Explained with ayahs 23–24
ان شاء اللہ کہنے کا حکم
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ختم المرسلین نبی کو ارشاد فرماتا ہے کہ جس کام کو کل کرنا چاہو تو یوں نہ کہہ دیا کرو کہ کل کروں گا بلکہ اس کے ساتھ ہی انشاء اللہ کہہ لیا کرو کیونکہ کل کیا ہوگا ؟ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ علام الغیوب اور تمام چیزوں پر قادر صرف وہی ہے۔ اس کی مدد طلب کرلیا کرو۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت سلیمان بن داؤد ؑ کی نوے بیویاں تھیں۔ ایک روایت میں ہے سو تھیں۔ ایک میں ہے بہتر 0702 تھیں تو آپ نے ایک بار کہا کہ آج رات میں ان سب کے پاس جاؤں گا ہر عورت کو بچہ ہوگا تو سب اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے، اس وقت فرشتے نے کہا انشاء اللہ کہہ۔ مگر…
Read the full tafseer →سورة الْكَهْف 24
یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو پچھلی آیت کے مضمون کی مناسبت سے سلسلۂ کلام کے بیچ میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ پچھلی آیت میں ہدایت کی گئی تھی کہ اصحاب کہف کی تعداد کا صحیح علم اللہ کو ہے اور اس کی تحقیق کرنا ایک غیر ضروری کام ہے، لہٰذا خواہ مخواہ ایک غیر ضروری بات کی کھوج میں لگنے سے پرہیز کرو۔ اور اس پر کسی سے بحث بھی نہ کرو۔ اس سلسلہ میں آگے کی بات ارشاد فرمانے سے پہلے جملۂ معترضہ کے طور پر ایک اور ہدایت بھی نبی ﷺ اور اہل ایمان کو دی گئی اور وہ یہ کہ تم کبھی دعوے سے یہ نہ کہہ دینا کہ میں کل فلاں کام کردوں گا۔ تم کو کیا خبر کہ تم وہ کام کرسکو گے یا نہیں۔ نہ تمہیں غیب کا علم، اور نہ تم…
Read the full tafseer →آئندہ کام کرنے پر انشاء اللہ کہنا
لباب میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے پہلی دو آیتوں کے شان نزول کے متعلق یہ نقل کیا ہے کہ جب اہل مکہ نے یہود کی تعلیم کے مطابق رسول اللہ ﷺ سے قصہ اصحاب کہف وغیرہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ان سے کل جواب دینے کا وعدہ بغیر انشاء اللہ کہے ہوئے کرلیا تھا، مقربین بارگاہ کی ادنی سی کوتاہی پر تنبیہ ہوا کرتی ہے، اس لئے پندرہ روز تک وحی نہ آئی، اور آنحضرت ﷺ کو بڑا غم ہوا، اور مشرکین مکہ کو ہنسنے اور مذاق اڑانے کا موقع ملا، پندرہ روز کے اس وقفہ کے بعد جب اس سورة میں سوالات کا جواب نازل ہوا تو اس کے ساتھ ہی یہ دو آیتیں ہدایت دینے کے لئے نازل ہوئیں کہ آئندہ کسی کام کے کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
تفسیر آیت 23 تا 24: وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا (23)إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَى أَنْ يَهْدِيَنِ رَبِّي لأقْرَبَ مِنْ هَذَا رَشَدًا (24)۔
وعدہ مشروط بمشیت الٰہی کیا جائے : اسی ذیل میں نبی ﷺ کو یہ ہدایت بھی فرما دی کہ کسی امر میں یوں غیر مشروط وعدہ نہ کرلیا کرو کہ میں یہ کام کل کردوں گا۔ اس ہدایت کی ضرورت غالبا یوں پیش آئی کہ اصحاب کہف کے متعلق جب پوچھنے والوں نے پوچھا ہوگا تو آپ نے یہ وعدہ کرلیا ہوگا کہ میں اس کا جواب کل دے دوں گا۔ اس قسم کے سوالات، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، آپ سے امتحانا کیے جاتے تھے اس وجہ سے فطری طور پر آپ کی…
Read the full tafseer →24۔ 1 مفسرین کہتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی سے تین باتیں پوچھی تھیں، روح کی حقیقت کیا ہے اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کون تھے ؟ کہتے ہیں کہ یہی سوال اس سورت کے نزول کا سبب بنا نبی ﷺ نے فرمایا میں تمہیں کل جواب دونگا، لیکن اس کے بعد 15 دن تک جبرائیل وحی لے کر نہیں آئے۔ پھر جب آئے تو اللہ تعالیٰ نے انشاء اللہ کہنے کا یہ حکم دیا۔ آیت میں (غد) سے مراد مستقبل ہے یعنی جب بھی مستقبل قریب یا بعید میں کوئی کام کرنے کا عزم کرو تو انشاء اللہ ضرور کہا کرو۔ کیونکہ انسان کو تو پتہ نہیں کہ جس بات کا عزم کر رہا ہے، اس کی توفیق بھی اسے اللہ کی مشیت سے ملتی ہے یا نہیں۔
24۔ 2 یعنی اگر کلام یا وعدہ کرتے وقت انشاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
18: جب آنحضرت ﷺ سے اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، اس وقت آپ نے سوال کرنے والوں سے ایک طرح کا وعدہ کرلیا تھا کہ میں اس سوال کا جواب کل دوں گا، اس وقت آپ انشاء اللہ کہنا بھول گئے تھے اور آپ کو یہ امید تھی کہ کل تک وحی کے ذریعے آپ کو ان واقعات سے باخبر کردیا جائے گا، اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ مستقل ہدایت عطا فرمائی کہ کسی بھی مسلمان کو آئندہ کے بارے میں کوئی بات انشاء اللہ کہے بغیر نہیں کہنی چاہیے، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں چونکہ آپ نے انشاء اللہ نہیں فرمایا تھا اس لئے اگلے روز وحی نہیں آئی ؛ بلکہ کئی روز کے بعد وحی آئی اور اس میں…
Read the full tafseer →” اور جب تم بھول ائو تو اللہ کو یاد کرو “ اگر کسی وقت تم اللہ کی طرف متوجہ ہونا بھول جائو تو فوراً اس کی طرف متوجہ ہو جائو اور کہہ دو
” اور کہو ، امید ہے کہ میرا رب اس معاملے میں رشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا۔ “ اس نہج کے مطابق انسانی دل ہمیشہ اللہ سے جڑا ہوتا ہے اپنے اہم امور میں بھی اور اپنے تمام منصوبوں میں بھی۔
یہاں لفظ عسی (امید ہے) اور لفظ ناقرب (یعنی قریب تر بات) کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس لئے کہ یہ مقام بلند پانا عام لوگوں کے لئے بہت ہی مشکل ہے اور ہر انسان کو چاہئے کہ وہ ایسے مقام پر قائم رہنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہے۔
اس قصے سے یہاں تک ہمیں معلوم نہ تھا کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
4 اصحاب کہف کا قصہ تاریخی کتابوں میں نادرات میں لکھا تھا، ہر کسی کو کہاں خبر ہوسکتی۔ مشرکین نے یہود کے سکھانے سے حضرت سے پوچھا۔ مقصود آپ ﷺ کی آزمائش تھی، حضور اکرم ﷺ نے وعدہ کیا کہ کل بتاؤں گا۔ اس بھروسہ پر کہ جبرائیل آئیں گے تو دریافت کردوں گا۔ جبرائیل پندرہ دن تک نہ آئے حضرت نہایت غمگین ہوئے۔ مشرکین نے ہنسنا شروع کیا۔ آخر یہ قصہ لے کر آئے اور پیچھے نصیحت کی کہ آئندہ کی بات کے متعلق بغیر " انشاء اللہ " کے وعدہ نہ کرنا چاہیے۔ اگر ایک وقت بھول جائے تو پھر یاد کر کے کہہ لے۔ اور فرمایا کہ امید رکھ کہ تیرا درجہ اللہ اس سے زیادہ کرے یعنی کبھی نہ بھولے (موضح القرآن) یا اصحاب کہف کے واقعہ سے زیادہ…
Read the full tafseer →آیت 24 اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ
یعنی مستقبل کے بارے میں جب بھی کوئی بات کریں تو ”ان شاء اللّٰہ“ ضرور کہیں کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں یوں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر یہ خصوصی فضل ہے کہ انہیں اپنی معاشرتی زندگی میں روز مرہ کے معمولات کے لیے ایسے کلمات سکھائے گئے جن میں توحید کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ آپ نے کوئی خوبصورت چیز دیکھی جس سے آپ کا دل خوش ہوا آپ نے کہا : سبحان اللّٰہ ! گویا آپ نے اقرار کیا کہ یہ اس چیز کا کمال نہیں اور نہ ہی یہ چیز بذات خود لائق تعریف ہے بلکہ تعریف تو اللہ کی ہے جس نے یہ خوبصورت چیز بنائی۔ آپ کی کوئی تکلیف دور ہوئی تو منہ سے نکلا : الحَمد للّٰہ ! یعنی جو…
Read the full tafseer →23 وعدہ کے وقت انشاء اللہ کہنے کی ہدایت :۔ ہوا یہ تھا کہ جب کفار مکہ نے آپ سے اصحاب کہف وغیرہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے انھیں جواب دیا کہ میں کل ان کا جواب دوں گا۔ آپ کا خیال یہ تھا کہ دریں اثناء شاید جبرئیل آئے تو ان سے پوچھ کر بتادوں گا یا اللہ تعالیٰ از خود کل تک بذریعہ وحی مطلع کر دے مگر کل تک ان دونوں میں کوئی بات بھی نہ ہوئی پھر چند دن بعد جبرئیل وحی لے کر اس سورة کی آیات لے کر آئے اور ساتھ ہی آپ کے لیے یہ ہدایت بھی نازل ہوئی کہ کسی سے ایسا حتمی وعدہ نہ کیا کریں کہ میں کل تک یہ کام کردوں گا اور اگر وعدہ کرنا ہی ہو تو ساتھ الا ماشاء اللہ ضرور کہا کریں (یعنی اگر اللہ کو منظور ہوا تو فلاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
37۔ یعنی آپ ﷺ سے جب کوئی شخص کوئی بات جواب طلب دریافت کرلے۔ ؛ اور آپ اس سے آئندہ جواب کا وعدہ کریں تو لفظ انشاء اللہ تعالیٰ یا کوئی اور لفظ اس کے مرادف ضرور کہہ دیاکریں اور ایک وعدہ ہی کی تخصیص نہیں، اس کا لحاظ ہر امر میں رکھیں۔ آیت کی شان نزول یا آج کل کی اصطلاح میں پس منظر یہ ہے کہ ایک بار منکرین نے آکر رسول اللہ ﷺ سے تین سوالات بطور امتحان دریافت کیے۔ ایک یہ کہ ماہیت روح کیا ہے ؟ دوسرے یہ کہ اصحاب کہف کون تھے ؟ تیسرے یہ کہ ذوالقرنین کا کیا قصہ ہے ؟ آپ نے وحی الہی کے بھروسہ پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے وحی پندرہ دن تک نہ آئی۔ آپ کو قدرۃ غم و صدمہ رہا۔ اس کے بعد وحی سے سوالات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
آیت نمبر 21 تا 26
ترجمہ : اور ہم نے اسی جس طرح کہ ان کو بیدار کیا، ان کے حالات پر ان کی قوم کو اور مومنین کو مطلع کردیا تاکہ ان کی قوم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کا بعث بعد الموت کا وعدہ حق ہے، اس طریقہ پر کہ جو ذات اصحاب کہف کو ایک طویل زمانہ قیامت میں کوئی شک نہیں ہے اِذ، اَعْثَرنَا کا معمول ہے اور جبکہ مومنین اور کفار آپس میں ان نوجوانوں کے لئے (یاد گار کے طور) عمارت کے بنانے میں اختلاف کر رہے تھے، چناچہ کفار نے کہا ان کے اردگرد کوئی یادگاری عمارت بنادو کہ جو ان کو مستور کر دے ان کا رب ان کے احوال سے خوب واقف ہے (آخر کار) ان لوگوں نے جواب نوجوانوں کے معاملہ میں غالب رہے اور وہ مومنین تھے کہ…
Read the full tafseer →اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ ۡ: مگر مشیت خدا کو ملا دیا کیجئے (یعنی انشاء اللہ ضرور کہہ دیاکیجئے)
ابن المنذر نے مجاہد کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ یہودیوں نے قریش سے کہا تھا ان سے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق سوال کرو۔ قریش نے حضور : ﷺ سے یہ سوالات کئے حضور : ﷺ نے فرمایا ‘ کل میرے پاس آنا میں بتادوں گا لیکن انشاء اللہ نہیں فرمایا ‘ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ اوپر دس روز تک کوئی وحی ہی نہیں آئی آپ کو اس سے بڑی بےچینی ہوگئی ادھر قریش نے کہا تم جھوٹے ہو ‘ اس موقع پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ شروع سورت کی تشریح میں اس مضمون کی ابن جریر کی روایت کردہ تفصیل ہم لکھ چکے ہیں اور سورت بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(23۔ 24) آپ کسی کام کے متعلق یوں نہ کہا کیجیے کہ مثلا میں کل کروں گا یا کل ایسا کہوں گا مگر مشیت خداوندی کو اس کے ساتھ ملا دیا کیجیے اور جب آپ اتفاقا انشاء اللہ کہنا بھول جائیں تو بعد میں یاد آنے پر کہہ لیا کیجیے اور ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ مجھے امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ صحیح اور یقینی بات بتا دے گا۔
یہ آیت کریمہ رسول اکرم ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی جب کہ آپ سے مشرکین مکہ نے روح اور اصحاب کہف کے بارے میں دریافت کیا تھا، آپ نے فرمایا کل بتا دوں گا اور آپ انشاء اللہ کہنا بھول گئے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ الا ان یشآء اللہ“۔ (الخ)
اور ابن جریر ؒ نے ضحاک ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ۧوَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ۔۔ : یہاں شان نزول میں ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اصحاب کہف، روح اور ذو القرنین سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ”میں تمہیں کل جواب دوں گا“ اور ”ان شاء اللہ“ نہ کہا، تو پندرہ (15) دن وحی رکی رہی، پھر یہ آیت اتری : (ۧوَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا 23ۙاِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ) رازی ؓ نے فرمایا کہ قاضی نے اسے کئی وجہوں سے بےکار قرار دیا ہے۔ قاسمی نے فرمایا کہ ان کی بات حق ہے، کیونکہ محمد بن اسحاق نے یہ روایت ایک مجہول شیخ سے بیان کی ہے، جیسا کہ ابن کثیر (اور طبری) میں اس کی سندیں موجود ہیں۔ (محاسن التاویل)
3 اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت نمبر 23 تا 24
قولہ تعالیٰ : ولا تقولن لشایء انی فاعل ذلک غدا۔ الا ان یشاء اللہ اس میں دو مسلئے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: علماء نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس وقت عتاب فرمایا جب کفار نے آپ سے روح، نوجوانوں اور ذوالقرنین کے بارے سوال کیا تو آپ نے انہیں فرمایا : میں تمہارے سوالات کے جوابات کے بارے کل تمہیں آگاہ کروں گا اور آپ نے اس میں انشاء اللہ تعالیٰ نہ کہا۔ پس پندرہ دن تک آپ سے وحی رک گئی یہاں تک کہ آپ پر یہ شاق اور گراں گزرا اور کفار بھی آپ کے بارے باتیں کرکے آپ کو پریشان کرنے لگے، پس اس اضطراب اور پریشانی کو دور کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ سورت نازل فرمائی۔ اور اس آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
قریش کے سوالات اور جوابات :
1:۔ ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قریش اکٹھے ہوئے اور کہا اے محمد ﷺ تو نے ہمارے دین سے اور اپنے آباء و اجداد کے دین سے انحراف کیا ہے یہ دین تو کہاں سے لے کر آیا ہے جو تو لے کر آیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ دین رحمن کی طرف سے ہے جو میں لے کر آیا ہوں قریش نے کہا ہم یمامہ والے رحمان کے علاوہ کسی رحمان کو نہیں جانتے وہ اس سے مسیلمہ کذاب کو مراد لیتے تھے پھر قریش نے یہود کو لکھا کہ ہمارے اندر ایک آدمی ظاہر ہوا ہے جو گمان کرتا ہے کہ میں نبی ہوں اور ہمارے دین اور ہمارے آباء و اجداد کے دین کو چھوڑ دیا ہے حالانکہ وہ امین ہے جو خیانت نہیں کرتا وعدہ پورا کرتا ہے دھوکہ…
Read the full tafseer →[اِلَّآ ان : سوائے اس کے کہ ] [يَّشَاۗءَ : چاہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [وَاذْكُرْ : اور آپ ﷺ یاد کریں ] [رَّبَّكَ : اپنے رب کو ] [اِذَا : جب کبھی ] [نَسِيْتَ : آپ ﷺ بھول جائیں ] [وَقُلْ : اور آپ ﷺ کہیں ] [عَسٰٓي ان : امید ہے کہ ] [يَّهْدِيَنِ : ہدایت دے گا مجھ کو ] [رَبِيْ : میرا رب ] [لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا : اس سے زیادہ قریب کے لئے ] [رَشَدًا : بلحاظ رہنمائی کے ]
Read the full tafseer →وعدہ کرتے وقت انشاء اللہ نہ کہنے پر عتاب
تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ قریش مکہ نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو مدینہ منورہ بھیجا (یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے) کہ یہود کے علماء سے محمد ﷺ کے بارے میں دریافت کرو اور ان سے کہو کہ نبی آخر الزماں کی صفات بتادو، یہودی پہلی کتابوں سے واقف ہیں اور ہمارے پاس انبیاء کرام (علیہ السلام) کے علوم میں سے کچھ نہیں ہے لہٰذا تم جاؤ ان لوگوں سے دریافت کرو، قریش کے نمائندے مدینہ پہنچے اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں دریافت کیا اور ان سے کہا کہ تم تورات والے ہو ہم تم سے اس شخص کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، اس پر یہودیوں نے کہا کہ ان سے تین باتیں دریافت کرلو اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
ذکر اختلاف اہل کتاب دربارہ شمار اصحاب کہف
قال اللہ تعالیٰ سیقولون ثلثلۃ رابعھم .... الیٰ .... ولا یشرک فی حکمہ احدا۔
گزشتہ آیات میں لوگوں کے نزاع اور اختلاف کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں لوگوں کے دوسرے نزاع کو بیان کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ اہل کتاب جو علم کے مدعی ہیں اور بطور امتحان آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں وہ خود اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں مختلف ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
عنقریب اہل کتاب یہ قصہ سن کر ان کی تعداد کے بیان کرنے میں اختلاف کریں گے بعض تو یہ کہیں گے کہ وہ تین آدمی تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور بعض یہ کہیں گے کہ وہ پانچ آدمی تھے چھٹا ان کا کتا تھا اور یہ دونوں گروہ بےتحقیق باتیں…
Read the full tafseer →28:۔ یہاں نسیان کا حکم بیان فرمایا کہ اگر کبھی ” انشاء اللہ “ کہنا بھول جائیں تو اس کے بعد جب یاد آجائے اس وقت کہہ لیا کریں خواہ کتنے ہی عرصہ کے بعد یاد آئے اس سے اللہ کے نام سے ترک تبرک کا تدارک تو ہوجائے گا۔ باقی رہا تغیر حکم کے لیے انشاء اللہ کہنا تو اس کا کلام سے متصل ہونا ضروری ہے۔ وھذا محمول علی تدارک التبرک بالاستثناء فاما الاستثناء المغیر حکما فلا یصح الا متصلا (مدارک ج 3 ص 8 ۔ ) ۔
29:۔ آئندہ زمانے میں مجوزہ ہر کام کو اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اس کی مشیت سے معلق فرمایا کریں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کریں کہ جو کام میں آئندہ کرنا چاہتا ہوں شاید اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ اچھی تدبیر سجھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(شان نزول)
گذشتہ آیت میں اصحاب کہف کی تعداد کا ذکر تھا اس بارے میں زیادہ کرید کرنے سے منع فرمایا گیا کہ ایسے معاملہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سونپنا ہی زیادہ مناسب ہے ، آج کے درس میں اصحاب کہف کے غار میں ٹھہرنے کی مدت کا بیان ہے البتہ درمیان میں ایک بات نصیحت کے طور پر فرمائی گئی ہے کہ کسی کام کا ارادہ کرتے وقت ساتھ انشاء اللہ کہہ کر اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا چاہئے کیونکہ اس کی منشاء کے بغیر کوئی کوئی انجام نہیں دیا جاسکتا ، اسی بات کا تعلق اصحاب کہف کے واقعہ کے ساتھ بھی ہے گذشتہ دروس میں بیان کیا جا چکا ہے کہ مشرکین نے یہودیوں کے ایما پر حضور ﷺ سے روح ، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق تین…
Read the full tafseer →اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللہُ 0ۡوَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ وَقُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّہْدِيَنِ رَبِّيْ لِاَقْرَبَ مِنْ ہٰذَا رَشَدًا 24
ذكر
الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل :
الذّكر ذکران :
ذكر بالقلب .
وذکر باللّسان .
وكلّ واحد منهما ضربان :
ذكر عن نسیان .
وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
1 ؎ یعنی انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ تو جب یاد آئے کہہ لیا کرو۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
وَلَبِثُوْا فِیْ کَـھْفِھِمْ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا۔ قُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا ج لَـہٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اَبْصِرْبِہٖ وَاَسْمِعْ ط مَالَھُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ ز وَّلاَ یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖ اَحَدًا۔ (الکہف : 25، 26)
( اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور نو سال مزیدبراں۔ کہہ دیجیے اللہ ہی خوب جانتا ہے جتنی مدت وہ رہے ہیں، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اسی کو معلوم ہیں، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا، زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبرگیر اس کے سوا نہیں اور وہ اپنے اختیار میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ )
آیت کے مفہوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
فہم القرآن
ربط کلام : نبی کریم ﷺ کو دوسری تلقین۔
سورۃ الکہف کے تعارف میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ اہل مکہ نے مدینہ کے یہودیوں کے پاس ایک وفد بھیجا۔ یہودیوں نے انہیں تین سوالات بتلائے کہ اگر محمد نے ان سوالوں کا ٹھیک ٹھیک جواب دیا تو وہ حقیقی نبی ہے۔ اگر ٹھیک جواب نہ دے سکا تو نبوت کے دعوی میں جھوٹا ہے۔ وفد نے مکہ سے واپس آکر آپ ﷺ سے یہ سوالات کیے۔ آپ نے فرمایا کہ میں کل تمہیں جواب دوں گا لیکن کئی دن تک وحی نہ آئی۔ جس پر کفار نے بغلیں بجائیں اور پروپیگنڈہ کیا کہ یہ شخص جھو ٹا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان جاری کیا ” اے نبی ! کسی کام کے بارے میں آئندہ اس طرح نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا ایسی…
Read the full tafseer →ذکر کا حکم :
24: وَاذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ (اور جب آپ بھول جائیں تو اپنے رب کا ذکر کریں) جب مشیت رب سے متعلق کرنا۔ فرط نسان سے بھول جائیں تو کہیں انشاء اللہ۔ اذا نسیت کا معنی کلمہ استثناء کا بھولنا ہے۔ پھر آپ اس پر متنبہ ہو کر انشاء اللہ کہہ کر تدارک کریں حضرت حسن (رح) کہتے ہیں۔ مجلس ذکر میں جب تک ہو اس وقت تک بعد میں انشاء اللہ کہنے سے تدارک ہوسکتا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ایک سال کے بعد یاد آئے تب بھی انشاء اللہ سے تدارک ہوجائے گا۔ یہ ارشاد اس انشاء اللہ کا ہے۔ جو بطور تبرک کے کہا جائے۔ البتہ وہ استثناء جو حکم کو بدلنے والا ہے وہ متصل ہی درست ہے۔
نکتہ : حکایت ہے کہ منصور عباسی…
Read the full tafseer →تفسیر 24 ۔ ” الًا ان یشاء اللہ “ جب آپ کل کے دن کسی کام کرنے کا ارادہ فرمائیں تو یہ نہ کہیں کہ میں یہ کام کل کروں گا مگر یہ کہ آپ کہہ دیں کہ ان شاء اللہ یہ اس وجہ سے کہ اہل مکہ نے آپ ﷺ سے روح کے متعلق، اصحاب کہف کے متعلق اور ذی القرنین کے متعلق سوال کیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس کے متعلق کل خبر دوں گا اور ان شاء اللہ نہیں فرمایا، وحی کچھ دن نہ آئی۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی ” واذکر ربک اذا نسیت “ ابن عباس ؓ، مجاہد اور حسن کا قول ہے کہ ان شاء اللہ اگر کہنا بھول جائو تو جس وقت بھی یاد آجائے ان شاء اللہ کہہ دو ۔ ابن عباس ؓ نے مستثنیٰ منقطع کو جائز قرار دیا ہے اور کہا کہ ایک سال کے بعد بھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
23۔ 26:۔ شروع سورة میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے قیس نے تین باتیں اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھیں تو آپ نے وحی کے بھروسہ پر یہ وعدہ کیا کہ کل تک میں ان باتوں کا جواب دے دوں گا مگر اس وعدہ کے وقت انشاء اللہ کا کہنا آپ ﷺ کو یاد نہ رہا اس لیے پندرہ روز تک وحی نہیں آئی۔ مجاہد کے قول کے موافق اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان آیتوں کے ذریعہ حکم دیا کہ آئندہ ہر ایک وعدہ کے ساتھ لفظ انشاء اللہ کہنا چاہیے واذکر ربک اذا نسیت سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہ بات نکالی ہے کہ اگر قسم کھا کر کوئی شخص ایک بات کہے اور انشاء اللہ بھول جائے اور پھر جب وہ بات یاد آئے اور انشاء اللہ کہہ لیوے تو ایسی قسم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
“ (آیت نمبر 22)
اللہ تبارک و تعالیٰ اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں اہل کتاب کے اختلاف کا ذکر فرماتا ہے ان کا اختلاف محض اٹکل پچو اور بےتکی باتیں تھیں۔ انہوں نے بغیر کسی علم کے یہ باتیں گھڑ لی تھیں۔ ان کی تعداد کے متعلق اہل کتاب کے تین اقوال تھے :
(1) ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ اصحاب کہف تین آدمی تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔
(2) بعض کی رائے تھی کہ وہ پانچ آدمی تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔۔۔۔ یہ دو قول ہیں جن کو ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو ( رجما بالغیب) قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان دونوں اقوال کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔
(3) بعض کہتے ہیں کہ وہ تعداد میں سات تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
قسم میں استناء کا بیان
قول باری ہے (ولا تقولن لشای انی فاعل ذلک غداً الا ان یشآء اللہ اور کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کروں گا (تم کچھ نہیں کرسکتے) الا یہ کہ اللہ چاہے ) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس قسم کا استثناء کلام کے حکم کو رفع کرنے کے لئے کلام میں داخل ہوتا ہے اور پھر کلام کے حکم کا وجود اور عدم دونوں یکساں ہوجاتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو اللہ کی مشیت کے ساتھ استثناء کرنے کی تلقین فرمائی تاکہ آپ اپنی قسم میں کاذب نہ قرار دیئے جائیں یہ چیز ہماری اس بات پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ایسے کلام کے حکم کے متعلق ابھی بیان کی ہے۔ اس پر وہ قول باری بھی…
Read the full tafseer →44۔ انشاء اللہ کہنے کی تعلیم و تلقین :۔
کہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے پس ہر معاملہ اسی کی مشیت کے حوالے کیا کرو، اور اس کیلئے انشاء اللہ کہہ دیا کرو، روایات میں ہے کہ جب قریش نے آپ ﷺ سے اصحاب کہف وغیرہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کا جواب میں تم کو کل دوں گا، مگر آپ ﷺ اس موقع پر انشاء اللہ کہنا بھول گئے، جس پر وحی کا آنا بند ہوگیا اور پندرہ دن تک وحی رکی رہی، جس سے کفار قریش کو آپ ﷺ کی تکذیب واستہزاء کا ایک موقع ہاتھ آگیا، اور آپ ﷺ کو اس بہت تکلیف اٹھانا پڑی، تب یہ آیتیں نازل ہوئیں، اور ان میں آپ ﷺ کو یہ تعلیم و تلقین فرمایا گیا کہ آئندہ کے بارے میں جس بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
اصحاب کہف کی تعداد اور غار میں ٹھہرنے کی مدت
تشریح : ان آیات میں مزید کچھ نکات اور نصیحتیں بیان کی گئی ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے ذریعے ہمیں بتائے گئے ہیں۔ پہلے تو یہ نصیحت کی گئی کہ جو کچھ علم اللہ نے دیا ہے بس اسی کو سمجھ لو جن باتوں کو اللہ نے واضح نہیں کیا ان کے کھوج میں مت لگو، یعنی اللہ نے اصحاب کہف کے ذریعے سے جو سبق دینے تھے ان پر غور کرو۔ ان کی تعداد جگہ اور زمانے کو اللہ نے واضح نہیں کیا اس لیے جتنا جانتے ہو بتا دو ۔ دوسری نصیحت یہ کی کہ جو بھی بات آئندہ کے لیے کہو تو اس کے لیے انشاء اللہ ضرور بولو، کیونکہ مستقبل کا کسی کو علم نہیں، سوائے اس کے جو اللہ نے چاہا۔
غریب اور مخلص مؤمنوں یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کے مرتبہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ کہہ دیں کل یہ کام کر دوں گا کہ آپ تو سراپا ہدایت تھے اور آپ کے معجزات دیکھ کر لوگ آپ ہی کی پرستش نہ کرنے لگ جائیں ، اور یہ نہ سمجھ لیں کہ سب کچھ کرنا آپ ﷺ کے ذاتی اختیار میں ہے ، لہذا کبھی مت کہیے کہ میں یہ کام کر دوں گا ، سوائے اس کے کہ انشاء اللہ ملا لیجئے یعنی اللہ جل جلالہ نے چاہا تو یہ کام کر دوں گا ۔
جب آپ ﷺ پر یہ تین سوال پیش کئے گئے تو آپ ﷺ نے فرما دیا کہ کل جواب دوں گا اور انشاء اللہ ساتھ نہ فرمایا تو کم وبیش پندرہ روز تک کوئی وحی نازل نہ ہوئی جس پر آپ ﷺ بھی بہت افسردہ ہوئے اور کفار نے بڑا مذاق اڑایا مگر پھر اس آیۃ کریمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 3 مفسرین لکھتے ہیں کہ جب یہودیوں نے نبی ﷺ کا امتحان لینے کے لئے آپ سے اصحاب کہف کا قصہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا میں اسے کل بتادوں گا اور آپ نے انشاء اللہ نہیں فرمیا ا لیکن کافی دنوں تک وحی نہ آئی اور آپ کا وعدہ خلاف ہوگیا۔ اس پر آیت نازل ہوئی اور آپ کو ہر آئندہ کام میں انشاء اللہ کہنے کا حکم دیا گیا۔ (شوکانی)4 جس سے میری رسالت کا ثبوت ہو چناچہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو نہ صرف صحاب کہف کا قصہ بتایا بلکہ غیب کی بہت سی دوسری باتیں بھی بتائیں جن کے متعلق کسی کے پاس کوئی معلومات نہ تھی مقصد وہی ہے کہ اصحاب کہف کا قصہ کوئی اتنا زیادہ عجب نہیں ہے۔ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(18:24) الا ان یشاء اللہ میں الا حرف استثناء ہے تقدیر کلام یوں ہے۔ الا ان تقول ان شاء اللہ۔ الا۔ تو یہ بھی کہے کہ اگر اللہ نے چاہا۔ نسیت۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ نسیانمصدر۔ تو بھول جاوے۔ (یعنی انشاء اللہ کہنا بھول جاوے۔ یا اللہ کا نام لینا بھول جاوے)
عسی ان یھدین عسی افعال مقارب میں سے ہے۔ عنقریب ہے، ممکن ہے، توقع ہے۔ ان حرف ناصب فعل مستقبل یھدین مضارع منصوب۔ بوجہ عمل ان۔ ھدایۃ سے۔ ن وقایہ اور یمتکلم محذوف کہ وہ مجھے ہدایت کر دے۔ میری رہنمائی کردے۔
لاقرب من ھذا۔ اس سے بھی قریب تر ۔ اقرب افعل التفضیل کا صیغہ ہے ھذا کا اشارہ اصحاب کہف کے قصہ کی طرف ہے یا اس کا اس بات کی طرف اشارہ ہے جس کے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 24
لاتقولن تو ہرگز مت کہنا۔ لشائ کسی چیز کے لئے۔ فاعل کرنے والا۔ غداً کل۔ اذکر یاد کر۔ نسیت تو بھول گیا۔ عسی شاید۔ توقع۔ یھدین وہ مجھے راہ دکھائے گا۔ اقرب زیادہ قریب۔ رشد سمجھنا، رہنمائی۔
تشریح :- آیت نمبر 23 تا 24
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی کو زندگی کے ہر انداز اور معاملات زندگی کو ہر اس شخص کے لئے بہترین نمونہ عمل بنا دیا ہے جو اللہ کی رحمت کی امید، آخرت کی فکر اور خوب اللہ کا ذکر کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو منصب نبوت عطا فرمایا ہے وہ اس لئے ہے کہ آپ لوگوں تک اللہ کا پیغام پوری دیانت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
انشاء اللہ کہنے کا حکم
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ جب قریش نے یہود کی تعلیم پر امتحاناً اللہ کے رسول سے روح اور ذوالقرنین اور اصحاب کہف کا حال پوچھا تھا، تو آپ نے فرمایا تھا کہ کل آنا میں سب خبر دے دوں گا۔ انشاء اللہ نہیں فرمایا تھا اس پر کئی روز وحی نہیں آئی۔ کفار نے آپ کو طعنے دینے شروع کئے اور حضرت کو سخت غم لاحق ہوا۔ پھر مفصل قصہ بیان کرکے تنبیہ کرنے کو یہ دو آیات نازل ہوئیں کہ کبھی اللہ کی مشیت کو نہ چھوڑو، یوں کہا کرو کہ اگر اللہ نے چاہا تو یہ کام کردوں گا، اور اگر بھول جاؤ تو پھر یاد کر کے کہہ لیا کرو اور یہ بھی معنی نکلتے ہیں کہ اگر کسی نماز کو بھول گیا تو یاد آتے ہی ادا کرے۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–41
[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
مستقبل کے متعلق ادعا نہ کرو :
(ف 2) ہر کام کے لئے اللہ کی طرف سے ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور ہر بات میں مصلحتیں ہوتی ہیں جنہیں کوتاہ نظر انسان نہیں دیکھ سکتا اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی ہر بات میں اس عارفانہ نظریہ کو ملحوظ رکھے یعنی کبھی ادعا کے ساتھ مستقبل کے متعلق کچھ نہ کہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ پردہ غیب سے کیا ظہور پذیر ہونے والا ہے ، اسے نہیں معلوم کل جو آفتاب طلوع ہوگا ، وہ میری تائید میں طلوع ہوگا یا مخالفت میں اصحاب کہف پر ظلم توڑنے والے لوگوں کو دیکھئے ، حکومت وقت کے وعادی کیا تھے یہی ناکہ ہم خدا پرستوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے ، اور ان کا نشان تک باقی نہیں رہنے دیں گے ، اور اس ادعا کا…
Read the full tafseer →-24 مگر ہاں اللہ تعالیٰ کے چاہئے اور اس کی مشیت کے ساتھ معلق فرما کر کہا کیجیے یعنی انشاء اللہ تعالیٰ کہہ دیا کیجیے اور جب کبھی آپ اتفاق سے بھول جائیں تو یاد آنے پر اپنے پروردگار کا ذکر کرلیا کیجیے اور آپ ان سے فرما دیجیے مجھے امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے کوئی ایسی بات بتادے جو میری نبوت کی دلیل ہونے کے اعتبار سے اصحاب کہف کے قصے سیبھی قریب تر ہو۔
یعنی جب کوئی کام کرنے کے متعلق آپ وعدہ کریں تو انشاء اللہ یا اس سے ملتے جلتے کلمات فرما دیا کیجیے جیسے عسیٰ ان یھدین ربی۔
مثلاً پھر حضرت حق کے چاہنے کا ذکر کردیا جائے اور کبھی بتقاضائے بشریت یاد نہ رہے تو جب یاد آئے جب فرما دیا کیجیے کیونکہ انشاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
ف 7۔ آپ سے روح و اصحاب کہف و ذوالقرنین کا قصہ پوچھا گیا تو آپ نے وحی کے بھروسہ پر زبان سے انشاء اللہ بغیر کہے وعدہ فرمایا کہ کل جواب دوں گا۔ چناچہ پندرہ روز تک وحی نازل نہ ہوئی اور آپ کو بڑا غم ہوا، اس کے بعد جواب کے ساتھ یہ حکم بھی نازل ہوا کہ یہ لوگ آپ سے کوئی بات قابل جواب دریافت کریں اور آپ ان سے جواب کا وعدہ کریں تو اس کے ساتھ انشاء اللہ یا اس کے ہم معنی کوئی بات ملا لیا کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آپ ﷺ کے ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کے لئے دوسری ہدایت :
27۔ فرمایا جب بھی تم کوئی بات کرو یا کرنا چاہو تو حتمی طور پر مت کیا کرو کہ اس کام کو کل میں ضرور کروں گا اس لئے کہ کسی انسان کو آنے والے کل کے متعلق علم نہیں کہ وہ کل کیسے اور کس طرح آئے گا یا ہماری زندگی میں وہ کل آئے گا بھی یا نہیں ۔ ہاں ! جب کسی کام کے کرنے کا پختہ ارادہ کرلو تو اس طرح کہو کہ انشاء اللہ میں کل ایسا کرنا چاہتا ہوں ۔ میرا ارادہ میں ہے کہ میں کل اللہ چاہے تو ضرور ایسا کروں گا یہ اس لئے کہ آنے والے کل کے متعلق کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کیسا ہوگا ؟ جب وہ انشاء اللہ یا اللہ چاہے کہ الفاظ استعمال کرے گا اور دل میں اس کا پختہ…
Read the full tafseer →Saying 'Insha'Allah' on doing something in the future
The background of the revelation of the first two verses has been reported in Lubab from Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ in the following manner. When the people of Makkah acting as coached by the Jews, asked the Holy Prophet ﷺ about the story of Ashab al-Kahf etc., he promised to answer that next day without having said Insha'Allah. The least shortcoming issuing forth from the close ones brings some or the other notice of caution. Therefore, no revelation came for the next fifteen days. Naturally, the Holy Prophet ﷺ was grieved and the…
Read the full tafseer →24. This is a parenthetical clause which has been inserted here because of its relevancy to the preceding verse, in which it was asserted that the correct number of the sleepers of the cave is known only to Allah and a research into it is a useless task. Therefore one should refrain from investigating into unimportant things, nor enter into discussions about them. This has led to the instruction contained in the parenthetical clause for the benefit of the Prophet (peace be upon him) and the believers who have been told never to make a positive assertion like this: I will do this thing…
Read the full tafseer →