Explained with ayahs 27–28
تلاوت و تبلیغ
اللہ کریم اپنے رسول ﷺ کو اپنے کلام کی تلاوت اور اس کی تبلیغ کی ہدایت کرتا ہے، اس کے کلمات کو نہ کوئی بدل سکے نہ ٹال سکے، نہ ادھر ادھر کرسکے، سمجھ لے کہ اس کے سوائے جائے پناہ نہیں، اگر تلاوت و تبلیغ چھوڑ دی تو پھر بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ اے رسول جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے اس کی تبلیغ کرتا رہ اگر نہ کی تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا لوگوں کے شر سے اللہ تجھے بچائے رکھے گا۔ اور آیت میں ہے (اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ۭ قُلْ رَّبِّيْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَاۗءَ بالْهُدٰى وَمَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 85) 28۔…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 28
ابن عباس کی روایت کے مطابق، قریش کے سردار نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ یہ بلال ؓ اور صہیب ؓ اور عَمَّار ؓ اور خَبّاب ؓ اور ابن مسعود ؓ جیسے غریب لوگ، جو تمہاری صحبت میں بیٹھا کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہم نہیں بیٹھ سکتے۔ انہیں ہٹاؤ تو ہم تمہاری مجلس میں آسکتے ہیں اور معلوم کرسکتے ہیں اور معلوم کرسکتے ہیں کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ سے فرمایا کہ جو لوگ رضائے الٰہی کی خاطر تمہارے گرد جمع ہوئے ہیں اور شب و روز اپنے رب کو یاد کرتے ہیں، ان کی معیت پر اپنے دل کو مطمئن کرو اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو۔ کیا تم ان مخلص لوگوں کو چھوڑ کر یہ چاہتے ہو کہ دنیوی ٹھاٹھ باٹھ رکھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
معارف و مسائل
دعوت و تبلیغ کے خاص آدابوَاصْبِرْ نَفْسَكَ اس آیت کے شان نزول میں چند واقعات مذکور رہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ سب ہی اس ارشاد کا سبب بنے ہوں بغوی نے نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن فزاری مکہ کا رئیس آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے پاس حضرت سلمان فارسی ؓ بیٹھے ہوئے تھے جو فقرا صحابہ میں سے تھے، ان کا لباس خستہ اور ہئیت فقیرانہ تھی، اور بھی اسی طرح کے کچھ فقراہ غربا مجمع میں تھے، عیینہ نے کہا کہ ہمیں آپ کے پاس آنے اور آپ کی بات سننے سے یہی لوگ مانع ہیں، ایسے خستہ حال لوگوں کے پاس ہم نہیں بیٹھ سکتے، آپ ان کو اپنی مجلس سے ہٹا دیں، یا کم از کم ہمارے لئے علیحدہ مجلس بنادیں اور ان کے لئے…
Read the full tafseer →وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا
فرط کے معنی اسراف ظلم اور حدود سے تجاوز کے ہیں۔ الامر الفطرت وہ معاملہ جو حدود سے بالکل متجاوز ہوگیا ہو۔
متکبرین کے باب میں پیغمبر کو ہدایت : آنحضرت ﷺ کو اپنی قوم کے سرداروں اور مالداروں کے ایمان کی فکر خدانخواستہ اپنی ات کے لیے نہیں تھی بلکہ صرف دین کی سربلندی کی خاطر تھی۔ آپ سمجھتے تھے کہ ان لوگوں کا ایمان دوسروں کے ایمان کی راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
28۔ 1 یہ وہی حکم ہے جو اس کے قبل سورة الا نعام۔ 52 میں گزر چکا ہے۔ مراد ان سے وہ صحابہ کرام ہیں جو غریب اور کمزور تھے۔ جن کے ساتھ بیٹھنا اشراف قریش کو گوارا نہ تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمی نبی ﷺ کے ساتھ تھے، میرے علاوہ بلال، ابن مسعود، ایک ہذلی اور دو صحابی اور تھے۔ قریش مکہ نے خواہش ظاہر کی کہ ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹا دو تاکہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کی بات سنیں، نبی کے دل میں آیا کہ چلو شاید میری بات سننے سے ان کے دلوں کی دنیا بدل جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سختی کے ساتھ ایسا کرنے سے منع فرما دیا (صحیح مسلم)
28۔ 2 یعنی ان کو دور کر کے آپ اصحاب شرف و اہل غنی کو…
Read the full tafseer →22: بعض کفار کا مطالبہ یہ بھی تھا کہ جو غریب اور کم حیثیت لوگ آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہتے ہیں، اگر آپ انہیں اپنے پاس سے ہٹادیں تو ہم آپ کی بات سننے کو تیار ہوں گے، موجودہ حالت میں ہم ان غریبوں کے ساتھ بیٹھ کر آپ کی کوئی بات نہیں سن سکتے، یہ آیت اس مطالبے کو رد کرکے آنحضرت ﷺ کو ہدایت دے رہی ہے کہ آپ اس مطالبے کو نہ مانیں اور اپنے غریب صحابہ کی رفاقت نہ چھوڑیں، اور اس ضمن میں ان غریب صحابہ کرام کی فضیلت اور ان کے مقابلے میں ان مالدار کافروں کی برائی بیان فرمائی گئی ہے۔ یہی مضمون سورة انعام (6۔ 52) میں بھی گزرچکا ہے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 131 ایک نظر میں
یہ سبق سب کا سب اسلامی نظریہ حیات کی قدروں کے تعین کے موضوع کے ساتھ منسلک ہے۔ اسلامی نظریہ حیات کی رو سے اعلیٰ قدریں صرف مال و دولت ، منصب و مرتبہ اور اقتدار و اختیارات ہی نہیں ہیں ، نیز اسلامی نظریہ حیات کی رو سے اعلیٰ قدریں صرف زندگی کا سازوسامان یا عیش و عشرت ہی نہیں ہیں۔ یہ تو سب کھوٹی اور زائل ہونے والی چیزیں ہیں۔ ان چیزوں سے جو حلال و طیب ہیں۔ اسلام ان کے خلاف نہیں ہے ، لیکن اسلام ان چیزوں کو انسانی زندگی کا مقصد اعلیٰ بھی قرار نہیں دیتا۔ اگر کوئی ان چیزوں سے زندگی میں فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو وہ بیشک اٹھائے ، لیکن وہ اس ذات باری کا بھی شکریہ ادا کرے جس نے انسان…
Read the full tafseer →2 یعنی اس کے دیدار اور خوشنودی حاصل کرنے کے شوق میں نہایت اخلاص کے ساتھ دائماً عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ مثلاً ذکر کرتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، نمازوں پر مداومت رکھتے ہیں، حلال و حرام میں تمیز کرتے ہیں، خالق و مخلوق دونوں کے حقوق پہچانتے ہیں گو دنیاوی حیثیت سے معزز اور مالدار نہیں۔ جیسے صحابہ میں اس وقت عمار، صہیب، بلال، ابن مسعود وغیرہ ؓ تھے۔ ایسے مومنین مخلصین کو اپنی صحبت و مجالست سے مستفید کرتے رہیے۔ اور کسی کے کہنے سننے پر ان کو اپنی مجلس سے علیحدہ نہ کیجئے۔
3 یعنی ان غریب شکستہ حال مخلصین کو چھوڑ کر موٹے موٹے متکبر دنیا داروں کی طرف اس غرض سے نظر نہ اٹھائیے کہ ان کے مسلمان ہوجانے سے دین…
Read the full tafseer →آیت 28 وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ
یہ بلال حبشی عبد اللہ بن اُمّ مکتوم عمار بن یاسر اور خباب جیسے لوگ اگرچہ مفلس اور نادار ہیں مگر اللہ کی نظر میں بہت اہم ہیں۔ آپ ان لوگوں کی رفاقت کو غنیمت سمجھئے اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کیجیے۔
يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ ۚ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا
ان غلاموں اور بےآسرا لوگوں سے آپ کی توجہ ہٹ کر کہیں مکہ کے سرداروں اور امراء کی طرف نہ ہونے پائے جس سے لوگوں کو یہ گمان ہو کہ آپ بھی دنیا کی زیب وزینت ہی کو اہمیت دیتے ہیں۔ لہٰذا ولید بن مغیرہ بظاہر کتنا ہی…
Read the full tafseer →28 غریب اور مخلص مومنوں سے آپ کو وابستہ رہنے کی ہدایت :۔ یہ صبح و شام اللہ کے ذکر میں مشغول رہنے والے اور اللہ کی رضا چاہنے والے لوگ بموجب روایات سیدنا بلال بن رباح ؓ ، سیدنا صہیب رومی ؓ ، سیدنا خباب بن الارت ؓ ، سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ اور سیدنا عمار بن یاسر ؓ تھے جو سب کے سب غریب طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان میں سے اکثر سرداران قریش کے غلام یا آزاد کردہ غلام تھے جو اکثر اوقات آپ کی صحبت میں رہا کرتے تھے اب اونچی ناک والے قریشی سرداروں مثلاً عیینہ بن بدر اوراقرع بن حابس وغیرہ آپ سے یہ کہا کرتے تھے کہ ہر وقت یہ رذیل قسم کے لوگ آپ کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں تو ان کی موجودگی میں ہم کیسے ان کے ساتھ…
Read the full tafseer →43۔ (نہ کہ کسی دنیوی غرض باطل سے) وصف ان مومنین کے اخلاص کامل کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” بالغدوۃ والعشی “۔ یعنی علی الدوام۔ دو وقتوں میں حصر مقصود نہیں۔ المراد کو نھم مواظبین علی ھذا العمل فی کل الاوقات (کبیر) شاع استعمال مثل ھذہ العبارۃ للدوام (روح)
44۔ (خواہش نفس کی پیروی میں) (آیت) ” ولا تعد عینک عنھم “۔ محاورہ میں اس سے مراد بےتوجہی، بےاعتنائی کرنے سے ہے۔ (آیت) ” ترید زینۃ الحیوۃ الدنیا “۔ رسول اللہ ﷺ کو جوش وانہماک تبلیغ میں قدرۃ اس کی فکر زیادہ رہا کرتی تھی کہ رؤسا قریش میں سے کوئی ایمان لے آئے تو امت کے جمال و کمال میں نمایاں اضافہ ہوجائے۔ آیت میں اشارہ اس جانب ہے کہ امت کا جمال و کمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت نمبر 27 تا 31
ترجمہ : اور آپ کے پاس جو آپ کے رب کی کتاب وحی کے ذریعہ آئی ہے آپ اس کو تلاوت کیا کیجئے، اس کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا، اور آپ خدا کے سوا کہیں جائے پناہ نہ پائیں گے، اور آپ خود کو ان لوگوں کے ساتھ پابند مقید رکھا کیجئے جو صبح وشام (ہمہ وقت) اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی عبادت کا مقصد محض اپنے رب کی خوشنودی ہے ان کی دنیوی کوئی غرض نہیں ہے، اور وہ فقراء ہیں، اور دنیوی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں (توجہ) ان سے ہٹنے نہ پائیں عین بول کر صاحب عین مراد ہے اور ایسے شخص کا کہنا نہ مانئے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے یعنی قرآن سے، اور وہ عینیہ بن حصن…
Read the full tafseer →وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ : اور اپنے آپ کو
قائم رکھو ‘ جمائے رکھو ان لوگوں کے ساتھ جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں (دعا اور ذکر کرتے ہیں) اس سے ان کا مقصد صرف اپنے رب کی خوشنودی کا حصول ہوتا ہے (کوئی اور غرض نہیں ہوتی)
اصْبِرْنَفْسَکَ اپنے آپ کو روکے رکھو ‘ جمائے رکھو۔ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ صبح شام یا تمام اوقات میں۔ یُرِیْدُوْنَ یعنی ان کی عبادت کی غرض سوائے ذات خداوندی کے اور کچھ نہیں ہوتی۔ وَجْہَہٗ میں لفظ وجہ زائد ہے جیسے آیت وَیَبْقٰی وَجْہُ رَّبِّکَ میں لفظ وجہ زائد ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ ان کو اللہ کی ذات کے…
Read the full tafseer →(28) اور آپ اپنے کو ان لوگوں کے ساتھ مقید رکھا کیجیے جو صبح وشام اپنے رب کی عبادت محض اس کی رضا اور خوشنودی کے لیے کرتے ہیں جیسا کہ حضرت سلمان فارسی ؓ اور دنیوی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں ان سے ہٹنے نہ پائیں، اور ایسے شخص کی بات نہ مانیے جس کے قلب کو ہم نے اپنی توحید سے غافل کردیا ہے اور دو بتوں کی پوجا میں مصروف ہے اور اس کی یہ باتیں سب اکارت اور برباد ہیں یہ آیت کریمہ عیینہ بن حصن فزاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ولا تطع من اغفلنا“۔ (الخ)
ابن مردویہ ؒ نے جریر ؒ اور ضحاک ؒ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں روایت کیا ہے، کہ یہ آیت امیہ بن…
Read the full tafseer →وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ : ”لَا تَعْدُ عَيْنٰكَ“ ”عَدَا یَعْدُوْ“ (ن) سے نہی کا صیغہ ہے، تجاوز نہ کریں تیری آنکھیں۔ یہ وہی حکم ہے جو اس سے پہلے سورة انعام (52) میں گزر چکا ہے۔ مراد وہ کمزور مسلمان ہیں جن کے پاس قریش کے چودھریوں کو بیٹھنا گوارا نہ تھا۔ سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ چھ آدمی تھے تو مشرکین نے آپ سے کہا، ان لوگوں کو دور ہٹا دیں کہ یہ لوگ ہم پر جرأت نہ کریں۔ میں تھا، ابن مسعود، قبیلہ ہذیل کا ایک آدمی، بلال اور دو آدمی اور جن کا میں نام نہیں لیتا۔ تو رسول اللہ ﷺ کے دل میں آیا جو اللہ نے چاہا کہ آئے، تو آپ ﷺ نے اپنے دل میں کوئی بات…
Read the full tafseer →آیت نمبر 28
قولہ تعالیٰ : واصبر نفسک۔۔۔۔۔ والعشی یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی مثل ہے : ولا تطرد۔۔۔۔ والعشی (الانعام : 52) (اور نہ دور ہٹاؤ انہیں جو پکارتے رہتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام) یہ سورة الانعام میں ہے اور اس کے بارے کلام گزر چکی ہے۔ اور حضرت سلمان فارسی ؓ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مولفۃ قلوب آئے۔ یعنی عینیہ بن حصن اور اقرع بن حابس اور انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ بلاشبہ اگر آپ صدر مجلس میں تشریف رکھیں اور آپ ہم سے انہیں اور ان کے جبوں کی بوکو دور کریں۔ مراد حضرت سلمان، حضرت ابوذر ؓ اور مسلمان فقراء ہیں، وہ اون کے جبے پہنے ہوئے تھے اور ان پر ان کے سوا کچھ نہ تھا۔ تو ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ملتحدا “ سے مراد ہے پناہ کی جگہ۔
2:۔ ابن انباری نے وقف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولن تجد من دونہ ملتحدا “ کے بارے میں پوچھا کہ ” ملتحدا “ سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے زمین میں داخل ہونے کی جگہ خصیب ضمری نے اس معنی میں یہ لفظ استعمال کیا۔
یالھف نفسی ولھف غیر محدثہ علی وما عن قضاء اللہ ملتحد
ترجمہ : ہائے افسوس ! میری جان پر اور مجھ پر افسوس کچھ نہیں ہے قضاء الہی سے بچنے کے لئے زمین میں کوئی جگہ نہیں۔
3:۔ ابن مردویہ، ابو…
Read the full tafseer →[وَاصْبِرْ : اور آپ ﷺ روکیں ] [نَفْسَكَ : اپنے آپ کو ] [مَعَ الَّذِينَ : ان لوگوں کے ساتھ جو ] [يَدْعُوْنَ : پکارتے ہیں ] [رَبَّهُمْ : اپنے رب کو ] [بِالْغَدٰوةِ : صبح کو ] [وَالْعَشِيِّ : اور شام کو ] [يُرِيْدُوْنَ : چاہتے ہوئے ] [وَجْهَهٗ : اس کے چہرے (یعنی توجہ) کو ] [وَلَا تَعْدُ : اور چاہیے کہ آگے نہ نکلیں ] [عَيْنٰكَ : آپ ﷺ کی دونوں آنکھیں ] [عَنْهُمْ : ان لوگوں سے (یعنی ان کو مت چھوڑیں)] [تُرِيْدُ : (کہ) آپ ﷺ تلاش کرتے ہوں ] [زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی کی زینت کو ] [وَلَا تُطِعْ : اور آپ ﷺ پیروی مت کریں ] [مَنْ : اس کی ] [اَغْفَلْنَا : ہم نے غافل کیا ] [قَلْبَهٗ : جس…
Read the full tafseer →(وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ ) یعنی جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں آپ ان کے ساتھ بیٹھے رہا کیجیے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں۔ اس میں حضرات صحابہ کی دو طرح تعریف ہے اول یہ کہ وہ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں دوسرے یہ کہ وہ اللہ کی رضا کو چاہتے ہیں۔ (وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا) (اور آپ ایسے شخص کی بات نہ مانئے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا) (وَ اتَّبَعَ ھَوٰہُ ) (اور جو اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا) (وَ کَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا) (اور اس کا حال حد سے بڑھ گیا) اس میں یہ فرمایا ہے کہ جن لوگوں کو ہماری یاد کا دھیان نہیں ہے اپنی خواہش کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
حکم تلاوت قرآن و مدارات درویشان وخرقہ پوشان
قال اللہ تعالیٰ واتل ما اوحی الیک .۔... الیٰ .... وحسنت موتفقا۔
(ربط) شروع سورت میں نزول کتاب کی نعمت کو بیان فرمایا اور اس کے بعد دنیا کے فناء وزوال کو بیان کیا پھر اس کے بعد اصحاب کہف کا قصہ بیان کیا جنہوں نے دنیا پر لات ماری اور مضبوطی کے ساتھ حق پر قائم رہے بالآخر کامیاب ہوئے اور ظالم اور متکبر دنیا سے رخصت ہوئے اب اصحاب کہف کے قصہ کے بعد پھر اس قرآن کی تلاوت کا حکم دیتے ہیں جس میں دشمنان اسلام کے سوالات کے جوابات نازل ہوئے۔ جس سے آنحضرت ﷺ کی نبوت ثابت ہوئی اور پھر اصحاب کہف جیسے درویشان اسلام اور اہل خرقہ یعنی گدڑی اور کمبل پوشوں کی مجالست اور…
Read the full tafseer →35:۔ یہ تیسرا امر متفرع ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے یعنی آپ صبر و استقامت کے ساتھ مسئلہ توحید کی اشاعت کرتے رہیں اور جو لوگ مسئلہ توحید مان چکے اور محض اللہ کی رضا کے طلبگار ہیں صبح و شام حاجات و مشکلات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتے۔ آپ ان کا ساتھ نہ چھوڑیں۔ حاصل یہ کہ آپ اپنے دعوے پر قائم رہیں اور ان لوگوں کے ساتھ مجلس کریں جو محض اللہ کی بندگی کرتے اور صرف اسی کو پکارتے ہیں اور شرک نہیں کرتے۔ ” الذین یدعون ربھم “ میں حصر ہے یعنی وہ صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو نہیں پکارتے۔ یہاں اگرچہ کوئی کلمہ حصر موجود نہیں لیکن مفہوم حصر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(کتاب الہی کی حقانیت)
اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وحی الہی یعنی قرآن پاکی اہمیت کا ذکر کیا ہے اور معترضین کے اعتراضات کا علاج تجویز کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واتل ما اوحی الیک من کتاب ربک “۔ آپ پڑھیں اس چیز کو جو وحی کی گئی ہے آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی کتاب ، صحیح بات تو اسی کتاب میں ہوگی جو لوگ اس کے خلاف باتیں کرتے ہیں ، وہ یقینی نہیں ہیں قطعی اور یقینی علم نہ تو لوگوں کی سنی سنائی باتوں میں ہے ، نہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آپ اس کتاب پر اعتقاد رکھیں ، اس کی تلاوت کریں اور اسی کو اپنا نصب العین بنائیں ۔
قرآن پاک وحی جلی اور ہر…
Read the full tafseer →وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْہَہٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْہُمْ 0ۚ تُرِيْدُ زِيْنَۃَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا 0ۚ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَكَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا 28
صبر
الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر»
( ص ب ر ) الصبر
کے معنی ہیں کسی کو تنگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
ترکیب : یریدون حال ہے ضمیر یدعون سے ترید کا فاعل ضمیر ہے جو عینین کی طرف راجع ہے جملہ حال ہے کہ سے یا فاعل لاتعد سے۔ انالا جملہ خبر ہے ان کی۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں فرمایا تھا کہ جو کچھ اسباب تجمل دنیا پر ہیں وہ صرف دنیا کی زینت ہے نہ آخرت کی اور وہ فانی اور سریع الزوال ہیں غرور اور دلبستگی ان سے نہ چاہیے کیونکہ وہ اسباب دارآخرت کے لیے حجاب ہیں پھر اس کے متعلق اصحاب کہف کا دلچسپ واقعہ فرمایا تھا جو دنیا کی بےثباتی پر دلالت کرتا تھا۔ کفار قریش ایسے کہاں کے تھے جو اس سے عبرتناک نتیجہ حاصل کرتے بلکہ اس کو بھی ایک دلچسپ داستان سمجھ کر آنحضرت (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے مگر اپنے اسباب دنیا کے…
Read the full tafseer →وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدُعُوْنَ رَبَّـھُمْ بِالْغَدٰو ۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ وَلاَ تَعْدُ عَیْنٰـکَ عَنْہُمْ ج تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحٰیوۃِ الدُّنْیَا ج وَلاَ تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا۔ (الکہف : 28)
(اور آپ ﷺ روکے رکھئے اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی رضا کے طلبگار ہیں اور آپ ﷺ کی نگاہیں ان سے ہٹنے نہ پائیں کیا آپ ﷺ دنیوی زندگی کی زینت چاہتے ہیں آپ ﷺ اس شخص کی بات کی طرف دھیان نہ دیں جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کا اتباع کرتا ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے بےجا اعتراضات اور مطالبات پر آپ ﷺ کو صبر کی تلقین اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ وابستہ رہنے کا حکم :
کفار مکہ کا مسلسل مطالبہ تھا کہ اگر قرآن مجید میں ردوبدل کردیا جائے تو ہم تجھ پر ایمان لانے کے لیے تیار ہیں۔ جب یہ مطالبہ کلیتاً مسترد کردیا گیا تو انہوں نے یہ مطالبہ کرڈالا کہ جب ہم آپ کے پاس حاضر ہوں تو جو لوگ معاشی اور معاشرتی اعتبار سے کمزور ہیں وہ آپ کی مجلس میں نہیں ہونے چاہییں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پہلے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے بتلایا کہ اللہ کے کلام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ اگر آپ اس میں ردوبدل کا خیال کریں کہ یہ لوگ اس پر راضی ہوجائیں تو یادرکھنا ایسی…
Read the full tafseer →غیر مسلموں کا مقام :
28: جب کفار کے رئوساء نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ان غریب مسلمانوں اور غلاموں کو جیسے صہیب ‘ عمار ‘ خباب وغیرہ کو اپنے پاس سے ہٹائو تو پھر ہم آپ کے پاس بیٹھیں گے تو یہ آیت اتری۔ وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ (اپنے آپ کو قائم رکھو اور جمائے رکھو ان لوگوں کے ساتھ جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں) ان کے ساتھ روک کر رکھو اور اپنے آپ کو مضبوط کر کے رکھو بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ (صبح اور شام میں) جو ہر وقت میں اللہ کو پکارنے کے عادی ہیں نمبر 2۔ صبح کو اللہ سے توفیق اور آسانی مانگتے ہیں اور شام کو اپنی تقصیر ات کی معافی مانگتے ہیں نمبر 3۔ غداۃ سے…
Read the full tafseer →واصبر نفسک کا شان نزول
تفسیر 28 ۔ ” واصبر نفسک “ اس آیت مذکورہ کا نزول عیینہ بن حصن فزاری کے حق میں ہوا۔ یہ اسلام لانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت کچھ نادار مسلمان خدمت گرامی میں بیٹھے ہوئے تھے جن میں سلمان فارسی بھی تھے۔ حضرت سلمان ؓ ایک چھوٹی سی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور آپ کو پسینہ بھی آ رہا تھا۔ عیینہ بولا محمد (ﷺ) کیا آپ کو ان لوگوں کی بدبو سے دکھ نہیں پہنچتا۔ ہم قبائل مضر کے سردار اور بڑے لوگ ہیں، اگر ہم مسلمان ہوگئے تو سب لوگ مسلمان ہوجائیں گے لیکن ہم کو آپ کی اتباع کرنے سے ایسے لوگوں کی آپ کے پاس موجودگی روکتی ہے ان کو آپ ہٹا دیں تو ہم آپ کا اتباع کرنے لگیں گے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27۔ 28:۔ صحیح مسلم میں سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے مالدار مکہ مشرکوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے یہ خواہش کی تھی کہ ہمارے آپ کے پاس آنے کے وقت غریب مسلمان آپ کی مجلس میں نہ بیٹھیں گے تو ہم آپ کی مجلس میں آن کر قرآن کی آیتیں سنا کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎۔ اور فرمایا اللہ کا حکم نہیں بدل سکتا اس کا حکم یہی ہے کہ غریب امیر سب کو یکساں ایک ہی مجلس میں قرآن کی آیتیں نصیحت کے طور پر سنائی جائیں اور اے رسول اللہ کے تم کو اللہ کی پناہ نہیں ہے اس واسطے اللہ کی مرضی کے موافق تم اپنا کام کیے جاؤ پھر فرمایا غریبوں کی مجلس میں اگر یہ مالدار مشرک نہ آئیں تو…
Read the full tafseer →(آیت نمبر 28:)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ کو اور دوسروں کو ‘ جو اوامر نواہی میں آپ کے نمونہ پر عمل پیرا ہیں ‘ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مومنوں کے ساتھ جوڑے رکھیں جو اللہ کے بندے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ (الذین یدعون ربھم بالغداوۃ والعشی ) ” جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح و شام “ یعنی دن کے پہلے اور آخری حصے میں ‘ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بندگی اور اس میں ان کے اخلاص کو بیان کیا ہے۔ پس اس آیت کریمہ میں حکم دیا گیا ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے ان کی صحبت اختیار کرنے اور ان کے ساتھ اختلاط میں ‘ نفس کے ساتھ مجاہدہ کیا جائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
غار میں اصحاب کہف کی مدت قیام
قول باری ہے (ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ سنین وازدادواتسعاً ) اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں) قتادہ سے مروی ہے یہ یہود کے قول کی حکایت ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (قل اللہ اعلم بما لبثوا تم کہو اللہ ان کے قایم کی مدت زیادہ جانتا ہے ) مجاہد، ضحاک اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ غار میں ان کے قیام کی مدت اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اگر اہل کتاب اس معاملے میں تم سے بحث کرنے پر اتر آئیں تو ان سے کہہ دو ۔ اللہ ان کے قیام کی مدت کو زیادہ جانتا ہے۔…
Read the full tafseer →53۔ اپنے آپ کو اہل صدق وصفا کے ساتھ روکے رکھنے کی ہدایت :۔
کہ تمہارے رب کے یہاں اصل قدروقیمت اس ایمان و یقین اور صدق و اخلاص ہی کی ہے جس سے یہ فقراء و مساکین بہرہ ور ہیں، اور اس دنیاوی مال و متاع اور اس کی چمک دمک کی اس کے یہاں کوئی حقیقت و حیثیت ہی نہیں، چناچہ نبی کریم ﷺ نے اپنے آپ کو ہمیشہ ایسے مخلص اور فقراء صحابہ کرام کے ساتھ روکے رکھا، حضرت ابو سعید ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ تشریف فرما تھے جبکہ ایک آدمی سورة حجر اور سورة کہف کی تلاوت کررہا تھا تو آپ ﷺ خاموش ہوگئے، پھر فرمایا کہ ایسے ہی لوگوں کی مجلس کے بارے میں مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ میں اپنے آپ کو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
اصحاب کہف کی تعداد اور غار میں ٹھہرنے کی مدت
تشریح : ان آیات میں مزید کچھ نکات اور نصیحتیں بیان کی گئی ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے ذریعے ہمیں بتائے گئے ہیں۔ پہلے تو یہ نصیحت کی گئی کہ جو کچھ علم اللہ نے دیا ہے بس اسی کو سمجھ لو جن باتوں کو اللہ نے واضح نہیں کیا ان کے کھوج میں مت لگو، یعنی اللہ نے اصحاب کہف کے ذریعے سے جو سبق دینے تھے ان پر غور کرو۔ ان کی تعداد جگہ اور زمانے کو اللہ نے واضح نہیں کیا اس لیے جتنا جانتے ہو بتا دو ۔ دوسری نصیحت یہ کی کہ جو بھی بات آئندہ کے لیے کہو تو اس کے لیے انشاء اللہ ضرور بولو، کیونکہ مستقبل کا کسی کو علم نہیں، سوائے اس کے جو اللہ نے چاہا۔
غریب اور مخلص مؤمنوں یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کے مرتبہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ کہہ دیں کل یہ کام کر دوں گا کہ آپ تو سراپا ہدایت تھے اور آپ کے معجزات دیکھ کر لوگ آپ ہی کی پرستش نہ کرنے لگ جائیں ، اور یہ نہ سمجھ لیں کہ سب کچھ کرنا آپ ﷺ کے ذاتی اختیار میں ہے ، لہذا کبھی مت کہیے کہ میں یہ کام کر دوں گا ، سوائے اس کے کہ انشاء اللہ ملا لیجئے یعنی اللہ جل جلالہ نے چاہا تو یہ کام کر دوں گا ۔
جب آپ ﷺ پر یہ تین سوال پیش کئے گئے تو آپ ﷺ نے فرما دیا کہ کل جواب دوں گا اور انشاء اللہ ساتھ نہ فرمایا تو کم وبیش پندرہ روز تک کوئی وحی نازل نہ ہوئی جس پر آپ ﷺ بھی بہت افسردہ ہوئے اور کفار نے بڑا مذاق اڑایا مگر پھر اس آیۃ کریمہ…
Read the full tafseer →ف 9 مراد ہیں حضرت سلمان، ابوذر، بلال، صہیب، خباب اور دوسرے غریب مسلمان جو آنحضرت کی صحبت میں بیٹھ کرتے تھے10 حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ چند غریب صحابہ آنحضرت کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ مشریکن کے چند سردار آئے اور کہنے لگے آپ ان غریب مسلمانوں کو اپنے پاس سے ہٹا دیں تب ہم آپ کے پاس آ کر بیٹھیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت سلمان کی روایت میں ہے کہ حینیہ بن بدر اور اقرع بن حابس وغیرہ آئے۔ (ابن کثیر)11 یعنی مجھے تمہاری کوئی پروا نہیں مانو گے تو اپنا بھلا کرو گے اور نہ مانو گے تو اپنی شناخت بلائو گے میں ان مومنوں کو پانی مجلس سے نہیں اٹھا سکتا۔
Read the full tafseer →(18:28) اصبر نفسک۔ احبسھا۔ تو اس کو روک۔ یعنی اپنے نفس کو روک۔ استقلال سے رہ۔ صبر سے جس کے معنی نفس کو عقل وشرع کے مطابق روکے رکھنے کے ہیں۔
لا تعد علینک عنہم فعل نہی واحد مذکر حاضر تو اپنی آنکھوں کو ان سے نہ پھیر۔ عدو (باب نصر) سے جس کے معنی پھرنے، دوڑنے، کسی چیز سے تجاوز کرنے اور گزرنے کے ہیں۔ العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم آہنگی نہ ہونے کے ہیں اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو عداوت کہلاتی ہے رفتار سے تعلق ہو تو عدو کہا جاتا ہے۔ عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں عدوان وعدو کہا جاتا ہے۔ معاداۃ سے اشتقاق کے ساتھ رجل عدو۔ وقوم عدو۔ بمعنی دشمن۔
ترید زینۃ الحیوۃ الدنیا۔ الحیوۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
لغات القرآن آیت نمبر 27 تا 29
اتل پڑھئے، سنائیے۔ ملتحد پناہ کی جگہ۔ لاتعد نہ پھریں۔ ترید تو چاہتا ہے۔ لاتطع کہنا مت مان۔ ھواہ اس کی خواہش۔ فرطاً حد سے آگے بڑھنے والے۔ احاط گھیر لیا۔ سرادق پردہ کی دیوار، قنات۔ یستغیثوا وہ مدد چاہیں گے۔ مھل وہ چیز جو طبیعت پر ناگوار ہو۔ یشوی بھون ڈالتی ہے۔ الشراب پینے کی چیز۔ مرتفق آرام کرنے کی جگہ۔
تشریح :- آیت نمبر 27 تا 29
نبی کریم ﷺ کی شدید دلی خواہش تھی کہ اگر عرب کے سردار اور با اثر لوگ ایمان لے آئیں تو سارا عرب اسلام کی دولت سے مالا مال ہوجائے گا اور کفر و شرک کی کمر ٹوٹ کر رہ جائے گی۔ آپ اللہ کا دین پھیلانے کی جدوجہد میں رات دن کوششیں فرماتے رہتے تھے۔…
Read the full tafseer →پھر فرمایا کہ غریبوں کی مجلس میں اگر یہ مالدار مشرک نہ آویں تو اس کی کچھ پرواہ نہ کرو، کیونکہ ان کے آنے سے فقط دنیا کی زیب وزینت ہے جو اللہ کو پسند نہیں ہے کہ خالص اللہ کے واسطے جو غریب مسلمان قرآن کی آیتوں کی نصیحت سننے کو تمہارے پاس آتے ہیں اور پھر اس نصیحت کے موافق خالص عقبیٰ کی ببہودی کی نیت سے صبح وشام اللہ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے تم کام رکھو اور جن لوگوں کے دل اللہ کی یاد سے غافل اور کفر میں گرفتار ہیں ان کی کوئی بات نہ مانو۔ اس لئے کہ ایسے لوگ اپنی مالداری کے غرور میں انسانیت کی حد سے بڑھ گئے ہیں کہ ان غریب مسلمان کو انسان نہیں گنتے۔ ان کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–41
[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔
Read the full tafseer →پیغمبر مساکین :
(ف 1) قرآن حکیم میں بعض باتیں بصیغہ امر ادا کی گئی ہیں ، مگر اس سے مراد خبر ہے ، اور ایک واقعہ کا اظہار ہے ، اور اس کی بہت سی مثالیں ہیں یہاں بھی بالکل یہی انداز بیان ہے ، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ شاید ان عام لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا پسند نہ فرماتے تھے جو غریب اور مفلس تھے ، اور قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آپ ان لوگوں کے ساتھ رہنے میں کوئی عار محسوس نہ کریں ، حالانکہ واقعہ بالکل اس کے خلاف ہے ، بات یہ ہے کہ حضور ﷺ ہمیشہ ابو ذر ؓ ، سلمان فارسی ؓ ، اور اس قسم کے غریب اور مخلص عقیدتمندوں میں بےتکلفی سے بیٹھتے ، اور انہیں صبح وشام وقت گزارتے ، امراء کو یہ ناگوار…
Read the full tafseer →-28 اور اے پیغمبر جو لوگ صبح اور شام اپنے رب کی یاد اور اس کی عبادت محض اس کی خوشنودی اور رضا جوئی کی غرض سے کیا کرتے ہیں ان کی ہم نشینی اور ان کے ساتھ بیٹھنے کے پابند رہئے اور ایسا نہ ہو کہ دنیوی زندگی کی زینت و آرائش کے خیال سے آپ کی آنکھیں اور آپ کی توجہات خصوصی ان مخلصین سے پھرجائیں اور آپ ایسے شخص کا کہنا نہ مانیئے اور اس کی اطاعت نہ کیجیے جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش پر چلتا اور نفسانی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا یہ کام حد سے گزر چکا ہے۔
ساتویں پارے میں مفصل بحث گزر چکی ہے واقعہ یہ ہے کہ مکہ کے دولت مند کافر غریب مسلمانوں کے ہمراہ بیٹھ کر قرآن کریم…
Read the full tafseer →ف 1۔ ” واصبر نفسہ “ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب تک یہ لوگ نہ اٹھیں گے آپ بیٹھے رہا کیجئے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ بدستور سابق ان کو اپنی طول مجالست سے مشرف رکھیئے۔
2۔ رونق کے خیال سے مراد یہ کہ رئیس مسلمان ہوجاویں تو اسلام میں زیادہ جمال و کمال ہوگا، پس اس میں بتلا دیا کہ اس ظاہر سامان سے اسلام کا جمال و کمال نہیں بلکہ اس کا مدار اخلاص و اطاعت کا ملہ ہے، گو فقراء ہی سے ہو۔
Read the full tafseer →جو صبح وشام اللہ کی یاد میں مصروف ہیں انہی کے ساتھ رہنے کی ہدایت الہی :
30۔ اللہ کی یاد میں صبح وشام مصروف رہنے سے ان واقعات کا حصر نہیں بلکہ ہمہ وقت مصروف رہنے کی ہدایت ہے ، اللہ کی یاد میں مصروف رہنے والے کون ہیں ؟ وہی غریب اور مساکین جو عمر کے لحاظ سے زیادہ پختہ نہیں تھے اور مال و دولت کے لحاظ سے ادنی اور مزدور تھے یعنی بلال ؓ ، صہیب ؓ ‘ عمار ؓ ‘ خباب ؓ اور ابن مسعود ؓ جیسے لوگ ۔
قریش مکہ کو دوسرے اعتراضوں کے ساتھ ایک یہ بھی اعتراض تھا کہ آپ کی صحبت میں بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ مل کر بیٹھنے کے لئے کوئی قریشی سردار تیار نہیں کم از کم آپ کو ہمارا خیال ہوتا تو کچھ تو ہماری رعایت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
Commentary
Da'wah and Tabligh admit of no discrimination
Some events have been mentioned in the background of the revelation of the verse: وَاصْبِرْ نَفْسَكَ (And keep yourself content - 28). It is possible that all of them became the cause of this instruction. Al-Baghawi reports that ` Uyainah ibn Hisn al-Fazari, the chief of Makkah paid a visit to the Holy Prophet ﷺ . Sitting there with him was Sayyidna Salman al-Farisi ؓ who was one of the poor Sahabah. His dress was tattered and his looks, that of a derwish. Then, there were some other poor and humble people like him sitting within the…
Read the full tafseer →28. Though these words have also been addressed to the Prophet (peace be upon him), they are really meant for the chiefs of the Quraish. According to a tradition related by Ibn Abbas, the chiefs of the Quraish would say to the Prophet (peace be upon him) that they considered it below their dignity to sit with such people as Bilal, Suhaib, Ammar, Khabbab, Ibn-Masud and the like who generally remained in his company, and that if he should send them away, they would be willing to attend his meetings in order to learn about his message. At this Allah revealed this verse: And keep yourself whole…
Read the full tafseer →