Al-Kahf 18:27

Al-Kahf · from ayah 27

18:27

وَاتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ ؕۚ— لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۫ۚ— وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا ۟وَاتۡلُ مَاۤ اُوۡحِىَ اِلَيۡكَ مِنۡ كِتَابِ رَبِّكَ ‌ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ‌ ۚ وَلَنۡ تَجِدَ مِنۡ دُوۡنِهٖ مُلۡتَحَدًا

اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And recite, [O Muhammad], what has been revealed to you of the Book of your Lord. There is no changer of His words, and never will you find in other than Him a refuge.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 4 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:27

اے نبیؐ! تمہارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جوں کا توں) سنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں رد و بدل کرو گے تو) اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاؤ گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تیری جانب جو تیرے رب کی کتاب وحی کی گئی ہے اسے پڑھتا ره، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے واﻻ نہیں تو اس کے سوا ہرگز ہرگز کوئی پناه کی جگہ نہ پائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کے ذریعے جو کتاب بھیجی گئی ہے، اسے پڑھ کر سنادو۔ کوئی نہیں ہے جو اس کی باتوں کو بدل سکے، اور اسے چھوڑ کر تمہیں ہرگز پناہ کی جگہ نہیں مل سکتی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تلاوت کرو جو تمہارے رب کی کتاب تمہیں وحی ہوئی اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں اور ہرگز تم اس کے سوا پناہ نہ پاؤ گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ وہ (کلام) پڑھ کر سنائیں جو آپ کے رب کی کتاب میں سے آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے، اس کے کلام کو کوئی بدلنے والا نہیں اور آپ اس کے سوا ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس کی تلاوت کر جو تیری طرف تیرے رب کی کتاب میں سے وحی کی گئی ہے، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور نہ اس کے سوا تو کبھی کوئی پناہ کی جگہ پائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے نبی ! جو کچھ آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے آپ کے اپنے پروردگار کی کتاب میں سے وہ انھیں پڑھ کر سنا دو۔ کوئی اس کے ارشادات کو بدلنے کا مجاز نہیں (اور اگر کوئی ایسا کام کرے تو) آپ اللہ کے سوا اس کے لئے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تمہارے رب کی جو کتاب تم پر وحی کی جا رہی ہے اس کو سناؤ، خدا کے قوانین کو کوئی بدل نہیں سکتا اور اس کے سوا تم کوئی پناہ نہیں پا سکتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور پڑھتے (اور سناتے) جاؤ (اے پیغمبر !) اس وحی کو جو بھیجی گئی ہے آپ کی طرف، آپ کے رب کی جانب سے، کوئی نہیں جو بدل سکے اس کے فرمودات کو، اور (اگر آپ نے کسی کی خاطر اس میں کوئی کمی و بیشی کردی تو) آپ اس کے سوا ہرگز کوئی پناہ گاہ نہیں پاسکو گے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ پڑھ دیا کیجیے جو کچھ وحی آپ پر آپ کے پروردگار کی کتاب کے ذریعہ سے آئی ہے۔ کوئی بدل اس کی باتوں کا نہیں ہوسکتا اور نہ آپ اس کے سوا کوئی پناہ ہی پائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی !) آپ تلاوت کیجیے جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے آپ کے رب کی کتاب میں سے اس کی باتوں کو بدلنے والا کوئی نہیں ہے اور آپ نہیں پائیں گے اس کے سوا کوئی جائے پناہ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنے اللہ کی کتاب کو جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور اس کے سوا تم کہیں پناہ بھی نہ پائو گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), recite to them from the Book of your Lord what has been revealed to you for none may change His words; (and were you to make any change in His words) you will find no refuge from Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And recite what has been revealed to you of the Book of your Lord. There is no one to change His words, and you will never find a refuge beside Him.

— Muhammad Taqi Usmani

And recite what has been revealed to you of the Book of your Lord. There is no one to change His words, and you will never find a refuge beside Him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And recite what has been revealed to you (O Muhammad) of your Lord's Book. None can change His Words, and none will you find as refuge other than Him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And recite that which hath been revealed unto thee of the Scripture of thy Lord. There is none who can change His words, and thou wilt find no refuge beside Him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And recite, [O Muhammad], what has been revealed to you of the Book of your Lord. There is no changer of His words, and never will you find in other than Him a refuge.

— Saheeh International

Read whatever is revealed to you from the Book of your Lord. No one can change His words and you can never find any refuge other than Him.

— Muhammad Sarwar

And recite what has been revealed to you of the Book of your Lord, there is none who can alter His words; and you shall not find any refuge besides Him.

— Muhammad Habib Shakir

And rehearse thou that which hath been revealed unto thee of the Book of thy Lord; and none may alter His Words, and never wilt thou find beside Him a covert.

— Abdul Majid Daryabadi

And recite (and teach) what has been revealed to thee of the Book of thy Lord: none can change His Words, and none wilt thou find as a refuge other than Him.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–28

تلاوت و تبلیغ اللہ کریم اپنے رسول ﷺ کو اپنے کلام کی تلاوت اور اس کی تبلیغ کی ہدایت کرتا ہے، اس کے کلمات کو نہ کوئی بدل سکے نہ ٹال سکے، نہ ادھر ادھر کرسکے، سمجھ لے کہ اس کے سوائے جائے پناہ نہیں، اگر تلاوت و تبلیغ چھوڑ دی تو پھر بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ اے رسول جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اترا ہے اس کی تبلیغ کرتا رہ اگر نہ کی تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا لوگوں کے شر سے اللہ تجھے بچائے رکھے گا۔ اور آیت میں ہے (اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ۭ قُلْ رَّبِّيْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَاۗءَ بالْهُدٰى وَمَنْ هُوَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 85؀) 28۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْكَهْف 26 اصحاب کہف کا قصہ ختم کرنے کے بعد اب یہاں سے دوسرا مضمون شروع ہو رہا ہے اور اس میں ان حالات پر تبصرہ ہے جو اس وقت مکہ میں مسلمانوں کو در پیش تھے۔ سورة الْكَهْف 27 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذاللہ اس وقت نبی ﷺ کفار مکہ کی خاطر قرآن میں کچھ رد و بدل کردینے اور سرداران قریش سے کچھ کم و بیش پر مصالحت کرلینے کی سوچ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے منع فرما رہا تھا۔ بلکہ دراصل اس میں روئے سخن کفار مکہ کی طرف ہے اگرچہ خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے۔ مقصود کفار کو یہ بتانا ہے کہ محمد ﷺ خدا کے کلام میں اپنی طرف سے کوئی کمی یا بیشی کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ ان کا کام بس یہ ہے کہ جو کچھ خدا نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (آپ کا کام صرف اس قدر ہے کہ) آپ کے پاس جو آپ کے رب کی کتاب وحی کے ذریعہ آئی ہے وہ (لوگوں کے سامنے) پڑھ دیا کیجئے (اس سے زیادہ اس کی فکر میں نہ پڑیں کہ دنیا کے بڑے لوگ اگر اسلام کی مخالفت کرتے رہے تو دین کو ترقی کس طرح ہوگی، کیونکہ اس کا اللہ تعالیٰ نے خود وعدہ فرما لیا ہے اور) اس کی باتوں کو (یعنی وعدوں کو) کوئی نہیں بدل سکتا (یعنی ساری دنیا کے مخالف بھی مل کر اللہ کو وعدہ پورا کرنے سے نہیں روک سکتے اور اللہ تعالیٰ خود اگرچہ تبدیلی پر قدرت رکھتے ہیں مگر وہ تبدیل نہیں کریں گے) اور (اگر آپ نے ان بڑے لوگوں کی دل جوئی اس طرح کی جس سے احکام الہی ترک ہوجاویں تو پھر) آپ خدا کے سوا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 27 تا 31:۔ آگے کا مضمون تمہید سورة کے مضمون سے متصل ہے۔ یاد ہوگا، سورة کی تمہید میں آنحضرت ﷺ کو ان لوگوں کے پیچھے پریشان ہونے سے روک دیا گیا جو زخارف دنیا کے عشق میں خدا اور آخرت کو بھولے بیٹھے ہیں اور قرآن کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے بعد ایک سوال کے جواب میں اصحاب کہف کا ذکر آگیا تھا جس سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں اٹھنے والے بندوں کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ان کی ڈھارس بندھاتا، ان کی حوصلہ افزائی کرتا اور راہ حق میں ان کو جو مشکلیں پیش آتی ہیں، ان میں غیب سے ان کی مدد فرماتا ہے۔ اب آگے اسی تمہید والے مضمون کو پھر لے لیا اور پیغمبر کو خطاب کرکے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

27۔ 1 ویسے تو یہ حکم عام ہے کہ جس چیز کی بھی وحی آپ کی طرف کی جائے، اس کی تلاوت فرمائیں اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیں۔ لیکن اصحاب کہف کے قصے کے خاتمے پر اس حکم سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اصحاب کہف کے بارے میں لوگ جو چاہیں، کہتے پھریں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں اپنی کتاب میں جو کچھ اور جتنا کچھ بیان فرما دیا ہے، وہی صحیح ہے، وہی لوگوں کو پڑھ کر سنا دیجئے، اس سے زیادہ دیگر باتوں کی طرف دھیان نہ دیجئے۔ 27۔ 2 یعنی اگر اسے بیان کرنے سے گریز و انحراف کیا، یا اس کے کلمات میں تغیر و تبدیلی کی کوشش کی، تو اللہ سے آپ کو بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ خطاب اگرچہ نبی ﷺ سے ہے، لیکن اصل مخاطب امت ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

21: آنحضرت ﷺ سے یہ خطاب در حقیقت ان کافروں کو سنانے کے لئے ہے جو آپ سے یہ مطالبہ کیا کرتے تھے کہ آپ اس قرآن میں ہماری خواہش اور عقیدے کے مطابق تبدیلیاں کرلیں تو ہم آپ کو ماننے کے لئے تیار ہیں، ان کا یہ مطالبہ پیچھے سورة یونس (10۔ 15) میں گزرچکا ہے، یہاں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں تبدیلی کرنے کا کسی کو اختیار نہیں، اور اگر کوئی ایسا کرے تو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کے لئے کوئی پناہ گاہ میسر نہیں آسکتی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یوں یہ قصہ اپنی انتہا کو پہنچتا ہے اس کے آغاز میں اس کے درمیان میں اور اس کی انتہا میں جا بجا وہ ہدایات ہیں جن کی وجہ سے اس قصے کو قرآن میں جگہ دی گئی ہے۔ دینی اور نظریاتی ہدایات ساتھ ساتھ قصے کا فنی انداز بیان بھی نہایت اعلیٰ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 پہلے اصحاب کہف کے قصہ پر فرمایا تھا (فَلَا تُمَارِ فِيْهِمْ اِلَّا مِرَاۗءً ظَاهِرًا ۠ وَّلَا تَسْتَفْتِ فِيْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا) 18 ۔ الکہف :12) مطلب یہ ہے کہ بیکار چیزوں میں زیادہ الجھنے اور کاوش کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ ﷺ اپنے فرض منصبی کی انجام دہی میں مشغول رہیے۔ یعنی جو جامع و مانع اور کافی وشافی کتاب تیرے رب نے مرحمت فرمائی اسے پڑھ کر سناتے رہیے۔ خدا نے جو باتیں اس میں سنائیں اور جو وعدے کیے کوئی طاقت نہیں جو انھیں بدل یا ٹال سکے یا غلط ثابت کرسکے۔ اگر کوئی ان باتوں کو بدلنے کے درپے ہوگا یا اس کتاب کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرے گا وہ خوب سمجھ لے کہ خدا کے مجرم کے لیے کہیں پناہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27 وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ یعنی اس وقت آپ بہت مشکل صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کیفیت میں آپ کو صبر و استقامت کی سخت ضرورت ہے : وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ الاَّ باللّٰہِ النحل : 127 ”اور اے نبی ! آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر تو اللہ کے سہارے پر ہی ہے“۔ یہ سہارا آپ کو اللہ کے ساتھ اپنا قلبی تعلق اور ذہنی رشتہ استوار کرنے سے میسر ہوگا اور یہ تعلق مضبوط کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ قرآن مجید کی تلاوت ہے۔ّ تمسک بالقرآن کا یہ مضمون سورة العنکبوت میں اکیسویں پارے کے آغاز میں دوبارہ آئے گا۔ حق و باطل کی کشمکش میں جب بھی کوئی مشکل وقت آیا تو رسول اللہ کو خصوصی طور پر تمسک…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

27 کافروں کا سمجھوتہ کی بات کرنا :۔ اصحاب کہف کا قصہ ختم ہونے کے بعد اب خطاب اگرچہ رسول اللہ کو ہے تاہم یہ ارشاد ان سرداران قریش کو سنایا جارہا ہے جو آپ سے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر سمجھوتہ کرنا چاہتے تھے وہ یہ کہتے تھے کہ ہم آپ کی بہت سی باتیں مان لیتے ہیں تم ہماری یہ بات مان لو کہ جن آیات میں ہمارے معبودوں کا ذکر ہے وہ نہ پڑھا کرو اس طرح ہم سب برادری میں پھوٹ پڑنے سے بچ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس مطالبہ پر جواب دیا کہ اس کے احکام اور ارشادات میں کسی قسم کے ردو بدل یا ترمیم و تنسیخ کا کسی کو کچھ بھی اختیار نہیں اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکے گا۔ اگرچہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

42۔ (اگر بفرض محال مخالفین کی آپ نے ایسی دلجوئی کرنا چاہی کہ احکام الہی ہی ترک ہوگئے) حاصل یہ کہ رؤسا کفار کی طرف سے آپ پورا استغناء برتئے۔ (آیت) ” واتل۔۔ ربک “۔ یعنی وحی الہی کی تبلیغ تو آپ پر فرض ہے لیکن اس سے آگے بڑھ کر اسی فکر اور وہم میں نہ پڑیے کہ مخالفین کی دلجوئی اگر نہ کی گئی تو دین کی اشاعت و ترقی کیونکر ہوگی، امام رازی (رح) نے یہ معنی قرار دیئے ہیں کہ آپ وحی کی تعلیم اور اس پر عمل میں لگے رہئے اور منکروں معاندوں کے طنز وتشنیع کی طرف التفات ہی نہ کیجئے جعل الاصل فی ھذا الباب شیئا واحدا وھو ان یواظب علی تلاوۃ الکتاب الذی اوحاہ اللہ الیہ والعمل بہ وان لا یلتف الی اقتراح المتقرحین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–31

آیت نمبر 27 تا 31 ترجمہ : اور آپ کے پاس جو آپ کے رب کی کتاب وحی کے ذریعہ آئی ہے آپ اس کو تلاوت کیا کیجئے، اس کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا، اور آپ خدا کے سوا کہیں جائے پناہ نہ پائیں گے، اور آپ خود کو ان لوگوں کے ساتھ پابند مقید رکھا کیجئے جو صبح وشام (ہمہ وقت) اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور ان کی عبادت کا مقصد محض اپنے رب کی خوشنودی ہے ان کی دنیوی کوئی غرض نہیں ہے، اور وہ فقراء ہیں، اور دنیوی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں (توجہ) ان سے ہٹنے نہ پائیں عین بول کر صاحب عین مراد ہے اور ایسے شخص کا کہنا نہ مانئے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے یعنی قرآن سے، اور وہ عینیہ بن حصن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ ڝ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ اور آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے جو کتاب بذریعۂ وحی بھیجی گئی ہے وہ پڑھا کریں اس کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ یعنی قرآن کی تلاوت کرو اور اس کے مفہوم پر عمل کرو اور ان لوگوں کی بات پر کچھ دھیان نہ دو جو اس کے سوا کسی دوسرے قرآن کے خواستگار ہیں یا اسی میں تم سے کچھ ترمیم و تبدیل کرانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کے سوا اس میں کسی طرح کی تبدیل و ترمیم کرنے کی طاقت رکھنے والا کوئی بھی نہیں ہے کوئی شخص بھی اللہ کے سوا اس کو بدل نہیں سکتا۔ لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖکا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ گناہگاروں ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(27) اور آپ کا کام صرف اتنا ہے کہ آپ ان کو قرآن کریم پڑھ کر سنادیا کیجیے اور اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کیا کیجیے اور اس کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور آپ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی پناہ بھی نہ پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ : یعنی اصحاب کہف کے بارے میں جو بات آپ کو اس کتاب میں بتائی جا رہی ہے وہ بالکل کافی اور جامع مانع ہے۔ آپ اسی کو جوں کا توں پڑھ کر سناتے رہیے، یا یہ کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب ہے، یہی ان کو پڑھ کر سنائیں اور ان کی مخالفت کی پروا نہ کریں۔ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ڟ وَلَنْ تَجِدَ۔۔ : ’ مُلْتَحَدًا“ کا معنی التحاد کی جگہ ہے، جو ”لَحْدٌ“ سے باب افتعال ہے، جس کا معنی مائل ہونا ہے۔ قبر کو بھی اسی لیے لحد کہتے ہیں کہ وہ ایک طرف ہٹی ہوتی ہے۔ چناچہ ”مُلْتَحَدًا“ سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں آدمی ایک طرف جا کر پناہ لے لے۔ یعنی اگر آپ کسی کی خاطر داری…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 27 قولہ تعالیٰ : واتل ما اوحی الیک من کتاب ربک، لا مبدل لکلمتہ کہا گیا ہے : یہ اصحاب کہف کے تمام قصہ کے بارے میں، یعنی آپ قرآن کریم کی اتباع اور پیروی کریں پس اللہ تعالیٰ کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں اور نہ اس کے خلاف ہو سکتا ہے جو اس نے اصحاب کہف کے واقعہ کے بارے خبر دی ہے۔ اور علامہ طبری (رح) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے جن کلمات کے ساتھ گنہگاروں اور اس کی کتاب کی مخالفت کرنے والوں کو وعید سنائی ہے انہیں کوئی تبدیل کرنے والا نہیں۔ ولن تجد اور آپ ہرگز نہیں پائیں گے من دونہ اس کے سوا (کوئی پناہ گاہ) اگر آپ نھے قرآن کریم کی اتباع اور پیروی نہ کی اور آپ نے اس کی مخالفت کی۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–29

1:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ملتحدا “ سے مراد ہے پناہ کی جگہ۔ 2:۔ ابن انباری نے وقف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے نافع بن ازرق نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ولن تجد من دونہ ملتحدا “ کے بارے میں پوچھا کہ ” ملتحدا “ سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے زمین میں داخل ہونے کی جگہ خصیب ضمری نے اس معنی میں یہ لفظ استعمال کیا۔ یالھف نفسی ولھف غیر محدثہ علی وما عن قضاء اللہ ملتحد ترجمہ : ہائے افسوس ! میری جان پر اور مجھ پر افسوس کچھ نہیں ہے قضاء الہی سے بچنے کے لئے زمین میں کوئی جگہ نہیں۔ 3:۔ ابن مردویہ، ابو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاتْلُ : اور آپ ﷺ تلاوت کریں ] [مَآ : اس کی جو ] [اُوْحِيَ : وحی کیا گیا ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [مِنْ كِتَابِ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کی کتاب سے ] [لَا مُبَدِّلَ : کوئی بھی بدلنے والا نہیں ہے ] [لِكَلِمٰتِهٖ : اس کے فرمانوں کو ] [وَلَنْ تَجِدَ : اور آپ ﷺ ہرگز نہیں پائیں گے ] [مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [مُلْتَحَدًا : کوئی پناہ گاہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رسول اللہ ﷺ کو کتاب اللہ تلاوت کرنے اور اللہ سے لو لگانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہنے کا حکم در منثور صفحہ 213 ج 4 میں حضرت سلمان فارسی ؓ سے نقل کیا ہے کہ عیینہ بن بدر اوراقرع بن حابس جو مولفتہ القلوب میں سے تھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ صدر مجلس میں بیٹھتے اور یہ لوگ یعنی سلمان اور ابوذر اور دیگر فقرائے مسلمین سے دور رہتے تاکہ ان کے اونی کپڑوں کی بو نہ آتی تو ہم آپ کے ساتھ بیٹھتے اور آپ سے باتیں کرتے اور آپ سے کچھ حاصل کرتے اس پر اللہ تعالیٰ نے (وَ اتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ سے اَعْتَدْنَا للظّٰلِمِیْنَ نَارًا) تک آیات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–31

حکم تلاوت قرآن و مدارات درویشان وخرقہ پوشان قال اللہ تعالیٰ واتل ما اوحی الیک .۔... الیٰ .... وحسنت موتفقا۔ (ربط) شروع سورت میں نزول کتاب کی نعمت کو بیان فرمایا اور اس کے بعد دنیا کے فناء وزوال کو بیان کیا پھر اس کے بعد اصحاب کہف کا قصہ بیان کیا جنہوں نے دنیا پر لات ماری اور مضبوطی کے ساتھ حق پر قائم رہے بالآخر کامیاب ہوئے اور ظالم اور متکبر دنیا سے رخصت ہوئے اب اصحاب کہف کے قصہ کے بعد پھر اس قرآن کی تلاوت کا حکم دیتے ہیں جس میں دشمنان اسلام کے سوالات کے جوابات نازل ہوئے۔ جس سے آنحضرت ﷺ کی نبوت ثابت ہوئی اور پھر اصحاب کہف جیسے درویشان اسلام اور اہل خرقہ یعنی گدڑی اور کمبل پوشوں کی مجالست اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

33:۔ دلیل وحی :۔ اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اس کا ثمرہ بیان فرمایا۔ جس میں دو باتیں واضح کی گئیں اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عالم الغیب اور حاضر و ناظر نہیں دوم یہ کہ اللہ کے سوا کوئی مختار و متصرف نہیں۔ گویا کہ یہ ایک دعوی ہے جو دو شقوں پر مشتمل ہے اب یہاں سے اس پر دلیل وحی پیش کی گئی ہے۔ ” اتل “ امر ایجاد فعل کے لیے نہیں بلکہ ابقاء فعل کے لیے ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ اللہ کی وحی سے دلائل توحید پڑھ کر سنانا شروع کردیں۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی وحی اور اللہ کی کتاب سے جس طرح آپ پہلے مسئلہ توحید بیان کر رہے تھے اسی طرح اب بھی کرتے رہیں اور اس سلسلے کو جاری رکھیں۔ ای لازم تلاوۃ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–28

(کتاب الہی کی حقانیت) اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وحی الہی یعنی قرآن پاکی اہمیت کا ذکر کیا ہے اور معترضین کے اعتراضات کا علاج تجویز کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واتل ما اوحی الیک من کتاب ربک “۔ آپ پڑھیں اس چیز کو جو وحی کی گئی ہے آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی کتاب ، صحیح بات تو اسی کتاب میں ہوگی جو لوگ اس کے خلاف باتیں کرتے ہیں ، وہ یقینی نہیں ہیں قطعی اور یقینی علم نہ تو لوگوں کی سنی سنائی باتوں میں ہے ، نہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آپ اس کتاب پر اعتقاد رکھیں ، اس کی تلاوت کریں اور اسی کو اپنا نصب العین بنائیں ۔ قرآن پاک وحی جلی اور ہر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ۝ 0ۭۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِہٖ۝ 0ۣۚ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا۝ 27 تلو تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] ( ت ل و ) تلاہ ( ن ) کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی کو چیز حائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے اس معنی میں اس کا مصدر تلو اور تلو آتا ہے اور کبھی یہ متا بعت کسی کتاب کی قراءت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَا تْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ ج ط لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ قف ج وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا۔ (الکہف : 27) (آپ ﷺ کے رب کی کتاب سے جو کچھ آپ ﷺ پر وحی کیا گیا ہے اسے پڑھ کر سنایئے، اس کے کلمات کو کوئی نہیں بدل سکتا اور آپ ﷺ اس کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں پاسکتے۔ ) آپ کو یاد ہوگا کہ اس سورت کا آغاز اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے ہوا تھا کہ اس نے اپنے عظیم و جلیل بندے پر ایسی کتاب اتاری جو انسانی ہدایت و رہنمائی کے لیے ہر لحاظ سے تشفی بخش اور ہر کجی اور ہر کوتاہی سے پاک ہے۔ اس کا پیش کردہ نظام زندگی انسانی فطرت کا عکاس اور انسانی ضروریات کا کفیل ہے۔ اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ حاکم ہے اور اس کا حکم قرآن مجید کی صورت میں مکمل ہوا، اس لیے اس کے حکم کو جاننے کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کرنا لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر وحی کے ذریعے قرآن مجید نازل فرمایا جو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتا۔ اس میں ردو بدل اور ترمیم واضافہ کرنے کی کسی کو ہرگز اجازت نہیں یہاں تک کہ رسول اکرم ﷺ بھی اس کی زیر زبر میں تبدیلی نہیں کرسکتے تھے۔ اس کے احکام حق پر مبنی، حق کے ترجمان اور قیامت تک قائم دائم رہنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے۔ (الحجر : 9) اللہ کے کلام میں تبدیلی نہ ہونے کا یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قراءت : شامی نے اس کو نہی قرار دیکر لاتشرک پڑھا ہے۔ 27: کفار اکثر کہا کرتے ائت بقرٰان غیرھذا او بدلہ ] یونس : 15[ اس کے جواب میں فرمایا۔ کفار کا جواب : وَاتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ (آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے جو کتاب بذریہ وحی بھیجی گئی آپ وہ پڑھا کریں) کتابؔ سے قرآن مجید مراد ہے اور آپ ان کے اس ہذیان کو مت سنیں۔ کہ اس میں تبدیلی کردیں اس لئے کہ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ (اس کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں) یعنی کسی کو ان کے اندر تبدیلی کی قدرت نہیں اور نہ ہی ردو بدل کا اختیار ہے اس پر قدرت اسی وحدہ لا شریک کو ہے۔ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا ( اور تم ہرگز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 27 ۔ ” واتل مااوحی الیک “ اس کو پڑھیے اے محمد ! (ﷺ) ” ما اوحی الیک من کتاب ربک “ اس کتاب سے مراد قرآن ہے اور اس میں جو کچھ ہے اس کی پیروی کیجئے۔ ” لامبدل لکلماتہ “ کلبی کا قول ہے کہ قرآن میں جس کا حکم دیا گیا ہے اس کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور بعض کا قول ہے کہ گناہگاروں کو جو ان کلمات سے وعید سنائی گئی ہے اس کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ ” ولن تجد “ اور تم ” من دونہ “ اگر آپ قرآن کی اتباع نہیں کریں گے۔ ” ملتحدًا “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد چھپنے کی جگہ۔ حسن کا قول ہے کہ جائے قرار نہیں کریں گے۔ ” ملتحدًا “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد چھپنے کی جگہ۔ حسن کا قول ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–28

27۔ 28:۔ صحیح مسلم میں سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے مالدار مکہ مشرکوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے یہ خواہش کی تھی کہ ہمارے آپ کے پاس آنے کے وقت غریب مسلمان آپ کی مجلس میں نہ بیٹھیں گے تو ہم آپ کی مجلس میں آن کر قرآن کی آیتیں سنا کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎۔ اور فرمایا اللہ کا حکم نہیں بدل سکتا اس کا حکم یہی ہے کہ غریب امیر سب کو یکساں ایک ہی مجلس میں قرآن کی آیتیں نصیحت کے طور پر سنائی جائیں اور اے رسول اللہ کے تم کو اللہ کی پناہ نہیں ہے اس واسطے اللہ کی مرضی کے موافق تم اپنا کام کیے جاؤ پھر فرمایا غریبوں کی مجلس میں اگر یہ مالدار مشرک نہ آئیں تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت (27: تلاوت سے مراد اتباع کرنا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی طرف جو وحی بھیجی ہے اس کے معانی کی معرفت اور ان کا فہم حاصل کر کے ‘ اس کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق اور اس کے اوامر نواہی کی تعمیل کر کے اس کی اتباع کیجیے کیونکہ یہ بہت ہی جلیل القدر کتاب ہے جس کی باتوں کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ‘ ان کلمات کے صدق و عدل اور حسن میں ہر غایت و انتہا سے بڑھ جانے کی وجہ سے ‘ ان میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا : (وتمت کلمت ربک صدق و عدلا) (الانعام (115/6:” آپ کے رب کی بات صدق و عدل کے اعتبار سے کامل ہے۔ “ تغیر و تبدل واقع ہوسکتا۔ اس میں قرآن کریم کی عظّت کا اظہار ہے اور اسی ضمن میں قرآن کریم کی طرف…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 25–38

غار میں اصحاب کہف کی مدت قیام قول باری ہے (ولبثوا فی کھفھم ثلثمائۃ سنین وازدادواتسعاً ) اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) نو سال اور بڑھ گئے ہیں) قتادہ سے مروی ہے یہ یہود کے قول کی حکایت ہے اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (قل اللہ اعلم بما لبثوا تم کہو اللہ ان کے قایم کی مدت زیادہ جانتا ہے ) مجاہد، ضحاک اور عبید بن عمیر کا قول ہے کہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ غار میں ان کے قیام کی مدت اتنی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اگر اہل کتاب اس معاملے میں تم سے بحث کرنے پر اتر آئیں تو ان سے کہہ دو ۔ اللہ ان کے قیام کی مدت کو زیادہ جانتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 25–27

47۔ غار میں بقاء کی مدت کے بارے میں ارشاد :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لوگ اس غار میں تین سو برس رہے اور نو مزید برآں یعنی شمسی حساب سے یہ مدت پورے تین سو سال بنتی تھی، اور قمری حساب سے تین سو نو سال، سو یہ فرق شمسی اور قمری حساب کے فرق پر مبنی ہے، کیونکہ عربوں کے یہاں قمری حساب کا رواج تھا، جب کہ یہود کے یہاں شمسی حساب کا، جو کہ اصل میں آنحضرت ﷺ سے اس سوال کے محرک تھے، اور قمری حساب سے ہر سو سال شمسی سال کے مقابلے میں تین سال زیادہ بنتا ہے اور اس طرح اس فرق کا اظہار وبیان آنحضرت ﷺ کا ایک معجزہ قرار پاتا ہے، کہ آپ ﷺ نے صدیوں پہلے کہ اس واقعہ کو اس باریکی سے بیان فرما دیا، حالانکہ آپ نے نہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–29

اصحاب کہف کی تعداد اور غار میں ٹھہرنے کی مدت تشریح : ان آیات میں مزید کچھ نکات اور نصیحتیں بیان کی گئی ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے ذریعے ہمیں بتائے گئے ہیں۔ پہلے تو یہ نصیحت کی گئی کہ جو کچھ علم اللہ نے دیا ہے بس اسی کو سمجھ لو جن باتوں کو اللہ نے واضح نہیں کیا ان کے کھوج میں مت لگو، یعنی اللہ نے اصحاب کہف کے ذریعے سے جو سبق دینے تھے ان پر غور کرو۔ ان کی تعداد جگہ اور زمانے کو اللہ نے واضح نہیں کیا اس لیے جتنا جانتے ہو بتا دو ۔ دوسری نصیحت یہ کی کہ جو بھی بات آئندہ کے لیے کہو تو اس کے لیے انشاء اللہ ضرور بولو، کیونکہ مستقبل کا کسی کو علم نہیں، سوائے اس کے جو اللہ نے چاہا۔ غریب اور مخلص مؤمنوں یعنی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–31

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف آپ کے مرتبہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ کہہ دیں کل یہ کام کر دوں گا کہ آپ تو سراپا ہدایت تھے اور آپ کے معجزات دیکھ کر لوگ آپ ہی کی پرستش نہ کرنے لگ جائیں ، اور یہ نہ سمجھ لیں کہ سب کچھ کرنا آپ ﷺ کے ذاتی اختیار میں ہے ، لہذا کبھی مت کہیے کہ میں یہ کام کر دوں گا ، سوائے اس کے کہ انشاء اللہ ملا لیجئے یعنی اللہ جل جلالہ نے چاہا تو یہ کام کر دوں گا ۔ جب آپ ﷺ پر یہ تین سوال پیش کئے گئے تو آپ ﷺ نے فرما دیا کہ کل جواب دوں گا اور انشاء اللہ ساتھ نہ فرمایا تو کم وبیش پندرہ روز تک کوئی وحی نازل نہ ہوئی جس پر آپ ﷺ بھی بہت افسردہ ہوئے اور کفار نے بڑا مذاق اڑایا مگر پھر اس آیۃ کریمہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی اگر آپ کسی کی خاطر داری سے اس کی کتاب میں کوئی رد و بدل کریں گے تو آپ کو اس کے سوا کہیں پناہ نہ ملے گی۔ یہ خطاب بظاہر آنحضرت ﷺ سے ہے مگر مقصود اہل کتاب اور کفار مکہ سب کو متنبہ کرنا ہے کہ تمہاری خاطر آنحضرت اپنے ملاک کی کتاب میں کئیو رد و بدل کرنے والے نہیں ہیں … اس آیت پر اور بعض علمائے تفسیر کے قول کے مطابق اوپر کی آیت پر اصحاب کہف کا قصہ ختم ہوگیا اس کے بعد دوسرا مضمون شروع ہو رہا ہے جس میں ان حالات پر تبصرہ ہے جو نبی ﷺ اور مسلمانوں کو ان دنوں مکہ میں درپیش تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:27) اتل۔ تلاوۃ سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو پڑھ۔ تو تلاوت کر۔ اوحی۔ ماضی مجہول ۔ وحی کی گئی ۔ حکم بھیجا گیا۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ من کتاب ربک ای من القران۔ مبدل۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ تبدیل مصدر۔ بدلنے والا۔ منصوب بوجہ عمل لا کے ہے۔ ملتحدا۔ اسم ظرف ۔ بروزن اسم مفعول التحاد (افتعال) مصدر۔ پناہ کی جگہ ۔ یا باب افتعال سے مصدر میمی ہے۔ بمعنی پناہ۔ اللحد۔ اس گڑھے یا شگاف کو کہتے ہیں کہ جو قبر کی ایک جانب بنایا جاتا ہے۔ الحدالی۔ کسی کی طرف مائل ہونا۔ کسی کی طرف نسبت کرنا۔ جیسے لسان الذی یلحدون الیہ (16:103) اس شخص کی زبان جس کی طرف یہ نسبت کرتے ہیں (عجمی ہے) الحدعن۔ پھرنا مثلاً الحد عن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 27–29

لغات القرآن آیت نمبر 27 تا 29 اتل پڑھئے، سنائیے۔ ملتحد پناہ کی جگہ۔ لاتعد نہ پھریں۔ ترید تو چاہتا ہے۔ لاتطع کہنا مت مان۔ ھواہ اس کی خواہش۔ فرطاً حد سے آگے بڑھنے والے۔ احاط گھیر لیا۔ سرادق پردہ کی دیوار، قنات۔ یستغیثوا وہ مدد چاہیں گے۔ مھل وہ چیز جو طبیعت پر ناگوار ہو۔ یشوی بھون ڈالتی ہے۔ الشراب پینے کی چیز۔ مرتفق آرام کرنے کی جگہ۔ تشریح :- آیت نمبر 27 تا 29 نبی کریم ﷺ کی شدید دلی خواہش تھی کہ اگر عرب کے سردار اور با اثر لوگ ایمان لے آئیں تو سارا عرب اسلام کی دولت سے مالا مال ہوجائے گا اور کفر و شرک کی کمر ٹوٹ کر رہ جائے گی۔ آپ اللہ کا دین پھیلانے کی جدوجہد میں رات دن کوششیں فرماتے رہتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

قرآں شریف کی نصیحت امیر و غریب پر یکساں کرنے کا حکم شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ سرداران کفار کی ایک جماعت نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ ہمیں غرباء اور شکستہ حالوں کے ساتھ بیٹھتے شرم آتی ہے، اگر آپ انہیں اپنی صحبت سے جدا کردیں تو ہم اسلام لے آئیں اور ہمارے اسلام لے آنے سے خلق کثیر اسلام لے آئے گی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ کا حکم نہیں بدل سکتا اس کا حکم یہی ہے کہ غریب امیر سب کو یکسان ایک ہی مجلس میں قرآن کی آیتیں نصیحت کے طور پر سنائی جاویں اور تم کو اللہ کی پناہ کے سوا کسی کی پناہ نہیں ہے۔ اس واسطے اللہ کی مرضی کے موافق تم اپنا کام کئے جاؤ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–41

[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–27

مستقبل کے متعلق ادعا نہ کرو : (ف 2) ہر کام کے لئے اللہ کی طرف سے ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور ہر بات میں مصلحتیں ہوتی ہیں جنہیں کوتاہ نظر انسان نہیں دیکھ سکتا اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی ہر بات میں اس عارفانہ نظریہ کو ملحوظ رکھے یعنی کبھی ادعا کے ساتھ مستقبل کے متعلق کچھ نہ کہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ پردہ غیب سے کیا ظہور پذیر ہونے والا ہے ، اسے نہیں معلوم کل جو آفتاب طلوع ہوگا ، وہ میری تائید میں طلوع ہوگا یا مخالفت میں اصحاب کہف پر ظلم توڑنے والے لوگوں کو دیکھئے ، حکومت وقت کے وعادی کیا تھے یہی ناکہ ہم خدا پرستوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے ، اور ان کا نشان تک باقی نہیں رہنے دیں گے ، اور اس ادعا کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-27 اور اے پیغمبر ! آپ کا کام تو صرف اسی قدر ہے کہ آپ کے رب کی جو کتاب وحی کے ذریعے آپ کی جانب اتاری گئی ہے اور آپ کے پاس آئی ہے اس کو پڑھ کر سناتے رہئے اللہ تعالیٰ کی باتوں کو اور اس کے وعدوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور آپ اس کے سوا کہیں پناہ کی اور چھپنے کی جگہ نہ پائیں گے۔ یعنی مجرموں اور نافرمانوں کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ فرمانبرداروں کے لئے البتہ اس کی رحمت وسیع ہے۔ جیسا کہ اصحاب کہف کی مدد اور حمایت کی گئی ہے کسی کے انکار کی جانب توجہ نہ کیجیے ان کو قرآن کریم پڑھ کر سنائیے خدا کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 24–27

ف 7۔ آپ سے روح و اصحاب کہف و ذوالقرنین کا قصہ پوچھا گیا تو آپ نے وحی کے بھروسہ پر زبان سے انشاء اللہ بغیر کہے وعدہ فرمایا کہ کل جواب دوں گا۔ چناچہ پندرہ روز تک وحی نازل نہ ہوئی اور آپ کو بڑا غم ہوا، اس کے بعد جواب کے ساتھ یہ حکم بھی نازل ہوا کہ یہ لوگ آپ سے کوئی بات قابل جواب دریافت کریں اور آپ ان سے جواب کا وعدہ کریں تو اس کے ساتھ انشاء اللہ یا اس کے ہم معنی کوئی بات ملا لیا کریں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ کتاب اللہ میں لگے رہیں اور یقین جانیں کہ اللہ کی باتیں بدلا نہیں کرتیں : 29۔ لوگ باتیں کرتے ہیں رہتے ہیں اور گزشتہ باتوں میں افراط وتفریط کا احتمال یقینی ہے جو باتیں آپ کو بتائی گئی ہیں خصوصا ان لوگوں کے متعلق جو اصحاب کہف کے نام سے معروف ہیں وہ تو حقیقت ہے اور ان کو اس آیت میں بیان کردیا ہے جس رنگ میں وہ معرض وجود میں آئیں لیکن جب لوگ ان کو سنیں گے تو کیا وہ تصدیق کردیں گے نہیں جن لوگوں نے پہلے تہیہ کیا ہو کہ فلاں کی بات کو ہم نہیں تسلیم کریں گے تو وہ تسلیم نہیں کرسکتے ، سوال کرنے والے ضروری نہیں کہ اس وجہ سے سوال کریں کہ ہمیں حق اور ناحق کا پتہ چل جائے بلکہ کوئی بات ان کے دماغ کے خانہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–27

Yet another question arises here about the People of Kahf. During their time and then within the blessed period of the Holy Prophet ﷺ ، the Jews and Christians had their differences about two things - the number of the People of Kahf and the duration of their sleep in the Cave. The Qur'an does describe both. However, it has done so with a difference. The number was not mentioned explicitly. Rather, only a hint has been given by not refuting the view which was correct. But, the fixed duration was declared in very clear words: وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

26. After relating the story of the sleepers of the cave, the Quran begins to review the condition of the Muslims of Makkah at the time of the revelation of the Surah. 27. This does not mean at all that, God forbid, the Prophet (peace be upon him) was inclined to make any changes in the Quran to please the disbelievers of Makkah and was thinking of some formula of compromise with the chiefs of the Quraish which necessitated a warning that he was not authorized to do so. As a matter of tact, though this was apparently addressed to the Prophet (peace be upon him), it was really meant for the…

Read the full tafseer →