوگیا تو اس میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا۔ ( فمن شاء فلیومن و من شاء فلیکفر) ” پھر جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے “ یعنی دو راستوں میں سے ایک راستے کو اختیار کیے بغیر چارہ نہیں۔ جس پر بندہ تو فیق اور عدم توفیق کے مطابق گاّون ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندے کو ارادے کی آزادی عطا کی ہے ‘ اس آزادی کی بنا پر بندہ ایمان لانے ‘ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
غار میں اصحاب کہف کی مدت قیام
قول باری ہے (ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ سنین وازدادواتسعاً ) اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں) قتادہ سے مروی ہے یہ یہود کے قول کی حکایت ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (قل اللہ اعلم بما لبثوا تم کہو اللہ ان کے قایم کی مدت زیادہ جانتا ہے ) مجاہد، ضحاک اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ غار میں ان کے قیام کی مدت اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اگر اہل کتاب اس معاملے میں تم سے بحث کرنے پر اتر آئیں تو ان سے کہہ دو ۔ اللہ ان کے قیام کی مدت کو زیادہ جانتا ہے۔…
Read the full tafseer →55۔ حق رب ہی کی طرف سے مل سکتا ہے :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” ان سے کہو کہ حق تمہارے رب ہی کی طرف سے ہے اور بس “۔ اور جو ہمارے ذریعے تمہارے پاس پہنچ چکا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے اس کی مرضی، لیکن حق بہرکیف یہی اور صرف یہی ہے۔ جس سے محرومی ہر محرومی سے بڑی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ کیونکہ نور حق کی اس عظیم الشان روشنی سے محرومی کے بعد اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس طرح ان لوگوں کو آخری جواب دے دیا گیا کہ حق تمہارے رب کی طرف سے آگیا اور تم لوگوں کو پہنچا بھی دیا گیا، اب کسی کے کفر و ایمان کی ذمہ داری ہم پر نہیں۔ اب جس کا جی چاہے ایمان لا کر اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
اصحاب کہف کی تعداد اور غار میں ٹھہرنے کی مدت
تشریح : ان آیات میں مزید کچھ نکات اور نصیحتیں بیان کی گئی ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے ذریعے ہمیں بتائے گئے ہیں۔ پہلے تو یہ نصیحت کی گئی کہ جو کچھ علم اللہ نے دیا ہے بس اسی کو سمجھ لو جن باتوں کو اللہ نے واضح نہیں کیا ان کے کھوج میں مت لگو، یعنی اللہ نے اصحاب کہف کے ذریعے سے جو سبق دینے تھے ان پر غور کرو۔ ان کی تعداد جگہ اور زمانے کو اللہ نے واضح نہیں کیا اس لیے جتنا جانتے ہو بتا دو ۔ دوسری نصیحت یہ کی کہ جو بھی بات آئندہ کے لیے کہو تو اس کے لیے انشاء اللہ ضرور بولو، کیونکہ مستقبل کا کسی کو علم نہیں، سوائے اس کے جو اللہ نے چاہا۔
غریب اور مخلص مؤمنوں یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کے مرتبہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ کہہ دیں کل یہ کام کر دوں گا کہ آپ تو سراپا ہدایت تھے اور آپ کے معجزات دیکھ کر لوگ آپ ہی کی پرستش نہ کرنے لگ جائیں ، اور یہ نہ سمجھ لیں کہ سب کچھ کرنا آپ ﷺ کے ذاتی اختیار میں ہے ، لہذا کبھی مت کہیے کہ میں یہ کام کر دوں گا ، سوائے اس کے کہ انشاء اللہ ملا لیجئے یعنی اللہ جل جلالہ نے چاہا تو یہ کام کر دوں گا ۔
جب آپ ﷺ پر یہ تین سوال پیش کئے گئے تو آپ ﷺ نے فرما دیا کہ کل جواب دوں گا اور انشاء اللہ ساتھ نہ فرمایا تو کم وبیش پندرہ روز تک کوئی وحی نازل نہ ہوئی جس پر آپ ﷺ بھی بہت افسردہ ہوئے اور کفار نے بڑا مذاق اڑایا مگر پھر اس آیۃ کریمہ…
Read the full tafseer →ف 1 چاروں طرف آگ کی دیوار ہوگی کہیں بھاگنے کا راستہ نہ ملے۔ حضرت ابو سعید، دری سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : آگ کی قنات چار دیواری ہے جس کی ہر دیوار اتنی موٹی ہے کہ چالیس میں میں طے ہوتی ہے۔ (ابن جریر) حضرت یعلی بن امیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’ دسمندر ابھی جہنم میں سے ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (ابن جزیہ بخاری) قتادہ کا خیال ہے کہ وہ سرادق دھوئیں اور آگ کی لپیٹ کے ہوں گے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(18:29) قل۔ تو کہہ۔ یعنی ان لوگوں سے کہہ دے جن کے دلوں کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے ہیں۔
الحق خبر۔ جس کا مبتداء ھذا الذی اوحی الی (یہ کلام جو میری طرف وحی کیا گیا ہے) محذوف ہے۔ من ربکم حال مؤکدہ ہے۔ احاط بہم۔ اس نے ان کو (یعنی ظالمین کو) گھیر رکھا ہواگ۔ (ماضی بمعنی مضارع مستقبل) ۔
سرادقہا۔ مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب نارا کے لئے ہے۔ سرادق فارسی سے معرب ہے اس کا اصل سرادر یعنی دہلیز تھی یا بقول ایک اور عالم کے سرادق فارسی لفظ سرا پردہ سے ہے جس کے معنی ہیں گھر کے آگے پڑا ہوا پردہ۔ سرادق کی جمع سرادقات ہے سرادق ہر وہ چیز جو کسی کو اپنے گھیرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
لغات القرآن آیت نمبر 27 تا 29
اتل پڑھئے، سنائیے۔ ملتحد پناہ کی جگہ۔ لاتعد نہ پھریں۔ ترید تو چاہتا ہے۔ لاتطع کہنا مت مان۔ ھواہ اس کی خواہش۔ فرطاً حد سے آگے بڑھنے والے۔ احاط گھیر لیا۔ سرادق پردہ کی دیوار، قنات۔ یستغیثوا وہ مدد چاہیں گے۔ مھل وہ چیز جو طبیعت پر ناگوار ہو۔ یشوی بھون ڈالتی ہے۔ الشراب پینے کی چیز۔ مرتفق آرام کرنے کی جگہ۔
تشریح :- آیت نمبر 27 تا 29
نبی کریم ﷺ کی شدید دلی خواہش تھی کہ اگر عرب کے سردار اور با اثر لوگ ایمان لے آئیں تو سارا عرب اسلام کی دولت سے مالا مال ہوجائے گا اور کفر و شرک کی کمر ٹوٹ کر رہ جائے گی۔ آپ اللہ کا دین پھیلانے کی جدوجہد میں رات دن کوششیں فرماتے رہتے تھے۔…
Read the full tafseer →قرآن کی نصیحت نہ سننے والوں کا ہولناک انجام
جو لوگ ہمارا حکم نہ مانیں گے اور قرآن کو خدا کا کلام نہ جانیں گے، ان کے لئے ہم نے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔ جب وہ دوزخ میں جائیں گے تو چاروں طرف سے آگ انہیں گھیر لے گی اور مثل قناعت کے ان کے چاروں طرف ہوگی اگر وہ پانی مانگیں گے تو ان کو پانی ایسا ملے گا جیسا پگھلا ہوا تانبا۔ اور اس پانی کو جب ان کے منہ کے پاس لے جائیں گے تو ان کے مونہوں کو بھون ڈالے گا اور چہرے کی تمام کھال اتر کی اس پانی میں گر پڑے گی، اور جب زبردستی وہ پانی ان کو پلایا جاوے گا تو سب انتڑیاں کٹ کر باہر گر پڑیں گی۔ ان تکلیفوں سے تنگ آکر اہل دوزخ اپنے مرنے کی دعا مانگیں گے۔ ہزار برس تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–41
[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(ف 2) اس آیت میں واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ ایمان ایک دولت ہے ایک حقیقت ہے ، چاہو تو اس سے اپنی جھولیاں بھو لو ، اور چاہو تو محروم رہو ، رسول تمہاری وجہ سے غربا اور مساکین سے قطع تعلق نہیں کرسکتا ۔
حل لغات :
فرطا : حد سے تجاوز کرنے والی بات ۔
سرادق : پردے قناتیں ، شامیانے سرا پردہ ،
اساور : اسوار کی جمع ہے کلائی میں پہننے کی زنجیر یا کنگن ، ملوک عجم عموما زیور پہنتے تھے اور بالخصوص ہاتھوں میں طلائی کنگن شاہان فارس کا طرہ امتیاز تھا ان کے تتبع میں امراء عرب بھی اس کو نشان افتخار سمجھنے لگے تھے ۔
Read the full tafseer →-29 اور آپ ان سے کہہ دیجیے کہ یہ دین حق تمہارے پروردگار کی جانب سے آیا ہے سو جس کا جی چاہے اس کو مانے اور ایمان لائے اور جو چاہے اس کو نہ مانے اور کافر بنا رہے بلاشبہ ہم نے ایسے ظالموں اور نا انصافوں کے لئے ایک ایسی آگ تیار کر رکھی ہے کہ آگ کی قناتیں ان ظالموں کو گھیرے ہوئے ہوں گی اور اگر وہ کافر پیاس کی وجہ سے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایک ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی مثل ہوگا جو اپنی حرارت کی وجہ سے ان ظالموں کے منہوں کو بھون ڈالے گیا کیا کیا ہی برا پانی ہوگا اور وہ دوزخ کیا ہی بری آرام گاہ ہوگی۔
یعنی دین حق پروردگار کی جانب سے آچکا اب اگر ایمان لائو گے تو تمہارا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 3۔ ہمارا کوئی نفع و نقصان نہیں بلکہ ایمان نہ لانے سے اپنا ہی ضرر اور ایمان لانے سے اپنا ہی نفع ہے۔
4۔ یعنی وہ قناتیں بھی آگ ہی ہیں جیسا حدیث میں ہے، اور اس میں سے نکل نہ سکیں گے۔
Read the full tafseer →سچائی بہرحال سچائی ہے اس لئے وہ اس بات کی محتاج نہیں کہ کوئی اس کو مانے :
32۔ فرمایا قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے جو حق اور سچ ہے اور جو کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے وہ بھی حق اور سچ ہے ، اس حق اور سچ کو لوگوں کے سامنے پیش کیا جارہا ہے ، اب اس کو ماننا یا اس سے انکار کردینا لوگوں کا اپنا کام ہے اس لئے کہ اللہ نے اس بات کا ہر انسان کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ حق اور سچ کو مانے یا جھوٹ کا ساتھ دے ، ہاں حق اور سچ اس بات کا محتاج نہیں کہ کوئی اس کو مانے تب ہی وہ حق اور سچ ہوگا ۔ حق بہر حال حق ہے کوئی اس کو مانے یا نہ مانے ، اللہ تعالیٰ نہ کسی شخص کو ایمان پر مجبور کرتا ہے نہ کفر پر پھر جیسے کسی کے اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
Commentary
Da'wah and Tabligh admit of no discrimination
Some events have been mentioned in the background of the revelation of the verse: وَاصْبِرْ نَفْسَكَ (And keep yourself content - 28). It is possible that all of them became the cause of this instruction. Al-Baghawi reports that ` Uyainah ibn Hisn al-Fazari, the chief of Makkah paid a visit to the Holy Prophet ﷺ . Sitting there with him was Sayyidna Salman al-Farisi ؓ who was one of the poor Sahabah. His dress was tattered and his looks, that of a derwish. Then, there were some other poor and humble people like him sitting within the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
31. This verse makes it quite plain that the story of the sleepers of the cave has been related to tell the opponents of Islam: This is the truth from your Lord. Now whosoever wills, he may accept it and whosoever wills, he may reject it. But people must understand that no compromise will be made in regard to the truth just as the sleepers of the cave did not make any compromise with regard to their creed. They did not make any compromise in regard to the doctrine of Tauhid after they had believed in it and categorically declared: Our Lord is the One Who alone is the Lord of the heavens and…
Read the full tafseer →