Explained with ayahs 23–24
ان شاء اللہ کہنے کا حکم
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ختم المرسلین نبی کو ارشاد فرماتا ہے کہ جس کام کو کل کرنا چاہو تو یوں نہ کہہ دیا کرو کہ کل کروں گا بلکہ اس کے ساتھ ہی انشاء اللہ کہہ لیا کرو کیونکہ کل کیا ہوگا ؟ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ علام الغیوب اور تمام چیزوں پر قادر صرف وہی ہے۔ اس کی مدد طلب کرلیا کرو۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں حضرت سلیمان بن داؤد ؑ کی نوے بیویاں تھیں۔ ایک روایت میں ہے سو تھیں۔ ایک میں ہے بہتر 0702 تھیں تو آپ نے ایک بار کہا کہ آج رات میں ان سب کے پاس جاؤں گا ہر عورت کو بچہ ہوگا تو سب اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے، اس وقت فرشتے نے کہا انشاء اللہ کہہ۔ مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
سورة الْكَهْف 22
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعے کے پونے تین سو سال بعد، نزول قرآن کے زمانے میں اس کی تفصیلات کے متعلق مختلف افسانے عیسائیوں میں پھیلے ہوئے تھے اور عموماً مستند معلومات لوگوں کے پاس موجود نہ تھیں۔ ظاہر ہے کہ وہ پریس کا زمانہ نہ تھا جن کتابوں میں اس کے متعلق نسبۃً زیادہ صحیح معلومات درج تھیں وہ عام طور پر شائع ہوتیں۔ واقعات زیادہ تر زبانی روایات کے ذریعے سے پھیلتے تھے، اور امتداد زمانہ کے ساتھ ان کی بہت سی تفصیلات افسانہ بنتی چلی جاتی تھیں۔ تاہم چونکہ تیسرے قول کی تردید اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی ہے اس لیے یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ صحیح تعداد سات ہی تھی۔
سورة الْكَهْف 23
مطلب یہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر۔
(اور اگر لوگ آپ سے کوئی بات قابل جواب دریافت کریں اور آپ جواب کا وعدہ کریں تو اس کے ساتھ انشاء اللہ تعالیٰ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ ضرور ملا لیا کریں، بلکہ وعدہ کی بھی تخصیص نہیں، ہر ہر کام میں اس کا لحاظ رکھیں کہ) آپ کسی کام کی نسبت یوں نہ کہا کیجئے کہ میں اس کو (مثلا) کل کر دوں گا مگر خدا کے چاہنے کو (اس کے ساتھ) ملا دیا کیجئے (یعنی انشاء اللہ وغیرہ بھی ساتھ کہہ دیا کیجئے، اور آئندہ ایسا نہ ہو جیسا اس واقعہ میں پیش آیا کہ آپ سے لوگوں نے روح اور اصحاب کہف اور ذو القرنین کے متعلق سوالات کئے، آپ نے بغیر انشاء اللہ کہے ان سے کل جواب دینے کا وعدہ کرلیا، پھر پندرہ روز تک وحی نازل نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
تفسیر آیت 23 تا 24: وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا (23)إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَى أَنْ يَهْدِيَنِ رَبِّي لأقْرَبَ مِنْ هَذَا رَشَدًا (24)۔
وعدہ مشروط بمشیت الٰہی کیا جائے : اسی ذیل میں نبی ﷺ کو یہ ہدایت بھی فرما دی کہ کسی امر میں یوں غیر مشروط وعدہ نہ کرلیا کرو کہ میں یہ کام کل کردوں گا۔ اس ہدایت کی ضرورت غالبا یوں پیش آئی کہ اصحاب کہف کے متعلق جب پوچھنے والوں نے پوچھا ہوگا تو آپ نے یہ وعدہ کرلیا ہوگا کہ میں اس کا جواب کل دے دوں گا۔ اس قسم کے سوالات، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، آپ سے امتحانا کیے جاتے تھے اس وجہ سے فطری طور پر آپ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22۔ 1 یہ کہنے والے اور ان کی مختلف تعداد بتلانے والے عہد رسالت کے مؤمن اور کافر تھے، خصوصاً اہل کتاب جو کتب آسمانی سے آگاہی اور علم کا دعویٰ رکھتے تھے۔
22۔ 2 یعنی علم ان میں سے کسی کے پاس نہیں، جس طرح بغیر دیکھے کوئی پتھر مارے، یہ بھی اس طرح اٹکل پچو باتیں کر رہے ہیں۔
22۔ 3 اللہ تعالیٰ نے صرف تین قول بیان فرمائے، پہلے وہ دو قولوں کو رَجْمَا بالْغَیْبِ (ظن وتخمین) کہہ کر ان کو کمزور رائے قرار دیا اور اس تیسرے قول کا ذکر اس کے بعد کیا، جس سے اہل تفسیر نے استدلال کیا ہے کہ یہ انداز اس قول کی صحت کی دلیل ہے اور فی الواقع ان کی اتنی ہی تعداد تھی (ابن کثیر)
22۔ 4 بعض صحابہ سے مروی ہے کہ وہ کہتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
17: اس آیت نے یہ مستقل سبق دے دیا ہے کہ جس معاملے پر انسان کا کوئی عملی مسئلہ موقوف نہ ہو، اس کے بارے میں خواہ مخواہ بحثیں نہیں کرنی چاہئیں۔ اصحاب کہف کے واقعے میں اصل سبق لینے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے کس طرح ناموافق حالات میں حق پر ثابت قدم رہنے کا مظاہرہ کیا، اور پھر اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کی مدد فرمائی۔ رہا یہ کہ ان کی صحیح تعداد کیا تھی ؟ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس پر بحث کا بازار گرم کیا جائے۔ لہذا اس میں الجھنے کے بجائے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کوئی اس معاملے میں بحث کرنا بھی چاہے تو اسے سرسری گفتگو کر کے ٹال دو ، اور اپنا وقت ضائع نہ کرو۔
Read the full tafseer →واقعہ یہ ہے کہ ہر حرکت اور پر سکون بلکہ زندہ انسانوں کے سا انسوں میں سے ہر سانس اللہ کے ارادے کی مرہون منت ہے۔ عالم غیب لمحہ حاضرہ کے پردے کے پچیھے مستور ہے اور انسانی آنکھ اس پر دے کے پیچھے نہیں دیکھ سکتی۔ انسان چاہے بہت ہی عقلمند ہو ، مستقبل کے بارے میں اس کی عقل کند ہے اور کچھ جاننے سے قاصر ہے۔ لہٰذا کسی انسان کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں کل یہ کروں گا۔ جبکہ کل پردہ غیب کے پیچھے ہے اور کل کے نتائج کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔
لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ انسان بیٹھ جائے اور مستقبل کے امور کے بارے میں کوئی غور و فکر نہ کرے۔ اور وہ اپنی زندگی کے بارے میں صرف ایک دن ہی کی منصوبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
4 اصحاب کہف کا قصہ تاریخی کتابوں میں نادرات میں لکھا تھا، ہر کسی کو کہاں خبر ہوسکتی۔ مشرکین نے یہود کے سکھانے سے حضرت سے پوچھا۔ مقصود آپ ﷺ کی آزمائش تھی، حضور اکرم ﷺ نے وعدہ کیا کہ کل بتاؤں گا۔ اس بھروسہ پر کہ جبرائیل آئیں گے تو دریافت کردوں گا۔ جبرائیل پندرہ دن تک نہ آئے حضرت نہایت غمگین ہوئے۔ مشرکین نے ہنسنا شروع کیا۔ آخر یہ قصہ لے کر آئے اور پیچھے نصیحت کی کہ آئندہ کی بات کے متعلق بغیر " انشاء اللہ " کے وعدہ نہ کرنا چاہیے۔ اگر ایک وقت بھول جائے تو پھر یاد کر کے کہہ لے۔ اور فرمایا کہ امید رکھ کہ تیرا درجہ اللہ اس سے زیادہ کرے یعنی کبھی نہ بھولے (موضح القرآن) یا اصحاب کہف کے واقعہ سے زیادہ…
Read the full tafseer →آیت 23 وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا
اس آیت میں ایک بہت اہم واقعہ کا حوالہ ہے۔ جب اہل مکہ نے رسول اللہ سے سوالات کیے تو آپ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کو ان سوالات کے جوابات کل دے دوں گا۔ اس موقع پر آپ نے سہواً ”ان شاء اللّٰہ“ نہیں فرمایا۔ اس کے بعد کئی روز تک وحی نہ آئی۔ یہ صورت حال آپ کے لیے انتہائی پریشان کن تھی۔ مخالفین خوشی میں تالیاں پیٹ رہے ہوں گے آپ کو ناکامی کے طعنے دے رہے ہوں گے اور آپ کو یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑ رہا ہوگا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو کیسی کیسی سخت آزمائشوں سے دوچار کرتا ہے :
جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22 اصحاب کہف کی تعداد اور بیکار بحثوں سے اجتناب کا حکم :۔ اصحاب کہف سے متعلق ایک بحث یہ بھی چھڑی ہوئی تھی کہ ان کی تعداد کتنی تھی۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں ان قلیل لوگوں میں سے ہوں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اصحاب کہف کی صحیح تعداد جانتے ہیں اور وہ سات تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تین یا پانچ کہنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد رجماً بالغیب کا لفظ فرمایا ہے مگر سات کہنے والوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا، بعض علماء نے اور بھی کئی وجوہ سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ فی الواقع سات ہی تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بحث میں دلچسپی لینے سے منع فرما دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
37۔ یعنی آپ ﷺ سے جب کوئی شخص کوئی بات جواب طلب دریافت کرلے۔ ؛ اور آپ اس سے آئندہ جواب کا وعدہ کریں تو لفظ انشاء اللہ تعالیٰ یا کوئی اور لفظ اس کے مرادف ضرور کہہ دیاکریں اور ایک وعدہ ہی کی تخصیص نہیں، اس کا لحاظ ہر امر میں رکھیں۔ آیت کی شان نزول یا آج کل کی اصطلاح میں پس منظر یہ ہے کہ ایک بار منکرین نے آکر رسول اللہ ﷺ سے تین سوالات بطور امتحان دریافت کیے۔ ایک یہ کہ ماہیت روح کیا ہے ؟ دوسرے یہ کہ اصحاب کہف کون تھے ؟ تیسرے یہ کہ ذوالقرنین کا کیا قصہ ہے ؟ آپ نے وحی الہی کے بھروسہ پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے وحی پندرہ دن تک نہ آئی۔ آپ کو قدرۃ غم و صدمہ رہا۔ اس کے بعد وحی سے سوالات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
آیت نمبر 21 تا 26
ترجمہ : اور ہم نے اسی جس طرح کہ ان کو بیدار کیا، ان کے حالات پر ان کی قوم کو اور مومنین کو مطلع کردیا تاکہ ان کی قوم کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کا بعث بعد الموت کا وعدہ حق ہے، اس طریقہ پر کہ جو ذات اصحاب کہف کو ایک طویل زمانہ قیامت میں کوئی شک نہیں ہے اِذ، اَعْثَرنَا کا معمول ہے اور جبکہ مومنین اور کفار آپس میں ان نوجوانوں کے لئے (یاد گار کے طور) عمارت کے بنانے میں اختلاف کر رہے تھے، چناچہ کفار نے کہا ان کے اردگرد کوئی یادگاری عمارت بنادو کہ جو ان کو مستور کر دے ان کا رب ان کے احوال سے خوب واقف ہے (آخر کار) ان لوگوں نے جواب نوجوانوں کے معاملہ میں غالب رہے اور وہ مومنین تھے کہ…
Read the full tafseer →وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا : اور آپ کسی کام کی نسبت یوں نہ کہا کیجئے کہ میں اس کو کل کر دوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(23۔ 24) آپ کسی کام کے متعلق یوں نہ کہا کیجیے کہ مثلا میں کل کروں گا یا کل ایسا کہوں گا مگر مشیت خداوندی کو اس کے ساتھ ملا دیا کیجیے اور جب آپ اتفاقا انشاء اللہ کہنا بھول جائیں تو بعد میں یاد آنے پر کہہ لیا کیجیے اور ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ مجھے امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ صحیح اور یقینی بات بتا دے گا۔
یہ آیت کریمہ رسول اکرم ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی جب کہ آپ سے مشرکین مکہ نے روح اور اصحاب کہف کے بارے میں دریافت کیا تھا، آپ نے فرمایا کل بتا دوں گا اور آپ انشاء اللہ کہنا بھول گئے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ الا ان یشآء اللہ“۔ (الخ)
اور ابن جریر ؒ نے ضحاک ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ۧوَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ۔۔ : یہاں شان نزول میں ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اصحاب کہف، روح اور ذو القرنین سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ”میں تمہیں کل جواب دوں گا“ اور ”ان شاء اللہ“ نہ کہا، تو پندرہ (15) دن وحی رکی رہی، پھر یہ آیت اتری : (ۧوَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا 23ۙاِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ) رازی ؓ نے فرمایا کہ قاضی نے اسے کئی وجہوں سے بےکار قرار دیا ہے۔ قاسمی نے فرمایا کہ ان کی بات حق ہے، کیونکہ محمد بن اسحاق نے یہ روایت ایک مجہول شیخ سے بیان کی ہے، جیسا کہ ابن کثیر (اور طبری) میں اس کی سندیں موجود ہیں۔ (محاسن التاویل)
3 اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت نمبر 23 تا 24
قولہ تعالیٰ : ولا تقولن لشایء انی فاعل ذلک غدا۔ الا ان یشاء اللہ اس میں دو مسلئے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: علماء نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس وقت عتاب فرمایا جب کفار نے آپ سے روح، نوجوانوں اور ذوالقرنین کے بارے سوال کیا تو آپ نے انہیں فرمایا : میں تمہارے سوالات کے جوابات کے بارے کل تمہیں آگاہ کروں گا اور آپ نے اس میں انشاء اللہ تعالیٰ نہ کہا۔ پس پندرہ دن تک آپ سے وحی رک گئی یہاں تک کہ آپ پر یہ شاق اور گراں گزرا اور کفار بھی آپ کے بارے باتیں کرکے آپ کو پریشان کرنے لگے، پس اس اضطراب اور پریشانی کو دور کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ سورت نازل فرمائی۔ اور اس آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
قریش کے سوالات اور جوابات :
1:۔ ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قریش اکٹھے ہوئے اور کہا اے محمد ﷺ تو نے ہمارے دین سے اور اپنے آباء و اجداد کے دین سے انحراف کیا ہے یہ دین تو کہاں سے لے کر آیا ہے جو تو لے کر آیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ دین رحمن کی طرف سے ہے جو میں لے کر آیا ہوں قریش نے کہا ہم یمامہ والے رحمان کے علاوہ کسی رحمان کو نہیں جانتے وہ اس سے مسیلمہ کذاب کو مراد لیتے تھے پھر قریش نے یہود کو لکھا کہ ہمارے اندر ایک آدمی ظاہر ہوا ہے جو گمان کرتا ہے کہ میں نبی ہوں اور ہمارے دین اور ہمارے آباء و اجداد کے دین کو چھوڑ دیا ہے حالانکہ وہ امین ہے جو خیانت نہیں کرتا وعدہ پورا کرتا ہے دھوکہ…
Read the full tafseer →[وَلَا تَقُوْلَنَّ : اور آپ ﷺ ہرگز مت کہیں ] [لِشَايْءٍ : کسی چیز کے لئے ] [انى: کہ میں ] [فَاعِلٌ: کرنے والا ہوں ] [ذٰلِكَ : اس کو ] [غَدًا : کل ]
ترکیب : (آیت۔ 23) لِشَایْ ئٍ دراصل لِشَیْ ئٍ ہے۔ اس مقام پر اس کو الف کے ساتھ لکھنا قرآن مجید کا مخصوص املا ہے۔ اسم الفاعل فَاعِلٌ نے فعل کا عمل کیا ہے اور ذٰلِکَ اس کا مفعول ہونے کی وجہ سے محلاً حالت نصب میں ہے، جبکہ غَدًا ظرف ہونے کی وجہ سے نصب میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
اصحاب کہف کی تعداد میں اختلاف اور اس کا جواب
جس طرح اصحاب کہف کی مدت قیام فی الکہف میں اختلاف ہوا کہ وہ کتنے دن رہے اور خود وہ بھی اختلاف کر بیٹھے اور صحیح بات تک نہ پہنچ سکے اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہوا کہ ان کی تعداد کتنی تھی، آیت مذکورہ بالا میں تین قول نقل فرمائے ہیں ایک قول یہ ہے کہ اصحاب کہف تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا، اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ پانچ تھے چھٹا ان کا کتا تھا، اور تیسرا قول یہ ہے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ صاحب روح المعانی صفحہ 480 ج 15 نے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ یہ اقوال ان لوگوں کے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان میں سے ایک شخص عاقب تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
ذکر اختلاف اہل کتاب دربارہ شمار اصحاب کہف
قال اللہ تعالیٰ سیقولون ثلثلۃ رابعھم .... الیٰ .... ولا یشرک فی حکمہ احدا۔
گزشتہ آیات میں لوگوں کے نزاع اور اختلاف کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں لوگوں کے دوسرے نزاع کو بیان کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ اہل کتاب جو علم کے مدعی ہیں اور بطور امتحان آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں وہ خود اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں مختلف ہیں چناچہ فرماتے ہیں۔
عنقریب اہل کتاب یہ قصہ سن کر ان کی تعداد کے بیان کرنے میں اختلاف کریں گے بعض تو یہ کہیں گے کہ وہ تین آدمی تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور بعض یہ کہیں گے کہ وہ پانچ آدمی تھے چھٹا ان کا کتا تھا اور یہ دونوں گروہ بےتحقیق باتیں…
Read the full tafseer →27:۔ یہ جملہ معترضہ ہے ہر واعظ اور ناصح حکیم کا یہ طریقہ ہے کہ اگر وعظ کے دوران میں وعظ کے کسی حصہ پر کوئی ایسی ضروری بات متفرع ہوسکے جو سامعین سے متعلق ہو۔ تو وہ سلسلہ وعظ کو بند کر کے سامعین کو اس ضروری بات کی طرف متوجہ کرتا ہے تاکہ اسے خوب یاد رکھ لیا جائے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ سے خطاب کر کے فرمایا کہ جو کام آپ کو کل کے دن کرنا ہو۔ اسے آپ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے متعلق فرما دیا کریں۔ اور اس کے ساتھ انشاء اللہ ضرور کہا کریں۔ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم سے یہ بھول ہوگئی تھی۔ کہ جب مشرکین قریش نے بطور امتحان آپ سے تین باتیں پوچھیں تو آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(شان نزول)
گذشتہ آیت میں اصحاب کہف کی تعداد کا ذکر تھا اس بارے میں زیادہ کرید کرنے سے منع فرمایا گیا کہ ایسے معاملہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سونپنا ہی زیادہ مناسب ہے ، آج کے درس میں اصحاب کہف کے غار میں ٹھہرنے کی مدت کا بیان ہے البتہ درمیان میں ایک بات نصیحت کے طور پر فرمائی گئی ہے کہ کسی کام کا ارادہ کرتے وقت ساتھ انشاء اللہ کہہ کر اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا چاہئے کیونکہ اس کی منشاء کے بغیر کوئی کوئی انجام نہیں دیا جاسکتا ، اسی بات کا تعلق اصحاب کہف کے واقعہ کے ساتھ بھی ہے گذشتہ دروس میں بیان کیا جا چکا ہے کہ مشرکین نے یہودیوں کے ایما پر حضور ﷺ سے روح ، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق تین…
Read the full tafseer →وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا 23ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
شيء
الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم .
( ش ی ء ) الشئی
بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر…
Read the full tafseer →ترکیب : الا استثنا ہے نہی سے اے لاتقولن لاجل شیء تعزم علیہ انی فاعلہ فیما یستقبل الابان یشاء اللہ اے الا متلبسا بمشیۃ اللہ تعالیٰ قائلاان شاء اللہ۔ ابصربہ اسمع صیغہ ٔ تعجب ہیں۔ بہ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور محل اس کا رفع ہے فاعلیت سے اور ب زائد ہے سیبویہ کے نزدیک۔
تفسیر : ولا تقولن الخ۔ مفسرین کہتے ہیں اس آیت کے نازل ہونے کی یہ وجہ ہے کہ جب قریش نے نبی (علیہ السلام) سے اصحاب کہف و ذوالقرنین و روح کا حال دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کل بیان کروں گا اور اس کے ساتھ انشاء اللہ نہ کہا۔ اس پر پندرہ دن تک بقول بعض چالیس روز تک وحی بند رہی تب یہ آیت نازل ہوئی کہ کسی کام کرنے کا وعدہ بغیر…
Read the full tafseer →وَلاَ تَقُوْلَنَّ لِشَایْ ئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا۔ اَلاَّ ٓ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ز وَاذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ وَقُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّھْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ ھٰذَا رَشَدًا۔ (الکہف : 23، 24)
(اور آپ ﷺ نہ کہیں کسی چیز کے لیے کہ میں یہ کل کردوں گا۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے اور جب آپ ﷺ بھول جائیں تو اپنے رب کو یاد کریں اور کہیں کہ امید ہے کہ میرا رب اس سے بھی کم مدت میں صحیح بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے۔ )
آیت کا شان نزول اور وعدہ سے متعلق ہدایت
گزشتہ آیت کریمہ جس کی حیثیت ایک جملہ معترضہ کی ہے اس کے آخر میں نبی کریم ﷺ کو ایک ہدایت فرمائی کہ جو لوگ محض بحث و مناظرہ کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
فہم القرآن
ربط کلام : نبی کریم ﷺ کو دوسری تلقین۔
سورۃ الکہف کے تعارف میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ اہل مکہ نے مدینہ کے یہودیوں کے پاس ایک وفد بھیجا۔ یہودیوں نے انہیں تین سوالات بتلائے کہ اگر محمد نے ان سوالوں کا ٹھیک ٹھیک جواب دیا تو وہ حقیقی نبی ہے۔ اگر ٹھیک جواب نہ دے سکا تو نبوت کے دعوی میں جھوٹا ہے۔ وفد نے مکہ سے واپس آکر آپ ﷺ سے یہ سوالات کیے۔ آپ نے فرمایا کہ میں کل تمہیں جواب دوں گا لیکن کئی دن تک وحی نہ آئی۔ جس پر کفار نے بغلیں بجائیں اور پروپیگنڈہ کیا کہ یہ شخص جھو ٹا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان جاری کیا ” اے نبی ! کسی کام کے بارے میں آئندہ اس طرح نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا ایسی…
Read the full tafseer →کل کا وعدہ انشاء اللہ سے کرو :
23: وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْ ئٍ (اور آپ کسی کام کی نسبت یوں نہ کہا کریں کہ میں اس کو کل کردونگا) کسی چیز کے متعلق تو پختہ ارادہ کرے اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ (کہ بیشک میں اس کو کرنے والا ہوں) اس چیز کو غَدًا ( کل زمانہ مستقبل میں) خاص کل کا دن مراد نہیں۔ اِلَّآ اَنْ یَّشَآ ئَ اللّٰہُ (مگر یہ کہ چاہے اللہ تعالیٰ ) نمبر 1۔ آپ اس وقت کہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی اجازت دے دیں۔ نمبر 2۔ تم ہرگز اس کو نہ کہو مگر یہ کہ چاہے اللہ یعنی اس کی مشیت سے۔ یہ حال واقع ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی الا متلبسًابِمَشِیّۃ اللّٰہ قائلا ان شاء اللّٰہمگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت…
Read the full tafseer →تفسیر 23 ۔ ” ولا تقولن لشیٔ انی فاعل ذلک عدًا “
جو کام بعد میں کرنا ہو اس کے ساتھ ان شاء اللہ ضرور کہنا چاہیے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
23۔ 26:۔ شروع سورة میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے قیس نے تین باتیں اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھیں تو آپ نے وحی کے بھروسہ پر یہ وعدہ کیا کہ کل تک میں ان باتوں کا جواب دے دوں گا مگر اس وعدہ کے وقت انشاء اللہ کا کہنا آپ ﷺ کو یاد نہ رہا اس لیے پندرہ روز تک وحی نہیں آئی۔ مجاہد کے قول کے موافق اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان آیتوں کے ذریعہ حکم دیا کہ آئندہ ہر ایک وعدہ کے ساتھ لفظ انشاء اللہ کہنا چاہیے واذکر ربک اذا نسیت سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہ بات نکالی ہے کہ اگر قسم کھا کر کوئی شخص ایک بات کہے اور انشاء اللہ بھول جائے اور پھر جب وہ بات یاد آئے اور انشاء اللہ کہہ لیوے تو ایسی قسم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
“ (آیت نمبر 22)
اللہ تبارک و تعالیٰ اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں اہل کتاب کے اختلاف کا ذکر فرماتا ہے ان کا اختلاف محض اٹکل پچو اور بےتکی باتیں تھیں۔ انہوں نے بغیر کسی علم کے یہ باتیں گھڑ لی تھیں۔ ان کی تعداد کے متعلق اہل کتاب کے تین اقوال تھے :
(1) ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ اصحاب کہف تین آدمی تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔
(2) بعض کی رائے تھی کہ وہ پانچ آدمی تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔۔۔۔ یہ دو قول ہیں جن کو ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو ( رجما بالغیب) قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ان دونوں اقوال کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔
(3) بعض کہتے ہیں کہ وہ تعداد میں سات تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
قسم میں استناء کا بیان
قول باری ہے (ولا تقولن لشای انی فاعل ذلک غداً الا ان یشآء اللہ اور کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کروں گا (تم کچھ نہیں کرسکتے) الا یہ کہ اللہ چاہے ) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس قسم کا استثناء کلام کے حکم کو رفع کرنے کے لئے کلام میں داخل ہوتا ہے اور پھر کلام کے حکم کا وجود اور عدم دونوں یکساں ہوجاتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو اللہ کی مشیت کے ساتھ استثناء کرنے کی تلقین فرمائی تاکہ آپ اپنی قسم میں کاذب نہ قرار دیئے جائیں یہ چیز ہماری اس بات پر دلالت کرتی ہے جو ہم نے ایسے کلام کے حکم کے متعلق ابھی بیان کی ہے۔ اس پر وہ قول باری بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
42۔ اصحاب کہف کی صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں :۔
چنانچہ حضرت امام الانبیاء علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ کہو میرا رب خوب جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے یعنی ان کی صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے۔ اور جب اس نے ان حضرات کی تعداد نہیں بتائی، تو ہمیں خواہ مخواہ اس کے درپے نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اگر اس تعداد کو جاننا ہمارے لئے ضروری ہوتا، تو وہ ہمیں اس سے ضرور مطلع فرما دیتا، سو ایسے میں اس طرح کے ہر موقع پر سب سے اچھا اور عمدہ طریقہ یہ ہے کہ معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا جائے اور بغیر کسی دلیل اور سند کے خواہ مخواہ بحثیں نہیں کرنی چاہئیں ، (المراغی وغیرہ) سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
اصحاب کہف کی تعداد اور غار میں ٹھہرنے کی مدت
تشریح : ان آیات میں مزید کچھ نکات اور نصیحتیں بیان کی گئی ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے ذریعے ہمیں بتائے گئے ہیں۔ پہلے تو یہ نصیحت کی گئی کہ جو کچھ علم اللہ نے دیا ہے بس اسی کو سمجھ لو جن باتوں کو اللہ نے واضح نہیں کیا ان کے کھوج میں مت لگو، یعنی اللہ نے اصحاب کہف کے ذریعے سے جو سبق دینے تھے ان پر غور کرو۔ ان کی تعداد جگہ اور زمانے کو اللہ نے واضح نہیں کیا اس لیے جتنا جانتے ہو بتا دو ۔ دوسری نصیحت یہ کی کہ جو بھی بات آئندہ کے لیے کہو تو اس کے لیے انشاء اللہ ضرور بولو، کیونکہ مستقبل کا کسی کو علم نہیں، سوائے اس کے جو اللہ نے چاہا۔
غریب اور مخلص مؤمنوں یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کے مرتبہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ کہہ دیں کل یہ کام کر دوں گا کہ آپ تو سراپا ہدایت تھے اور آپ کے معجزات دیکھ کر لوگ آپ ہی کی پرستش نہ کرنے لگ جائیں ، اور یہ نہ سمجھ لیں کہ سب کچھ کرنا آپ ﷺ کے ذاتی اختیار میں ہے ، لہذا کبھی مت کہیے کہ میں یہ کام کر دوں گا ، سوائے اس کے کہ انشاء اللہ ملا لیجئے یعنی اللہ جل جلالہ نے چاہا تو یہ کام کر دوں گا ۔
جب آپ ﷺ پر یہ تین سوال پیش کئے گئے تو آپ ﷺ نے فرما دیا کہ کل جواب دوں گا اور انشاء اللہ ساتھ نہ فرمایا تو کم وبیش پندرہ روز تک کوئی وحی نازل نہ ہوئی جس پر آپ ﷺ بھی بہت افسردہ ہوئے اور کفار نے بڑا مذاق اڑایا مگر پھر اس آیۃ کریمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 3 مفسرین لکھتے ہیں کہ جب یہودیوں نے نبی ﷺ کا امتحان لینے کے لئے آپ سے اصحاب کہف کا قصہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا میں اسے کل بتادوں گا اور آپ نے انشاء اللہ نہیں فرمیا ا لیکن کافی دنوں تک وحی نہ آئی اور آپ کا وعدہ خلاف ہوگیا۔ اس پر آیت نازل ہوئی اور آپ کو ہر آئندہ کام میں انشاء اللہ کہنے کا حکم دیا گیا۔ (شوکانی)4 جس سے میری رسالت کا ثبوت ہو چناچہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت کو نہ صرف صحاب کہف کا قصہ بتایا بلکہ غیب کی بہت سی دوسری باتیں بھی بتائیں جن کے متعلق کسی کے پاس کوئی معلومات نہ تھی مقصد وہی ہے کہ اصحاب کہف کا قصہ کوئی اتنا زیادہ عجب نہیں ہے۔ (روح)
Read the full tafseer →(18:23) غدا۔ کل آئندہ۔ فردا۔ مستقبل کو کوئی زمانہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 24
لاتقولن تو ہرگز مت کہنا۔ لشائ کسی چیز کے لئے۔ فاعل کرنے والا۔ غداً کل۔ اذکر یاد کر۔ نسیت تو بھول گیا۔ عسی شاید۔ توقع۔ یھدین وہ مجھے راہ دکھائے گا۔ اقرب زیادہ قریب۔ رشد سمجھنا، رہنمائی۔
تشریح :- آیت نمبر 23 تا 24
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی کو زندگی کے ہر انداز اور معاملات زندگی کو ہر اس شخص کے لئے بہترین نمونہ عمل بنا دیا ہے جو اللہ کی رحمت کی امید، آخرت کی فکر اور خوب اللہ کا ذکر کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو منصب نبوت عطا فرمایا ہے وہ اس لئے ہے کہ آپ لوگوں تک اللہ کا پیغام پوری دیانت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
انشاء اللہ کہنے کا حکم
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ جب قریش نے یہود کی تعلیم پر امتحاناً اللہ کے رسول سے روح اور ذوالقرنین اور اصحاب کہف کا حال پوچھا تھا، تو آپ نے فرمایا تھا کہ کل آنا میں سب خبر دے دوں گا۔ انشاء اللہ نہیں فرمایا تھا اس پر کئی روز وحی نہیں آئی۔ کفار نے آپ کو طعنے دینے شروع کئے اور حضرت کو سخت غم لاحق ہوا۔ پھر مفصل قصہ بیان کرکے تنبیہ کرنے کو یہ دو آیات نازل ہوئیں کہ کبھی اللہ کی مشیت کو نہ چھوڑو، یوں کہا کرو کہ اگر اللہ نے چاہا تو یہ کام کردوں گا، اور اگر بھول جاؤ تو پھر یاد کر کے کہہ لیا کرو اور یہ بھی معنی نکلتے ہیں کہ اگر کسی نماز کو بھول گیا تو یاد آتے ہی ادا کرے۔ پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–41
[12] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ مشرکین نے اہل کتاب کے مشورے سے تین سوالات بطور امتحان نبی ﷺ سے دریافت کئے۔ پہلا سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا، دوسرا سوال قصہ خضر سے متعلق تھا اور تیسرا ذوالقرنین کے بارے میں کیا گیا تھا۔ آپ نے وحی الٰہی کے بھروسے پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے پندرہ دن تک وحی نہ آئی آپ کو قدرتاً غم و صدمہ رہا، پندرہ دن کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
مستقبل کے متعلق ادعا نہ کرو :
(ف 2) ہر کام کے لئے اللہ کی طرف سے ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور ہر بات میں مصلحتیں ہوتی ہیں جنہیں کوتاہ نظر انسان نہیں دیکھ سکتا اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی ہر بات میں اس عارفانہ نظریہ کو ملحوظ رکھے یعنی کبھی ادعا کے ساتھ مستقبل کے متعلق کچھ نہ کہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ پردہ غیب سے کیا ظہور پذیر ہونے والا ہے ، اسے نہیں معلوم کل جو آفتاب طلوع ہوگا ، وہ میری تائید میں طلوع ہوگا یا مخالفت میں اصحاب کہف پر ظلم توڑنے والے لوگوں کو دیکھئے ، حکومت وقت کے وعادی کیا تھے یہی ناکہ ہم خدا پرستوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے ، اور ان کا نشان تک باقی نہیں رہنے دیں گے ، اور اس ادعا کا…
Read the full tafseer →-23 اور آپ اے پیغمبر کسی کام کے متعلق یوں نہ فرما دیا کیجیے کہ اس کام کو یا اس بات کو کل کر دوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 5۔ چونکہ کوئی فائدہ متعدد بہا اس کی تعیین کے متعلق نہ تھا لہذا اس اختلاف کا کوئی صریح فیصلہ آیت میں نہیں فرمایا۔ لیکن روایات میں حضرت عباس و حضرت ابو مسعود ؓ کا قول آیا ہے ” انا من القلیل سبعة “ یعنی میں ان قلیل میں سے ہوں اور وہ سات تھے اور آیت میں بھی اشارة اس کی صحت مفہوم ہوتی ہے، کیونکہ اس اخیر قول کو نقل کر کے اس کو رد نہیں فرمایا۔
6۔ سرسری بحث سے یہ مراد ہے کہ آپ وحی کے مطابق ان کے روبرو قصہ بیان کردیجئے اور زیادہ سوال و جواب نہ کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں بھی لوگوں کے مختلف نظریئے ہیں :
25۔ یہ لوگوں کی کہانیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ جتنے منہ اتنی باتیں مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو آتا ہے کوئی نہ کوئی بات کہہ دیتا ہے کوئی اس کا سرپیر ہو یا نہ ہو اور اس طرح ایک بنتے بنتے معلوم نہیں کہ کچھ ہی بن جاتا ہے یہی کچھ اصحاب کہف کے بارے میں بھی ہوا کہ جو کسی کے منہ میں آیا اس نے کہہ دیا اور ہوتے ہوتے ان کے متعلق کئی ایک باتیں مشہور ومعروف ہوگئیں اس طرح ان کی تعداد کے متعلق بھی لوگوں کے مختلف بیان دیئے کسی نے کہا ان کی تعداد تین تھی اور چوتھا ان کے ساتھ کتا تھا پھر تعداد میں…
Read the full tafseer →Commentary
The story of Ashab al-Kahf is due to end on the four verses cited above. In the first two of these, the Holy Prophet ﷺ and his Ummah has been taught to say ` Insha'Allah Ta’ ala along with the promise or affirmation of doing something in the future. Because, who knows if one does or does not live, and even if one does, will one be able to do or not to do that? Therefore, a believer should be confident about it in his or her heart, and confess to it verbally as well that in the event of making a commitment to do something next day, what will be said will be: If Allah Ta` ala wills,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22. This shows that about three hundred years after this event, at the time of the revelation of the Quran, different stories had become current among the Christians about the sleepers of the cave, but generally these stories had no authentic source behind them. This was because that was not the age of the press in which authentic books might have been published. Therefore naturally the stories of events were carried from place to place by means of oral traditions, and with the passage of time many tales of fiction got mixed up with the real story.
23. This is meant to impress that the real…
Read the full tafseer →